سر ورق / افسانہ / منزل سیدہ نصرت فاطمہ میسور انڈیا

منزل سیدہ نصرت فاطمہ میسور انڈیا

 

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر :61

منزل

سیدہ نصرت فاطمہ

میسور انڈیا

چندر موہن نے پو جا سے فارغ ہو کر دیوار کی طرف دیکھا جہاں اس کی ماں کی تصویر لگی ہوئی تھی۔

شفاف آنکھوں والی۔ماتھے پر کُم کُم کا ٹیکا لگائے۔مانو چاند کی طرح چمک رہا ہو، تصویر دیکھ کر ہمیشہ اسے خوشی ہوتی،ماں کی آنکھوں اور دھیمی مسکراہٹ میں کیسی خوب صورتی بسی ہوئی تھی کہ وہ جتنی با ر بھی تصویر دیکھتا اس کی طبعیت سیر نہ ہو تی اسے لگتا ماں کی تصویر میں چھپی ممتا اس سے اب بھی ہم کلام ہے !

اسی لئے وہ دیر تک اسے دیکھتا رہتا، یہ اس کا روز کا معمول بن گیا تھا

چندر موہن کو آج بھی وہ دن اچھی طرح یا د تھے جب اس کی ماں اسی عقیدت اور بھروسے سے کر شن بھگوان کی پو جا کیا کرتی تھی ابھی بچپن کے دن پو ری طرح رخصت بھی نہ ہو ئے تھے کہ اس کی ماں اسے اکیلا چھوڑ گئی اس دن وہ بہت رویا اور اسے لگا وقت کی کشتی زندگی کے، بیچ سمندر میں ہی رہ گئی ہے اور اب تنہا ہی اسے کھینا اور پار لگا نا ہے، سو، یہ سوچ کر اس نے زندگی کے وہی اصول اپنا لئے جو اس کی ما ں کے بنا ئے ہو ے تھے،صاف ستھرے پاکیزہ اصول!

چندر موہن نے کبھی اپنے باپ کو دیکھا نہیں تھا ایک دن جب اس نے اپنی ماں سے با با کے متعلق پو چھا تو اس نے بتایا کہ اس کے با با اس کے پیدا ہو نے کے چند مہنے بعد ہی ایک وبا ئی بیما ری میں چل بسے تھے اور وہ زندگی کی تپش دیتی دھوپ میں تنہا رہ گئی، وہ کم ہمت عورت نہیں تھی اس نے اُپلے تھوپے کھیتوں میں مزدوری کا کا م کیا اور چندر موہن کو پڑھا نے کی آرزولئے چندر موہن کو پروان چڑھاتی رہی۔چندر موہن کا با پ ایک جفا کش انسان تھا اسی کا جز اپنے اندر سموئے اس نے اپنی ماں کی اس آرزو کو پورا کرنے میں کو ئی کسر نہ چھوڑی،پہلے وہ گاوئں کے اسکول میں پڑھا اسکول کی پڑھا ئی پو ری کرنے کے بعد شہر کے اسکول گیا اور ابھی وہ ہائی ا سکول ہی میں پڑھ رہا تھا کہ ماں گزر گئی وہ کم سن تھا اسے لگا اچانک اس کے اندر ماں بابا دونوں کی طاقتیں آ سمائی ہیں اور وہ اسی عزمِ مصمم کے سا تھ جینے لگا کہ بہت بڑا آدمی نہ سہی ایسا آدمی ضرور بنے گا جس کی قدر و قیمت زمانے کے ساتھ خود اپنی نظروں میں بھی بڑھ جائے !

آج قصبہ میں اس کی عزت تھی ماں کی دعاؤں اور خود کی محنت کا نتیجہ ہی تھا کہ اسے اسکا لرشپ مل گئی یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرکے اب وہ ایک کالج میں لکچرر کی حیثیت سے ملا زم ہو گیا، اپنے طلباء کو بڑی محنتوں سے پڑھایا کرتا جس کی وجہ سے اس کی شہرت ہو نے لگی اور ساتھ ساتھ لو گ اس کی شرافت کے بھی قائل ہو نے لگے ’پاروتی بہن کا بیٹا کتنا شریف اور نیک نکلا ‘ کہہ کر اہلِ محلہ بھی اس کی تعریف کیا کرتے اس لمحے اسے ایک گونا خوشی ہو تی اور وہ سوچتا کہ اس نے اپنے مزاج اور رکھ رکھاؤ کی وجہ سے جو شبہیہ بنائی ہے اس میں اس کی ماں کی یا د کا عنصر شا مل ہے اور جس طرح سب اس کی سرا ہنا کرتے ہیں وہ اس کے لئے کسی اعزاز اور تحفے سے کم نہیں،یوں بھی وہ دکھنے میں خوبرو لگتا۔روشن آنکھیں مسکراہٹ میں جاذبیت،فراخ ماتھا،گھنے سیاہ بال اور نکلتا ہوا قد، کبھی اپنا روائتی لباس سفید کرتا دھوتی پہن کر کالج کے لئے نکلتا تو بے تکلف دوست نظر لگانے کے انداز میں ٹوک دیتے ’صبح سویرے سورج کے درشن ہو گئے ‘

وہ ان کے فقروں سے جھینپ جا تا اور شکایت کرتی اس کی آنکھوں میں ممنونیت اُتر آتی۔

چندر موہن اس سارے گزرے وقت میں اپنا کام خود کرنے کا عادی ہو گیا وہ روٹی بنا تا سبزی بھونتا برتن اور کپڑے دھوکر تیار ہو تا اور کالج چلا آتا اور ان لمحوں میں ماں کو برابر یاد کرتا رہتا وہ چاہتا تو اپنے لئے ایک وہیکل خرید سکتا تھا مگر اس نے سائکل کو اپنا سا تھی بنائے رکھا وہ اس کو چلاتا گاؤں کے بس اڈے تک آتا اور اس کو سائکل اسٹنڈ والے کی تحویل میں دیتا ہوا سر کاری بس سے کالج آجا تا، انا کمار سوامی جو قصبہ کے ایک بزرگ آدمی تھے وہ اس کے گھر سے کچھ دور ہی رہتے تھے وہ اکثر اس سے بات کیا کرتے بڑھتی مہنگائی، ٹی وی کی خبر اور سیاست پر، اس کی فکر بھی کیا کرتے ،مخلص تھے ،ایک دن اس سے کہا کہ اب اسے شادی کر لینی چاہیے یہ سن کر اسے اچھا لگا اور اس سے کوئی جواب نہ بن پڑا تو وہ ہنس دئے اور اس کی خاموشی کو فرمابرداری پر محمول کر تے ہو ئے ادھر اُدھر کی باتیں کر کے کچھ دیر بعد وہ اپنے گھر چل دیے ۔

وہ چلے تو گئے مگر چندر موہن سوچنے لگ گیا اسے ان کی کہی بات میں محبت نظر آئی لیکن پھر اس نے سوچا کہ وہ کسی کو جانتا ہی نہیں تو شادی سے متعلق کس سے کہے گا اس کی ایک دور کی موسی شہر میں رہتی تھی وہ یہ سوچ کر مطمئن ہو گیا کہ جب اس سے ملے گا تو اس معاملے کا ذکر کرے گا

وقت کا رتھ لمحوں کے پہیوں پر بھاگتا رہا ،بہار کا موسم آیا خزاں آئی پھر برسا ت کے رنگ بکھر گئے جل تھل ہوئی چڑیاں چہکیں اور ساری کائنات نکھر گئی،حسبِ معمول چندر مو ہن تیار ہوا دوپہر کی روٹی ڈبے میں رکھی دروازے کو تالا لگا کر اپنی سائکل لئے کالج کے لئے نکل پڑا یہ رہ گزر وہی تھی جس پر وہ ماں کی انگلی تھامے چلا تھا اس پر قدموں کے نشان پتہ دیتے تھے کہ زندگی کا سفر کتنا گزرا اور کتنا باقی ہے رہ گزر ماضی کو خواب کی طرح بیان کرتی ہے حال کی کہا نی کہتی ہے اور مستقبل کے در کھولتی ہے!

دھیمی رفتار سے پیڈل مارتا وہ چلنے لگا،ہوا میں نیلو فر کے پھو لوں کی خوشبو اس نے محسوس ُُ نظر تک سرسوں کے

کی حدِ نظر تک سرسوں کے کھیت لہلہارہے تھے،کھیتوں میں پگڈنڈیاں زندگی کا احساس دلا رہی تھیں وہ یوں ہی چلتے ہوئے منڈیر والے کنویں کے پا س پہنچا مشرقی سمت بہتی نہر کا پا نی چمکتی کرنوں میں جھلملاتابہت بھلا معلو م ہوا نہر کے کنارے آم کے پیڑوں کے جھنڈ تھے سبز پتوں میں چھپی ہر ایک شاخ پر بے شمار کیریاں اور کچھ ہی دور آلو بخاروں کے درخت لدے پڑے تھے کچھ کچے کچھ پکے ہو ئے ان درختوں کے پا س شمیم کھڑی دکھائی دی اپنے آنچل میں آلو بخارے بھرتی ہوئی اس کے لمبے بالوں میں گوندھا ہوا رنگین پھندنا ہو اکے جھونکوں سے لہرا اُٹھتا وہ کبھی اُچک کر ایک شاخ کو جھکالیتی اور آلو بخارے توڑنے لگتی چندر موہن وہیں رک گیا شمیم اس کے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر رہتی تھی

والد کا نام رحمٰن بیگ تھا ان کی محلے میں کرا نے کی دکا ن تھی ایک چھوٹا بھائی احمد تھا جو پانچویں جماعت میں پڑھ رہا تھا اکثر اس کے پا س محلے کے دوسرے بچوں کے ساتھ پڑھنے آیا کرتا ا ور وہ کبھی کالج کے لئے گھر سے نکلتا تو رحٰمن بیگ کا سامنا ہو جا نے پر ا نہیں سلام کیا کرتا جواب میں سلامت رہو کہہ کر دعا دیا کرتے پھر اپنی دکان کے راستے چل دیتے وہ اپنی راہ لیتا لیکن راہ داری کے پاس دریچے سے جھانکتی شمیم کو دیکھ کر یہ سوچے بغیر نہ رہ پا تا کہ شمیم اس کی آواز سن کر دریچے میں آجاتی ہے اس لمحے اسے مسرت کا احساس ہو تا۔دل کی نیرنگیاں عجیب ہو تی ہیں شاخِ دل پر جب خوابوں کے پھول کھلتے ہیں تو آنکھوں کے چراغ اور جسم کی ہر وادی نمو پذیر ہو جا تی ہے اور روم روم ایک انجانے کیف میں سیراب ہو جا تا ہے !

چندر موہن نے رک کر شمیم سے با ت کرنی چاہی لیکن وہ گٹھڑی ہا تھ میں لئے جانے لگی اور اسی لمحے گٹھڑی سے آلو بخارے چھوٹے اور زمین پر گر نے لگے اُوہ ماں کہ کر وہ نیچے بیٹھ گئی اور انہیں سمیٹنے لگی وہ سائکل کھڑی کر کے وہیں آگیا اور آلو بخارے سمیٹنے میں مددکرنے لگا شمیم اس کی طرف دیکھنے لگی اور اس پل اس کے گالوں پر آلو بخاروں کی سی سرخی چھا تی چلی گئی۔

چندر موہن کو شمیم سے ہو ئی وہ ملا قات اب بھی یا د آجاتی۔وہ جا چکی تھی اور وہ خود اس کی معصوم صورت شربتی آنکھوں کو اپنے آیئنے ذہن پر لئے کالج آگیا تھا

اس واقعہ کو بیتے کچھ ہی عرصہ ہو ا تھا اور آج شمیم کی شادی ٹہر گئی تھی !

سارے محلے میں ایک گہما گہمی سی ہونے لگی رحٰمن بیگ نے جو انتظامات کئے ان سے ساری گلی بھی

جگمگاتی دکھائی دی چھوٹے احاطے میں شامیانہ ، گھر کی چھت اور دیوار پر قمقموں کی جھالریں لٹکتی ہوئیں

جیسے ہی وقت ہو ا مہمان اورعزیز و اقارب آنے لگے رحٰمن بیگ نے محلے والوں کو بھی مدعو کیا تھا اندر شمیم

گھونگھٹ نکالے سر جھکا ئے بیٹھ گئی ہا تھوں میں مہندی کے بیل بوٹے رچائے سرخ غرارہ قمیض میں ملبوس دلہن بنی نزدیک میں کچھ ہم جو لیاں ڈھولک پر گیت گا نے لگیں ’ ہم تو ہیں بابل تیرے آنگن کی چڑیاں۔۔‘ احمد تھوڑی دیر بعد اندر آتا اپنی با جی کے گھٹنے سے لگ کر بیٹھ جا تا پھر کچھ سوچتا اور تردد کے ساتھ اُٹھ کر باہر چلا آتا شمیم کی اماں بولا ئی سی پھر تی اس کے دل میں یہ رنج جا گزیں کہ بیٹی ہمیشہ کے لئے پرا ئی ہو جائے گی پھر ’یہ دکھ تو اب سہنا ہی ہے ‘ سوچتی ہوئی کسی کام میں الجھ پڑتی شور و غل بڑھنے لگا اور برات آپہنچی نوجوان لڑکے اور بزرگ اس کی اگوائی کے لئے دروازے پر پہنچ گئے۔

چندر موہن کو کالج سے لو ٹنے پر پتہ چلا وہ اُداس سا ہو گیا،بجھے دل کے ساتھ منہ ہاتھ دھوئے چائے پینے کو جی نہ چاہا پژمردہ دل لئے تاریخ کی کتاب لے کر پڑھنے بیٹھ گیا شمیم کا چہرہ تصور میں آتو گیا مگر اس سے کوئی وعدہ نہ ہو اتھا ’دل بھی کچھ باتیں بنا کہے ما ن لیتا ہے! وہ اوراق پلٹنے لگا اور یوں ہی اسے اُ و نگھ آگئی کچھ دیر گزرنے کے بعد کسی چیخ کی اچانک آواز پر وہ اُٹھ بیٹھا اور شمیم کی گلی کی طرف زور سے بولنے کی آواز آنے لگی اس میں رحمٰن بیگ کی آواز اسے نمائیاں سنائی دی،روتی ہو ئی آواز۔مولا کے واسطے برات واپس نہ لے جائیں میں بس جلدی ہی رقم کا انتظام کردوں گا بھروسہ رکھیں۔۔۔اور

پھر وہ آواز دبتی چلی گئی۔اس لمحے چندر موہن باہر گلی تک چلا آیا اسے الجھن سی ہو نے لگی،مسجد کے اس طرف رحمٰن بیگ کا گھر اور اس طرف ہنومان مندر کے پاس اس کا گھر اُدھر کی صدائیں صاف سنائی دینے لگیں اس کا دل دھڑکنے لگا اس نے سوچا مسجد اور مندر سے کوئی سروکار نہ ہو نا چاہیے اس وقت تو صرف ایک دلہن کی تقدیر کا فیصلہ ہو نا ہے چند روپیوں کے لئے عزت داؤ پر نہ لگے،تو پھر۔؟ رحمٰن بیگ خوشامد کرتا باہر تک آگیا لیکن دولھا اور اس کا باپ متواتر گا ڑی کی طرف بڑھتے گئے اس نے باپ کو کہتے سنا ’واہ جی یہ کوئی بات ہوئی بھلا رقم دینے کا وعدہ کیا اور اب ٹال مٹول، باز آئے جی ہم تو،تیزی سے بیٹے کو کھینچتا گاڑی میں سوار ہو ااور لواحقین پیچھے بھاگتے لپک لئے،گلی تک رونے پیٹنے کی آواز آنے لگی جیسے موت ہو گئی ہو۔چندر موہن ایسے ہی کھڑا رہا۔جسم بے جان لگا،پھر سوچتا ہوا وہ تیزی سے رحمٰن بیگ کے گھر چل دیا شامیانے کے پاس رکا رحمٰن بیگ وہاں روتانظرآیا بڑھ کر اس کے ہاتھ تھام لئے اور کہا ’کیا فرق پڑے گا اس با ت سے کہ میں چندر موہن ہوں اور آپ رحمٰن بیگ سانس تو ایک طرح سے لیتے ہیں خون بھی سرخ ہے اورآنکھیں بھی دو شمیم کی شادی مجھ سے کر دیجئے میں عقائد پر یقین نہیں رکھتا عقائد تو دل سے ہو تے ہیں اور میں انسانیت کا شیدا ہوں۔رحمٰن بیگ نے اس کے ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھ لئے روتے ہوے بولا’مجھے خوشی ہوئی تم اتنے اچھے خیالات رکھتے ہو لیکن آج کے عقائد میں چھپی تاریکیوں کوا بھی نہیں سمجھ پاؤ گے میں نہیں چاہوں گا کہ اس گاؤں کی محبت بھر ی فضا ء میں اس وجہ سے زہر گھل جائے !یہ جملہ کسی کڑوی دوا سا تھا جسے وہ پی گیا کچھ نہ کہہ کر بوجھل قدم سے کمرے میں آکر اس نے ماں کی تصویر کو دیکھا تو لگا ماں تسلی بھرے انداز میں اسے دیکھتی نظر آئی۔۔۔!!

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

آخر میں کہاں ہوں … احمد نعیم مالیگاؤں مہاراشٹر (بھارت

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر67 آخر میں کہاں ہوں احمد نعیم مالیگاؤں مہاراشٹر (بھارت) …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے