سر ورق / یاداشتیں / اردو کہانی کا سفر اُنیسویں قسط …اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر اُنیسویں قسط …اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر

اُنیسویں قسط

تحریر اعجاز احمد نواب

✍️✍️✍️✍️✍️یہ 1998 کی بات ہے جب میرے دل و دماغ پر ایک کہانی کا خاکہ اُبھرنے لگا کہ سانپوں کا جوڑا سو سال کی عمر پا کر انسانی روپ میں آ جاتا ہے ناگ کو لوگ مار ڈالتے ہیں اور ناگن اپنے ناگ کا انتقام لیتی ہے ۔ یہی کہانی کا ون لائن ہے۔ کہانی کافی عرصہ میرے ذہن میں پلتی رہی پھر میں ایک دن کاپی قلم لے کر بیٹھ گیا اور جو الفاظ دماغ میں اترتے گئے میں انہیں قلم کی وساطت سے کاغذ پر اتارنے لگا اور پہلا پیرا گراف لکھ ڈالا۔ کچھ دنوں بعد چند جملے اور لکھے اور پھر آہستہ آہستہ سلسلہ چل پڑا اور مجھے کچھ ہوش نہ رہا نہ کھانے پینے کا نہ پہننے کا لکھنا لکھنا اور لکھنا اس سے قبل مجھ سے اس طرح طوالت کے ساتھ لکھا نہ جاتا تھا لفظ اُمڈ رہے تھے لفظ بہہ رہے تھے اور پھر پورا ناول بن گیا۔ انتہائی کمزور تحریر، بے ربط سی کہانی اوکھے سوکھے بنا ڈالی۔ اور چونکہ پبلشر تو میں تھا ہی کتابت کروائی اور ذاکر سے ٹائٹل بنوایا اور چھاپ ڈالی۔ اللہ کا کرنا ہوا پہلا ایڈیشن ہاتھوں ہاتھ بک گیا۔ تقریباً 320 صفحات کا مکمل ناول تھا۔ جس کے آخر میں ناگن یعنی شکنتلا آگ میں جل کر مر جاتی ہے۔ بات ختم ہو گئی…. لیکن پھر اچانک….
✍️✍️✍️✍️✍️ ایک دن فون آتا ہے۔ آواز آئی میں شہزادہ عالمگیر بول رہا ہوں۔ خوفناک ڈائجسٹ کا ایڈیٹر ۔ علیک سلیک ہوئی۔ فرمانے لگے۔ آپ کا ایک ناول ہے، ناگن…. میں نے کہا جی ہاں۔ کہنے لگے خوفناک ڈائجسٹ میں قسط وار چلانا ہے اسے۔ میں نے کہا وہ تو ناول کی شکل میں چھپ چکا ہے۔ کہنے لگے کوئی بات نہیں سب چلتا ہے۔ ناول آپ کا میرے سامنے پڑا ہے۔ بس آپ کی اجازت کی ضرورت ہے۔ اگلے ماہ سے خوفناک ڈائجسٹ میں قسط وار چلا دوں گا۔ میں نے عرض کیا۔ حضور معاوضہ کیا دیں گے۔ فرمانے لگے۔ معاوضہ تو نہیں دیں گے البتہ خوفناک ڈائجسٹ میں چھپنے کے بعد آپ مشہور ہو جائیں گے یہی آپ کا معاوضہ ہے۔
میں نے عرض کی۔ معذرت چاہوں گا میری بڑی محنت ہوئی ہے بغیر معاوضے کے تو نہ دوں گا۔ بات ختم ہو گئی۔ وہ معاوضہ دینے پر رضامند نہ تھے اور میں بغیر معاوضے کے کہانی دینے پر راضی نہ تھا۔ بات آئی گئی ہو گئی۔
کچھ ہی دن گزرے کہ راولپنڈی کے ایک انتہائی مشہور اور کامیاب ترین نیوز ایجنٹ فیض محمد قریشی میرے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے کہ میں جواب عرض اور خوفناک ڈائجسٹ کا راولپنڈی اسلام آباد میں تقسیم کار ہوں۔ مجھے شہزادہ عالمگیر نے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ ناگن کہانی خوفناک ڈائجسٹ میں شائع کرنے کی اجازت دے دیں۔ فیض محمد قریشی…. اتحاد نیوز ایجنسی کے مالک تھے۔ اس زمانے میں سو کے لگ بھگ ڈائجسٹ، رسائل و اخبارات کے مقامی تقسیم کار تھے۔ نئے اُفق، نیا رُخ، آنچل، سیارہ، خوفناک، جواب عرض، عورت ڈائجسٹ کرکٹ میگزین، اخبارِ وطن تعلیم و تربیت اور بے شمار ان گنت رسائل ان کے پاس آتے تھے۔ ٹائم میگزین بھی شامل تھا۔ جبکہ اس سے کچھ عرصہ قبل مشہور اخبارات دی سن اور روزنامہ کوہستان کے ڈسٹری بیوٹر بھی تھے۔ آج کل اخبار مارکیٹ موتی پلازہ مری روڈ راولپنڈی میں ہے جبکہ اس زمانے میں یہ کالج روڈ (جہاں آج کل چائنہ مارکیٹ اور سیور فوڈز والے ہیں) پر تھی۔میں نے انہیں دست بستہ ساری صورت حال بتا دی اور عرض کیا کہ بغیر معاوضے کے ناگن نہیں دوں گا۔
فیض صاحب نے کہا کہ ایک ہزار روپے فی قسط مان رہے ہیں۔ تاہم میں نے بڑے ادب سے معذرت کر لی۔ لیکن کچھ ہی دنوں بعد پھر لاہور سے سلطان محمد تنولی صاحب کا فون آ گیا۔ یہ لاہور کی اخبار مارکیٹ جو اسپتال روڈ نزد لوہاری گیٹ پر واقع ہے، سلطان نیوز ایجنسی کے نام سے (تاحال) کام کرتے ہیں۔، سلطان صاحب سے بھائیوں جیسا تعلق تھا۔ انتہائی زندہ دل، ہنس مکھ انسان۔ انہوں نے کہا کہ یار ناگن خوفناک ڈائجسٹ کو چھاپنے دو۔ میں نے پھر اپنی بات بتائی تو پیار سے ڈانٹ کر کہنے لگے : او چھڈ یار…. اعجاز تیرے کول پیسے دی کمی اے…. او توں میرے کولوں لے لئیں۔
میں نے عرض کی کہ میرا لاہور آنے کا پروگرام ہے۔ فلاں دن آوں گا۔ کہنے لگے دوپہر کا کھانا میرے ساتھ کھانا ہے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ میں ایک بجے دن انشاءاللہ آپ کے آفس میں آ جاؤں گا۔
✍️وقت مقررہ مذکورہ دن جب میں اخبار مارکیٹ پہنچا تو پہلے سے شہزادہ عالمگیر، سلطان صاحب کے آفس میں تشریف فرما تھے۔ گپ شپ ہوئی، کھانا کھایا، چائے پی اور دورانِ چائے سلطان صاحب فرمانے لگے۔ او کِنے پیسے فی قسط منگنا ایں توں بھئی۔ میں نے عرض کی جناب 4000 روپے۔ عالمگیر صاحب فرمانے لگے۔ یہ تو بہت مشکل ہے۔
میں فیصلہ کر دیاں….؟ سلطان صاحب ثالث بن کر بولے۔ میں نے کہا جو مزاجِ یار میں آئے۔ کہنے لگے دو ہزار روپیہ فی قسط ڈن ہو گئی۔ ان کی فیصلہ کْن بات سن کر شہزادہ عالمگیر صاحب نے بھی حامی بھر لی اور میں نے بھی سر تسلیمِ خم کر دیا۔ طے یہ پایا کہ ہر قسط کا معاوضہ خوفناک ڈائجسٹ راولپنڈی کے ڈسٹری بیوٹر فیض محمد قریشی (اتحاد نیوز ایجنسی) سے مل جایا کرے گا۔
اور پھر اس معاہدے پر بہ احسن و خوبی عملدرآمد ہوتا رہا۔ غالباً سات آٹھ قسطیں بنی ہوں گی۔ لیکن جب چوتھی یا پانچویں قسط تک خوفناک ڈائجسٹ میں چھپی تو…. خطوط میں بہت زیادہ پسندیدگی کا اظہار کیا گیا تو شہزادہ عالمگیر صاحب کا فون آ گیا کہ ناگن کو آگے بڑھایا جائے۔، میں نے عرض کی کہ یہ تو مکمل ناول ہے۔ کہنے لگے۔ بڑھا دو بھئی ڈیمانڈ اینڈ سپلائی۔ میں نے کہا حضور ناگ تو پہلی دوسری قسط میں مر گیا ہے اور ناگن آخری سطروں میں جا کر مر جاتی ہے آگ میں جلا دی جاتی ہے۔ اب آگے کیسے بڑھاؤں؟؟
تو کہنے لگے۔ یہ تمہارا کام ہے میرا نہیں۔ بس آگے کی قسطیں لکھو اور دوبارہ زندہ دکھا دو۔ تو جناب میں نے دوبارہ کمر کسی …. لیکن کچھ سمجھ نہ آیا…. بلکہ سمجھ دانی پٹ پٹا اُٹھی۔ لکھنے کا تجربہ ہی نہ تھا۔ پھر کچھ سوچ کر میں نے وی سی آر پر سانپ کے موضوع پر فلمیں دیکھنی شروع کر دیں۔ ناگن، ناچے ناگ، ناگ اور منی اور بے شمار لولی وڈ بولی وڈ ہولی وڈ فلمیں دیکھتا چلا گیا۔ کتابیں ناول کھنگالتا چلا گیا جہاں کہیں سپیرا بین بجا کر سانپ کا تماشہ دکھا رہا ہوتا میرے قدم بھی وہیں جم جاتے، مختلف انسائیکلوپیڈیاز میں سانپوں کے متعلق معلوماتی مضامین تلاش کرتا چلا گیا…… اور پھر ذہن کے بند دریچے پٹ پٹ وا ہونے لگے۔ دماغ کی بند کھڑکیاں ٹکاٹک کھلتی چلی گئیں اور ناگن پارٹ ٹو صفحہ قرطاس پر بکھرنے لگا۔
آخرکار دو قسطیں ناگن کی مزید تیار کر کے ایک دن لاہور جانا ہوا تو جواب عرض، خوفناک ڈائجسٹ کے دفتر ماڈل ٹاؤن (شاید) پہنچ گیا۔ شہزادہ عالمگیر صاحب موجود تھے۔ لیکن اب پھر پھڈہ پڑ گیا۔ میں نے کہا کہ دو ہزار فی قسط تو چھپی ہوئی کتاب کا معاوضہ تھا۔ یہ تو میں نے نئے سرے سے آپ کی فرمائش پر لکھی ہیں اس کا معاوضہ زیادہ ہونا چاہیے۔ مگر وہ نہ مانے اور نہ میں مانا۔ لہٰذا بات نہ بنی اور میں مسودہ واپس لے کر آ گیا۔
✍️✍️✍️✍️✍️یہاں یہ امر قابلِ ضبطِ تحریر ہے کہ شہزادہ عالمگیر وہ شخص ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ اپنے ذاتی ڈائجسٹ رسائل جرائد کی ادارت کی یعنی مدیر و ناشر خود تھے۔ میں نہیں سمجھتا کہ شہزادہ عالمگیر کے علاوہ کوئی اور بھی اس بات کا دعویٰ کر سکتا ہو گو میرے علم میں نہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کتنے رسالے نکالے مجھے نام یاد نہیں لیکن اتنا میں کہہ سکتا ہوں کہ بیس سے زیادہ ماہنامے ان کے کریڈٹ پر ضرور ہوں گے۔ میرا ان سے زیادہ واسطہ نہیں رہا لیکن چونکہ ہم رسالوں وغیرہ کے ہول سیلرز ہیں اس ناتے مجھے ادراک ہے کہ جتنے رسالے انہوں نے نکالے شاید ہی کسی اور نے نکالے ہوں۰ جب پاکستان کی فلم انڈسٹری عروج پر تھی اس وقت فلمی رسالوں پر بھی بہار تھی۔ ایک شمع لاہور تھا ایک شمع کراچی سے نکلتا تھا۔ رومان…

 

 

سعید امرت کراچی سے نکالتے تھے۔ ایم اے زاہد کا چترالی، شاہجہاں صاحب کا روبی، ایک نقاش فلمی رسالہ تھا۔ فلمی اخبارات میں نگار، نورجہاں، سنگھم، ہدایتکار شباب کیرانوی ڈائریکٹر کے نام سے فلمی رسالہ نکالتے تھے۔ تمام قومی اخبارات بھی فلمی ایڈلیشن شائع کرتے تھے۔ کراچی ،لاہور سے ان گنت بے شمار فلمی رسالے چھپتے تھے۔ ایسے مجھے یاد ہے کہ ستر کے سالوں میں ہفت روزہ فلمی میگزین بہت زیادہ ہوتے تھے۔ یہ بڑے اخبار جہاں سائز میں پچاس ساٹھ صفحات پر مشتمل ہوتے اُجالا، ممتاز اور شہزادہ عالمگیر کا مصور ۔ مصور ان دنوں سب سے پاپولر فلمی رسالہ تھا۔ ڈیڑھ دو روپے قیمت تھی اس کی،، اس کے بعد شہزادہ عالمگیر نے ایک فلمی میگزین فن کار کے نام سے بھی نکالا۔ انہوں نے جواب عرض کے نام سے ڈائجسٹ نکالا جو بہت زیادہ کام یاب ہوا۔ اس میں زندگی سے قریب تر کہانیاں، واقعات کی شکل میں ہوتیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شعر و شاعری، قلمی دوستی کے کالم ہوتے۔ پھر انہی شہزادہ عالمگیر کی ادارت میں ماہنامہ سچے واقعات شروع ہوا۔ یہ بھی کام یاب تھا۔ عورتوں کے لیے عورت ڈائجسٹ کا اجرا کیا۔ ایک سپورٹس میگزین بھی جیسے کرکٹر وغیرہ تھے۔ اس کا نامہ ماہنامہ کرکٹ تھا۔ خوفناک کہانیوں کا پہلا ڈائجسٹ خوفناک ڈائجسٹ بھی انہی کا تھا، بچوں کے محاذ کی بات کریں تو بچوں کی دنیا سائز کا رسالہ ”جاسوس بھوت“ کے نام سے بھی کافی عرصہ شہزادہ عالمگیر بچوں کا رسالہ چھاپتے رہے۔ آئندہ کبھی میں مزید تحقیق کے بعد ان کے اور رسائل کے نام بھی دوستوں کو بتاؤں گا انشاءاللہ…
✍️✍️✍️✍️✍️یہ عین وہی دن تھے جب مجھے ماہ نامہ مسٹر میگزین جس کے ڈیکلریشن کے حصول کے لیے میں کئی سالوں سے مارا مارا پھر رہا تھا، اس کا ڈیکلریشن (اشاعت کا سرکاری اجازت نامہ) مل گیا۔
اب میں نے سوچا کہ ناگن کو اپنے ڈائجسٹ میں قسط وار چلائیں گے لہٰذا اپریل 2000سے ناگن مسٹر میگزین ڈائجسٹ میں سلسلہ وار کہانی کے طور پر چلنے لگی۔ 2002 میں اچانک مسٹر میگزین مالی وجوہات کی بنا پر بریک ہو گیا…. تو ناگن کی قسط بھی بند ہو گئی۔ ایک ماہ ہی گزرا تھا کہ ایک دن اچانک برادرم محمد خالد صاحب مدیراعلیٰ ڈر ڈائجسٹ کراچی تشریف لائے اور میرے آفس آ گئے اور ناگن کو اپنے ساتھ ڈر ڈائجسٹ میں کراچی لے جانے کا اعلان کر دیا۔ اب خالد صاحب کو تو انکار ممکن ہی نہیں تھا۔ ان سے عشروں پرانا برادرانہ تعلق تھا اور انشاءاللہ رہے گا۔ یہ جب کبھی پنڈی آتے ہیں تو میرے مہمان اور ہم جب کراچی جائیں تو ان کے مہمان۔ بنیادی طور پر ان کا تعلق فیصل آباد سے ہے، پکے پنجابی، شمع بک ایجنسی کراچی کے نام سے پبلشنگ بھی کرتے ہیں۔ جو ان کا بیٹا بشارت سنبھالتا ہے۔ بشارت کی شادی پر بھی میں کراچی گیا تھا۔ ان کے ایک بھائی محمد آصف سٹی بک پوائنٹ کے نام سے اشاعتی ادارہ چلاتے ہیں اور نفسیات، تنقید، ادب اور تراجم کا لامتناہی سلسلہ ہے کتابیں چھاپنے کا ان کا۔ 2006 میں مَیں ایک بار کراچی گیا تو میری ایک بیٹی بھی (عمر 10 سال) میرے ساتھ تھی اور جاوید اقبال چٹھہ سیلز آفیسر بھی میرے ہمراہ تھے تو خالد صاحب نے ہمیں بتائے بغیر ہمارا سامان اپنی گاڑی میں رکھوا دیا کہ کہیں نہیں جا سکتے۔ رات میرے گھر رہنا ہے۔ دہلی کالونی میں انہوں نے نیا گھر تعمیر کیا تھا۔ جس میں ابھی خود بھی منتقل نہیں ہوئے تھے۔ ہاں سامان وغیرہ آ چکا تھا۔ نئے بیڈ، نئے بستر نئے ساز و سامان کے ساتھ۔ خالد صاحب ہمیں اپنے گھر لے گئے۔ کہنے لگے۔ہم نے اس گھر میں کل شفٹ ہونا ہے لیکن آج آپ یہاں قیام کر کے اس کا افتتاح کریں۔
غرضیکہ خالد صاحب ایڈیٹر ڈر ڈائجسٹ (بچوں کا میگزان، اس سے قبل ایک رسالہ فکشن اور خواتین کا ڈائجسٹ صائمہ کے نام سے بھی نکالتے رہے) وہ فرمانے لگے کہ ناگن اب ڈر ڈائجسٹ میں چھپے گی۔ اور پھر چھپتی رہی لگ بھگ 12 اقساط چھپیں اسی دوران میں نے پھر مسٹر میگزین شروع کر دیا لیکن ناگن وہاں چھپتی رہی۔ 12 اقساط کا معاہدہ ختم ہوا تو ناگن ایک بار پھر مسٹر میگزین واپس اپنے گھر آ گئی۔ اس کی مقبولیت میں دن بدن اضافہ ہی ہو رہا تھا۔ آخر کار مالی مسائل کے باعث مجھے اس وقت مسٹر میگزین بند کر دینا پڑا جب اس کی اشاعت پانچ ہزار کو کراس کر رہی تھی حالانکہ اس وقت مسٹر میگزین نفع بخش تھا لیکن میرے دفتر کے اخراجات بہت زیادہ تھے، لہٰذا دل پر پتھر رکھ کر میں نے ہمیشہ کے لیے میگزین کو بند کر دیا اور یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا ڈائجسٹ تھا جس میں پہلے صفحے پر واضح طور پر لکھا تھا کہ یہ آخری شمارہ ہے اس کے بعد نہیں چھپے گا۔ اگر ایسی کوئی اور مثال ہے تو پیش کیجئے۔ ✍️مسٹر میگزین نے مجھے بہت سے مصنفین سے ملایا جن میں ایم اے راحت، انوار صدیقی، اقبال کاظمی، شمیم نوید، محمد سلیم اختر، خاقان ساجد، محمد الیاس، شہاب شیخ، ساحر جمیل سید، ایم ایس قادری، صفدر شاہین، عمران قریشی۔ ارشاد العصر جعفری وغیرہ وغیرہ، مسٹر میگزین میں بیک وقت تین سلسلے وار کہانیاں، ایک تاریخی کہانی اور کم از کم دو تراجم چھپتے تھے۔ مشقِ سخن کے نام سے نئے شعراءکو شاعری کی کلاسز بھی دی جاتی تھیں۔ ہر ماہ ایک شاعر کا تعارف اور اس کا کلام بھی ہوتا۔ غرضیکہ بہت کچھ تھا۔ چند ایک ہی چیزوں کی تصویریں جھلکیاں، اسی پوسٹ میں آپ کو نظر آ رہی ہیں۔ پھر کافی عرصہ گزرنے کے بعد ایک دن ماہ نامہ سچی کہانیاں کے مدیر کاشی چوہان کا پیغام بہ زبان محمد سلیم اختر ملا کہ ناگن کو سچی کہانیاں میں ازسرِ نو سلسلہ وار چلانا چاہتے ہیں یہ شاید 2012 /2013 کی بات ہے۔ سال بھر دوبارہ ناگن ماہنامہ سچی کہانیاں سے چھپتی رہی۔ اسی ادارے سے ماہ نامہ دوشیزہ بھی شائع ہوتا ہے جن کے مدیر اعلےٰ پہلے سہام مرزا تھے اور اب منزہ سہام ہیں۔ کچھ عرصہ قبل منزہ سہام صاحبہ سے نئے جزیرہ کو سچی کہانیاں میں شائع کرنے کے حوالے سے ایک دو بار فون پر بات ہوئی تھی لیکن یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔
✍️یہ سوال اکثر مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ پہلا ناول تو آپ نے سات لاکھ الفاظ پر مشتمل ناگن لکھا اور اس کے کافی عرصہ بعد آشیانہ آیا۔ پھر جزیرہ کا اعلان ہوا اور وہ تاحال نہ چھپ سکا جب کہ سالہا سال گزر گئے اس کی کیا وجہ ہے؟درونِ خانہ اس کی بہت سی وجوہات ہیں، بڑی وجہ یہ ہے کہ.. میں خود ایک اچھی اشاعت والے ڈائجسٹ کا مالک و مدیر رہا ہوں جس میں اپنے وقت کے مشہور اور بڑے نام چھپتے تھے، سب سے بڑے آرٹسٹ ذاکر صاحب کا سرورق ہوتا تھا، مسٹر میگزین کی کہانیوں کے اسکیچز گلزار شاہد آرٹسٹ بناتے تھے جو کسی زمانے میں ایچ اقبال کے الف لیلہ ڈائجسٹ کے ساتھ تھے، لہذا مسٹر میگزین بند ہونے کے بعد مجھے اپنی کہانی کسی ایڈیٹر کی خدمت میں پیش کرنا گوارا نہ رہا، جبکہ قلم کو خارش تو رہتی تھی، لہذا کچھ عرصہ میں تصنیف و تالیف کا کام کرتا رہا ایک کتاب سو عظیم مسلمان تالیف کی جنرل نالج کی ایک ضخیم کتاب اسلامی جمہوریہ پاکستان اور ایک سو نام ور پاکستانی یہی وجہ ہے کہ… مسٹر میگزین بند ہونے کے کافی عرصہ بعد تک میں ناگن کے بعد کوئی ناول نہ لکھ پایا، اور آشیانہ لکھی اور وہ بھی کسی ڈائجسٹ کو بھیجنے کے بجائے خود شائع کردی، اب کافی عرصہ سے جزیرہ تیار ہے، ہاں اس دوران جب میں رہ نہ سکا، تو چپکے چپکے ایک قلمی نام شازیہ اعجاز شازی کے نام سے خواتین کے جرائد میں لکھتا رہا، یہ کوئی 2010 سے 2012 کا دورانیہ تھا تقریباً دس مختلف ڈائجسٹ و رسائل میں شازیہ اعجاز شازی کے نام سے کہانیاں چھپتی رہیں، جن میں ریشم شمع ڈائجسٹ فیشن میگ آنچل شعاع اور بھی بے شمار تھے پھر کسی وقت کسی ان کہانیوں کی تفصیلات پیش کروں گا، تیس سے زیادہ کہانیاں چھپیں اور پیسے صرف آنچل اور شعاع سے ملے، شعاع میں پہلی کہانی تھی چاہت کا درخت صرف تین صفحات کا افسانہ جس ماہ یہ شائع ہوئی اگلے ماہ کے شعاع میں قارئین کے خطوط میں اس افسانے کی اس قدر تعریف ہوئی، کہ مدیرہ صاحبہ نے ایک جگہ باقاعدہ نام لے کر اعلان کے انداز میں لکھا کہ شازیہ اعجاز شازی آپ شعاع یا خواتین ڈائجسٹ کے لئے کوئی طویل سلسلہ وار کہانی لکھیں، ہے کوئی ایسی مصنفہ جس کی پہلی کہانی شعاع میں تین صفحات کی چھپے اور پہلی ہی کہانی کے بعد شعاع سے پیشکش آجائے، آئندہ کسی وقت اس حوالے سے لکھوں گا میرے پاس ریکارڈ موجود ہے، تو جناب یہ تھیں وہ وجوہات جن کی بنا پر میں زیادہ تعداد میں ناول یا سلسلہ وار کہانیاں نہیں لکھ پایا، اور شاید آئندہ بھی ایسا ہی رہے،
✍️ اردو کہانی کا سفر بھی آج سے سات سال پیشتر روزنامہ مشرق لاہور کے سنڈے میگزین کے صفحہ اول پر سلسلہ وار شائع ہوتا رہا ہے، شاید پندرہ سترہ اقساط شائع ہوا تھا، مزید آگے بڑھ سکتا تھا، تاہم میں ہی ہر ہفتے باقائدگی سے بروقت قسط نہ لکھ سکا اور پھر رہتے رہتے یہ سلسلہ بند ہو گیا تھا، اور اب پھر فیس بک سے شروع کیا ہے،
✍️✍️✍️✍️✍️ گزشتہ ہفتہ اس حوالے سے دلچسپ رہا، کہ کئی ایک لکھنے والوں سے رابطہ اور ملاقاتیں رہیں، معروف مصنف.. امجد جاوید صاحب سے کئی بار فون پر بات رہی، ارشاد العصر جعفری صاحب کی کسی کتاب کو ایوارڈ ملا اس سلسلے میں اسلام آباد آئے ہوئے تھے، مجھ سے وہ اور میں بھی ان سے ملاقات کا خواہاں تھا، لیکن جس وقت ان کا فون آیا اس وقت.. وقت بھی عصر کا تھا، اور چھٹی کا دن ہونے کی وجہ سے میں گھر پر تھا، وہ بلیو ایریا اسلام آباد میں تھے، فاصلہ اِن بِٹ وِین اکتالیس کلو میٹر کا تھا، یعنی دوطرفہ 82کلومیٹر تھا، نہ آسکے مجھے یاد ہے جب ارشاد العصر جعفری صاحب مسٹر میگزین میں لکھتے تھے تب بھی وہ پنڈی آئے تھے لیکن میں موجود نہ تھا، ملاقات نہ ہو سکی
✍️دیکھیں کب ہوتی ہے، فیصل آباد سے بچوں کے ہر دلعزیز مصنف طارق محمود عدنان( ڈی ایس پی) بطور خاص ملنے آئے ظہرانہ کیا تیس کتابوں کے مصنف ہیں آئندہ کبھی ان کا تفصیلی تعارف پیش کیا جائے گا،
✍️ طاہر جاوید مغل صاحب کے نام سے کون واقف نہیں، ڈائجسٹوں کی دنیا کا بہہہہہہت بڑا نام گزشت دنوں ان سے فون پر بات ہوئی اردو کہانی کا سفر کے لئے انٹرویو کی استدعا کی جو انہوں نے بخوشی قبول کر لی، دیکھیں کب یہ معرکہ سر ہوتا ہے، قارئین میں سے کسی نے ان سے کچھ پوچھنا ہو تو کمنٹ میں بتائیے گا ضرور…..
✍️✍️✍️✍️✍️سسپنس ڈائجسٹ کے مسلسل 22برس تک مدیر رہنے والے محترم انور فراز تین دن سے راولپنڈی میں ہیں، پرسوں آفس تشریف لائے دوگھنٹے گپ شپ رہی، آج بروز جمعہ انہیں لنچ پر گھر پر مدعو کیا ہے، لیکن ابھی کچھ دیر قبل( اس وقت جمعہ کی صبح چاربجے کا وقت ہے) ایک فون پر پتہ چلا کہ میرے سینئر ترین آفس ورکر رضوان فیروز چغتائی کی والدہ ہارٹ اٹیک سے وفات پا گئی ہیں، یہ بچہ سترہ سال کی عمر سے میرے آفس میں کام کر رہا ہے، اس وقت اس کے اپنے بچے میٹرک لیول پر ہیں، یعنی یہ جس وقت میرے ہاں بھرتی ہوا اس وقت میری شادی کو دو مہینے ہوئے تھے، ابھی پچھلے دنوں شادی کی چھبیسویں سالگرہ منائی، یعنی رضوان کو میرے ساتھ 26 برس نان سٹاپ سروس کرتے ہو گئے ہیں، اس کی والدہ فوت ہو گئی ہے دو بجے جنازہ ہے میرا جانا بہت ضروری ہے، اب انتظار ہے کہ صبح ہو جائے تو انور فراز صاحب کو فون کر کے معزرت کر لوں یا پھر. ممکن ہو تو متبادل وقت لے لوں….

(جاری ہے)
بہ احترامات فراواں
اعجاز احمد نواب
……
……
……
……
……
……
مدیران ناشران تاجرانِ کتب نیوزایجنٹ مصنفین اور قارئین کی مشترکہ غیر ادبی بیٹھک، ایک ہزار داستان اک طلسمِ ہوش رُبا، ناولوں کی باتیں ڈائجسٹوں کی باتیں، یادداشتوں کی پھٹی پرانی کتاب سے منتخب قصے کہانیاں
اردو کہانی کا سفر ابھی جاری ہے بقیہ واقعات کے لئے انتظار فرمائئے قسط نمبر 20کا انشاءاللہ جمعرات رات دس بجے انشاءاللہ
……
……
……
……
……
مطالعہ اردو اور کتاب کے فروغ میں اس مراسلے کا اشتراک (شیئر) ضرور کیجئے اور اپنے تاثرات( کمنٹس) سے ضرور آگاہ کیجئے کہ آپ نے اردو کہانی کا سفر کو کیسا پایا
اور اس میں مزید کیا شامل ہونا چاہیے،، چاہت کا درخت شازیہ اعجاز شازی ( قلمی نام) ماہنامہ شعاع میں شائع ہونے والا افسانہ
"بات یہ نہیں ہے امی! ہر دور کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں اس دور میں کہا جاتاہے کہ بچے دو ہی اچھے تو کچھ غلط نہیں ہے ۔ وقت ہی ایسا ہے ۔ غریب انسان کو روٹیاں بھی گن گن کر کھانی پڑتی ہیں۔ ابو نے ہمیں پال تو لیا لیکن اب ہم ان کی آنکھوں میں کھٹکنے لگے ہیں ۔
ایسی بات نہیں ہے اقبال! کہنا اچھا تو نہیں لگتا لیکن ماں باپ کے حالات اچھے نہ ہوں تو ان کی نظریں بیٹوں ہی کا سہارا تلاش کرتی ہیں اور اگر بیٹے اس بات پر غور ہی نہ کریں تو جھنجلاہٹ پیدا ہو ہی جاتی ہے ۔
طاہر نوکر ہو گیا تو اس کی عزت اور ہم نکھٹو حرام خور اور نہ جانے کیا کیا۔ اب تو پڑوسی بھی ان ہی ناموں سے مخاطب کرنے لگے ہیں ۔

تو کان ہی نہ دھرا کسی کی باتوں پر

ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ ۔ اقبال افسردہ سی ہنسی کے ساتھ بولا اور گھر سے باہر نکل گیا۔

مرزانعیم بیگ کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ وہ ریلوے ورک شاپ میں بوائلر پر کام کرتے تھے ۔نان میٹرک تھے۔ اس لئے کبھی ترقی نہیں ہوئی۔البتہ قدرت نے اچھی صحت عطا کی تھی،اس لیے بوائلر جھونک رہے تھے۔،شاید زندگی بھر کی سخت محنت سے اکتا گئے تھے ۔ اس لئے مزاج شدید چڑچڑا ہو گیا تھا ہر وقت بکتے جھکتے رہتے۔ اتفاق سے اقبال ہی ان کا زیادہ نشانہ رہتا۔ بغیر کسی خاص وجہ وہ زیادہ تر اسے ہی برا بھلا کہتے تھے۔بیٹوں میںاس کا دوسرا نمبر تھا۔ طاہر سب سے بڑا تھا ابھی کچھ دن پہلے اسے آٹا پسنے والی چکی پر نوکری ملی تھی ۔ آٹھ سو روپے تنخوا دوپہر کا کھانا بس۔
لیکن غنیمت تھا،آمدنی مین ٹانکا تو تھا،مرزا صاحب اس کی طرف سے کچھ نرم ہو گئے تھے۔

بات غیرت جاگنے کی ہے ریلوے لائن پر کوڑا چننے والے بھی انسان ہی ہوتے ہیں ۔ جن کے خون میں غیرت ہی نہ ہو ،وہ کیا کرے اور کیوں کرے؟ اب تو لوگ یہاںتک کہنے لگے ہیں کہ مرزا جی محنت مزدوری میں کیا برائی ہے۔بچیوں کو گھروں میں کام کاج کے لئے نکالو،اچھے خاصے دن پھر جائیں گے۔ کیا کہتے ہو تم بہنوں کو گھروں میں کام کے لئے بھیجو گے۔مرزا صاحب طنز بھرے لہجے میں بولے۔
اقبال گردن جھکا کر خاموش ہو جاتا کیا کرتا کو ئی کام ہی نہیں مل رہا تھا۔میٹرک پاس تک نہیں تھا۔قلی گیری بھی نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی عمر ہی کیا تھی۔ عجیب بے کسی کی زندگی گزر رہی تھی۔اس وقت بھی مرزا صاحب کوارٹر کے پچھواڑے آ گئے۔ وہ درخت کی چھاوں کے نیچے بیٹھا خلا میں گھور رہا تھا۔
سبحان اللہ شاید شعر و شاعری ہو رہی ہے اچھا کام ہے۔
نہیں ابو ،وہ۔۔۔ اقبال جلدی سے کھڑا ہو گیا ۔مصروف رہو مصروف زندگی اسی طرح بنتی ہے۔ گھر بار موجود ہے اللہ دے کھانے کو تو بلا جائے کمانے کو۔
پڑوس کے کلیم اللہ قریب سے گزرے اور باپ بیٹے کو دیکھ کر رک گئے۔مرزا صاحب نے انھیں دیکھ کر کہا۔
کلیم بھائی! آٹا کیا کلو ہے آج کل؟؟
پینتیس روپے کلو؟ ایک جوان بندہ تین وقت مین کتنا کھا جاتا ہے؟
کم سے کم آدھا کلو۔ سترہ روپے پچاس پیسے کا صرف آٹا توبہ میرے مولا۔
کیا ہو مرزا صاحب کیا حساب ہو رہا ہے ۔کچھ نہین آیئے۔ مرزا صاحب کلیم اللہ صاحب کے ساتھ آگے بڑھ گئے۔ وہ پتھرائی ہوئی نظروں سے انھیں دیکھتا رہا پھر اس کی نظریں اختر اور وقار کی طرف اٹھ گئیں۔سال سال بھر کی چھوٹائی بڑائی تھی چاروں بھائیوں میں لیکن مرزا صاحب باقی کسی کو کچھ نہیں کہتے تھے۔
اس وقت وہ دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیل رہے تھے۔مرزا صاحب آرام سے ان کے پاس سے گزر گئے۔
میں اپنے ماں باپ اور ان کے حالات سے بے خبر تو نہیں ہوں۔کوشش بھی کر رہا ہوں تقدیر ساتھ نہیں دے رہی یہ الگ بات ہے لیکن ابو۔۔۔ صرف مجھے برا بھلا کہتے ہیں۔صرف مجھے گھر بھر میں ان کی سب سے ناپسندیدہ شخصیت میں ہوں،صرف میں۔ اس کی کیا وجہ ہے امی۔
بے وقوف ہو تم ماں باپ کی نظروں میں کسی اولاد کے لئے کبھی فرق نہیں ہوتا۔
ہوتا ہے امی ہوتا ہے۔
بس وہی پرانی بات ہے۔ اولاد کے دل میں اللہ جانے کیا کیاخیالات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ اصل بات اسی وقت پتہ چلتی ہے جب وہ خود صاحب اولاد ہوتے ہیںمگر افسوس اس وقت ماں باپ دنیا سے جا چکے ہوتے ہیں۔یہ ان کی بد قسمتی ہے امی نے کہا۔
نہیں امی آپ کچھ بھی کہیں ابو مجھ سے چڑے ہوئے ہیں ۔میں کیا کروں میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا۔

یہ رات جاگتے ہوئے گزری تھی۔ اسکے دل پر کچھ زیادہ ہی اثر ہو گیا تھا۔دنیا کے طعنے تشنے۔ابو کا برا بھلا کہنا اس کی کوششیں۔محدود سی زندگی تھی۔کیا کرتا،کیا نہ کرتا۔ باپ نے ساری زندگی ریلوے کی ملازمت میں گزار دی تھی۔ یہ کوارٹر ریلوے کی طرف سے ملا ہو اتھا۔ چھوٹی سی زندگی تھی۔ کچھ بھی نہیں دیکھا زندگی میں ۔ باپ کی طرف سے یہ احساس اس کے دل میں شدید ہوتا جارہا تھا۔ کہ وہ گھر کی سب سے ناپسندیدہ شخصیت ہے۔ اس دن یہ بحران اس کے دل میں شدت اختیار کر گیا تھا۔سارا دن ساری رات گزر گئی۔آج اس نے پیٹ بھر کر کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔ دوسرا دن بھی اسی احساس میں گزرا اور آخر سوچ سوچ کر صرف ایک خیال ذہن میں جڑ پکڑتا چلا گیا کہ وہ گھر کی سب سے ناپسندیدہ شخصیت ہے، تب اس نے ایک خط لکھا۔
پیاری امی جان!
پیارے ابو جان!
آپ اور میرے گھر کے دوسرے لوگ جو مجھے بہت پیارے ہیں۔ لیکن ابو یہ ایسی بات ہے اور میری سمجھ میں بالکل نہیں آ رہی ہے کہ ایسا کیوں ہے۔ ابو! بے شک کھاتا پیتا میں بھی ہوںاور دوسرے بھی لیکن سارے طعنے مجھے ہی کیوں دیے جاتے ہیں ۔ امی کہتی ہیں، ایسی کوئی بات نہیں لیکن میرا خیال ہے کہ ایسی ہی بات ہے۔
ابو ! میں یہ گھر چھوڑ کر جارہا ہوں۔ میں نہیں جانتا مجھے دنیا مجھے اپنے درمیان جگہ دے گی یا نہیں۔ اگر دنیا نے مجھے اپنے درمیان جگہ دے دی اور میں کچھ کر سکا تو آپ سے دور رہ کر آپ کی خدمت کروں گا۔ آپ کے دل میں یہ احساس جگانے واپس نہیں آؤں گا کہ آپکا نکھٹو بیٹا پھر آپ کے درمیان آ گیا۔ہاں جو خدمت مجھ پر فرض ہے وہ میں ضرور سر انجام دوں گا میں نہیں جانتا کہ میں کہاں جا رہا ہوں ۔البتہ ایک خیال میرے دل میں آتا ہے آپ سب کو چھوڑنا کم ازکم مجھے تو اچھا نہیں لگ رہا لیکن آپ نے کلیم اللہ صاحب سے کہا تھا کہ میں دن میں آدھا کلو آٹا ہی کھا جاتا ہوں جو ساڑھے سترہ روپے کا بنتا ہے۔ ابو! آج سے آپکو کم ازکم ساڑھے سترہ روپے روزانہ کی بچت تو ہو ہی جائے گی۔ میں دیکھوں گا دنیا میرے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے۔
ابو! آج کا دن اور تاریخ نوٹ کر لیجئے۔ پورے چھ مہینے کے بعد میں ٹرین میں بیٹھ کرریلوے کالونی میں اپنے گھر کے پچھواڑے سے گزروں گا۔ سکھ چین وہ درخت جس کا میرےبچپن سے رابطہ ہے میرے لئے ماں کی گود کی طرح تھا۔اور اب بھی ابو! چھ مہینے کے بعد مین جب ٹرین میں بیٹھ کر ادھر سے گزروں گا تو سکھ چین کےاس درخت کوضرور دیکھوں گا ۔ابو! اگر آپ کو یہ احساس ہو کہ میرے چلے جانے سے آپ کو کوئی دکھ ہوا ہے اور آپ مجھے واپس بلانا چاہتے ہیں تو اس درخت پر سامنے کی سمت سفید رنگ کا ایک کپڑا باندھ دیجئے گا اگر میں نے اس درخت پر سفید کپڑا بندھا ہو ا دیکھا تو میں سمجھوں گا کہ آپکو میری ضرورت ہے اور میں واپس آجاوں گا اور یہ کپڑا نہ بندھا ہوا تو آپ صرف لوگوں سے یہ کہیے گا کہ آپ کے صرف تین بیٹے تھے ۔خدا حافظ
یہ خط لکھ کر اس نے اپنی چارپائی کے سرہانے رکھا اور جو دو تین جوڑے کپڑے اس کے پاس تھے وہ لے کر باہر نکل آیا پھر سب سے پہلے جو ٹرین اسے نظر آئی اس میں بیٹھ کر چل پڑا۔ زندگی نے بہت سے الٹ پھیر دکھائے۔جانے کہاں کہاں سے گزرا ۔دنیا نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ کبھی کچھ کھانے کو ملا کبھی نہ ملا۔تھوڑی بہت جمع جتھا کیا ،لاکھوں روپے کمانے کی آرزو لے کرتو ہر نوجوان گھر سے نکلتا ہے۔کچھ المیوں کا شکا ر ہو جاتے ہیں۔ کچھ تھوڑی بہت کامیابی حاصل کر لیتےہیں۔ ،وہ کامیابی تو اسے نہیں حاصل ہو سکی لیکن ایک آرزو ایک امید ایک احساس کچھ تھوڑے سے اثاثوں کے ساتھ اسے وقت گزارنے پر مجبور کرتا رہا۔
ایک ایک دن گنا تھا اس نے اور یہ چھ مہینے چھ صدیوں کی طرح گزرے تھے۔گھر یاد آتا تھا۔ ماں باپ یاد آتے تھے۔ لیکن ایک انا راستہ روکے رہتی تھی۔باپ اسے بے غیرت کہتا تھا۔اگر ان کی محبت ان کی چاہت کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ واپس اپنے گھر چلا جائے تو اس کی پریشانی پر بے غیرتی کی ایک اور مہر لگ جائے گی۔ باپ کی طنزیہ باتیں اس کا سینہ چھلنی کر دیں گی ۔بس دل مسوس کر رہ جاتا تھا۔ چھ مہینے ،چھ سال، چھ صدیاں آخر کار بیت گئیں۔ وہ ٹرین میں بیٹھ گیا اور دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے سفر شروع کر دیا۔جوں جوں ٹرین آگے بڑھ رہی تھی اس کے دل میں خوف کا بسیرا ہوتا جا رہا تھا۔ اپنا گھر اپنے بہن بھائی جن سے دور ہوئے اسے چھ ماہ گزر چکے تھے وہ نہیں جانتا تھا کہ ماں باپ کس حال میں ہیں۔بہن بھائی کس حال میں ہیں۔بس انہیں یاد کرتا رہتا تھا اور کبھی کبھی تو آنسو اس کی آنکھوں سے رکنے کا نام نہیں لیتے تھے۔ ایک ایک لمحہ یاد آتا تھا۔ ابو یاد آتے تھے جو ہمیشہ اس پر طنز کرتے رہتے تھے۔بہت مشکل ہے،بہت مشکل ہے۔
اولاد اگر ماں باپ کے لئے بوجھ بن جائے تو وہ بے چارے حالات سے مجبور ہو کر کریں بھی تو کیا ۔ پتا نہیں میں دوبارہ انھیں دیکھ سکوں گا یا نہیں۔آہ جانے کیا ہونے والا ہے۔
دل کی دھڑکنیں اتنی تیز ہو گئی تھیں کہ اسے اپنے آپ کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔وہ پانی کی کہیں بوتلیں خالی چکا تھا۔ برابر بیٹھے ہوئے ایک صاحب نے اس سے کہا۔
کیا تمہاری طبیعت خراب ہو رہی ہے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں؟ اچانک ہی اس کے دل میں خیال آیا۔اس نے عاجزانہ نگاہوں سے انھیں دیکھا اور کہا۔ جناب عالی !کیا آپ میرا تھوڑا سا کام کر دیں گےَ
ہاں ہاں، بولو کیا بات ہے تمہارا چہرہ زرد ہو رہا ہے۔

کوئی خاص بات نہیں ہے۔ آپ میرا چھوٹا سا کام کر دیں۔
بولو بولو بتاو توسہی۔
بس تھوڑی دیر کے بعد ٹرین ایک اسٹیشن پر جا کر رکے گی۔اس اسٹیشن سے کوئی دو منٹ پہلے ریلوے کالونی پڑتی ہے۔ ریلوے کالونی میں ریلوے لائن کے ساتھ پیلے اور سفید رنگ کا ایک گھر ہے۔ اس گھر کے سامنے سکھ چین ایک درخت ہے،میں آپ کو اس کی نشاندہی کر دوں گا۔آپ صرف یہ دیکھ لیجئے گا کہ کیا اس درخت پر کوئی سفید کپڑا بندھا ہو ہے۔ اگر سفید کپڑا بندھا ہو تو مجھے بتا دیجئے گا۔
وہ صاحب حیران نگاہوں سے اسے دیکھنے لگے پھر بولے۔
قصہ کیا ہے کچھ عجیب سی باتیں کر رہے ہو ،مجھے تمہاری طبیعت کچھ زیادہ خراب لگ رہی ہے۔
براہ کرم اگر آپ میرا کام کر دیں تو میں آپ کا احسان مانوں گا۔دیکھئے میں کچھ منٹ کے بعد کچھ ہی منٹ کے بعد۔۔ آہ۔۔ کچھ ہی منٹ کے بعد ۔۔یہ دیکھئے۔۔یہ رائس مل نظر آ رہی ہے۔ بس یہاں سے تھوڑا آگے بڑھیں گے ریلوے کالونی آ جاتی ہے۔پیلے اور سفید رنگ کا ایک کوارٹر ہے۔ اس کے سامنے سکھ چین کا درخت دور دور تک بس وہی ایک درخت ہے۔ریل وہاں پہنچنے والی ہے۔ آہ۔۔ ریل بس اب ریلوے کالونی کے سامنے سے گزرنے والی ہے پیلے اور سفید ۔۔ پیلے اور سفید رنگ کا گھر اور اس کے سامنے سکھ چین کا درخت۔۔۔ دور دور تک اور کوئی درخت نہیں ہے۔ دیکھئے گا اس کے ساتھ کوئی سفید کپڑا۔۔
وہ مجنونانہ انداز میں بڑبڑا رہا تھا اور اس نے سختی سے آنکھیں میچ لی تھیں۔ دل جیسے پسلیوں کا پنجرہ توڑ کر نکل جانے کے لئے بے چین تھا۔
ٹرین آگے بڑھ رہی ہے،اب وہ ریلوے کالونی کے پچھواڑے سے گزر رہی ہو گی۔ کوارٹرون کی قطار نظر آ رہی تھی۔ کچھ لمحوں کے بعد ریل کی رفتار سست ہونے لگی۔ اس میں بریک لگنے لگی۔ان صاحب نے اس کا شانہ جھنجھوڑتے ہوئے کہا۔
عجیب آدمی ہو قصہ کیا ہے مجھے بتاؤ تو سہی۔ آنکھیں کھولو،آنکھیں کھولو،
آپ۔۔آپ نے مجھے بتایا نہیں؟؟
تم نے تو یہ کہا تھا کہ وہاں درخت میں ایک سفید کپڑا باندھا ہو گا!
تو کیا۔۔۔۔ تو کیا نہیں تھا ؟ اس کا دل بیٹھنے لگا۔۔۔
نہیں بھائی! وہاں تو پورے درخت میں سفید کپڑے بندھے ہوئے تھے۔ کوئی ایک ہو تو بتاوں۔میرا خیال ہے کوئی درجن سے زیادہ کپڑے بندھے ہوئے ہوں گے۔ ہر طرف سفید ہی سفید کپڑے لہرا رہے تھے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

کراچی یاترا …امجد جاوید قسط نمبر 01

کراچی یاترا امجد جاوید  کراچی یاترا کے لئے پہلا پڑاﺅ ملتان میں ٹھہرا۔ 5دسمبر2019ءکی دوپہر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے