سر ورق / افسانہ / آئی۔سی۔یو … بلال شیخ

آئی۔سی۔یو … بلال شیخ

آئی۔سی۔یو

بلال شیخ

چاروں طرف بیڈ لگے ہوئے تھے۔پورا سٹاف پورا دن ان مریضوں کی جان بچانے کے لئے دن رات لگا رہتا تھا کبھی اس کمرے سے زندگی بچ جاتی تھی اور مریض صحت مند ہو کر گھر چلا جاتا تھا اور کبھی زندگی ہی چلی جاتی تھی۔ یہ کمرہ اپنے اندر بہت سی کہانیاں سمیٹے ہوئے یادوں کی کتاب میں تحریر کری جا رہا تھا۔ یہاں مریض مرض سے چھٹکارے کی نیت سے آتا ہے۔ بیڈ پر لیٹے مریض بے بس ڈاکٹروں کے چہرے دیکھتے رہتے ہیں اور اُن کے کہے پر عمل کیے جاتے ہیں۔ڈاکٹرز آتے ہیں اپنی زبان صفحوں پر تحریر کر کے چلے جاتے ہیں ادھر کسی مریض کو جھانسے میں نہیں رکھا جاتا اُس کے منہ پر اُس کے خطرناک مرض کا اعتراف کیا جاتا ہیں اور مریض کو اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر ڈاکٹرز کے الفاظ برداشت کرنے پڑتے ہیں۔

نرسوں کی فوج آئی سی یو میں چوبیس گھنٹے ان مریضوں پر نظر رکھے ہوتی ہے اور یہ ان ہی کے رحم و کرم پر ہیں اس کمرے میں آنے سے پہلے مریض کی رضا مندی درکار ہوتی ہے مگر جب یہ اندر آ جائیں باہر تب تک نہیں جا سکتا جب تک ڈاکٹرز اور سٹاف رضا مند نہ ہو جائے۔ اکثر مریض منت سماجت کرتے کہ اُنہیں باہر جانے دیا جائے مگر ڈاکٹرز کا کہنا ہوتا ” آپ کی جان ہمارے پاس محفوظ ہے آپ کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے” اور مریض کو یہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔

اسی طرح ایک کہانی کچھ مریضوں کی ہے جو آئی سی یو میں اپنے اپنے مرض سے جنگ لڑ رہے تھے اور ان کو جنگ جیتنے کے لئے کچھ فیصلے کرنا تھے۔بیڈ نمبر ایک پر اسماعیل صاحب لیٹے ہوئے تھے یہ پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے اور وکالت میں بہت نام کما چکے تھے یہ مزاج کے بہت سخت تھے اور ان کو غصہ بہت آتا تھا جس کی وجہ سے ان کا بلڈ پریشر نارمل نہیں رہتا تھا اور ہارٹ کا مسئلہ بن چکا تھا۔ یہ عمر کے پچھتر برس دیکھ چکے تھے اور اکثر ایسا وقت بھی آتا تھا یہ آئی سی یو میں نرس کے ساتھ لڑتے نظر آتے اور دھمکی دیتے تھے کہ میری بات نہ مانی تو میں پورا ہسپتال بند کروا دوں گا۔بیڈ نمر دو  جنید  کا تھا یہ تاجر تھا اور  ذہنی دباو کی وجہ سے اس نے اپنے آپ کو پریشان کر لیا تھا۔ ڈپریشن کی وجہ سے اس کو شوگر اور بلڈ پریشر رہتا تھا اور چھوٹی سی بات کو رائی کا پہاڑ بنا کر یہ اپنے ذہن پر اثر لے لیتا تھا اور اس سے چھٹکارا نہ حاصل کرنے کی وجہ سے یہاں پر پایا جا رہا تھا۔

بیڈ نمبرتین  فراز کا تھا۔فراز ایک زمین دار کا بیٹا تھا۔ فراز  ایک ذمہ دار شخص تھا فراز نے بچپن سے ہی بہت سی ذمہ داریوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اُٹھا لیا تھا۔ فراز کا مقصد اپنی زندگی میں اپنا نام اپنی پہچان بنانا تھا  جس کے لئے اُس نے دن رات محنت کی اُس نے دوسروں کے کاموں کو اپنا کام سمجھتا تھا۔ وہ لوگوں کے گرد گھرا ہوا نظر آتا تھا۔ اُس کو معدے کا شدید مسئلہ ہوا اور وہ اس کمرے میں پہنچ گیا ڈاکٹرز کا کہا کہنا تھا آپ جلد ٹھیئک ہو جائیں گے مگر فراز کا سمجھنا تھا وہ ذمہ داریوں اور اپنے بے تحاشہ مقاصد کی وجہ سے یہاں پہنچا ہیں۔ بیڈ نمبر چار پر سعدیہ لیٹی ہوئی تھی۔یہ پھیپھڑوں کے انفیکشن کی وجہ سے یہاں آئی تھی اس کو سانس لینے میں مشکل ہو رہا تھا۔ سعدیہ ایک گھریلو عورت تھی اور اس نے کم عمری میں شادی کی اور اپنے خاوند کے ساتھ مل کر ایک خوبصورت گھر بنایا  اُس کے دو بیٹے تھے اور وہ زندگی میں احساس کمتری کا شکار رہتی تھی اُس کو اپنے اندر کچھ نہ کچھ کمی محسوس ہوتی رہتی تھی وہ سب کچھ ہونے کے باوجود اپنےآپ کو مطمئن نہیں کر پائی تھی۔ بیڈ نمبر پانچ پر شیریں تھی یہ ایک پٹھان خاندان سے تھی اور ایک سکول میں ٹیچر کے فرائض سر انجام دے رہی تھی مگر باپ کے جانے کے بعد اپنے بہن بھائیوں کی ذمہ داریاں اس کے کندھوں پر  آن پڑی شیریں ہمیشہ سے ناامیدی کے گرداب میں پھنسی ہوئی تھی اور اب  اس کا اِس گرداب سے نکلنا مشکل ہو گیا تھا۔ کمزوری کی وجہ سے اُس کو جگر کا مسئلہ ہوا تھا اور مرض نہ سنبھلنے کی وجہ سے ادھر پہنچ گئی۔

یہ پانچوں مریض اپنی بیماریوں کے ساتھ کچھ دنوں سے آئی سی یو میں تھے اور یہاں سے صحت یاب ہو کر گھر جانا چاہتے تھے مگر یہ ٹھیک ہو جائیں گے اس کا فیصلہ اُنہوں نے اللہ پر چھوڑ دیا تھا۔ ہمیشہ سے ایک بات بنی ہوئی ہیں دوا ڈاکٹرز دیتے ہیں ، دعا عزیز و اقارب دیتے ہیں اور شفا للہ دیتا ہے اور یہی حقیقت ہے۔ آپ دنیا کی ساری دوائیاں کھا لیں جب تک شفا نہیں ملے گی آپ کو وہ دوائی اثر نہیں کر سکتی اور دعائیں جتنی مرضی کر لیں قبولیت والا معاملہ صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ مگر بہت دفعہ فیصلہ انسان پر بھی چھوڑ دیا جاتا ہے زندگی بہت خوبصورت نعمت ہے اور انسان کو اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے اور جب انسان عطا کردا نعمتوں کی قدر کرنی چھوڑ دیتا ہے تو اُس کو آزمائش میں ڈال دیا جاتا ہے تاکہ وہ قدر کرنا جان لیں اور اگر پھر بھی نہ سمجھیں تو نعمت واپس لے لی جاتی ہے۔

ان پانچوں کی زندگی کی ایک ہی منزل تھی مگر مختلف  شکلوں میں ان کو اپنی بیماری سے جنگ کرنے سے پہلے اپنی کمزوری کو دور کرنا تھا انسان کا سب سے بڑا مرض اُس کی وہ کمزوری ہوتی ہے جو اُس کو مریض بننے پر مجبور کرتی ہے زندگی جب بھی اختتام پذیر ہونے والی ہوتی ہیں تو دعائیں رستہ بدل دیتی ہیں اور ہم بعد میں اُس کو اللہ کا معجزہ کہتے ہیں۔ رات کے جب بارہ بجے تو وقت نے ساتھ دینا چھوڑ دیا اور ہر چیز بے جان ہو گئی ڈرپ میں سے گزرتے قطرے بھی اپنی جگہ رک گے۔ پانچوں اپنی جگہ لیٹے ہوئے تھے کہ اچانک اُن کے جسموں میں سے اُن کے جیسے چہرے نکلے اور کمرے کے درمیان دائرہ بنا کر کھڑے ہو گئے ایک آواز اُن کی طرف آئی جس کو صرف سنا جا سکتا تھا دیکھا نہیں۔ "یہ فیصلے کا وقت ہے تم اگر زندہ رہنا چاہتے ہو تو اپنے جینے کی تمنا کو ظاہر کرتے ہوئے اپنی کمزوریوں کو ادھر ہی ترک کر دو تمہیں زندگی بخش دی جائے گی ورنہ زندہ رہنے کا تمہارے پاس کوئی جواز نہیں” پانچوں نے سنتے ہی فیصلہ کرنا تھا۔ اسماعیل نے کہا” میں غصہ بہت کرتا ہوں اور اس کی وجہ سے میری زندگی میں رشتے اور میری زندگی بہت متاثر ہوئی ہے میں غصہ ادھر ہی ختم کرتا ہوں” اسماعیل کے بعد جنید نے کہا” میں ڈپریشن لینے کا عادی ہوں چھوٹی چھوٹی باتوں کو پہاڑ بنا کر اپنی اور دوسروں کی زندگی کو مشکلات میں مبتلا رکھتا ہوں اکثر اس عادت کی وجہ سے میں نے اپنی زندگی میں بہت نقصان اُٹھایا میں اس عادت کو ادھر ہی ترک کرتا ہوں”

فراز نے کہا ” میں اپنی زندگی میں بہت مقاصد پال رکھے ہیں اور ان مقصدوں نے مجھے مصروف رکھا کہ شائد مجھے اپنی ہوش ہی نہیں رہی اور میں کسی کو مکمل وقت نہیں دے پا رہا تھا اور یہ سب میرے لئے تنگی کا باعث بن رہے تھے میں اپنے تمام مقاصد ادھر ہی ترک کرتا ہوں”۔ سعدیہ نے کہا” میں احساس کمتری کا شکار رہی ہوں سب کچھ ہونے کے باوجود مجھے اپنے اندر کمی محسوس رہی اور نعمتوں سے لطف نہیں اُٹھا سکی اور یہ نا شکری کا باعث بھی رہی میں ابھی اسی وقت احساس کمتری جیسے جذبے کو ترک کرتی ہوں” شیریں نے کہا ” نا امیدی نے میرے گرد بسیرا کر چھوڑا میں ہمیشہ اپنے آپ کو کوستی رہتی تھی اور کبھی کسی کام میں اُمید کا اظہار نہیں کرتی تھی اور شائد یہ نا امیدی تھی جو مجھے اس مقام پر لے آئی میں ابھی اسی وقت ناامیدی کو ترک کرتی ہوں” جب سب نے فیصلہ کر لیا تو اگلے ہی لمحے وہ اپنے بستروں پر تھے اور صبح کے سات بج رہے تھے۔

ڈاکٹرز صاحب نے اسماعیل کو کہا ” وکیل صاحب مبارک ہو آپ بہتر ہو گے ہیں ہم آپ کو شفٹ کر رہے ہے ” اسماعیل نے سنا تو وہ بہت خوش ہوا اور وہ سب سے محبت سے بات کر رہا تھا اور سب کو اچھے لفظوں سے پکار رہا تھا کچھ دیر بعد اُس نے آئی سی یو کو خیر باد کہ دیا۔ جنید کی حالت بھی بہتر ہوتی جا رہی تھی اُس کی تمام رپورٹس بہتر ہو گئی تھی شوگر قابو آ چکی تھی۔ڈاکٹرز کی بات سن کر بھی گھبرا نہیں رہا تھا کوئی بات ہوتی تو کہتا "کوئی بات نہیں ڈاکٹر سب بہتر ہو جائے گا” اور ڈاکٹرز کے مشورے سے اُسے شفٹ کر یا گیا۔ کچھ دن بعد سعدیہ کا سانس بھی بہتر ہو گیا اور اپنے آپ کو بہتر محسوس کرنے لگ گئی تھی ڈاکٹرز کا کہنا تھا "آپ کے اندر حیران کن تبدیلی آئی ہے مبارک ہو تمہیں نئی زندگی مل رہی ہے” اور اُس کی بھی جان آئی سی یو سے نکل کر دنیا میں آ گئی۔ شیریں پر بھی رحمت ہو گئی تھی ہر بات پر وہ اللہ کا شکر ادا کرنے لگ گئی تھی جگر کی رپوٹس بہتر ہونے پر شیریں کو بھی شفٹ کر دیا گیا اور وہ ڈھیر ساری امیدیں لیے دنیا میں چلی گئی۔چاروں کی زندگی بہت بدل گئی تھی۔ مگر فراز ابھی بھی آئی سی یو میں ہی تھا اور اُس کی طبیعت دن بہ دن بگڑ رہی تھی ڈاکٹرز کی ٹیم بار بار اُس کا معائنہ کرنے کے لئے آرہی تھی ۔ مختلف ڈاکٹروں سے اُس کے لئے مشورے مانگے گے مگر سب بے کار ہوتے جا رہے تھے۔ اُس کے جسم کے اعضاء نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا فراز کا معاملہ سنبھلنے کو نہ آ رہا تھا  اور پھر وہ وقت آ گیا جب ڈاکٹرز نے ہار تسلیم کر لی ڈاکٹرز کا کہنا تھا ہم نے ساری کوشش کر لی مگر کچھ نہ ہو سکا اور فراز اس دنیا سے دوسری دنیا میں چلا گیا۔ جب فراز نے سوال کیا مجھےکیوں نہیں زندگی بخشی گئی تو جواب آیا ” تم اپنی کمزوری نہیں بلکہ اپنی توانائی کو ترک کر دیا تھا مقاصد انسان کو زندگی میں زندہ رہنے دیتے ہیں جب سب مقاصد ترک کر دیے تو زندہ رہنے کا کیا مقصد بچا”۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

آخر میں کہاں ہوں … احمد نعیم مالیگاؤں مہاراشٹر (بھارت

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر67 آخر میں کہاں ہوں احمد نعیم مالیگاؤں مہاراشٹر (بھارت) …

ایک تبصرہ

  1. Avatar

    ماشاء اللہ
    بلال بھائی بہت عمدہ تحریر ہے…
    مقصد کا دوسرا نام زندگی ہے…
    جس کا کوئی جینے مقصد ہے وہ زندہ ہے…
    باقی زندہ لاشیں رہ جاتی ہیں ,زندگی کی سانسیں پورے کرنے کا انتظار ہوتا ہے انکو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے