سر ورق / افسانہ / فیس بک  عشرت معین سیما برلن ۔ جرمنی 

فیس بک  عشرت معین سیما برلن ۔ جرمنی 

عالمی افسانہ میلہ
افسانہ نمبر 63
فیس بک
عشرت معین سیما
برلن ۔ جرمنی
فیس بک کی دنیا بھی عجیب ہے اس دنیا میں کئی ایسے لوگوں سے رابطہ ہوا جن سے ہم زندگی میں کبھی نہیں ملے لیکن ہم خیال ، ہم ذوق اور کبھی کبھی ہم زبان و علاقہ ہونے کی بنا پر ایسی دوستی ہوگئی جیسے کہ برسوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں۔ میں شاعرہ یا مصنف تو نہیں لیکن اچھا ادب اور پر لطف شاعری ہمیشہ سے میری کمزوری رہی ہے ۔ فیس بک پہ منتخب اشعار کی شئیرنگ کی وجہ سے میرا کئی ادیب و شاعروں سے براہ راست مخاطب ہونے اور ان کی تخلیقات پہ داد دینے کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ ایسے میں مجھے جب کوئی میرے شہر کا ادب و شاعری نواز شخص اس فیس بک کی پُر ہنگام دنیا میں ٹکراتا اور سلام دعا کرتا ہے تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ میرا وطن جایا میرا بہت اپنا ہے۔ اس کے پرخلوص سلام و دعا کا سلسلہ بڑھ کر کبھی کبھی شہر کے علاقے اورسابقہ محلے کی گلیوں سے ہوتا ہوا گھر کی دہلیز پار کر لیتاہے اور دونوں جانب سے خاندان کے افراد کا غائبانہ تعارف ، بزرگوں اور پرانے جاننے والوں کا کوئی نہ کوئی تعلق اس فیس بک کے رشتے کو بہت مضبوط کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔جب میں نے پردیس میں اپنے شوہر کے ساتھ اپنی زندگی کا یہ سفر شروع کیا تھا تو مجھے اس ماحول کی اجنبیت اور تنہائی کاٹ کھانے کو دوڑتی تھی ۔ لیکن جب سے میں نے اسمارٹ فون پہ فیس بک اور میسنجر کے ساتھ ساتھ واٹس ایپ کا استعمال شروع کیا ہے تب سے میرا وقت بہت اچھا گزر نے لگا ہے ۔ مجھے لگتا ہے کہ فیس بک پہ تمام لوگ میرے رشتہ دار ہیں اور میں اپنے اس خاندان کی صبح و شام کی دعاؤں اور سلام میں محفوظ ہوں ۔
میں اپنے متعلق بتا دوں کہ میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سےبہت تنہا تھی میرا خاندان صرف میرے والدین اور ایک غیر شادی شدہ چچا تک ہی محدود تھا جو چند ماہ قبل وفات پا گئے تھے ۔ شادی جہاں ہوئی وہاں بھی میرے شوہر اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے۔شادی کے سال بھر بعد ایک بیٹی نے خاندان کو زرا وسعت دی۔ دوست احباب پردیس آکر ویسے بھی کم ہوگئے تھے۔ ایسے میں فیس بک کے احباب خدا کا ایک انعام ہی محسوس ہوتے تھے۔
کل رات ایک باریش بزرگ نے فیس بک پہ دوستی کا پیغام بھیجا ۔ میں نے تصویر کو غور سے دیکھا تو ان کی شکل مجھے اپنے مرحوم اکلوتے چچا سے ملتی جلتی محسوس ہوئی۔ میں نے اپنے اس خوبصورت حالیہ بچھڑے رشتے کی تشنگی کو محسوس کرتے ہوئے ان کی ریکویسٹ فوراً قبول کر لی۔ابھی ریکوئسٹ قبول کی ہی تھی کہ ان بکس میں اُن کا سلام آگیا اور ساتھ ہی فرینڈ ریکوئسٹ قبول کرنے پہ مودبانہ بلکہ پر شفقت شکریہ ادا کیا۔ میں نے جواباً سلام و دعا کے سلسلے کو بڑھایا ۔
“ کیسے مزاج ہیں آپ کے؟
میں نے لکھ کر پوچھا۔
“میں ٹھیک ہوں ، آپ کیسی ہیں ؟ کس علاقے سے تعلق ہے آپ کا؟
آگے سے جواب کے ساتھ ہی ایک نیا سوال آگیا تو میں نے لکھا
“ میں کینڈا کے شہر ٹورنٹو میں رہتی ہوں”
فوراً ہی دوسرا سوال آگیا ۔
“ پاکستان سے ہیں یا ہندوستان سے؟
مجھے حیرت ہوئی کہ انہوں نے میری فیس بک ٹائم لائین کا جائزہ لیے بغیر ہی فرینڈ شپ ریکوئسٹ بھیج دی۔ پھر ساتھ ہی خیال آیا کہ میں نے کونسی ان صاحب کے متعلق اتنی تحقیق کی تھی میں نے بھی تو ان کی فوٹو دیکھ کر اس دوستی کی ریکوئسٹ کو قبول کر لیا تھا۔ انہوں نے پھر لکھا ۔
“ آپ اکیلی ہیں یا فیملی ساتھ رہتی ہے؟
میں نے اس بار اپنے متعلق تفصیل سے بتایا
“ میں پاکستان کے شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہوں میرے والدین کا تعلق ہندوستان کے شہر حیدر آباد دکن سے ہے پارٹیشن کے بعد وہ کراچی منتقل ہوگئے تھے- میں کینڈا میں پانچ سال سے اپنی تین سالہ بیٹی اور شوہر کے ساتھ رہ رہی ہوں۔ اچھی شاعری اور ادب پڑھنا میرا شوق ہے”
“ کراچی کے کس علاقے سے ہیں آپ؟ میں انیس سو پینسٹھ میں کراچی میں لالو کھیت کے علاقے میں پیدا ہوا ہوں ابتدائی تعلیم بھی وہیں حاصل کی ہے ۔ پانچ سال قبل بیوی کی وفات کے بعد وہ شہر چھوڑ کر دوبئی چلا آیا ہوں ۔پیسہ بہت کمایا ہے اب اپنی عمر کے اس حصے میں دوبئی میں مزے سے زندگی بسر کر رہا ہوں ۔ اگر آپ دوبئی آئیں تو خاکسار کو یاد رکھئے گا ، میں نے بہت نامور شعرا ء کے ساتھ یہاں مشاعرے منعقد کیئے ہیں اور ادبی محفلیں سجائی ہیں ۔ فیض و فراز سے لے کر عہد حاضر کے تمام شعرا ء و ادباء میرے رفیق ہیں۔ اگر آپ کسی سے ذاتی طور پر ملاقات کی خواہشمند ہو ں تو ضرور آگاہ کیجئے گا “
انہوں نے اپنا تفصیلی تعارف پیش کیا۔ عہد حاضر کے شعراء کا ذکر سن کر میں ایک لمحے میں مرعوب ہوگئی اور فوراً پوچھ بیٹھی ،
“کیا آپ وحید نسیم کو بھی جانتے ہیں ، وہ بھی آپ کے دوست ہیں ؟
“وحید نسیم تو میرا بہت گہرا دوست ہے وہ ہندوستان سے جب بھی کہیں ملک سے باہر جاتا ہے مجھے سلام کرنے ضرور آتا ہے اور دوبئی میں تو وہ میرے گھر ہی قیام کرتا ہے میں جلد اس سے آپ کی بات کرواؤں گا “
میں گفتگو جاری رکھنا چاہتی تھی لیکن اس وقت مجھے کچھ ہی دیر میں اپنی بیٹی کو کنڈرگارٹن لینے جانا تھا ۔ میں نے دیوار پہ لٹکی گھڑی پہ ایک نظر ڈالی میں ان صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے پہلے ہی دس منٹ لیٹ ہوگئی تھی۔ میں نے دوبارہ بات کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے اپنی گفتگو سمیٹی اور فون بند کر کے بیگ میں رکھا اور گاڑی کی چابی ہاتھ میں لے کر بیٹی کو لینے کے لیے تیز قدم اٹھاتے ہوئے گھر سے باہر نکل آئی ۔
رات کو میسنجر میں کئی نئے اور پرانے دوستوں کے میسج تھے۔ فیس بک میرے لئے ایک کھلونا ہی تھی ۔ نت نئی اپلیلیشنز پہ اپنے متعلق مختلف موضوعات پہ رائے قائم کرنا ،کبھی اس کا فیصد معلوم کرنا کہ میں دوستوں میں کتنی محبوب ہستی ہوں ،میرا مشغلہ ہی بن گیا تھا۔ آج فیس بک پہ ایک نئی اپلیکیشن متعارف ہوئی تھی ۔ اپنا ماضی یا مستقبل دیکھنے کی ۔ میں نے بھی اپنی سیلفی بنا کر فیس بک پہ ہی اس فیس ایپ کی صلاح پہ اپنی تصویر کو آنے والے وقت اور بچپن کے حوالے کر دیا۔
“میرا بڑھاپا اتنا بھیانک ؟ ہاہاہا۔۔۔۔ چلو اب اس نئی طرز سے اپنی صورت گذشتہ پندرہ سال قبل کی دیکھتے ہیں”
میں نے اپنا ماضی دیکھنے کی خواہش کی اور میری تصویر چشم ذدن میں مجھے جوانی کی ابتدائی منزلوں پہ لے گئی ۔ اپنا ناقابل یقین حسن دیکھنے میں مجھے اتنا لطف آیا کہ میں نے اس تصویر کو اپنی پروفائل تصویر سے بدل ڈالا۔ کئی لائک کے انگوٹھے تصویر کے نیچے اپنی جگہ بنانے لگے اور کئی دل اس تصویر کے نثار ہونا شروع گئے۔
آج دن میں بننے والے میرے نئے فیس بک کے فرینڈ کے متعلق میں کچھ متجسس تھی اور ان کے متعلق مذید جاننا چاہ رہی تھی لیکن ایک غیر مرد سے کسی عورت کا خود مخاطب ہونا ہمارے معاشرے میں زرا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے اور میں اس معاملے میں ذرا محتاط بھی ہوں کہ کہیں کوئی یہ خبر نہ گرم کردے کہ عفت اصفہانی مردوں سے بلا جھجھک تعلقات قائم کر لیتی ہیں۔ دراصل ابھی وطن سے جڑی کچھ روایتیں مجھے سنبھال کر اس لیے بھی رکھنا ضروری ہیں کہ میری بیٹی دوہری معاشرت کے اقدار کو بھی جان لے۔ ابھی میں فیس بک پہ بننے والے نئے دوست کے متعلق سوچ رہی تھی کہ کسی نے میری نئی پروفائل تصویر پہ ایک دل نثار کرتے ہوئے کمنٹ کیا
“خوبصورت ۔۔۔ آپ بہت خوبصورت ہیں”
میں نے کمنٹ کرنے والے کے نام اور تصویر پہ نگاہ ڈالی تو مجھے خوشی ہوئی کہ وہ میرے شہر کے وہی ادب نواز دوست ہیں جو میرے چچا سے مشابہت کی بنا پر میرے دوست بنے ہیں۔ میں نے جلدی سے ان بکس میں ان کو پیغام بھیجا۔
“ بہت شکریہ !
انہوں نے بھی میرے شکریہ کے جواب میں دوبارہ ایک دل بھیجا اور لکھا
“ آپ کیسی ہیں ؟ کس علاقے سے تعلق ہے آپ کا؟
“ جی “
میں نے ابھی اتنا ہی لکھا تھا کہ انہوں نے اگلا سوال داغ دیا
““ آپ اکیلی ہیں یا فیملی ساتھ رہتی ہے؟
“ جی ! میں ۔۔۔وہ ٹورینٹو۔۔ حیدر آباد ۔۔۔ میں جواب دینے میں اٹک گئی ۔
ابھی میں اسی مخمصے میں تھی کہ کہیں مجھے کوئی مغالطہ تو نہیں ہوا۔ اتنے میں موبائل کے نوٹیفکیشن کی گھنٹی بجی اگلا سوال موبائل کی اسکرین پہ تھا
“ میں انیس سو ستر میں حیدرآباد دکن کے علاقے میں سادات نگر میں پیدا ہوا ہوں ابتدائی تعلیم بھی وہیں حاصل کی ہے ۔ دس سال قبل بیوی کی وفات کے بعد وہ شہر چھوڑ کر لندن چلا آیا ہوں ۔پیسہ بہت کمایا ہے اب اپنی عمر کے اس حصے میں اب لندن میں مزے سے زندگی بسر کر رہا ہوں ۔ اگر آپ کبھی یورپ آئیں تو خاکسار کو یاد رکھئے گا ، میں نے بہت نامور شعرا ء کے ساتھ یہاں مشاعرے منعقد کیئے ہیں اور ادبی محفلیں سجائی ہیں ۔ فیض و فراز سے لے کر عہد حاضر کے تمام شعرا ء و ادباء میرے رفیق ہیں۔ اگر آپ کسی سے ذاتی طور پر ملاقات کی خواہشمند ہو ں تو ضرور آگاہ کیجئے گا “
میں نے اب کی بار غور سے ان باریش نورانی چہرے میں اپنے چچا کی جھلک تلاش کی لیکن فیس بک پہ ایک ٹھرک اور خواتین کو ان کے چہرے کے حسن سے پرکھنے والی جعلی شخصیت اور دوستی کے پھندے میں عام و خاص خواتین کو پھانسنے والی فیک آئی ڈی منہ چڑاتی دکھائی دی۔ مجھے یکدم فیس بک کی دنیا میں شفاف دوستی اور خاندانی اکائی ایک جھٹکے سے ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوئی۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

آخر میں کہاں ہوں … احمد نعیم مالیگاؤں مہاراشٹر (بھارت

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر67 آخر میں کہاں ہوں احمد نعیم مالیگاؤں مہاراشٹر (بھارت) …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے