سر ورق / یاداشتیں / اردو کہانی کا سفر۔۔سترھویں قسط۔۔۔اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر۔۔سترھویں قسط۔۔۔اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر

 سترھویں قسط

 اعجاز احمد نواب

اعجاز رسول( معراج رسول صاحب کے بھائی) سال ڈیڑھ سال میں ایک آدھ چکر اسلام آباد کا ضرور لگاتے، ان سے میری کتنی ملاقاتیں ہوئیں، یہ مجھے یاد نہیں، تاہم جب سے تعلق بنا، اس کے بعد ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ آئے ہوں، اور ہماری ملاقات نہ ہوئی ہو یا میں کراچی گیا ہوں اور اْن سے ملاقات نہ کی ہو، حالانکہ نہ وہ میرے ہم عمر تھے، اور نہ میں اْن کے ہم پلہ… تاہم ایک تعلق تھا جو بن گیا تھا، ہم گھنٹوں بیٹھے باتیں کرتے، میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا،

✍️میری ایک عادت بڑی پرانی ہے، میں کبھی اس شخص کے نزدیک نہیں جاتا، جو اپنے آپ کو بڑی توپ چیز سمجھتا ہو، کینڑاں جی.. تے لینڑآں کی؟

ان سے میرا تعلق بنے جب سات برس بیت گئے تو مجھے یاد ہے  ایک بار ہم گاڑی میں اسلام آباد گھوم رہے تھے، میں ڈرائیونگ سیٹ پر اور وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھے تھے کہ اچانک انہوں نے ایک ایسی بات کی جس کا ذکر ہمارے درمیان پچھلے سات برس میں کبھی نہ ہوا تھا، کہنے لگے اعجاز صاحب  اتنا عرصہ بیت گیا، میں جب یہاں آتا ہوں آپ میری بڑی خدمت کرتے ہیں  مجھے سفری سہولیات فراہم کرتے ہیں، مجھے کمپنی دیتے ہیں، لیکن کبھی آپ نے اپنی کسی خواہش کا اظہار نہیں کیا،.. ان کی یہ بات سن کر میں چونکا اور پھر ہنس پڑا ، لیکن زبان سے کچھ نہ بولا،

میرے اس بے پرواہ انداز سے وہ کچھ اور سنجیدہ ہو گئے،  بولے ڈائجسٹوں کی ایجنسی کے لئے سیکنڈ آپشن کے طور پر آپ کا نام لکھوا دیا ہے اور بھائی صاحب سے بات بھی زبانی کر لی ہے، انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ… اگر اس شہر (راولپنڈی اسلام آباد) کی ڈسٹری بیوشن تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی، تو اشرف بک ایجنسی ہی ترجیح ہو گی،  میں نے بحرحال پھر بھی خاموشی سے مسکرانے پر ہی اکتفا کیا، مجھے پتہ تھا کہ ابھی وقت نہیں آیا،

✍️میں بھی شعور کی پختگی کے مرحلے پر آن پہنچا تھا، کاروباری سوجھ بوجھ، گو میرے اندر میرے دوسرے بھائیوں کی نسبت بہت کم تھی، تاہم کہاں بولنا ہے کہاں چُپ رہنا ہے، یہ ابا جی ہمیں سمجھاتے رہتے تھے،

✍️اعجاز رسول صاحب انتہائی زیرک اور اعلے اوصاف کے مالک تھے، بڑے آدمی کی پہچان اُس کی چھوٹی چھوٹی خوبیاں ہوتی ہیں، کچھ ایسی باتیں جو ہو سکتا ہے آپ میں سے کچھ کو عام سی بےضرر باتیں معلوم ہوں، لیکن.. میرے لئے حیران کُن تھیں،

میں نے انہیں عرض کیا کہ.. سرگزشت میں  علی سفیان آفاقی صاحب کا سلسلہ  فلمی الف لیلہ.. چھپتی ہے، اس میں کچھ شماروں میں، میں نے سنا ہے کہ ملکہ ترنم نورجہاں کا تزکرہ آیا ہے، ان شماروں کی ایک ایک کاپی درکار ہے، میں  نورجہاں کی زندگی پر ایک کتاب تیار کرنا چاہتا ہوں، انہوں نے ہولے سے سر ہلا کر حامی بھر لی، اس بات کے چند ماہ بعد وہ آئے تو، میرے آفس پہنچتے انہوں نے سیلوفین پیکنگ میں چار پانچ سو فوٹو کاپی صفحات کا پلندہ مجھے تھماتے ہوئے کہا یہ لو بھئی نور جہاں کے تزکرے والی فلمی الف لیلہ…..  بعد میں تفصیل انہوں نے بتائی کہ یہ تزکرہ کہیں ایک جگہ نہیں تھا، بلکہ کئی سالوں کی مختلف اقساط میں بکھرا ہوا تھا، جس کے بارے آفس کے کسی بندے کو درست معلومات نہ تھیں، آخر کار میں نے علی سفیان آفاقی کو فون کیا ( جو ہفت روزہ فیملی کے مدیر تھے) انہوں نے ساری تفصیل تلاش کر کے دی تو پھر مطلوبہ شمارے نکلوا کر کسی کی فوٹو سٹیٹ کرنے کی ڈیوٹی لگائی

✍️ اسی طرح ایک بار ہم کراچی کاروباری دورے پر گئے تو میرے ساتھی جاوید اقبال چٹھہ  اپنا اصل شناختی کارڈ اس ہوٹل میں بھول کر آگئے جہاں ہم نے قیام کیا تھا، اس بات کی اطلاع بھی ہم نے اعجاز رسول صاحب کو دی انہوں نے کسی ملازم کو وہاں بھیجا تو ہوٹل والوں نے کارڈ اسے دینے سے انکار کر دیا تو اعجاز صاحب خود وہاں پہنچ گئے اور شناختی کارڈ لے کر اپنے پاس رکھ لیا  اور پھر بزریعہ رجسٹرڈ ڈاک پنڈی بجھوا دیا،  ایک واقعہ بھی یاد آیا کہ میرا ایک بار فیملی کے ہمراہ کراچی جانا ہوا میری اہلیہ اور دو بچیاں عمر تین سال اور ایک سال، اور میرے اباجی بھی ساتھ تھے، میرے ایک بہنوئی جو نیوی میں تھے،وہاں ہوتے تھے، ہم بزریعہ ہوائی جہاز کراچی پہنچے یہ میرے ابا جی  کا پہلا ہوائی سفر تھا  اس کے بعد وہ حج پر گئے تو وہ ان کا آخری ہوائی سفر تھا، ہم ائیر پورٹ سے ٹیکسی کر کےسیدھے ڈالمیا نیوی کالونی چلے گئے جہاں ہمارے بہنوئی کی رہائش گاہ تھی.. اباجی، اہلیہ اور بچیوں کو ڈالمیا کالونی چھوڑ کر بعد دوپہر میں اردو بازار کراچی میں پہنچ گیا، جہاں ہمارے سیلز آفیسر جاوید اقبال چٹھہ بھی شہر شہر گھومتے ہوئے پہنچ چکے تھے، ہمارا بنیادی مقصد اپنی مطبوعات  نومی پبلی کیشنز( بعد میں اس کا نام تبدیل کر کے نواب سنز پبلی کیشنز راولپنڈی کر دیا گیا) کی  شہر شہر فروخت ہوتا تھا، جاوید صاحب جن کا ذکر کئی بار ہو چکا ہے، وہ میرے انتہائی قریبی دوست اور سیلز آفیسر تھے  ان کا کام یہی تھا کہ کتابوں کے نمونے اور تمام کتابوں کے سرورق پر مشتمل البم لے کر شہر شہر مختلف بکسٹالز نیوز ایجنٹ اور کتابوں کی بڑی بڑی  دوکانوں پر جاتے اور آرڈرز حاصل کرتے اور بقایہ جات وصول کرتے،کراچی پہنچنے سے قبل وہ مختلف شہروں سے گھومتے پھرتے پہلے حیدر آباد اور پھر کراچی پہنچتے، سو ہم میں نے جاوید صاحب کے ہمراہ

معیاری ہوٹل میں کمرہ حاصل کیا، کاروباری لوگوں سے ہماری ملاقات اگلے دن طے تھی سو ہم جاسوسی سسپنس کے آفس اعجاز رسول صاحب کو ملنے پہنچ گئے، شومئی قسمت معراج رسول صاحب سے اس بار بھی ملاقات نہ ہو سکی وہ کراچی میں موجود نہ تھے، تاہم اعجاز صاحب نے حسبِ سابق خوب ٹہل سیوا کی، اور پھر ہمیں اپنی کالے رنگ کی گاڑی میں کراچی کی سیر کروائی، مجھے انہوں نے غیر معمولی عزت بخشتے ہوئے فرنٹ سیٹ پر بٹھایا اور خود جاوید صاحب کے ہمراہ عقبی نشست پر براجمان ہوئے،

اس روز ہمیں انہوں نے ساحل سمندر کی خوب سیر کروائی ہاکس بے، کیماڑی کلفٹن،گھماتے رہے…. رات کو پیزا ہٹ لے گئے اور جہازی سائز کا پیزا منگوا لیا، اب ہم دونوں ٹھہرے  دال، کریلے یا ساگ ٹینڈے کدو کھانے والے لوگ، پیزا کیا چیز ہے، ہمیں کچھ پتہ نہ تھا، اْس زمانے تک راولپنڈی میں پیزا ہٹ، میکڈونلڈ یا کے ایف سی، یا تو وارد ہی نہیں ہوئے تھے اور یا پھر ہمیں ہی علم نہیں تھا، ہم نے بڑی مشکل سے تھوڑا تھوڑا کھایا، اور ڈھیر سارا بچ گیا جو انہوں نے پیک کروا کر گاڑی میں رکھوایا، ہوٹل ڈراپ کرتے ہوئے انہوں نے ڈرائیور کو پیزا ہمارے کمرے میں پہچانے کو کہا تو میں نے عرض کی،

سر ہم تو پیزا کھا ہی نہیں سکتے،… ارے تو گھر والے تو ہیں نا.. تم کہہ رہے تھے کہ ساتھ آئے ہیں،… سر وہ یہاں ہمارے ساتھ ہوٹل میں نہیں ہیں وہ تو گھر میں ہیں  ہم دونوں یہاں ہوٹل میں اس لئے ہیں کہ اگلے دو دن ہم نے اردو بازار  اخبار مارکیٹ، اور کچھ رسالوں کے دفاتر میں چکر لگانے ہیں کاروبار کے سلسلے میں، میں نے پوری وضاحت دی تو، وہ مسکرائے اور فرمانے لگے لاؤ، گھر کا پتہ لکھواؤ، انہوں نے جیب سے قلم نکالتے ہوئے کہا اور پھر ڈرائیور کو اشارہ کیا تو، وہ جھٹ پٹ ہی گاڑی سے ایک چھوٹا لیٹر پیڈ نکال لایا، اعجاز رسول صاحب نے مجھ سے ڈالمیا کالونی میں موجود میرے بہنوئی کے، گھر کا مکمل پتہ لیا اور میرے منع کرنے کے باوجود چلے گئے،

✍️بعد ازاں میرے گھر والوں نے بتایا کہ رات گیارہ بجے کے قریب کال بیل بجی، دروازہ کھولا تو سیاہ گاڑی دروازے پر موجود تھی،  اور اعجاز رسول صاحب بھی گاڑی سے اتر کر ڈرائیور کے ساتھ کھڑے تھے انہوں نے ہی میرے بہنوئی کو ساری بات بتا کر ڈرائیور کو اشارہ کیا اور اس نے پیزے کا ڈبہ تھما دیا اور باوجود بے حد اسرار کے بیٹھے نہیں اور چلے گئے

یہ چھوٹے چھوٹے واقعات اور باتیں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ خاندانی، جینیئس اور بڑے لوگوں کی اپنی ہی ایک الگ کلاس ہوتی ہے،

✍️کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو ہمیشہ کے لئے سینے میں دفن ہونے کے لئے ہوتی ہیں، اعجاز رسول صاحب نے سسپنس جاسوسی پاکیزہ سرگزشت کی ایجنسی ہمیں دلانے کے لئے کیسی کیسی کوششیں کیں، یہ میں ضبطِ تحریر لانے سے قاصر ہوں صرف اتنا کہوں گا کہ اعجاز رسول صاحب کے ساتھ میری یہ قربت آخر کار رنگ لائی، اور انہی کی کوششوں سے، معراج رسول صاحب نے راولپنڈی اسلام آباد میں جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز کے تمام ڈائجسٹوں سرگزشت سسپنس جاسوسی اور پاکیزہ ڈائجسٹ کی ایجنسی اشرف بک ایجنسی کو سونپنے کا اعلان کردیا،  ہوسکتا ہے کچھ پڑھنے والوں کے دل میں یہ خیال آئے..

 کہ میں صرف اسی لالچ کی وجہ سے اعجاز رسول صاحب کے نزدیک ہوا تھا، تو ایسا قطعی نہیں، ایسا اگر ہوتا تو آج میں ان کی بلا تکان تعریف نہ کر رہا ہوتا، جب ان واقعات کو بیتے 25برس سے زائد عرصہ ہو گیا ہے، مطلب پرست یا خوشامدی تو مطلب نکلنے کے بعد بھول جاتے ہیں،

✍️✍️✍️✍️✍️ایک بار میں_2….. 2001 میں کراچی پہنچا  اس وقت مسٹر میگزین ڈائجسٹ  پوری آب و تاب سے چھپ رہا تھا، اور جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز بھی بالموریا سٹریٹ آئی آئی چندریگر سے ڈیفینس کراچی منتقل ہو چکا تھا، اور معراج رسول صاحب کے تمام ڈائجسٹوں کی راولپنڈی اسلام آباد میں تقسیم کاری کے حقوق اشرف بک ایجنسی  کے پاس ہی تھے، یہ وہی سنہری دن تھا، جب میری محی الدین نواب صاحب سے واحد یعنی زندگی کی پہلی اور آخری ملاقات ہوئی، ایک جاننے والے نے اپنے ڈرائیور کو گاڑی دے کر ساتھ بھیج دیا کہ مجھے ڈیفینس چھوڑ آئے

انتہائی عالیشان بلڈنگ جس کے باہر اوپر سے نیچے کی جانب جلی اردو حروف نیون سائن  پر جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز  لکھا تھا … ریسیپشن کے بعد سیڑھیاں چڑھ کر اوپر گیا کئی جگہ بڑے سائز میں کہانیوں کے بلیک اینڈ وائٹ اسکیچز دیواروں پر خوبصورت اور نفیس انداز میں آویزاں نظر آئے،   وال ٹو وال قالین…… میں سیدھا اقلیم علیم صاحب کے آفس پہنچا، اب تو ہم صرف کتابیات پبلی کیشنز کے ہی نہیں بلکہ اس ادارے سے چھپنے والے تمام رسائل کے راولپنڈی اسلام آباد کے ڈسٹری بیوٹرز تھے، اور یہ وہ وقت تھا جب تمام ڈائجسٹ اپنے پورے عروج یعنی جوبن پر تھے، ان کی اشاعت اپنے بہتر ترین دور سے گزر رہی تھی، سسپنس اس وقت پاکستان کا سب سے زیادہ اشاعت اور سب سے زیادہ  320صفحات والا ڈائجسٹ تھا

اور معراج رسول صاحب کا سورج عین نصف النہار پر پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا،  اقلیم علیم صاحب کے ساتھ کاروباری گفتگو ہوتی رہی، ڈائجسٹوں کے آرڈرز میں کمی بیشی  ادائیگیوں کی صورت حال، فروخت اور تقسیم کاری کے معاملات،…… پان کے بے حد شوقین ہیں اقلیم صاحب… پورا پاندان دھرا تھا  میز پر… ہر تھوڑی دیر بعد ایک پان کی گلوری مہنہ میں رکھتے  چائے بھی ساتھ ساتھ چلتی اس وقت موت کے سوداگر ایک چھوٹے سے لیٹر پیڈ کے صفحات پر قلم سے لکھ رہے تھے

✍️آج آفس میں اعجاز رسول موجود نہ تھے مگر میری خوش قسمتی کہ معراج رسول صاحب تشریف فرما تھے، اقلیم صاحب نے مجھے اختر صاحب  (معراج صاحب کے انتہائی چہیتے) کے ہمراہ معراج صاحب کے کمرے میں بھیج دیا،… انتہائی خوبصورت  کشادہ آراستہ اور پیراستہ آفس  سامنے ہی شیشے کی کافی بڑی میز کے پیچھے.. معراج رسول تشریف فرما تھے دوسری میز کے پیچھے برصغیر کے بہہہہہہت ہی بڑے قلم کار محی الدین نواب موجود، تھے، مجھے اُس وقت بھی شعوری طور پر  علم تھا، کہ میں اس وقت کن دو عظیم الشان ہستیوں کے درمیان ہوں، معراج صاحب نے بیٹھے بیٹھے اور محی الدین نواب صاحب نے اپنی نشست سے قدرے اُٹھ کر مصافحہ کیا،

یہ بطور ڈسٹری بیوٹرز میری معراج رسول صاحب سے پہلی ملاقات تھی،  علیک سلیک کے بعد انہوں نے رسمی طور پر کچھ باتیں پوچھیں، اس وقت ان کے دونوں ہاتھ میز  پر اور ہاتھوں میں جاسوسی کا تازہ شمارہ تھا، اسی طرح نواب صاحب کے ہاتھوں میں بھی جاسوسی ڈائجسٹ کا تازہ شمارہ تھا، میری آنے سے قبل والی گفتگو پھر شروع ہوئی تو پتہ چلا کہ زیرِ موضوع  اقبال کاظمی تھے جن کا  گزشتہ تاریخ 26  کو انتقال ہوا تھا، اور اسی جاسوسی میں ان کے انتقال کی خبر لگی تھی، ان دنوں جاسوسی میں ان کی طویل سلسلہ وار کہانی چل رہی تھی، معراج صاحب اسی پر بات کرتے ہوئے کہہ رہے تھے، کہ 24تاریخ کو انہوں نے قسط لا کر دی اور 25تاریخ کی صبح فجر کے وقت وضو کرتے ہوئے انہیں ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ اللہ کو پیارے ہو گئے،

بس آخری یہی قسط انہوں نے لکھی تھی، ان کی بات سن کر مجھے کچھ یاد آیا،  میں نے اپنا ہینڈ بیگ کھول کر ایک خط نکالا جو اقبال کاظمی صاحب کی ذاتی لکھائی تھی  اس میں لکھا تھا کہ  آپ کی پر زور فرمائیش  پر مسٹر میگزین کے لئے ایک مختصر مکمل کہانی حاضر ہے  چونکا دینے والی بات یہ تھی کہ اس خط کے نیچے اقبال کاظمی صاحب کے جو دستخط تھے ان کے نیچے 25   تاریخ درج تھی، جبکہ بقول معراج رسول( اور جاسوسی ڈائجسٹ میں بھی جو اقبال کاظمی کی وفات کی جو خبر لگی تھی  اس کے مطابق بھی) اقبال کاظمی صاحب کو 26کی صبح فجر کی نماز کے لئے وضو کرتے ہوئے ہارٹ اٹیک ہوا تھا  اور وہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے،  یہ ساری باتیں دیکھ کر. معراج صاحب بولے تم ٹھیک کہتے ہو اعجاز میاں  اقبال کاظمی  نے آخری کہانی شہ مات ہی لکھی ہے  جو تمھارے  میگزین میں چھپی  اتنی بات کرکے وہ ذرا چونکےاور بولے کون سا ڈائجسٹ نکالتے ہو ذرا ہمیں بھی دکھاؤ

میں نے جھٹ سے مسٹر میگزین کے تازہ شمارہ کی دو کاپیاں نکال کر ایک معراج رسول صاحب اور دوسری محی الدین نواب صاحب کی خدمت میں ادب سے پیش کر دی  چند لمحات دونوں ہی بغور ورق گردانی کرتے رہے، اور پھر چند رسمی تحسینی کلمات ادا کئے ، اس کے بعد انتہائی پرتکلف چائے کا اہتمام ہوا، اس دوران میں نے محی الدین نواب صاحب کی خدمت میں اپنا ناول ناگن جس کے پہلے دوحصے شائع ہو چکے تھے، پیش کئے( کل چھ حصوں میں چھپا تھا  جو کہ بعد میں ایک مکمل جلد میں کردیا گیا) انہوں نے میرا نام اعجاز احمد نواب  لفظوں پر زور دے کر پڑھا، تو میں نے عرض کیا کہ سر میرے نام کے ساتھ نواب دیکھ کر اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ محی الدین نواب سے آپ کا کیا تعلق ہے، میرے بات سن کر نواب صاحب مسکرا کر رہ گئے،

✍️اس ملاقات کے سال بھر بعد جناب معراج رسول صاحب اسلام آباد تشریف لائے اشرف بک ایجنسی کو بھی رونق بخشی ، اور اچانک میرے بھائی سے مسٹر میگزین ڈائجسٹ کا آفس دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا اور میرے بڑے بھائی فیاض احمد کے ساتھ میرے آفس نواب سنز پبلی کیشنز  میں آگئے، اور مسٹر میگزین کے تمام شائع شدہ شماروں کے ایک مکمل سیٹ کی فرمائش کر دی، اور پیک کروا کر ساتھ کراچی لے گئے، معراج صاحب سے میری کل تین ملاقاتیں ہوئیں تھیں…،

…..

…..

…..

آج اعجاز رسول معراج رسول اور محی الدین نواب  تینوں شخصیات  منوں مٹی تلے سو رہی ہیں، اللہ  پاک سے دعا ہے ان سب پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے آمین ثم آمین….

آئندہ قسط میں محی الدین نواب صاحب کے فن وشخصیت بارے مضمون شامل کرنے کی کوشش کروں گا انشاءاللہ.. ذیل میں وہ تحریر شامل ہے  جو میں نے معراج رسول صاحب کی وفات کے بعد کسی فیس بک گروپ میں شائع کی تھی،

…..

…..

…..

…..

آہ.. معراج رسول آہ اعجاز رسول

جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز کے بانی اور جاسوسی، سسپنس، پاکیزه اور سرگذشت جیسے کثیرالاشاعت اور مقبول عام ڈائجسٹوں کے مالک، چیف ایڈیٹر معراج رسول خالق حقیقی سے جاملے. اناللله وانااليه راجعون

مرحوم  ایک سیلف میڈ انسان تهے.کبهی اسی عمارت میں جہاں عالمی ڈائجسٹ کادفتر تها،سیڑهیوں تلے ان کی پرانی کتابوں اور ردی اخبار و رسائل  کی چهوٹی سی دکان تهی. رسائل کےمطالعه کا شوق انہیں ایک ڈائجسٹ نکالنے کی راه پر لے آیا. جاسوسی ڈائجسٹ ان کا پہلا قدم تهاجس میں "صدیوں کا بیٹا” (تحریر ایم اے راحت) جیسی لازوال سلسلے وار کہانی شائع ہوتی رہی.(راحت صاحب کچھ عرصہ جاسوسی کے  ایڈیٹر بھی رہے) پهر وه سسپنس ڈائجسٹ  لائے تو 1977ء سے 2010ء تک شائع ہونے والی سلسله وار کہانی "دیوتا” نے اس کی سرکولیشن کو آسمان پر پہنچادیا. پاکیزه اور سرگذشت نے الگ دهوم مچائی.   انہوں نے رئیس امروہوی،جون ایلیا اور زاہده حنا کے جریدے انشا (عالمی ڈائجسٹ) ، ایچ اقبال کے الف لیلی اور شکیل عادل زاده کے سب رنگ کے مقابل اپنے 4 ڈائجسٹ جیسے کاروباری سوجھ بوجھ اور متعین معیارکے مطابق چلائے وه ان کی خداداد صلاحتیوں کا منه بولتا ثبوت ہیں. حاسدین نے کیسے کیسے طنز کے تیر نہیں چلائے، اپنے "نستعلیق” اور "عالمی سطح ” کے ڈائجسٹ  کی بندش پر یه کہه کر ان کی تذلیل اور دل آزاری کرنے والے  ” اب ڈائجسٹ شائع کرنا شرفاء کا کام نہیں رہا، اب تو کباڑیے بهی ڈائجسٹ نکالنے لگے ہیں….”  تنگ دستی کے ہاتهوں مجبورہوکر سسپنس کے ابتدائی صفحه پر انشائیه لکهتے پائے گئے…..     معراج رسول صاحب ایک بڑے سائز کا رسالہ محور کے نام سے بھی نکالتے تھے یہ ڈائجسٹ سے دوگنا سائز کا تھا اور دوتین برس تک چلتا رہا لگ بھگ دوسو صفحات کا تھا علاوہ ازیں خواتین کا ایک ماہنامہ دلکش کے نام سے بھی  کچھ عرصہ نکالا                     آپ کے والد محترم. ع غ شیخ عمران سیریز بھی شائع کیا کرتے تھے جاسوسی سسپنس پاکیزہ میں شائع ہونے والی طویل کہانیوں کو کتابی شکل میں کتابیات پبلی کیشنز کے تحت اعجاز رسول شائع کرتے تھے جو جناب. معراج رسول کے چھوٹے بھائی تھے اعجاز رسول 55/56 سال کی عمر شوگر کے ہاتھوں زندگی ہار گئے تھے آپ  بہت نفیس ھنس مکھ اور باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے اور اپنی ذات میں انجمن تھے وہ بھی ایک ڈائجسٹ ماہنامہ نفسیات نکالتے تھے جو کہ اپنی طرز کا ایک منفرد ماہنامہ تھا، اس کے علاوہ اعجاز صاحب معراج صاحب کی عدم موجودگی میں سسپنس پاکیزہ جاسوس اور سرگزشت کے معاملات بھی سنبھالتے تھے، میرا اعجاز صاحب سے ذاتی تعلق تھا وہ نہ صرف میرے بڑے بھائیوں جیسے تھے بلکہ میرے محسن اور ہہہہت ہی اچھے دوست تھے 1990 سے لے کر اپنی وفات تک وہ درجنوں بار راولپنڈی تشریف لائے اور ہر بار مجھے ان کے پروٹوکول افسر ہونے کا شرف حاصل ہوا، میں ان کو ائرپورٹ سے ہوٹل لے کر جاتا جو کہ ان کے پہنچنے سے قبل میں بک کروا چکا ہوتا کبھی ویزے کے سلسلے انہیں اسلام آباد کسی سفارت خانے جانا ہوتا اور کبھی کوئی اور ذاتی یا کاروباری کام ہوتا

ایک دو بار ان کے ساتھ ان کا بیٹا اہلیہ اور بیٹی عنبرین اعجاز بھی آئےکبھی اسلام آبادکبھی مری اورکبھی ٹیکسلا بھی سیر کو جاتے اور میں ان کے ساتھ ساتھ ہوتا میں بھی اس دوران متعدد مرتبہ کراچی گیا، اعجاز صاحب جاسوسی پبلی کیشنز کے آفس میں میری خوب آؤ بھگت کرتے اپنی گاڑی میں مجھے کلفٹن سی ویو اور پتہ نہیں کہاں کہاں گھماتے میں جہاں ٹھرا ہوتا اس ہوٹل میں آجاتے گھنٹوں ہم گپیں لگاتے ان واقعات کی تفصیل میری زیر قلم کتاب

، اردو کہانی کا سفر، میں بیان کی گئی ہے

معراج رسول صاحب سے میری دوتین ملاقاتیں ہوئیں پہلی بار کراچی ان کے آفس میں ملاقات ہوئی، محترم محی الدین نواب بھی وہاں موجود تھے؛ ان دنوں میں نے نیا نیا ماہنامہ مسٹر میگزین شروع کیا تھا، غالبا” اس کے آٹھ نو شمارے آچکے تھے دونوں عظیم شخصیات کو مسٹر میگزین کا تازہ شمارہ پیش کیا معراج صاحب نے پرتکلف چائے پلائی، آخری ملاقات معراج رسول صاحب سے میری راولپنڈی میں ہوئی جب وہ میرے آفس نواب سنز پبلی کیشنز میں تشریف لائے اور فرمائش کی کہ مسٹر میگزین کے تمام شمارے ایک ایک کاپی دے دو، معراج رسول ڈائجسٹ کی دنیا کا بہت بڑا نام تھا برصغیر میں فکشن اور ڈائجسٹ کی تاریخ معراج رسول کے ذکر کے بغیر مکمل ہو ہی نہیں سکتی دعا ہے کہ اللہ پاک معراج رسول (اور اعجاز رسول صاحب) کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں  اورلواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین………………. اعجاز احمد نواب

9 نومبر….

 مفکرِ پاکستان،شاعرِ مشرق حضرت.. سر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا یومِ پیدائش ہے آپ پاکستان کے قومی شاعر ہیں.. آپ کی کتابوں کے پہلے پبلشر شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور تھے، جو پہلے شعری مجموعے سے لے کر ڈاکٹر صاحب کی وفات تک تو پبلشر تھے ہی، ان کی وفات کے بعد بھی علامہ صاحب کی بانگِ درا ضربِ کلیم بالِ جبریل اور کلیات اقبال اردو کے ساتھ ساتھ علامہ صاحب کے فارسی شعری مجموعے جاوید نامہ، اسرارِ خودی، رموزِ بے خودی، زبورِ عجم ارمغانِ حجاز  پیامِ مشرق…

.. پس چہ باید کرد اے اقوام شرق..اور فارسی کلیات  وغیرہ شیخ غلام علی اینڈ سنز سے ہی چھپتے رہے،  آج پاکستان بھر میں سیکڑوں کی تعداد میں پبلشرز علامہ اقبال کے شعری مجموعے شائع کرتے ہیں لیکن قارئین کی معلومات کے لئے بتادوں کے 1988 تک یہ کتابیں صرف شیخ غلام علی اینڈ سنز ہی چھاپنے کے مجاز تھے، کیونکہ ان کتابوں کی باقاعدہ رائلٹی دی جاتی تھی  اقبال رحمۃ اللہ کے وارثین کو!

یاد رہے کہ پریس اینڈ پبلی کیشنز قوانین کے تحت کسی بھی مصنف شاعر ادیب یا تخلیق کار کی تحریر اس کی ذاتی ملکیت ہوتی ہے، جس کا معاوضہ وہ اپنی مرضی کے مطابق لے سکتے ہیں، لیکن جو اہم بات بتانی ہے وہ یہ کہ کسی بھی شاعر مصنف کے انتقال کے بعد وہ حقوق اشاعت اس کے وارثین کو منتقل ہو جاتے ہیں  اور پچاس سال تک اس رائلٹی (معاوضے) کے حقدار ہوتے ہیں  لکھاری کی وفات کے پچاس سال بعد کتاب کی اشاعت اوپن ہو جاتی ہے  یعنی اس کے جملہ حقوق محفوظ نہیں رہتے، اور پھر کوئی بھی شخص یا ادارہ ان کو بغیر کسی اجازت کے چھاپ سکتے ہیں

علامہ اقبال 1938 میں فوت ہوئے، یوں 1988 میں علامہ صاحب کی وفات کو پچاس برس پورے ہوگئے، اور مختلف پبلشرز نے ان کی شاعری چھاپنا شروع کر دی، راقم نےبھی 1989 بانگ درا پہلی بار شائع کی تھی، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایک بات دعوی’ کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ علامہ اقبال کی اردو شاعری کے مجموعے اردو کے دیگر تمام شعراء کی مجموعی اشاعت سے بھی زیادہ فروخت ہوتی ہیں،

…….

 ناشرین، مصنفین، قارئین، تاجران کتب اور مدیران کی یہ مشترکہ بیٹھک، کتب و رسائل وجرائد، قلم و قرطاس کی ہزار داستان، طلسمِ ہوش رُبا، قسط نمبر 17 آپ نے مطالعہ فرمائی  پاکستان میں اردو اور کتاب کی ترویج و اشاعت میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے اس تحریر کو اپنی وال اور اردو کے مختلف گروپس میں شیئر ضرور کردیں تاکہ زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچ سکے، مزید واقعات کے لئے انتظار فرمائئے قسط نمبر  8کا……انشاءاللہ بہہہہہہت جلد!!!

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

کراچی یاترا …امجد جاوید قسط نمبر 01

کراچی یاترا امجد جاوید  کراچی یاترا کے لئے پہلا پڑاﺅ ملتان میں ٹھہرا۔ 5دسمبر2019ءکی دوپہر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے