سر ورق / افسانہ / اک قیامت ذرا سی….! رابعہ الرباء

اک قیامت ذرا سی….! رابعہ الرباء

اک قیامت ذرا سی….!

رابعہ الرباء

بارہ بجے تک تو عوامی وقت ہی ختم ہوتا ہے۔ اصل کام تو اس کے بعد شروع کرتے ہیں۔

صحیح ہے یار لیکن یہ بعد کا کام سچ میں تھکا دینے والا ہے۔

تم تھکنے کی بات کرتے ہو، یہ کام تو بوریت بڑھا دیتا ہے۔ جب تک لوگ پیسے لینے یا جمع کروانے یا پھر بلوں کے لئے آتے رہتے ہیں۔ ایک زندگی کا احساس رہتا ہے اور اس کے بعد تو جیسے آخری لمحوں کی گنتی۔

آپ دونوں باتوں میں مصروف ہیں، جلدی کریں یہ گنتی ونتی چھوڑیں وقت ہورہا ہے۔

٭٭٭

شاہدہ میرا سفید شلوار سوٹ نکال کر باہر رکھ دو میں نہا لوں۔

جی اچھا۔

ہاں آج پروفیوم نہیں لگانا، میں عطر لگاﺅں گا۔

مجھے معلوم ہے آخر دو سال ہو گئے ہیں ہماری شادی کو، اب اتنی توunderstanding ہے ہی (وہ زیر لب مسکرائی)

(اکرم مسکراتا ہوا نہانے چلا گیا)

(نہا دھو کر کپڑے پہن کر عطر لگایا اور شیشے کے سامنے کھڑا بال بنانے لگا)

شاہدہ پلیز آدھا کپ چائے تو بنا دو۔

لیکن جماعت….!

ابھی کچھ وقت ہے یار! یاد کرو گی کبھی ہمیں ایک کپ عنایت کر دو اگر تو….(مسکراتے ہوئے)

٭٭٭

خوچا کیا موڈ….؟

خان آتا ہے ہم۔تم چلو

خوچا وقت تو دیکھو!

بولا ناں….تم چلو….آتا ہے….ہم!

٭٭٭

کیا کر رہی ہیں اماں۔

صدقہ اتار رہی ہوں تیرا، اللہ نظر بد سے بچائے تجھے….! یہ لے یہ رستے میں کسی فقیر کو دے دینا۔

اماں آپ بھی ناں….! بس وہم سا ہو جاتا ہے آپ کو۔

کہہ لے بیٹا کہہ لے، پر میری تو کل کائنات میری یہی اکلوتی اولاد ہے۔ باپ تیرا مٹی تلے چلا گیا۔ تجھے کیسے پالا اور پڑھایا۔ میں ہی جانتی ہوں اور اب کرم ہے اس مولا کا۔ تیری نوکری بھی ہوگئی اور منگنی بھی۔ لوگوں کی نظر لگ جاتی ہے۔ بس تو یہ کسی فقیر کو دے دینا۔

اچھا ماں جیسے تیری مرضی چلتا ہوں۔

جا بیٹا اللہ سلامت رکھے تجھے۔

٭٭٭

مُودے آج تو دھندے کا دن ہے وہیں باہر چل کے بیٹھتے ہیں۔

ہاں یار سَاڈے ورغے باہر ہی بیٹھ کے دھندا کر سک دے نے۔

(ہاں یار ہمارے جیسے باہر بیٹھ کے ہی دھندا کر سکتے ہیں)

جانتا ہوں میں، تیرا من اندر جانے کا ہووے ہے۔ سب ملوم (معلوم) ہے مجھے۔

یار بڑا دل کردا اے! میں وی اندر جاواں، سب دے نال…. میں وی…. (وہ آنسو پونجھنے لگا)

(یار بہت دل کرتا ہے میں بھی اندر جاﺅں۔ سب کے ساتھ….میں بھی….)

چل بس کر، اپنے ٹھکانے پر جا اب….لوگ آرہے ہیں۔

٭٭٭

بھیا میرے لئے آتے ہوئے راستے سے گول گپے لے آنا۔

میں کوئی نہیں لا سکتا گول گپے۔

ماں بھیا سے کہو ناں لے آئے اور کس کو کہوں، خود ہی تو تُو جانے نہیں دیتی۔

لے بھلا جوان لڑکیاں بھی باہر جاتی ہیں کوئی۔ لے آنا بیٹا تیری بہن ہے کل کو اپنے گھر چلی جائے گی تو یاد کیا کرے گا۔بہنوں کی دعائیں دل سے نکل کر سیدھی آسمان کو جاتی ہیں۔ اُسے انکار نا کیا کر۔

اچھا اماں، لیتا آﺅں گا….!

خوش ہے اب (چھوٹی بہن کا کان پکڑتے ہوئے)

اچھا ننھی، اچھا اماں اللہ حافظ!

احتیاط سے جانا بھیا، آجکل حالات ٹھیک نہیں۔

٭٭٭

لے بیٹا تو ’بیٹھ‘ بس میں ابھی آیا پندرہ بیس منٹ میں۔

ابّا مجھے ساری سبزیوں کا نہیں پتا۔

بس کوئی آئے تو تُو اُسے کہنا بس ابا آرہا ہے بہن جی….میں آکر خود ہی دے دوں گا۔

اچھا ابّا….لیکن جن کا پتا ہے وہ….!

ہاں ہاں….دیکھ بیٹا پورے پیسے لے کر پورا تول کر دینا، اللہ اوپر سے دیکھ رہا ہے۔ پکڑے گا۔

اچھا ابا….تو جا….میں دیکھ لوں گا….فکر ہی نہ کر….!

(اور وہ آٹھ دس سالہ بچہ معصومیت سے مسکرانے لگا)

٭٭٭

اب تو تمہیں گلہ نہیں ہونا چاہئے، تمہاری وجہ سے دفتر سے آج آدھے دن کی چھٹی لی تھی اور سارا وقت تمہیں دیا ہے۔

نہیں گلہ تو پہلے بھی نہیں تھا ۔ مجھ سے میرا حق لے کر آپ مجھے دوسرے حقوق جو لُٹاتے ہیں! ہاں مگر آپ کے وجود کی کمی تو کوئی دوسری شے پوری نہیں کر سکتی ناں….بس اس لئے….!

(یہ کہتے ہی اس نے اُس کے سینے پر سر رکھ لیا)

ارے پیچھے ہٹ جاﺅ یار۔ یہ تمہارا کاجل اور بھیگی آنکھیں، میری سفید شرٹ…. دفتر جانا ہے مجھے!

اچھا جلد آنے کی کوشش کیجئے گا۔

کوشش! کوشش ہی کر سکتا ہوں اُدھر بھی تو کچھ وقت لگے گا وہاں سے ہو کر ہی دفتر جاﺅں گا۔ وعدہ نہیں کرتا نئے ٹینڈر پہ کام ہو رہا ہے (اس نے اس کے نازک ہاتھ تھام کر چوم لئے)

اپنا خیال رکھنا، شانی بچوں کو لے کر آتا ہی ہو گا۔

آپ کا بھائی ہے۔ وقت پر کیسے آئے گا جی!

تین بچوں کے بعد بھی شادی سے پہلے والی باتیں خواب لگتی ہیں۔ نہ کیا کرو۔

آپ بھی ناں بس….مجھے اچھی لگتی ہیں (اس نے پھر سینے پر سر رکھ دیا)

(اس نے بھی اس کے لمبے بالوں میں اپنے ہاتھوں کی انگلیاں گُم کر دیں)

اچھا اب میں چلتا ہوں دیر ہو رہی ہے (وہ دونوں ہاتھوں سے اس کے گالوں کو چھو کر چلا گیا)

٭٭٭

بھائی وہ میری نوکری کا کچھ ہوا؟

ہاں درخواست تو دے دی ہے اب کسی سفارش کی تلاش میں ہوں۔

بھائی فرسٹ ڈویژن میں بھی….!

او میرے پیارے ننھے سفارش ڈویژن سے زیادہ بڑا کاغذ ہے…. سرکاری کاغذ کی طرح سبز….پر تو فکر نہ کر….ہو جائے گا بندوبست! تم میرے ساتھ نہیں چل رہے آج؟

بھائی ابھی تک بخار ہی نہیں اُترا…. ہمت نہیں ہے…. ورنہ بچپن سے آپ کی ہی انگلی پکڑ کر جاتا رہا ہوں۔

آپ ہی کی انگلی پکڑ کر چلنا سیکھا ہے۔

اچھا پھر دروازہ لگا لو۔ میں رات کو لیٹ ہو جاﺅں گا۔ دوائی لے لینا….یاد سے….!

٭٭٭

پاپا غبارے والا آیا ہے غبارہ لینا ہے۔

بیٹا آکر دلوا دوں گا…. مجھے دیر ہو رہی ہے۔

امی بچوں کو پکڑئیے گا۔

دادو! دادو پاپا سے کہیں ناں غبارہ لینا ہے۔

بیٹا دلوا دو ناں!

امی وقت دیکھئے۔ اچھا یہ لیں پیسے آپ دلوا دیجئے۔

سنئے….عاصمہ کے ابا آٹا ختم ہو گیا ہے۔ پیسوں کا انتظام کر لینا آج۔

تم ضرور جاتے ہوئے ٹوکا کرو، کالی بلی کی طرح۔

آپ ہی نے کرنا ہے یہ سب تو!

تمہیں تو لڑنے کابہانہ چاہئے، آج کے دن تو صبر کر لیا کرو۔

آپ ہمیشہ یہی کہتے ہیں مگر کھانے کو سب مجھ سے مانگتے ہیں۔

بس کرو بہو، مرد گھر سے باہر جائے تو نہیں بولتے….!

(وہ لوہے کا دروازہ زور سے پٹختے ہوئے باہر نکل گیا)

٭٭٭

اس سے تو بہتر ہے اللہ مجھے موت دے دے۔ مر ہی جاﺅں میں، ابّا کا بڑھاپا، ماں کی بیماری، کیا کروں کہاںسے لاﺅں اتنی رقم، گھر کا کرایہ بجلی گیس پانی کے بل….تین بہنوں کا بوجھ…. دنیا باتیں کرتی ہے…. بیاہتے نہیں، تو یہ لے جاتے بھی تو نہیں جہیز کے بغیر…. جہیز کی رقم،….اُف اللہ…. صبح زلیخا منہ دھو رہی تھی تو اس کے سفید بال…. کیا کروں کہاں جاﺅں…. کوئی مجھے خریدنے والا ملے تو خود کو بیچ دوں، ملتا بھی کوئی نہیں، میری مجبوریاں خریدنے والا….!

ہاں کسی امیر لڑکی کے ہاتھوں خود کو بیچ دیتا ہوں اس کا جہیز ایک بہن کو تو بیاہ ہی دے گا۔ وہ زیادہ سے زیادہ لڑے گی مجھ سے….خیر ہے….!

اوہ! یہ تو آگے نکل گیا میں۔ پچھلی سڑک پر جانا تھا، اُف میرے مولا….!

٭٭٭

بس یہ آخری بال ہے۔

چھکا! اوئے ہٹلر انکل کے گھر بال گیا، بس اب نہیں ملے گا۔

چلو چلو میں شام کو لے آﺅں گا….تم سب چلو۔

بیٹ اور وکٹ اسلم کے گھر رکھوا دو۔

ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔

لائٹ تو آرہی ہے؟

ہاں آرہی ہے۔

تمہیں لائٹ سے کیا کرنا ہے۔

زیادہ لوگ ہوں تو گر می ہو جاتی ہے۔ پنکھا لائٹ سے ہی چلتا ہے۔

اچھا جی ہمیں تو پتا ہی نہیں تھا۔

بس….بس….اب چلو….نہیں بھاگو….ٹائم کم ہے۔

٭٭٭

مجیداں رات میں نورے دی قبر تے جا کے لیٹیا کہ دل نوں سکوں ملے پر پولیس دا چھاپہ پے گیا۔

ہائے رَبّا فیر___؟ (ہائے اللہ پھر)

میں دسیا میرا پُتر اے اندر، کلیجے نوں ٹھنڈ پیندی اے

(میں نے کہا میرا بیٹا ہے اندر سینے میں ٹھنڈک پڑتی ہے)

ہائے اُوس دن! سڑک تے نہ بم پھٹدا نہ میرا جگر….(اور وہ رونے لگی)

(ہائے اُس دن سڑک پہ نہ بم پھٹتا نہ میرا جگر)

نہ رو، بس کر ویکھ میں کوئی رویا، اے ظالم دنیا مینوں جوان پُترنال وی نہیں لمیا پین دیندی

(نہ رو، بس کر دیکھ میں کوئی رویا، یہ ظالم دنیا تو مجھے جوان بیٹے کے ساتھ لیٹنے بھی نہیں دیتی)

جنوں اپنے ہتھی قبر کھود کے دفن کیتا سی (جس کو اپنے ہاتھوں سے قبر کھود کے دفن کیا تھا)

انہاں ہتھاں نال جنہاں نال دوجیا دیاں قبراں کھودنا ہاں۔ انہاں ہتھاں نال

(ان ہاتھوں سے جن سے دوسروں کی قبریں کھودتا ہوں، انہی ہاتھوں سے)

بس کر اے بوھا بند کر میں جاواں وقت ہو گیا اے۔ پتا نہیں کدھو ساڈھی واری آجاوے

(بس کر دروازہ بند کر لے میں جاﺅں وقت ہو گیا ہے۔ پتا نہیں کب ہماری باری آجائے)

٭٭٭

سرکاری چھٹی ہو ناں تو کیا ہی بات ہے۔

رہنے دیں جی، جس نے آنا ہے آنا ہے، جس نے نہیں آنا نہیں آنا۔ یہ تو اللہ کی توفیق ہے۔

صحیح کہتے ہو تم، چلو چھٹی نہ سہی بریک تو لمبی ہو ہی جاتی ہے۔

یہ تو نیت پہ ہے ناں یار!

اچھا یار ہماری نیت میں ہی قصور سہی۔ تم سب جاﺅ ہم دفتر کی حفاظت کرتے ہیں۔ اور چائے نوش فرماتے ہیں۔

سرکار آپ کھانا بھی تناول فرما لیجئے گا ہم کھا کر ہی آئیں گے۔

٭٭٭

اس نے گاڑی روکی اور دکان دار سے کچھ پوچھا۔

دکان دار نے ہاتھ سے کچھ اشارہ کیا۔

وہ گاڑی میں بیٹھا اس بڑی سڑک کی طرف گاڑی موڑ دی اور وہیں ایک سوکھے درخت کے نیچے گاڑی پارک کر دی۔ جہاں کچھ اور گاڑیاں اور موٹر سائیکل بھی کھڑی تھیں، اور اندر چلا گیا۔

٭٭٭

آج میرے پانچ جوان بیٹوں نے مجھے گھر سے نکال دیا۔ یہ کہہ کر کے میں نے اُن کی ماں سے شادی اپنی عیاشی پورا کرنے اور بچے پیدا کرنے کے لئے کی۔ اور تو کچھ زندگی بھر کر نہیں سکا۔ دونوں بیٹیوں تک کے رشتے نہ کر سکا۔ پچھلے ہفتے ہی ان نرینہ اولادوں کی کمائی سے دوسری بیٹی رخصت کی تھی۔ سچ ہے بیٹی رحمت ہوتی ہے۔ باپ کے لئے بھی ماں کے لئے بھی، گھر کے لئے بھی، وہ رحمت جاتے جاتے سب کچھ لے گئی ساتھ۔ اُن بیٹوں کو جنہیں میں نے اللہ سے دعائیں مانگ مانگ کر اور بیوی نے تعویذ کروا کروا کے پانچ بیٹے پیدا کئے کہ مروں گا تو جنازہ ہی اُٹھا لیں گے مگر اُنہوں نے تو میرا زندہ جسد بھی قبول نہیں کیا۔ بہتان، تہمت….(روتے ہوئے آنکھیں صاف کر رہا تھا)۔

”بابا جی دیکھ کے ابھی گاڑی کے نیچے آجاتے۔“ سچ کہتے ہیں ”ایک باپ دس بیٹے پال سکتا ہے مگر دس بیٹے مل کر ایک باپ کو نہیں….“ یہ کہتے ہوئے کسی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچ لیا اور سڑک کے دائیں جانب کر کے آگے بڑھ گیا۔

وہ آنکھیں پونچھ رہا تھا اور ڈگمگاتے قدم آگے بڑھا رہا تھا۔ بے منزل رستے پر روتے روتے اندر داخل ہو گیا۔

٭٭٭

ڈرائیور گاڑی روکو۔

جی صاحب۔

میں آتا ہوں۔

(اس نے اُتر کر دروازہ کھولا، صاحب اتر کر اندر چلے گئے اور وہ جا کر اپنی سیٹ پر ہی بیٹھ گیا اور اپنا حفاظتی پستول نکال کر دیکھنے لگا)

٭٭٭

جس طرح خوشگوار لمحے کم ہوتے ہیں۔ اور درد ناک، کرب ناک لمحے طویل یا پھر ان کا احساس طویل ہوتا ہے۔ یونہی اچھے لوگ زندگی میں کم کم ملتے ہیں اور جلد جلد بچھڑ جاتے ہیں۔

تم کہنا چاہتی ہو کہ ہم بچھڑ رہے ہیں؟

ہاں ہم بچھڑ ہی تو رہے ہیں۔ آج کے بعد شاید مل بھی سکیں یا نہیں؟ ایم فِل تو گیا۔

تم اتنا منفی کیوں سوچتی ہو؟

یہ منفی نہیں مثبت و حقیقی ہے۔ تم خود فریبی میں رہنا چاہو تو رہ سکتے ہو۔

اسی لئے تو اٹھائیس سو والی بوتل پیتا ہوں، تمہاری طرح یہ زیرو سپرائٹ نہیں پیتا۔

مجھے معلوم ہے Zero Moment زندگی کا انقلابی حصہ ہوتا ہے تو خونی بھی ہے۔ آج کے بعد نہیں معلوم کس کا سفر صفر کے منفی درجے کی طرف ہو گا اور کس کا مثبت!

بس مادام! مجھ سے زیادہ نمبر لینے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ تمہاری ہر بات ہی درست بھی ہوگی۔

اچھا اللہ حافظ!مجھے بکنگ ٹائم سے قبل پہنچنا ہے اسٹیشن پر اور ابھی ہاسٹل سے ہو کر جانا ہے وہاں بھی الوداعی سلام….!

اچھا جاﺅ، مجھے بھی آج اس کو یاد کرنے کا خیال آرہا ہے۔ جس کو میں مانتا نہیں۔

واہ، واہ، دیکھا ناں انقلاب، صفر کے درجوں کے رُخ۔

باشرطِ زندگی و حالات پھر ملیں گے۔ اپنے گاﺅں کی مٹی کو میرا ایک شہری بابو کا سلام کہنا۔

٭٭٭

تجھے کتنی مرتبہ کہا ہے ماں کہ میری بیوی مجھ سے زیادہ پڑھی لکھی اور سمجھ دار ہے۔ اس کی بات مان لیا کر….!

لیکن بیٹا….وہ تو….!

ماںیہ اور وہ کیا….مہنگائی دیکھ، اگر اس نے تجھے ہزار روپیہ کم دے دیا تو کیا ہوا۔ تونے گھر چلانا ہے تو اس نے بچوں کو بھی تو دینا ہے اور ملنے والے الگ….!

بیٹا….مگر….!

ماں تجھے بولنے کی بہت عادت ہوتی جا رہی ہے۔ بس کر اب….!

لیکن….آمنہ نے تو….!

تُو تو آمنہ کے ہی خلاف، وہ کچھ پکائے تو ’بری‘ کچھ کرے تو ’بری‘ نہ کرے تو ’بری‘ تو چاہتی کیا ہے…. تیرے پاس ہے کیا تجھے تو میں نے ساری عمر کما کر دیا ہے۔ کہاں دیتی رہی ہے…. میری کمائی….کوئی جواب ہے…. نہیں ہے ناں!

تو بس اس لئے کہتا ہوں منہ نہ کھلوایا کر….نہ تو نے باپ کی کمائی جوڑی نہ میری اور اب….! اچھے کام پہ جاتے ہوئے بھی بَک بَک….!

کون کہتا ہے ماں کے پیروں تلے جنت ہوتی ہے۔ میرے پیروں تلے تو مٹی بھی نہیں ہے شاید۔ باپ مرتے دم تک دھتکارتا رہا۔ اب بیٹا بھی کمائی کا حساب مانگنے لگا ہے۔ کس کمائی کا…. کتنی تھی کمائی….؟ میری ساری عمر کی محنت….وہ محنت جو نظر بھی نہیں آتی…. میری بوٹی بوٹی رات کو تھک کر آہ و بکا کرتی ہے اور جنت میرے قدموں تلے….!

(اس کے آنسو گالوں سے ٹھوڑی اور ٹھوڑی سے گود میں گرتے رہے آمنہ اِترا کر اپنے اکلوتے کمرے میں چلی گئی اور وہ باہر….)

٭٭٭

وقت پورا ہو چکا تھا۔ سب جگہ مخصوصہ پر مﺅدبانہ کھڑے ہو گئے۔ فردِ واحد سب کے آگے کھڑا تھا۔ اس نے اللہ کی شان عظیم بیان کی اور دونوں ہاتھ کانوں تک اُٹھا لئے۔ ہاتھ اُٹھائے ہی تھے کہ ساری عمارت اور آس پاس کی عمارتیں بھی لرز اُٹھیں۔ صورِ اسرافیل کی سی آواز نے سب کے کانوں کے پردے چاک کر دئیے اور جسد خاکیوں کو خس و خاشاک کر دیا۔

خون کا قالین، جس پر نہ کوئی نقش، نہ کوئی کفن، نہ کوئی ذات، نہ کوئی بدن، صرف جسموں کے لوتھڑے تڑپ رہے تھے۔ جیسے چھپکلی کی دُم جسم سے الگ ہو کر پھڑکتی ہے، جیسے مچھلی بے آب ہو کر تڑپتی ہے، کچھ بازو، کچھ ٹانگیں، کچھ ہاتھ، کچھ پیڑ، کہیں کوئی بے سرا دھڑ…. کہیں کوئی بے دھڑا سر…. رسکیو اور پولیس کی گاڑیوں کی آوازوں سے سارا شہر سہما ہوا تھا۔

٭٭٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

شیطان محمد نواز۔ کمالیہ پاکستان

پاکستانعالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 96 محمد نواز۔ کمالیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”یہ انسان نہیں شیطان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے