سر ورق / افسانہ / ” اماوس  محمد فیاض ماہی

” اماوس  محمد فیاض ماہی

                        ” اماوس

 محمد فیاض ماہی

            اماں کی آواز سن کر تو جیسے اس کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی تھی کیونکہ اس وقت چھت پر جانے کا مطلب تھا کہ وہ اماوس کی اس رات کا سامنا کرے جو اس کو ہمیشہ سے ہی خوف ناک اور دہشت سے بھر پور دکھائی دیتی تھی وہ صبح سے شام تک اپنی پڑھائی میں ایسی مگن ہوئی کہ اس کو یا د ہی نہ رہا کہ چھت پر کپڑے سکھانے کے لئے ڈالے ہوئے ہیں او ر سوکھے ہوئے کپڑوں کو اتار کر نیچے لانے کی اس کی باری تھی کیونکہ ثمن اپنے حصہ کا کام کر کے مطمئن گھوم رہی تھی اس کا کام بھی کوئی آسان نہ تھا سارے گھر والوں کے کپڑے دھو کر چھت پر سکھانے کے لئے ڈالنے جانا ایک بار اس کی باری اور ایک بار ثمن کی باری تھی آج ثمن اپنا کام کر چکی تھی او راماں اس کو دن میں تین بار تو یاد کروا ہی چکی تھیں کہ کپڑے سوکھ گئے ہونگے اتار کر لے آﺅ لیکن اس کے سرپرتو کل ہونے والا میتھ کا پیپر سوار تھااب چار و نا چار اسے چھت پر جانا ہی پڑا تھا اس نے غور سے تنہا چا ند کی طرف دیکھا جو اس کو بہت ہی اداس اور غمگین لگ رہا تھا کیونکہ اس کے آس پاس کوئی بھی تارا نہ تھا جو ٹمٹاتا تو چاند کو بھی آسرا ہوتا کہ کوئی اس کے پاس ہے تاروں سے خالی رات میں وہ ڈر سی گئی تھی کیونکہ تھوڑی ہی دیر بعد چاند کے پیرہن کو بھی بھی ایک سیاہ بادل نے اپنی اوٹ میں چھپا لیا تھا وہ جلدی جلدی سے سوکھے ہوئے سبھی کپڑے اکھٹے کر کے نیچے بھاگنے والے انداز میں پہنچی تھی اس کی پھولی ہوئی سانس دیکھ کر اماں کو حیرت ہونا ایک فطری عمل تھا وہ پوچھے بنا نہ رہ سکیں کپڑے اس کے ہاتھ سے لیتی ہوئی بولیں ، ” کیا ہوا کوئی بھوت دیکھ لیا ہے اوپر ؟“ مریم اپنی سانس درست کرتی ہوئی کچھ نہ بولی اوراپنے کمرے میں چلی گئی شائد اس کے پاس اماں کی بات کا جواب نہ تھا ۔ ثمن کو گہری نیندسوتا دیکھ کر وہ بڑ بڑاتی ہوئی دوبارہ اپنی کتاب پکڑکر پڑھائی میں مصروف ہوئی ہی تھی کہ ثمن کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی ۔ ” دانی بھائی کی کال آئی تھی ۔“ اس نے دانی کے نام پر چونک کر ثمن کو دیکھا جو آنکھیں میچے بظاہر سونے کی اداکاری کر رہی تھی مریم کو تو جیسے پر لگ گئے تھے وہ لپک کر اپنے پلنگ سے چھلانگ مارنے والے انداز میں ثمن کے پلنگ پر پہنچی تو گویا پلنگ پر کوئی طوفان ہی آ گیا تھا ثمن ڈر کر اُٹھ بیٹھی وہ غصہ سے مریم کی طرف دیکھ رہی تھی جو اس کے بال کھینچنے کو تیار تھی ۔ ” جلدی سے بتا کیا کہا دانی نے میرا پوچھا ؟ تم نے کیا جواب دیا اس نے اور کیا کیا پوچھا وہ کب آ رہا ہے ؟“مریم کو اس طرح دیوانگی کی کیفیت میں دیکھ کر ثمن بھی مزہ لینے والے انداز میں مصنوعی حیرت کا اظہار کرتی ہوئی بولی ، ” بھئی ایسا کیا ہو گیا کہ تم دانی کی گردان ہی کرنے لگی ہو تمہیں تو میتھ سے ہی فرصت نہیں ہے اتنی مصروفیت میں تمہیں دانی بھائی کیسے یاد آ گئے ؟“ مریم سمجھ گئی کہ ا ب ثمن کی چاپلوسی کرنا پڑے گی ۔وہ بڑے پیار سے اس کو پچکارتی ہوئی بولی ، ” دیکھو ثمن !تم میری چھوٹی بہن ہو اور مجھے سب سے پیاری بھی ہو جلدی سے بتا دو کہ دانی کے کیا کہا ہے ؟“” اگر نہ بتاﺅں تو ؟ ثمن کا انداز ایسا تھا کہ وہ اس کو کچھ بھی نہیں بتائے گی لیکن برا ہو اس لمحے کا جب اماں نے دروازہ کھول کر دیکھا کہ وہ دونوں ہی جاگ رہی ہیں تو وہ تیزی سے بولنے والے انداز میں مریم سے مخا طب ہوئیں ۔ ” مجھے یاد آیا کل کالج سے ذرا جلدی نکل آنا دانی اپنے ابو یعنی تمہارے ماموں کے ساتھ آ رہا ہے اس کے لئے دوپہر کا کھانا بھی بنا نا ہے ۔ “ اماں کی بے وقت کی انٹری ثمن کو بری لگی تھی وہ سر پیٹ کر رہ گئی بس ” اففف“ ہی بول سکی اور دوبارہ اپنے بستر میں گھس گئی ۔

مریم اور دانی کی بچپن میں ہی ایک دوسرے سے منگنی کر دی گئی تھی اس منگنی میں دونوں بہن بھائی یعنی وہاب اور رانی کی مرضی شامل تھی رانی کو اور کیا چاہئے تھا اس کا بڑا بھائی اچھا خاصا کھاتا پیتا تھا اور اس کی بیوی یعنی رانی کی بھابی زرینہ بھی رانی کی بہت عزت کرتی تھی دونوں ہی گھروں کو اس منگنی پر کوئی اعتراض نہ تھا اور اب تو مریم کو بھی کوئی اعتراض نہ تھا کیونکہ وہ دانی کے ساتھ اپنا بچپن گزار چکی تھی اور اب جوانی میں بھی ان دونوں کے درمیان عزت اور احترام کا جو رشتہ قائم تھا اور جب سے دانی نے آرمی جوائن کی تھی مریم تو ہواﺅں میں اڑتی ہوئی خود کو محسو س کرتی تھی کیونکہ اس کا دیرینہ خواب تھا کہ وہ بھی آرمی جوائن کرے لیکن اس کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی مگر دانی نے اس کا یہ خواب اور خواہش پوری کر دی تھی وہ فوج میں اچھے عہدے پر فائز تھا اور اس کو کئی ماتحت دن رات سیلوٹ کرتے تھے مریم نے ارد گرد دیکھ کر دانی کی فوٹو کو دیکھا جو اس کے سامنے میز پر پڑی ہوئی تھی اور جھٹ سے ایک بھر پور سیلوٹ جھاڑ دیا اور پھر خود ہی شرما کر رہ گئی ۔ اس رشتہ نے مریم کے دل میں دانی کی محبت اور تکریم اور بھی بڑھا دی تھی

اب تو اس کو میتھ اور دانی کی دعوت کے درمیان ایک کوچننا تھا وہ کافی دیر تک میتھ کی کتاب کو گھورتی رہی اور پھر اس نے کتاب الماری میں رکھ کر منہ پر تکیہ لے کر دانی کو ہی پڑھنے کا ارادہ کیا تو ایک بار پھر ثمن کی آواز نے اس کو چونکا دیا وہ کہہ رہی تھی ” ایک بات تو اماں نے تمہیں بتائی ہی نہیں مریم “ وہ تکیہ منہ سے ہٹا کر ثمن کی طرف دیکھنے لگی جو سو رہی تھی مریم کا دل چاہا کہ اس کا منہ نوچ لے اس نے تکیہ کھینچ کر ثمن کی چادر پر دے مارا گویا وہ سمجھ گئی تھی کہ ثمن اس کو مزید تنگ کرنے کے پلان پر عمل درآمد کر چکی ہے ۔

 مریم نے بہت ہی دھیان اور اچھے طریقے سے میتھ کا پیپر حل کیا اور گھر کی راہ لی وہ جلد سے جلد گھر پہنچ کر دانی کے دعوت کے لئے اماں کا ہاتھ بٹانا چاہتی تھی اس کو یہ بھی معلوم تھا کہ دانی نے پہلے یہ پوچھنا ہوتا ہے کہ مریم نے کون سی ڈش بنائی ہے پھر بتانے پر اس نے وہ ڈش مزے لے کر کھانی بھی ہے او ر اس میں سو سو نقص بھی نکالنے ہوتے ہیں وہ یہ سوچ کر خود ہی مسکرا گئی ۔

 ماموں وہاب اور ممانی زرینہ نے پہلے ثمن اور پھر مریم کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا تو دانی کی نظریں بھی بے اختیار اٹھ گئیں تو اس نے مسکرا کرالسلام علیکم کہا جس کا مطلب تھا کہ گھر کے سبھی لوگوں کو ہی سلام ہو گیا تھا خالد احمد نے دانی کو گلے لگایا تو دانی نے دیکھا کہ مریم اسی کو دیکھ رہی تھی دانی نے سب سے آنکھ بچا کر ہاتھ اوپر کر کے مریم کو سلام کر دیا وہ بھی نظریں جھکا کر مسکرائی اور سلام کا جواب دیا یہ وہ مشرقی روائیت ہیں جو ہمارے دین اور مذہب نے ہمیں سکھائی ہیں کہ ماں باپ کی موجودگی میں جوان لڑکا لڑکی ایک دوسرے کا احترام اور عزت برقرار رکھنے کے لئے بڑوں کا ادب اور لحاظ بھی ملحوظ خاطر رکھتے ہیں ۔ بہترین کھانے سے ان تین لوگوں کی تواضع کی گئی کافی ساری اگلی پچھلی باتیں ہوئی جن کے درمیان ہنسی مذاق اور سنجیدگی نے بھی اپنا کردار ادا کیا پھر اہم بات شروع ہوئی ۔

            ” دیکھو بھئی رانی ! اب میں تم سے اپنی امانت واپس لینے آیا ہوں “ وہاب ماموں نے اتنی بات کہی تھی کہ مریم تو شرما کر اندر کی طرف بھاگ گئی جب کہ ثمن مزے لے کر پوری کاروائی سننے اور دیکھنے کے لئے وہاں ہی موجود تھی وہ چپ نہ رہ سکی اور جھٹ سے بول پڑی ” تو ماموں جان آپ کو روکا کس نے ہے کان سے پکڑ کر لے جائیں ۔“ ایک بھر پور قہقہہ لگا تھا لیکن خالد احمد عاجزی سے بولا ۔” وہاب بھائی مریم تو آپ ہی کی امانت ہے جب دل چاہے لے جائیں لیکن ہمیں کچھ وقت تو دیں ابھی تو آج ہی اس کا آخری پیپر تھا ہم بھی کچھ تیاری ویاری کرلیں ۔ “ زرینہ کے بولنے کی باری تھی وہ سجمھدار اور وضع دار خاتون تھی فوراََ ہی بول پڑی ۔ ” دیکھو بھئی رانی ! مریم نے کوئی پرائے گھر تو جانا نہیں ہے اس اپنے گھر سے نکل کر دوسرے اپنے گھر جانا ہے بس اتنی سی با ت کے لئے تیاری ویاری کی کیا ضرورت ہے ۔ “

 ” لیکن پھر بھی بھابی “ رانی کی بات درمیان میں ہی وہاب نے کاٹ دی اور بولا ۔ ” تم مجھ سے چھوٹی ہو اور بڑی باتیں کرنے کی کوشش نہ کرو ہم اگلے جمعہ کو بارات لے کر آ رہے ہیں پھر دانی نے بھی واپس جانا ہے کیونکہ اس کو چھٹی ہی تھوڑے دنوں کی ملی ہے ۔ “ وہاب نے بات گویا ختم کر دی تھی وہاب اور رانی ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر خاموش ہو گئے ۔ ” انکل جی آپ کسی بھی قسم کی کوئی فکر نہ کریں “ دانی نے پہلی بار زبان کھولی تو سبھی اس کی طرف متوجہ ہو گئے ” اللہ کی دی ہوئی ہر نعمت ہمارے گھر میں موجود ہے آپ کو کسی بھی قسم کا کوئی بھی تکلف کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔“دانی کی بات سن کر زرینہ نے بیٹے کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا تو خالد احمد اور رانی کی آنکھیں چھلکنے لگیں تو وہاب نے اٹھ کر بہن کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھا اور وہاب کو گلے لگاتا ہوا بولا ۔ ” مجھے اللہ کریم نے کوئی بھی بیٹی نہ دے کر بہت بڑا امتحان لیا ہے ۔ میں مریم کو بہو بنا کر نہیں بلکہ بیٹی بنا کر اس گھر سے خود رخصت کر وں گا اور پھر اپنے گھر لے کر جاﺅں گا تم لوگ پریشان کیوں ہوتے ہو ؟“ مریم بھی اپنے والدین کی مالی حالت کو اچھی طرح جانتی تھی اس کی آ نکھیں بھی نم ہو گئی تھیں وہ دروازے کے اوٹ سے نکل کر باہر آئی تو زرینہ نے آگے بڑھ کر ا س کو گلے لگایا اور پیار سے ماتھا چوما تو وہاب نے بھی اس کو پیار کیا اور اجازت لی ۔ دانی اور ثمن نے مریم کو چھیڑنے کی پلاننگ آنکھوں ہی آنکھوں میں کر لی تھی اسی لئے ثمن بولی ، ” دانی بھائی اگر شادی والے دن کال آگئی کہ واپس ڈیوٹی پرپہنچو تو پھر کیا کریں گے ؟“ باقی تو سب لوگ ہنس پڑے لیکن مریم کے کلیجے کو ایک کچوکہ سا لگا تھا وہ فوراََ دانی کی طرف دیکھنے لگی جو بولا ۔” دانی اپنی محبت کو ترجیح دے گا “ یہ کہہ کر وہ چلا گیا لیکن مریم کے ہونٹوں پر ایک نہ ختم ہونے والی مسکان چھوڑ گیا تھا مریم جانتی تھی کہ دانی اسے بہت محبت کرتا ہے اور وہ کبھی بھی اس کو چھوڑ کر نہیں جائے گا ۔

            دونوں گھر وں میں شادی کی تیاریاں شروع ہو گئی تھیں بڑوں کی صلاح اور مشورے کے بعد فیصلہ کیا گیا تھا کہ دانی اور مریم کو اکھٹے ہی اپنی پسند کی شاپنگ کرنی چاہئے دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بازار بھیج دیا گیا تھا دانی نے مریم کی پسند پر آمین کہتے ہوئے ہر وہ چیز خریدی جو اس کے لئے ہی تھی اور دانی نے بھی مریم کو اپنی پسند کے کافی سارے ملبوسات لے کر دئے جب شاپنگ کے بعد دونوں خوب تھک گئے تو ایک ریسٹو رنٹ میں کھاناکھانے کے لئے رک گئے ایک ٹیبل پر مریم کو بٹھا کر دانی ہاتھ دھونے کے لئے چلا گیا تو سامنے دیوار پر لگی ہوئی بڑی سی ایل ای ڈی پر بریکنگ نیوز چل رہی تھی کہ دہشت گردوں کے حملہ میں پاک فوج کے چار آفیسرز شہید ہو گئے ہیں مریم نے بے اختیا رہو کر دانی کی طرف دیکھا جو اس کو کہیں نظر نہ آیا تو وہ پریشان ہو کر پورے ڈائننگ ہال میں نظریں دوڑانے لگی نیوز اینکر بار بار پر جوش لہجے میں اس نیوز کو بریک کررہی تھی اور مریم کے دل میں اک ہوک سی اٹھتی تھی کہ اس کو دانی کہیں نظر کیوں نہیں آ رہا ہے کہیں دانی اس کو چھوڑ کر واپس ڈیوٹی پر تو نہیں چلا گیا لیکن اس کو تسلی تب ہوئی جب دانی ایک طرف سے موبائل فون کان کو لگائے اس کی طرف آتا دکھائی دیا جیسے ہی دانی اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھا تو مریم نے بے ساختہ اس کا ہاتھ پکڑ لیا دانی نے محسوس کیا کہ مریم کا ہاتھ سرد ہو رہا ہے اور اس کے ماتھے پر بھی پسینے کے ننھے منے قطرے اٹھکیلیاں کر رہے ہیں وہ ساری با ت سمجھ گیا تھا کیونکہ اس کو آنے والی کال اورپھر نیوز اینکر کا چیخ چیخ کر اس نیوز کو اس انداز میں بتانا کہ اس کے چینل کی ریٹنگ بڑھ جائے ، دانی نے مریم کا ہاتھ ہولے سے دبایا اور اس کو ریلیکس ہونے کا اشارہ کیا دونوں ہی وہاں سے کھانا کھائے بغیر اٹھ گئے ۔

اگلی صبح دانی نے مریم کو فون کیا تو وہ گھبرائی ہوئی تھی ۔ ” کل والے واقعہ کو لے کر پریشان ہو ؟“ دانی نے پوچھا تو وہ نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی

 ” نہیں تو “ دوسری طرف سے پھر دانی کی آواز اس کے کانوں میں پڑ ی ” تو پھر تمہاری آواز اداس کیوں ہے ، ؟ “

و ہ اپنے لہجے پر قابو پاتی ہوئی اپنے اندر کے ڈر کو باہر نکال کر بولی ، ” دانی !“ پھر چپ رہ کر دانی کی آواز اور الفاظ کا ری ایکشن سننے کا انتظار کرنے لگی ” ہوں “ دانی نے ایک ہی لفظ میںبال ایک بار پھر اس کے کورٹ میں ڈال دی تھی ” مجھے بہت ڈر لگتا ہے “ دوسری طرف سے شائد دانی حیران تھا تبھی تو وہ فوراََ تیز آواز میں بولا ۔ ” مجھ سے ؟“ وی شائد مریم کا خوف دو رکرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔” تم سے کیوں ڈرنے لگی میں تم تو میرے اپنے ہو “ دانی کچھ کچھ اپنے مقصد میں کامیاب ہو رہا تھا ” تو پھر کس سے ڈرتی ہو ؟“مریم نے بہت سوچ وچار کے بعد مختصر سا جواب دیا ۔ ” اماوس سے “ دانی کے لئے یہ لفظ نیا تھا وہ حیرت کا اظہار کرتا ہوا بولا ۔ ” اماوس تو چند کالی راتوں پر محیط ہوتا ہے پھر ہر روز اس سے ڈرنا کیسا ؟ “ وہ نفی میں سر ہلا کر بولی ۔ ” لازمی نہیں کہ سیاہ اور کالی راتوں کو ہی اماوس کہا جائے او ر اس سے ڈرا جائے جب انسان دن کے اجالے میں دہشت کا لبادہ اوڑھ کر انسانوں کا قتل عام کرنے لے لئے نکل پڑے اور بے گناہ انسانوں کو قتل کرنے کے لئے وہ سکولوں کالجوں اور مدرسوں کے ساتھ ساتھ مساجد اور امام بارگاہوں کو بھی اپنے خون کی ہولی سے رنگ دے تو کیا یہ بھی اماوس نہیں ہے ؟ کیا اس اماوس سے بھی ڈرنے اور خوف کھانے کی ضرورت نہیں ہے ؟ “دانی اس کے ذہن میں بیٹھے ہوئے ڈر کو نکالنے میں کامیا ب نہ ہو ا تھا شادی والے دن ڈھول تاشوں اور چھرلی پٹاخوں کی گن گرج میں دانی دلہا بن کر گھوڑے پر سوار اس کو لینے آن پہنچا تھا ۔ وہ ماں باپ کے گلے لگ کر روئی تو تھی لیکن اس کا گمان اس کا پیچھا نہ چھوڑ رہا تھا وہ چند گھنٹو ں بعد سہا گ کی سیج پر بیٹھی دانی کا انتظار رکررہی تھی لیکن طویل ہوتی ہوئی رات نے اس کے گمان کو یقین کا روپ دینا شروع کیا تو وہ پریشان ہو گئی دروازے پر دستک سن کر اس کوکچھ تسلی ہوئی لیکن اندر آنے والا دانی نہیں وہاب ماموں تھے جو اس کو اطلاع دینے آئے تھے کہ دانی واپس ڈیوٹی پر چلا گیا ہے وہ صبح مریم کو کال کرے گا ۔

 ” میں نے کہا تھا نا کہ جب بھی ڈیوٹی پر جانا پڑا میں اپنی محبت کو شرمندہ نہیں کروں گا ۔۔۔۔ “ وہ فون پر بول رہا تھا اور مریم سن رہی تھی ” مریم تم میرا پہلا پیا ر ہو اور میرا وطن میری پہلی اور آخری محبت ہے زندگی نے وفا کی تو تمہارے ہاتھوں پر لگی سرخ مہندی خراج عقیدت ضرور پیش کرنے پہنچوں گا ۔ شہادت اور وطن کی خدمت میرا پیار ہے اب تمہیں کسی بھی اماوس سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اللہ کریم نے تمہارے سہاگ کو اماوس سے لڑنے کے لئے چن لیا ہے ۔ “وہ اور بھی بہت کچھ بول رہا تھا لیکن مریم کے ہاتھ سے موبائل گر گیا تھا وہ پتھر کے مجسمہ میں تبدیل ہو کر ایک ہی جگہ کھڑی رہ گئی تھی۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اک قیامت ذرا سی….! رابعہ الرباء

اک قیامت ذرا سی….! رابعہ الرباء بارہ بجے تک تو عوامی وقت ہی ختم ہوتا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے