سر ورق / مضامین / ہم ، چائے اور لکھاری ۔ مقابلہ اردو لکھاری گروپ ۔

ہم ، چائے اور لکھاری ۔ مقابلہ اردو لکھاری گروپ ۔

"ہم لکھاری اور چائے”

قرةالعین فرخ
ہاں تو جی بات ہورہی ہے چائے کی اور ساتھ لکھاری کی۔۔
کیا ہی ٹوپک چھیڑ دیا آپ نے۔ ۔ چائے اور ہماری محبت سے سارا جہاں واقف ہے سواۓ ہمارے بچوں کے۔ اور جس طرح ہم کبھی چائے کے ساتھ یک جان دو قالب مشہور تھے بلکل اسی طرح آج چائے سے دور دور مشہور ہیں۔ دور دور کا مطلب اب اتنا بھی دور نہیں کے چائے ہی نہیں پیتے۔۔ تو جناب چائے تو آج بھی پیتے ہیں مگر وہ کثرت نہیں رہی اور حسرت بھی نہیں رہی۔ شادی سے پہلے اماں بنا دیتی تھیں چائے۔ اور اب ہم خود بناتے تو ضرور ہیں لیکن وائے حسرت کے اس کثرت سے پی نہیں سکتے۔ آئیے سنائیں آپ کو اپنی داستان۔
پورا دن ایک اچھی ماں، اچھی بہو کی طرح نمٹا کر رات کو اپنی کاپی پین نکال کر بیٹھے ہیں اور ساتھ چائے کا فل مگ بھرا اور لکھنا شروع ہی کرتے ہیں کے اویس صاحب (چھوٹے صاحبزادے) آگئے ۔ اماں چائے۔۔ بیٹا آپ کا کپ ادھر ٹیبل پر ٹھنڈا کرنے رکھا ہے لا دوں۔ ۔ نہیں آپ ہی پینی ہے، پھر بڑے بیٹے بھی آگئے۔ انس بیٹا پپا کو بولو اویس کو تھوڑی دیر پکڑ لیں۔ میں بس تھوڑا سا لکھ کر آتی ہوں۔
اماں مجھے یہی پینی ہے۔ اور اویس صاحب نے زمین پر سر مارنا شروع کردیا۔ اور اسی میں بسکٹ بھی کھانے ہیں اور یہ ایک اور بار سر مارا زمین پر۔ ۔
ارے بھائی لے جا چائے۔ مجھے نہیں پینی۔ میں پھر پی لوں گی۔ اور اویس صاحب جو ابھی صرف ڈھائی سال کے ہیں آرام سے وہیں پسر کر چائے میں بسکٹ ڈبو کر کھانا شروع کرتے ہیں اور ہم انکو محبت سے (بھئ ماں جو ہیں) اور چائے کو حسرت سے تکتے رہ جاتے ہیں۔
اور ہم اویس کی ٹھنڈی ٹھار چائے ٹیبل سے اٹھا کر حلق سے اتارتے ہیں اور لکھنا شروع کرتے ہیں۔ واللہ اس ٹھنڈی چائے سے بھی کچھ روانی آ ہی جاتی ہے لکھنے میں۔ اور بس یہ تھی ہم لکھاری ماؤں اور چائے کی کتھا۔
پریم کتھا کا انت نہ کوئی
ٹھنڈی چائے پئیں اور لکھتے جائیں۔

……………………………………………….

**ہم, چائے اور لکھاری**
از قلم: سیدہ صائمہ کاظمی

رات, راگ اور تخیل کی مثلث اگر یکجا ہوجائے تو شاہکار تخلیق پا سکتے ہیں,
میں نے گرامو فون کی سوئی سیٹ کی اور چائے کے گرم مگ کو نتھنوں سے نزدیک کیا. میری عادت ہے میں جب تخلیق کے مرحلے طے کرتا ہوں تو, ساتھ چائے کا بھی اہتمام رکھتا ہوں.
چائے!!
چائے کا میرے تخیل سے ایک خاص واسطہ ہے, میں کسی دوسرے کے ہاتھ کی چائے پسند نہیں کرتا. اس کی وجہ میری نازک مزاجی ہے, اور پھر جب میرے اندر کچھ نیا تخلیق پانے لگتا ہے تو میں باورچی خانے کا رخ کرتا ہوں.
وجہ..¿
میں چائے کو بھی اسی اہتمام سے تیار کرتا ہوں جس اہتمام سے کاغذ قلم سے قرطاس پر کچھ نیا رنگ بکھیرنے لگتا ہوں.
چائے کے کھولتے ہوئے پانی میں مجھے انسانی جذبات کی سسک محسوس ہوتی ہے. اس تپش کو میں پتیلی سے نکلتی بھاپ میں محسوس کرتا ہوں. خشک پتی کی سوندھی خوشبو میں تخیل کے بادل بننے لگتے ہیں. دودھ اور کھولتے قہوے سے ایک نیا رنگ جانے کتنے رنگوں کو جنم دینے لگتا ہے. اور پھر پوے سے اس چائے کو پھینٹنے کے عمل سے گذارتے ہوئے کتنے ہی بدن باہم رقص بکھیرتے میرے کمرے کی زمین پر بکھرتے چلے جاتے ہیں.
چولھا بند کرنے کے بعد چند لمحوں کے دم پر کسی نرتکی کے پاؤں جیسے تھم سے جاتے ہیں, اس کی پھولی سانسیں, سینے کے زیروبم اس خاموش پتیلی میں اترتے دکھائی دیتے ہیں.
اور جب چائے پک کر تیار ہوتی ہے, ایک تخلیق بھی پک کر تیار ہوچکی ہوتی ہے.
چائے سے میرا تعلق اٹوٹ ہے, کہ میں ایک تخلیق کار ہوں! میں ایک لکھاری ہوں! چائے میری وجہ تحریک ہے…..!!
——————————————————

ہم ,چائے اور لکھاری
ثمینہ سید
لاہور
وقت سرپٹ دوڑ رہا تھا.میں اور ضیغم اب تھکنے لگے تھے.جب آغاز سفر کیا تھا تو دل کی گرفت میں تھے اسی کے اشاروں پہ اڑتے پھرتے تھے.محبت وجود کو ہلکا پھلکا کردیتی ہے کوئی ذمہ داری بوجھ نہیں لگتی تھی.ایک دوسرے کی آنکھوں کے رستے صدیوں کا سفر طے کرنے کا حوصلہ رکھتے تھے.میں ضیغم کی شاعری پہ فریفتہ تھی حرف حرف سے میرے رگ و پے میں زندگی شور کرتی تھی.خواب رقص کرتے تھے.ضیغم کے ایک پل کے دیکھنے سے تتلیاں رخسار کو چھو کے رنگ چھوڑ جاتی تھیں.وہ شعروں میں احساسات کےموتی پروتا تو میری دھڑکنیں ترتیب بھول جاتیں.میں بغورا سے دیکھتی اور سوچتی یہ کب مجھ سے براہ راست کہے گا کہ اسے مجھ سے محبت ہے.لیکن وہ شعر سنا کے ادھر ادھر کی باتوں میں لگ جاتا.
موسم بہت اچھا تھا میں اور ضیغم یونیورسٹی سے نکلے تو بائیک پہ نجانے کہاں کہاں پھرتے رہے.گول گپے کھائے,اس نے مجھے گجرے لے کے دئیے میں نے کلائی آگے کردی.”خود پہناؤ اور سوچ سمجھ کے پہنانا اگر تم مجھے اپنانے کی ہمت نہیں سکتے تو یہ سب بے معنی ہے.”وہ حیران تھا”تمہیں میری محبت کا یقین نہیں مدحت؟”
"یقین تو اس خود اپنے وجود کے ہونے سے بھی زیادہ ہے لیکن یہ سارا یقین تو میرا اندازا ہے ناں آپ نے کب کہا کہ”
وہ میرے ہاتھ پکڑ کر گجرے پہنانے لگا”میرے حالات زیادہ اچھے نہیں ہیں میں تمہیں زندگی کی آسائشات نہیں دے سکوں گا لیکن مجھے یقین ہے کہ ہم سب ٹھیک کرلیں گے بہت جلد”
"مجھے بھی یقین ہے.”میں نے محبت پر یقین کی مہر لگا دی.تو وہ کھل کے مسکرایا اور پھر کھل کے اظہار محبت کرتا رہا.ہم نے اپنے اپنے گھر والوں کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا کسی قسم کی کوئی زیادہ مخالفت نہیں ہوئی اور ہم ایک ہوگئے.
زندگی بہت خوب صورت رنگوں اور روشنیوں میں گھوم رہی تھی ہم ایک دوسرے کی محبت میں مست تھے لیکن حالات بھی ٹھیک کرنے ضروری تھے.دونوں ملازمت کرتے رات کو اکثر اپنے اپنے کاغذ قلم پکڑ کر لکھنے بیٹھ جاتے وہ شاعری کرتا تو جیسے لفظوں سے جذبے چھلکتے.مجھے بھی کہانی پوری کرنی ہوتی.پھر مشام ,زہرا اور علی کی پیدائش تک تو ہمیں سب بھول گیا.ایک دوڑ لگی تھی
سکون سے بیٹھ کر شام کی چائے بھی نصیب نہ ہوتی.
زندگی ایک دم بوجھ لگنے لگی.اب تو اکثر لڑائیاں بھی ہونے لگیں.
"مشامِ جاں میں گلاب کھلنے کی رت نہیں ہے
—————————————-
ابھی تو آنکھوں کی پتلیوں پہ اداسیوں کے شریر پنجے گڑے ہوئے ہیں
ابھی تو ہونٹوں پہ التجاؤں کی راکھ بکھری پڑی ہوئی ہے
ابھی تو دل کے اجاڑ آنگن میں اس کی یادوں کے سرخ پرچم سے اڑ رہے ہیں
پگھلتے لمحے ہتھیلوں سے دعا کی کچی ریاضتوں کو چرا رہے ہیں
ادھورے سپنے سلگتی آنکھوں میں پاؤں دھرنے کی ضد میں بیٹھے
نہ جانے کب سے مچل رہے ہیں
فراق صبحوں فراق شاموں میں سانس لینے کا فرض واجب ہوا ھے مجھ پر
تو پھر میں کیسے
نئے دنوں کی بشارتوں کا یقین کر لوں
مجھے پتہ ہے
مشامِِ جاں میں گلاب کھلنے کی رت نہیں ہے”
"اماں یہ میرے بابا کی نظم ہے کیا؟”پوری نظم مجھے پڑھ کے سناتی ہوئی مشام سراپاء سوال بن گئی.میری رگوں میں لہو کی گردش بہت عرصہ بعد طوفان اٹھانے لگی.میں نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ فخر سے بولی
"میں سب کو بتاتی ہوں کہ میرے پاپا بہت مشہور شاعر ہیں .مجھے بہت اچھا لگتا ہے مما. ..آپ کو بھی اچھا لگتا ہوگا ناں؟”
میں نے کہا "ہاں” مشام چلی گئی اور مجھ پر محبت کے در کھلنے لگے.دریچوں سے ٹھنڈی ہوائیں آنے لگیں میں اٹھ کر میز تک آئی اور نظم کو نجانے کتنی بار پڑھ ڈالا.
نظم بلاشبہ خوب صورت تھی لیکن میرے شاعر کی نظم میں برسوں کی تھکن تھی. اور تو اور میں جو اس کے پاس تھی وہ میری نارسائی پر نظمیں لکھ رہاہے.میں نجانے کب اس سے دور ہوتی گئی بہت دور.بچوں کی ماں ایسی بنی کہ اپنے محبوب کو فراموش کر بیٹھی.ہم نے دنیا کی ہر نعمت اپنی دنیا میں سمیٹ لی لیکن ہماری محبت……
میں نے اپنی کولیگ کو فون کر کے دودن کی چھٹی کا کہا.آگے ہفتہ اور اتوار ملا کے چار دن بنتے تھے.
اپنے اکاؤنٹ میں پیسے چیک کئے تو اچھے خاصے پیسے تھے سکون ساہوا.جلدی کھانا بنا کے بچوں کو کھلایا اور انہیں سلا کے اہتمام سے تیار ہوئی.خود پہ خوشبو چھڑکتے ہوئے میرا دل اور دماغ پوری طرح مہک رہا تھا.جاگ گیا تھا.میں محبت کو نارسائی نہیں بننے دوں گی.میں نے ایک نظر بھر کر اپنے پیارے بچوں کو دیکھا اپنے چھوٹے سے کرایے کے گھر کودیکھا.”کیاہوا جو کرائے کا مکان ہے باقی سب تو میرا اپنا ہے ناں .پھر میں جو حرف حرف کی قدر کرنے والی عورت ہوں اپنے رشتوں سے بےخبر کیسے ہوگئی؟”
میں کچن میں آگئی سات مرچیں اٹھا کر بچوں سے وار کر چولہے پہ رکھیں تبھی ضیغم آگیا میں دانستہ بےخبر بنی کھڑی رہی.”ارے کیا جل رہا ہے مدحت "وہ تڑپ کر آگے بڑھا تو میں نے بہت محبت سے اس کے گلے میں بانہیں ڈال دیں "بچوں کی نظر اتاری ہے ”
وہ حیران تھا میرے انداز پر حد درجہ حیرت زدہ ”
آپ جائیں .فریش ہولیں کھانا لاتی ہوں”
ہم نے مل کے کھانا کھایا بہت سی باتیں کیں.وہ ساری باتیں جو ہم بھول گئے تھے.وہ سارے پل تازہ کئے جو ہمارے ملنے کی وجہ تھے.ضیغم کے وہ شعر جو مجھے ازبر ہوا کرتے تھے.آج ذرا کوشش سے یاد آئے تو وہ ہنستا رہا آنکھیں بھیگ گئیں
"تم تو آج پہلے جیسی لگ رہی ہو”
"ہاں میں بدل کیسے سکتی تھی بس تھوڑی سی خودغرض یوگئی تھی خود کو اور تمہیں مشین ہی بناڈالا لیکن آج مشام نے تمہاری نظم مجھے سنائی تو جیسے میرا وجود تڑکنے لگا ہم ساتھ ہیں تو نارسائی کیوں؟”
"ہم محبت کے سہارے چلتے چلتے دنیا کی بھیڑ میں گم ہوگئے.میں ہر چیز کے بغیر آرام سے جی سکتی ہوں لیکن میرا شاعر نارسائی لکھے یہ مجھے گوارا نہیں”میں چائے بنا لائی.اس کی نظم اٹھا کر سامنے رکھی
"تم آج بھی اتنے ہی گھنے ہو.مجھے سمجھا لیتے .احساس دلاتے کہ ہم دور ہورہے ہیں.”میں نے محبت سے اس کی ناک دبائی تو اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر بٹھا لیا.”شعر صرف شعر نہیں ہوتے ہمارے احساسات کے ترجمان ہوتے ہیں یاد رکھنا

یہ کس خیال نے سوچوں پہ ہاتھ ڈالا ہے
کہیں گلاب کی خوشبو کہیں اجالا ہے

تجھے خیال میں باندھا تو یوں لگا ہے مجھے
کہ میں نے روشنی کو روشنی میں ڈھالا ہے
نشیلی سی ہوائیں چلنے لگیں.میں نے کلپ بورڈ ایک طرف کرتے ہوئے کہا.”میں نے چھٹی لے لی ہے.ہم سب گھومنے جارہے ہیں بس”
"اور میری بنی ہوئی چائے پیتے ہوئے یہ اشعار کاغذ پہ لکھو.چائے لکھنے والے کے لہجے کو تازگی بخشتی ہے اور چائے اگر محبوب نے بنائی تو کیا بات ہے”
کمرے کی فضاؤں میں شفاف قہقہے محبت لکھ رہے تھے.


October 19 at 10:32 AM

#مقابلہ

”ہم ،لکھاری اور چائے“

لوگ چاہے کچھ بھی کہتے رہیں مگر ہم تو یہی جانتے ہیں کہ بغیر پٹرول کے گاڑی اور بغیر چائے کے لکھاری کبھی چل ہی نہیں سکتے ۔۔۔ایک لمحے کے لیے اپنے ذہن کے خوش رنگ پردے پر ایک خوبصورت منظر پینٹ کیجیے ۔۔۔۔
کہ ہم لکھاری اپنی رائٹنگ ٹیبل پر کاغذ اور قلم ہاتھ میں تھامے سوچوں میں گم بیٹھے ہیں ۔۔۔کہ اچانک ہمارے سامنے ایک بھاپ اڑاتا چائے کا کپ رکھ دیا جاتا ہے جسے دیکھتے ہی ہمارے تخیل کی اڑان کو پر لگ جاتے ہیں ۔۔تو کیا ایسے عالم میں ہمارا قلم رک سکتا ہے ؟
ہرگز نہیں ۔۔۔۔اب قلم لفظوں کا جادو بکھیرتا ہی چلا جائے گا ۔
چائے بلاشبہ ایک لکھاری کے تخیل کو مہمیز کرتی ہے ۔۔۔اس کا تخیل جب خوشبو اڑاتی چائے کی بھاپ سے گلے ملتا ہے تو کاغذ پر لفظ ایک نئی دھن گنگنانے لگتے ہیں ۔ایک انوکھی اور لاجواب دھن ۔۔۔
ایک ایسی ہی کیفیت میں لکھا گیا شعر ذہن میں جھومنے لگ گیا ہے ۔

یہ دنیا بے ادب سی ہے یہاں بدذوق جیتے ہیں
سنہری چاند کی کھڑکی میں آٶ چائے پیتے ہیں

جب چائے کی خوشبو سے مہکتے الفاظ قاری کے ذوق کو مہکاتے ہیں تو وہ بھی چائے کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے ۔۔۔اسی لیے تو اکثر قارئین کتاب کے مطالعے کے دوران اپنے ہاتھ میں چائے کا کپ تھامے رکھتے ہیں ۔
لیجیے چائے اور کتاب کا وہ سفر جو ہم لکھاریوں سے شروع ہوا تھا وہ قاری پر آ کر ختم ہوا ۔کیونکہ دنیا گول ہے ۔
گول سے یاد آیا کہ چائے کا کپ بھی گول ہی ہوتا ہے ۔
تو پھر ہو جائے ایک کپ چائے ۔۔۔۔۔!

#ناہیداختربلوچ

ایونٹ مقابلہ

عنوان ؛ ہم چائے اور لکھاری تحریر ؛ گل جان

سردی کی یخ بستہ رات تھی اور نیندآ نکھوں سے اوجھل تھی ۔

بادلوں پر اندھیر نگری کا سماں تھا ایسا لگتا تھا کہ جیسے ابھی جل تھل شروع ہو جائے گا اور آ نا فاننا پھر سے بارش کا سلسہ شروع ہو جائے گا اور ایسا ہی ہوا دیکھتے ہی دیکھتے بارش ہو نے لگی میں اپنے کمرے کی کھڑکی سے بارش سے لطف اندوز ہو رہا تھا سب گھر والے سوئے تھے اور رضائیوں کمبلوں میں آ غوش نیند کے خوب مزے لے رہے تھے اور میں اکیلا ہی بارش سے لطف اندوز ہو رہا تھا ، بارش تھی کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی میری نیند بھی اڑی ہوئی تھی میں اپنے علیحدہ کمرے کی کھڑکی سے باہر کی ہر چیز کو دھندمیں لپٹا ہوا دیکھ رہا تھا ، کیسی بات ہے جب آ پ بلکل خاموش ہوں تنہا ہوں آ پ کے ساتھ کوئی نہ ہو کمرہ بالکل خاموش ہواور تنہائی کا جیتا جاگتا احسا س ہو ، ہیٹر سے کمرہ گرم ہو رہا ہو جذبات بھی خاموش ہوں تو صرف ایک ہی چیز آ پ کے من کو تازگی بخش سکتی ہے اور وہ ہے چائے جو آ پ کے من کو نئی تازگی بخشتی ہے اور ایک خوشگوار احساس پھر سے تازہ ہو جاتا ہے چہرہ چمک اٹھتا ہے میرے کاغذ میرے بیڈ پر بکھرے پڑے تھے اور میں اپنے نت نئے آ ئیڈیاز میں کھویا ہوا تھا لیکن چائے کی بھی بڑی شدید طلب ہو رہی تھا ، میں نے کھڑکی بند کر کے ایک نظر کاغذوں پر ڈالی اور ساتھ ہی میری نظر گھڑی سے ٹکرائی جو رات کے بارہ بجا رہی تھی چائے پیے بغیر میری کہانی ادھوری تھی ۔

اگر میں خود کچن میں جا کر چائے بناتاتو شاید میں ویسی نہ بنا سکتا جیسی کہ میرے گھر والے بناتے ہیں کاغذ خالی پڑے تھے اور میں آ ئیڈیاز کی کھوج میں تھا اور چائے کی بھی شدید طلب تھی کیوں کہ چائے پیے بغیر میرے ذہن میں آ ئیڈیاز نہیں آ تے ادیبوں کی بھی کچھ اقسام ہوتی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہوتی ہے کہ جب تک وہ چائے کی لذت سے لطف اندوز نہ ہوں وہ کچھ بھی لکھ نہیں سکتے کیوں کہ لکھنا بھی ایک ا ٓ رٹ ہے اور نئی سوچ نئی تخلیق تب ہی جنم لیتی ہے جب آ پ کے اندر گرماہٹ کا احساس جاگتا ہے جس سے آ پ لطف اندوز ہوتے ہوں ، زندگی کے اوراق میں سے ایک ورق یہ بھی ہے ایک یاد ماضی کی دنیا میں مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا وہ بھی ایک سرد رات تھی اور میں اپنی والدہ کے ساتھ پارٹی میں جانے کے لیے بہت زیادہ بے تاب تھا محلے کی ایک دعوت تھی ابھی ہم باہر نکلے ہی تھے کہ بارش شروع ہو گئی خیر کچھ دیر رک کر دعوت والے گھر پہنچ ہی گئے والدہ عورتوں والے حصے میں چلی گئیں اور میں مردوں کے ڈرائنگ روم میں جا کر بیٹھ گیا اور نت نئے باتوں کا سلسہ شروع ہو گیا ، سیاست کھیل شوبز اسلام اور آ خر میں اردو لٹریچر پر بھی بات شروع ہو ئی میں نے بھی اپنے دلائل دینے شروع کیے وقت کا پتا ہی نہیں چلا میں نے اپنی گھڑی میں دیکھا تو رات کے نو بج رہے تھے سردی سے موسم بڑا خوشگوار ہو گیا تھا میرے ساتھ دو تین حضرات آ پس میں چہ مگؤئیاں کر رہے تھے شاید انھیں بھی میری طرح چائے کی طلب ہو رہی تھی کچھ دیر بعد ہم سب چھت پر موجود تھے جہاں دعوت کا اہتمام تھا ایک خوبصورت لڑکی چھوٹی عمر کی لڑکی میری طرف بڑھتی ہے تو میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہونا شروع ہو جاتی ہیں لڑکی نے لائٹ پنک کلر کا سوٹ پہناہوا تھا اور ہلکا سا میک اپ بھی کیا ہوا تھا وہ کیتلی سے کپ میں چائے ڈال کر اور مجھ سے پوچھ کر دو چمچ چینی ڈال کر جیسے ہی مجھے پیش کرتی ہے تو ہم دونوں کی نظریں ایک دوسرے سے ٹکڑاتی ہیں تو چائے پکڑاتے پکڑاتے مجھ پر گر جاتی ہے لڑکی مسکرا کر سوری کر کے چلی جاتی ہے لیکن میں وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہتا ہوں ۔

ماضی کی یادوں سے جیسے ہی میں واپس آ یتا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں کہ میری میز پر چائے پڑی ہے چائے دیکھ کر میرے اندر جیسے روشن ہو گئے میرے اندر پھر سے ایک نئی امنگ جاگنے لگی اور جیسے میں نے گرما گرم چائے اٹھا کر ایک گھونٹ کا سپ لیا تو ہاتھ میں پکڑا قلم خود ہی کاغذ پر چلنے شروع ہو گیا چائے کے ساتھ ساتھ نئی کہانی کا جنم ہو گیابالکل ایسے ہی جیسے کسی نئے لکھاری کا جنم ہوتا ہے ۔

(ختم شد)

"ہم ,چائے اور لکھاری”

لفظ چائے دراصل چینی زبان کا لفظ ہے جو دو لفظوں سے مرکب ہے "چا” اور”ئے” -"چا” اس مشروب کو کہتے ہیں جس میں یہ بو ٹی ڈال کر گرم کرکے اس کا عرق نکالا جاتا ہےاور” ئے” پتی کو کہتے ہیں جو پینے کے لیے نہیں بلکہ پھینکنے کے لیے ہو تی ہے-لغوی معنوں میں سبز گھاس کو کہا جاتا ہے لیکن اصطلاحاً اس پودے کے لیے استعمال ہونے لگا جس سے "چاہ ” بنائی جاتی ہے- انگریزی میں اس کو "ٹی ” کہتے ہیں-
چائے دنیا کا پسندیدہ مشروب ہے-اور دور حاضر میں استعمال ہونے والا کثیر الاستعمال مشروب ہے- چائے ایسا مشروب ہے جسے آج کل ساری دنیا میں بڑے شوق سے پیا جاتا ہے- گو کہ اس کی شکل مختلف ممالک میں کچھ مختلف ہو سکتی ہے- ہمارے ملک میں چائے کو جس محبت اور عقیدت سے سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے وہ اور کسی مقام پر کم ہی دیکھنے کو ملے گا-دور حاضر میں دوسرے مشروبات کی نسبت چائے کو زیادہ ترجیح حاصل ہے – زیادہ تر میزبان مہمانوں کی خدمت میں چائے ہی پیش کرتے ہیں – مزید برآں چائے دوسرے مشروبات کی نسبت زیادہ پسند بھی کی جاتی ہے اور لوگ کی زیادہ تعداد اس کو اشتیاق سے نوش فرماتے ہیں- تحریر کے پیش نظر چائے کے حوالے سے ایک غزل ثریا صاحبہ کی ملاحظہ فرمائیں :
کاغذ قلم دوات لیا اور اٹھالی چائے
ہم نے تخیلات میں پھر سے بنالی چائے
خود بھی ہے تلخ اور سبھی سبھی تلخیوں کا حل
بد رنگ و بدمزاج سی یہ کالی کالی چائے
فکر سخن کے وقت مری ہم نشین ہے
سانسوں سے تیری مہکی ہوئی اک نرالی چائے
آتا ہے چائے نوشی میں بھی لطف مے کشی
وقت طلب ملے جو درا تیز والی چائے
کھلنے لگا جو مجھ کو سکوت شب فراق
میں نے بھی اضطراب میں اٹھ کر بنالی چائے
چائے تو میں نے پی ہے ثریا ہزار بار
لیکن نہ مل سکی وہ ترے ہاتھ والی چائے
ہم ,لکھاری اور چائے کا کپ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں – لکھاری جواپنے جذبات کو الفاظ کا جامہ بہت خوبصورتی سے پہناتا ہے اس میں بہت حد تک چائے کا دخل ہے- چائے ایک سوغات بھی ہے اکثر لکھاریوں سے ملاقات ہو تو وہ عقیدت میں چائے جیسے مشروب کو خدمت کے طور پرپیش کرتے ہیں – موجودہ دور کے نوجوانوں لکھاریوں کے لیے چائے ان کے لیے ایک کریز کی حیثیت رکھتی ہے-ہم اکثر کچھ لکھاریوں سے ملاقات کو جائیں تو وہ بھی چائے جیسے مشروب کو مہمان کی خدمت کے لیے اوّلین ترجیح دیتےہیں – میری نظر میں ایسا کوئی لکھاری نہیں جس سے بھی ہم ملے ہوں تو اُس نے میزبان کی حیثیت سے مہمان کے لیے چائے نہ رکھی ہو اس لیے لکھاریوں کے نزدیک بھی چائے کو ہمیشہ دوسرے مشروبات سے سبقت حاصل ہے-لکھاری کا بہترین عاشق اُس کا قلم ,کتاب اور چائے ہے- لکھاری اگر لکھتا ہے تو خیالات کو بہت عمدگی سے الفاظ کے موتیوں میں پروتا ہے تو چائے کا اس میں اہم کردار ہوتا ہے-
ہم زندگی کی گہما گہمی میں اور مصروفیات سے لبریز زندگی میں بہت کم ایسے لمحات میسر آتے ہیں کہ جس میں ہم سکون سے بیٹھ سکیں لیکن چائے ایک بہترین ذریعہ ہے جس کے بہانے ہم کچھ پُر سکون لمحات گزارتے ہیں اور چائے نوش فرماتے ہیں- لکھاری کے لیے لکھنے کے دوران چائے کا کپ ایک معجزے کا کام دیتا ہے جس سے ذہن میں عمدہ خیالات اُمڈ آتے ہیں – لکھاری کے لیے چائے اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے جتنی پانی کی اہمیت ہماری زندگی میں ہے-
چائے میں وہ لذت ہے جو قدیم دور کے شعراء کی نظر میں شراب یعنی مے کی تھی- آج کے لکھاری چائے کو مے پر ترجیح دیتے ہیں – موجودہ دور کے لکھاری کے نزدیک چائے بے حد پسندیدہ مشروب ہے- اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب مے کی جگہ چائے کو شاعری میں اہمیت حاصل ہے-مے یعنی شراب کی جگہ چائے پر شاعری لکھی جاتی ہے- جیسے مے پر لکھا گیا شعر غالب صاحب کا شعر ملاحظہ ہو:
قرض کی پیتے تھے مے اور سمجھتے تھے کہ ہاں ..
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن..
لکھاری تلخیوں کی بھول بھلیوں سے نکلنے اور اداس شاموں کو خوشگوار چائے سے بناتا ہے- چائے سے لکھاری زندگی کی تلخیوں سے کئی دور نکل کرایک سہانے منظر کی طرف کوچ کر جاتا ہے- موجودہ دور کا لکھاری جو لذت چائے میں محسوس کرتا ہے وہ مے اور کسی اور مشروب میں کہا ں کرتا ہے- مے میں وہ سرور کہا ں جو چائے میں ہم کو میسر ہوتا ہے- چائے اور لکھاری دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کچھ لمحے بسر کرتے ہیں وہ لمحے کہیں بھی میسر نہیں ہوتے- علاوہ ازیں دور حاضر کے لکھاری کے لیےجو سب سے مخلص اور سچا عشق ہے وہ چائے کی پیالی ہے- بقول انور مسعود:
چائے ہی چائے بدن میں ہے لہو کے بدلے
دوڑتا اب ہے رگوں میں یہ ہی تنا پانی
تجھ میں کسی بل ہے تو دنیا کو بہا کرلے جا
چائے کی پیالی میں طوفان اٹھاتا کیا ہے
چائے طبیعت میں فرحت و انبساط پیدا کرتی ہے – مزید برآں لکھاری کی اگر شام میں اداسی کی فضا ہو تو چائے اُس کو ان تفکرات سے نکال کر سکون کے لمحات میسر کرتی ہے- ہم ,چائے اور لکھاری ان سب کا تعلق ایسا ہے جو تاحیات قائم و دائم رہنے والا ہے- بشیر بدر نے کیا خوب لکھا ہے:
ہنس پڑی شام کی اداس فضا
اس طرح چائے کی پیالی ہنسی
از کومل شہزادی

ہم ، چائے اور لکھاری

کہا جاتا کہ کچھ عادتیں آپکو وراثت میں ملتی ہیں ۔اسطرح بہت سی عادتوں کے ساتھ چائے پینے کی عادت بھی مجھے اپنے بڑوں سے ملی۔نانی جان کھانے کی جگہ بھی چائے پینے پہ اکتفا کرتی تھیں ۔اور ادھر دادا جان سکول ماسٹر ہونے کی وجہ سے چائے کے دلدادہ تھے۔سونے پہ سہاگہ میری ان دونوں ہستیوں سے گہری محبت اور والہانہ وابستگی رہی۔یعنی میری شخصیت میں ان ہی کا عکس نظر آتا ہے۔پہاڑی علاقے سے تعلق کی بنا پہ بھی میرا چائے سے گہرا رشتہ ہے۔کوٹلی ستیاں کا سرد موسم اور وقت بے وقت بارش۔۔ایسے میں چائے نہ ہو تو گزارا نہیں ہوتا۔
لاپرواہ سی طبیعت کی مالک تھی سارا سال نہ پڑھنا اور پیپر سے ایک رات پہلے ساری رات جاگ کے پڑھنے کی عادی ۔۔اس پہ کسی کا یہ قول زریں بھی سن لیا کہ چائے پینے سے نیند نہیں آتی۔سو پنجم سے میٹرک تک تھرماس بھر کے پاس رکھنا اور رات بھر چائے پیتے جانا اور پڑھتے رہنا۔۔۔۔
گھر والوں سے بہت ڈانٹ بلکہ امی سے اکثر مار بھی پڑی کیونکہ میں نے ہمیشہ دودھ سے انکار کر کے چائے پینے کی ضد کی۔
وقت پر لگا کے اڑ گیا میں کب کیسے ادب سے جڑی اور سرکاری سکول کی استانی بنی یہ ایک الگ کہانی ہے۔ہاں چائے پینے کی عادت پختہ ہو چکی ہے ۔اب یہ عالم ہے کہ سکول میں بریک کے وقت چائے نہ ملے تو سر درد کرنے لگ جاتا ہے۔سر شام نمل یونیورسٹی کے کیفے میں چائے پینے کا ایک اپنا مزا ہے۔رات کو گھر والے جب پرسکون نیند سو جاتے میں دبے پاوں کچن کا رخ کرتی۔کڑک چائے کا مگ بھر کے خاموشی سے اپنے کمرے میں لوٹ آتی۔میرے گرد کتابوں اور کاغذوں کا ایک ڈھیر موجود ہوتا۔کبھی پڑھنے لگ جاتی کبھی لکھنے۔۔۔اور ساتھ ساتھ چائے کی چسکیاں ۔۔۔۔۔نصابی کام کرتے کرتے ذہن میں کوئی خیال بجلی کی طرح کوند جاتا اور کبھی کوئی مضمون کبھی کوئی ادھوری سی کہانی دماغ میں اترنے لگتی ہے۔۔۔قلم اور کاغذ سنبھالتی اور لکھتی جاتی ۔۔یہاں تک کے چائے ختم ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔قلم بھی رک جاتا ہے۔۔۔سچ پوچھیے تو چائے اور لکھاری کا وہی تعلق ہے جو قلم کا سیاہی سے ہے ۔
ایک بار میرا لاہور جانا ہوا۔تپتی دوپہر میں گھوم گھوم کے جب کھانے پینے بیٹھے تو میزبان نے لسی پینے کی تجویز دی ۔لیکن میں نے بلاجھجھک چائے کی فرمائش کر دی۔وہ دیر تک مجھے گھورتے رہے اور میں گرمی میں سکون سے چائے پیتی رہی۔۔بس اتنا ہی گہرا رشتہ ہے میرا چائے سے۔

شمائلہ عزیز(افشی رانی) اسلام آباد

ہم چائے اور لکھاری
چائے کی چسکی کھڑکی کے باہر بارش کا سماں لکھنے والے کو مزید لکھنے کے لے راغب کرتا ہے۔مضمون یا کہانی کا مسالہ چائے کی چسکی لیتے ہوئے دماغ میں کلا بازی کرتا ہوا قرطاس پر نکھر کر آجاتا ہے۔جس کو جو کہنا ہو کہہ دے لیکن چائے کی چسکی قلم اور قرطاس عجیب کیفیت لکھتے ہوئے غالب ہوتی ہے ،لفظوں کے جھرمٹ کو جب تک خوبصورت اختتام نہ دیں تب تک روح بے چین رہتی ہیں تب چائے کی چسکی کام آجاتی ہے۔
لکھاری اور چائے ان دونوں میں ایک روحانی رشتہ ہے، لکھاری جب چائے کے بارے میں سوچتا ہے تو پاس کی زندگی فلسفہ سمجھنے کا پہلا پڑاؤ ہوتی ہے۔ چائے پیتے پیتے قلم کب خیال کا مرکز بن جاتا ہے۔ پتہ ہی نہیں چلتا۔
یہ چائے ہی ہے ۔نہیں سمجھ نہیں آیا ،چائے بنانے کا بالکل آسان طریقہ یہ ہے کہ چائے پتی پانی دودھ اور لکھنے کے لے قلم اور کاغذ ۔چائے پیالی میں اور تحریر کو قرطاس پر لانا زندگی کے کسی موضوع کو لکھنا ،سمجھ جائیں چائے کی چسکی ذائقہ دار ہو تحریر لکھتے وقت لذت بھی نمایاں نظر آجاتی ہے۔
آپ کسی ادبی محفل میں چائے اور محفل میں چائے کا ذائقہ نہ لے تو محفل کا پھیکا رنگ لگتا ہے۔سینر لکھاریوں سے ان کے تجربات اور تحریر کے نوک پلک میں کب سنجیدگی نمایاں ہو، سینئر اور جونیر کے درمیان چائے کی چسکی لیتے لیتے دوستانہ ماحول پیدا ہو جاتا ہے اور یہ سب چائے ہی کا کمال ہے۔
لکھاری چائے نہ پیتا ہو یہ نہیں ہو سکتا، قلم ہاتھ میں سوچ کی دنیا میں غوطہ زن ہورہا ہو اور ساتھ میں رکھی ٹھنڈی چائے ایسے جیسے بہت گرم ہو اور یہ احساس ہی نہیں یہ گرم ہیں یا ٹھنڈی لکھنے کے بعد یاد آئے کیا میں نے چائے پی کہ نہیں۔
چائے اور لکھاری پر مجھے اپنے نانا یاد آگئے۔ جب سنجیدہ موضوع پر موضوع لکھنا ہوتا تھا تب وہ چائے میں نمک اور چینی ملا کر پیتے تھے اور بہت ہی مزے سے پیتے تھے ۔اس وقت میں دل میں دعائیں مانگا کرتی تھی اللہ میاں میرے اندر بھی اتنا ہی درد پیدا کر دے کہ میرے قارئین میری تحریر کا تقاضا کیا کریں اور پیبلشر مجھ سے ہر روز تحریر مانگا کریں ، معصومانہ خواہش تھی اور اب بھی ہے ۔چائے اور لکھاری کا ساتھ چولی دامن کا ہے جیسی چائے اور لکھاری لکھتے وقت ایک دوسرے کا ساتھی ،لکھتے وقت ہوا کی کھنک ناگوار گزرتی ہے لیکن چائے کا ساتھ دل کا سکون۔
از قلم خدیجہ کشمیری

مقابلہ ہم چائے اور لکھاری

از سارہ عمر
چائے سے قاری اور لکھاری کا خاصہ گہرا رشتہ ہے-کچھ قاری ایسے ہیں کہ کتاب پڑھتے اگر چائے کی چسکیاں نہ لی جائیں تو پڑھنے کی چس ہی نہیں آتی-بالکل اسی طرح لکھائی حضرات بھی چائے کی چسکیاں لیتے لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں.
کچھ لوگ تو چائے کا نشہ بھی کرتے ہیں-مرد حضرات اکثر سگریٹ اور چائے دونوں کے نشے میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ خواتین صرف چائے کے ہی نشے میں مبتلا پائی جاتی ہیں-مگر اس نشے کا سفر چائے، کالی چائے، سبز چائے، پودینے والی چائے، ملائی والی چائے، الائچی والی چائے، دودھ پتی،گلابی چائے سے ہوتا ہوا کافی، بلیک کافی، کپیچینو تک جا پہنچتا ہے-
چائے پاکستانیوں کا دل پسند اور محبوب مشروب ہے-ہر کوئی اس کی شان میں قصیدے پڑھتا نظر آتا ہے-ہر موقع پہ اس کی ضرورت نکل ہی آتی ہے-سردیوں میں سردی سے بچنے کے لیے پی جاتی ہے جبکہ گرمیوں میں دردِ سر سے بچنے کے لیے پی جاتی ہے-امیروں میں” ہائی ٹی” کہہ کر پی جاتی ہے اور غریبوں میں "ہائے ٹی” کا نعرہ لگا کر پی جاتی ہے-کوئی گھر، دفتر، بازار، غرضیکہ کوئی جگہ اس کے متوالوں سے محروم نہیں – البتہ لکھاری اور قاری اس بہت عزت اور احترام سے پیتے ہیں –
پہلے ماحول بناتے ہیں – خاموشی ہو جسمیں اپنے اندر کی آوازیں سنی جا سکیں – سکون ہو جس میں چائے کے گرم کپ کا لطف اٹھایا جا سکے-کاغذ قلم کا ساتھ ہو اور خیالات کے دریچے وا کر دیئے جائیں – بھاپ اڑاتی چائے کے سنگ الفاظ قطار در قطار ورق پہ اترتے جائیں اور سلسلہ اس وقت منقطع ہو جب چائے کا اخری گھونٹ حلق سے اترے اور مزید چائے کی طلب بڑھ جائے –
مجھے بھی ساری زندگی چائے نے نشے میں مبتلا رکھا مگر پھر سالوں بعد اس کی جگہ اس کی بہن کافی نے لے لی- سعودیہ آنے پہ یہاں کی کافی شاپس نے مجھے اپنے سحر میں گرفتار کر لیا-یہاں کافی پینے والوں کی تعداد کے باعث ایسی ایسی کافی شاپس بنائی گئی ہیں کہ دیکھ کر بے اختیار دل چاہتا ہے
"ایک کپ کافی ہو جائے” –
سڑک کنارے بنائی گئی کافی شاپس کو مصنوعی درختوں، پھولوں، برقی قمقموں سے سجا کر ایسا ماحول پیدا کیا جاتا ہے کہ کافی، شائی(چائے) اور قہوے کے ایک ایک گھونٹ کا لطف دوبالا ہو جائے-ان کافی شاپس میں کثیر تعداد میں بزنس مین بھی پائے جاتے ہیں جو اپنی اکثر ڈیلز ایک کافی کی پیالی پہ طے کر لیتے ہیں-
کافی کی خوشبو مجھے بھی ایسے خمار میں مبتلا کر دیتی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے-
رات کی تاریکی میں کتنے ہی افسانے لکھتے کافی کے کپ نے میرا ساتھ ایک ہمسفر کی طرح نبھایا ہے-ایسا لگتا ہے کہ رات کے اس پہر بھی کرداروں کے ساتھ ایک جیتا جاگتا کردار موجود ہے-جو ہر گھونٹ کے ساتھ اپنے ہونے کا احساس دلاتا ہے-
آخر میں بس اتنا کہوں گی ضروری تو نہیں ہر کوئی چائے کے نشے میں مبتلا ہو کچھ لوگ اس کی بہن کے عشق میں بھی گرفتار ہو جاتے ہیں -اب بتائیں آپ کس کے عشق میں گرفتار ہیں؟
سارہ عمر



برائے
مقابلہ : چائے ، ہم اور لکھاری

ہم سے لکھنے کے تقاضے نہ نبھائے جاتے
بھر کے کپ چائےکے ہم کو نہ پلائے جاتے

چائے کا کپ جو نہ ملتا تو یہ اندوہ نصیب
رات بھر لکھتے بھی رہتے نہ سراہے جاتے

لکھیں ناول کہیں بھیجیں یہ کہاں تھی قسمت
پی کے چائے ہیں نئے شوق نبھائے جاتے

کاش اے چائےترے ملتے رہیں خوش ذائقہ کپ
تیرے دم پر ہی ہیں ہم بزم میں چاہے جاتے

ہے ترے ذائقہ ، تاثیر کا شہرا کیا کیا
چائے پیتے ہی لکھاری ہیں سراہے جاتے

لکھنے والوں میں کیوں ہم بھی نہ ہوتے نزہت
چاہ چائے ہر جا ، آتے بگاہے جاتے

نزہت وسیم

ہم , چائے اور لکھاری

یوں تو اکثر یہی سنا
کہ چائے صاحبہ لکھاریوں کا پہلا پیار رہی ہیں
مگر آج آپ ہم سے بھی ملیے
ہم ہیں تعبیر علی
پیار سے بلانے کے لیے تو اتنے نام ہیں کہ اگر بتانا شروع کریں تو یہ مضمون چائے کی بجائے ہمارے ناموں سے منسوب ہو جائے گا
(تھوڑا سا ہنس لیں ?
اوہ بہت شکریہ
ھاھا)
اچھا تو سنیں
ہم بھی لکھتے ہیں
مگر یہ تک نہیں یاد کہ چائے آخری بار کب پی تھی
شاید مہینوں پہلے
ہم کسی کے گھر جائیں تو بھی کوشش ہوتی ہے کہ چائے پینے سے بچ ہی جائیں
(ہاں البتہ چائے میں بسکٹ ڈبو کے کھانے پہ ہمیں کبھی اعتراض نہیں ہوتا)
یونہی چائے کے حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ ہوا
جو اب بھی یاد آئے تو ہنسی آ جاتی
کہ ہوا کچھ یوں
ہمارا ہمارے چاچو کے گھر جانا ہوا
اب چاچو مہمان داری کے لیے پوچھنے لگے کہ چائے بنائی جائے یا کولڈ ڈرنک
ہم فٹ بولے
نہیں چاچو چائے تو ابھی دو ہفتے پہلے ہی پی تھی
(دو ہفتے پہلے بھی ایک مہمان داری کا شکار ہو کے آدھا کپ پینی پڑی تھی)
اور چاچو ہنستے رہے
کہ لو کہہ تو ایسے رہیں جیسے ابھی دو منٹ پہلے پی ہو
تو جی یہ تھی ہماری چائے صاحبہ ساتھ دور کی تعلق داری
ہاں مگر کچھ عرصہ پہلے ہم نے چائے پینے کی کوشش بھی جاری کی تھی
(فور سم ون سپیشل اہمممم اہمممم)
مگر زندگی نے ذرا کچھ جھٹکے دیے تو جہاں بہت سے خواب آنکھوں سے گرے
وہیں یہ چائے پینے کی کوشش بھی کہیں کھو گئی
اور شاید یہی وجہ کہ ہم کبھی شاذ و نادر چائے پینے کی کوشش کریں بھی
تو تقریبا ہر بار پہلے گھونٹ پہ ہی زبان جلا کر چائے صاحبہ ہم سے بدلہ لے لیتی ہیں کہ ہور نہ پیو مینوں

مگر پھر بھی ہمیں چائے صاحبہ بری نہیں لگتیں
بلکہ ہمیں ان سے محبت ہے
کیونکہ جن سے محبت ہو ان سے منسوب چیزوں سے خود ہی محبت ہو جاتی ہے
اور ہماری بھی ایک محبوب ہستی ہیں جن کو چائے پسند ہے

یہی وجہ کہ ہم نے چائے پہ شعر بھی کہے

عرض کیا ہے

ہمارے بعد تمہیں کون ایسے چاہے گا
گلاب بھیجے گا کون تم کو چائے ساتھ
_____
چائے کا سارا کپ تمہارا ، پر
آخری گھونٹ خود پی جاوں گی
_____

اور شاید اس گروپ میں ہماری یہ پہلی پوسٹ ہے
سو آپ لوگ ہمیں چائے نہیں تو مینگو ملک شیک پلا کر تو خوش آمدید کہہ ہی سکتے ہیں ناں
کیونکہ اب تو آپ جان ہی گئے ہونگے کہ ہر لکھاری چائے نہیں پیتا

تعبیر علی

مقابلہ ایونٹ

چائے اور ہم لکھاری

غم سنائیے نہ ہائے کیجیۓ
آئیے بیٹھیے چائے پیجیئے

لکھاری اور چائے کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔جیسے قلم میں موجود روشنائی صاف کاغذ پر لفظوں کی صورت تحریر لکھتی ہے ،وہیں چائے لکھاری کے دل و دماغ میں سوچوں کی روشنائی کا کام سر انجام دیتی ہے اور نت نئے خیالات اس کے خالی ذہن میں بھر دیتی ہے۔
لکھاری کے جذبات چائے کی رنگت اور اس کی مٹھاس کی مقدار کے ساتھ ساتھ بدلتے ہیں۔تیز پتی کی چائے قلم میں تیزی اور حلاوت گھول دیتی ہے،جبکہ میٹھا اس کے قلم سے نکلنے والے لفظوں میں چاشنی کی صورت جھلکتا ہے۔
چائے ایک چسکا ہے جو لکھاری کا ہیش ٹیگ ہے۔جہاں چائے ہو گی ضروری نہیں وہاں لکھاری ہو ،ہاں مگر جہاں لکھاری ہوگا وہاں چائے ضرور ہوگی۔
لکھاری کو اپنے ٹیبل پر رکھی چائے کسی دلفریب گلدستہ کی مانند لگتی ہے۔جس کی خوشبو اس کے رگ و پہ میں اتر جاتی ہے۔خدا کرے چائے اور لکھاری کا ساتھ تادم آخر قائم و دائم رہے ۔آمین
ثمرین افتخار

مقابلہ ایونٹ

ہم، چائے اور لکھاری

تنزیلہ احمد

چاہنے والوں کے دلوں میں چائے کو اعلی و ارفع مقام حاصل ہے۔۔ اسی لیے وہ مشہور گانا بنا تھا "شاید میری شادی کا خیال دل میں آیا ہے اسی لیے ممی نے میری تمھیں چائے پہ بلایا ہے” اور پھر بات بڑھتی ہوئی "اک گرم چائے کی پیالی ہو اور اس کو پلانے والی ہو” تک جا پہنچی۔۔

او ہو معاف کیجئیے گا بات پتا نہی کدھر کو نکل گئی میں تو بس یہ کہنا چاہ رہی تھی کہ چائے اور چاہنے والوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور اگر چاہنے والے لکھاریوں کے روپ میں پائے جاتے ہوں تو پھر چاہتوں کا کوئی شمار نہی رہتا بشرط یہ کہ ان کا قلم نا رکنے پائے اور نا ہی تاثیر میں کبھی کوئی کمی واقع ہو۔۔!

خیر جو بھی ہے بات "چائے سے چاہ” اور "چاہ سے چائے” تک بخوبی پہنچ جاتی ہے۔۔ چائے سے محبت کرنے والے دیوانے بیسیوں مل جائیں گے مگر لگاوٹ سے چائے کے گھونٹ بھرتے ہوئے رنگین سپنے سجانے اور تخیل میں غوطہ خوری کرنے والے لکھاری کم ہی ملیں گے۔۔ وہ اس لیے کہ ضروری نہی کہ ہر لکھاری چائے کا دلدادہ ہو ہاں مگر چائے کے لیے انسیت بہرکیف ہو سکتی ہے۔۔

ہم لکھاری صاحبان کچھ لکھنے کا سوچنے بیٹھیں تو چائے چائیے۔۔ بھاپ اڑاتی چائے کا کپ قلم کو چلانے کے لیے پٹرول کا سا کام کرتا ہے۔۔ اور اگر ہم لکھتے لکھتے تھک جائیں تو تھکن مٹانے کے لیے چائے کی طلب ہونا تو لازمی امر ہے۔۔

بسا نہی اکثر اوقات یوں ہوتا ہے کہ رواں قلم چلتے چلتے اڑیل گھوڑی سا اڑی کرنے لگتا ہے تو زہن پہ گرد کے ہیولے چھا جاتے ہیں اور کچھ سجھائی نہی دیتا۔۔ زرخیز زہن پہ چھائی سستی بھگانے اور تخیل پہ تنے جالوں کے بیچ و بیچ شکار کی مانند اٹکی نیم جان تعمیری سوچوں کو آزادی دلوانے کے لیے لائٹ براؤن خوشبو دار گرما گرم چائے کی چھوٹی چھوٹی چسکیاں بھرنا کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔۔ چاہیں تو آزما کے دیکھ لیں۔۔!

قصہ مختصر یہ کہ ہم، چائے اور لکھاری ساتھ ساتھ ہیں۔۔ اس میں کوئی دو رائے نہی کہ قلم کاروں کے شب و روز میں چائے کی اہمیت ناگزیر ہے اور تاحیات رہے گی بھی۔۔ چائے کی محبت میں ایک شعر آپ سب کی نظر۔۔

چھوڑو کیا رکھا ہے دل کی بچگانہ باتوں میں

آؤ چائے پیتے ہیں سردیوں کی شاموں میں

(تنزیلہ احمد)

——————


October 20 at 11:52 PM

ہم چائے اور لکھاری
زندگی میں دو ہی شوق تو پالے ہیں۔ایک لکھنا دوسری چائے۔دونوں لازم و ملزوم ہیں ۔ایک کے بغیر دوسرا ناممکن۔یعنی جب تک ہم چائے نہ پی لیں کچھ لکھ نہیں سکتے ۔بلکہ یوں کہیں کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ایک چائے کا کپ کیا کیا حکیمانہ خیالات ذہن میں لانے کا سبب بن جاتا ہے۔اور ہم اپنے آپ کو شاعر لکھاری نقاد اور مفکر اللہ جانے کیا کیا سمجھ بیٹھتے ہیں۔اور اگر کبھی چائے نہ ملے تو سارے عالمانہ خیالات یوں دماغ سے پرواز کر جاتے ہیں کہ لاکھ دماغ کھپانے کے باوجود کوئی علمی نکتہ دماغ میں نہیں آتا۔چائے سے ایک پرانا واقعہ یاد آیا جب ہم میٹرک میں پڑھتے تھے۔میٹرک کے امتحانات قریب تھے ۔میرے ساتھ چھوٹی خالہ اور بڑی باجی نے بھی پیپر دینے تھے۔سو ہم نے پروگرام بنایا کہ رات کو دیر تک پڑھیں گے۔اب پڑھنا ہے تو ساتھ چائے بھی لازمی چاہیے۔چاۓ کی تھرماس تیار کی گئی۔سردیوں کے دن تھے گرم کمرے میں بیٹھ کے پڑھائی شروع کی گئی۔ابھی آٹھ بجے تھے تے باجی کہنے لگی چائے نہ پی جائے۔میں نے کہا کیوں نہیں تو پھر چائے پی گئی۔اور چائے پیتے ہیں باجی یوں سوئی جیسے چائے میں نیند کی گولی تھی۔اور ہم چائے کی ایک کپ کے لالچ میں ایک گھنٹہ اور گزار چکے تو خالہ سےبولے مجھے نیند آرہی ہے کیوں نہ چائے پی لے جائے۔ذرا فریش ہو جائیں گے۔تو پھر جناب ہم نے چائے پی۔جیسے ہی چائے ختم ہوئی ہم بستر پر دراز ہو گئے۔خالہ کو خدا حافظ کہا ہاں اور کل دیر تک پڑھنے کا وعدہ کیا جو کہ کبھی ایفا نہ ہو سکا۔خالہ بچاری رات ایک بجے تک پڑھتی رہی اور ہم خواب خرگوش کے مزے لیتے رہے۔یہ الگ بات ہے کہ چائے نے ہمارا دماغ اتنا روشن کردیا تھا کہ پاس ہمیں زیادہ نمبروں سے ہوئے۔لکھاری اور چائے کا ساتھ بہت پرانا ہے۔قلم ہاتھ میں چلنے سے انکار کر دیتا ہے ہے جب تک ہاتھ میں چائے کا کپ نہ ہو ۔چائے اور میرا ساتھ تو بہت پرانا اور گہرا ہے میری صبح چائے کے بغیر ہوتی ہی نہیں۔اور کسی کام کا آغاز ہو ہی نہیں سکتا جب تک چاے نہ
پی لی جائے۔ایک لکھاری تو چائے کے بغیر ادھورا ہے چاے کی ایک پیالی اس کے تخیل کی اڑان کو دور لے جاتی ہے ۔اور لفظوں کے موتی صفحہ قرطاس پر بکھر جاتے ہیں۔میں تو یہ سمجھتی ہوں۔میرا قلم چائے کا محتاج ہے۔اس کے بنا میرا تخیل ادھورا ہے۔اس گروپ میں میری پہلی تحریر اور وہ بھی چائے پر۔اپنی یادوں کو لکھنے بیٹھوں تو قلم رک نہیں پائے گا مگر میں اس پیغام کے ساتھ اپنی تحریر کا اختتام کروں گی۔ کبھی کبھی چائے کا ایک کپ لے کر تنہائی میں بیٹھیے اور پرانی یادوں کو ذہن میں
تازہ کیجئے اچھے دوستوں کو یاد کیجئے یے خوشگوار لمحات کو یاد کیجئے چند لمحات اپنے ساتھ جی لینے سے آپ کو
اپنی زندگی میں میں نیا جوش اورولولہ محسوس ہوگا۔اور زندگی کی گہماگہمی میں اپنی روٹین لائف میں تازہ دم ہو کر واپس آئیں گے ۔
مسز علی

ہم، چائے اور لکھاری
تحریر: مریم صدیقی

چائے جسے سید المشروبات کہا جاتا ہے جسے ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں دو ارب لوگ نوش کرکے اپنے دن کا آغاز کرتے ہیں۔ لفظ چائے، چاءسے نکلا ہے یہ اور اس کے لیے انگریزی زبان میں مستعمل tea دونوں چینی زبان کے لفظ ہیں۔ چائے کی تاریخ پانچ ہزار سال پرانی ہے، اس کا استعمال سب سے پہلے 2737 قبل مسیح میں شہنشاہ شینانگ کے عہد میں چین سے شروع ہوا۔ یورپ میں چائے 16ویں صدی کی ابتداءمیں متعارف کروائی گئی۔ ابتدا میں اس کے مہنگے ہونے کے باعث اسے امرا کا مشروب تصور کیا جاتا تھا لیکن جلد ہی عوام میں مقبولیت حاصل کرکے یہ برطانیہ کا قومی مشروب بن گئی۔
چین میں چائے کو بطور قہوہ نوش کیا جاتا ہے وہاں چائے میں چینی اور دودھ ملا کر پینے کا تصور نہیں اسی کے حوالے سے اردو کے معروف ادیب و دانشور مولانا ابولکلام آزاد غبار خاطر میں لکھتے ہیں، ”چائے چینیوں کی پیداوار ہے اور چینیوں کی تصریح کے مطابق پندرہ سو برس سے استعمال کی جارہی ہے لیکن وہاں کسی کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں گزری ہوگی کہ اس جوہر لطیف کودودھ کی کثافت سے آلودہ کیا جاسکتا ہے۔ مگر سترہویں صدی میں جب انگریز اس سے آشنا ہوئے تو نہیں معلوم ان لوگوں کو کیا سوجھی کہ ان لوگوں نے دودھ ملانے کی بدعت ایجاد کی اور چوں کہ ہندوستان میں چائے کا رواج انہیں کے ذریعے ہوااس لیے یہ بدعت سیئہ یہاں بھی پھیل گئی۔ رفتہ رفتہ معاملہ یہاں تک پہنچا کہ لوگ چائے میں ددھ ڈالنے کے بجائے دودھ میں چائے ڈال کر پینے لگے“۔
چائے ہر خاص و عام کا پسندیدہ مشروب ہے، 15دسمبر کو چائے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اکثر لوگ اسے بطور نشہ نوش کرتے ہیں (یعنی کثیر تعداد میں) جن میں ایک مخصوص طبقہ ان لوگوں کا ہے جو کسی بھی تخلیقی کام سے وابستہ ہیں۔ چائے میں موجود کیفین پینے والے کے ذہن اور جسم کو ترو تازگی فراہم کرتی ہے ۔چائے تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانے میں مددگا ر ثابت ہوتی ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق چائے دماغ میں موجود یادداشت کے خلیوں کو تیز کرتی ہے۔
دیگر تخلیق کاروں کی طرح لکھاری حضرات کے لیے بھی چائے ان کی زندگی کا اہم جزو تصور کیا جاتا ہے۔ قلم اور قرطاس کے ساتھ جب تک گرم بھاپ اڑاتا چائے کا کپ نہ ہو قلم چلنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ اس کی بہترین مثال لاہور کا چائے خانہ ہے جو پاک ٹی ہاوس کے نام سے جانا جاتا ہے جسے فنون لطیفہ سے منسلک معززین بطور بیٹھک استعمال کیا کرتے تھے۔ پاک ٹی ہاوس کو رونق بخشنے والی شخصیات میں سعادت حسن منٹو، ابن انشاء، فیض احمد فیض، منیر نیازی، ناصر کاظمی، کمال رضوی، میرا جی، استاد اما نت علی خان، سید سجاد رضوی، افتخار جالب، کشور ناہید، مظفر علی سید اور دیگر نام قابل ذکر ہیں۔ وہ منظر بھی کیا خوب ہوتا ہوگا جب چائے کی پیالیاں ان تخلیق کاروں کے سامنے پیش کی جاتی ہوں گی اور وہیں بیٹھ کر چائے نوش کرتے ہوں گے، وہیں اردو ادب نے معراج کی منازل طے کی ہوں گی۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ چائے اور لکھاری کا تعلق قلم اور قرطاس جیسا ہے۔ لکھاری و شعراءحضرات کا چائے سے شغف کایہ عالم ہے کہ چائے کو موضوع بنا کر کئی فن پارے تخلیق کر ڈالے۔ کہیں محبوب کی ہاتھوں کی بنی چائے کا ذکر ہے تو کہیں فراق کے لمحوں میں ٹھنڈی ہوجانے والی چائے کا تذکرہ، کہیں چائے نہ ملنے کا غم ستا رہا ہے تو کہیں چائے کے ذائقے کو موضوع بنایا جارہا ہے الغرض چائے کے بغیر نہ صرف لکھاری ادھورا ہے بلکہ اس کی تخلیقات میں بھی چاشنی چائے کے وجود سے ہی ہے۔
آج لفظوں کو میں نے چائے پہ بلایا ہے
بن گئی بات تو اک غزل بھی ہوسکتی ہے

ہم چائے اور لکھاری

امجد جاوید کاغذ پر کچھ لکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔رات کے دس بج چکے تھے مگر ۔۔۔۔انہیں کہانی مکمل کرکے ڈائجسٹ کو بھیجنی تھی اسلئے دن میں موقع نہ ملنے کی وجہ سے اب لکھ رہے تھے ۔۔۔بہت لیٹ ہو چکے تھے مگر مدیر نے کہا کے آپ ابھی بھی بھیج دیں شامل کرلوں گا
۔۔۔امجد جاوید نے بخشو بابا کو کافی لانے کا کہا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ لکھنے کے ساتھ سگریٹ کے کش بھی لے رہے تھے۔۔۔۔ساتھ میں لکھتے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔انکے ماتھے پر لکیروں کا جال سا بن گیا تھا سوچتے ہوئے ۔۔۔۔۔
بخشو بابا نے کپ لا کر امجد جاوید کی ٹیبل پر رکھ دیا امجد جاوید جو کے سگریٹ پی چکے تھے کپ اٹھا کر پینے لگے تو چونک گئے
۔۔۔۔ارے بخشو بابا یہ کیا ہے آپ کو کافی کا کہا آپ چائے لے آئے؟ امجد حیران تھے وہ بخشو بابا کو اپنے بابا کی جگہ سمجھتے تھے کبھی بھی بابا کو نوکر نہیں سمجھا تھا
امجد بیٹے ۔۔۔۔تم اس ٹائم لکھ رہے ہوں ۔۔۔اس وقت کافی پینا ٹھیک نہیں اس سے رات بھر نیند نہیں آئے گی چائے کافی سے بہت بہتر ہے تم چائے پیو اور لکھ کر سو جاو بیٹا بخشو بابا نے جواب دیا ۔۔
امجد جاوید مسکرا دئیے ۔۔۔
بابا بہت شکریہ ۔۔۔آپ کی محبت ہے ۔۔۔امجد جاوید نے کہا
بابابخشو بولے اب چائے پیو ٹھوڑی دیر لکھو اور سوجاو کل دن میں لکھ لینا ٹائم نکال کے ۔۔۔دن کو کام کرتے ہو ۔۔۔ورنہ سردیاں آگئ ہیں بیمار ہوجاو گئے بابا بخشو یہ کہہ کر چلے گئے
امجد جاوید مسکرا رہے تھے ۔۔۔۔چائے کا گھونٹ بھر کر ۔۔۔سوچنے لگے ۔۔۔۔۔بابا ان سے کتنی محبت کرتے ہیں۔۔۔امجد جاوید چائے کے شوقین تھے مگر سردیوں میں چائے کی جگہ کافی کا استعمال زیادہ کرتے ۔۔۔۔۔آجکل کشمیری چائے کی ترکیبیں ڈھونڈ رہے تھے چائے کوئی بھی ہو ہم لکھاری اور چائے کا ساتھ پرانا ہے ۔۔۔امجد جاوید نے چائے پی کر خالی کپ رکھا میز پر اور بولے چائے ایک مزہ دے گیا کاش ایک اور مل سکتا مگر بابا سو چکے تھے انہیں تنگ کرنا مناسب نہ تھا امجد جاوید نے آ بھری سگریٹ سلگائی اور قلم سنبھال کر جہاں پر کہانی چھوڑی وہیں سے اسے مکمل کرنے لگے ۔۔۔ختم شد

تحریر
محسن علی طاب ساہیوال

ایونٹ مقابلہ.:
ہم لکھاری اور چاۓ

صبح کے اجالوں کی طرح روشن سنہری چاۓ، اور شام کی ڈھلتی روشنیوں کی مانند دمکتی بھی چاۓ، دوپہر کی گرمی کو اپنی گرمی سے مارتی چاۓ اور رات کی خنکی میں من کو گرماتی چاۓ. چاۓ نہ ہوئ محبوب کا تذکرہ ہوگئ، من کی دنیا میں بہار لادے.
کچھ لوگوں سے اور کچھ مشاغل سے رشتہ بھی پیالی بھر ہوتا ہے، جب تک پیالی میں یہ پگھلا ہوا سونا ہے، وہ ماحول وہ کیفیات قایئم رہتی ہیں، جب چاۓ ختم تو وہ سترنگا بلبلہ بھی پھوٹ جاتا ہے، جس میں ہم مقید ہوتے ہیں. اور اکثر لکھاری تو چاۓ سے جلا پاتے ہیں، لکھاری کے لیے چاۓ ایسی ہے جیسے ہانڈی کے لیے آنچ، اور جیسے مزدور کے لیے نیند.
فن کی آنچ پہ شاہکار پلتا ہے جب چاۓ کی خوشبو مشام جاں میں اترتی ہے.
اور پھر وہ… جو یہ دل افزا مشروب بنا کر لادے. اس شخص کیے تو لبوں کا ہر خلیہ دعا گو ہوتا ہے. اس کے لیے تو دل میں قدر کے بیش بہا جذبات کا سمندر بہتا ہے. ایسے لوگوں کی قدر بھی چاۓ کی مانند ہی کرنی چاہیئے.

آمنہ افتاب

ہم۔۔۔چائے۔۔۔اور لکھاری۔!!
امی! امی! پانچ سالہ زلیہاں چھوٹے سے اکلوتے کمرے میں ماں کو آواز دیتی اس اخبار کے ٹکرے کے پاس کھڑی ہوگئی۔جس پہ کل کی بنی چائے کی پتی خشک ہو رہی تھی۔اور ماں نے پانچوں کو سختی سے منع کر رکھا تھا۔کہ کوئی اس کی طرف مت جائے۔ وہ ہنوز کچھ دیر اسے گھورتی رہی۔ پھرنجانے اسے کیا سوجھا۔کہ نیچے آلتی پالتی مارے بیٹھ گئی۔اور چائے کی پتی کی سوندھی سوندھی خوشبو سونگھتے ہاتھ ہلا کے اسے بکھیر دیا۔۔پتہ نہیں اس نے اچھا کیا کہ برا۔۔۔مگر کمر کے نیچے پڑے دھموکے نے اس کے کس بس نکال دیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیرہویں منزل کی بالکونی میں بیٹھی وہ یکدم چونکی۔ چائےکے مگ سے اٹھتے مرغولے کو انہماک سے دیکھتی وہ ماضی سے باہر آئی۔ سامنے والے اپارٹمنٹ میں ایک سوڈانی خاتون نے اپنی پانچ سالہ بیٹی کو بلڈنگ کی بالکونی سے پیپر نیچے پھینکتے دیکھ کر دھموکا جڑا۔ جسے صحفہ قرطاس پہ بڑی تندہی سے قلم چلاتے زلیہاں مسکرائی۔اب وہ دھموکے کی وجہ جان چکی تھی۔۔ سامنے روئی کے گالوں جیسے برف کے چھوٹے چھوٹے گولے نور کی سفید چادر اوڑھے اٹھکیلیاں کرتے زمین کی طرف بڑھ رہے تھے۔ زلیہاں نے نقش و نگار سے مذین خوبصورت مگ کو ہاتھ میں لیتے اس پہ بنی وینس کی خوبصورت تصویر کو غور سے دیکھا ۔اورکچھ سوچتے ہوئے گھونٹ گھونٹ چا ئے پینے لگی۔ چائے کی سوندھی خوشبو سے اسکی سوچ کےجیسے روزن کھلتے چلے گئے۔ چائے کے بغیر نہ وہ رہ سکتی تھی نہ اس کا قلم۔۔۔چائےکے سپ لیتی اسکی لامحدود سوچ اب اک نئی تخلیق کے مرحلے کو عبور کرنے کیلئے پر تولنے لگی۔۔۔۔۔
(بنت حمید راٹھور )


#ہم_چاۓ_اورلکھاری

”کیا وہ ہم سے ملیں گے؟“ زلفی نے آہستہ آواز میں سرگوشی کی میں نے بدک کر اس کے کندھے پر چپت رسید کی
”شیش ! اگر انہوں نے سن لیا تو کھبی نہیں ملیں گے سمجھے!“ ہم دونوں اس وقت چھت پر بنے اس اکلوتے کمرے کی عقبی کھڑکی کے پاس کھڑے تھے جس کے عین سامنے اختر بھیا کے کبوتروں کا جالیدار ڈرباتھا لیکن خیر بختی سے وہ اس وقت خالی تھا مگر وہاں موجود باجرے کی پرات اور منرل واٹر کا پیالہ سینہ تانے دھوپ لے رہے تھے،جب ہم اوپر آۓ تو چند ایک کبوتر پنجرے میں موجود تھے جسے زلفی نے اپنا جوتا پھینک کر اڑانے کی کوشش کی، کبوتر تو خیر نا اڑے مگر اس کا جوتے چونا گلی میں گر گیا جس کا مطلب تھا وہ ضرور کسی کے سر پہ گرا ہوگا، پہلے تو میں اور وہ بھیگی بلی بن کر مخالف کے”ردِ عمل“ کا انتظار کرنے لگے کیونکہ نیوٹن نامی ایک ”غیر فلاسفر“ نے کہا تھا، ہر ایکشن کا ریکشن ہوتا ہے،ہم بچارے چودہ سال کے بچے اسی ریکشن میں ایک گھنٹہ منصبِ انتظار رہے پھر جب طوفان بدتمیزی کا درجہ حرارت کم ہوا تو زلفی نے اپنے گنگریالے بالوں کے اس سر کم فٹ بال زیادہ کو اٹھا کر دیکھا( جب زلفی پیدا ہوا تھا تو نانی فوت ہو چکی تھیں ورنہ اس کا سر بھی وہ اینٹوں پہ رکھ رکھ کر گول کر لیتیں،میری باری زندہ تھیں سو آگے خود سوچ لیں) وہاں کبوتر بھی نہیں تھے اور گرمیوں کی دوپہر کی آسیبی خاموشی بھی واپس اچک آٸ تھی۔ہم دونوں چور کی چال چلتے ہوۓ اس کھڑکی کے سامنے آۓ تھے۔
”تم دیکھو وہ کیا کر رہے ہیں۔“ میں نے زلفی سے اس ”اکبر کے زمانے والی کھڑکی“ کے شگاف سے اندر جھانکنے کے لیے کہا۔
”واہ بھٸ تا کہ وہ میری نیلی آنکھیں پہچان لیں اور میری کٹ لگاٸیں،خود دیکھو تمھاری آنکھیں ملتی بھی ہیں اس لکڑی سے۔“ اس نے شانے جھٹکتے ہوۓ مجھ پہ ڈاٸریکٹ ”طنز“ ٹھوکا۔
”میرے بدھے بھالو، نکمے کاہل اور کامچور زلفی اپنی بڑی اور اکلوتی بہن کی بات نہیں مانو گے؟“ میں نے اسےایموشنل بلیک میل کرنا چاہا۔
”کہاں کی اکلوتی؟، فزا آپی بھی ہے، چڑیل یہیں کی“
”میں نے اس گھر میں کہا تھا۔“ اسے میں ”ایموشنز “ ہی نہیں تھے بلیک میل کیا خاک ہوتا؟، ہونہہ
”جو بھی ہے میں نہیں کروں گا۔“ اس نے ختمی انداز میں کہا
”چاچی کی چاۓ اور منے کا سریلیک تم نے کھایا تھا، یہ میں امی اور فزا کو بتاٶں گی۔“ میں سینے پر ہاتھ باندھتے ہوۓ اسے آڑے ہاتھوں لیا۔
”جھوٹی مکار، میں نے کب کھایا؟ تم ہی کھاتی ہو۔“ اس نے ذرا اونچی آواز میں کہا تو میں نے جھٹ سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔
”میں اس وقت چودہ سال کی ہوں اور تم دس کہ تو کون چھوٹا ہوا؟ تم نا اس لیے تم نے کھایا۔“ میں نے اسے آرام سے سمجھانے کی کوشش کی۔
”تم مجھ پہ الزام لگاٶ گی؟“
”الزام بھی لگاٶں گی اور رو کر اسے پروو بھی کروں گی، اب بتاٶ بھالو کیا تم دیکھو گے؟“
”تم جیسی بہن ہو تو مجھے ساس کی کیا ضرورت؟“ وہ منہ ہی منہ بڑبڑایا۔
زلفی نے اس شگاف زدہ کھڑکی کی دراڑ سے اندر جھانکا میں اس کے کندھے کے ساتھ اس کی پشت پہ کھڑی تھی،” وہ کچھ لکھ رہے ہیں“
”لکھاری ہے تو لکھے گا ہی نا؟ کوٸ کوکنگ تو کرنے سے رہا۔“ میں نے منہ بسور کر کہا
”شیش لیٹ می فوکس!“ اس چھوٹے جاسوس نے جھڑکا۔
”کیا کر رہے ہو تم دونوں؟“ ہماری پیٹھ پر موسی کی آواز ابھری، ہم کرنٹ کھا کر چونکے، وہ ساڑھی کا پلو کمر پہ باندھے ہاتھ میں چاۓ لیۓ کھڑی تھیں۔میں نے با مشکل تھوک نگلا۔
”مجھے بھاٸ سے بات کرنی ہے۔“ میں نے حالات سنبھاتے ہوۓ سب کچھ نظر انداز کر دیا۔
”دروازہ پچھلی طرف ہے۔“ موسی نے باورا کر وایا
”ہمارا گھر ہے ہماری مرضی ہم کھڑکی سے جاٸیں یا دروازے سے کیوں آپا؟“ زلفی نے بڑا پن ظاہر کرنے کے مجھ سے راۓ مانگی۔
”جی نہیں، وہ موسی ہم دیکھ رہے تھے وہ جاگ رہے ہیں یا سو رہے ہیں ،ایک مضمون لکھوانا تھا ان سے۔“میں نے جیسے اصل مدعا بتایا۔
”وہ جاگ رہے ہیں جبہی مجھ سے چاۓ منگواٸ ہے۔“
”چاۓ؟“ میرے زہن میں جھماکا ہوا،”لاٶ موسی مجھے دو یہ چاۓ میں دے آتی ہوں اور بدلے میں ان سے مضمون بھی لکھوا لوں گی۔“ میں نے ان کے ہاتھ سے کپ درشتی سے لیتے ہوۓ معصومیت سے کہا، بوا دیکھتی رہ گٸیں میں اور زلفی جلدی سے دروازے تک آۓ، ہلکے سے ناک کیا۔
”آجاٶ“ گمبھیر مردانہ آواز ابھری۔
میں اور زلفی بڑے مٶدبانہ انداز میں اندر داخل ہوۓ۔
وہ سامنے اپنی کرسی پر براجمان سر جھکاۓ منہمک سے کچھ لکھے جا رہے تھے،ان کی پشت ہماری طرف تھی اور ان کے سامنے ”شبینہ“ کے گھر کی جانب کھلتی کھڑکی تھی جہاں سے جھانکو تو اس گھر کے بر آمدے کی منڈیر نظر آتی تھی، اس وقت وہ کھڑکی کھلی ہوٸ تھی، بھیا کے میز پر کاغذوں کے دستے ہی دستے تھے اور ان کے پلنگ کے ساتھ بنے کتابوں کےشیلف کتابوں سے بھرے ہوۓ تھے، وہ شاعر تھے، کالم نگار تھے، ادیب تھے، تبصرہ نگار تھے اور ہاں گندے بھی تھے، اپنے کام میں اتنا غرق رہتے تھے کہ ”نہانے“ کا وقت بھی نہیں ملتا تھا، موسی بھی کھٹے دل کے ساتھ ان کی کمرے کی جھاڑ پونچھ کر دیتیں وہ بھی صرف دس منٹ میں اور انہی دس منٹ میں بھیا کے کمرے کا دروازہ کھلا رہتا باقی سارا دن ساری رات بند رہتا۔
”اتنی دیر کیوں کر دی موسی چاۓ لانے میں؟“ انہوں نے سر جھکاۓ تشویش سے پوچھا
”وہ تو موسی سے پوچھیں فی الحال کمرے میں، میں اور زلفی ہیں اور آپ کی چاۓ۔“ میں قدم قدم ان کی میز تک گٸ اور پیالی رکھتے ہوۓ کہا، انہوں نے وسوق سے دیکھا۔
”تم دونوں یہاں کیسے؟ سوۓ نہیں آج؟“ انہوں نے مجھے اور زلفی کو برار لتاڑتے ہوۓ پوچھا
”وہ بھیا مجھے مضمون لکھوانا ہے آپ سے !“
”کیسا مضمون اور کس لیۓ؟“ انہوں نے اچھنبے سے پوچھا
”ہم، چاۓ اور لکھاری پہ ایک گروپ میں کتاب جیتنے کے لیے پوسٹ کرنا ہے۔“ میں نے مدعا رکھا
”جو بھی کتاب چاہیے میرے شیلف سے لے لو۔“ انہوں نے آسان راستہ بتاتے ہوۓ جان چھڑاٸ
”وہ تو میں خرید بھی سکتی ہوں مگر اصل مقصد یہ مقابلہ جیتنا ہے جس کے لیے آپ مجھے مضمون لکھ کر دے رہےہیں۔“
”میں نہیں لکھ سکتا میرے پاس وقت نہیں “ انہوں نے سپاٹ لہجے میں بات کاٹی،” مجھے رکیہ صاحبہ کو آج ناول کی قسط دینی ہے سو کسی اور سے لکھواٶ۔“
”یعنی اپنے فرج سے ٹھنڈا پانی نکالنے کی بجاۓ پڑوس کے فرج سے پانی نکالوں؟“
میرے بات پہ وہ چونکے،”صرف پچاس لفظ لکھنے ہیں۔“
”پچاس لفظ؟“
”ہاں جتنا میں واقعہ ٹاٸپ کرونگی مضمون پھر چھوٹا چاہیے۔“میں نے سوچا۔
”ٹھیک ہے ابھی لکھتا ہوں، تم دونوں بیٹھو۔“ انہوں نے خوشی خوشی کہا۔۔۔۔ہم دونوں واپس ایک طرف رکھی کرسیوں پر بیٹھ گۓ، انہوں نے ایک کورا کاغز نکالا اور لکھنے لگے، تقریباً پندرہ منٹ بعد انہوں نے مجھے کاغذ تھما دیا۔
مضمون کچھ یوں تھا،
” چاۓ اور مصنف کا تعلق ایسا ہے جیسے عاشق محبوب کا تعلق، ہر صبح اٹھ کر اس خاکستری رنگ کا دیدار محبوب کے گندمی رنگت جیسا ہے، جو نا ہو تو بے چینی اور ہو تو بے چینی( یہاں چینی مطلب شوگر)، یہ تعلق بالواسطہ ہے اس میں کسی تیسرے فریق کا شرک نہیں، اگر کوٸ کہے میں چاۓ نہیں پیتا اور میں لکھاری ہوں تو میں اسے ”لکھاری اور انسان“ دونوں صیغوں سے فارغ کر دوں گا، چاۓ کے ساتھ میرا رشتہ تب ہوا جب میں دس سال کا تھا اور تب سے چاۓ میرے گویا نکاح میں ہے،اب تو اس کے رشتہ داروں کو بھی منہ لگانا پڑتا ہے کیونکہ سسرال جو ہوا، اس کے ابو سونف والی چاۓ، امی کڑک چاۓ، بہن الاٸچی والی چاۓ، بڑے بھاٸ تندوری چاۓ اور چھوٹے بھاٸ ڈھابے والی چاۓ، سب سے الگ الگ موقعوں پر رشتہ داری نبھانی پڑتی ہے اور اگر ایسا نا کروں تو میری امی کی بہو میرا مطلب میری موسی کی ہاتھ کی چاۓ جس میں کھبی اجزا کا توازن نہیں رہا ناراض ہو جاتی ہے اور پھر اس کو منانے کے کچن کا دیدار کرنا پڑتا ہے جو کہ جان جھوکوں کا کام ہے کیونکہ وہاں اس کے دوست احباب ہوتے ہیں یعنی، پتیلا،پیالہ چھانی وغیرہ وغیرہ۔
بد بخت تیز مزاج ہو تو ساری رات نیند نہیں آتی، لیکن سر کا درد جلدی ٹھیک کر دیتی ہے ، مجھے ادیب بنانے میں اس کا بڑا ہاتھ ہے جیسے کہ ہر کامیاب لکھاری کے پیچھے ایک کڑک چاۓ کا ہاتھ ہوتا ہے میرے بھی پیچھے یہی کڑک چاۓ ہے اگر یہ نا ہوتی تو میں کہاں جاتا؟
مجھے معدے کا مسلہ بھی محترمہ کی وجہ سے ہوا، جب ہوا تب پینا چھوڑ دی مگر کب تک آخر میں ادیب تھا ساری رات جاگنے کے لیے اس کی چکنی باتیں سننا پڑتی ہیں، اس کے ناز نخرے اٹھانے پڑتے ہیں کھبی بڑے مگ میں ڈال کر تو کھبی شیشے والی پیالی میں، کھبی پرچ پر برجمان کرنا پڑتا ہے تو کھبی بسکٹ شیسکٹ ڈبو کر اس کی مدارت کرنی پڑتی ہے اور اگر کمبخت اچھی بنے تو مزید پینے کا دل چاہتا ہے جس سے مزید معدے خراب ہوتا ہے۔۔۔۔
دن میں چار مرتبہ اس کا دیدار ہوتا ہے صبح،دوپہر ،شام اور رات کو، اگر غلطی سے کہیں چلا جاٶں تب بھی موصوفہ ساتھ ہوتی ہیں، دوست کے گھر چاۓ، ٹیلر کے پاس چاۓ، مشاعرے میں چاۓ، رکیہ صاحبہ کے پاس چاۓ، نیز یہ کہ میری محبوبہ میری جان نہیں چھوڑتی۔۔۔۔۔۔۔خیر چھوڑ تو میں بھی نہیں سکتا، خدا میری اور اس کی جوڑی بر قرار رکھے اور بری نظر سے بچاۓ، امین!“
میں نے با مشکل مضمون پڑھا، رومانوی داستانیں لکھنے والے لکھاری سے لکھوانے کا یہی نقصان ہوتا ہے انہیں مرزا غالب کی طرح ہر دوسری چیز میں محبوب نظر آتا ہے ۔۔۔ہوں۔۔۔۔
”کیسا لگا؟“ میرے غیر سنجیدہ تاثراٹ دیکھ کر انہوں نے پوچھا
”ٹھیک ہے لیکن یہ لفظ کیا لکھا ہے؟“ میں نے کاغذ ان کے سامنے کیا جبہی میز پر پڑی ان کی محبوبہ اوہ میرا مطلب چاۓ کے کپ کے ساتھ میرا ہاتھ ٹچ ہوا اور وہ۔۔۔۔۔۔وہ بھاٸ کے سفید تحریروں پر الٹ گیا۔۔۔۔
میں بدک کر پیچھے ہٹی، بھیا اچھنبے سے کھبی مجھے دیکھتے کھبی ان کاغذوں کو جو چاۓ کی وجہ سے خاکستری ہو گۓ تھے اور جن پہ لکھی تحریرں بھیگ چکی تھیں۔۔۔۔
”سوری بھاٸ آپ کی محبوبہ میرا مطلب چاۓ گرانے کے لیے۔۔۔“ میں نے معذرت کرنی چاہی
”ندا کی بچی“ انہوں نے تنفر سے گرج کر کہا اور اس پہلے کہ وہ مجھے پکڑ کر میری کٹ لگاتے میں نیچے آ چکی تھی۔۔۔۔
تو یہ تھی کہانی ”ہماری ،چاۓ اور لکھاری کی“ نیز ”ہم ،چاۓ اور لکھاری“ کی 😉!

#عاٸشہ سکندر

مقابلہ ایونٹ
ہم چائے اور لکھاری

سرد جاڑوں کے دنوں میں اکثر جب میں کوئی مضمون ، کہانی لکھتی یاکتاب پڑھتی تھی تو برکت بی ہمیشہ میری چائے کا خیال رکھتیں ۔
ان کے ہاتھ کی چائے میں نجانے کیا خاص بات تھی ایک درمیانے سائز کا کپ ختم کرنے کے ساتھ ہی دوسرے کپ کی طلب محسوس ہونے لگتی تھی ۔
ایک دن جب وہ چائے میری کتابوں اور بکھرے ہوئے کاغذوں کے انبار کے پاس رکھ کر جانے لگیں تو میں نے قلم بند کر کے ان سے پوچھا
"کبھی آپ نے اپنے ہاتھ کی چائے کا لطف اٹھایا ہے” ؟
اپنے چشمے کے عقب سے انہوں نے مجھے دیکھا اور مسکرادیں۔
نہیں ! یہ مختصر جواب دے کر وہ خاموش ہوگئیں میرے لئے تو یہ بڑے اچھنبے کی بات تھی اتنی شاندار چائے بنانے والا خود اس نعمت سے کیونکر محروم ہے!!
میرے منہ سے بے اختیار نکلا کیوں ماں جی !! آپ کو چائے نہیں پسند یہ تو تمام مشروب سے افضل ہے اور خاص کر سرد راتوں میں تو اس کی طلب اسے بھی ہو جاتی ہے جو رغبت سے چائے نہ پیتا ہو ۔
برکت بی نے گہری سانس لی اور میری میز کے پاس بیٹھ گئیں ۔جب میں چھوٹی تھی تو میرے ابا اخبار میں کالم لکھا کرتے تھے اور کڑک چائے کی فرمائش کیا کرتے تھے مجھے اندازہ تھا یہ چائے کی تیزی ہی ہے جو قلم کی سیاہی بن کر ان کے قرطاس ادب پر بکھر جاتی ہے میرے ابا مرحوم خود کہتے تھے ہم لکھاریوں کی رگوں میں خون نہیں چائے دوڑتی ہے یہ نہ ہو تو ہمارا نظام تخیل ہی بگڑ جاۓ ۔۔۔بس ابا کے بعد میں نے بہت سے گھروں میں کام کیا لیکن جب تمہارے ہاں کا کام سنبھالا تو تمہیں لکھتے ہوئے پایا وہی جنون وہی وحشت مجھے تمہارے کام میں نظر آئی تو میں نے فیصلہ کیا یہاں بھی میں تمہارا قلم نئی سوچ اور نئے تخیل سے بھر دوں گی برکت بی مسکرائیں اور چائے کا گرما گرم کپ میری جانب بڑھا دیا
یہ لو ! اور ایک نئی کہانی کا آغاز کرو ۔
میں ہنس پڑھی واقعی برکت بی نے سچ ہی کہا ہے ہم ، چائے اور لکھاری ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں ۔

تحریر ثمینہ مشتاق

ہم چائے اور لکھاری ۔۔۔۔۔مدیحہ ریاض
چائے کو معاشرے میں ایک اہم مقام حاصل ہے زندگی چاہے کٹھن راستوں پر گامزن ہو یا پھر خوشیوں کے ہنڈولے جھول رہی ہو۔ زندگی کے کٹھن راستے سےکیسے باہر نکلا جائے یا پھر خوشیوں سے کیسے لطف اندوز ہوا جائے اس بات پر غور و خوض کے لئے بڑے اہتمام سے چائے کی میز سجائی جاتی ہے۔ ذاتی زندگی کے اہم معاملات ہوں یا پھر وطن عزیز کے اہم امور کے فیصلے ہوں انھیں باہمی مشورہ سے چائے کی میز پر ہی حل کیا جاتا ہے ۔قلم سے رشہ جڑ گیا تو سمجھیں کہ چائے سے خودبخود ہی ناطہ جڑ گیا ۔چائے اور لکھاری کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔چائے لکھاری کی سوچ اور قلم کو تقویت بخشتی ہے ۔اس کے ذہن کے بند دریچوں کو کھول دیتی ہے اور پھر لکھاری لکھنے میں اس قدر مشغول ہو جاتا ہے کہ اسے اپنے سامنے رکھی چائے دکھائی نہیں دیتی جبکہ چائے اپنے پیئےجانے کے انتظار میں یخ ٹھنڈی ہو جاتی ہے ۔ دلفریب موسم ہو اور ہاتھ میں چائے کا کپ تو پھر کیا ہی کہنے ۔چائے روٹھے ہوئے کو مناتی ہے اور انجان لوگوں کے ساتھ محبت کا رشتہ استوار کرتی ہے ۔کسی سے پہلی ملاقات کرنی ہو تو اسے شام کی چائے کی دعوت نامہ دیا جاتا ہے ۔چائے پینے کے بھی اپنے اوقات کار ہیں ان اوقات کار میں چائے پینے کا اپنا ہی لطف ہے ۔کچھ لوگ چائے پینے کےاس قدر عادی ہوتے ہیں کہ اگر انھیں ان اوقات میں بروقت چائے نہ ملے تو سر درد کی شکایت کرنے لگ جاتے ہیں۔

ہم، چائے اور لکھاری
ہم یعنی کہ مابدولت چائے کے بناء کچھ نہیں، چائے نہ ہو تو لگتا ہے کچھ کھو سے گیا ہے _دل خالی خالی سا لگتا ہے خود کو ادھورا سا محسوس کرتے ہیں _چائے ایسا مشروب ہے جو شاید ہی کوئی نہ پیتا ہو زیادہ نہیں تو صبح وشام کی چائے تو جزولاینفک کی حیثیت رکھتی ہے_
موسم کی تبدیلی کے باعث بخار اور سردرد ہو یا برسات کا موسم، سردی کی شامیں ہوں یا گرمی کا زور ہو امتحانات میں راتوں کو جاگنے کے لیے نیند بھگانی ہو، لکھنے کے لیے تخیل کی ضرورت ہو یا تھکن مٹانی ہو چائے کا ایک کپ ہی کافی ہوتا ہے_چائے کی اس اہمیت اور چاہت کے پیش نظر دل میں خیال آتا ہے چائے دراصل ہے کیا چیز! جس کے بناء ہم خود کو ادھورا محسوس کرتے ہیں _اسکی وجہ یہ ہے کہ چائے ہی وہ مشروب ہے جو دماغ و اعصاب میں تحریک پیدا کرتا ہے، دماغ کا دورانِ خون تیز ہوجاتا ہے اور تخلیقی صلاحیت بڑھانے میں بھی مدد گار ثابت ہوتا ہے _
اسی لیے لکھاری اور چائے دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے_ لکھاری چائے کا ایک کپ پیتے ہی اپنے تخیل میں روانی محسوس کرتا ہے _اس پر آمد کی بارش ہونی لگتی ہے _اس لیے فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے نامور شخصیات کی بیٹھک اکثر چائے خانوں میں منعقد کی جاتی ہے _لاہور کا پاک ٹی ہاؤس ادبی ثقافتی ورثہ کے طور پر جانا جاتا ہے کیونکہ بڑے بڑے شعراء، ادیب اور نقاد اپنی محفلیں سجاتے تھے اور اپنے مشاہدات کو الفاظ میں ڈھالنے کے لیے چائے پیا کرتے تھے _
یہاں تک کہ بعض ادیبوں اور شاعروں نے اپنی تحریروں اور اشعار میں چائے کا ذکر کرکے چائے کو امر بنادیا ہے _
آخر میں عہد ساز ادیب اے حمید کا زکر کرنا چاہوں گی کہ انہوں نے چائے کی چاہت میں سینکڑوں کالم تحریر کئے جو نوائے وقت میں وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہے ہیں _

ہم چاٸے اور لکھاری۔۔۔

لفظ چاٸے کی اپنی ایک کشش ہے۔۔۔میری راٸٹنگ ٹیبل پر چاٸے اور سیگریٹ ایسے لازم ملزوم ہیں جیسے انسان کے لٸے سانس اور کھانا اہم ہے۔۔۔مدتوں سے اپنے اندر ایک انجانی چیز کلبلاتی رہتی ہے۔۔۔ایک تشنگی تھی جس نے لکھنے کی طرف راغب کیا۔۔۔اور سفر چلتا ہے۔۔۔جتنی شدت سے لفظ۔۔۔ذہن میں آتے ہیں اتنی شدت سے دل چاٸے کا بھی طلبگار ہوتا ہے۔۔۔چاٸے کی مٹھاس اور لفظوں کی مٹھاس انسان کو ان جانی دنیا میں لے جاتی ہیں۔۔۔دل کو چاٸے سے بھی محبت ہے۔۔۔چاٸے بھی تو ضروری ہے اور لکھنابھی ضروری ہے۔۔۔میں نے اپنی زندگی میں جتنی شدت سے کتابوں سے محبت کی ہے اتنی محبت چاٸے سے بھی کی ہے۔۔۔اب بھی افسانہ کاغز پر اتارا ہے۔۔۔اور چاٸے کو بھی معدے میں اتارا ہے۔۔۔پیار اور چاٸے کا انسان کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے۔۔۔

لکھنا بہت کچھ تھا پر ٹاٸم کی کمی کی وجہ سے بس حصہ لینا ضروری سمجھا۔۔۔اپنے ہلکے پھلکے انداز میں کچھ نہ کچھ تو اتار لوں۔۔۔

زندگی رہی تو آتے رہیں گے

ہم، چائے اور لکھاری۔
چائے اور ہمارا ساتھ اس وقت سے ہے۔ جب ہم پڑھنا لکھنا بھی نہیں جانتے تھے۔ ہاں یہ بات ضرور تھی کہ جب کوئی اہم کام سر انجام دے دیتے، تو چائے کی طلب بڑھ جاتی تھی۔ خاص طور پر اس وقت جب سیپارہ پڑھنے کے بعد، گھر میں کرکٹ کھیلتے ہوئے ہم بھائی لڑ پڑتے اور پھر امّی کی فلائنگ چپل یا پھر ہاتھ لگ جانے پر جھاڑو سے کٹ پڑتی، پھر شام کی چائے کی طلب دوچند ہو جاتی۔
اس زمانے میں لوگ اکثر، چائے کے ساتھ اخبار ضرور پڑھا کرتے تھے یا اخبار کے ساتھ چائے ضرور پیا کرتے تھے۔ دونوں میں سے اگر کوئی ایک چیز نہ ہوتی تو وہ اکلوتی چیز کو منہ بنا بنا کر ختم کرتے۔ اس وقت ہم چھوٹے ہوا کرتے، منہ بنانے کی وجہ نہ پوچھ سکے۔ مگر مندرجہ بالا وجہ کی سمجھ ہمیں اس وقت آئی جب ہم نے خود چائے کے ساتھ کتاب کا لطف اُٹھایا۔ پھر تو جہاں کتاب اُٹھائی، وہیں چائے کی خواہش انگڑائی لے کر جوان ہو جاتی اور جہاں کہیں چائے کی مہک نتھنوں سے ٹکراتی، وہیں ہاتھ بےقرار سے ہوجاتے اور نگائیں کتاب کو ڈھونڈنے لگ جاتیں۔ منہ میں چائے کا گرم ذائقہ، نگاہوں میں الفاظ کی ٹھنڈک کسی اور ہی جہاں میں پہنچا دیتی۔
پڑھتے ہوئے چائے کا مزا اُٹھاتے اُٹھاتے، جب لکھنے کی کوشش کرنے لگے تو چائے کی افادیت کا اندازہ ہوا۔ ایک ہاتھ سے قلم، کاغذ پر چل رہا ہوتا ہے تو دوسرا چائے کے کپ کی ڈنڈی پر دھرا ہوتا ہے۔ اگر موبائل پیڈ یا کمپوٹر کی بورڈ پر لکھ رہے ہوں تو وقفے وقفے سے چائے کا گھونٹ لازمی لینا پڑتا ہے تاکہ اگلا جملہ یا سین بہتر الفاظ و اسلوب سے لکھا جا سکے۔ حقیقت بھی یہ ہی ہے ( میری نظر میں) کہ چائے کا گھونٹ حلق سے اترتے ہی دماغ تیزی سے چلنے لگ جاتا ہے اور الفاظ کاغذ، موبائل اسکرین اور کمپوٹر ایل سی ڈی پر ایسے بکھر رہے ہوتے ہیں جیسے رات کی رانی کے پھول اپنے پورے جوبن پر ہوں اور ان کی خوشبو ہر طرف بکھر رہی ہو۔
چائے اور لکھاری کو لازم و ملزوم قرار دے دیا جائے تو بےجا نہ ہو گا۔ ( میرے خیال سے) کوئی لکھاری چائے کے بغیر کچھ بھی اچھا لکھ ہی نہیں سکتا۔
اگر کوئی ہے ایسا، تو سامنے آئے۔

خالد شیخ طاہری۔

ہم، چائے اور لکھاری

کاشان صادق

آج سنڈے ہے، آفس کی چھٹی ہے، اس لیے میں بڑے انہماک کے ساتھ کہانی لکھنے میں مگن تھا ، شام پانچ بجے تک مسلسل لکھتے رہنے سے ، اب سر چکرانے اور جسم میں تھکن کا احساس بڑھنے لگا ، تو میں نے سوچا، کیوں نہ کوئٹہ ہوٹل سے کڑک دودھ پتی ، پی جائے ـ

یہی وہ دن ہیں ، جب عجیب سی اُداسی اور ویرانی چار سُو پھیل جاتی ہے ، راتیں طویل اور دن چھوٹے ہونے لگتے ہیں ، سڑکوں پر سناٹوں کا راج ، شہروں میں جنگلوں کی سی خاموشی اور سرد ہوائیں ہڈیوں میں اترتی محسوس ہوتی ہیں ـ

خیر میں اپنے آپ میں مگن سِیٹی بجاتا ہوا ، خالی سڑک پر چلے جا رہا تھا کہ پیچھے سے ایک دل کو موہ لینے والی آواز آئی ، سُنیے گا : میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک خوبصورت اور حسین و جمیل لڑکی کھڑی تھی ، وہ میری گاڑی بند ہو گئی ہے ، آپ پلیز دیکھ لیں ، حُسن کا رعب تھا یا لہجے کی مٹھاس ، ہم چُپ چاپ اُس مہہ جبیں کے پیچھے چل دیے ـ

گاڑی کو دھکا لگا کر دیکھا تو ، اسٹارٹ ہو گئی ، محترمہ مسکراتے ہوئے شکریہ ادا کرنے لگیں ، پھر کچھ سوچتے ہوئے پوچھا ، آپ کو کہاں جانا ہے ، آئیں میں آپ کو ڈراپ کر دوں ، ہم نے کہا : نکلے تو ہم چائے کی تلاش میں تھے ، اچھا : ہمارا گھر یہاں سے قریب ہے ، آج کی چائے ہمارے ساتھ پی لیں ، چائے جیسی لطیف شے کی پیشکش ، اگر کوئی صنف نازک کرے تو کبھی نہیں ٹھکرانی چاہیے ، ہم بھی جلدی سے گاڑی میں بیٹھ گئے ـ

تھوڑی ہی دیر میں گاڑی ایک بڑے سے بنگلے میں داخل ہوئی اور پھر ہمیں ڈرائنگ روم کی زینت بنا دیا گیا ، ابھی ہم ڈرائنگ روم کی حُسن ترتیب اور آرائش میں کھوئے ہوئے تھے کہ محترمہ چائے کی ٹرالی کے سمیت اندر داخل ہوئیں، ہمیں کھڑے دیکھ کر
بولیں : ارے آپ ابھی تک کھڑے ہیں ، بیٹھیے نا پلیز ، ادھر صوفے پر تشریف رکھیں ـ

چائے تو ہم روز پیتے ہیں ، لیکن جتنی عزت و احترام سے آج پیش کی جا رہی تھی ، پہلے کبھی نہیں پیش کی گئی اور پھر چائے کی پہلی سِپ لیتے ہی دل و دماغ روشن ہو گیا ، چینی اور پتی کا عمدہ تناسب ، محترمہ کا صاحب ذوق ہونے کا ثبوت تھا ، اِدھر اُدھر کی باتوں کے ساتھ نام سے شناسائی ہوئی تو ، ہم نے بھی بتا دیا خاکسار کو” احمر راغب” کہتے ہیں ـ

ارے کہیں آپ ” صحرا میں تنہا مسافر” کے رائٹر تو نہیں، ہم نے اثبات میں سر ہلایا ، تو محترمہ خوشی سے سر شار ہو گئی ، ارے واہ یہ تو میرا فیورٹ ناول ہے ، جسے میں بار بار پڑھ چکی ہوں ، کیا زبردست ناول ہے ، مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ اتنے بڑے رائٹر سے اس طرح ملاقات ہو جائے گی ، اِس کے بعد تو ، اُن کی دلنشیں باتیں تھیں ، گرما گرم بھانپ اُڑاتی چائے تھی اور ہم تھے ـ

ہم ، چائے اور لکھاری
اقصی احمد
روانی سے چلتا قلم یکدم تھما وجود کی طلب محسوس کرتے بوا کا چند لمحے قبل رکھا گیا چائے کا پیالہ لبوں سے لگایا ابھی ایک گھونٹ بھرا تھا کہ ماضی کی لامحدود یادیں دل و دماغ کے پردے وا کرتی گئیں۔
___%%____%%___
سردیوں کی یخ بستہ راتوں میں آتش دان میں دہکتے کوئلوں پر ہاتھ سینکتے اکثر ماں گرم گرم بھاپ اڑاتا چائے کا پیالہ جب ہاتھ میں تھماتیں تو روح میں تازگی بھرا احساس جنم لے لیا کرتا تھا۔ دادی اور دادا جی سے ان کے ماضی کے دلچسپ تجسس سے بھرپور قصے سنتے ماں کی کڑک چائے سے لطف اندوز ہوا کرتے۔ پھر ہوتا یوں کہ ان کے تاویل قصے اختتام پزیر نہ ہوتے اور ہمارا چھوٹا سا چائے کا پیالہ چند لمحوں میں ختم ہو جاتا چند ہی سالوں بعد دادا جی یہ دیس چھوڑ کر ملک عدم سدھار گئے۔وہ ہم سے بچھڑے تو چچا جان اور تایا جی کے مشترکہ فیصلے پر گھر ، زمین اور جائیداد کا بٹوارا کر دیا گیا۔ بڑے سے گھر میں کھینچیں دو دیواریں دل و دماغ میں بھی کھڑی ہو گئیں۔ اب ماں جو چائے کا پیالہ ہاتھ میں دے تو وہ فرحت تازگی روح میں سرایت نہ کرتی اور جب اس چائے کا ایک گھونٹ حلق میں اترتا تو ماں کی کڑک چائے کے بجائے چینی ملا محلول کا ذائقہ محسوس ہونے لگا وقت پنچھی کی طرح پر لگا کر اڑا پچپن گزرا جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو ایک خواہش جو بچپن سے دل میں پروان چڑھ رہی تھی اسے تکمیل تک پہچنانے کا سبب کڑک چائے بن گئی۔ جس بٹوارے میں ماں کی کڑک چائے کا بھی بٹورا ہوا تھا اس چائے نے میرے ہاتھوں میں قلم تھما دی۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

والدین اولاد کا مزاج سمجھیں!! ﺁﺻﻒ ﺍﻗﺒﺎﻝ ﺍﻧﺼﺎﺭی‏

والدین اولاد کا مزاج سمجھیں!! ﺁﺻﻒ ﺍﻗﺒﺎﻝ ﺍﻧﺼﺎﺭی‏ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺑﮍﮮ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﻤﻠﮧ ﮐﮩﺎ ﮐﺮﺗﮯ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے