سر ورق / سفر نامہ / ٹلہ جوگیاں کا سفر اور بے آرام روحیں.طاہر نواز (دوسری اور آخری قسط)

ٹلہ جوگیاں کا سفر اور بے آرام روحیں.طاہر نواز (دوسری اور آخری قسط)

ٹلہ جوگیاں کا سفر اور بے آرام روحیں

(دوسری اور آخری قسط)

            ہمارے سامنے دوآدمی اپنے تناﺅ زدہ چہروں کے ساتھ کھڑے تھے۔۔۔یہ تناﺅ صرف ان کے چہروں پر ہی نہیں بلکہ اس ماحول پربھی چھا گیا تھاجس میں اس لمحے ہم سانس لیتے تھے اور جس کی کرختگی ہم محسوس کر سکتے تھے۔۔۔ہم نے پیچھے چلے آتے مجاہد عباس اور جواد حسنین بشر کی طرف دھڑکتے دل کے ساتھ دیکھا۔۔۔وہ اب بھی باتیں کرتے چلے آتے تھے ۔۔۔لیکن اب کی بار ان کے قدم تیزی سے اٹھ رہے تھے۔۔۔انہوں نے یقیناان دو لوگوں کو دیکھ لیا تھا جو ہمارے راستے میں کھڑے تھے۔۔

            ماحول پر چھائے تناﺅ کو کم کرنے کے لیے ہم نے سلام کر دیا اور ساتھ ہی یہ بھی پوچھ لیا کہ ٹلہ جوگیاں کی طرف جانے والا راستہ کیا یہی ہے۔۔۔سامنے والے افراد میں سے جو ہمارے قریب کھڑا تھا بس اتنا بولا کہ ہاں یہی راستہ ٹلہ جوگیاں کی طرف جاتا ہے۔۔۔اس کا دوسرا ساتھی اس سے کچھ فاصلے پر راستے میں دوسری طرف کھڑا تھا۔۔۔جیسے اسے ڈر ہو کہ ہم اس کے ساتھی کو چکمہ دے کر بھاگ جائیں گے۔۔۔اس کے مختصر سے جواب سے ہمیں اتنا اطمینان ہو گیا تھا کہ بہرحال ہم ٹلہ جوگیاں کے راستے پر ہی تھے۔۔۔لیکن کہاں ۔۔۔اس کا ہمیں کچھ پتا نہ تھا۔۔۔تب ہم نے دوسرا سوال داغ دیا کہ ٹلہ جوگیاں اس مقام سے ابھی اور کتنا دور ہے۔۔۔یہاں سے ٹلہ جوگیاں دس کلومیٹر دور ہے۔۔۔وہی پہلے شخص نے جواب دیا تھا۔۔۔ابھی مزید دس کلومیٹر کا سننا تھا کہ ہمارے تو اوسان ہی خطا ہو گئے تھے۔۔۔یعنی اتنا چلنے کے بعد بھی ابھی تک دس کلومیٹر باقی تھے۔۔

            اتنی دیر میں مجاہد عباس اور جواد حسنین بشر ہم تک پہنچ چکے تھے۔۔۔ہم نے بالکل نڈھال انداز میں یہ مژدہ انہیں سنایا کہ ان احباب کے بقول ٹلہ جوگیاں کا سفرا بھی دس کلومیٹر باقی ہے۔۔۔بس آگے بڑھتے چلو۔۔۔ہم نے اس امید پر یہ بات انہیں بتائی تھی کہ وہ ہماری اس تھکی ہوئی حالت پر ترس کھائیں گے اور ہماری ڈھارس بندھائیں گے ۔۔۔لیکن انہوں نے تو یہ برادرانہ حکم جاری کر دیا تھا کہ بس آگے بڑھتے چلو۔۔

            ہم چار تھے اور ہمارے سامنے کھڑے لوگ تعداد میں دو تھے۔۔۔ہم نے انہیں الوداعی سلام کیا اور آگے کی طرف بڑھنے لگے۔۔۔ہم لوگوں نے ابھی چند قدم ہی اٹھائے تھے کہ ان دونوں نامعلوم افراد میں سے ایک نے ہم لوگوں سے پوچھا۔۔۔کیا ہم لوگ واپسی پر اسی راستے سے آئیںگے۔۔۔اور ہم لوگ حیران تھے کہ وہ ہم سے ایسا کیوں پوچھتے تھے۔۔۔یہ بھی ممکن تھا کہ وہ ہم سے تعداد میں کم تھے اس لیے اس وقت تو ہمیں کچھ نہ کہتے تھے ۔۔۔لیکن اگر واپسی پر وہ پھر سے ہمارا راستہ روک لیتے ہیں تو پھر۔۔۔کیا اس کے علاوہ کوئی اور راستہ بھی ہے ۔۔۔ہم لوگوں نے اس کے سوال کے جواب میں سوال کر دیا تھا۔۔۔ہاں ایک راستہ ہے لیکن وہ بہت مشکل ہے۔۔۔ان میں سے ایک نے جواب دیا تھا۔۔۔بس تو پھر ہم اسی راستے سے واپس آئیں گے۔۔۔اتنا کہہ کر ہم لوگ آگے بڑھ گئے تھے۔۔

            ان لوگوں سے آگے چلے آنے کے بعد بھی ہم چاروں کا موضوع بحث ان دو نا معلوم افراد کا انداز تھا۔۔۔اور ہم اس بات پر متفق ہو چکے تھے کہ واپسی پر اس راستے پر نہیں آنا۔۔۔دوسرا راستہ چاہے کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو بہر حال اس کے خطرات ہماری آنکھوں سے اوجھل تھے۔۔۔اور وہ خطرات ہم مول لے سکتے تھے۔۔۔لیکن اس راستے پر جو شیطان کی آنت کی طرح لمبا ہی ہوتا چلا جا رہا تھا ہم کسی صورت واپس آنے پر اب تیار نہیں تھے۔۔۔اورٹلہ جوگیاں کے بھی قریب قریب کوئی آثار نہیں تھے۔۔۔کہ اگر وہ ہمیں ایک جھلک دکھا دیتا۔۔۔پھر چاہے غائب ہو جاتا ۔۔۔لیکن ہمیں اتنا یقین تو ہو جاتا کہ جس پہاڑ کی چاہت میں ہم چلے آئے ہیں وہ یہی ہے۔۔۔ہمیں کچھ تو اطمینان ہوتا۔۔لیکن ٹلہ جوگیاں بے وفا محبوب کی طرح تھا۔۔۔ہمیں ایک جھلک دکھانے پر بھی راضی نہیں تھا۔۔

            ہمیں پہاڑ میںمسلسل چلتے ہوئے اب کتنے ہی گھنٹے ہو چکے تھے لیکن یہاں تو ہمیں ہر موڑ کے بعد ایک اور موڑ والا معاملہ تھا۔۔۔راستہ۔۔۔ موڑ ۔۔۔راستہ۔۔۔ موڑ۔۔۔راستہ بھی ناہموار۔۔۔کہیں کہیں درختوں کی شاخیں راستے میں اتنے اندر تک آ گئی تھیں کہ ان کو باقاعدہ ہٹا کر گزرنا پڑتا تھا۔۔۔اب ایک اور مشکل یہ آ ن پڑی تھی کہ راستے کے ساتھ ساتھ کیکر کے درخت آ گئے تھے جن کے لمبے کانٹے ہمارا منہ چڑاتے۔۔۔اب ہمیں نیچے راستے پر بھی مسلسل نگاہ رکھنا پڑتی اور اوپر ان شاخوں پر بھی جو ہمارے سروں کو بار بار چھو رہی تھیں۔۔۔ہم پاﺅں کے پھسلنے کی ٹیسیں تو برداشت کر سکتے تھے لیکن اگر کیکر کا کانٹا چب جاتا تو ۔۔۔اسی لیے ہم سب اب بہت دھیان سے چلے جاتے تھے۔۔

            سورج ہمارے چلنے کی رفتار سے کہیں زیادہ تیزی سے ڈھل رہا تھا۔۔

            مزید ڈیڑھ گھنٹہ چلنے کے بعد بائیں طرف کی پہاڑی پر ہمیںدور سے ایک ٹاور نظر آیا۔۔۔ٹاور کے نظر آنے پر ہمارے حوصلے بڑھ گئے تھے کہ یقینا اس کے آس پاس کچھ ہو گا۔۔۔لیکن کیا تھا۔۔۔یہ ہمیں معلوم نہ تھا۔۔۔اور نہ ہی اس ٹاور کے علاوہ کچھ اور نظر آ رہا تھا۔۔

            قریب جانے پر معلوم ہوا کہ یہ تو ایک آہنی ٹاور تھا جس کے دونوں طرف سیڑھیاں لگی ہوئی تھیں۔۔۔دونوں طرف کی سیڑھیاں اوپر جا کر جہاں ملتی تھیں وہاں ایک تختہ سا تھا جس پر ایک آدمی کھڑاہوہ سکتا تھا۔۔۔تو کیا یہ ٹاور یہاں پر اس لیے نصب کیاگیا تھا کہ اس پر چڑھ کر دور تک دیکھا جا سکے؟ ۔۔۔اس ٹاور کے آس پاس کوئی بھی نہیں تھا جس سے ہم اس سوال کا جواب لے سکتے۔۔

            اس ٹاور والی پہاڑی کے پاس سے ہی راستہ جس پر ہم چلے آ رہے تھے دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔۔۔ایک راستہ دائیں طرف نکلتا تھا جو ایک اور اونچے پہاڑ کی طرف چلا جاتا تھا۔۔۔جبکہ دوسرا راستہ ایک خطرناک اترائی کی طرف تھا۔۔۔ہم دائیں طرف والے راستے پر ہو لیے تھے۔۔

            دائیں طرف والے راستے پر تھوڑی دور تک چلنے کے بعد ہمیں ایک بستی کے آثار نظر آئے۔۔۔اس بستی کے باہر ہی ہمیں ایک بچہ ملا جو ہمیں دیکھ کر تیزی سے گھر کی طرف چلنے لگا۔۔۔ابھی وہ گھر کے دروازے کے پاس ہی پہنچا تھا کہ اندر سے ایک ادھیڑ عمر کا آدمی برآمد ہوا۔۔۔یہ اس بستی کا پہلا گھر تھا جس کے ساتھ مختصر سی پہاڑی پر ایک مسجد تھی جس کے باہر پڑے ہوئے پتھروں پر ہم براجمان ہو چکے تھے۔۔۔اس ادھیڑ عمر آدمی نے ہمیں پانی پلایا اور ساتھ ہی ہمارے سوالوں کے جواب دینے لگا۔۔۔جس مکان کے باہر پتھروں پر ہم بیٹھے ہوئے تھے اس کے ساتھ ہی ایک تنگ سا راستہ اوپر کی طرف جا رہا تھا جو اس ادھیڑ عمر آدمی کے بقول ٹلہ جوگیاں کی طرف جا تاتھا۔۔

            تب شام ہو چکی تھی۔۔

            اگر آپ لوگ ٹلہ جوگیاں جانا چاہتے ہیں تو آپ صبح نو سے دس بجے تک یہاں پہنچ جائیں۔۔۔ایسا کہنا اس ادھیڑ عمرآدمی کا تھا ۔۔۔اس بستی سے ابھی مزید دو گھنٹے کا سفر ہے۔۔۔وہ سامنے جو پہاڑ ہے اس سے آگے ایک اور پہاڑ کا کنارہ آپ کو نظر آ رہا ہے۔۔۔اس نے دور ایک پہاڑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔اور ہم سب جی جی ہمیں نظر آ رہا ہے۔۔۔کہتے جاتے تھے۔۔۔بس وہی ٹلہ جوگیاں ہے۔۔۔لیکن اس کے لیے پہاڑ کے پیچھے کی طرف سے گھوم کر جانا پڑتا ہے۔۔۔اور وہ راستہ بھی بہت خراب ہے۔۔۔میرا مشورہ ہے کہ آپ لوگ آگے نہ جائیں۔۔۔اوراگر آپ لوگ جانا چاہتے ہیں تو جائیں ۔۔۔لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب آپ لوگ رات وہاں قیام کریں۔۔۔اور ہم میں سے کوئی بھی اس جنگل میں رات گزارنے پر تیار نہ تھا۔۔

            کیا ٹلہ جوگیاں کو جانے کے لیے اس کے علاوہ کوئی اور راستہ بھی ہے۔۔۔ہمارے لہجے میں اب مایوسی در آئی تھی۔۔۔نہیں یہی راستہ ہے۔۔۔ٹلہ جوگیاں پر جانے والے اسی راستے سے جاتے ہیں۔۔۔بس مشورہ ہے کہ اب کی بار آپ لوگ واپس چلے جائیں ۔۔۔اگلی دفعہ جلدی آئیے گا۔۔

            ہم اپنی منزل سے دو گھنٹے کی دوری پر تھے۔۔۔دور سامنے ٹلہ جوگیاں تھا۔۔۔اور ہم کسی شکست خوردہ کھلاڑی کی طرح سے تھے۔۔۔گردنیں جھکائے ہوئے۔۔۔کبھی ادھر دیکھتے اور کبھی ادھر۔۔۔لیکن اس لمحے ہمیں کوئی چیز بھی دلچسپ معلوم نہیں ہو رہی تھی۔۔۔حتیٰ کہ وہ موگلی گاﺅںبھی جہاں اس وقت ہم بیٹھے ہوئے تھے۔۔

            ہم چاروں ایک ساتھ ہی ان پتھروں پر سے اٹھے ۔۔۔آخری فیصلہ کیا کہ سمجھداری اسی میں ہے کہ واپس چلتے ہیں۔۔۔اگرچہ ہمارے جسم تھک چکے ہیں لیکن ہمارے ارادے ابھی مضبوط ہیں۔۔۔لیکن اب اندھیرا آہستہ آہستہ پھیل رہا ہے تو سمجھداری اسی میں ہے کہ واپس چلتے ہیں۔۔۔بس یہ فیصلہ کرنا تھا کہ ہم لوگوں کے قدم واپسی کے راستے پر اٹھنے لگے۔۔۔موگلی گاﺅں کے اس ادھیڑ عمر آدمی سے ہم نے واپسی کا راستہ معلوم کر لیا تھا۔۔۔آہنی ٹاور کے پاس بائیں طرف جانے والا راستہ ہم والہ گاﺅں کی طرف جاتا تھا ۔۔۔جو ہماری اگلی منزل تھا۔۔

            آہنی ٹاور کے پاس جب ہم دوراہے پر پہنچے ۔۔۔تو ہمارے سامنے زردی مائل سورج تھا جو پہاڑی کے پیچھے چھپ جانے کو تھا۔۔۔شاید وہ ہم سے شرمندہ تھا۔۔۔کہ اس روز جب ہم ٹلہ جوگیاں کو جاتے تھے اور وہ ڈوب جانے کی جلدی میں تھا۔۔۔کیا ہوتا اگر تھوڑی دیر کے لیے رک جاتا ۔۔۔بس اتنا کہ ہم ٹلہ جوگیاں سے ہو آتے۔۔۔ یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دن بھر کی مسافت کے بعد اس کا چہرہ بھی تھکن سے زرد پڑتا ہو۔۔

            پرانے راستے کو چھوڑ کر ہم لوگ بائیں طرف والے راستے پر ہو لیے جو ایک خطرناک اترائی میں بدلتا جا رہا تھا۔۔۔ہمیں موگلی گاﺅں کے باسیوں پر حیرت ہوتی تھی کہ وہ شہروں سے کٹ کر اتنی دور اس جنگل ویرانے میں آخر کیسے زندگی گزارتے ہیں۔۔۔آخر بنیادی ضرورتوں کے لیے انہیں نیچے آبادیوں کی طرف جانا تو پڑتا ہو گا۔۔۔ اور یہ کہ اپنے مریضوں کو ہسپتالوں تک کیسے لے جاتے ہوں گے۔۔۔یا پھر وہ اپنے بچوں کی تعلیم کا کیا بندوبست کرتے ہوں گے۔۔۔یہ سب سوال تھے جو ہمارے ذہنوں میں اٹھ رہے تھے۔۔۔ لیکن ان سوالوں کا جواب دینے والا کوئی نہیں تھا۔۔

            اس خطرناک اترائی پر جس میں جگہ جگہ برساتی پانی نے بڑے بڑے شگاف بنائے ہوئے تھے ۔۔۔ان شگافوں کو پھلانگتے ہوئے ہم نیچے کی طرف بڑھتے جا رہے تھے۔۔۔ٹلہ جوگیاں کی طرف اب ہمارے پشت تھی ۔۔۔اور ہم اس کی مخالف سمت میں جا رہے تھے۔۔۔راستے میں ایک برساتی نالی کے پاس جا کر ہم سب نے آخری بار ٹلہ جوگیاں کی طرف دیکھا۔۔۔اگرچہ ہم لوگ ٹلہ جوگیاں تک نہ پہنچ سکے تھے لیکن اس سفر میں جو ہم نے اس جنگل ویرانے میں کیا تھا کئی ایک حیرت زا مناظر ہماری آنکھوں میں نقش ہو گئے تھے۔۔۔ہم نے ایک بار پھر ٹلہ جوگیاں کی یاترا کا عہد کیا۔۔۔ اور پھر اس راستے پر ہو لیے جو ہمیں ہم والہ گاﺅں کی طرف لے جانے والا تھا۔۔۔تب رات ہو گئی تھی۔۔۔ اور ہم تھکن کے بوجھ تلے دب رہے تھے۔۔

یہ سرد رات یہ آوارگی یہ نیند کا بوجھ

ہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر چلے جاتے

            ہم اپنے شہر میں نہیں تھے اور ہمیں اپنے شہر میں آنا تھا۔۔۔لیکن ابھی اپنے شہر تک آنے میں بہت سا سفر باقی تھا۔۔۔اور یہ سفر ہمیں رات میں کرنا تھا۔۔

            لیکن راستے کا کیا ہے کٹ جائے گا۔۔۔رات کا کیا ہے بیت جائے گی۔۔۔زندگی کا کیا ہے وہ بھی گزر جائے گی۔۔

            خدا حافظ۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

سفرنامہ بھارت۔۔۔ حسن عباسی۔۔۔آخری قسط

سفر نامہ بھارت حسن عباسی             اُس آنکھ کا نشہ کافی ہے ممتاز محل کو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے