سر ورق / مضامین / ”عالمی یومِ انسدادِ بدعنوانی طالبات کے ساتھ“… کِرن صِدّیقی

”عالمی یومِ انسدادِ بدعنوانی طالبات کے ساتھ“… کِرن صِدّیقی

 

”عالمی یومِ انسدادِ بدعنوانی طالبات کے ساتھ“

کِرن صِدّیقی

         طلبا۶ اپنی قوم کے معمار ہوتے ہیں کیوں کہ وہ اپنے ملک و قوم کا مستقبل تعمیر کرتے ہیں ان کی قدرتی صلاحیتوں کو ابھارنے کے لیۓ ضروری ہے کہ انھیں تدریس کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لینے کا موقع فراہم کِیا جاۓ اِس طرح ان کی ذہنی استعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ اِس مقصد کے لیۓ تعلیمی ادارے وقتاًفوقتاً ایسی تقاریب اور پروگرامز کا انعقاد کرتے رہتے ہیں جن سے طلبا۶ کی صلاحیتوں کو جِلا۶ مِلے اور اب کچھ عرصے سے وفاقی ادارہ براۓ احتساب یعنی نیب نے بھی کراچی بھر میں طلبا۶ و طالبات کے درمیان غیر نصابی مقابلے کرواۓ جن میں پوسٹر سازی، مضمون نویسی اور تقریری مقابلہ شامل تھا۔ اِن مقابلوں کا موضوع انسدادِ بدعنوانی و رشوت ستانی تھا۔ طلبا۶ نے اس موضوع کی مناسبت سے پوسٹرز بناۓ، مضامین لکھے نیز اِس موضوع پہ تقاریر کِیں جن میں بہترین کارکردگی پر انھیں اول دوم اور سوم بھی قرار دِیا گیا۔

          یہ مقابلے سات نومبر سے شروع ہوۓ جو کہ ضلعی سطح پر تھے پھر ہر ضلعے کے کالجز سے مختلف مُقابلوں کے فاتحین طلبا۶ کے درمیان فاٸنل مقابلے کا پروگرام چودہ نومبر کو ہوا۔

          ضلع جنوبی کے کالجز کی طالبات کے درمیان مذکورہ بالا شعبوں میں مقابلہ سات نومبر کو گورنمنٹ کراچی کالج براۓ خواتین چاند بی بی روڈ میں ہوا۔ پروگرام میں مضمون نگاری، پوسٹر سازی اور تقریری مقابلہ شامل تھے۔ مقابلوں کا آغاز صبح گیارہ بجے ہوا۔ ضلع جنوبی کے جن کالجز کی طالبات اس مقابلے میں شرکت کے لیۓ کراچی کالج آٸ تھیں ان میں گورنمنٹ کامرس کالج، ایس بی ایم فاطمہ جناح گرلز کالج اور گورنمنٹ کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس کی طالبات شامل تھیں۔ اس پروگرام کا موضوع انسدادِ بدعُنوانی و رشوت ستانی تھا۔ یہ ضلعے کی سطح پر فاٸنل مقابلہ تھا۔

        جیسا کہ بتایا گیا کہ اِن مُقابلوں میں تین قسم کے مُقابلے شامل تھے جن میں سب سے پہلا مقابلہ پوسٹر سازی تھا اور اِس مقابلے میں طالبات نے خوش ذوقی کا ثبوت دیتے خوب صورت رنگوں سے جاذبِ نظر پوسٹر بناۓ جو اس قدر دلکش تھے کہ دل چاہ رہا تھا دیکھتے ہی رہیں۔ یہ حسین پوسٹرز ان طالبات کی صلاحیتوں کا بہترین ثبوت ہے اور یہ طالبات اس لیۓ بھی زیادہ داد و تحسین کی مستحق ہیں کہ ہمارے یہاں اسکول کالج کی سطح پر مصوری سکھانے کا نہ تو کوٸ باقاعدہ انتظام ہے اور نہ ہی ایسا کوٸ سلسلہ ہے کہ جس کے تحت ایسے طلبا۶ و طالبات کی کوٸ باقاعدہ رہنماٸ کی جاۓ جنھیں مصوری کا شوق ہے اور جن میں مصوری کی صلاحیتیں ہیں۔ یہ طلبا۶ و طالبات بس اپنی خدا داد صلاحیت کے سہارے ہی اتنا اچھا کام کرلیتے ہیں تو سو9چیۓ کہ اگر ان کو اسکول یا کالج کی سطح پر مصوری کے ابتداٸ رموز و نکات کی تعلیم دی جاۓ تو کیا کیا نہ بہترین تخلیق کار سامنے آٸیں گے۔ اس مقابلے کی فاتحِ اوّل گورنمنٹ کراچی کالج کی فرسٹ اٸیر آرٹس کی مُتعلّم ربیعہ الطاف قرار پاٸیں۔ دوسرے نمبر پر عیشة الراضیہ کا پوسٹر رہا عِیشہ ایس ایم بی فاطمہ جناح کالج میں سالِ دوم پری میڈیکل کی طالبہ ہیں جب کہ تیسرے نمبر کا پوسٹر حمد سعید کا تھا جن کا تعلق گورنمنٹ کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس سے ہے اور وہ زُمرہ۶تجارت یعنی کامرس گروپ کی سالِ اوّل کی طالبہ ہیں۔ تمام تخلیق کار طالبات نے بہت عُمدگی سے اپنے پوسٹرز کے ذریعے ہر اس نوع کی بدعنوانی کی مُذّمت کی ہے جو معاشرے میں کسی بھی سطح پر پاٸ جاتی ہے۔ مثال کے طور پہ تعلیم، قانون یا طِب کے شعبوں میں پاۓ جانے والی بدعنوانی اور رشوت ستانی جیسے سنگین معاشرتی جراٸم کو بہت خوب صورتی سے نُمایاں کِیا ہے۔

    مضمون نویسی میں بھی طالبات نے بدعنوانی جیسی معاشرتی براٸ کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کِیا یہاں یہ کہنا ضروری ہے کہ یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ اب ہمارے طالب علم اردو سے دور ہوتے جارہے ہیں بعض بہت عام فہم اور زبان زدِ خاص و عام الفاظ بھی غلط لکھتے ہیں۔ شعبہ۶ اردو کے اساتذہ کو اِس طرف بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس مقابلے میں کراچی کالج کی کامرس کی سالِ اوّل کی طالبہ ماہ نور خان پہلے نمبر پر آٸیں۔ دوسرے نمبر پر ایس ایم بی فاطمہ جناح کالج کی پری میڈیکل سال دوم کی طالبہ فاطمہ محمد یوسف رہیں جب کہ تیسری پوزیشن گورنمنٹ کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس کی سال اول کی طالبہ ایمان فاطمہ نے حاصل کی۔

        تقریری مُقابلے میں بھی طالبات نے بہت جوش و خروش سے اپنے خیالات کا اظہار کِیا۔ اس مقابلے میں پہلے نمبر پہ کامرس کالج کی فرسٹ اٸیر کی طالبہ اریج ہارون رہیں دوسری پوزیشن کراچی کالج فرسٹ اٸیر کامرس کی طالبہ رضیہ ملک نے حاصل کی اور تیسرے نمبر پہ فاطمہ جناح کالج کی اریبہ زمان آٸیں۔ ان مقابلوں کی جج کراچی کالج کی ایک سابقہ اُستاد مس صفیہ سلیم اور راقم الحروف ( کِرن صِدّیقی) تھیں۔

      کالج کی پرنسپل اور ٹیچرز نے اس مقابلے کے انعقاد میں جتنی محنت کی وہ نمایاں طور پر نظر آرہی تھی۔ پرنسپل محترمہ پروفیسر یاسمین فاطمہ اور اُن کی ٹیچرز مثلاً شعبہ۶اردو کی استاد ثروت عباس صاحبہ، مسزگٶری، مسز فخرالنسا۶علوی، مسز شہنیلا، مسز جویریہ وغیرہ نے طالبات کو بہت اچھی طرح مقابلوں کی تیّاری کرواٸ شاید یہ ہی وجہ ہے تین کٹیگریز میں سے دو کی فاتحین کراچی کالج کی طالبات تھیں۔ پرنسپل پروفیسر مسز یاسمین فاطمہ صاحبہ اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود اس پروگرام میں شروع سے آخِر تک پوری طرح دل چسپی سے شریک رہیں اُنھوں نے اور اُن کی ٹیچرز نے میزبانی کے فراٸض بہت عُمدگی سے ادا کِیۓ۔

        ان طالبات کو اس مقابلے میں اس جوش و خروش سے حصہ لیتے دیکھ کے یہ بات بہت اچھی طرح محسوس کی جاسکتی ہے کہ ہمارے طالب علم نہ صرف تعلیم حاصل کرنے میں دل چسپی رکھتے ہیں بلکہ اگر مناسب رہنماٸ میسّر آۓ تو یہ ہر شعبے میں کمال ہنر کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ ذرا نم ہو تو یہ مٹّی۔۔۔۔…!

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

والدین اولاد کا مزاج سمجھیں!! ﺁﺻﻒ ﺍﻗﺒﺎﻝ ﺍﻧﺼﺎﺭی‏

والدین اولاد کا مزاج سمجھیں!! ﺁﺻﻒ ﺍﻗﺒﺎﻝ ﺍﻧﺼﺎﺭی‏ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺑﮍﮮ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﻤﻠﮧ ﮐﮩﺎ ﮐﺮﺗﮯ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے