سر ورق / مضامین / اک آہو ئے خوش چشم ۔۔۔ نورالحسنین

اک آہو ئے خوش چشم ۔۔۔ نورالحسنین

                          اک آہو ئے خوش چشم

 نورالحسنین

   اورنگ آباد ( دکن )

                صادقہ نواب سحر نے افسانے کب سے لکھنا شروع کیا اس کا مجھے انداہ نہیں ہے لیکن میں اُس وقت چونکا جب اُن کا پہلا ناول ” کوئی کہانی سناو متاشا “ میرے ہاتھوں میں آیا ۔ یہ ناول مجھے اس لیے بھی پسند آیا کہ اس کی کہانی کسی دریا کی طرح بہتی ہے ۔ ناول کے کردار صادقہ نے تخلیق نہیں کیے بلکہ یہ وہ کر دار ہیں جو ہمارے اپنے آس پاس جیتے ہیں ، سانسیں لیتے ہیں ۔ ان کرداروں کی زندگی میں آنے والے واقعات بھی انہونے نہیں ہیں ۔اس طرح کے کردار اور واقعات حقیقی زندگی میں آئے دن نظر آتے رہتے ہیں ۔

                وقت کے ساتھ ہی ساتھ میں اُن کی افسانہ نگاری ، ڈرامہ نگاری ، مضمون نگاری اور شاعری سے بھی واقف ہو تا گیا اور وہ نہ صرف اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہو گئیں بلکہ نہایت تیزی سے فن اور شہرت کی سیڑھیاں چڑھتی چلی گئیں اور آج یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ وہ ایک ہمہ جہت ادیبہ ہیں ، اور ادبی رسائل سے پوری طرح جُڑی ہوئی ہیں ،کبھی افسانے کی صورت، کبھی شعری تخلیقات کے بہانے ، کبھی اُن کی کسی کتاب پر تبصرہ، کبھی افسانے اور ناولوں پر لکھے گئے مضا مین میں اُن کا تذکرہ دکھائی دیتا ہے اور اُن کا نام ذہنوں میں گونجتا رہتا ہے ۔ یعنی اب وہ اُس منزل پر پہنچ چکی ہیں جہاں عصری ادبی تنقید اُن کے نام کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی ۔ کیایہ مقام صادقہ نے ذود نویسی سے حاصل کیا ؟اس کے جواب میں یہ بات کئی بار کہہ چکا ہوں کہ ادبی تنقید کا حوالہ بننا آسان نہیں بہت مشکل ہے ۔ اس مقام پروہی پہنچ سکتا ہے جو اپنی تخلیقات میں عام روش سے مختلف ہوتا ہے ، یا جو اپنی تخلیقات کو فن پارہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو ، خواہ موضوع کی سطح پر، یا تکنیک اور اسلوب کی بنیادپر ایک نئی تازگی کا احساس دلاتا ہو ۔ مجھے نہایت مسرت ہوتی ہے کہ صادقہ نواب سحر نے ادب کے اس صحرامیں قدم بھی رکھااور اپنی آبیاری سے اس صحرا کو گُل بوٹوں سے سجانے کی کوشش بھی کی اور اُن تمام ہنر مندیوںسے خود کو آراستہ بھی کیا جو فکشن کے سفر کے لیے ضروری ہو تی ہیں ۔

                اُن پر لکھے گئے مضامین و تبصروں کو کتابی صورت میں تبدیل کرنے سے پہلے جب اُس کا مسودہ اُنھوں نے میرے حوالے کیا کہ میں اس کا پیش لفظ لکھوں، تو اُن کی تعداد کو دیکھ کر میں دنگ رہ گیا ۔ اپنی مصروفیت اور اپنی اہلیت کے پیش نظر میں نے اُنھیں مشورہ دیا کہ وہ میرے بجائے کسی مستند ناقد یا ادیب سے لکھوالیں، بلکہ کئی نام بھی اُن کے سامنے رکھے، لیکن وہ راضی نہ ہوئیں اور مجھ ہیمچداںکے سر یہ ذمہ داری ڈال گئیں ۔اُن کے فن پر لکھنے والوں میں ڈاکٹر علی احمد فاطمی ، عابد سہیل ، علی امام نقوی ، بلقیس ظفر الحسن ،پروفیسر قدوس جاوید ، خورشید اکرم ، ڈاکٹر نغمہ جاوید ملک ، محمود شاہد ،ف۔ س۔ اعجاز،مصطفیٰ کریم جیسے بے شمار نام ہیں جنھوں نے اُن کے فن کے مختلف جہتوں پر کھل کر لکھا ۔اس کے علاوہ ڈاکٹر قمر رئیس، اقبال مسعود، ذکیہ مشہدی، مشرف عالم ذوقی ، وصیل خان جیسے ناقدین و ادیبوں نے اپنے تاثرات سے نوازا ہے ۔ یہ ساری تحریریں وہ ثبوت ہیں جو اُن کی فنکاری کا اعتراف کرتے ہیں ۔

                ڈاکٹر علی احمد فاطمی نے ناول اور ناول نگار کے فن کا احاطہ کرتے ہوئے اُنھیں ایک ایسا مشورہ دیا ہے جو اُنھیں فن کی تابناکی کی طرف لے جاتا ہے ۔وہ لکھتے ہیں:

” اچھی بات یہ ہے کہ صادقہ کے یہاں کچھ خواب ہیں ۔۔ جو حقیقت سے رشتے استوار رکھتے ہیں ۔ ان دونوں کا سنگم ہی اس ناول کو لائق مطالعہ بناتا ہے ۔ ۔ صادقہ خواب دیکھنا بند مت کرنا ۔ ایک خوشحال، روشن معاشرہ اور زندگی کا خواب ۔۔اسی میں ہم سب کی نجات ہے ۔ “

                دیکھا جائے تو ایک ادیب کا سفر کھلی آنکھ سے عبارت ہے لیکن کھلی آنکھ سے دیکھے جانے والے مسائل اور دکھ کا مداوا کسی ادیب کے دسترس میں نہیں ہے ۔ان مسائل اور دکھ سے نکلنے کے لیے وہ خواب ضرور دکھاتا ہے، یہی خواب وہ تسلیاں ہیں جو زندہ رہنے کے اسباب پیدا کرتے ہیں ۔

                مجھے ذاتی طور پر اُن کا پہلا ناول اس لیے بھی پسند ہے کہ اس میں عورتوں کے استحصال کی جو داستان بیان ہوئی ہے ، اُس کے مجرم کون ہیں؟ یہ استحصال کہاں سے شروع ہوتا ہے ؟ صادقہ نے وہ بات بتائی ہے جس میں ہم سب کو اپنے ہی چہرے نظر آتے ہیں :

” میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ پاپا کی نفرت کا سبب کیا تھا ؟ یہ بات میرے لیے ہمیشہ پہلی بنی رہی۔ “

” میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ماں مجھے اتنا مارتی کیوں ہے ؟ “

                دیکھا جائے تو یہ سوالات صرف ناول کے کردار کے نہیں ہیں ۔ غور کیا جائے تو یہ فکر ہر اُس متنفس کی ہے جو عورت کے جون میں پیدا کیا جاتا ہے ۔اس ناول کے حوالے سے صادقہ کا یہ سوال سارے معاشرے سے ہے ۔

                صادقہ نواب سحر کا دوسرا ناول ” جس دن سے۔۔۔ “ پھر ایک بارمعاشرتی ، سماجی زندگی کا احوال پیش کرتا ہے ۔ اس ناول سے متعلق

ڈاکٹر نغمہ جاوید ملک لکھتی ہیں ‘

” ان کا دوسرا ناول بھی سماج ، ثقافت، معاشرت کے گوناگوں پہلوو ¿ں سے روشناس کرواتا ہے ۔ میں بلا جھجھک کہہ سکتی ہوں کہ صادقہ نواب کی لگن و جستجو اور عمیق ادراک نے ناول کو پُر وقار، پُر اثر بنادیا ہے ۔ ایک نچلے متوسط مراٹھی پریوار کے بکھرنے ، ٹوٹنے اور منتشر ہونے سے پریوار کے بچیوں کی نفسیاتی،ذہنی کیفیت کا مطالعہ بڑی عقابی نظروں سے کیا گیا ہے ۔ نوجوان پود میں آج زندگی کو دیکھنے ، سمجھنے کا نظریہ بالکل بدل گیا ہے۔ اس ناول میں موجودہ دور کی کئی سمسیاو ¿ں کو سمجھنے سمجھانے کی اور اُن کا تدارک کرنے کی ایماندارانہ کاوش کی گئی ہے ۔ اس میں دو پیڑھی کی کشمکش اور تناو ¿ بھی ہے اور عورت کیمجبوری و بیکسی کے ساتھ ہی اُس کی انا کی آواز کو صاف صاف سنا جاسکتا ہے ۔ ایک طرف مرد کا ہرجائی پن اور دوسری طرف ڈکٹیٹروں والا رویہ ۔۔۔ “

                صادقہ اپنے ناول اور افسانوں کے لیے کردار اپنے اطراف و اکناف ہی سے اُٹھاتی ہیں اور اُن کے اطراف وہ جو کہانی بنتی ہے وہ بھی حقیقی زندگی سے اتنی قریب ہوتی ہیں کہ فسان پر حقیقت کا گمان ہونے لگتا ہے ۔پروفیسرقدوس جاوید نے اُن کے تازہ ناول کے کرداروں سے متعلق بڑی عمدہ بات لکھی ہے :

” صادقہ نواب کے اس ناول میں جیتو ( جتیش ) اُس کے ماں باپ ، مینکا ، ملی ، ساحل، سائرہ وغیرہ بہت سارے کردار ہیں جو ناول میںمربوط واقعات پیدا کرکے ناول کے پلاٹ اور کہانی کو مستحکم کرنے کے بجائے اپنے منطقی اور مدلل مکالموں کے ذریعے ناول میں ایک دانشورانہ فضا کی تشکیل کرتے ہیں جو عصری زندگی کی سچائیوں کے حوالے سے معاصر ناول کی شعریات کا نمایاں عنصر ہے ۔ “

                ناول نگاری کے ساتھ ہی ساتھ صادقہ نواب سحر نے افسانہ نگاری میں قاری کا اعتماد حاصل کر لیا ہے ۔ اُن کے افسانوں کا محور وہ عصری انسان ہے جو ذہنی انتشار کا شکار ہے جس کا اثر اُس کی زندگی کی نفسیاتی اُلجھنوں میں دکھائی دیتا ہے ۔مادّی اغراض اُس کی ازدواجی زندگی کو بھی بے سکون کر رہے ہیں ۔ حالات کا جبر اُس کی انا کو ڈس رہا ہے ۔ خاندانی رشتے بکھر رہے ہیں ، اُن میں خلوص و محبت کا فقدان ہے ، سماج میں عورتوں کا استحصال ایک عام سی بات ہوکر رہ گئی ہے ۔ دن بدن خود غرضی و بے حسی بڑھ رہی ہے ۔ اور ایک ایسا معاشرہ سامنے آٓرہا ہے جس کے چہرے پرایک دو مکھوٹے نہیں بلکہ بے شمار مکھوٹے ہیں جو حسب ضرورت اُنھیں بدلتا رہتا ہے ۔ڈاکٹر بی محمد داو ¿د محسن اُن کی افسانہ گاری کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

” صادقہ نواب سحر کی ہر کہانی اپنا ایک الگ موضوع لیے ہوئے ہے اور ہر کہانی ایک الگ پس منظر لیے ہوئے ہے ۔ وہ سماج کی خانہ دار اور پیشہ ور انہ خواتین اور مردوں کی زندگی کی چھوٹی چھوٹی باتوں اور چھوٹے چھوٹے واقعات و کیفیات سے کہانی کے تانے بانے بنتی ہیں ۔ کچن سے لےکر آفیس، سڑک سے لے کر شاہراہ ، اور قریہ سے لے کر شہر ، ڈرائینگ روم سے لے کر دفتر ، بزنس سے لے کر ملازمت تک کی باتیں ان کے یہاں در آتی ہیں ۔ ان کے بیشتر افسانوں میں Joint family کا تصور پایا جاتا ہے جس میں بھائی بہن ، ماں باپ، خالہ خالو ، چچا چاچی ، ماموں مامی ، گاو ¿ں کی عمر رسیدہ خواتین یہاں تک کہ دور کے رشتے دار بھی دکھائی دیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ان کے اکثر افسانوں میں ” عورت “ مرکزی کردار ہوتی ہے اور ” مرد “ ضمنی کردار کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ “

                خورشید اکرم کے مطابق صادقہ اپنی کہانی کے مطابق صرف کردار ہی نہیں بلکہ وقت اور مقام کو بھی پوری طرح نگاہ میں رکھتی ہے اور اسی مناسبت سے اپنے بیانیہ کو ڈھالتی ہے ۔ اس کے علاوہ بھی اُنھوں نے ایک اور خاص بات کہی ہے :

” ان کا فکشن پڑھتے ہوئے مجھے جس بات پر تھوڑی حیرانی رہی ہے وہ یہ کہ اوّل تو اُنھوں نے بیشتر اُردو کی حد تک نامانوس ماحول اور معاشرے کو

 

 

 

 

اپناموضوع بنایا ہے اور پھر ان نامانوس کرداروں کو ( جو عام انسان ہیں اور اپنی عامیانہ زندگی کی جنگ اپنی قوت بھر پوری سنجیدگی سے لڑ رہے ہیں ، گزر رہے ہیں ،ا ُٹھ رہے ہیں ) اس طرح جیا ہے کہ اکثر محسوس ہوتا ہے کہ قاری اور کردار کے درمیان مصنف ہے ہی نہیں اور واقعات کی کڑیاں ایک دوسرے سے فطری طور پر اسی طرح جڑی ہوئی ہیں کہ ان کا وقوع پذیر ہونا ہونی انہونی کے فطری کھیل کا حصہ معلوم ہوتا ہے ۔ “

                 خورشید اکرم نے اگر اُن کے کردار،مقام اور وقت کے ساتھ اُن کے عمل ردعمل کی بات کی ہے تو محمود شاہد نے ناول ” جس دن سے ۔۔۔ “ کے اسلوب اور زبان پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کے اس ناول میں زبان کے دو دھارے ہیں :

” جہاں تک اسلوب کی بات ہے نہایت رواں دواں اور بے تکلف طرز ِ بیان ہے ۔ زبان کی دو سطحیں نظر آتی ہیں ۔ مکالموں کی زبان کو ممبئی میں استعمال کی جانے والی روز مرہ زبان کے قریب رکھا گیا ہے ۔ جب کہ مکالموں سے ہٹ کر بیانیہ حصوں میں زبان کسی قدر صاف شستہ نظر آتی ہے ۔ کردار ایک ہوں یا ہزاروں ، صادقہ نواب سحر ان کی شکل و صورت ، عادات و اطوار ، فکر و عمل ، مزاج و نفسیات کو ایسے بیان کرتی ہیں جیسے یہ کردار ان کے اپنے خاندان کے ہوں ، جن کو وہ قریب سے جانتی اور پہچانتی ہیں ۔ “

                صادقہ کا کمال یہی ہے کہ اُن کے کرداروں کے مکالمے اُن کے ماو ¿تھ پیس سے نکلنے ہوئے نظریات کی تبلیغ نہیں ہے بلکہ اُن کے کرداروں کی وہ آزادانہ سوچ ہے جسے کہانی کے تقاضے چاہتے ہیں ۔ قدوس جاوید جیسے ذہین نقاد بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

” صادقہ کے ناول ” جس دن سے ۔۔۔ “ میں کال سینٹر ، کارپوریٹ ورلڈ ، عدلیہ اور تعلیمی اداروں سے وابستہ نئی نسل کے مردوں اور عورتوں کے حوالے سے جو مکالمے ملتے ہیں وہ ترقی یافتہ شہروں کی طرز ِ حیات ، طرز ِ گفتگو اور لفظیات ومحاورات کا آئینہ ہیںاور ناول میں اُن کا استعمال شعوری طور پر نہیں ، بے محابہ فطری انداز میں ہوا ہے ۔ قاری کو کہیں ایسا محسوس نہیں ہوتا جیسے ناول نگار نے اپنے ناول میں ان کرداروں کی سوچ اور فکر کی شعوری پیوند کاری کی ہے ۔ “

                صادقہ شاعرہ بھی اور بقول سکندر علی وجد ، ” شاعری کا سب سے بڑا وصف یہی ہے کہ وہ انسان کو لفظوں کی کفایت سکھاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ صادقہ کایہ ہنر ناول اور افسانوں میں بھی دکھائی دیتا ہے ۔ اس کتاب میں اور بھی مضامین شامل ہیں جن کے لکھنے والے معروف بھی ہیں غیر معروف بھی ، لیکن اُنھوں نے محنت اور لگن سے صادقہ کے فن کا جائزہ لینے کی اچھی کوشش کی ہے ۔

                میرے نزدیک یہ کتاب صادقہ کے فن کا صرف ایک پڑاو ¿ ہے، کیونکہ ابھی اُن کا ذہن تازہ ہے ۔ ابھی اُن کے مشاہدے اور مطالعے کی منزل صرف دوپہر تک ہی پہنچی ہے ۔ ابھی اُن کا اسپ ِ قلم تیز بہت تیز دوڑ رہا ہے ۔ اُن کی آنکھوں میں حال، ماضی اور مستقبل کے جانے کتنے مناظر پوشیدہ ہیں جو رفتہ رفتہ کاغذ کی سطح پر اُتریں گے ۔ وہ جس رفتار سے ادب میں داخل ہوئی اُسے دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ وہ ادب کے کئی آسمانوں کو سر کرکے ہی دم لیں گی ۔

                میں بحیثیت معاصر اُن کی اس ادبی کامیابیوں کو سہراتا ہوں، پسند کرتا ہوں، اور دعا گو ہوں کہ اسی طرح ادب کی سر زمین پر نئی صبح و شام پیداکرتی رہیں

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ایک غلط فہمی اقبال کے نام سے ..فرہاد احمد فگار

ایک غلط فہمی اقبال کے نام سے (فرہاد احمد فگار، مظفرآباد) صاحبان آج ایک اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے