سر ورق / افسانہ / نقطہ سے دائرہ تک – محفوظ عالم محفوظ، انڈیا

نقطہ سے دائرہ تک – محفوظ عالم محفوظ، انڈیا

نقطہ سے دائرہ تک
– افسانہ
محفوظ عالم محفوظ، انڈیا

” ہاۓ”
"ہیلو ڈیر”
” آج دن بھر تم آن لائن دیکھے نہیں-”
” ہاں، آج مصروف تھا، کیا سب خیریت تو-”
” ہاں، سنو نہ ایک غزل بھیج رہی ہوں ، دیکھ لینا تو-”
” تم نے لکھی ہے؟”
” ہاں”
"واہ، تم غزل بھی لکھنے لگی ہو، کیا کسی سے عشق ہوگیا ہے-”
” پگلا گۓ ہو کیا ، بڑھاپے میں عشق!!”
” اسی عمر میں عشق ہوتا ہے-”
” مذاق نہ کرو”-
” میرے استاد حسن بھائ کہتے ہیں کہ بڑھاپے کا عشق ہی پختہ ہوتا ہے-”
” چلو ، ٹھیک ہے لگتا ہے تمہیں نیند آرہی ہے، جا کر سوجاؤ –”
” نہیں ، ایسی بات نہیں ہے، میں جو کہہ رہاہوں ، وہ حقیقت ہے-”
” چلو، ٹھیک ہے پھر کل بات کرتے ہیں ، رات کافی ہوگئ ہے،صبح کالج بھی جانا ہے، گڈ نایٹ-”
” گڈ نایٹ "-

"ہاۓ”
” ہیلو ڈیر”
” آج شام تمہارے بارے میں ہی سوچ رہی تھی-”
” کیا؟”
” تم نے مجھے تیس برس کے بعد کیسے ڈھونڈھ نکالا؟”
” ڈھونڈھنے والے تو خدا کو ڈھونڈھ لیتے ہیں-”
” تمہیں تو بھول ہی گئ تھی، جب فیس بک پر تمہاری فرینڈ ریکیوسٹ دیکھی تومجھے تعجب ہوا اور کافی خوشی بھی-”
” میں تو نہیں بھولا تھا، انٹر سے پی جی تک تم ساتھ رہی،یہ الگ بات ہے ہم دونوں کا مضمون الگ الگ تھا، ایک ہی محلے میں ہم رہتے تھے، اکثر تمہیں دیکھتا تھا-”
” ہاں، دیکھتی تو میں بھی تھی،اکثر میرے گھر کے راستے سے گزر تے تھے-”
” ہاں”-
” مگر اب تم کافی بدلے بدلے نظر آتے ہو-”
” کیسے-”
” پہلے کتنے شریف تھے، نظر نیچے کر کے آتے جاتے تھے، بات کم کیا کرتے تھے-”
” تو آج”
” اب تم جلیبی ہوگۓ ہو-”
” کیوں رس گلہ نہیں-”
” وہ تو پہلے تھے، ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔”
” تم میں بھی تو تبدیلی نظر آرہی ہے، کتنی سیدھی سادی بچی تھی، اب باتیں دیکھو کتنی اچھی کرتی ہو-”
” یہ تو تمہاری صحبت کا نتیجہ ہے-”
” مگر تم میں بدلاؤ آ رہا ہے-”
” چھوڑو نہ، ویسے یہ بات پروفیسر سدھا بھی کہہ رہی تھی کہ آج کل تم زیادہ نکھر گئ ہو-”
” چلو کچھ تو ہوا”-
” میں بھی ایک دم پاگل ہوں، تم سے ہر بات کہہ دیتی ہوں”-
” بچے سوگۓ کیا؟ ”
” ہاں، بچے سو گۓ ہیں ، میاں بھی سوگۓ ہیں، میں ہی الو بنی بیٹھی ہوں –”
"اور تمہارے؟”
” ہاں ، سارے بستر پر جا چکے ہیں-”
” اچھا”
” اور بتاؤ-”
” سب ٹھیک ہے، چلو کل پھر بات ہوگی-”
” کیا نیند آرہی ہے؟ -”
” آ تو نہیں رہی ہے، مگر تمہیں آتی ہوگی، رات کافی ہوگئ ہے-”
” ٹھیک ہے تب، پھر کل ملتے ہیں –”
” گڈ نایٹ ”
” گڈ نایٹ’

” سوگۓ کیا؟ ”
” نہیں –”
” ایک بات بتاؤں، جب تک تم سے بات نہیں کرتی ہوں، مجھے قرار نہیں آتا ہے، بہت بری لت لگ گئ ہے-”
” اچھا، اچھی علامت ہے-”
” کیا اچھی علامت، اب بچوں کی فکر ستاتی ہے، بیٹی گریجیویشن میں پہنچ گئ ہے اور بیٹا انجینیرنگ کر رہا ہے-”
” تو کیا ہوا، اس کا اس سے کیا تعلق ؟”
” تم بالکل گدھے نکلے، ہوش تب آیا جب چڑیا چگ گئ کھیت-”
” ہاں، صحیح کہا تم نے، حالات ایسے ہی تھے-”
” اب مجھے کافی گھبراہٹ ہونے لگی ہے، طبیعت کہیں نہیں لگتی ہے- پہلے صرف ایک بار بات کیا کرتی تھی، اب تو لگتا ہے کہ ہر وقت تم سے ہی باتیں کرتی رہوں-”
” اپنے آپ پر قابو پاؤ-”
” کوشش تو کی، مگر ممکن ہو نہ سکا، دیکھو میری عزت کا خیال رکھنا-”
” تمہاری عزت پر آنچ نہیں آنے دوں گا،

تم سے تین سال سے باتیں ہورہی ہیں، کیا تمہیں ایسا کچھ محسوس ہوا-”
"نہیں، مگر وعدہ کرو تم مجھ سے دوستی کبھی نہیں توڑوگے-”
” وعدہ رہا-”
” اور بتاؤ”
” سب ٹھیک ہے”
” جاؤ سو جاؤ، رات کافی ہوگئ ہے، اپنا خیال رکھنا-
شب بخیر”
” گڈ نایٹ”

شگفتہ اور شارب کے درمیان گفتگو کا سلسلہ برسوں برس جاری رہا-
ماہ و سال گزرتے گۓ- ایک دن شارب کو خبر ملی کہ شگفتہ کے شوہر کا ہارٹ اٹیک آیا اور وہ دیکھتے دیکھتے اللہ کے پیارے ہوگۓ- ایسے حالات میں شارب نے اس کے آنسو پونچھے- اس کے کچھ دن کے بعد ہی شارب کی بیوی کا کینسر کی وجہ سے انتقال ہوگیا- اب دونوں تنہا، باتوں کا سلسلہ بھی کافی کم ہوگیا، جوش و ولولہ بھی ماند پڑ گیا- کبھی کبھی بجھے دل سے گفتگو ہوجاتی- دونوں خاموش رہنے لگے- ایک دن شگفتہ نے دوپہر کے وقت شارب کو فون کیا-
” السلام علیکم، آپ کیسے ہیں؟”
” وعلیکم السلام، الحمدللہ-”
” ایک بات کرنی تھی-”
” ہاں، بولو”-
” بیٹی نے ایم بی اے کرلیا ہے اور ایک کمپنی کے لۓ بھی اس کا کیمپس سلیکشن ہوگیا ہے-”
” مبارک ہو”-
” ہاں شکریہ، اسکی شادی کرنی ہے، کوئ اچھا لڑکا ہو تو بتاؤ-”
” دیکھتا ہوں”-
” ایک بات کہوں؟ ”
” تم سو بات کہہ سکتی ہو-”
” کیوں نہیں ہم دونوں اپنی دوستی کو رشتہ داری میں بدل ڈالیں-”
” واہ، تم نے تو میرے دل کی بات کہہ ڈالی، مجھے منظور ہے، مگر میں اپنے بیٹا سے بات کرلوں گا تب ہی-”
” ہاں ٹھیک ہے، میں بھی بیٹی سے پوچھ لوں-”
” اب طبیعت کیسی ہے؟”
” پہلے سے اچھی ہے، دوا لے رہا ہوں، گھٹنہ کی تکلیف جا نہیں رہی ہے، تمہاری طبیعت؟ ”
” ٹھیک ہوں، مگر کمر میں درد رہتا ہے، دوا سے کچھ افاقہ ہے-”
” ٹھیک ہے ، چلو پھر بات ہوتی ہے-”
” خدا حافظ”-
"اللہ حافظ-”
شارب نے موقع دیکھ کر اس متعلق بیٹے سے گفتگو کی- بیٹا آصف نے غور کرنے کے لۓ تھوڑا وقت مانگا- ایک ہفتہ گزر گیا مگر آصف نے اپنی راۓ باپ کو نہیں بتائ- ایک صبح شارب اپنے بیٹا کے کمرے میں گیا ، بیٹا موبائل میں مصروف تھا- شارب اسکے سامنے جاکر صوفہ پر بیٹھ گیا- تھوڑی دیر کے بعد آصف ضرورت کے تحت یا بلا ضرورت باتھ روم چلا گیا- سامنے موبائل کھلا پڑا تھا، شارب نے موبائل اپنی جانب گھمایا، واٹس اپ کھلا تھا، اس میں پہلا نام ایک لڑکی کا تھا، صوفیہ- شارب بھی اس فیلڈ کا پرانا کھلاڑی تھا، اس نے دونوں کے درمیان ہونے والے چیٹ کو پڑھ لیا اور خاموشی سے روم کے باہر آگیا- اب اسکی کیفیت ماہی بن آب کی ہوگئ-
دس دن بعد شگفتہ کا فون آیا- شارب نے بھاری من سے فون پک اپ کیا –
” السلام علیکم، کیسے ہیں”-
” وعلیکم السلام، الحمدللہ-”
” ایسا کریں آپ لکھنؤ چلیں آئیں،آپ سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں-”
شارب نے تو ہاں کردیا مگر وہ جاۓ تو کس منہہ سے جاۓ- لیکن شارب صرف شگفتہ سے ملنے کے بہانے حالات کا سامنا کرنے کو تیار ہوگیا- شگفتہ گھر پر تنہا تھی مگر وہ کافی مضمحل اور پشیماں نظر آ رہی تھی- چاۓ ناشتے کے بعد شگفتہ نے بتایا کہ وہ بہت شرمندگی محسوس کر رہی ہے، مگر تم سے ملنے کی تمنا تھی ، اس لۓ تمہیں زحمت دی- شگفتہ نے جو بات بتائ تو ظاہرا” شارب کے لۓ بہت ناگوار تھی مگر حقیقتا” فرحت بخش- شگفتہ نے بتایا کہ اسکی بیٹی شادی اپنی پسند سے کرنے جارہی ہے اور وہ مجبور ہے- شارب نے کسی منفی رد عمل کا اظہار کۓ بغیر آج کی نسل کی آزاد سوچ کو مورد الزام ٹھرایا اور اپنے بیٹے آصف کی حقیقت بھی واضح کر دی- جب شارب روانگی کے لۓ تیار ہوا تو شگفتہ نے اسے آج رات رک جانے کو کہا ، اس پر شارب نے سوال کیا
” کیا رات میں میرے رک جانے سے فلیٹ کے لوگوں کی نظر میں تم مشکوک نہیں ہوگی؟”-
” شگفتہ نے قہقہہ لگایا ، دنیا اندھی ہے، اس عمر میں کسی کو کوئ شک نہیں ہوتا ہے-”
ڈینر کرنے کے بعد شگفتہ نے شارب کوبیڈ روم دکھانے لے گئ- تھوڑی دیر کے لۓ وہ بھی بیٹھ گئ- ادھر ادھر کی باتیں ہونے لگیں- جب شگفتہ چلنے لگی تو شارب نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
” کیوں نہیں ہم تم ایک ہوجاتے ہیں –”
” یہ کیا کہہ رہے ہو-”
” ہاں، ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت ہے، بچوں کی شادی کے بعد ہم دونوں نکاح کرلیں گے تاکہ اللہ کے سامنے رسوا نہیں ہوں-”
یہ سنتے ہی شگفتہ اس کے سینے سے لگ گئ اور ایک بچہ کی مانند سسکنے لگی- اسی درمیان ڈور بیل بجی- دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوگۓ- شگفتہ کو فکر لاحق ہوگئ کہ رات گیارہ بجے کون آسکتا ہے- اس نے خوف کے ساۓ میں دروازہ کھولا- سامنے اسکی بیٹی ایک اجنبی لڑکا کے ساتھ کھڑی تھی- بیٹی ماں کو دیکھتے ہی گلے سے لگ گئ اور رونے لگی- شگفتہ بھی جذباتی ہوگئ، اسے ساری باتیں سمجھ میں آگئیں- اس نے اپنے آپ پر قابو پایا – شگفتہ نے آکر شارب کو سارا ماجرہ سنایا اور اسے اپنے ساتھ لیکر ڈرائنگ روم میں آ گئ- شارب کے داخل ہوتے ہی صوفہ پر بیٹھا نوجواں اچانک اٹھ کھڑا ہوا اور شارب سے لپٹ گیا-
” پاپا، آپ یہاں؟”
” مجھے معاف کر دیں ، میں نے آپ کو اطلاع دیۓ بغیر اپنی مرضی سے نکاح کر لیا ہے-”
شارب نے اسے تسلی دی اور سارے حقایق سے آگاہ کیا-
دونوں نۓ جوڑے ایک دوسرے کو متعجب ہوکر تکنے لگے- شگفتہ کی آنکھیں بھر آئیں- شارب اور شگفتہ کی آنکھیں ایک دوسرے سے ملیں اور دونوں مسکرا اٹھے-
نقطہ دائرہ میں تبدیل ہوتا ہوا نظر آنے لگا اور نقطہ کا وجود دائرہ میں ضم ہوگیا –

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

شیطان محمد نواز۔ کمالیہ پاکستان

پاکستانعالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 96 محمد نواز۔ کمالیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”یہ انسان نہیں شیطان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے