سر ورق / یاداشتیں / کراچی یاترا ۔۔۔ امجد جاوید ۔۔۔ قسط نمبر 2

کراچی یاترا ۔۔۔ امجد جاوید ۔۔۔ قسط نمبر 2

کراچی یاترا

امجد جاوید

قسط نمبر 2

میں اضطرابی نیند میں تھا ۔نہ پوری طرح نیند آرہی تھی اور نہ آ نکھیں کھل رہی تھیں ۔عجیب بے سکونی والی کیفیت تھی کہ ندیم اخترکی حیرت بھری آواز میرے کانوں میں گونجی ۔

” امجد بھائی یہ ابن آس نے کیا لکھ دیا پوسٹ میں؟“

” کیا لکھ دیا پڑھ کر سنا دو ۔“ میںنے گو مگو کی سی آواز میں پوچھا تو ندیم اختر نے پڑھنا شروع کر دیا

” پی سی کی لفٹ میں تین مڈل کلاسیے اور کلاس کا ایک پبلشر۔۔۔۔ان چاروں میں جس کے چہرے پر زیادہ سکون ہے ،وہ پبلشر ہے۔۔۔۔۔

اور جو تین بے چین روحیں ہیں وہ قلم کار ہیں۔۔۔۔۔( تصویر غور سے دیکھیں )اچھا نہیں پہچانے۔۔۔۔۔تو یوں کرلیں۔۔۔۔۔ جس کے چہرے پہ داڑھی ہے ،وہ پبلشر ہے۔۔۔۔۔ اور باقی قلم کے مزدور۔ویسے تو محمد فہیم عالم بھی لکھاری ہی ہے ،اہل قلم ہے ،مگر جو چہرے سے مطمئن دکھائی دینے لگے،وہ محض رائٹر نہیں رہتا ،یقینا پبلشر بن چکا ہو تا ہے۔اور جو پبلشر بن جائے تو سمجھ جاو ¿ کہ وہ کہانی ب ±ننے کی بہ جائے ،کہانی بَننے کی طرف گامزن ہو جاتا ہے۔کام یابی کی کہانی۔۔۔۔۔ایک موٹیویشنل کہانی۔۔۔۔بہت کم ادیب ایسے ہوتے ہیں ،جو ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے ،کام یابی کی سیڑھیوں پہ قدم رکھتے ہیں ،اور ادھر ادھر دیکھے بغیر اوپر کی طرف چلے جاتے ہیں ،اور باقی لوگ اسے اوپر جاتے ہوئے دیکھتے کے دیکھتے رہ جاتے ہیں۔محمد فہیم عالم ان میں سے ایک ہے۔بچوں کا کتاب گھر۔۔۔۔۔ شروع کرنے کا آئیڈیا میرے آفس کراچی میں بنایا گیا تھا۔سب کچھ ہم دونوں نے ڈسکس کیا ،اور فہیم نے کچھ ہی دنوں میں اس خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیا۔۔۔ دل خوش کردیا۔شاباش فہیم۔۔۔۔۔۔فہیم عالم ہم اب تین ادیبوں ( ابن آس ،امجد جاوید ،اور ندیم اختر )کا پبلشر ہے۔۔۔۔ہم اس کے لیے لکھتے ہیں ،اور وہ ہمیں سمجھاتا ہے کہ ہم کیا لکھیں اور کیا نہ لکھیں۔۔۔۔۔ ( شکر ہے ہم سمجھ ہی نہیں پاتے )۔ساتھ میں میرے ندیم ( ندیم اختر ) بھی ہیں ،کہ جو دل کے پاس نہیں ،دل میں ہی رہتے ہیں۔۔۔۔۔ لیہ کی شناخت ہیں ،اور لیہ ان کی پہچان ہے۔۔۔۔۔ فہیم عالم نے ان کا ناول ” نیلے کنویں ?آخری بونا ” شایع کیا تھا۔چوتھے صاحب جو انتہائی بائیں جانب ہیں۔۔۔۔۔ یہ باکمال قلم کار ،درجنوں ناولوں اور سینکروں کہانیوں کے خالق امجد جاوید ہیں۔۔۔۔برسوں سے امجد سے یاد اللہ ہے۔۔۔۔۔ سینکڑوں بار فون پر بات ہوئی۔۔۔۔۔ یقین تھا کہ زندہ رہتے ہوئے ایک بار ملاقات ضرور ہوگی۔۔۔ اور ہو گئی ملاقات۔۔۔۔۔ وہ بھی پی سی ( پرل کانٹی نینٹل ) کی لفٹ کے سامنے ،اور اگلے ہی لمحے ہم بغل گیر ہو کر لفٹ میں داخل ہو گئے،۔۔۔۔۔امجد جاوید سے پہلی ہی ملاقات ایسی ہوئے کہ ہم پستی سے بلندی کی جانب اٹھتے گئے اور چوتھی منزل پر پہنچ گئے۔۔۔۔پی سی کی لفٹ میں تین مڈل کلاسیے اور ایک کلاس کا پبلشر۔۔۔۔۔ جمع ہو ئے تو مڈل کلاسیوں والی سوچ ( ہماری ) کے مطابق :” یار کیسی اچھی لفٹ ہے۔۔۔۔ ایک تصویر تو بنا لو۔۔۔۔۔”لیجیے تصویر بن گئی۔۔۔۔۔۔تصویریں یاد گار ہوتی ہیں ،ہم ہو ں نہ ہو ں۔۔۔۔۔۔ تصویریں ہمارے کبھی ہونے کا یقین دلاتی رہتی ہیں۔یہ تصویر بھی ایک یاد گار ہے۔۔۔۔امجد جاوید۔۔۔ لو یو یار۔۔۔پہلی بار کسی اپنے جیسے سے ملاقات ہوئی۔میرا ماننا ہے کہ جو شخص ،دوستوں کی محفل میں باتیں کرتے وقت گالیاں نہیں نکال سکتا ،اسے مہذب کہلانے کا کوئی حق نہیں۔۔۔۔ وہ منافق ہے ،مصنوعی ہے جھوٹا ہے۔۔۔۔اس ملاقات کے لیے لختِ سعید۔۔۔ عمران سعیدلخت کا شکریہ۔۔۔۔۔ کہ ان کی عنایت کے سبب بچوں کے کچھ ادیبوں کو پہلی بار بڑے ادیبوں جیسا پروٹوکول ملا۔( ابن آس محمد )

 ان لفظوں نے ساری نیند اڑا دی ۔دماغ میں یہی گونجنے لگا ، یار یہ ابن آس کیا ہے ؟ بندے کو اتنا بھی کھرا نہیں ہو نا چاہئے ۔ادھار رکھتا ہی نہیں ۔ میں جو کرداروں کو کھوجنے والا بندہ ، تجسس میں لگ گیا ۔نیند پھر سے آ نکھوں کو بند کر نے لگی تھی ۔فہیم عالم کے فون نے پھر سے جگا دیا۔

” اٹھیں بھائی ، ناشتہ کے لئے چلیں ۔“

dav
sdr

ایک میزبان ، دوسرا ہم ناواقف ، تیسرانیند کا اڑ جانا ، ہم تیار ہو گئے اور سیدھے پی سی کے ” مارکو پولو “ میں جا پہنچے ۔کہیں ناشتے ہی سے نہ رہ جائیں ۔ مارکو پولو میں داخل ہوتے ہی دیسی بدیسی چہرے دکھائی دئیے ۔ہم بھی ایک میز تک جا پہنچے ۔وہاں بیٹھے دیکھا کہ دیسی کھانے بھی موجود ہیں ۔ پراٹھے تلے جا رہے تھے ۔ اس کے ساتھ ہی ایک خاتون انڈوں کا آملیٹ بنا رہی تھی ۔ شاید میں اسے نظر انداز کر دیتا ، لیکن اس کا چہرہ چینی ، کورین یا تھائی خواتین جیسا تھا ، فر فر انگریزی بولتی جا رہی تھی ۔ ہماری تو ہمت ہی نہ پڑی کہ اس خاتون سے آ ملیٹ ہی مانگ لیں ، اسے کیسے بتائیں گے کہ ہمیں کیسا آ ملیٹ چاہئے ؟ اس میں شک نہیں کہ بہت شاندار ناشتہ تھا ۔ایویں کہوں حضرت فہیم عالم اس وقت پبلیشر نہیں چھوٹے بھائی کی مانند پوچھ رہے تھے کہ یہ کھائیں وہ کھائیں ۔ ندیم اختر پر بھی بڑے ہونے کا رعب جمایا ۔ وہ بھی چیزیں لالا کر ہمیں کھلاتا رہا ۔اور ہم دعائیں دیتے رہے جو ہمیں ناشتہ کروارہے تھے ۔

وہیں سے ہم حسن اسکوائر کی طرف نکل پڑے ۔ دل میں کھد بدھ بھی تھی کہ ”جی بوائے“ دیکھیں گے ۔ عالمی کتاب میلہ 2019ءایکسپو حسن اسکوائیر کراچی

۔سیکورٹی کے مرحلے سے گزرنے کے بعد عمارت میں داخل ہو ئے ۔ تو سامنے لوگوں کا رش لگا دیکھ کر دل خوش ہو گیا ۔ ہال نمبر دو میں ” کتاب گھر “ کا سٹال لگا ہوا تھا ۔شائقین کتب کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو رہا تھا ۔ ہم کچھ دیر وہاں ٹھہرے ۔ اس وقت خوش دو چند ہو گئی جب ایک خاتون مہ جبیں ، (سر نیم بھول گیا) نے پہچان لیا۔ میں ان کا شکر گزار ہوں ۔ رش بڑھنے لگا تھا ۔ اتنے میں محترمہ کرن صدیقی کا فون آ گیا کہ آپ کہاں ہیں ؟ جب تک ان سے ملنا ٹھہرا، ہم مختلف ستال دیکھنے لگے ۔ ساتھی کے مدیر مومن صاحب سے ملے ۔ جنہیں پرانے رسائل بھجوانے کا کہا ، انہیں نمبر اور پتہ بھی لکھ دیا لیکن ہنوز رسائل نہیں پہنچے ۔ ہال کا چکر لگاتے ہی کافی وقت ہو گیا ۔ اتنے میں چائے کی طلب ہو ئی تو میں اوپر جا بیٹھا ۔ وہیں کرن صدیقی سے ملاقات ہو گئی ۔کچھ دیر بعد راحت عائشہ بھی وہیں آ گئیں ۔ ان کے پیچھے ندیم اختر ۔ راحت عائشہ نے آ تے ہی شور مچا دیا کہ چلیں آپ کو مچھلی کھلائی جائے ۔ اس دن پتہ چلا کہ نہ صرف راحت عائشہ خود ڈرائیونگ کر لیتی ہے بلکہ صاحب کار بھی ہے اور اس قدر بااعتماد بھی کہ کراچی گھمانے کی آ فر بھی کر رہی ہے ۔( بڑا حوصلہ ہے راحت عائشہ کا ) ہم پیٹ بھرے یہی بہانہ بنا سکے کہ سمند رکی مچھلی ہمیں پسند نہیں ۔ تان حلیم پر ٹوٹی جو سامنے بک رہی تھی ۔ کافی کا ایک ایک مگ پی ، پھر سے اسٹال پر آ گئے ۔رش سے میرا ویسے ہی جی گھبراتا ہے ۔ میں باہر آ گیا ۔ کچھ دیر بعد ابن آس آ گئے اور ہمارا پروگرام بن گیا کہ ہاکس بے چلیں ۔اصل میں فہیم عالم کے بھائی ہمارے ساتھ تھے ۔ انہیں سمندر دیکھنا تھا ۔ سہ پہر ہو رہی تھی کہ ہم کھانے کے لئے نکلے ۔ حسن اسکوائر کے ایک ہوٹل سے بریانی اور قورمہ کھایا جس کے ساتھ گرم گرم کباب لطف دے گئے ۔ وہاں سے ساحل سمندر کے نکلے۔ انہی لمحات میں جناب منیر احمد راشد صاحب کا فون آ گیا ۔ ہم ان کے انتظار میں رک گئے ۔پھر یہ قافلہ سمندر کنارے جا ٹھہرا ۔ لیکن وہ ہاکس بے نہیں تھا ۔

dav

منیر احمد راشد صاحب سے میری پہلی ملاقات تھی ۔ جوں جوں ان سے باتیں ہو نے لگیں ، وہ کھلنے لگے ، یہاں تک کہ وہ مجھے بہت ”خاصے“ کے صاحب

sdr

معلوم ہو نے لگے ۔ ان کا شمار ان لوگوں میں ہو تا ہے جن کی اپنی سوچ اور زندگی کے بارے میں اپنا نظریہ ہو تا ہے ۔فہیم عالم ، اپنے بھائیوں کے ساتھ مصروف ہو گئے ، ابن آس اور ندیم اختر اپنی باتوں میں مصروف ہو ئے تو منیر صاحب کے ساتھ مجھے کافی سے زیادہ باتوں کا وقت مل گیا ۔ وہ زندگی میں حسن کے قائل ہیں ۔ ان کے نزدیک انسان اولین حیثیت رکھتا باقی سب کچھ بعد میں ہے ۔ مجھے لگا جیسے وہ میرے ہی خیال بیان کر رہے ہیں ۔درمیان میں ابن آ س کی کھری کھری باتیں مزہ دے رہی تھیں ۔وہاں پہلی بار پاﺅں تلے سے ریت کھسکنے کا تجربہ ہوا ۔تب احساس ہوا کہ صحرا اور سمندر کا فرق کیا ہوتا ہے ۔ یہیں سمندر کنارے شھباز اکبر الفت کا فون آ گیا ۔

شوکت علی مظفر کا فون بار بار آ رہا تھا کہ اس کے لکھے ہو ئے ڈرامے کی ریہرسل ہو رہی ہے ۔ وہاں آپ سب ضرور آ جائیں ۔شام ڈھل رہی تھی ۔ ہمارے لئے مسئلہ یہ تھا کہ محترم نذیرانبالوی آ رہے تھے ۔ انہیں لینا تھا ، دوسرا بارہویں اردو عالمی کانفرنس آرٹس کونسل میں بھی جانا تھا کیونکہ یہ طے تھا ۔ ہم بہر حال آرٹس کونسل جا پہنچے ۔اس دوران فہیم عالم نے نذیر انبالوی کو پی سی میں رسیو کیا اورانہیں لے کر سیدھے آرٹس کونسل آ گئے ۔ وہاں ایک میلہ سجا ہوا تھا ۔ شہر بھر کے وہ خوبصورت لوگ وہاں جمع تھے جو اپنی اپنی جگہ ملکی اور عالمی تناظر میں ایک مقام رکھتے تھے ۔ہم ابن آ س کی ”قیادت “ میں آرٹس کونسل پہنچے ۔ یہاں میں رکوں گا اور ابن آس کی ایک پوسٹ یہاں درج کروں گا ۔

”لاہور ،لیہ اور حاصل پور سے آنے والے اہل قلم ( فہیم عالم ،ندیم اختر اور امجد جاوید بالترتیب ) کا استقبال ایم کیو ایم پاکستان کے اہم رہنما فیصل سبز واری نے کیا۔تصویر بنوائی اور ایک تاریخی جملہ بھی ادا کیا۔( اس جملے کو رہنے دیں۔۔۔۔۔ خود نمائی ہو جائے گی )۔اس موقع پر فوٹو

گرافی کے فرائض ابن آس نے سر انجام دیے اور موقع دیکھتے ہی سیلفی بنا ڈالی۔“

 اب وہ تاریخی جملہ کیا تھا ۔

” مجھے لگا فیصل بھائی آپ شاید بھول گئے ہو ں گے ؟“ابن آس

” نہیں اختر بھائی ، آپ کو میں کیسے بھول سکتا ہوں ، ہم نے آپ کے ماتحت کام کیا ہے ، آپ سے لکھنا سیکھا ہے ۔“

یہ وہ لمحہ تھا جب ان دونوں کی عزت میرے دل میں بڑھ گئی ۔ کمال لوگ ہیں ۔یہاں میں یہ بات ضرور کروں گا ، کراچی والے پروفیشنل لوگ ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ اس سیڑھی کے پہلے زینے کو کبھی نہیں بھولتے جہاں سے وہ اوپر چڑھے ہوں ۔وہ بہر حال سینئر کا احترام کرتے ہیں اور انہیں عزت دیتے ہیں۔ یہی ان کی ترقی کاراز ہے ۔کچھ دیر گپ شپ اور چائے کی آ فر کے بعد ہم دوسرے احباب سے ملے تو سامنے ہی عقیل عباس جعفری کھڑ ے دکھائی دئیے ۔ ان سے گپ شپ ہوئی اور سید انور فراز صاحب کی ڈائجسٹوں کی الف لیلہ پر بات ہونے لگی ۔ انہوں نے کچھ” سائیڈ سٹوریز “بھی بتائیں ۔وہاں جن سے بھی ملاقات ہو رہی تھی وہ اپنے شعبے میں کمال رکھتا تھا ۔ ایک خاتون اداکارہ (نام بھول گیا ) جو کہانی پڑھ کر سناتی ہیں اورکمال سناتی ہیں ۔ ان سے ملے تو بہت

عاجزی کے ساتھ ملیں ۔مجھے کتابوں کا اسٹال بار بار اپنی طرف کھینچ رہا تھا ۔ کمال کتابیں وہاں پر تھیں ۔ایک سٹال پر مجھے اپنی کتابیں بھی دکھائی دیں ۔ ”قلندر ذات “ نمایاں تھا ۔وہیں کتابوں کے سٹال کے پاس مومن رحیم صاحب کی بہو محترمہ شائستہ سے ملاقات ہو گئی ۔ میں اکثر ان کے بنائے ہوئے اسکیچ خواتین کے رسالوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ساتھ میں انور مسعود صاحب کا پروگرام چل رہا تھا ۔ ان کی باتیں اور شاعری بڑی اسکرین پر دکھائی دے رہی تھیں ۔وہاں مجھے سب سے زیادہ متاثر کرنے والے ایک بزرگ تھے جو کتاب اک سٹائل لگائے ہوئے تھے ۔ میں نے ان سے ایک رسالے کے بارے میں پوچھا تو انہوںنے چونک کر میری طرف دیکھا ، پھر گفتگو کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ مجھے لگا یہ شخص دائجسٹ کی مارکیٹ کو بہتر طرف پر جاننے والا ہے ۔ ایک ایک رسالے کی مارکیٹ ویلو کے بارے میں بتانے لگے ۔یہاں تک کہ ایک ڈائجسٹ کو کیسا ہو نا چاہئے جو بکتا ہے ۔ وہ ”راز“ بیان کرنے لگے ۔ان کا ماننا ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے ، ڈائجسٹ اور کتاب مر نہیں سکتے ، یہ زندہ رہیں گے ۔ میں ان سے مزید باتیں کرتا لیکن’ چائے آ گئی‘ کی آ واز سنائی دی ۔ میں ابن آس کی جانب بڑھ گیا جو چائے کا ساقی بنا سب میں چائے بانٹ رہا تھا ۔آخر ہمارا میزبان گائیڈ وہی تھا۔ ایک نئی اداکارہ بھی وہیں موجود تھیں جس کے ساتھ ابن آس نے میری تصویر اس لئے بنائی کہ میرا سکینڈل بنا سکے ۔

mde

رات کے نو بج رہے تھے اور ہم نکل پڑے سولجر بازار کی طرف ۔ وہاں ہمیں ملنا تھا شوکت علی مظفر سے ۔ پتہ نہیں کتنے برس ہو گئے تھے ۔ ہم میں ٹیلی فونک دوستی چل رہی تھی لیکن ملنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا ۔ یہ دوستی ماہنامہ چاند سے شروع ہو ئی تھی ۔گھوم گھما کر ہم شیل پمپ کے پاس پہنچ ہی گئے ۔ وہاں شوکت علی مظفر ہمارے انتظار میں تھے ۔ وہ اس سارے قافلے کو لے کر اس جگہ جا پہنچے جہاں ان کے ڈرامے ”شین سے شرارت“ کی ریہرسل ہو رہی تھی ۔ تمام فنکار موجود تھے ۔ سب سے خوشگوار حیرت یہ ہوئی کہ محترم خالد دانش بھی وہیں موجود تھے ۔ اسے سے زیادہ حیران کر دینے والی بات کہ حضرت اس ڈرامے کے پروڈیوسر ہیں ۔شاید فنکاروں کو ہماری آ مد کے علاوہ ہمارے بارے میں بھی بتایا ہوا تھا ۔ سبھی بہت احترام سے ملے ۔خوبصورت جملوں اور مکالموں کے ساتھ وہ ریہرسل ختم ہو ئی اور کھانا لگ گیا ۔گھر کے بنے ہو ئے کھانے کا لطف آ گیا ۔شوکت علی مظفر بہت خوش تھا کہ اتنے لوگ آئے اور انہوں نے ایک ایک جملے پر داد دی ۔جو بلامبالغہ رکھ رکھاﺅ نہیں حقیقت تھی ۔پرخلوص انداز میں اجازت چاہی گئی ۔

محترم خالد دانش ہمارے ساتھ ہی پریس کلب آ گئے ۔ وہاں سے ہم نے چائے پی اور کافی دیر تک گپ شپ کرتے رہے ۔یہاں منیر احمد راشد صاحب نکل گئے ۔

نیند کا کہیں نام و نشان تک نہیں تھا ۔ گپ شپ لگاتے ، چائے پیتے کافی وقت بیت گیا ۔ پھر وہاں سے اٹھے اور پی سی جا پہنچے ۔ ابن آس کی کار سے اتر کر اندر جانے لگے تو یہ یاد گار تصویر فہیم عالم نے بنا ڈالی ۔

رات کا دوسرا پہر ختم ہو چکا تھا ۔ ایک بار پھر سے محفل سج گئی ۔چائے کا ایک مزید دور چلا اور میرے سگریٹ ختم ہو گئے ۔ شاید میں سونے کی کوشش کرتا لیکن فورا ہی سگریٹ حاضر ہو ئے تو باتوں میں بھی تندھی آ گئی ۔ سب سے پہلے فہیم عالم گیا، پھر ندیم اختر ۔ میں ابن آس اور نذیر انبالوی ایک نئی بحث میں الجھ گئے ۔ کہانی ہے کیا ؟ ترجمہ کیا ہے اور یہ وہ …. جس کا کوئی نتیجہ نہ نکلا ۔

رات کے چار بج چکے تھے ۔ میںنے ابن آس سے کہا بھائی ادھر ہی سو جاﺅ ،بولے،” نہیں بھائی ابھی جا کر میںنے کام بھی کرنا ہے ، صبح اسکرپٹ بھی دینا ہے ۔ تم سو جاﺅ ، میں چلتا ہوں ۔ “یہ کہہ کر اٹھا اور یہ جا وہ جا ۔

میں ایک نئی سوچ کے ساتھ بستر پر لیٹا تو نیند غائب تھی ۔

(جاری ہے )

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر 23ویں قسط . اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر 23ویں قسط تحریر 🖋️اعجاز احمد نواب ✍️✍️✍️✍️✍️26دسمبر1994 کی انتہائی سرد صبح کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے