سر ورق / یاداشتیں / ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد قسط نمبر 23

ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد قسط نمبر 23

ست رنگی دنیا
٭
میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد
”آندھیاں غم کی یوں چلیں، باغ اجڑ کے رہ گیا”
٭
قسط نمبر 23
٭
٬٬ ٹھیک ہے دادا سراجو ۔ ۔ ۔ آپ چنتا نہ کریں ۔ ۔ ۔ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ میں سنبھال لوں گا گنگو تیلی والی بات کو ،، بھگت رام نے اپنے ہاتھوں کو جوڑتے ہوئے دادا سے کہا ۔ ۔ ۔ اور اس کے ساتھ ہی وہ بھائی اسلام، رحمان حلوائی کے ساتھ حویلی کے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
بھگت رام چلاگیا تھا ۔ ۔ ۔ اس کے جاتے ہی دادا نے اپنی ایک آنکھ بند کی اور دوسری آنکھ سے سب کو دیکھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور بولے ۔٬٬ کچھ نہیں ہوا ہے مجھے ۔ ۔ ۔ میں بالکل ٹھیک ہوں ۔،،۔ ۔ ۔ پھر دادا نے میری طرف دیکھا اورمجھے اپنی گود میں بھرتے ہوئے پیار کیا اور میرے گال چومتے ہوئے میرے کان میں سرگوشی کی۔٬٬ میں نے اپنے بیٹے کی بات مان لی ۔۔ ۔اچھا کیا نا۔ ۔ ۔ اب تو خوش ہو۔،، میں نے بھی اپنی گردن ہلادی اور خوش ہو کر دادا کی کولی بھرلی۔
پہلے تو کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ ۔ ۔ سب ایک دوسرے کی طرف اور پھر دادا کو دیکھ رہے تھے ۔ دادا نے بھی سب لوگوں کے چہروں پر نگاہ دوڑائی ۔ پھر مسکراتے ہوئے بولے۔٬٬ دیکھا تم لوگوں نے میرا ناٹک۔ ۔ ۔ یہ مت سوچنا کہ ابا کو بھلا یہ ناٹک بھرنے کی کیا سوجھی ۔،، وہ ایک لمحے کے لئے رکے اور پھر بولے ۔٬٬ یہ اس لئے ضروری تھا کہ میں بھگت رام کے ساتھا جانا نہیں چاہتا تھا۔۔ ۔ ۔ تم لوگ پوچھو گے ۔ ۔۔ کیوں۔ ۔ ۔ جانے کیوں میرا اس کے ساتھ جانے کو جی نہیں چاہا ۔ ۔ ۔ میرے جی میں آیا کہ بنئے کا بھروسہ نہیں کرنا چاہئے۔،،
٬٬ مگر ابا آپ تو ہمیشہ بنیوں پر بھروسہ اور ان کے ساتھ بھائی چارے پر زور دیتے چلے آئے ہیں ۔،، بڑے ابا نے کہا
دادا نے انہیں گھور کر دیکھا اور پھراپنا گلا صا ف کرتے ہوئے بولے ۔٬٬ہاں ۔ ۔ ۔ کرتا آیا ہوں بنیوں پر بھروسہ۔ ۔ ۔ بلکہ میں کیا ہمارے بڑے اور ان کے بڑے بھی بنیوں پربھروسہ کرتے چلے آئے ہیں ۔ ۔ ۔ ان کے ساتھ برسوں کا رہنا سہنا ہے۔ ۔ ۔ ہم دکھ درد میں شریک رہے ہیں ۔۔ ۔ لین دین اور کاروبار کیا ہے ان کے ساتھ ۔ ۔ ۔ مگر وہ ہماری مجبوری تھی ۔ ۔ ۔ کیا کرتے ہم ۔ ۔ ۔ کہاں جاتے آخر۔
٬٬پاااکس ۔ ۔۔ تان ۔ ۔ ،، اچانک فاروق بھائی کے منہ سے نکلا اور وہ ہکلا کر رہ گئے
٬٬ چپ بے ۔۔ ۔ ہکلے ۔۔ ۔ ماروں گا کھینچ کر جوتا ۔،، دادا کو غصہ آگیا اور بھائی اسلام فاروق بھائی کو کھینچ کر ایک طرف لے گئے ۔٬٬ خبیث بڑوں کے بیچ میں بولتا ہے ۔،، دادا غصے سے بولے ۔٬٬ پتہ نہیں میں کیا کہہ رہا تھا۔ ۔۔ ہاں ۔۔ ۔ میں یہ کہہ رہا تھا کہ بنیوں سے ساتھ رہنا سہنا ہماری مجبوری تھی اور ہے ۔،،
٬٬ مگر ابا ۔ ۔ ۔ یہ مجبوری اب نہیں ہے ۔،، میرے ابا نے ہمت سے کام لے کر دادا سے کہا ۔٬٬ اب ہمارا پاکستان بن گیا ہے ابا۔ ۔ ۔ ہمیں وہاں چلا جانا چاہئے ۔ ۔ ۔ وہاں سب مسلمان ہوں گے ۔۔ ۔ اب ہمارا رہنا سہنا اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ ہوگا ۔ ۔ ۔ اب ہمیں کوئی بنیا نہیں ستائے گا ۔ ۔ ۔ ہمیں دب کر نہیں رہنا پڑے گا ۔ ۔ ۔ یہ ہم ہی جانتے ہیں کہ ہم آج تک ان ہندوﺅں کے ساتھ کیسے رہتے چلے آئے ہیں ۔ اگر ہمارے اندر ہمت، بہادری اور ہمارا ایمان نہ ہوتا تو یہ ہمیں کچا ہی چباجاتے ۔،، میرے ابا کا چہرہ ایک جوش و جذبے اور خوشی سے تمتما رہا تھا ۔ ۔ ۔ بولتے ہوئے ان کی آواز بھی اونچی ہو گئی تھی ۔ ۔۔ پھر جیسے انہیں خیال آیا کہ وہ دادا کے سامنے بول رہے ہیں توانہوں نے اپنی آواز اوراپنا لہجہ دھیمہ کیا ۔
٬٬فخر الدین۔ ۔ ۔ مجھے تم پر فخر ہے ۔ ۔ ۔ میں نے نہیںتمہارا نام ۔ ۔ ۔ تمہارے دادا نے رکھا تھا ۔ ۔ ۔ فخرالدین ۔ ۔ ۔ یوں ہی تو نہیں رکھا تھا ۔،، دادا بھی جوشیلے ہو گئے تھے ۔ انہوں نے کہا ٬٬ جب تم پیدا ہوئے تھے ،تو میرا ایک ہندو سے شاہ جہان پور میں دنگل پڑا تھا ۔ ۔ ۔ پتہ نہیں کیا نام تھا اس کا ۔ ۔۔ ہاں مجھے یاد آیا ۔ ۔ ۔ کرپا مل۔ ۔ ۔ وہ شاہجہان پور میں پہلوان تھا اور اناج کا دھندا بھی کرتا تھا ۔ ۔ ۔ اس سے میرا دس بوریوں کا سودا ہوا تھا ۔ ۔۔ ان دنوں۔ ۔ ۔ گندم کے دام چڑھ رہے تھے ۔ ۔۔ وہ مجھ سے ایڈوانس پیسے لے چکا تھا مگر جب مال اٹھانے کی باری آئی توپھیل گیا اور مجھ پر حکم چلاتے ہوئے بولا ۔۔ ۔ ۔ دیکھ بھئی سراجو ۔ ۔ ۔ ابھی تو میں تجھے پانچ ہی بوری دوں گا ۔ ۔ ۔ باقی پانچ ۔ ۔۔ کچھ دن بعد اٹھا لینا مجھ سے ۔ ۔ ۔ میں نے اسے سمجھایاکہ کرپا مل سودا ہو چکا ہے بات زبان کی ہوتی ہے تو نے مجھ سے پیشگی پیسے لے لئے ہیں اب یہ مال میرا ہے میں سارا اٹھاﺅں یا آدھا ۔ ۔ ۔ مگر وہ نہیں مانا اور اکڑ کر بولا ۔ ۔ ۔ مال تو ابھی میری دکان پر پڑا ہے سراجو ۔۔ ۔ تجھ میں ہمت ہے تو اٹھا لے ۔۔ ۔ ۔ بس پھر کیا تھا مجھے تاﺅ آگیا میں نے اسے کھری کھری سنا دی ۔ابے چل ہٹ ۔ ۔۔ ساری پہلوانی نکال دوں گا دو منٹ میں ۔۔ ۔ مال میرے حوالے کر ۔ ۔ ۔ لوگ جمع ہو گئے ۔ ۔ ۔ اس سے پہلے شاہجہانپور میں کبھی کسی ہندو اور مسلمان کا آپس میں لین دین پر جھگڑا نہیں ہوا تھا ۔ ۔ ۔ اس کے سب جاننے والے تھے ۔۔ ۔ میرے بھی دو چار تھے ۔ ۔ ۔ آخر فیصلہ یہ ہوا کہ دونوں میں جوڑ ڈالا جائے گا جو پچھاڑ دے گا وہ جیت جائے گا اور مال اٹھا لے گا ۔،، دادا یہ کہتے ہوئے رک گئے تھے ۔ ان کے چپ ہوتے ہی سب ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔کچھ دیر یوں ہی گزر گئی آخر ہمت کر کے بڑے ابا نے پوچھ ہی لیا ۔٬٬ ابا پھر کیا ہوا ۔ ۔ ۔آگے بھی تو بتاﺅ۔ ۔ ۔ آپ رک کیوں گئے ۔،،
٬٬ ہاں ۔ ۔ بس ذہن بھٹک گیا تھا میرا ۔ ۔ ۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں شاہجہانپور میں کھڑا ہوں ۔ ۔ ۔ میرے سامنے کرپا مل کھڑا ہے اور ۔ ۔ ۔ اور ۔ ۔ ۔دادا کہتے کہتے پھر رک گئے ۔
٬٬ یہی تو پوچھ رہے ہیں ابا ہم۔ ۔ ۔ ۔ آپ کا اور کرپا مل کا جوڑ پڑنے والا تھا ۔ ۔ ۔ کیا آپ کا اس سے جوڑ پڑا ۔،،بڑے ابا نے جھنجھلاتے ہوئےدادا سے پوچھا ۔
٬٬ میرے اور کرپا مل کے جوڑ پڑنے کی خبر پورے شاہجہانپور میں پھیل گئی تھی۔دو چار میر ے حمایتی تھے اور درجنوں کرپا مل کے تھے ۔ یہ فیصلہ ہوا کہ ہمیں تیاری کے لئے ایک دن دیا جائے ۔ اور لال چوک پر جوڑ رکھا جائے ۔ وہاں کافی لوگوں کے جمع ہونے کی گنجائش تھی ۔،، دادا نے دوبارہ کہنا شروع کیا ۔٬٬ کرپا مل تو پیشہ ور پہلوان تھا ۔ وہ شاہجہانپور کے علاوہ بھی آس پاس کے علاقوں میں دنگل لڑنے جاتا تھا جبکہ میں نہ تو پہلوان تھا اور نہ ہی یہ میرا پیشہ تھا ۔ ہاں جوان تھا ۔ خوب محنت سے کسرت کرتا تھا ۔ مجھے بدن بنانے کا شوق تھا۔ اس لئے میرے ساری توجہ بدن بنانے پر رہتی تھی ۔میرے بدن کو دیکھ کر سب مجھے پہلوان سمجھتے تھے ۔ کرپا مل کے پاس جب میں جاتا تھا تووہ بھی میرے بدن کو دیکھ کر مجھے پہلوان ہی سمجھتا تھا ۔ مجھے اچھا لگتا تھاکہ لوگ پہلوان سمجھ رہے ہیں اسی لئے میں کسی کو منع بھی نہیں کرتا تھا ۔ میرا کیا حرج تھا کوئی سمجھتا تھا تو وہ سمجھتا رہے پہلوان ۔ کرپامل نے بھی مجھے پہلوان سمجھتے ہوئے ہی جوڑ ڈالنے کا کہا تھا ۔ میری جوانی کا جوش تھا ، دوسرے یہ کہ میں یہ نہیں چاہتا تھا کہ کرپا مل پرمیری کوئی کمزوری ظاہر ہو ۔اس نے جب مجھے جوڑ دالنے کا کہا تھا تو اسی وقت میں نے اپنے اللہ کو دل میں یاد کیاتھا اور اس سے مدد مانگی تھی کہ اے اللہ میں تیرے توکل پر کرپا مل کا مقابلہ کروں گا تو میری لاج رکھنا۔غرض دوسرے دن لال چوک پر کافی لوگ جمع ہو گئے تھے ۔ آس پاس کے علاقوں سے بھی لوگ آئے تھے ۔ سب مجھے دیکھنا چاہتے تھے کہ کوئی سراجو پہلوان کرپا مل کے ساتھ جوڑ دالے گا ۔ شاہجہانپور میں کرپا مل کی بڑی دھاک تھی ۔ سب اس سے ڈرتے تھے ۔ وہاں لال چوک پر ایک چھوٹا سا اکھاڑا بنایا گیا تھا ۔ تازہ تازہ مٹی ڈالی گئی تھی اس میں جس کی سوندھی سوندھی مہک دماغ پر چڑھی جا رہی تھی ۔ کرپا مل پہلوانوں کا لنگوٹ باندھ کر آیا تھا ۔ وہ پہلوانوں کے انداز میں اکھاڑے سے مٹی کی مٹھی بھر بھر کر اپنے بدن پر مل رہا تھاجبکہ میں اطمینان اور سکون سے کھڑا ہوا اسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔ میں نے اپنے بدن سے نہ توکپڑے اتارے تھے اور نہ ہی اکھاڑے کی مٹی اپنی مٹھیوں میں بھر رہا تھا ۔ لوگ مجھے حیرت سے دیکھ رہے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ کہ یہ کیسا پہلوان ہے کہ جس نے نہ تو لنگوٹ باندی ہوئی ہے اور نہ ہی کرپا مل کی طرح اکھاڑے کی مٹی اپنے بدن پر مل رہا ہے۔
دادا پھر خاموش ہو گئے تھے۔ ان کی خاموشی سب کو بری لگ رہی تھی ۔ سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھنا شروع کیا ۔ اسی عالم میں بہت دیر گزر گئی ۔ دادا چپ اور جیسے کسی سوچ میں گم ہو گئے تھے ۔ ایک بار پھر سب ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے ۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ دادا کو کیسے ٹوکیں تاکہ وہ بتائیں کہ کرپا مل سے جوڑ ہوا یا نہیں۔اس بار میں نے دادا کو جھنجھوڑا ۔ وہ جیسے چونک پڑے اور میری طرف دیکھنے لگے۔٬٬ دادا بولو نا ۔۔ ۔ پھر کیا ہوا ،، میں نے دادا سے کہا
٬٬ اوہ ۔ ۔ ہاں۔ ۔ ۔ میں بھی جانے کہاں کھو گیا تھا ۔ ۔ ۔ کچھ جوانی کی باتیں یاد آ گئی تھیں۔ ،، دادا نے سب لوگوں کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا اور بولے۔٬٬ بس اللہ نے میری مدد کی ۔ ۔ ۔ میں نے کرپا مل کا ہاتھ اس مضبوطی اور طاقت سے پکڑا کہ وہ مجھ سے چھڑا ہی نہ سکا ۔ ۔ ۔ وہ بل پر بل کھائے جا رہا تھا مگر کیا مجال کہ مجھ سے ہاتھ چھڑا لیتا ۔ ۔ ۔ مجھے یہ داﺅ استاد بندو نے سکھایا تھاجب میں نے کسرت شروع کی تھی تو ان کے اکھاڑے میں جانا شروع کیا تھا ۔ ۔ ۔ میں نے یہی داﺅ جب بدرالدین بڑا ہوا تو اسے سکھا دیا تھا جو ہمیشہ اس کے بڑا کام آیا۔،، دادا نے مسکراتے ہوئے بڑے ابا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور پھر بول ٬٬ استاد بندو نے مجھ سے بہت کہا کہ پہلوانی شروع کردو تمہارا بدن بہت اچھا ہے ۔ ۔ ۔ مگر ہم ٹھہرے بساطی ۔ ۔ ۔ہمیں اپنے کاروبار سے ہی فرصت نہیں۔ ۔ ۔ پہلوانی کیسے کر لیتا ۔ ۔ ۔ خیر ایک دو بار کرپا مل نے مجھے کمر میں ہاتھ ڈال کر مجھے اٹھایا بھی ۔ ۔ ۔ مگر میں ہر بار اس کے ہاتھوں کی پکڑ سے نکل گیا ۔ ۔ ۔ اس وقت خدا جانے مجھ میں کہاں سے طاقت آ گئی تھی کہ میں نے اس کی ٹانگ میں اڑنگا لگایا اور وہ دھام سے نیچے گرا ۔ ۔ ۔ بس پھر کیا تھا میں نے اس کا ہاتھ چھوڑا اوراس کی کولی بھر کے اسے زمین پر چت کردیا۔،، میرے جو حمایتی تھے انہوں زوردار ٬٬اللہ اکبر،، کا نعرہ مارا ۔ ۔ ۔ اورکرپا مل کے جو حمایتی تھے وہ ٬٬ جے ماتا ۔ ۔۔ جے ماتا جی ،، کا شور مچانے لگے ۔۔ ۔ میں نے اپنے حمایتیوں کو نعرہ مارنے سے روک دیا ۔ ۔ ۔ کرپا مل زمین سے اٹھ کھڑا ہوا تھا اور حیرت سے مجھے دیکھ رہا تھا ۔ ۔ ۔ وہ اپنا ہاتھ میری طرف بڑھاتے ہوئے بوئے بولا۔٬٬ سراجو ۔ ۔ ۔ میں تجھے مان گیا ۔ ۔ ۔ تو نے کرپا کو پچھاڑ دیا ۔۔ ۔ میں تجھے پرنام کر تا ہوں۔ ۔ ۔ ورنہ مجھے ابھی تک تو شاہجہانپور میں کسی نے زمین نہیں چٹوائی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ لے جا اپنی بوریاں ۔ ۔ آج سے میری دوکان تیری ہے ۔۔ ۔ توجتنا مال مانگے گا میں انکار نہیں کروں گا ۔،،
٬٬ میں جب کرپا مل کو پچھاڑ کر اور گندم کی دس بوریاں لے کر باول واپس لوٹا تو بیوی کی طبیعت خراب تھی۔ ۔ ۔ بس میرے آتے ہی یہ فخر الدین پیدا ہوا ۔ ۔ ۔ ابا زندہ تھے ۔ ۔ ۔ میں نے انہیں شاہجہانپور کا حال احوال اور کرپا مل کو پچھاڑ نے کی بات بتائی تو انہوں نے مجھے اپنے سینے سے لگالیا اور بولے ٬٬ سراجو ۔ ۔ ۔ مجھے تجھ پر فخر ہے ۔ ۔ ۔ تیرے یہاں بیٹا پیداہوا ہے بس آج سے اس کا نام میں فخرالدین رکھتا ہوں۔ ۔ ۔ تو میرے باپ کی نشانی ہے فخر الدین ۔،، دادا نے میرے ابا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔٬٬اسی لئے میں تجھ پر فخر کرتاہوں ۔ مجھے تجھ پر ہمیشہ فخر رہا ہے۔،،
دادا پھر خاموش ہو گئے تھے ۔ اس بات پر سب کے چہرے کھل اٹھے تھے ۔ سب خوش تھے کہ دادانے کرپا مل کو پچھاڑ دیا تھا۔ دادا پھر چونکے اور کہنے لگے ۔٬٬ کرپا مل بڑے ظرف کا آدمی تھا ۔ وہ مجھ سے ہارنے کے بعد میرا دوست بن گیا تھا ۔ میں جب بھی شاہجہانپور جاتا تھا تو وہ میری بڑی خاطر مدارات کرتا تھا۔ اسی طرح جب وہ باول آتا تھا تو میں اس کی مہمانداری کرتا تھا۔ وہ بھول گیا تھا کہ مجھ سے جوڑ ہار گیا تھا ۔ لیکن کچھ لوگوں کو میرا اور کرپا مل کی دوستی پسند نہ آئی اور انہوں نے کرپا مل کے کان بھرنا شروع کئے اور پھر وہ مجھ سے کھنچنے لگا ۔ ۔ ۔ نوبت یہاں تک آگئی کہ میں شاہجہانپور جاتے ہوئے ڈرنے لگا ۔ ۔ ۔ مجھے اپنی جان کا دھڑکا رہنے لگا ۔ میرا کاروبار شاہجہانپور سے تھا ۔ ۔ ۔ اس لئے جانا بھی ضروری تھا ´۔ ۔ ۔ مگر ابا اس وقت زندہ تھے ۔ ۔ ۔ انہوں نے مجھے منع کر دیا تھا ۔ ۔ ۔۔ اورمیں نے شاہجہانپور جانا چھوڑ دیا ۔ ۔ ۔ پھر ہوا یوں کہ پلول میں کرپا م کا جوڑ مادھو لال سے پڑا وہ بھی وہاں کا بڑا اور مانا ہوا پہلوان تھا اس کی کشتی پر جوا لگتا تھا اور لوگ اسی پر جوا لگاتے اور جیت جاتے تھے۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کرپا مل کو اس بری طرح پچھاڑا کہ وہ یہ ہار برداشت نہ کر سکا ۔ ۔ ۔ ۔ شاہجہانپور آ کر بیمار پڑ گیا اور پھر بستر سے اٹھ نہ سکا ۔ ۔ ۔ اس نے اپنی ہار دل پر لے لی تھی اور اسی صدمے میں وہ ایک دن مر گیا ۔،،
کرپا مل کے مرنے کے بعد مجھے شاہجہانپور کے کئی بیوپاریوں نے آنے کی دعوت دی ۔ ۔ ۔ اور میں نے پھر وہاں جانا شروع کر دیا ۔ لیکن اب وہ بات نہیں تھی جو کرپا مل کی زندگی میں تھی ۔ میرالین دین چونکہ کھرا تھا اس لئے سب یہی چاہتے تھے کہ میں ان سے مال خریدوں مگر نہ جانے مجھے کیا ہو گیا تھا کہ اب میرا جی نہیں لگتا تھا ۔ ۔ ۔ پھر ایک بار جب میں شاہجہانپور گیا تو بڑی عجیب و غریب بات ہوئی ۔،،
دادا یہ کہتے کہتے پھر رک گئے تھے۔۔ ۔ ۔ پھر سب لوگ ان کی طرف دیکھنے لگے ۔۔ ۔ دادا جو بات سنا رہے تھے ۔ ۔ ۔ وہ لگتا تھا جیسے پریوں کی کہانی سنا رہے ہوں ۔ ۔ ۔ سب کا من ان کی باتوں میں لگا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ میں بھی بڑے چاﺅ کے ساتھ ان کی باتیں سن رہا تھا ۔ ۔ ۔ اس لئے جب وہ رک جاتے تھے تومجھے بڑی جھنجھلاہٹ ہوتی تھی ۔ ۔ ۔ میرا جی چاہتا تھا کہ میں دادا کو کچھ کہوں لیکن ان کے ڈر کی وجہ سے چپ ہی رہتا تھا ۔۔ ۔ یہی حال سب کا تھا ۔ ۔۔ کسی میں بھی اتنی ہمت نہیں تھی کہ انہیں ٹوکتا۔ ۔۔ سب ڈرتے تھے ۔۔ ۔ بس بڑے ابا کچھ ہمت کر کے انہیں ٹوک دیتے تھے ۔ ۔ ۔ مگر بڑے ابا کا ٹوکنا بھی دادا کو برا لگتا تھا اور وہ انہیں گھور کر رہ جاتے تھے ۔
٬٬ ایک تو ابا ۔۔ ۔ آپ بات چھیڑ کر رک جاتے ہو ۔ ۔ ۔ ۔یہ ہمیں اچھا نہیں لگتا ۔ ۔ یا تو آپ ہمیں کچھ بتایا مت کرو ۔ ۔ ۔ اور اگر بتاتے ہو تو پھرپوری بات بتایا کرو۔،، بڑے ابا ہمت کرکے بولے
دادانے اس بار بڑے ابا کو گھور کر نہیں دیکھا بلکہ ان کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا اور بولے۔٬٬ یار میں کیا بتاﺅں ۔ ۔ میری تو آج تک عقل حیران ہے ۔،،
٬٬ توکچھ بتاﺅ تو سہی کہ کیا ہوا ۔،، بڑے ابا نے جھنجھلاتے ہوئے کہا
٬٬ ہاں بتاتا ہوں۔ ۔ ۔ وہ ۔ ۔۔ کرپا مل مرا نہیں تھا ۔۔ ۔ ۔ زندہ تھا ۔ ۔ ۔۔۔
٬٬ایں ۔ ۔ زندہ تھا ۔ ۔ ۔ سب کے منہ سے ایک ساتھ نکلا اور سب ایک دوسرے کی طرف حیرت سے دیکھنے لگے۔
٬٬ہاں ۔ ۔۔ کرپا مل زندہ تھا ۔ ۔ ۔ ۔ اسے وادھومل سے ہارنے کاصدمہ تو تھا ہی مگر وہ بہت قرضدار ہو گیا تھا ۔۔ ۔ اس لئے اس نے اپنے مرنے کی خبر اڑوادی تھی اور خود شاہجہانپور چھوڑ کر کہیں چلا گیا تھا ۔ ۔ ۔ ہوا یوں کہ ایک دن جب میں شاہجہانپور بیل گاڑی میں جا رہا تھا تو ایک آدمی اپنا منہ ڈھانپے اس میں سو رہا تھا ۔ جیسے ہی میں بیل گاڑی میں بیٹھا تو وہ اٹھ کر بیٹھ گیا ۔ ۔ ۔ پہلے تو وہ مجھے پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھتا رہا پھر مجھے سے لپٹ گیا ۔ ۔ ۔ سراجو ۔ ۔ ۔ یار تو ۔ ۔ ۔ دیکھ مجھ پر دیا کرنا ۔۔ ۔ کسی کو مت بتانا کہ میں ابھی زندہ ہوں ۔ ۔ ۔ جن سے میں نے بیاج پر پیسہ لیا ہے وہ مجھے نہیں چھوڑیں گے۔،، کرپا مل میرے آگے ہاتھ جوڑے گڑ گڑا رہا تھا اور میں اسے آنکھیں پھاڑے تک رہا تھا۔
دادا ابھی کرپا مل کے بارے میں بتا ہی رہے تھے کہ حویلی کے باہر گھنگرو کی چھن چھن کی آوازیں آنے لگیں ۔ ۔ ۔ پھر یہ چھن چھن کی آوازیںرک گئیں۔ ۔ ۔ دادا چونک پڑے اور مجھے اپنی گود سے اتارتے ہوئے بولے۔٬٬ یہ تو پدما کی آواز ہے ۔ ۔ ۔ لگتا ہے بھگت رام پھر مجھے لینے کے لئے آ گیا ہے۔۔ ۔ ذرا کوئی دیکھنا باہر جا کر ۔ ۔ ۔
دادا کے یہ کہتے ہی بھائی اسلام اور فاروق بھائی حویلی کے دروازے کی طرف بھاگے ۔ ۔ ۔ کچھ دیر میں ہی وہ واپس آگئے ۔ ۔ ۔ دادا ۔ ۔ ۔ دادا ۔ ۔ ۔ راجہ ٹھاکر داس جی آئے ہیں ۔،، بھائی اسلام اور فاروق بھائی بری طرح ہانپ رہے تھے ۔ بھائی اسلام نے اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے دادا کو راجہ ٹھاکر داس کے آنے کا بتایا
٬٬ ایں ۔ ۔ ۔ راجی ٹھاکر داس ۔ ۔۔ ،، دادا کو جیسے کرنٹ سا لگا وہ جلدی سے اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور ادھر ادھر دیکھنے لگے ۔ ۔۔ ٬٬ حیرت ہے کہ راجہ جی آئے ہیں ۔ ۔ ۔ ارے ذرا جلدی سے ۔ ۔ ۔ جگہ ٹھیک ٹھاک کرو ۔ ۔ میں ان کا سواگت کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ آﺅ بدر الدین تم میرے ساتھ آﺅ ۔ وہ بڑے ابا کو ساتھ لے کر دروازے کی طرف بڑھ گئے ۔
(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

کراچی یاترا …امجد جاوید قسط نمبر 01

کراچی یاترا امجد جاوید  کراچی یاترا کے لئے پہلا پڑاﺅ ملتان میں ٹھہرا۔ 5دسمبر2019ءکی دوپہر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے