سر ورق / یاداشتیں / کراچی یاترا …امجد جاوید قسط نمبر 01

کراچی یاترا …امجد جاوید قسط نمبر 01

کراچی یاترا

امجد جاوید

 کراچی یاترا کے لئے پہلا پڑاﺅ ملتان میں ٹھہرا۔ 5دسمبر2019ءکی دوپہر میں سر زمینِ ملتان کی جانب گامزن تھا ۔ مجھے عرفات ظہور کے پاس چوک گھنٹہ گھر جانا تھا ۔ وہیں صدارتی ایورڈ یافتہ علی عمران ممتاز نے ہونا تھا ۔یہیں پر ندیم اختر نے لیہ سے آکر ملنا تھا ۔میرا دونوں ہی سے فون پر رابطہ تھا ۔ پتہ چلا کہ ندیم اختر تھوڑا لیٹ ہے ۔سوچنے لگا یہ تھوڑا سا وقت کیسے گزارا جائے ۔بہت سارے دوست ذہن آ تے چلے گئے ۔میرا یونیورسٹی فیلو میاں ناصر،سو چا اسے فون کروں ، وہ نہ صرف لاری اڈہ آ کرمجھے لے جائے گا ، بلکہ کچھ بیتی یادوں کو تازہ کر لیں گے ۔ یونیورسٹی کا وہ کیا دور تھا ۔ ان دنوں ہم ملتان جاتے تھے تو ….یہ یادیں خود کو منوانا چاہتی تھیں لیکن میں نے وقتی طور پر ان پہ قابوپالیا۔ میرے ذہن میں کئی ایسے دوست آ نے لگے جنہیں میں پہلے نہیں ملا تھا لیکن ان سے ایک خاص تعلق بن چکا تھا ۔ ان میں پہلا نام محترم شاکر میﺅ کا تھا ۔ جو بہت عرصہ سے میرے قاری کی حیثیت سے میرے ساتھ منسلک تھے ۔ جب بھی فون پر بات ہو تی وہ ملتان آنے کی دعوت ضرور دیتے ۔ میںنے انہیں کال کی ، انہوں نے انتہائی خوشی میں کئی سارے پروگرام بنا ڈالے ۔ خیر میںنے انہیں وہیں کا بتا دیا جہاںمجھے جانا تھا ۔ دوسرا نام جناب ضمیر ہاشمی کا تھا ، موصوف نے ایک زمانہ دائجسٹ کی دنیا میں گزارا تھا ۔وہ اس دورکے امین ہیں ۔ان سے فونک رابطہ تھا لیکن ملاقات نہیں ہو پائی تھی ۔انہوں نے فون نہیں سنا تو میںنے اتما حجت کے لئے ایک پیغام چھوڑ دیا۔ تیسرے دوست عمیر طاہر تھے ، ان کا فون بند جا رہا تھا۔ سو انہیں بھی پیغام ہی دے دیا ۔پھر ہمت نہیں ہوئی کہ شاید اگلا دوست بھی کہیں بزی ہو گا ۔ انہی ٹیلی فونک رابطوں میں ملتان آن پہنچا ۔ پبلک ٹرانسپورٹ سے اُتر کر رکشہ لیا اور چوک گھنٹہ گھر کی طرف نکل پڑا ۔

 کراچی جانے کا پلان بس یونہی بن گیا ۔ جناب محمد فہیم عالم ، جو بچوں کے ادب کے کبھی نامور لکھاری تھے اور چھ بار صدارتی ایوارڈ یافتہ ہیں ۔اب ایک کامیاب پبلیشر ہیں(ویسے اب بھی لکھاری ہیں ، چار مستقل سلسلے عرصہ5سال سے لکھ رہے ہیں) ۔۔ ۔ہر برس وہ مجھے بچوں کا ناول لکھنے کی آ فر کرتے اور میں نجانے کیوں لکھ نہ پاتا ۔ حالانکہ میرے ذہن میں ایک سپر ہیرو کا کردار بن چکا تھا اور میں اسے لکھنا بھی چاہتا تھا ۔اس بار جب جناب محمد فہیم عالم نے ناول لکھنے کا کہا تو میں انکار نہ کر سکا ۔ طے یہ ہوا کہ اس ناول کی رونمائی کراچی میں ہو گی ۔ کراچی جانے کے تمام تر انتظامات انہوں نے کر دئیے تھے ۔ ہمیں بس وقت پر پہنچنا تھا ۔اور…. وہ وقت آن پہنچا تھا ۔ بچوں کے ادب میں پاکستان کا پہلا سپر ہیرو ” جی بوائے “ شائع ہو گیا تھا ۔ اس کی تما م کاپیاں کراچی پہنچ چکی تھیں ۔ میرے لئے انتہائی خوشی کی بات یہ تھی کہ ” جی بوائے “ کی سو کاپیاں شائع ہو تے ہی فروخت ہو چکی تھیں ۔ یہ کاپیاں جناب عمران احمد خان نے خریدی تھیں ۔آپ سعودی عرب میں مقیم ہیں ۔ آپ شاید حیران ہوں کہ ایسا انہوں نے کیوں کیا ؟ پہلی بات آپ ایک ایسے لکھاری کے بیٹے ہیں جنہوں نے بچوں کے ادب میں بہت نام کمایا ، جناب سعید لخت کے لخت جگر عمران احمد خان دل سے چاہتے ہیں کہ بچوں کے ادب کو فروغ ملے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ لکھاریوں کی عزت افزائی میں انتہائی خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ انہوںنے صرف ” جی بوائے کی سو کاپیاں نہیں خریدیں بلکہ ….آپ ان کی ہی پوسٹ پڑھ لیں ۔

”اس سال کا کراچی بک فئیر

"بچوں کا کتاب گھر” کے نام

تین سال قبل جب محمد فہیم عالم صاحب کا تعارف ہوا تو مایوسی ہوئی۔ ایک نہیں کئی وجوہات تھیں۔ آج وہی محمد فہیم عالم صاحب جب بھی ملتے ہیں حیران کر جاتے ہیں۔ ان میں ادب برتنے کے آداب آ گئے۔ نقصان در نقصان اٹھانے کے باوجود ناشر بن ڈٹے ہوئے ہیں۔ اس سال کی ان کی کئی کتابوں سے ہر کتاب کی سو سو کاپیاں خرید لیں ہیں۔ مگر یہ لکھاری اور پبلشر دونوں کو دیکھ کر ہی فیصلہ کیا ہے۔ دعوت شیراز ہر گز نہیں ہے۔ جب اچھا لکھا جائے، اچھا چھاپا جائے تو پڑھنے والے بھی اپنا ڈھیٹ پن چھوڑ اچھا بن جاتے ہیں۔

جناب امجد جاوید کا جی بوا ئے

جناب نذیر انبالوی صاحب کی دونوں کتب

راکعہ رضا کی آخری اور میری پہلی سیڑھی

راکعہ رضا کی وادی طائرستان مع سی ڈی (قافیہ پسند آیا)

راحت عائشہ کا پیڑ کا بھوت

گل رعنا صدیقی کا مجرم کے بال

بینا صدیقی کی خاطر داریاں

محترمہ نائلہ صدیقی کی گر پڑے بیمار

محترمہ سیما صدیقی کی گیڈر بھبکی

ان تمام کتب کی ہر میں سے دس دس کاپیاں میرے خاندان کے "بچوں” کے لیے لاہور میں روک لی جائیں گی اور باقی کی نوے نوے کاپیاں بک فئیر میں مطالعہ کے شوقین بچوں میں دستخطوں کے ساتھ اعزازی تقسیم ہونگی۔ اب ہر کتاب پر دستخط کے ساتھ پیغام مشترکہ ہونا چاہیے۔۔ تمام آٹھ لکھاری سر جوڑ کر بیٹھیں اور "بچوں کا کتاب گھر” کا مشترکہ یک سطری نعرہ صرف مطالعہ کے فروغ دیتا ہو۔ اب خود سوچیے جب ہزار کاپیاں وہ نعرہ لے کر نکلیں گی تو کیا عالم ہو گا۔ انفرادی حیثیت میں خجل خوار ہونے سے کہیں بہتر ہے ایک اجتماعی توانائی۔ جی بوائے کی طرح "جی ہم“….سنا ہے لکھاری کی پبلشر کو بد دعا اور قاری کو دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے ۔“

 ظہر اور عصر کا درمیانی وقت تھا جب میں عرفات ظہور کے پاس پہنچ گیا ۔ وہیں علی عمران ممتاز بھی تھے ۔ابھی اتنا وقت نہیں گزرا تھا کہ شاکر میﺅ صاحب تشریف لے آ ئے ۔ ان کے پاس کافی پروگرام تھے ۔ کھانے سے لیکر گپ شپ تک ۔ لیکن جب انہیں پتہ چلا کہ بس ہمارے پاس ملتان میں دو ڈھائی گھنٹے ہیں تو ان کے پروگرامز پر سمجھیں اوس پڑ گئی ۔ ایک قاری کی محبت دیکھ کر میرا دل بڑا ہو رہا تھا ، میرا حوصلہ بڑھ رہا تھا ۔ اتنے میں کھانا آ گیا تو اس کے ساتھ ہی ضمیر ہاشمی صاحب بھی اپنی بائیک سے ترتے دکھائی دئیے ۔ والہانہ انداز سے ملے ۔ان کے پاس بھی کچھ پر گرام تھے ۔وہ بھی ہماری معروضات سنے بغیر ۔ خیر طے یہ پایا کہ لنچ یہیں لیتے ہیں اور چائے کسی دوسری جگہ جا کر پیتے ہیں ۔

dav

چائے کی وہ دوکان جناب شاکر حسین شاکر کی شاپ کے بغل میں تھی ۔ہم سب ان کی شاپ پر پہنچے ۔ وہ بڑے تپاک سے ملے مگر تھوڑے سے غائب دماغ دکھائی دے رہے تھے جیسے ان کی توجہ کہیں لگی ہوئی ہے ۔ بعد میں پتہ چلا کہ جناب قمر رضا شہزاد تشریف لارہے ہیں اور وہ ان کے انتظار میں ہیں ۔ ہم ان کے پاس تھوڑا رُک کر اور انہیں بھی چائے کی دعوت دے کر ایک افغان ہو ٹل تک جا پہنچے ۔ میرے ساتھ ضمیر ہاشمی صاحب ، پھر محترم شاکر میﺅ ، ان کے ساتھ علی عمران ممتازاور پھر عرفات ظہور بیٹھ گئے ۔ اس کے ساتھ ندیم اختر کا انتظار کے وہ کب پہنچتے ہیں ۔ باتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس دوران چائے چلی اور خوب چلی ۔ندیم اختر پہنچے تو ساتھ میں شاکر حسین شاکر بھی وہیں آ گئے ۔ انہوںنے آتے ہی لطیفہ سنایا جس کا غائبانہ روئے سخن جناب قمر رضا شہزاد تھے ۔ایک بھر پور محفل تھی ۔ دل نہیں چاہ رہا تھا کہ اٹھا جائے مگر وقت بہت کم رہ گیا تھا ۔ وہیں سب دوستوں سے الوداع ہو ئے ۔ یہ دعوت ِشیراز جناب شاکر میﺅ کی جانب سے تھی ۔انہوںنے میرا دل جیت لیا ۔اگر سارے دوست ہمارے ساتھ ہی ائیر پورٹ جانا چاہتے تھے لیکن ہم نے وہیں سے اجازت چاہی اور ٹیکسی سے ائیر پورٹ جا پہنچے ۔

ائیر پورٹ پر جاتے ہی پھر سے یادوں میں کھو گیا ۔ یہیں سے میں ایک برس قبل عمرہ ادائیگی کے لئے روانہ ہوا تھا ۔ وہ سارا منظر نگاہوں میں گھوم گیا ۔ ائیر پورٹ کے مراحل سے گزرنے کے بعد فلائیٹ پی کے 3331کے اندر جا پہنچے ۔ سامنے ہی جناب قمر رضا شہزاد ایک نشست پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ سلام دعا کے بعد دل چاہا کہ وہیں شاکر حسین شاکر کا سنایا لطیفہ انہیں سنا دوں مگر موقعہ نہیں تھا ۔ سو خاموشی سے اپنی نشست پر جا بیٹھا ۔

چھ بجکر پانچ منٹ پر فلائیٹ اڑی توسکون ہوا کہ بس اب کچھ دیر بعد کراچی میں ہوں گے ۔

 سفر بخیر ، کراچی پہنچ گئے ۔ سامان لیتے ہوئے جناب قمر رضاشہزاد سے پھر ملاقات ہو گئی ۔ دل چاہا کہ انہیں لطیفہ سنا ہی دوں مگر ان کے ساتھ دو خواتین کھڑی تھیں۔ ان کے ساتھ ڈاکٹر انوار صاحب بھی تھے ، سو خاموش رہا ۔

کراچی کاموسم بہت خوب تھا ۔ پتہ چلا کہ ابن آس بھائی اور ہمارے پبلیشر پی سی ہوٹل میں ہیں اور ہمارے منتظر ہیں ۔ ندیم نے ٹیکسی کرائی کہ وہ ان کاموں کے کافی ماہر ہیں ۔ اور ہم پی سی جا پہنچے جہاں دونوں دل کے ٹکڑے ہمارے استقبال کے لئے موجود تھے ۔ اس پر جانب عمران احمد خان کا تبصرہ ساری روداد” سمجھانے “ کے لئے کافی ہو گا ۔

”واہ بھئی واہ ۔مہمان سفر کے باوجود ہشاش بشاش لگ رہے ہیں جبکہ تھکاوٹ ابن آس صاحب کے جہرے سے عیاں ہے۔ اسکے پیچھے بھی کہانی ہے بتاو ¿ں گا بہلے خود ہنس لوں۔-ملتان کا جہاز کپتان کے بجائے بھابی صاحبہ (امجد جاوید) کی دعاو ¿ں نے اڑایا۔ تمام راستے امجد بھائی آستین چڑھائے رہے کہ شاید بیس ہزار فٹ کی بلندی پر جہاز کو دھکا لگانا پڑ جائے۔“

ابن آس کا وہ والہانہ ملنا مجھے آج تک نشہ دے رہا ہے ۔کچھ عمل ایسے ہوتے ہیں جن کے لئے لاکھوں لفظ بھی کہہ دئیے جائیں تو وہ ناکافی ہوتے ہیں ۔کمرے میں پہنچتے ہی واویلا مچادیا کہ چلو پہلے ڈنر لے لیں پھر کچھ دوسرا معاملہ ہوگا ۔ لیکن محفل لگ چکی تھی ۔ بہ مشکل اٹھے اور ”چاندنی “میں جا پہنچے ۔ایک گائیک کی دھیمی غزل کے ساتھ ڈنر شروع ہو گیا ۔کھانوں کا ذائقہ اور لذت تو اپنی جگہ وہاں ایک ویٹر تھا ، جسے اب آس بار بار پوچھتے کہ تمہارا نام کیا ہے ؟ وہ ہر بار بتاتا کہ میرا نام قربان ہے ۔ حالانکہ اس کے سینے پر بھی لکھا ہوا تھا۔ ہر بار پوچھنے پر وہ تھوڑا غصے میں بھی آگیا ۔ مجھے بھی تھوڑا محسوس ہوا کہ یہ کیوں ایسا کر رہے ہیں ۔میں نے پہلی بار

جھینگا مچھلی وہیں چھکی ۔ڈنر لے چکے تو ابن آس نے اس ویٹر کو بلا یا اور میری جانب اشارہ کر کے بولے ،یہ لاہور سے آئے ہیں اور فلم پروڈیوسر ہیں، اپنی فلم کے لئے ہیرو تلاش کر رہے ہیں ۔ تم میں دلچسپی لے رہے ہیں ،فلم میں کام کرنا پسند کرو گے ؟“ یہ کہنا تھا کہ قربان کے چہرے کا رنگ ہی تبدیل ہو گیا ۔ اس کے چہرے پر ممنونیت پھیل گئی ۔ تاہم اس کا جواب سنے بغیر ہم اٹھ گئے ۔( اس کا ردعمل آ گے آ ئے گا )

چائے پینے ہم پریس کلب جا پہنچے ۔کئی برسوں بعد جانا ہوا تھا ۔ اس جگہ کے ساتھ کافی یادیں وابستہ ہیں ۔ وہیں باہر ہی محفل سج گئی ۔وہاں ہمیں ایک دوست ملے جناب خالد دانش …. بھئی کما ل شخصیت ہیں ۔ان سے مل کر دل خوش ہو گیا ۔باتوں ایک سلسلہ دراز ہوا تو وقت کا احساس ہی نہیں رہا ۔ رات کے دو بج گئے ۔ مگر ہم یوں ترو تازہ تھے جیسے ابھی شام ہی ڈھلی ہے ۔ وہاں سے اٹھے تو ابن آ س نے کہا ،” آﺅ یار ، رات کے اس سناٹے میں سمندر سے ملوا کرلاﺅں ۔“

” چلو چلتے ہیں ۔“میںنے کہا تو انہوںنے اپنی کار کا رخ ادھر موڑ لیا ۔

رات ، سناٹا، سمندر کی آ واز اور ہم ….ایک عجیب ماحول تھا ۔کہتے ہیں کچھ جگہیں ایسی ہوتی ہیں جہاں بہت کچھ وارد ہو تا ہے ۔ مجھے لگا جیسے سمندر مجھے اپنی طرف بلا رہا ہے ۔ سامنے اندھیرا ، سمندر کی ہلکے ہلکے چمکتی لہریں اور میں ۔میں ٹھنڈے پانی میں داخل ہو گیا۔ پتہ نہیں ندیم کو کیا سوجھا ، اس نے مجھے بازو سے پکڑا اور بولا

” امجد بھائی آﺅ واپس چلیں ، کل دن میں آ ئیں گے ۔“

ہم واپس ہوٹل آ گئے ۔ مگر دل نہیں چاہ رہا تھا کہ سوئیں ۔ایک بار پھر سے محفل سج گئی ۔ ابن آس کو بہت کہا کہ بھائی ادھر ہی سو جاﺅ ، مگر وہ گھرکے لئے چل دیا۔اور ہم سونے کے تیاری کرنے لگے تاکہ کل کا بھر پور دن گزار سکیں ….(جاری ہے )

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر 23ویں قسط . اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر 23ویں قسط تحریر 🖋️اعجاز احمد نواب ✍️✍️✍️✍️✍️26دسمبر1994 کی انتہائی سرد صبح کا …

4 تبصرے

  1. Avatar

    بہت خوبصورت روداد ۔۔۔ یوں لگ رہا ہم بھی وہیں ہیں ساتھ ۔۔۔

    رات کے سناٹے میں سمندر سے ملاقات ادھوری رہ گئی ۔۔۔۔

    اگلی قسط کے لیے منتظر

  2. Avatar
    رضا الحق صدیقی

    عمدہ سفری روداد ہے،،ملتان کی یاترا بھی پسند آئی ، یہ جو ندیم اختر ہیں،کیا یہ بقول منیر نیازی ہمیشہ دیر کر دیتے ہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے