سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز  قسط نمبر 55

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز  قسط نمبر 55

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول

عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ :

سید انور فراز

 قسط نمبر 55

احمد جاوید کا شمار اس دور کے ان دانشوروں میں کیا جاسکتا ہے جو عامل با عمل ہیں، جب وہ باقاعدہ طور پر سلسلہ ءنقش بندیہ میں بیعت ہوگئے تو ان کی زندگی یکسر تبدیل ہوگئی، زندگی میں تبدیلی کا آغاز تو سارا شگفتہ سے علیحدگی کے بعد ہی ہوگیا تھا، شاید انھوں نے سارا سے ٹوٹ کر محبت کی تھی اور یہ ان کی زندگی کی پہلی محبت تھی لیکن سارا شگفتہ ایک چیزِ دیگراست ، تعلیم کی کمی کے باوجود اس کے اندر چھپا ہوا تخلیق کار اسے بے چین رکھتا تھا، وہ ان لوگوں میں سے تھی جو کہتے ہیں ”کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے“ایسی خواتین گھر کرنے والی اور شوہر کو سنبھالنے والی نہیں ہوتیں، وہ اپنی ہی دنیا میں گم رہتی ہیں۔

گوجرانوالا سے اپنے شوہر کو اور بچوں کو چھوڑ کر کراچی آنا اور فیملی پلاننگ کے ادارے میں جاب کرنا بلاوجہ تو نہیں تھا، وہ اپنے جاہل اور ظالم (بقول خود) شوہر سے شدید نفرت کا اظہار کرتی تھی، احمد جاوید بھی ان دنوں فیملی پلاننگ کے آفس میں ملازمت کر رہے تھے، دونوں نے ایک دوسرے کو پسند کیا اور بالآخر انتہائی نامساعد صورت حال میں نکاح بھی کرلیا۔

سارا شگفتہ بھی کراچی میں تنہا تھی، اس کا کوئی عزیز، رشتے دار شاید اس وقت تک کراچی میں نہیں تھا، دوسری طرف جاوید بھی تنہا تھے، وہ اپنے والد سے علیحدہ رہا کرتے تھے، 70 ءکی دہائی کے آغاز میں کچھ عرصہ ان کا قیام شاہ فیصل کالونی (سابقہ ڈرگ روڈ) میں کسی سعید وارثی صاحب کے پاس تھا جن سے ہماری کوئی واقفیت نہیں، اسی زمانے میں راشد نور نے اپنے بعض ہم عمر شاعر احباب کے ساتھ مل کر ایک ادبی انجمن بنالی تھی، اس انجمن کے زیر اہتمام ایک مشاعرہ راشد نور کے گھر کی چھت پر منعقد ہوا تھا اور ہم بھی اس میں شریک تھے، احمد جاوید کے راشد نور کے والد محترم نور بریلوی سے بھی بہت اچھے مراسم تھے، وہ بھی اس مشاعرے میں آئے ہوئے تھے، یہیں ہماری پہلی ملاقات احمد جاوید سے 1971 ءمیں ہوئی چوں کہ جاوید ہمارے محترم نیاز الدین احمد خاں سے قریبی مراسم رکھتے تھے اور جب ہم نے نیاز صاحب کا حوالہ دیا تو وہ ہم سے بڑی محبت سے ملے، اس پہلی ملاقات کے بعد پھر کبھی جاوید سے تعلقات کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوا، یہ الگ بات ہے کہ مہینوں ، برسوں ملاقات نہیں ہوتی تھی لیکن ان کی سرگرمیوں کی خبریں ملتی رہتی تھیں، سارا شگفتہ سے شادی کی خبر بھی ہمیں نیاز صاحب کے ذریعے ملی لیکن یہ سب کیسے ہوا؟ ہمیں بعد میں معلوم ہوسکا۔

ماہنامہ سرگزشت کی ادارت کے زمانے میں منظر امام ہمیشہ ہم سے جڑے رہے، ایک بار ہم نے ان سے فرمائش کی کہ اس حوالے سے کوئی کہانی لکھیں لیکن وہ اس کے لیے آمادہ نہیں ہوئے، پھر ہم نے ان پر زور دیا کہ 70 ءکی دہائی اس حوالے سے بہت اہم رہی ہے کہ اس زمانے میں ادب میں نئے رجحانات پروان چڑھ رہے تھے اور ایک نوجوان ادبی نسل کا ارتقا ہورہا تھا، آپ اس تمام عہد کے عینی شاہدین میں سے ایک ہیں لہٰذا اس دور کی سرگزشت لکھنی چاہیے ، ہمارے اصرار پر منظر امام اس کام کے لیے تیار ہوگئے، وہ ہر اس کام کے لیے تیار ہوجاتے تھے جس میں کچھ پیسے ملنے کا امکان ہو، چناں چہ انھوں نے شاید 4,5 اقساط ہمیں لکھ کر دیں، افسوس کہ وہ مکمل نہ ہوسکی اور شائع بھی نہ ہوسکی اور ہمیں یقین ہے کہ منظر کے پاس بھی اس کا کوئی ریکارڈ نہ ہوگا۔

اس سرگزشت میں خاص طور پر کراچی کے ”ادبی تکیوں“ کا تعارف اور وہاں ہونے والی سرگرمیوں کا احوال تھا، ان تکیوں میں سرفہرست سلیم احمد اور قمر جمیل کی بیٹھکیں تھیں جہاں تمام اہل علم و ادب اکثر جمع رہتے تھے، کراچی کے حلقہ ءارباب ذوق کی نشستوں کا احوال بھی تھا اور سارا شگفتہ سے احمد جاوید کے نکاح کا ماجرا بھی بیان ہوا تھا۔

بقول منظر امام یہ نکاح جیکب لائن کے ایک خستہ مکان میں ہوا تھا، گواہان میں منظر امام کے علاوہ سجاد میر شامل تھے جو ان دنوں احمد جاوید کے بہت قریبی دوستوں میں سے تھے، بقول سجاد میر، قاضی صاحب کو پیسے بھی انھوں نے ہی ادا کیے تھے۔

سجاد میر ساہیوال سے کراچی آئے اور کراچی کے علمی و ادبی حلقوں میں اس طرح گھل مل گئے جیسے وہ کراچی میں ہی پیدا ہوئے ہوں ، مالی طور پر وہ دیگر آوارگان ادب سے بہتر پوزیشن رکھتے تھے، ان کے پاس اس زمانے میں شاید سوزوکی 80 ہوا کرتی تھی، حلقہ ءارباب ذوق کی نشست ختم ہوتی تو سجاد میر ، احمد جاوید، انور سن رائے اور دیگر بہت سے احباب علامہ اقبال لائبریری سے اٹھ کر بنوریہ ٹاون مدرسے کے ایک ایرانی ہوٹل میں آبیٹھتے اور پھر ادبی موضوعات پر بحث مباحثہ شروع ہوجاتا، وہ بھی کیا دن تھے!

منظر امام کے بعد سارا شگفتہ کی سرگزشت لکھنے پر ہم نے بہ مشکل تمام انور سن رائے کو راضی کیا اور انھوں نے بہر حال یہ کام پوری ذمے داری کے ساتھ مکمل بھی کرلیا تھا لیکن جب معراج رسول صاحب نے یہ سرگزشت پڑھی تو انھیں خیال آیا کہ اس سرگزشت میں عوامی دلچسپی کا عنصر نہیں ہے، سرگزشت کے کردار مخصوص ہیں اور ایک مخصوص حلقہ ہی اسے پڑھے گا، ہمارا عام قاری اس میں دلچسپی نہیں لے گا۔

ہم نے عرض کیا کہ ہم سرگزشت میں بہت سی ایسی چیزیں شائع کرتے ہیں جو ہر قاری کے لیے دلچسپ نہیں ہوتیں، مثلاً ہم نے شاعروں کی سرگزشت کا سلسلہ شروع کیا ، پہلوانوں کی سرگزشت کاسلسلہ شروع کیا وغیرہ وغیرہ۔

معراج صاحب کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ سرگزشت خاصی ”ڈرائی“ ہے، بہر حال وہ فائنل اتھارٹی تھے لہٰذا انور سن رائے کو پورا معاوضہ ادا کردیا گیا مگر سارا کی سرگزشت شائع نہیں کی گئی، کئی برس تک اس کا مسودہ ہمارے پاس پڑا رہا اور پھر انور کی فرمائش پر ہم نے انھیں واپس کردیا، انور نے اپنے علاوہ دیگر تمام کرداروں کے نام تبدیل کرکے اسے ”ذلتوں کے اسیر“ کے نام سے شائع کردیا، گویا اسے ایک ناول کی شکل دے دی گئی، یہ ناول بازار میں آج بھی دستیاب ہے۔

احمد جاوید سے سارا کی شادی کے بعد ہماری کئی سال تک کوئی ملاقات نہیں ہوئی، ہمیں یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں، اس کی وجہ ہماری اپنی ہی کچھ غیر معمولی مصروفیات تھیں، 1977 ءکے شاید نومبر سے ہم نے روزنامہ صداقت میں جاب شروع کی اور شاید دسمبر ہی سے انور سن رائے بھی صداقت میں آگئے تو جاوید کے حوالے سے بہت سی باتیں معلوم ہوسکیں، انور سن رائے اور عذرا عباس کی شادی ، احمد جاوید اور سارا شگفتہ سے تھوڑا سا پہلے ہوگئی تھی اور دونوں کسی فلیٹ میں رہ رہے تھے، احمد جاوید کے پاس پہلے بھی کبھی اپنا سر چھپانے کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا، شادی کے بعد بیوی کو لے کر کہاں جاتے، وہ انور کے فلیٹ پر پہنچ گئے اور وہیں رہنے لگے، اس کی تفصیل انور نے بھی ذلتوں کے اسیر میں لکھی ہے اور عذرا عباس نے بھی اپنی تازہ کتاب ”درد کا محل وقوع“ میں بہت تفصیل سے ذکر کیا ہے، یہ الگ بات ہے کہ عذرا نے صرف سارا کے حوالے سے احوال لکھا ہے اور انور نے احمد جاوید کے حوالے سے،اس میں ایک واقعہ احمد جاوید کے چھوٹے بھائی سے متعلق تھا جسے پڑھ کر ہمیں خیال ہوا کہ یہ بات شاید احمد جاوید کو ناگوار محسوس ہوسکتی ہے۔

اس واقع کے بعد جاوید، انور کے فلیٹ سے چلے گئے تھے ، جب یہ کتاب شائع ہوئی تو ان دنوں احمد جاوید کراچی آئے اور ہم سے ملاقات کے لیے ہمارے دفتر آئی آئی چندریگر روڈ بھی آئے، ہم نے اس کا ذکر کیا تو انھوں نے فرمائش کی کہ مجھے کتاب دیں، میں اسے پڑھوں گا، ہم نے انھیں کتاب دے دی،ہماری معلومات کے مطابق انھوں نے اس پر انور سے بات کی اور پھر انھیں مطمئن بھی کردیا تھا۔

انہی دنوں انور سن رائے نے احمد جاوید کی دعوت کا اہتمام کیا، انور ان دنوں گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کے برابر میں واقع ایک پلازہ کے شاید چوتھے یا پانچویں فلور پر رہائش پذیر تھے، دعوت میں زاہد کی نہاری کا خصوصی اہتمام تھا، سجاد میر بھی اس دعوت میں شامل تھے اور ایسا معلوم ہورہا تھا کہ احمد جاوید کا تیسرا جنم ہوا ہے، وہ اپنے عالم استغراق کی کیفیت سے نکل آئے تھے اور خوب چہک رہے تھے، بار بار عذرا عباس کو مخاطب کرکے کہتے”کائنات کی سب سے بڑی شاعرہ عذرا عباس“

ہمیں یاد ہے کہ سجاد میر نے اس روز یہ فقرہ بھی کہا تھا ”برسوں بعد آج اصلی احمد جاوید سے ملاقات ہوئی“

دراصل کئی سال تک جاوید پر تصوف کے حوالے سے کچھ ایسی واردات قلبی کا گہرا اثر رہا کہ انھوں نے شاعری بھی چھوڑ دی تھی اور ایک بار ہمیں بتایا کہ اب وہ صرف فارسی میں شعر کہتے ہیں اور وہ بھی اپنے پیرومرشد کے لیے لہٰذا ان کے تمام پرانے احباب یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ اب جاوید کے کسی ادبی موضوع پر بات نہیں کی جاسکتی، اسی حالت استغراق میں وہ اپنے مخصوص حلقہ ءتصوف تک محدود ہوکر رہ گئے تھے، کراچی آتے تو ہم ان سے ملنے ضرور جاتے تھے، ان کا قیام گلبرگ اپنی سسرال میں ہوتا، وہیں ایک روز ہم نے ڈاکٹر طاہر مسعود کو بھی سرجھکائے ایک طرف بیٹھے دیکھا تھا وہ باریش ہوچکے تھے لہٰذا ہم انھیں پہچان ہی نہ سکے، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ باقاعدہ طور پر احمد جاوید کے ہاتھ پر بیعت ہوچکے ہیں پھر عرصہ ءدراز کے بعد یہ بھی سنا کہ انھوں نے بیعت ختم کردی ہے۔

شاید اسی دوران میں وہ چشتیہ سلسلے میں بھی بیعت ہوئے اور خلافت بھی انہیں مل گئی، گویا اب وہ نقش بندیہ اور چشتیہ دونوں سلاسل کے گدی نشین ہیں، عالم استغراق کی کیفیت سے نکلے تو بلاشبہ بقول سجاد میر پرانا اور اصلی احمد جاوید احباب کی محفل میں خوش کلامیاں کرتا نظر آنے لگا لیکن حدود و قیود میں رہتے ہوئے،ہم نے انھیں کبھی بدگوئی یا کسی بھی نوعیت کے گھٹیا پن کا مذاق کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔

ڈائجسٹ کے قارئین کے علاوہ ادب و تصوف سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کے لیے بھی ہمارا یہ انکشاف یقیناً حیرت کا باعث ہوسکتا ہے کہ کچھ عرصہ احمد جاوید نے ماہنامہ سرگزشت کے لیے بھی ابتدائی صفحے کی سرگزشت لکھنے کی ذمے داری قبول کی تھی اور یہ سلسلہ کچھ عرصے تک جاری رہا، یہ اسی دور کی بات ہے جب وہ عالم استغراق سے نکل آئے تھے،ماہنامہ سرگزشت کے ابتدائی صفحات میں کسی مشہور اور اہم شخصیت کی سرگزشت کا سلسلہ تو جناب احمد صغیر صدیقی نے شروع کیا تھا لیکن یہ کام بعض دوسرے مصنفین بھی وقتاً فوقتاً انجام دیتے رہے ہیں۔

کے پی کے سے جاب چھوڑنے کے بعد احمد جاوید لاہور میں اقبال اکیڈمی سے وابستہ ہوگئے تھے، ممکن ہے یہ کام سراج منیر نے کرایا ہو یا پھر ڈاکٹر سہیل عمر کی کوشش سے ہوا ہو بہر حال اقبال اکیڈمی وہ آخری ادارہ ہے جس میں وہ اپنی ریٹائرمنٹ تک رہے اور ڈائریکٹر کے عہدے تک ترقی کی ، اپنی کے پی کی جاب سے وہ مطمئن نہیں تھے، اس حوالے سے خاصے مضطرب رہا کرتے،شاید اس میں کچھ جائز و ناجائز کے مسائل ان کے لیے تکلیف کا باعث تھے، اقبال اکیڈمی میں آکر وہ مطمئن ہوگئے، الحمد اللہ اب غم روزگار سے نجات مل گئی ہے اور علمی ادبی مشاغل پر زیادہ توجہ رہتی ہے، احمد جاوید کی ایک بہت پرانی غزل کا ایک شعر ہمیں بہت پسند ہے سو آپ کی نذر ہے

کیے ہیں اس نے عطا سب کو عہدہ و منصب

مجھے بھی سینہ خراشی کے کام پر رکھا

انسان سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ آج جو کچھ ہے، کل کچھ اور بھی ہوسکتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ہم ہمیشہ اپنے حال میں مگن رہتے ہیں، مستقبل کی فکر ضرور کرتے ہیں لیکن ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ مستقبل ہمیں کس سمت لے جارہا ہے،ہماری اپنی زندگی بھی کچھ ایسی ہی صورت حال کی مثال ہے اور ہماری آنکھوں نے بھی ایسی بہت سی مثالیں دیکھی ہیں،احمد جاوید بھی ہمارے لیے ایک ایسی ہی مثال ہیں، آج وہ جو کچھ ہیں اور جس مقام پر ہیں ، اس کے بارے میں ہم نے کیا خود انھوں نے بھی شاید کبھی نہ سوچا ہو، ذرا تصور کریں ، اس نو عمر لڑکے کے بارے میں جو کم عمری ہی میں ماں جیسی ہستی کی ٹھنڈی چھاوں سے محروم ہوگیا اور اپنے والد سے بھی کچھ مزاجی ہم آہنگی نہ رہی، تنہا اپنا تعلیمی سفر جیسے تیسے جاری رکھا، ان کے ایک شعر میں بھی شاید اسی زمانے کی کیفیات کا بیان ہے

وہ بے کسی ہے کہ ہر ایک سے معاملہ ہے

وہ بے گھری ہے کہ ہم شہر بھر میں رہتے ہیں

یہ حقیقت ہے کہ ایک زمانے میں احمد جاوید شہر بھر میں رہا کرتے تھے، جہاں رات ہوگئی وہیں بسیرا کرلیا یا کسی ہوٹل ہی میں کسی دوست کے ساتھ رات گزار لی، ہمیں ایسی کئی راتیں یاد ہیں لیکن ایک رات کا ذکر ضروری ہے۔

حلقہ ءارباب ذوق کی نشست اس زمانے میں نہایت پابندی سے ہوا کرتی تھی، نشست کے خاتمے کے بعد سب لوگ عموماً گرومندر پر دارالعلوم بنوریہ سے ملحق ایک ایرانی ہوٹل میں جا بیٹھتے تھے، ایک روز جب رات تقریباً 12 بجے ہوٹل سے نکلے تو مشورہ کرنے لگے کہ اب کہاں جانا چاہیے؟نیاز صاحب ساتھ تھے اور عموماً وہی رہبری کا فریضہ انجام دیتے تھے، پہلا خیال تو یہی تھا کہ ناظم آباد کا رخ کیا جائے اور آج کی رات کیفے سبحان میں گزاری جائے، پھر اچانک نامعلوم کس طرح ذہنی رو ڈاکٹر محمد حسن عسکری صاحب کی طرف مڑ گئی، ڈاکٹر صاحب ایک طویل عرصے سے ادبی دنیا سے لاتعلق ہوچکے تھے اور اپنے گھر تک ہی محدود رہتے تھے، ان کا گھر علامہ اقبال لائبریری کے قریب ہی تھا، شاید نیاز صاحب کو یا احمد جاوید کو یہ سوجھی کہ عسکری صاحب کے گھر چل کر ان سے ملاقات کی جائے، اب گفتگو یہ ہونے لگی کہ وہ ہم سے کیوں ملیں گے، وہ ہمیں جانتے تک نہیں، وہ تو ان سے بھی نہیں ملتے جن سے برسوں شناسائی رہی ہے لیکن جاوید بضد تھے کہ چلو دیکھتے ہیں، عسکری صاحب ملتے ہیں یا نہیں ملتے، اگر نہیں ملیں گے تو واپس آجائیں گے، چناں چہ ہم لوگ ٹہلتے ہوئے ان کے گھر پہنچ گئے، دروازے پر دستک دی یا بیل بجائی ؟ یہ اب یاد نہیں، کچھ دیر بعد ایک نوجوان نے دروازہ کھولا اور پوچھا ”کس سے ملنا ہے؟“

شاید نیاز صاحب نے جواب دیا کہ ہم عسکری صاحب سے ملاقات کے لیے آئے ہیں، وہ واپس اندر چلے گئے، خیال رہے کہ اس موضوع پر پہلے ہی بات ہوچکی تھی کہ اتنی رات گئے کسی شریف آدمی کے گھر پر جاکر دستک دینا مناسب ہے یا نامناسب ؟ ممکن ہے وہ سورہے ہوں، نیاز صاحب بڑے باخبر لوگوں میں سے تھے اور ان کی معلومات کے مطابق عسکری صاحب تہجد گزار بھی تھے، ان کا کہنا تھا کہ وہ یقیناً جاگ رہے ہوں گے کیوں کہ رات کا ایک بجا ہے اور وہ تہجد کے لیے ضرور اٹھتے ہوں گے۔

چند لمحے بعد ہی وہی صاحب زادے واپس آئے اور ہمیں اندر آنے کی دعوت دی، دروازے سے ملحق ہی ایک کمرہ تھا جو شاید ڈرائنگ روم کے طور پر استعمال ہوتا ہوگا، وہاں ہمیں بٹھادیا اور کہا ”ڈاکٹر صاحب ، نماز پڑھ رہے ہیں، آپ چند لمحے انتظار کیجیے“

کمرے میں بیٹھنے کے بعد سب کی بولتی بند تھی، بس ایک دوسرے کی شکلیں دیکھ رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ دیکھیے اب کیا ہوتا ہے؟ تھوڑی دیر بعد ہی عسکری صاحب کمرے میں داخل ہوئے تو ہم تینوں احتراماً کھڑے ہوگئے اور انھیں سلام کیا، انھوں نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ دیا لیکن خود کھڑے رہے اور کھڑے کھڑے ہی پوچھا کہ آپ کو مجھ سے کیا کام ہے؟

احمد جاوید نے زبان کھولی اور بصد احترام کہا ”سر! ہم انگلش لٹریچر کے اسٹوڈنٹ ہیں اور آپ سے پڑھنا چاہتے ہیں“

انھوں نے فوراً پوچھا ”آپ لوگ کس کالج میں پڑھتے ہیں؟“

ہمیں یا احمد جاویدکو کسی کالج کا کچھ پتا نہیں تھا لیکن جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ نیاز صاحب بڑے باخبر انسان تھے انھوں نے جھٹ کسی کالج کا نام لے لیا۔

عسکری صاحب کا دوسرا سوال یہ تھا ”کالج میں آپ کے اساتذہ کون کون ہیں؟“

ہمارے تو پیروں تلے سے زمین نکل گئی کہ بس اب ذلیل ہونے میں کوئی کسر باقی نہیں رہی ہے لیکن نیاز صاحب بھی کم نہیں تھے خدا معلوم کس طرح انھیں اس کالج کے اساتذہ کے بارے میں بھی سب معلوم تھا ، فوراً ہی انھوں نے فر فر تین چار نام گنوادیے اور یہ بھی بتادیا کہ انگریزی ادب کے حوالے سے کن مسائل میں ہمیں الجھن کا سامنا ہے، اب پروفیسر صاحب کچھ مطمئن نظر آئے، ایک لمحے تو سوچا اور پھر پوچھا۔

”آپ کی رہائش کہاں ہے؟“

نیاز صاحب نے بتایا کہ ہم ناظم آباد سے آئے ہیں اور آپ کے لیے جو وقت بھی مناسب ہو ہمیں بتادیں، ہم اسی وقت حاضر ہوجایاکریں گے۔

عسکری صاحب نے فوراً کہا ”یہی وقت مناسب ہے، آپ رات ڈیڑھ دو بجے تک آجایا کریں“

اب مزید کسی گفتگو کی گنجائش باقی نہیں رہی تھی، ہم لوگ کھڑے ہوگئے اور اجازت طلب کی، خیال رہے کہ عسکری صاحب اس وقت تک بیٹھے نہیں تھے، وہ ہمیں رخصت کرنے تک کھڑے ہی رہے،باہر نکل کر کچھ دور تک خاموشی رہی، شاید تینوں ہی اس صاحب علم کی ہیبت میں مبتلا تھے پھر جاوید نے لب کشائی کی اور کہا ”کم از کم اب دل کو یہ تسلی تو رہے گی کہ ہم نے اس عہد کے ایک نابغہ ءروزگار کو دیکھا ہے، اس سے باتیں کی ہیں“

نیاز صاحب نے تیزی سے سر ہلایا ”بالکل، بالکل، اس میں کیا شک ہے“

آپ نے اندازہ لگالیا ہوگا کہ اس بے فکری کے دور میں کیسے کیسے مشغلے اچانک سوجھتے تھے اور پھر ان پر فوری عمل بھی ہوتا تھا، اس روز علامہ اقبال لائبریری سے ناظم آباد تک ہم تینوں پیدل ہی واپس آئے اور رات کا باقی حصہ اپنے پسندیدہ ہوٹل کیفے سبحان میں گزارا۔(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر اعجاز احمد نواب  نمبر 14

اردو کہانی کا سفر اعجاز احمد نواب  نمبر 14 ہماری اماں بالکل ان پڑھ ہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے