سر ورق / یاداشتیں / اردو کہانی کا سفر 23ویں قسط . اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر 23ویں قسط . اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر
23ویں قسط
تحریر 🖋️اعجاز احمد نواب
✍️✍️✍️✍️✍️26دسمبر1994 کی انتہائی سرد صبح کا ذکر ہے، جب میں ناشتہ کرنے کے ساتھ ٹی وی دیکھ رہا تھا، کہ اچانک ٹیلے ویژن سکرین پر ایک بڑا درخت کڑکڑکڑ…. کڑکڑاہٹ.. کے ساتھ دھڑام سے گرتا دکھایا جاتا ہے، اور اس کے ساتھ ہی بے شمار چڑیوں کی چہچہاہٹ کے بعد ایک شعر ٹی وی سکرین پر دکھائی اور سنائی دیتا ہے ،
👈 اِس بار جو ایندھن کے لئے کٹ کر گرا ہے
چڑیوں کو بڑا پیار تھا اس بوڑھے شجر سے
✍️ابھی ابھی خبر ملی ہے کہ اردو کی ہر دل عزیز شاعرہ پروین شاکر ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو گئیں،
پروین شاکر کی موت نے ہر حساس دل پر گہرا گھاؤ لگایا، میرا بھی دل یکدم اداس سا ہو گیا، اداسی کے اسی مزاج کے ساتھ میں اپنے پبلی کیشنز آفس پہنچا، تو مجھ سے پہلے ہی ایک ہونہار شاگرد اور دوست معاذحسن کو براجمان پایا، سید معاذ حسن ہاشمی پڑھا لکھا خوب رو نوجوان ،تھا، پڑھا لکھا خاندانی پس منظر رکھنے کی بناء پر کتابوں اور مطالعہ سے اسے گہری رغبت تھی، اور اْن دنوں مسودہ سازی اور پبلی کیشنز کے شعبے میں داخل ہونے کے لئے مثالی جدوجہد میں مصروف عمل تھا، اور اسی لئے اکثر میرے پاس اس کا آناجانا لگا رہتا تھا، باتوں ہی باتوں میں پروین شاکر کا ذکر چل نکلا جن کا اسی دن صبح ٹریفک حادثے میں انتقال ہوا تھا، تو یکا یک معاذحسن کہنے لگا، کہ کیوں نہ پروین شاکر پر ایک چھوٹا سا کتابچہ شائع کیا جائے
جس میں ان کے حالات زندگی اشعار اور تاثرات ہوں، خیال تو نیک ہے، لیکن…. میں پْر سوچ اور شش و پنج میں تھا،
سب کچھ مجھ پر چھوڑ دیں.. کل اور پرسوں کے اخبارات کی ایک ایک کاپی خرید لیں گے اس میں پروین شاکر کے متعلق اتنا کچھ مواد مل جائے گا کہ ہم چھوٹی سی کتاب باآ سانی ترتیب دے سکیں گے،


ہمممم.. میں نے سگریٹ سلگا کر گاڑھے دھویں سے کمرے کی فضا کثیف کرتے ہوئے کہا،….. دراصل ایسی کتابیں سدا بہار نہیں ہوتیں موسمی کہلاتی ہیں، ان کی فروخت کی معیاد بہت مختصر ہوتی ہے اور جتنی جلد چھپیں گی اتنی ہی اس کی افادیت ہو گی اور اس کا تاثر دیر پا ہو گا، ایک آئیڈیا ہے سر معاذحسن نے تجویز نکالی، آج پروین شاکر کی وفات ہوئی ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ پرسوں قل ہو گا، میں پرسوں صبح آٹو گراف بک لے کر اسلام آباد پروین شاکر کی رہائش گاہ چلا جاؤں گا، یقیناً ہر بڑا شاعر ادیب آیا ہو گا سب سے تاثرات کے ساتھ آٹو گراف لینے کی کوشش کرتا ہوں،یوں کتاب میں ایک نئی چیز آجائے گی!!
ویری گْڈ …. اتنی زرخیز تجویز سن کر میں پھڑک اٹھا … اور پھر پروین شاکر ایک جائزہ کتاب کا مسودہ تیار کرنے کی ذمہ داری معاذ حسن ہاشمی کو سونپ دی گئی، فیصلہ یہ ہوا کہ پہلے مرحلے کے طور پر محترمہ پروین شاکر کے مشہور اشعار تلاش کر کے کتابت کے لئے دے دئیے جائیں، یہ بات ذہن نشین رکھنی ضروری ہے کہ ان وقتوں میں گوگل، یو ٹیوب وٹس ایپ، وکی پیڈیا حتی’ کہ موبائل فون ہی نہیں ہوتا تھا، لہذا کسی کتاب کے مواد کی تلاش جان جوکھوں کا کام تھا، تاہم پبلشر کی حیثیت سے ہمارے پاس کتاب کا مواد اکٹھا کرنے کے کئی طریقے ہوتے تھے، تھوڑی دیر بعد ہمارے ادارے کے مستقل ٹائیٹل ڈیزائنر قاضی عبد الحفیظ ڈیوٹی پر آ پہنچے تو ان کو ساری صورتحال بتا کر سرورق کی بابت ہدایات دی گئیں انہوں نے کہا کہ کل تک سرِورق ڈیزائن تیار ہو جائے گا، سہہ پہر کو کاتب محمد اشرف نظامی صاحب آئے اس وقت تک معاذ حسن نے پروین شاکر کے پچاس کے قریب مقبول اشعار اکٹھے کرلئے تھے، وہ کتابت کے لئے نظامی صاحب کو دے دئیے گئے، محمد اشرف نظامی سینئر کاتب تھے جو ان دنوں وزیراعظم سیکٹریٹ میں بطور کاتب تھے، روزانہ شام کو چھٹی کر کے دیگر جگہوں کی طرح ہمارے دفتر نومی پبلی کیشنز (جو بعد ازاں نواب سنز پبلی کیشنز میں بدل گیا تھا) بھی آتے اور چھ روپے فی صفحہ کے حساب سے جو کام دیا جاتا، کتابت کر کے لا دیتے،
✍️اگلی صبح معاذ ھاشمی ہر وہ اخبار اٹھا لایا، جس میں پروین شاکر کے متعلق کچھ نہ کچھ مواد تھا، اور پھر سارا دن معاذ حسن اور میرا چھوٹا بھائی ارشد ملک (شاعر) کاغذ قلم رسائل اخبارات اور کچھ انسائیکلوپیڈیا اور وہ کتابیں جن میں کہیں پروین شاکر کا ذکر تزکرہ تھا لے کر اس میں سے کانٹ چھانٹ قطع برید ایڈیٹنگ کرنے میں مصروف ہو گے اُدھر قاضی عبدالحفیظ آرٹسٹ پروین شاکر ایک جائزہ کتاب کا سرورق (ٹائیٹل) تیار کرنے کے لئے خوش نویسی اور انگلیوں کی مہارت دکھانےجْت گئے،
✍️ شام پانچ بجے دونوں جانب سے تیاری مکمل ہونے کا اعلان کر دیا گیا، اسی اثنا میں محمد اشرف نظامی اپنے ساتھ دو ساتھی جاوید اقبال اور ناصر کاتب کو لے کر لے پہنچ گئے، اب کتاب کا سکرپٹ( مسودہ) تینوں کاتبوں میں تقسیم کر دیا گیا تا کہ تیز رفتار کتابت (آج کل کمپوزنگ) ہو سکے، سرورق کا ڈیزائن لے کر ہمارا کارندہ پروسیس والے کے پاس فلمیں بنوانے پہنچ گیا، رات آٹھ بجے اس کی واپسی ہوئی اور اس نے نوید سنائی کہ ٹائیٹل کی فلمیں اور پھر پلیٹیں بنوا کر مکہ المکرمہ پریس پہنچا دی ہیں،
✍️ادھر تین کاتبوں کی مدد سے ہر پندرہ منٹ میں تین صفحات کی کتابت ہو رہی تھی، اور معاذ حسن ساتھ ساتھ ان صفحات کی عیب جوئی( پروف ریڈنگ) میں مصروف تھے، پروف ریڈنگ کا مطلب ہوتا ہے کہ کتابت یا کمپوز شدہ تحریر کو بڑی باریک بینی سے ایک ایک لفظ کو بغور پڑھنا، تاکہ کتابت کے دوران اگر کوئی لفظ غلط لکھا گیا ہے تو اس غلط لکھے گئے لفظ پر دائرہ لگا کر اور اْس کی نشاندہی کر کے درست لفظ لکھنا، ضروری نہیں کہ غلطی کاتب یا کمپوزر کی ہو مصنف یا مؤلف بھی غلطی کر سکتے ہیں، پھر کسی لفظ کے ہجے (سپیلنگ) غلط ہو سکتے ہیں، قوائد و انشا( گرائمر) کی غلطی بعید از امکان نہیں، ایسی تمام اغلاط پر کڑی نگاہ رکھنے کے لئے ایسا پروف ریڈر( عیب جو) درکار ہوتا ہے جسے وسیع اور گہرے مطالعہ کے سبب ایسی باتوں پر عبور حاصل ہو، ایم اے اردو بندہ اگر پروف ریڈنگ کا تجربہ نہیں رکھتا تو زیادہ غلطیاں کرسکتا ہے بہ نسبت پروف، پروفیشنل پروف ریڈر کے جو صرف میٹرک لیول کا ہوگا، پروف ریڈنگ وہی زیادہ صحیح کرے گا، جس کو تجربہ زیادہ ہو گا،
✍️رات دس بجے قریبی ہوٹل بابر گل سے کڑاہی گوشت منگوا کر عشائیہ کیا گیا، چائے تو ساتھ ساتھ چلتی رہی، ساری رات تمام عملہ بیٹھا کام کرتا رہا اس وقت غالباً صبح کے چار بجے تھے جب پروین شاکر ایک جائزہ کتاب کی کتابت معہ پروف ریڈنگ مکمل ہوئی، اور غلطیاں لگا دی گئیں، یعنی جو اغلاط پروف ریڈر نے پوائینٹ آؤٹ کیں انہیں دوبارہ کاتبین نے درست کر دیا، اس کے بعد پروف ریڈر دوبارہ ان جگہوں کو چیک کرتا ہے کہ کیا واقعی غلطیاں دور ہو چکی ہیں، اس کے بعد کاپیاں جوڑنے کا مرحلہ آگیا،
✍️کاپیاں جوڑنے سے کیا مراد ہے، اشاعت سے وابستہ ہر شخص جانتا ہے لیکن یہاں ان قارئین کو آگاہ کیا جا رہا ہے جو سالہا سال سے کتابیں ڈائجسٹ پڑھتے ہیں، لیکن انہیں کاپیاں جوڑنے کے بارے کچھ پتہ نہیں کیسے پتہ چلے؟؟ کیا کسی نے کسی تحریر میں یہ بتانے یا سمجھانے کی کوشش کی ہے؟؟ قطعی نہیں،
✍️جب کتاب کتابت ہوتی تھی یا اب کمپوز ہوتی ہے، تو ہر صفحہ علیحدہ علیحدہ ہوتا ہے، لیکن چھپائی کے وقت ہر سولہ صفحات ایک ساتھ چھپتے ہیں، ان کو ایک بڑے شفاف پیپر پر اس خاص ترتیب سے پیسٹ کیا جاتا ہے کہ فولڈ کریں تو سارے صفحات ترتیب وار ایک دوسرے کے آگے پیچھے لائن اور لینتھ کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے آجائیں،
کاپیاں جوڑ کر جب ہم فارغ ہوئے تو فجر کی اذانیں ہورہی تھیں، لیکن یہ نہ سمجھیں کہ کتاب تیار ہو گئی تھی، یہ ماسٹر کاپی تیار ہوئی تھی لیکن ابھی ایک اہم کام رہتا تھا اس کے لئے پہلے سولہ صفحات کی کاپی تیار ہونی باقی تھی، چند گھنٹے کی نیند وہیں پوری کرنے کے بعد سید معاذ حسن ہاشمی اٹھ کھڑے ہوئے،
✍️ معاذ حسن اسلام آباد اْس جگہ پہنچ گئے جہاں آج محترمہ پروین شاکر صاحبہ کا قْل ہو رہا تھا،
ادھر ہم نے کتاب کا کاغذ خرید کر ریڑھے پر لوڈ کروا کر پریس بھجوا دیا… معاذ کی واپسی شام کو ہوئی انہوں نے ایک آٹو گراف بک لا کر میرے سامنے رکھ دی جس میں وہاں موجود مشہور شخصیات کی پروین شاکر مرحومہ کے بارے میں رائے اور نیچے قلمی دستخط تھے، ان شخصیات میں سرتاج عزیز سینٹ کے چیئرمین ملک قاسم، احمد فراز، پروین شاکر کے صاحبزادے سید مراد علی، اور کئی ایک دوسرے شامل تھے،
پروین شاکر ایک جائزہ… نامی کتاب آج کل نایاب ہے اور میرے پاس اس کے نمونے کی کاپی بھی موجود نہیں تاہم اس کی کچھ باقیات کی مدد سے، اس پوسٹ کے ساتھ تصاویر میں احمد فراز کے دستخطوں کے ساتھ ان کے تاثرات اور محترمہ پروین شاکر کے صاحبزادے کے دستخط شامل ہیں، یہی میرے ریکارڈ سے ماحضر ہے،
✍️بحرحال اسی شام پانچویں اور آخری کاپی جو کتاب کے حساب سے پہلے سولہ صفحات تھے فائنل کر کے پریس برائے طباعت بھیج دی گئی، حالانکہ آج محترمہ پروین شاکر صاحبہ کی وفات کو تیسرا دن یعنی قْل کا دن تھا، میرے حساب سے کتاب پانچویں دن شام تک تیار ہو نی چاہیے تھی، کیونکہ ابھی پرنٹنگ اور بائنڈنگ کے خاصے مرحلے باقی تھے. کتاب کی قیمت اس وقت شاید تیس روپے رکھی گئی، کل 80 صفحات کی تو کتاب تھی کتاب کیا کتابچہ سمجھیں، اسی رات اپنا کام ختم کر کے معاذ حسن واپس لاہور چلا گیا،
✍️کتاب پر مرتب کی حیثیت سے ارشد ملک اور معاذ حسن دونوں کا نام لکھا گیا تھا، لیکن پانچویں دن صبح جب نمونے کی چند کاپیاں میرے پاس تیار ہو کر آگیئں، لیکن اس کے فوری بعد ایک ٹیلیگرام( تار) آگیا انگریزی میں،، اس کا لُبِ لباب یہ تھا کہ ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ آپ پروین شاکر کی شاعری پر مشتمل کتاب چھاپ رہے ہیں ، فوراً اس کو روک دیں، ورنہ کارروائی کی جائے گی، میرے ہاتھ پاؤں پھول گئے، میں ایک کمزور پبلشر ہزاروں روپے لگ چکے تھے میں تو یہ نقصان برداشت ہی نہ کرسکتا تھا، لیکن نوٹس کو نظر انداز کرنا بھی ممکن نہ تھا،
✍️بہت سوچ بچار کے بعد کتاب کی دس پندرہ کاپیاں ہمراہ لے کر شام کو اسلام آباد میں کتابوں کی سب سے بڑی دوکان مسٹر بکس پر پہنچ گیا اور یوسف صاحب جو مسٹر بکس کے مالک اور بااثر شخصیت تھے،سے ملاقات کی اور ان سے مدد کی درخواست کی، انہوں نے کتاب کو دیکھا، جائزہ لیا… اور اٹھ کھڑے ہوئے اور مجھے ساتھ لے کر پروین شاکر صاحبہ کے گھر پہنچ گئے، خاصا پروٹوکول ملا انہیں، انہوں نے انہیں وضاحت کی کہ یہ پروین شاکر صاحبہ کی شاعری پر مشتمل کتاب نہیں بلکہ انہیں خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے محض ایک 80 صفحات کا کتابچہ ہے،
ان کی مدد اور وضاحت سے کتاب مارکیٹ کرنے کی اجازت مل گئی، اور میں نے سکون کا سانس لیا مسٹر بکس اسلام آباد کے مالک یوسف صاحب ہر دل عزیز شخصیت تھے اللہ انہیں غریقِ رحمت کرے بحرحال یہ ان کا مجھ پر احسان تھا، اور ہے، چند سال قبل شوگر کی بیماری کی شدت سے وفات پا چکے ہیں اسلام آباد میں کتابوں سے دلچسپی رکھنے والا شاید ہی کوئی شخص ہوگا جو انہیں نہ جانتا ہو، بہرکیف یہ ایک موسمی کتاب تھی اور ایک دوبار چھپنے کے بعد ختم ہو گئی،
✍️✍️✍️✍️✍️پروین شاکر نام ہے جدید عہد کی شاعری کے سنہرے باب کا جو ہمیشہ کے لئے بند ہو چکا ہے،
ساتھ تو میرا زمیں دیتی مگر
آسماں کا ہی اشارہ اور ہے
حد چراغوں کی یہاں سے ختم ہے
آج سے رستہ ہمارا اور ہے

✍️پروین شاکر.. نام ہے ادب کے ایسے خواب کا جو ٹوٹ چکا ہے، شاعری کی اس خوشبو کا، جو بکھر چکی ہے!
👈 عکسِ خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی
اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی
پروین شاکر کی شاعری میں زندگی کے سارے رنگ ملتے ہیں
👈 چلی ہے تھام کے بادل کے ہاتھ کو خوشبو
ہوا کے ساتھ سفر کا مقابلہ ٹھہرا

پروین شاکر کی موت اردو شاعری کا وہ کرب ناک سانحہ ہے جس کا زخم ہمیشہ ہرا رہے گا
👈 میرے چھوٹے سے گھر کو کس کی نظر اے خدا لگ گئی
کیسی کیسی دعاؤں کے ہوتے ہوئے بد دعا لگ گئی

👈 میں پھر خاک کو خاک پر چھوڑ آئی
رضائے الٰہی کی تکمیل کر دی

👈 مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
لفظ میرے، میرے ہونے کی گواہی دیں گے
✍️✍️✍️✍️✍️پروین شاکر نے 24نومبر 1952 کو کراچی میں آنکھ کھولی، تعلیم بی اے آنرز ایم اے لسانیات اور ایم اےانگلش لٹریچر اور ایم پی اے 1992 میں ہارورڈ یونیورسٹی سے کیا، گورنمنٹ عبداللہ کالج کراچی میں انگریزی لیکچرار کی حیثیت سے پڑھایا، سیکنڈ سیکرٹری سی بی آر اسلام آباد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایڈ منسٹریش راولپنڈی اور پھر ڈپٹی کلکٹر کسٹم اسلام آباد تعینات رہیں، پی ایچ ڈی کرنے والی تھیں،
✍️آپ کا پہلا شعری مجموعہ غالباً مکتبہ التحریر لاہور سے 1977 شائع ہوا جس نے ابتدا ہی سے مقبولیت حاصل کر لی،، اور پروین شاکر کا شمار مشہور ترین شعراء میں ہونے لگا، دوسرا شعری مجموعہ صدِ برگ 1980 میں چھپا، اس کے بعد پروین شاکر کی تخلیقات غالب پبلشرز سے چھپتی رہیں 1985 میں پروین شاکر کا تیسرا شعری مجموعہ خود کلامی کے نام سے آیا، جب کہ چوتھا اور آخری شعری مجموعہ انکار کے نام سے 1990 میں شائع ہوا اس کے ساتھ ہی ہم نے دیکھا کہ پروین شاکر کی کتابیں مراد پبلی کیشنز اسلام آباد کے نام سے مارکیٹ میں نظر آنے لگیں، تاہم تقسیم کار کے طور پر فیروز سنز لمیٹڈ کا نام بھی ساتھ لکھا ہوتا تھا ، 1992_93 میں میں ایک بار سنگِ میل پبلی کیشنز پر گیا تو ادارے کے روح رواں حاجی نیاز احمد کے صاحبزادے اعجاز احمد نے مجھے البم سے کچھ تصاویر دکھائی تھیں کہ پروین شاکر سنگ میل پبلی کیشنز کے آفس لوئر مال میں موجود ہیں، ہوسکتا ہے کہ اعجاز صاحب کی خواہش ہو کہ پروین شاکر ان کے ادارے سے شائع ہوں، ہر اشاعتی ادارے کا کسی بھی ادیب یا شاعر کے لئے ایسی خواہش کرنا یا دل میں رکھنا حق ہے،
✍️پروین شاکر نے قدرے مختصر عمر میں ہی بے شمار ملکی و بین الاقوامی اعزازات اور ایوارڈ حاصل کرنے کے ساتھ بے پناہ شہرت سمیٹی اور اردو کی صفِ اول کی شاعرہ تسلیم کی گئیں،
اس میں کچھ شک نہیں کہ پروین شاکر منفرد لب و لہجے کی باکمال شاعرہ تھیں، ان کی شہرت ان کی ناگہانی وفات کے بعد مزید بڑھ گئی جو آج بھی نہ صرف قائم ہے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ روز بروز اس میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے
✍️ اب گزشتہ ایک عشرے سے پروین شاکر کے شعری مجموعوں کی اشاعت جہانگیر بک ڈپو لاہور سے ہو رہی ہے جو عصرِ حاضر کا زبردست اشاعتی ادارہ ہے،

🌠🌠🌠🌠پروین شاکر کے چند اشعار 🌠🌠🌠🌠

جہاں سوال کے بدلے سوال ہوتا ہے
وہیں محبتوں کا زوال ہوتا ہے

وہ تو خوشبو ہے ہواوں میں بِکھر جائے گا
مسلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا

طلاق تو دے رہے ہو غرور و قہر کے ساتھ
مرا شباب بھی لوٹا دو مرے مہر کے ساتھ

اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے
جاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی

وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا تیرا خیال بھی
دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی

عکسِ خوشبو ہوں بِکھر نے سے نہ روکے کوئی
اور بِکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی

🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️
✍️✍️✍️✍️✍️محمد سلیم اختر کے قلم سے میری آشنائی کو ربعہ صدی سے زیادہ وقت بیت چکا ہے، آپ ایک پختہ خیال کہانی کار ہیں سلیم اختر انسانی جبلّت کی گہرائی اور گیرائی پر غضب کی گرفت رکھتے ہیں، سلیم اختر کی تحریریں اپنے مصنف کے جہاں دیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی اعلی’ قوّتِ مشاہدہ کی غماز بھی ہیں، ان کی تقریباً تمام کہانیاں زن زر اور زمین کے گرد گھومتی ہیں حقائق نگاری ہمیشہ سے ہی سلیم اختر کا طُرّہ امتیاز رہا ہے، بہتر الفاظ کا جامہ پہنانے کے لئے کہانی کار کو شاعرانہ تخیلّ کی ضرورت ہوتی ہے، لب و لہجہ کرداروں کا اندازِ بیاں گفتگو تشبیہ استعارے ، محاورات اور امثال بلکہ کچھ مخصوص حالات میں ذرا سا ٹچ کہانی کو کہاں سے کہاں لے جاتا ہے، لکھنے کے دوران مصنف کو ہر چیز کیمرے کی آنکھ سے دیکھنی کی کوشش کرنی چاہیے،تاکہ کہانی کے فریم میں کوئی ضروری چیز آنے سے رہ نہ جائے، اور کوئی غیر ضروری چیز آ نہ پائے،
اور یہ ساری ایپروج محمد سلیم اختر میں بدرجہ اْتم کًوٹ کْوٹ کر بھری ہے، یہی وجوہات ہیں کہ موصوف چارعشروں سے حقائق نگاری سے مزین ڈائجسٹوں کے مدیران کی آنکھ کے تارے ہیں،
✍️محمد سلیم اختر 30نومبر 1949 کو پنجاب کے ضلع جہلم کی تحصیل سوہاوہ کے گاؤں جیون آباد میں پیدا ہوئے، آپ کی تعلیم ایف ایس سی، اور آپ محکمہ FBR سے سپرنڈنٹ ریٹائرڈ ہیں، آپ کو اپنے ہم عصروں میں سب سے زیادہ ڈائجسٹوں میں لکھنے کا اعزاز حاصل ہے
✍️آداب عرض، جواب عرض، سلام عرض، خوفناک ڈائجسٹ مسٹر میگزین، ڈر ڈائجسٹ، سچے واقعات، دل نشیں ڈائجسٹ قومی ڈائجسٹ اردو ڈائجسٹ، سیارہ ڈائجسٹ، ماہنامہ حکایت اور چار دیواری (مدیر عنایت اللہ) سچی کہانی نئ صدی، ریشم ڈائجسٹ، طارق اسماعیل ساگر کا ساگر ڈائجسٹ، سچی کہانیاں ڈائجسٹ کراچی، آئیڈیل، مسٹری میگزین، ایڈونچر، عمران ڈائجسٹ نئے افق شمیم نوید کا جرم و سزا ڈائجسٹ، کنگن شمع ڈائجسٹ لاہور
محبتیں ڈائجسٹ، مسرت ڈائجسٹ، نازنین ڈائجسٹ (مدیر اعلے شکیل عادل زادہ)، مسرت ڈائجسٹ، کراچی، کے علاوہ بے شمار ڈائجسٹوں میں ان کی لاتعداد کہانیاں ان کی اہلیہ زرمینہ بیگم اور ان کی بچی کے نام سے بھی شائع ہوئیں، ان میں عورت ڈائجسٹ،لاہور صائمہ ڈائجسٹ کراچی، دوشیزہ کراچی، بدلتے رنگ ڈائجسٹ دیباج ڈائجسٹ مسیحا ڈائجسٹ، اور حنا ڈائجسٹ لاہور شامل ہیں، یہ ان ڈائجسٹوں کے نام ہیں جو سلیم صاحب کو یاد ہیں بقول
ان کے ان گنت ڈائجسٹ رسالے جن میں ان کی کہانیاں شائع ہوئیں اور وہ بعد میں بند ہو گئے ان میں سے اکثریت کے نام بھی انہیں یاد نہیں، یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ تقریباً بیس سال قبل ان کی سچی کہانیاں میں شائع ہونے والی ایک کہانی لبِ بام پر ٹی وی ڈرامہ بھی بنا، اس کے علاوہ سچی کہانیاں نے 2004 میں بہترین کارکردگی کا ایوارڈ دیا، اور پھر 2017 میں سچی کہانیاں ڈائجسٹ کی جانب سے انہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا، اسی طرح 2017_18 میں سچی کہانیاں پر بطور اعزازی ایڈیٹر ان کا نام بھی دیا جاتا رہا، کافی عرصہ قبل بند ہو جانے والے لاہور کے ڈائجسٹ سلام عرض سے بھی انہیں ایک تقریب میں بہترین مصنف کا ایوارڈ دیاگیا، بشری’ مسرور کے ریشم ڈائجسٹ کی جانب سے بھی تین بار محمد سلیم اختر کو بہترین کہانی نویس کا ایوارڈ ملا،
تاہم سلیم صاحب شارٹ سٹوری مصنف ہیں پوری زندگی میں انہوں نے صرف دو بار طویل کہانی لکھی پہلی بار شہزادہ عالمگیر کے سچے واقعات میں سولہ اقساط پر
پر مشتمل اندھیر نگری کے نام سے سلسلہ وار کہانی لکھی لیکن یہ بھی ان کی اہلیہ زرمینہ بیگم کے نام سے شائع ہوتی تھی، اور پھر چند سال قبل نئے افق میں روپ بہروپ کے نام سے 6 اقساط پر سلسلہ وار کہانی چھپی یہ محمد سلیم اختر کے نام سے چھپنے والی والی واحد قسط وار کہانی ہے،
2014 میں یہ.. دیا بجھنے نہ پائے.. کے نام سے ان کی کہانیوں کا ایک مجموعہ نواب سنز پبلی کیشنز راولپنڈی سے شائع ہوا تھا محمد سلیم اختر انتہائی جنٹلمین شخص ہیں، بلکہ یوں کہنا مناسب ہو گا کہ ضرورت سے زیادہ شریف آدمی ہیں، آج کل بہت کم لکھتے ہیں، اس کی وجہ کچھ مدیران کا ناروا رویہ ہے اسی بناء پر دل گرفتہ ہو کر لکھنا بہت کم کر دیا ہے،

(جاری ہے)
بہ احترامات فراواں
اعجاز احمد نواب

……
……
……
اردو کہانی کا سفر کے حقوقِ اشاعت بحق مصنف محفوظ ہیں، بغیر تحریری اجازت اس کو کاپی پیسٹ کرنا، یا اس کا Pdf بنانا یا کسی بھی ویب سائٹ یا پرنٹ میڈیا پر اسی یا کسی دوسرے نام سے شائع کرنا جرم ہے پوسٹ کو صرف شئیر یا اس کا لنک شئیر کیا جا سکتا ہے،
……
……
……
……
……
مدیران ناشران تاجرانِ کتب نیوزایجنٹ مصنفین اور قارئین کی یہ مشترکہ بیٹھک ابھی جاری ہے بقیہ واقعات کے لئے انتظار فرمائئے قسط نمبر24 کا، بہہہہہہت جلد انشاءاللہ

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

کراچی یاترا …امجد جاوید قسط نمبر 01

کراچی یاترا امجد جاوید  کراچی یاترا کے لئے پہلا پڑاﺅ ملتان میں ٹھہرا۔ 5دسمبر2019ءکی دوپہر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے