سر ورق / افسانہ / غیرت :فاطمہ شیروانی

غیرت :فاطمہ شیروانی

غیرت

:فاطمہ شیروانی

گو کہ رات کا آخری پہر شروع ہو چکا تھا مگر فضا میں ابھی بھی کہیں کہیں کچی کلیوں اور رات کی رانی کی باس  موجود تھی۔ تھکی ہوئی, تنہا, اداس اور رنج و الم میں ڈوبی رات کا سفر گھڑی کی سویوں کی مانند نہایت آہستگی سےجاری و ساری تھا. دن کی روشنی میں جو میدان بھانت بھانت کے انسانوں سے بھرا رہتا تھا رات کے اس پہر اس جگہ پر قبرستان کا گمان ہو ریا تھا. عجیب ہو کا سا عالم تھا کہیں کہیں اچانک سےکسی بھولے بٹھکے جانور کی آواز اس خاموشی میں ہلکا سا خلل ڈالنے کی گستاخی کر بیٹھتی تھی اور یہ معمولی سا شور ماحول کو, مزید دہشتناک بنا رہا تھا. ایسے عالم میں جب انسانوں کی اکثریت نیندوں کے سفر پر گامزن تھی. خیردین لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا اپنی منزل کی جانب گامزن تھا. وہ بہت تیز چل رہا تھا زمین بھی اس کے قدموں میں چپھے راز کوجان کر تھرتھرا اُٹھی تھی. راستے میں آنے والے ٹنڈمنڈ سے بوٹے سہمے سہمے انداز میں اُس کی طرف دیکھ رہے تھے جن میں سے کچھ کو تو وہ اپنے قدموِں تلے کچل بھی چکا تھا اور وہ بے زبان اپنے قتل پر اس کے سامنے فریاد تک نہیں کر سکتے تھے. اسے اب کسی کی کوئی پرواہ نہیں رہی تھی. آسمان پر چمکتا چاند بھی اس کی آنکھوں میں موجود دردواذیت کی تحریر پڑھ کر اداس نظر آ رہا تھا.  یوں لگتا تھا کہ زمین و آسمان مل کر خیردین کی بربادی پر بین ڈال رہے ہوں مگر وہ تو انتقام کے راستے پر چل نکلا تھا اور جو انتقام کے سفر ہر چل نکلے اسے اپنے اردگرد کی پرواہ کہاں رہتی ہے. وہ خیردین جو ایک مرغی تک کو مارنے کی ہمت نہیں رکھا تھا اُس بھید بھری رات میں اپنی بیوی سُکھاں کو مارنے چلا تھا. سُکھاں اگر خالی اُس کی گھر والی ہوتی تو شائد یہ اتنی عجیب بات نہ ہوتی مگر سُکھاں تو اُس کا وہ چراغ زیست تھی جس کی روشنی میں وہ دُنیا کو دیکھا کرتا تھا. جس کے سینے پر سر رکھ کر وہ دنیا کو بھول جایا کرتا تھا, جس کی آنکھوں میں ڈوب کروہ خود سے غافل ہو جایا کرتا تھا. وہ اُس کی ہیر بھی جس کی محبت کا ڈھول گلے میں بجا کر وہ گلی گلی محبت کے نام کی منادی کرایا کرتا تھا. شہر محبت میں سُکھاں کی زہریلی زبان بھی اُسے شہد کی طرح شیریں لگا کرتی تھی. بڑی نوکیلی محبت تھی سُکھاں کی, کبھی تو وہ محبت کسی تیز دھار آلے کی طرح اُس کی ہڈیوں تک کو چیر دیتی تھی اور کبھی کسی ماں  کی طرح اسے اپنی آغوش میں لے لیتی تھی. گرگٹ کی طرح پل پل رنگ بدلنے والی اس محبت کا وہ عادی ہو چلا تھا اور ایک روز اسی محبت نے خیر دین کے سارےخوابوِں کو نگل لیا اور وہ سواےُ آنسو بہانے کے کچھ نہیں کر سکا.

خیردین بہت سیدھا اور معصوم سا آدمی تھا. اُس کی ذات کبھی کسی کے لئے دل آزاری کا باعث نہیں بنی تھی بلکہ وہ تو محبتیں بانٹنے والا انسان تھا. اس کی بے رنگ زندگی میں وہ دن گویا آمد بہار کی نوید تھا جس روز ماسی برکتے نے سُکھاں کا رشتہ اُس سے طے کر دیا. سُکھاں کا نام اُس کے نام کے ساتھ جڑنے کی خبر نے پورے گاؤں کو ہلا کر رکھ دیا. جس نے بھی سُنا اُنگلیاں دانتوں تلے دبا لیں بھلا مٹی اور سونے کا کیا جوڑ…. مگر قدرت نے یہ جوڑ خود ہی ملا دیا تھا. سُکھاں جیسی الہڑ مٹیار اس پورے گاؤں میں ایک بھی نہیں تھی. اُس کی منہ زور جوانی کے آگے گاؤں کے لڑکے بالے صرف ٹھنڈی آہیں ہی بھر سکتے تھے کیونکہ اس اتھری گھوڑی کے منہ لگنے کی ہمت کسی میں نہیں تھی. وہ مجسم حسن تھی جبکہ خیر دین عام سی شکل وصورت کاحامل معمولی سا مزدور تھا جس کی زندگی ریت سیمنٹ اور اینٹوں کے گرد ہی گھومتی تھی.وہ رنگوں اور خوشبوؤں کے مفہوم سے ناآشنا تھااسے شاعری اور موسیقی کے تال میل کی بھی کوئی خبر نہیں تھی.شہر محبت میں چپھے اسرار اور ہجروفراق جیسے کسی جزبے سے وہ واقف نہیں تھا.اُسے کے ماں باپ تو,بچپن میں ہی گزر گئے تھے.اسے اُس کے چچانے ہی پالا تھا. چند سال ہوےُ چچابھی گزر گیا تھا. اب وہ اکیلا ہی اپنے کوارٹر میں رہتا تھا. ایسے میں ماسی برکتے جو پورے گاؤں کےرشتے کروانا اپنا فرض سمجھتی تھی اُس نے خیردین کی زندگی کو سُکھاں کی مہک سے خوشگوار بنا دیا. یہ ایک مکمل طور پر بے جوڑ رشتہ تھا.سُکھاں نے اپنے باپ کے دباؤ میں آ کر کیسے ہاں کی تھی یہ وہی جانتی تھی. پورے گاؤں میں وہ اپنے باپ سے ہی تو ڈرتی تھی اور پھر یہ بھی حقیقت تھی کہ اُس کی تیز زبان سے سبھی ڈرتے تھے, اچھے بھلے رشتے اُس کی نوکیلی زبان کے باعث اُس کے گھر کی دہلیز سے ہی لوٹنے لگے تھے ایسے میں خیردین جیسے بھلے مانس کا رشتہ اُس کے باپ کوکسی انمول خزانے جیسا ہی لگا تھا. سُکھاں اس رشتے سے خوش نہیں تھی. خیر دین کی قربت میں اُس کے دل پر کیا گزرتی تھی یہ وہی جانتی تھی جبکہ خیر دین تو اُس کا ساتھ پا کر گویا ہواؤں میں اُڑتا پھرتا تھا. وہ نیا نیا محبت کا اسیر ہوا تھا. محبت کی خوشبو نے اُس کے وجود میں گھل کر اسے حد درجہ خوش گمان بنا دیا تھا. اب وہ معمولی مزدور خیر دین نہیں رہا تھا بلکہ سُکھاں کا مسڑ خیردین بن گیا تھا جس کی چال ڈھال اور گفتگو میں بھی اب سُکھاں نظر آنے لگی تھی. زندگی ایک دم سے اُسے نئی نئی لگنے لگی تھی. وہ اب خوشبوؤں جیسے خواب دیکھنے لگا تھا. یہ خوشبوؤں جیسے خواب بھی عجیب ہوتے ہیں, انسان ایک بار ان کا اسیر ہو جاے پھر تاعمر ان کے اثر سے باہر نہیں نکل سکتا. خیردین بھی شہر محبت کے تمام سراب لمحوں کا اثیر ہو چکا تھا.خیردین کو سُکھاں کے سنگ زندگی کے خوشگوار دن گزارتے ہوے پورے تین سال گزر گئے. اس دوران وہ دو جڑواں بیٹیوں کا باپ بن گیا.وہ دونوں اپنی توتلی زبان میں جب اُسے ابا کہہ کر پکارتی تو اُسے بہت اچھا لگتا.سب کچھ بہت مکمل اور خوبصورت تھا.سُکھاں کی محبت میں خیر دین   یہ بھول گیا تھا کہ ہر محبت بھرے خوبصورت چہرے کےپیچھے ایک بدصورت چہرہ بھی ہوتا ہے جو ایک بار نظر آ جاے تو ساری خوبصورتی کو اپناحصار میں لے لیتا ہے اور پھر سواےُ پچھتاوؤں کے کچھ بھی نہیں بچتا سو ایک روز سُکھاں نے بھی اپنا اصل بدصورت چہرہ خیر دین کو دکھا ہی دیا. گلابوں جیسے خواب بیچتی بیچتی اچانک سے وہ کافور کی خوشبو بانٹنے لگی. خیر دین کی بانہوں کے حصار میں ہوتے ہوےُ وہ کسی اور کے سپنے بننے لگی. تنویر خیر دین کی ہی فیکٹری میں کلرک تھا. خیر دین کی اُس سے اچھی سلام دعا تھی. ایک بار خیر دین کے بیمار ہونے پر وہ آس کے گھر بھی آیا تھا. خیر دین کو اگر یہ خبر ہوتی کہ اُس کا آنا خیر دین کی محبت کو اُس سے چھین لے گا تو وہ کبھی بھی اُسےاپنے گھر نہ گھسنے دیتا مگر ہونی کو کون ٹال سکتاہے.تنویر جو آیا تو خیر دین کی عیادت کوتھا مگر سُکھاں کی ایک جھلک دیکھتے پی اُس کے حسن کا اسیر ہو گیا اور پھر وہ ہو گیا جو ہونا نہیں چاہیے تھا. تنویر خیر دین کی غیر موجودگی میں بھی اُس کے گھر آنے لگا. سُکھاں اور اُس کے درمیان قُربت بڑھنے لگی اور ایک روز سُکھاں خیر دین کی آنکھوں میں دھول جھونک کر  تنویر کے ساتھ فرار ہو گئی. خیر دین اپنی بیٹیوں کے ساتھ اب اکیلا تھا.زندگی میں پہلی بار اُسے سُکھاں سے نفرت محسوس ہوئی.اب اس کے ساتھ صرف اُس کی تنہائی تھی اور تنہائی بھی ایسی جو مار ڈالتی ہے. سُکھاں کی دی ہوئی چوٹ کا اثر بہت گہرا تھا اور اُسے لگتا تھا وہ کبھی بھی اس چوٹ کے اثر سے باہر نہیں نکل سکے گا.

خیر دین کو اس حقیقت کو قبول کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگا کہ سُکھاں نے اُس کی زندگی کو مکمل طور پر اندھیروں کے سپرد کر دیا ہے. ایسے موقع پر ماسی برکتے نے اُس کی دونوں چھوٹی بیٹیوں کو جس طرح سنبھالا تھا اُس کے لئے وہ اُن کا بہت شکرگزار تھا.اُس کی بیٹیاں سُکھاں کو بہت یاد کرتی تھیں. خیر دین اس معاملے میں بالکل بے بس تھا.وہ سُکھاں کو اپنی بیٹیوں کی زندگی میں واپس نہیں لا سکتا تھا. وہ زندگی کی اس تلخ حقیقت کو ایک بھیانک خواب سمجھ کر بھول جانا چاہتا تھا اور شائد بھول بھی جاتا مگر اُس کے دوست احباب اسے یہ سب بھولنے کہاں دیتے تھے. اُن کے طنزیہ جملے کسی نوکیلے پتھر کی طرح اُس کے زخموں کو اُدھیڑتے رہتے تھے اب تو اُن زخموں میں سے خون رسنے لگا تھا مگر کسی کو اُس کی تکلیف کا احساس تک نہیں تھا احساس تھا تو صرف اتنا کہ وہ اُس کے وجود کے اندر چپھی ہوئی اُس غیرت کو جگائیں جو سُکھاں کے فرار کے ساتھ ہی نجانے کہاں چھپ کر بٹھ گئی تھی.

خیر دین خود کوسنبھالنے کی کوششوں میں مصروف تھا کہ ایک روز اُسے سکھاں کی طرف سے خلع کا نوٹس مل گیا. وہ غیرت جسے اُس کے دوست احباب پچھلے کئی روز سے جگانے کی کوششوں میں مصروف تھے. سُکھاں کی طرف سے نوٹس ملتے ہی  اچانک سے وہی غیرت  ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھی اور اُس لمحے اُس کے دل نے فیصلہ کیا کہ اسے اس قصے کو ہمیشہ کے لئے ختم ہی کر دینا چاہیے. اور جب فیصلہ کر لیا تو اگلے ہی روز دل کے ساتھ ساتھ اُس کے قدم بھی سُکھاں کے ٹھکانے کی طرف چل پڑے. اپنے رت جگوں کا حساب برابر کرنے کے لئے اُس نے رات کے آخری پہر کا ہی انتخاب کیا تھا ویسے بھی دن کی روشنی تو کب کی اُس کی زندگی سے رخصت ہو چکی تھی اب تو اُس کے چار سو اندھیرے ہی اندھیرے تھے. وہ ان اندھیروں میں اپنے وجود کے گمشدہ ٹکرےُ ڈھونڈتا پھرتا تھا. اُس کے وجود کو یہ گوارا نہیں تھا کہ اسے اندھیروں کے سپرد کرنے والا خود روشنیوں میں سفر کرےُ اور اپنی زندگی کو رنگوں سے بھر دےُ. سُکھاں جیسی عورت کو وہ قبر کے اندھیروں میں پہنچانے آیا تھا. نفرت اور انتقام نے اُس کے اندر کی ساری بزدلی کو مار بھگایا تھا. ایک طویل مسافت طے کرنے کے بعد بالاآخر وہ اُس مکان کے آگے پہنچ گیا جہاں اُس کے خوابوں کے قاتل ایک دوسرےکے سنگ محبت بھرےُ سپنے دیکھنے میں مصروف تھے. ایک چھوٹی سی دیوار پھلانگتے ساتھ ہی صحن میں اسے وہ دشمن جاں نظر آ گئی. وہ محو خواب تھی. کبھی وہ سوتے میں خیردین کوکسی پری کی طرح دکھتی تھی اور وہ اکثر اسے ہاتھ لگاتے ہوےُ  ڈرتا تھا کہ کہیں اُس کا حُسن میلا ہی نہ ہو جاے مگر یہ سب ماضی کی باتیں تھیں اب تووہ اُسے کسی خون آشام بلا کی مانند لگ رہی تھی جو اُس کا خون پینے کے بعد اب ایک اور اجنبی کا خون پینے میں مصروف تھی. سُکھاں کو کسی اور کی بانہوں کے گھیرے میں دیکھ کر اُس نے نفرت سے منہ پھیر لیا. اُس کے چہرے پر موجود نقاب اب ہلکا سا سرک گیا تھا. اُس نے اپنا خنجر باہر نکال لیا تھا. اس سے پہلے کہ وہ اس خنجر کے وار کر کے ان دونوں کو ختم کر دیتا نجانے کہاں سے اُس کی دونوں بیٹیاں اُس کے سامنے آن کھڑی ہوئیں.سُکھاں کی بھی آنکھ کُھل گئی تھی. خیر دین کو اس طرح اپنے سامنے دیکھ کر وہ تھرتھر کانپنے لگی. اُس کے پورے وجود پر کپکپی طاری ہو گئی تھی. اُس کے ساتھ موجود شخص بھی اس اچانک افتاد پر گھبرا گیا تھا. . خیردین کو سُکھاں سے محبت اب نہیں رہی تھی. وہ اُسے مار سکتا تھا مگر اپنی بیٹیوں سے اُن کی ماں چھیننا شائد اُس کے بس کی بات نہیں تھی.وہ ہار گیا تھا. وہ چند لمحے نفرت سے دونوں کی طرف دیکھتا رہا اور پھرایک جھٹکے سے اُس نےوہ خنجر زمین پر پھینکا اور طلاق کے تین بول بول کر ہمیشہ کے لئے وہاں سے لوٹ آیا .

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

آخر میں کہاں ہوں … احمد نعیم مالیگاؤں مہاراشٹر (بھارت

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر67 آخر میں کہاں ہوں احمد نعیم مالیگاؤں مہاراشٹر (بھارت) …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے