سر ورق / افسانہ / مارگریٹا …نیلما ناہید درانی ۔ لاہور ۔ پاکستان

مارگریٹا …نیلما ناہید درانی ۔ لاہور ۔ پاکستان

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر 68

مارگریٹا

نیلما ناہید درانی ۔ لاہور ۔ پاکستان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مال کے مشہور برانڈ سٹور کے فٹنگ روم سے ایک خوبصورت خاتون باھر آئی۔۔اس نے لال پھولوں والا سفید فراک پہن رکھا تھا۔۔میرے قریب کھڑے نوجوان کی طرف دیکھ کر مسکرائی۔۔پھر لہرا کر پوجھا”کیسی لگ رھی ھوں ؟”۔۔۔نیلی آنکھوں اور ستواں ناک والی یہ خاتون 60 یا 70 برس کی رھی ھوگی۔۔لیکن سرخ و سفید رنگت اور سنہری بالوں نے اس کے حسن کو مانند نہیں پڑنے دیا تھا۔۔۔۔میرے قریب کھڑا لڑکا 35 برس کا رھا ھوگا۔۔شکل و شباھت سے ایشین لگ رھا تھا۔۔۔اس نے جھینپتے ھوئے اس عورت کی طرف دیکھ کراثبات میں سر ھلایا۔۔۔وہ خوشی سے اٹھلاتی ھوئی دوبارہ فٹنگ روم میں گئی۔۔تھوڑی دیر بعد باھر نکلی ۔۔کاونٹر پر ادائیگی کر کے فراک بیگ میں ڈالا۔۔اور وہ دونوں دکان سے باھر چلے گئے۔۔
ابھی کچھ دن ھی گزرے تھے کہ وہ دوبارہ دکھائی دیے۔۔شہر کی سڑکوں پر گھومتے ھوئے۔۔۔یہ سویڈن کا ایک چھوٹا سا قصبہ تھا۔۔میں اپنے بیٹے سے ملنے آئی تھی جو یہاں یونیودسٹی میں پڑھ رھا تھا۔۔
ایک دن میں لائبریری میں بیٹھی تھی کہ وہ دونوں لائبریری میں داِخل ھوئے۔۔۔۔وہ چلتی ھوئی میرے پاس آگئی۔۔۔”میں اس میز پر بیٹھ جاوں” اس نے پوچھا۔۔۔اور میرے ھاں کہنے پر وہ میرے قریب والی کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔”میرا نام مارگریٹا ھے۔۔۔۔۔اور یہ جو لڑکا میرے ساتھ ھے۔۔میرا بوائے فرینڈ ھے ”
اب میں حیرت سے اس کی طرف دیکھ رھی تھی۔۔۔وہ لڑکا کتابوں کے شیلف سے کوئی کتاب ڈھونڈ رھا تھا۔۔۔
” اس کا نام نقوی ھے۔۔۔یہ آپ کے ملک کا رھنے والا ھے۔۔یہ سویڈش سیکھنے کے لیے کتاب ڈھونڈنے آیا ھے”
وہ یہ ساری باتیں مجھے اس لیے بتا رھی تھی کہ وہ مجھ سے میرے ملک کے لوگوں کے بارے میں جاننا چاھتی تھی۔۔۔۔۔” میری ایک بیٹی ھے وہ دوسرے شہر میں رھتی ھے۔۔کبھی کبھار مجھے ملنے آتی ھے۔۔۔کسی دوسرے شہر میں ھے۔۔۔۔میں بالکل اکیلی ھوں۔۔۔۔اس سے پہلے میرا ایک بوائے فرینڈ تھا۔۔۔وہ عراق سے آیا تھا۔۔۔میں نے اس کو 4 سال اپنے گھر رکھا۔۔۔اس کا خرچہ اٹھایا۔۔۔جب اس کو یہاں کی سکونت مل گئی ۔۔تو وہ کہنے لگا۔۔۔میں تم سے بہت محبت کرتا ھوں۔۔لیکن اب میں گھر بسانا چاھتا ھوں۔۔۔مجھے بچوں کی ضرورت ھے۔۔جو تم نہیں دے سکتی۔۔اور وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔”
یہ کہتے ھوئے اس کے چہرے پر گہری اداسی چھا گئی۔۔نیلی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے۔۔۔۔۔” اور اب یہ آیا ھے۔۔نقوی۔۔۔تم لوگ کیسے ھو؟ سنا ھے مشرقی لوگ وفادار ھوتے ھیں۔۔۔احسان فراموش نہیں ھوتے۔۔۔ساتھ نبھانا جانتے ھیں۔۔”
مارگریٹا۔۔۔ایک معصوم بچی کی طرح مجھ سے پوچھ رھی تھی۔۔۔۔میں اپنے دل میں چھپے خوف سے لرز رہی تھی۔۔۔” کہ اے بھولی نیک دل خاتون۔۔۔۔تم اب پھر وہ خواب دیکھ رھی ھو۔۔۔جس کے ٹوٹنے کے بعد شاید تم میں دوبارہ خواب دیکھنے کی ھمت نہ رھے۔۔۔”
نقوی کتاب لے کر واپس آگیا تھا۔۔وہ دونوں خداحافظ کہہ کر لائبریری سے باھر نکل گئے ۔۔۔۔
مجھے آج بھی مارگریٹا کی نیلی آنکھوں سے چھلکتے آنسو اکثر بےتاب کر دیتے ھیں۔۔۔۔اور میں اس کی خوشی کے لئے دعا مانگتی ھوں۔۔۔۔ایسی دعا جس کی قبولیت کا مجھے بھی یقین نہیں۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

درد کے موسم انجم قدوائی ۔علی گڑھ ۔انڈیا

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 142 درد کے موسم انجم قدوائی ۔علی گڑھ ۔انڈیا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے