سر ورق / افسانہ / تماشائے ہستی آئینہ مثال: لاھور

تماشائے ہستی آئینہ مثال: لاھور

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر 64
تماشائے ہستی
آئینہ مثال: لاھور

فسوں خیزرات دھیرے دھیرے اپنے پر پھیلا رہی تھی کمرے میں خوابناک سا سناٹا چھایا تھا، سانسوں کی موسیقیت کانوں میں رس گھولتی تھی لیکن آج اس مو سیقی میں وہ رِدھم نہ تھا، یہ رات شرفو کی ازدواجی زندگی کی انوکھی رات تھی جس میں اس کی محبوب بیوی روح کی طرح غیر مادی ہوکر اس سے دور ہو گئی تھی شرفو اس کے بہت پاس ہوتے ہوئے بھی اسے چھو نہ سکا، وہ ہاتھ بڑھاتا بھی تو کیسے،ایک بڑا خلاءوہ محسوس کر رہا تھا غریب کی زندگی کی عجیب آزمائش تھی اسے لگ رہا تھا کہ مصور کی تصویر اس کے سامنے بیٹھی ہے اس کی محبوب بیوی جیسے دھند میں لپٹی کہیں اندر چھپ گئی تھی وہ ساری رات اسے تلاش کرتا رہا لیکن وہ وجود مادی ہونے کے باوجود اس کے لیے مادی نہ ہوسکا، غریب کا لمس آج بے بس ہی نہیں بلکہ ادُھورا بھی رہ گیا تھا۔
شرف دین نسلاَ کمہار تھا اس کے باپ دادا پشتوں سے مٹی کے شاھکار تراشتےآئے تھے اس کے ہاتھ میں بھی بڑا ہنر تھا اتنا ہنر کہ اس کے خاندان کے بزرسگ کہا کرتے تھے اسکی سات نسلوں میں بھی ایسا ہنر کسی نے نہ پایا تھا، پانچویں جماعت میں ہی مٹی کے ایسے ستھرے نکھرے برتن تراشے کہ اسکے باپ فضل دین نے پورا ایک روپیہ انعام دے ڈالا تھا، یہ اس کی پہلی کمائی تھی اماں کےمیلے دوپٹے کے پلو میں ہر پل وہ ایک روپیہ بندھارہتا وہ روز منہ اندھیرے اماں کی اوڑھنی تھپتھپا کر ایک روپے کی موجودگی کی تسلی کرتا اور خوشی خوشی ناشتہ کر کے اپنے کام پر لگ جاتا، کہ پانچویں جماعت کے بعد کمہاروں کی بستی میں بچوں کو پڑھانے کا کوئی رواج نہ تھا نہ کوئی مڈل سکول تھا واحد پرائمری اسکول تھا جہاں ساتھ والی بستی کے بچے بھی پڑھنے آتے تھے۔ رجو اس کے بڑے چچا کی اکلوتی بیٹی تھی، چاچا کے ساتھ مل کر اپنے گورے گورے سندر ہاتھوں سے مٹی تراشتی تو وہ اس کے ہاتھوں کی سندرتا کو دیکھتا ہی رہ جاتا اس کے ہاتھوں کی خوبصورتی میں اُسے خدا کی سندرتا دکھائی دیتی تھی بنانے والے کا کمال دکھتا تھا، کسی کریم لوشن سے بے نیاز وہ ہاتھ مٹی میں رنگنے کے باوجود گداز میں اپنی مثال آپ تھے، بڑی بڑی نشیلی آنکھیں، گلابوں سا دمکتا مکھڑا ،مصری کی ڈلی جیسے ہونٹ، نرم مٹی جیسا لوچدار بدن، رجو اس کی دلہن بن کر اس کے گھر آنگن میں آئی تو وہ پکا کمار بن چکا تھا اس نے رجو کو بھی اپنے تراشے ہوئے شاہکاروں کی طرح سینت سینت کر رکھا،ماں کی اوڑھنی میں بندھا ایک روپیہ اس نے رجو کو منہ دکھائی کا تحفہ دیا تھا جسے پا کر وہ بڑی مسرور تھی اپنی سہیلیوں کو بتاتی پھرتی کہ شرفو نے اپنی پہلی کمائی اس کے لئے سنبھال رکھی تھی، اب وہی رجو تھی جو شوہر کی پریشانی میں کمہلا کر رہ گئی تھی۔
ایک رات وہ سرگوشی میں بولی” میں چودھریوں کی حویلی میں کل کام پر جاؤں گی گھر کا بھلا ہو جائے گا قرض بھی اتر جائے گا” دئیے کی ٹمٹماتی لو میں اس کا چہرہ چاند کی طرح روشن تھا شرفو کے دل کو کچھ ہونے لگا، وہ چہرہ جومحلوں میں راج کرنے کے قابل تھا کیسے جھونپڑیوں میں رُل رہا تھا لیکن وہ مجبور تھا اماں کی بیماری سامنے تھی قرض ادا کرنا تھا اس نے رجو کو کھینچ کر سینے سے لگا لیا لیکن اس لمس میں بہت بے بسی تھی وہ اپنی رجو کو دنیا کی نظر سے بچانا چاہتا تھا اسے اپنے اندر چھپا لینا چاہتا تھا لیکن ہائے رے غربت، شرفو کے لیے وہ دیوی جیسی حیثیت رکھتی تھی، حسن کی دیوی، جس کے چرنوں میں بیٹھ کربس پوجا کی جائے، رجو کے حسن کو دیکھ کر وہ خوفزدہ جاتا تھا ، رجو کو چودھریوں کی حویلی بھیجنے کے بعد وہ سارا دن عجیب بے چینی میں گزارتا،

وہ گھر آ جاتی تو بوسیدہ سے دروازے کی ٹوٹی کنڈی مضبوطی سے بند کرکے جیسے شانت ہو جاتا تھا، رجو کام پر جانے کے لئے گھر سے نکلتی تو وہ جیسے ہارجاتا ، وہ جسے سات پردوں میں چھپا کر رکھنے کا قائل تھا وہ یوں رُلتی پھر رہی تھی یہ اس کی غربت کا قصور نہیں تو اور کس کا تھا، غربت اور بیماری شاید لازم ملزوم ہیں وہ تو یہی دیکھتا آیا تھا اس کا باپ اور ماں تپ دق کے مریض، بیٹی بھی اسی مرض کا شکار اور وہ اوراس کی حسین مورت سی بیوی ان بیماریوں کا درد سہنے والے دو کردار، رجو کا بے تحاشا حسن، غربت، بیماری یہ مثلث اُ سے سانپ کی طرح ڈستی رہتی تھی اسے رجو کی خوبصورتی پر رشک بھی آتا تھا اور ترس بھی، شرفو کے پاس دولت کے خزانے بے شک نہ تھے محبت کے خزانے تو وافرمقدارمیں تھے جو وہ جی بھر کر اس پر لٹایا کرتا تھا اور عورت کے لئے یہ خزانے ہر خزانے سے بڑھ کر ہوتے ہیں ان کے بغیر اس کی زندگی ایک کھوکھلے برتن کی طرح ہے جو بجتا ضرور ھے لیکن بھرتا نہیں رجو بھی ہر مفلس کی بیوی کی طرح بجتی تو نہیں لیکن محبت کے خزانوں سے بھرتی ضرور تھی شادی کو پانچواں سال تھا پر وہ آج بھی پہلی رات کی دلہن کی طرح شرماتی لجاتی تھی اس کا یہی عورت پن شرفو کو پاگل کر کے رکھ دیتا تھا، وہ ہر رات اُسے پہلی رات کی دلہن کی سی پذیرائی دیتا تھا وہ ایک قابل مالی کی طرح اپنے پودے کو ہرا بھرا رکھنے کا ہنر جانتا تھا
اس رات بھی اس نے محبت کی کھاد سے پودے کو تروتازہ کیا وہ کھل اٹھا تو اس نے اپنے لمس سے اسے زندگی کا احساس بخشا اس احساس سے پودا لہکنے لگا تھا اب مالی پودے کو نئی زندگی بخش رہا تھا اور پودا اپنے مالک کے ہاتھوں سنور کر حیات بخش احساس اپنے اندر اتار رہا تھا، نئی صبح طلوع ہونے تک پودا مکمل طور پر شاداب ہو چکا تھا شرفو اپنے پودے کی شادابی دیکھ کر نہال تھا۔
شرفو آج بڑے دنوں بعد مٹی کے برتن تیار کر رہا تھا ، رجو اسکے ساتھ بیٹھی مٹٰی نکال کربچوں کے لئے چھوٹے چھوٹے برتن تیار کر رہی تھی، دوپٹہ بے پروائی سے گلے میں جھول رہا تھا، لانبے سنہرے بال پشت پر بکھرے تھے۔ آنکھیں کاجل سے بھرپور، سرخ جوڑا بدن پر جیسے دہک رہا تھا، چھوٹی چھوٹی دیواروں والے کچے آنگن کا یہ منظر ولی احمد کے لیے ایک مقناطیسی منظر تھا جس سے وہ کھچا چلا آیا رجو نے سر اٹھایا تھا اور چونک گئی ایک بابو سا نوجوان کھڑا حیران نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا، وہ دونوں بوکھلا کر اٹھ کھڑے ہوئے نوجوان نے ان کے چہروں پر موجود سوال بھانپ لیا اور بولا ”میں چوہدری صاحب کے بیٹے نبیل کا دوست ہوں ولی احمد، اسلام آباد سے آیا ہوں” وہ دونوں مودب ہوکر سننے لگے "میں ایک مصور ہوں اور مجھے قدرتی حسن سے بہت پیار ہے” اس نے سگریٹ سلگا کر گہرا کش لیا تھا” کمہاروں کی بستی میں مجھے میرا شوق کھینچ کر لے آیا مصنوعی زندگی کا حسین رُخ میں دیکھ چکا ہوں اور پینٹ کرتے کرتے تھک گیا ہوں مجھے قدرتی حسن کی تلاشی ہے” وہ جیسے خودسےکلام تھا۔
"یہاں تو سب کچھ مل گیا مجھے، میں یہاں نہ آتا تو بہت کچھ کھو دیتا” وہ عجیب قسم کے سحر میں مبتلا بول رہا تھا اسی دوران یکدم ہی ننھی بلو کو ابکائی آئی اور اس نے زمین پر تھُوک دیا، شرفو نے شرمندہ ہو کر وضاحت دی
"یہ بیمار ہے جی” نوجوان ٹھٹھک گیا
"کیا بیماری ہے”
"ٹی بی ہے صاحب” شرفو نے بتایا، ولی احمد کے چہرے پر دُکھ کی ایک لہر سی ابھری
اگلے روز وہ پھر ادھر آ نکلا، ایک مہربان مسکراہٹ اس کے چہرے پر سجی تھی، شرفو اور رجو نے ادب سے سلام کیا، کچھ دیر وہ ان کے بنائے گئے برتنوں کو سراہتا رہا پھر بولا
میں نے کل بتایا تھا نا کہ میں ایک مصور ہوں، قدرتی حسن سے مجھے جنون کی حد تک پیار ہے” وہ دونوں نا سمجھی سے سر ہلانے لگے
"مصنوعی حسن مصور کے لئے کشش نہیں رکھتا، وہ قدرتی حسن کی تلاش میں رہتا ہے اور میری تلاش کل ختم ہو گئی” اس نے رجو کی جانب دیکھا
"یہ چہرہ مصور کی تلاش ہے جو میرے تخیل سے بھی زیادہ منفرد اور حسین ہے، کیا تم مجھے اسے کینوس پر پر اتارنے دوگے شرفو، میں اسے تصویر کرنا چاہتا ہوں” ولی احمد نے بہت جذب سے یہ سب کہہ کر شرفو اور رجو کو حیران کر دیا، رجو نے بے اختیار شرم سے چہرہ نیچے کرلیا اس کے لئے کسی غیر مرد کی تعریف زندگی کا پہلا تجربہ تھا شرفو کا چہرہ لال ہو گیا
"نہیں صاحب یہ میری گھر والی کمہارن بیوی ہے مصور کی تصویر نہیں” شرفو جانے کیسے اتنی بڑی بات کر گیا، نوجوان مسکرانے لگا
"یہ چہرہ تمہارا ہی ہے شرفو، میں کل یہیں پر اپنا سامان لے آوں گا، سامنے بٹھا کر اپنے کینوس میں رنگ بھروں گا بس، اور اسکے بدلے ڈھیر سارا روپیہ بھی دوں گا” مصور نے آخری بات کی اور چلا گیا
رجو کے حسین چہرے کو دیکھ کر آج پھرا سے خوف آرہا تھا غریب کمار کی حسین بیوی آزمائش بن گئی تھی اتنے بڑے مصور کو دنیا بھر میں اس کا چہرہ منفرد دکھائی دیا تھا وہ جو رجو کو ساری دنیا سے چھپا کر رکھنے کا قائل تھا لیکن پہلے اسے چوہدریوں کے گھر کام پر بھیجنا اور آج ایک مصور کی پیشکش اسے مجبور کر گئی تھی ،ساتھ والی چارپائی پر لیٹی بلو بار تھوک رہی تھی
اگلے روز مصور آیا، بہت غور سے رجو کی جانب دیکھا اور کہنے لگا
” میں نے کہا تھا نا کہ فطرت کے حسن کو تصویر نہیں کروں گا تو میرے اندر کے مصور کی موت ھو جائے گی” وہ اپنی عادت کے مطابق بولتا چلا گیا، آج شرفو کے چہرے پر مجبوری ثبت تھی
"تمہیں منظور ہے نا” وہ شرفو کی جانب دیکھ کر پوچھ رہا تھا
"جی صاحب” مصور کے چہرے پر ایک طاقتور زندگی سے بھرپور مسکراہٹ اُبھری
"ویلڈن” یہ تصویر ولی احمد کی زندگی کا سب سے اہم شاھکار ھو گی، بولو شرفو تمہیں کتنا روپیہ چاہیے”
اس سےاُس کی رجو کے حسن کی قیمت پوچھی جا رہی تھی، اس نے بے ساختہ اپنا دل تھام لیا
آج رجوا سے بہت فاصلے پر دکھائی دی، بہت اونچی، اتنی کہ وہ اسے غور سے دیکھنے کی جسارت بھی نہ کر سکا ولی احمد اپنا سامان، رنگ، برش لے آیا تھا، پرانے سے موڑھے پر بیٹھی رجو کوئی اپسرا لگ رہی تھی، شرفو اس کے ساتھ آ کھڑا ہوا تھا لیکن اسے ایسا لگ رہا تھا کہ رجو کوئی ماورائی شے ہے جو اس کے چھونے پر بھی ہاتھ نہیں آئے گی وہ اب اسے کبھی محسوس نہیں کرسکے گا وہ جیسے اسکے اختیار سے پرے ہو گئی تھی، کینوس پر تھرکتے مصور کے ہاتھ شرفو کو آسیب بن کر ڈرانے لگے، وہ اسکی پوری زندگی ، اسکی کل کائنات کو تصویر کر رہا تھا وہ زندگی جسے وہ اپنے اندر کہیں چھپا رکھنے کا خواہشمند تھا آج مصور کے برش اور رنگوں کی جنبش میں جکڑی جیسے شرفو سے لمحہ بہ لمحہ دور ہوتی جا رہی تھی ، وہ پوری آنکھیں کھولے اپنی بے بسی کا تماشہ دیکھ رہا تھا، مصور کے چہرے پر رنگ ہی رنگ اترے ہوئے تھے
وہ رات شرفو کی شادی شدہ زندگی کی انوکھی رات تھی جس میں اس کی محبوب بیوی روح کی طرح غیر مادی ہوکر اس سے دور ہو گئی تھی وہ اس کے بہت پاس ہوتے ہوئے بھی اسے چھو نہ سکا اسے لگ رہا تھا کہ مصور کی تصویر اس کے سامنے بیٹھی ہے اس کی محبوب بیوی رجو جیسے دھند میں لپٹی کہیں اندر چھُپ گئی تھی وہ ساری رات اسے تلاش کرتا رہا لیکن اس کا وجود جیسے غیر مادی ہوگیا تھا غریب کا لمس آج بے بس ہی نہیں ادھورا بھی رہ گیا تھا
مصور ولی محمد کی تصویروں کی نمائش تھی وہ چودھریوں کی حویلی میں کارڈ دینے آیا تو جاتے جاتے انہیں بھی تھما گیا کہ اس نمائش میں انہوں نے بھی شرکت کرنی ہے، رجو کئی روز سے بی بی پاک دامن مزار پر جانے کا کہہ رہی تھی، ہفتے کے روز شرفونے جھٹ پٹ پروگرام ترتیب دے ڈالا صبح ہی وہ شہر جانے والی بس میں بیٹھ گئے بلو کو ساتھ والی شبانہ کے پاس چھوڑآئے تھے شہر پہنچ کر انہوں نے اڈے کے قریب ہوٹل سے نان چنے کھائے چائے پی، اب وہ بی بی پاک دامن کے مزار پر حاضری دینے جا رہے تھے، رجو نے عقیدت سے چادر چڑھائی، عورتیں رشک سے اُس کے حسنِ جہاں سوز کو دیکھ رہی تھیں، مزار پر حاضری دینے کے بعد وہ باہر آئے، شرفوں کے ہاتھ میں مصور کا دیا ہوا کارڈ تھا جسے وہ بار بار غور سے پڑھ رہا تھا، ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ الحمرا تک پہنچ ہی گئے رجو نے بڑی سی چادر کو مزید اچھی طرح لپیٹ لیا، شرفو حیران پریشان اِدھراُدھر دیکھ رہا تھا وہاں لوگوں کا جم عفیر تھا، کارڈ سے ہال نمبردیکھ کر وہ وہاں پہنچے تو تیز روشنیوں نے ان کی آنکھیں چندھیا دیں وہ گرتے پڑتے الحمرا کے مطلوبہ ہال کے سامنے پہنچ چکے تھے ، شرفو کا دل سوکھے پتے کی طرح لرز رہا تھا سامنے ہی تیز روشنیوں کی چکا چوند میں رجو کا عکس پورٹریٹ کی صورت جگمگاتا دکھائی دیا، ڈھیروں لوگوں کے ہجوم میں ولی احمد کسی دیوتا کی طرح براجمان تھا، اس کے گرد اتنے لوگ تھے کہ وہ اس ہجوم کو چیر کر وہاں پہنچ ہی نہ سکتے تھے مختلف چینلز کے لوگ، آرٹسٹ، صحافی، بڑے بڑے نام، معروف چہرے ، کیمرہ مین، وہ سب بڑے لوگ رجوکے پورٹریٹ کو سراہ رہے تھے، ہجوم سے پرے سال خوردہ پرانے کپڑوں میں ملبوس شرفو کمہار اپنی رجو کے پورٹریٹ تک رسائی تو دور کی بات بلکہ اُسے دیکھنے کی ہمت بھی نہیں کر پا رہا تھا، یہ اس کی رجو تو نہیں تھی، یہ تو کسی دور دیس کی شہزادی کا عکس تھا جسے لاکھوں میں تولا جا رہا تھا اس کے ساتھ کھڑی اسکی رجو کالی چادرکی بکل میں خود کو لپیٹے حیران سی اپنے چہرے کی اس پذیرائی پر گنگ کھڑی تھی
اترن پہننے والی رجو کے چہرے کو لاکھوں میں خریدا جا رہا تھا، وہ خدا کی بنائی ہوئی مورت تھی جسے مصور نے کامیابی سے اپنے کینوس پر تصویر کیا تھا یہ اس کا کمال تھا اور یہی کمال اسے عروج کی کس سطح پر لے گیا تھا اس کا احساس اس کے چہرے پر فتح بن کر چھلک رہا تھا اور وہ میلے کپڑوں میں ملبوس، سفر کی تھکاوٹ سے چور، تپ دِق کی مریض بیٹی کا باپ، یہ چہرہ ،یہ حسن ، جس کی دسترس میں تھا وہ اس وقت رنگ و بو کی اس محفل میں سب سے آخری مقام پر کھڑا منہ چھپائے ھولے ھولے سسک رہا تھا آنسو بے اختیار اس کا چہرہ بھگو گئے تھے
اس کی رجو آج مہنگی تصویر بن چکی تھی، بہت سے بدیسی مصور بھی وہاں موجود تھے جن کے سگار تھا مے ہاتھ رجو کے چہرے کو چھو کر اسے محسوس کر رہے تھے، دور ہجوم سے پرے کھڑا شرفو اپنا کمزور دل تھا مے لرزرہا تھا، وہ جسے دل کے نہاں خانوں میں چھپا کر ساری دنیا سے دور رکھنے کا خواہشمند تھا آج وہ تصویر کی صورت عیاں ہوگئی تھی، اس کے چہرے کے خریدار نوٹوں کے بریف کیس تھامے ادھرادھر پھر رہے تھے اور وہ اپنی بوسیدہ چادر سے آنسو پونچھ رہا تھا، ایک دو لوگوں سے کہہ کر اس نے مصور تک پہنچنے کی کوشش کی لیکن اس کے ظاہری حلیے اور اس حلیے سے ٹپکتی غربت کی وجہ سے کسی نے اُسے درخود اعتنا نہ سمجھا بہت سے لوگوں نے اس کی بات سننا ہی گوارا نہ کی، اس کی کمزور آواز مصور تک پہنچ ہی نہ سکتی تھی رجو غور سے اپنے پورٹریٹ کو دیکھ رہی تھی، مصور نے اسے تصویر کرکے جیسے امر کردیا تھا ، اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ چیخ چیخ کر اس تصویر کے خریداروں کو بتائے کہ یہ چہرہ اس کے شرفو کا ہے،اسے مت خریدو، اس کا شرفو ٹوٹ جائے گا، اس کا شرفو اسکے سامنے چٹخ رہا تھا اور وہ کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی،شرفو نے اپنا نم چہرہ چھپا رکھا تھا، اسے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے اس نے رجو کو بیچ دیا ہو، اس کی رجوکی خوشبو مصور کے رنگوں تک آ کر ادھر ادھر پھیل چکی تھی اور یہ خوشبو شرفو کے اعصاب کو چیر رہی تھی اسے اپنا دم گھٹتا محسوس ہو رہا تھا، اس نے رجو کے ہاتھوں کو مضبوطی سےتھام رکھا تھا جیسے اسے کوئی چرا لے جائے گا
وہ اس محفل رنگ و بو کے سب سے آخری کونے میں چھپا،نم آنکھوں کے ساتھ کھڑا اپنے خوابوں کی شہزادی کو تصویر کی صورت جگمگاتا دیکھ رہا تھا اس کے چہرے پر آنسوؤں کے مٹے مٹے نشانات تھے ،بوسیدہ سی چادر وجود کے گرد لپٹی تھی، سیکورٹی گارڈ بار بار شرفو کی جانب دیکھ کر اسے گھور رہا تھا، شرفو کے بار بار آنکھیں پونچھنے کو وہ بڑی کڑی نظر سے گھورتا اس کے قریب آیا
"اوئے کون ہو تم” اس کی گرجدار آواز پر رجو سہم کر دو قدم پیچھے ہٹی، چوکیدار مزید مشکوک ہوگیا
"اوئے دہشت گرد” اس نے شرفو کے بہت نزدیک ہو کر ہوا میں تیر اچھالا، میلے سے کپڑے، نم آنکھیں، سیکیورٹی گارڈ نے اسے گھورنے کے بعد رجو کی جانب دیکھا پورا وجود اور چہرہ سیاہ چادر میں لپٹا، بس آنکھوں کی ذرا سی جھلک نظر آرہی تھی ،سیکیورٹی گارڈ کے شکوک و یقین میں بدلنے لگے ، وہ قدر زور سے دھاڑا
"بتا اوئے کون ہو تم” شرفو نے بڑی حسرت سے سامنے جگمگاتے رجو کے پورٹریٹ کی جانب دیکھا اور کہا
"یہ تصویرمیری ہے بابو” اس کی آواز بہت دھیمی تھی گارڈ بری طرح چونکا اور سر جھٹکا
"اوئے پاگل کیا کہہ رہا ہے تو” شرفو کی سرگوشی نما پھرابھری
ہاں صاحب یہ تصویر میری ہے، میری، یہ چہرہ میرا ہے "گارڈ آپ غور سے اسے دیکھنے لگا، اسے گمان ہوا کہ یہ شخص پاگل ہے
"توپاگل ہے ، دیوانہ” گارڈ اسے حقارت سے دیکھ رہا تھا، شرفو کی سرگوشی بلند ہوگئی
"میں پاگل نہیں صاحب یہ تصویر میری ہے "آنکھیں ہنوز رجو کے جگمگاتے پورٹریٹ کی جانب تھیں، گارڈ کوغصہ آ گیا
"کیا بکواس کر رہا ہے” اس نے بلند آواز میں شرفو ڈؑانٹا
” لیکن وہ اردگرد سے بے نیازکھڑا بس رجو کے پورٹریٹ کی جانب دیکھے جا رہا تھا” نہیں صاحب میں پاگل نہیں یہ میری تصویر ہے” اس کی آواز اب قدرے بلند تھی اردگرد چلتے پھرتے لوگوں نے مڑ کردیکھا، گارڈ نے اسے دھکا دیا "چل اوئے فٹ پاتھ پر کھڑے ہوکر صدا لگا، چار پیسے ہاتھ آجائیں گے”
گارڈ اس خبطی بندے کو پیچھے دھکیل رہا تھا لیکن اس کی ایک کی تکرار تھی "نہیں صاحب یہ میری تصویر ہے” اس کی آوازمیں ایک پکار سی تھی ،گارڈ غصۓ سے اونچا بولنے لگا، شرفو کا دل پھٹنے لگا
میں پاگل نہیں صاحب یہ میری رجو ہے تُو بولتی کیوں نہیں رجو” اس نے زور سے رجو کا کندھا ہلایا تو وہ تڑپ اٹھی
"چل شرفو گھر چل” اس نے مضبوطی سے شرفو کا ہاتھ پکڑا اور اسے باہر کی جانب دھکیلنے لگی ، شوفو مزاحمت کرنے لگا
"نہیں رجو نہیں مجھے رہنے دے یہاں” رجو نے ا سے بمشکل دھکیلا گارڈ غصے سے دیکھ رہا تھا
رجو نے پھر اس کا بازو کھینچا اور اس کوشش کے دوران اس کا چہرہ چادر سے آزاد ہو کر سامنے آگیا، گارڈ دنگ رہ گیا، اس نے ایک نظر رجو کو اور ایک نظر سامنے جگمگاتے پورٹریٹ کی جانب دیکھا، حیرت نے اسے گنگ کر دیا کچھ لمحہ پہلے والا طنطنہ جیسے جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا وہ حیرت سے بُت بنا اس جوڑے کو دیکھ رہا تھا جس میں ایک حسن کا شاہکار اور دوسرا غربت کی منہ بولتی تصویر تھا ،گارڈ نزدیک رکھی کرسی پر ہارے ہوئے جواری کی طرح بیٹھ گیا
اپنی رجو کو دل کے نہاں خانوں میں چھپا رکھنے کا خواہشمند، غریب بدحال شرفو کمہار جیسے خود سے غافل سا کھڑا تھا
اسکا سارا د ھیان تو رجو کے پور ٹریٹ کی جانب تھا وہ اس وقت ھوش میں ہی نہیں لگ رہا تھا۔بہت سے لوگ رجو کے پورٹریٹ کے گرد جمع اسکے چہرے کو سراہ رھے تھے کسی شوقین مزاج نے رجو کے پورٹریٹ کے بہت نزدیک ہو کر اپنا چہرہ اسکے قریب کر کے تصویر پر اپنے ھونٹ رکھ دیے تھے۔شرفو نے رجو سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور ایکدم بھاگ پڑا رجو اسکے پیچھے بھاگی وہ ہجوم کو چیرتا ھوا پورٹریٹ تک پہنچا اور قریب کھڑے شخص کو جلدی سے پیچھے ھٹا کر اپنے وجود کے گرد لپٹی بوسیدہ چادر کو دجو کی تصویر پر ڈال کر اسے چھپانے کی کو شش کی ۔سب دنگ رہ گئے کیمروں کا رخ ادھر ھو گیا ہلچل سی مچ گئ لیکن شرفو تو سب سے بے نیاز رجو کی تصویر کو چادر میں چھپا کر جیسے شانت سا ھو گیا تھا اسکےچہرے پر آسودہ سی مسکراہٹ تھی اسکے ساتھ کھڑی رجو کا چہرہ چادر سے آزاد تھا اور سب لوگ حیران ھو کر تصویر کو مجسم صورت میں دیکھ رھے تھے۔مصور ولی احمد کی تصویروں کی نمائش کی کوریج میں مختلف چینلز پر رجو کا چہرہ بار بار سکرین پر دکھائی دیتا رھا اور پیچھے شرفو کمہار اسکے پورٹریٹ پر بوسیدہ چا در ڈال کر اپنی دانست میں جیسے اسے ساری دنیا سے چپھا رکھنے میں کامیاب ھو گیا تھا۔
ختم شد

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

آخر میں کہاں ہوں … احمد نعیم مالیگاؤں مہاراشٹر (بھارت

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر67 آخر میں کہاں ہوں احمد نعیم مالیگاؤں مہاراشٹر (بھارت) …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے