سر ورق / افسانہ / ڈاکیا۔۔۔ راجہ ابرار حسین عاجز۔ کلر کہار ۔ پاکستان

ڈاکیا۔۔۔ راجہ ابرار حسین عاجز۔ کلر کہار ۔ پاکستان

عالمی افسانہ میلہ 2019
افسانہ نمبر 75
ڈاکیا
راجہ ابرار حسین عاجز۔ کلر کہار ۔ پاکستان

وہ جزیرہ شھر سے دور پہاڑوں اور سمندر میں گھرا ھوا تھا ۔ سمندر کھاڑی کی شکل میں جزیرے کے اندر تک آ گیا تھا۔ کھاڑی کے ایک طرف کچھ آبادی تھی۔ جبکہ دوسری طرف پہاڑیوں کا سلسلہ تھا۔ پہاڑی سلسلے کی دوسری طرف ایک چھوٹا سا قصبہ تھا۔

اس جزیرے کی آبادی شائید دو سو کے لگ بھگ تھی۔ لوگوں کی آمدو رفت کشتیوں کے ذریعے ھوتی۔ اپنی ضرورت کی اشیاء لینے کے لیۓ جزیرے کے مکینوں کو پہاڑی کی دوسری طرف موجود قصبے میں جانا پڑتا تھا۔ ھنری اس جزیرے کا واحد ڈاکیا تھا۔ جزیرے کے لوگوں کی ڈاک لانا اور لے جانا ۔ ڈاک بانٹنا ۔سب کام وہ خود ھی کیا کرتا۔ وہ سرکاری ملازم نہیں تھا ۔گورنمٹ وھاں کوئ ڈاکیا نہیں رکھنا چاھتی تھی ۔ کیونکہ ڈاک کی ترسیل کے اخراجات بہت زیادہ تھے ۔ اور ڈاک بہت کم ہوتی تھی ۔ ہنری نے اپنے آپ کو اس کام کےلیۓ پیش کر دیا تھا۔ سرکار کی طرف سے اسے بہت معمولی مشاھرہ دیا جاتا۔لیکن ھنری اس کام سے خوش اور مطمئن تھا۔

ھنری پینسٹھ سال کا ایک بوڑھا آدمی تھا۔ اتنی عمر کے با وجود اس کی ہمت اور طاقت جوانوں کی طرح تھی ۔ اس کا سفید رنگ چمکدار تھا۔بڑی سی الجھی ہوئ داڑھی جس کے سارے بال سفید ھو چکے تھے۔ سر کے بال گھنگھریالے تھے۔اور بالوں میں ابھی کسی کسی جگہ ہلکی سی سیاھی دکھائ دے جاتی تھی۔ اس کے ھاتھ پاؤں مضبوط تھے ۔ جزیرے کی آب و ھوا تبدیل ھوتی رھتی تھی ۔۔ عموماً گہرے بادل چھاۓ رھتے ۔ اور دن میں ایک آدھ بار بارش بھی ھو جاتی۔ بارش کے بعد ھوائیں چلنا شروع ھو جاتیں۔ اور موسم دلفریب ھو جاتا۔ سال کے زیادہ تر حصے میں سردی پڑتی۔

ھنری کا گھر سمندر سے تھوڑی فاصلے پر ایک چٹان پر بنا ھوا تھا۔ گھر لکڑی اور پتھروں سے بنا ھوا تھا۔ چھت ، دیواریں۔کھڑکیاں اور دروازہ سب اس نے خود ھی بنا لیۓ تھے۔ ایک کھڑکی سمندر کی طرف کھلتی تھی ۔ ھنری شام سے زرا پہلے کھڑکی کے پاس بیٹھ جاتا اور سمندر کی طرف دیکھتا رھتا۔ سمندر سے آنے والی ٹھنڈی ھوا سے اس کے بال لہراتے رھتے۔دور سمندری بگلے اڑتے ھوۓ نظر آتے۔ بگلے غوطہ لگا کر مچھلیاں پکڑتے اور دوبارہ فضا میں اڑان بھر جاتے ۔ ان کو دیکھنا اور انکی کیں کیں کی آوازوں کو سننا ھنری کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ کافی دیر بیٹھنے اور سمندر کا نظارہ کرنے کے بعد جب تھک جاتا تو کھڑکی بند کرتا اور سونے کے لیۓ چلا جاتا۔

ہنری اس گھر میں اکیلا رھتا تھا ۔ برسوں پہلے اس کی بیوی مر گئ تھی ۔ اس کے مرنے کے بعد ھنری کے بس دو کام رہ گۓ تھے ۔ جزیرے کے لوگوں کی ڈاک اکٹھی کرنا اور منزل پر پہنچانا۔۔اور واپس آ کر کھانا کھانے کے بعد کھڑکی کے سامنے بیٹھ جانا۔ کبھی وہ اپنے لکڑی کے کیبن سے باھر نکل آتا ۔ سمندر کے پانی کے قریب پتھروں پر بیٹھ کر چھوٹے چھوٹے روڑے پانی میں پھینکتا رھتا۔ اس سمندر کے ساحل پر ریت کم تھی اور پتھر زیادہ تھے۔ سمندر اس جگہ زیادہ گہرا نہیں تھا۔یہاں سمندر ایک کھاڑی کی شکل میں جزیرے کے اندر تک آ گیا تھا۔کھاڑی کی دوسری طرف پہاڑوں کا ایک سلسلہ دور تک پھیلا ھوا تھا۔ یہ خشک اور بنجر پہاڑ تھے ۔ اور ان کا رنگ سیاھی مائل تھا۔ شام کے وقت پہاڑ ، پانی اور پانی پر منڈلاتے ھوۓ سمندری بگلے مسحور کن منظر پیش کرتے ۔ ھنری ان مناظر سے دیر تک لطف اندوز ھوتا رہتا۔

ھنری کے گھر کے باھر ایک ڈبہ لٹکا ھوا تھا۔ یہ ھنری کا لیٹر بکس تھا۔ جزیرے کے لوگ اپنے خط اس ڈبے میں ڈال دیتے۔ ھنری دوسرے دن وہ خط نکالتا ۔ پہاڑیوں کی دوسری طرف قصبہ تھا۔ ڈاک وھاں تک پہنچانی ھوتی تھی ۔ ھنری اپنی کشتی نکالتا اور چپوؤں سے کشتی کو دھکیلنا شروع کر دیتا۔ دوسرے کنارے پر پھنچنے کے بعد وہ ڈاک کا تھیلا نکالتا ۔ اور ایک مخصوص جگہ پر کھڑا ھو جاتا۔ اس کا کام بس یہیں تک تھا۔ اس سے آ گے مارتھا کا کام شروع ھو جاتا۔۔مارتھا لگ بھگ پچاس سال کی تھی۔ اس کی صحت قابل رشک تھی ۔ وہ پہاڑوں کے بیچوں بیچ بنی ھوئ سڑک پر سائیکل چلاتی ھوئ آتی۔ ھنری کے پاس پہنچ کر سائیکل سے اترتی ۔ اس کے چہرے پر ایک مہربان سی مسکراھٹ ھوتی ۔۔ وہ ھنری کا حال پوچھتی ۔ اس سے ڈاک لیتی ۔۔ اگر کوئ خط دینے والا ھوتا تو ھنری کے حوالے کرتی ۔پھر اپنی سائیکل پر بیٹھ کر آگۓ روانہ ھو جاتی۔ ھنری کھڑا اسے دیکھتا رھتا ۔جب اس کی سائیکل پہاڑوں میں اوجھل ھو جاتی ۔ تو ھنری بھی واپسی کی راہ لیتا ۔

کل جب مارتھا نے ھنری سے ڈاک لی تو ایک چھوٹا سا پیکٹ ھنری کے ھاتھ میں تھما دیا۔ اس میں رنگ بھری ٹافیاں تھیں۔ ھنری کے چہرے پر مسکراھٹ بکھر گئ۔ اس نے مارتھا کا شکریہ ادا کیا ۔ ایک ٹافی منہ میں ڈال لی ۔ دونوں تھوڑی دیر کھڑے رھے اور اس کے بعد مارتھا چلی گئ۔

آج ھنری بہت خوش لگ رھا تھا۔ ٹافیاں منہ میں رکھتے وقت با ر بارمارتھا کا چہرہ اس کی نگاھوں کے سامنے پھر جاتا۔ شام کو وہ باھر نکلا اور سمندر کے کنارے پتھروں پہ چلنا شروع کر دیا۔ اس کی نگاھیں زمین پر جمی ھوئیں تھیں۔ اسے کسی ایسی چیز کی تلاش تھی جو وہ اگلے روز مارتھا کو دیتا۔ اس نے کئ پتھروں کو اٹھا کر بغور دیکھا۔ لیکن کوئ بھی اسے پسند نہیں آ رھا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ مارتھا کو ایسا ھی کوئ خوبصورت پتھر دینا چاھیے۔ جیسی خوبصورت وہ خود تھی۔ نیلی آنکھوں والی مارتھا شائید ھنری کے بوڑھے دل کو گد گدانے لگی تھی ۔ تلاش کرتے کرتے ھنری کو ایک گول سفید رنگ کا پتھر نظر آگیا۔ ھنری نے محسوس کیا کہ یہ پتھر مارتھا کو دینے کے لیۓ مناسب ھے۔ھنری نے پتھر اٹھا کر جیب میں ڈال لیا ۔ اور سرشاری کی ایک کیفیت میں واپس اپنے کیبن میں آگیا۔

دوسری صبح ھنری جاگا اور جانے کی تیاری شروع کر دی ۔ آج دینے کیلیۓ کوئ ڈاک نہ تھی۔ لیکن ھنری کو تو جانا ھی تھا۔ وہ اپنی کشتی کھیتا ھوا دوسرے کنارے تک پھنچا اور چلتا ھوا اپنی جگہ پہنچ گیا۔ سفید پتھر اس کی جیب میں تھا۔ اس نے پتھر کو نکال کر دیکھا اور پھر جیب میں ڈال لیا ۔ اس پر خوشی اور مسرت کی کیفیت طاری تھی ۔ اس کے بال ھوا میں لہرا رہے تھے۔ اس نے پرانا سا اوور کوٹ پہن رکھا تھا اور گلے میں مفلر لپیٹ رکھا تھا ۔ دھوپ کے باجود ھوا میں خنکی تھی ۔ پھر پہاڑی کی اوٹ سے مارتھا کی سائیکل نمودار ھوئ ۔ آہستہ آہستہ سائیکل قریب پہنچی ۔ مارتھا نے سایکل روکی اور نیچے اتر کر ھنری کے پاس آئ۔

"””کیسے ھو ھنری ۔ لاؤ مجھے ڈاک دے دو” ھنری بولا”” آج جزیرے سے کوئ ڈاک نہیں ھے ۔کیا تم کوئ خط لائ ھو مارتھا””””””

"””””ھاں آج ایک خط ھے جو تمھارے نام ھے "”

مارتھا نے خط ھنری کے ھاتھ میں تھما دیا۔ ھنری نے وہیں کھڑے کھڑے خط کھولا اور پڑھنا شروع کر دیا۔خط دو لائینوں پر مشتمل تھا۔ خط میں معلوم نہیں ایسی کیا بات لکھی تھی کہ پڑھتے ھی ھنری کا رنگ پھیکا پڑ گیا۔ مارتھا نے محسوس کیا کہ کوئ اچھی خبر نہیں ھے۔۔۔اس کے پوچھنے پر ھنری نے بتایا”””

"حکومت نے جزیرے کے لیۓ ڈاک سروس بند کر دی ھے ۔ اور لکھا ھے کہ بطور پوسٹ مین ھنری کی خدمات کی مزید ضرورت اب نہیں رہی۔””

مارتھا تھوڑی دیر تک گم صم کھڑی رہی۔ھنری بھی خاموش کھڑا رہا۔مارتھا کو سمجھ نہیں آرھی تھی کہ وہ کیا بولے۔۔چند لمحوں بعد وہ آہستہ سے اپنی سائیکل کی طرف بڑھی اور سر جھکاۓ ھاتھ سے کھینچتی ھوئ سڑک پر آگے بڑھ گئ۔ ھنری کے قریب سے گزرتے ھوۓ اس نے دیکھا ۔ ھنری کی آنکھوں میں ھلکی سی نمی آگئ تھی۔ مارتھا نے سر جھکا کر اس کا کاندھا تھپتھپایا اور آہستگی سے آگۓ بڑھ گئ۔۔ھنری اسے جاتا ھوا دیکھتا رہا ۔ جب مارتھا نظروں سے اوجھل ھو گئ تو ھنری بھی جزیرے کی جانب کشتی پر لوٹنے لگا۔ آج اس سے چپو نہیں چلاۓ جا رھے تھے۔ اس کی نظریں دور پہاڑوں پر جمی ھوئ تھیں ۔ اور دونوں ھاتھ الٹے سیدھے چپو چلانے میں مصروف تھے۔ اسے یک لخت ھی دنیا ایک ویران اور ڈراونی سی لگنے لگی تھی ۔ اس کا دل ایک سخت پتھر کی طرح ھو گیا ۔ اسے لگ رہا تھا کہ اس کا دل دھڑکنا چھوڑ دے گا۔ اس کا جھریوں سے اٹا ھوا چہرہ تن گیا تھا ۔ اور آنکھیں پتھرا سی گئ تھیں ۔ اسے اب جا کر علم ھوا کہ مارتھا کے ساتھ روزانہ چند لمحوں کا تعلق کس قدر گہرا تھا ۔ اس نے خود کو سمجھانے کی کوشش کی۔ وہ منہ ھی منہ میں بڑ بڑا رھا تھا

"” ۔ بوڑھے ! اس عمر میں ایسی باتیں اچھی نہیں ھیں۔ اور مارتھا کے ساتھ اس کا تعلق بہت مختصر رھا ھے ۔ اس لیۓ اب اگر اس سے ملنا بند ھو چکا تو اس پر زیادہ پریشان ھونا ٹھیک نہیں۔ ۔ اور پھر شائید مارتھا کو بھی معلوم نہیں ھو گا کہ میں اس کے بارے میں کن خیالات میں مبتلا ھو چکا ھوں۔””

بوڑھا ھنری خیالوں میں الجھا ھوا کنارے تک پہنچ آیا۔ اپنے قدم گھیسٹتے ھوۓ وہ کیبن تک پھنچا ۔ ایک چوڑے سے لکڑی کے تختے پر اس نے لکھا ۔”” آئیندہ ڈاک سروسز بند ھو گئ ھے”” تختے کو لکڑی سے باندھ گھر کے باھر نصب کر دیا ۔

واپس کیبن میں آیا۔ اور بے جان سا ھو کر بستر پر گر گیا۔ اس میں ھلنے جلنے کی طاقت ختم ھو چکی تھی۔ ھاتھ پاؤں ساکت تھے۔ صرف سانس چل رہی تھی ۔ اور دل دھڑک رہا تھا۔ اس کی دھڑکن ڈوب رہی تھی ۔ اس نظریں کھڑکی کے شیشے پر چپک گئ تھیں۔ باھر سمندری بگلوں کی کیں کیں کی آوازیں آ رہی تھی ۔ اس کے کان یہ آوازیں سن رھے تھے۔ لیکن وہ چپ چاپ لیٹا رھا۔ اس میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ کھڑکی کے پاس جاتا اور سمندر سے لطف اندوز ھو سکتا۔

صبح جزیرے والے جب ڈاک دینے آۓ تو انھوں نے دیکھا کہ ڈاک خانہ بند ھونے کا بورڈ لگا ھوا ھے ۔ اور ھنری بھی کہیں نظر نہیں آ رھا۔ انھوں نے کیبن میں جاکر ھنری کو دیکھنے کا فیصلہ کیا ۔ کیبن میں پہنچے تو ان کی آنکھیں حیرت اور خوف سے چھپکنا بھول گئیں۔ ھنری کا جسم اوندھا پڑا تھا اور وہ مر چکا تھا۔ لوگوں نے اس کا جسم سیدھا کیا۔ اس کے پاوں سے جوتے اتارے ۔ اسکی آنکھوں اور کھلے ھوۓ منہ کو بند کیا۔ اسکی ایک مٹھی زور سے بھنچی ھوئ تھی ۔ ایک آدمی نے زور لگا کر اسکی مٹھی کھولی ۔ لوگوں نے دیکھا کہ بوڑھے ھنری کی مٹھی کھلتے ھی ایک سفید رنگ کا گول سا پتھر مٹھی سے نکل کر زمین پر گر گیا تھا۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بالغ عورت شکیلہ رفیق ۔ ٹورنٹو ، کینیڈا

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 141 بالغ عورت شکیلہ رفیق ۔ ٹورنٹو ، کینیڈا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے