سر ورق / افسانہ / آخری پناہ گاہ … عادل فراز،لکھنؤ ، ا۔نڈیا

آخری پناہ گاہ … عادل فراز،لکھنؤ ، ا۔نڈیا

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر70

آخری پناہ گاہ

عادل فراز،لکھنؤ ، ا۔نڈیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چاند پر منتقلی کے بعد یکایک زمین کو تباہ کردیا گیا۔نقل مکانی کرنے والوں کو اب زمین کی ضرورت نہیں تھی۔انہوں نے سوچا چاند پر منتقلی کے بعد انکے جدید ترین اسلحے کے ذخیروں کا کیا ہوگا ،لہذا منتقلی سے پہلے ان علاقوں پر جنگ کا عفریت مسلط کردیا جائے جو انکے بعد زمین کے وارث قرار پائیں گے۔اور پھر جنگ مسلط کردی گئی۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ایک خطّے کے انسانوں نے چاند پر پانی کےذخائر تلاش کرکے کالونی بنانے کا منصوبہ پیش کردیا تھا۔امن کو ترسی ہوئی آبادی کے لئے یہ خبر نئی زندگی کی نوید تھی۔کالونیوں میں گھر کی ایڈوانس بکنگ شروع ہوتے ہی سرکاری دفتروں کے باہر انسان مذبح کی بھیڑوں کی طرح قطاردر قطار کھڑے تھے۔صبح سے شام تک قطار میں کھڑے ہوئے دنیا کے سب سے کمزور اور نحیف انسان کو بھی تھکاوٹ کا احساس نہیں تھا۔زندہ رہنے کی امید ذی روحوںسے کچھ بھی کرواسکتی ہے ۔گھر کی قیمتیں آسمان چھورہی تھیں مگر انسان قیمتوں میں بے تحاشہ ارزانی سے بے پرواہ گھر کی بکنگ کرارہے تھے۔اس خطّے کے افرادکے پاس مفتوحہ علاقوں سے حاصل مال غنیمت بے حساب تھا اس لئے ناجائز قیمتیں بھی جائز معلوم دے رہی تھیں۔جن علاقوں پر جنگ کا عفریت مسلط کیا گیا تھا انہیں آسمان کے راستوں سے مطلق دلچسپی نہیں تھی ۔وہ چاند پر گھر بسانے کی خبریں سن کر متحیر نہیں تھے ۔انکے گزشتگان نے ہزاروں سال پہلے آسمان کے راستوں کی خبریں دی تھیں مگر یہ لوگ اپنے گزشتگان کی قبروں پر رقص عقیدت کرکے ہی مطمئن تھے۔انکے مذہبی صحائف میں ہر علم کے وجود کا دعویٰ کیا گیا تھا مگر انکےحاکموں اور سائنس دانوں کو ایسے انکشافات سے کوئی علاقہ نہیں تھا ۔وہ تو بس الہامی کتابوں کو حصول ثواب کی غرض سے دن رات رٹنے کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے تھے اور بس!

ابھی چاند پرمکانات کی ایڈوانس بکنگ مکمل نہیں ہوئی تھی کہ دوسرے علاقے کے سائنس دانوں نے بھی چاند پر کالونی بسانے کا اعلان کردیا ۔اس اعلان کے بعد یہاں کے عوام کی رگوں میں موت کا خوف سرایت کرگیا۔اس علاقہ کے سائنس دان بھی چاند پر پانی کے ذخائر تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔کالونیوں میں گھر کی بکنگ کے اشتہارات اخبارات میں شایع ہوتے ہی یہاں ہلچل مچ گئی ۔جو پڑوسی ملک زمین پر ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرپارہے تھے وہ چاند پر ایک دوسرے کو کیسے برداشت کرسکتے تھے۔عوام تذبذب کا شکار تھی ۔امن کی تلاش میں چاند پر منتقل ہونے والا انسان پھر یکایک خوف کے سائے میں سانس لینے پر مجبور تھا ۔کیا چاند پر بھی جنگی دَف بجیں گے ۔توپیں چنگھاڑیں گی ۔ڈرون موت برسائیں گے ۔جنگ کے بعد بھکمری کا عذاب نازل ہوگا ۔تو پھرچاند پر کالونی بسانےکا کیا فائدہ ہوا؟

اورپھر عوام سرکاری دفتروں میںسیلاب کی طرح امڈ پڑے۔سڑکوں پر ہنگامے ہونے لگے ۔حاکم حواس باختہ تھے۔آخر عوام کو کیسے سمجھایا جائے کہ ابھی چاند پر کئ سالوں تک جنگ کے امکانات نہیں ہیں۔ابھی تو وہاں صرف انسانوں کو منتقل کیا جارہاہے ۔فی الوقت اسلحہ خانوں کی منتقلی کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ابھی تو یہ بھی یقینی نہیں تھا کہ زمین کے ہتھیار چاند پر کارساز ثابت ہوں گے یا نہیں ۔عوام کو یقین دہانی کے لئے بڑی بڑی کانفرنسیں رکھی گئیں۔اجلاس بلائے گئے ۔اخبارات میں اشتہارات دیے گئے ۔نیوز چینلوں پر گھنٹوں ڈبیٹ کرائی گئیں۔بالآخر عوام کو یہ یقین دہانی کرادی گئی کہ ابھی چاند پر جنگ کا امکان نہیں ہے ۔یقین کرنا انسانی آبادی کی فطری مجبوری ہے ۔ہر کوئی اپنی جان کا تحفظ چاہتاہے اورزمین تو جنگوں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے اور بنی رہے گی ۔

بکنگ ایک بار پھر شروع ہوگئی ۔چاند پر منتقلی کا منصوبہ تیار ہونے لگا ۔کچھ دنوں کی کوشش کے بعد منتقلی کی گھڑی آپہونچی ۔منتقلی کی حتمی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا ۔حاکم بھی مطمئن تھے کہ اب انہیں زمین پر بارود کی سرنگیں بچھانےکی ضرورت نہیں پڑے گی ۔مگر انہوں نے سوچا کیوں نا اپنے عوام کی منتقلی سے قبل ان علاقوں پر جنگ مسلط کردی جائے جو انکےبعد زمین کے وارث قرار پائیں گے۔آخر انکی چاند پر منتقلی کے بعد اسلحہ خانوں کا کیا ہوگا؟۔جنگ کے نقارے ایک بار پھر بجنے لگے ۔توپیں چنگھاڑنے لگیں ۔ڈرون موت برسانے لگے ۔انسانوں کی گھنی آبادیاں ویرانوں اور چٹیل میدانوں میں تبدیل کردی گئیں۔

ابھی جنگ کی کامیابی کا جشن بھی نہیں منایا گیا تھا کہ تیسرے ملک کے سائنس دانوں کی طرف سے اخبارات اور نیوز چینلوں پر خبریں نشر ہونے لگیں۔تیسرے ملک نے اپنا اسلحہ خانہ چاند پر منتقل کردیا تھا۔حاکموں کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ۔انکے اسلحے خانے خالی ہوچکے تھے ۔چاند پرمنتقل کرنے کے لئے ہتھیاروں کا ذخیرہ ختم ہوچکا تھا ۔عوام خوف میں مبتلا تھی کہ اگر چاند پر جنگ چھڑ گئی تو ہماری فوج بغیر اسلحے کے انکا دفاع کیسے کرے گی۔

ایک بار پھر عوام حاکموں کی ناعاقبت اندیشی کے خلاف سڑکوں پر اتر آئی ۔بکنگ کینسل ہونے لگی ۔سرکاری دفاتر نذر آتش کردیے گئے ۔خالی اسلحہ خانوں کو ڈھادیا گیااور عوام جوق در جوق عباد ت گاہوں کا رخ کرنے لگی کہ انہوںنے اپنے مذہبی رہنمائوں سے سن رکھا تھا۔۔۔۔

’’دعا اللہ کے مقرب بندوں کا ہتھیارہے‘‘۔

سرکاری کارندوں نے مذہبی رہنمائوں کے شکم پُر کردیے اور انکی زبانوں پر چاندی کے ور ق چڑھادیے گئے ۔’’کہو زمین محفوظ نہیں ہے ۔ہم چاند پر اپنے دشمن کے خلاف دعا کا اسلحہ استعمال کریں گے اور دعا ہی انسانوں کاآخری موثر ہتھیار ہے ‘‘۔مذہبی رہنمائوں کی یقین دہانی پر عوام چاند پر منتقل ہوگئی ۔

اورپھر جنگ شروع ہوگئی ۔

انسانی تہذیب نے جانوروں کی تہذیب کے سامنے خودسپردگی کردی۔سرسبزو شاداب وادیاں اجاڑ بیابانوں میں بدل گئیں۔ہرے بھرے چھتنار درخت خاکستر ہوگئے ۔مرغیاں مرغیوں کے ساتھ جفتی کھانے لگیں اور کتّے نرم و گداز سیج پر دلہنوں کی جگہ سونے لگے ۔بلیّاں انڈے دینے لگیں اور مرغیاں انسان نما بچوں کو جننے میں درد زہ سے چیخ رہی تھیں۔

بلبلائی ہوئی عوام عبادت گاہوں میں مذبح کی بھیڑوں کی طرح قطار در قطار آرہی تھی۔مذہبی رہنما خدا کے سامنے سجد ہ ریز تھے اور آخری ہتھیار آسمان کے ساتوں پردوں کو چیر کر خدا کے گلے پر جاکر ٹہر گیا ۔اس سے پہلے کہ خدا کی گردن کٹ جاتی عوام پاجامے اتاکر سجد ہ ریز مذہبی رہنما کے چاروں طرف برہنہ رقص کرنے لگی ۔ازار بند توڑ دیے گئے ۔ہتھیار کند ہوگئے ۔کھیتیاں مرجھا گئیں۔

زنگ آلودآخری اسلحے کو عباد ت گاہوں کی محراب میں دفن کردیا گیا ۔

اور عوام ایک دوسرے کی مقعدوں میں سرڈالے ہوئے مطمئن تھے کہ اب وہ دشمن کے شر سے محفوظ ہیں۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اک قیامت ذرا سی….! رابعہ الرباء

اک قیامت ذرا سی….! رابعہ الرباء بارہ بجے تک تو عوامی وقت ہی ختم ہوتا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے