سر ورق / یاداشتیں /   کراچی یاترا …امجد جاوید… قسط نمبر ۳

  کراچی یاترا …امجد جاوید… قسط نمبر ۳

  کراچی یاترا

امجد جاوید

قسط نمبر ۳

پھر وہی مارکوپولو اور ناشتے کی رسم ِ پیٹ پوجا ۔اس صبح ہمارے ساتھ ڈاکٹر عمران مشتاق اور نذیر انبالوی کا اضافہ ہو چکا تھا ۔ناشتے کا آغاز ہو گیا ۔ جن کے ساتھ باتوں کا ایک سلسلہ بھی دراز بھی ہو گیا ۔مارکو پولو ہال میں ایک طائرانہ نگاہ ڈالنے سے پتہ چلا کہ اس صبح وہاں پر کچھ زیادہ ہی غیر ملکی دکھائی دئیے ۔ ان میں افریقی اور یا شاید یورپین زیادہ تھے ۔مجھے ایک پرانا واقعہ یاد آ گیا ۔ ہم دوست پنجاب یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا میں تھے ۔ ہمارے ایک دوست کو شاشلک بہت پسند تھی ۔ وہاں کافی سارے افریقی بھی تھے ۔ ایک دوست نے کہا” یار ان افریقیوں میں خوبصورتی اور وجاہت کا معیار کیا ہوگا؟” ، دوسرا جھٹ سے بولا ، جو زیادہ کالا اور موٹے نقوش والا ہے ۔رب تعالی کی بنائی مخلوق کے رنگ نرالے ۔ کس طرح اس نے قوم و قبیلے بانٹے ، ایک دوسرے کی پہچان کے لئے ، یہ پہچان کیوں اور کیسے ؟ اور ہم لوگ …. خیر بات کہیں دوسری جانب نکل جائے گی۔اس صبح ایک خاتون لکھاری سے بھی ملنے کا اتفاق ہوا وہ وہیں آگئیں تھیں ۔

اس دن میں نے دوستوں کے ساتھ الگ ہونا تھا ۔مجھے جاسوسی ڈائجسٹ کے آ فس جانا تھا ، جناب اقلیم علیم صاحب سے ملاقات طے تھی ۔وہ گیارہ بجے میرے انتظار میں تھے ۔ ندیم اختر نے ٹیکسی کے لئے سیل فون پر نمبر دیکھا تو کچھ 18تھا لیکن گاڑی کا اصل نمبر 81تھا ۔ یہ کنفیوژن بن گئی ۔خیر میں کڑے دل سے ٹیکسی میں بیٹھ گیا ۔تاہم ساتھ ہی ابن آس سے رابطہ ملا لیا ۔ وہ کام میں مصروف تھے جو انہوں نے اسی دن کر کے دینا تھا ۔خیر ، میں جاسوسی ڈائجسٹ پہنچ ہی گیا ۔گیٹ پر ایک صاحب مجھے لینے کے لئے کھڑے تھے ۔ وہ مجھے سیدھے جناب اقلیم علیم کے پاس لے گئے ۔یقین جانیں فونک گفتگو میں جس طرح کی شخصیت کا خاکہ میرے ذہن میں بنا تھا ، بالکل ویسا ہی پایا ۔نپی تلی گفتگو ، دھیما لہجہ ، مجھے لگا جیسے وہ ریٹائرڈ کرنل رہے ہوں ۔میں نے ڈائجسٹ کے لوگوں کو بڑی طویل گفتگو کرتے پایا  ہے، بنا بنا کر لمبی باتیں کرنا لیکن حاصل کچھ نہیں ، ( میں بھی ایسے ہی کرتا ہوں ) لیکن اقلیم علیم صاحب سے میں نے جو بھی بات کی انہوں نے نپا تلا اور پورا پورا جواب دیا ۔ انہوں نے چھوٹے چھوٹے بلکہ تھوڑے تھوڑے لفظوں میں کئی سوال کئے ، بہت کچھ سیکھنے کو ملا ۔ ایک پلاٹ بھی ڈسکس ہو گیا ۔ لو جی آ دھے گھنٹے میں ساری باتیں ختم ۔ اس دوران خصوصی بسکٹ کے ساتھ چائے بھی پی لی گئی ۔ محترم مظہرعباس سے سلام دعا ہوئی ، ان سے پتہ چلا کہ اقلیم علیم کی طبعیت نازساز تھی لیکن پھر بھی وہ میرے لئے دفتر آ ئے ۔ مجھے بڑا عجیب سا محسوس ہوا کہ میں نے ناحق انہیں زحمت دی ، خوشی اس بات کی کہ انہوں نے اپنے وعدے کو نبھایا ۔پھر ثمر عباس صاحب بھی آ کر چلے گئے ، ان سے سلام دعا ہوئی ۔ میں سگریٹ پینے کے بہانے اٹھ گیا تاکہ وہ تھوڑے دفتری امور نپٹا لیں اور باتوں کا سلسلہ پھر سے شروع ہو ۔

burst

سگریٹ کے پہلے کش کے ساتھ ہی میری نگاہ جناب پرویز بلگرامی پر پڑی ، جو بڑے انہماک سے کوئی مسودہ پڑھنے میں مشغول تھے ۔ میں نے فون نکالا اور انہیں کال کر دی ۔انہوں نے پہلے فون اسکرین کو دیکھا، پھر جلدی سے پیک تھوکی اور ہیلو کہا ۔میں نے چند شرارتی جملے پھینکے اور پھر ان تک جا پہنچا۔ وہ بڑ ی بے تکلفی سے ملے کہ ہمارے پرانے واقف کار ہیں سچی کہانیاں کے زمانے سے۔ ۔بہت سارے دوستوں کو یاد کیا۔ اس دوران ایک سمارٹ سے جوان آئے ہاتھ ملایا اورچلے گئے ۔کوئی تعارف نہیں ہوا ۔ لیکن ایک مسودے کی ڈھنڈیا پڑگئی ۔ خیر وہ مل گیا تو پرویز بلگرامی چائے پلانے کو بے تاب ہو گئے ۔ میں نے ان کے اصرار پر چائے پینے کو ہاں کی تو اٹھے اور چلے ، سامنے ہی وہ سمارٹ جوان پھر دکھائی دئیے ۔ ان سے تعارف ہوا تو جناب حسام بٹ نکلے ۔

” ارے آپ کا تو بڑا غائبانہ تعارف ہے ۔“ میں نے کہا تو وہ بولے ،” آپ کا کون سا کم تعارف ہے ، بڑی شے ہیں آپ ۔“ یہ تھے پہلے جملے اور پھر ہم نیچے ایک دوکان پر چائے پینے جا بیٹھے ۔ خیر وہاں جو باتیں ہوئیں وہ راز ہیں ،ہم واپس آئے تو کھانے کا وقت ہو گیا ہوا تھا۔ اقلیم علیم صاحب اپنے دفتر کے لوگوں کے ساتھ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے ، ان کی قدر میرے دل میں مزید بڑھ گئی ۔ مجھے دعوت دی گئی ، مگر میں لنچ کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا ۔ ناشتہ ہی اتنا ظالم تھا ۔میں پرویز بلگرامی کے پاس بیٹھا رہا ۔ کچھ دیر بعد انہوں نے مجھے بلایا اور بولے ،” بیٹا، مجھے اب جانا ہے ، اور ….“ اس سے آ گے جو بات انہوں نے پوچھی ، اس سے ان کی قدر میرے دل میں مزید بڑھ گئی ۔ مجھے لگا کہ انہوں نے میرے ہونے کی اہمیت کااحساس کیا ۔ میں ان کا ممنون ہوا ۔ میں واپس حسام بٹ اور پرویز بلگرامی کے پاس آ بیٹھا۔ وہیں محترمہ یمنی احمد نے ایک بہت بڑا ” شکوہ “کیا۔ ” آپ نے ہمارے لئے کبھی لکھا ہی نہیں ۔“

” آپ نے مجھے کبھی کہا ہی نہیں ۔“ میں نے مسکراتے ہوے جواب دیا

” اب ہم کہہ رہے ہیں ۔“ انہوں نے مان سے کہا

” اب ہم لکھیں گے ۔“ میں نے ممنونیت سے کہا اور پھر کچھ دیر باتوں کے دوران ہی ابن آ س کا فون آ گیا ۔وہ کہیں قریب ہی تھے ۔میں آ فس سے نیچے آ گیا ۔ حسام بٹ بھی ساتھ تھے ۔ وہاں سڑک کنارے گپ شپ ہوئی ۔ ایک صاحب رمضان بھی ملے ۔ ابن آس آ گئے تو ہمارا سفر ایکسپو کی جانب تھا ۔

fbt
sdr

 سفر کے ساتھ باتیں چل نکلیں ۔ راستے میں اچانک ایک جگہ اشارہ کرتے ہوئے بولے

” امجد بھائی ، یہ جو چار دیواری کے پلیرز بنے ہوئے ہیں نا ، میرے ہاتھوں کے بنائے ہوئے ہیں ۔جب میں مزدوری کرتا تھا ۔“

” رکو رکو …. یہ تو بڑی تاریخی جگہ ہے ۔ ایک تصویر لے لیں ۔“ میں نے تیزی سے کہا

” ارے مجھے کبھی خیال ہی نہیں آ یا ۔“ وہ کہتے ہوئے سڑک کنارے کار روکنے لگے ۔

تصویریں بنا کر ہم چل نکلے۔ ابن آس مجھے اپنے اس وقت کی یادیں بتانے لگے ، جب زندگی ان پر بڑی تنگ تھی ۔ میں بے حد جذباتی ہو گیا ۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں کراچی کے لئے نکلنے لگا تھاتب میرے کو لیگ نے مختلف باتوں کے درمیان پوچھا ،” ائیر پورٹ پر کون لینے آ ئے گا ، میں ںے کہا ابن آس تو وہ چونک کر بولا "ارے وہی "۔ اس کے ساتھ ہی اس نے وائس آف امریکہ سے نشر ہونے والی ایک کہانی کا حوالہ دیا اور بتایا کہ وہ آج تک اس کہانی کے انجام میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ میںنے ان کا سلام ریکارڈ کیا اور ابن آس کا سنایا ۔وہ بہت خوش ہو ئے اور جوابا اسی وقت جواب بھجوا دیا ۔ میں عجیب ادھیڑ بن میں پڑ گیا۔ہم ایکسپو جا پہنچے ۔

ہال نمبر ایک میں محمود شام صاحب کا سٹال لگا ہوا تھا ۔ اب آس مجھے لئے سیدھے ان کے پاس جا پہنچے ۔ سلام ودعا کے بعد تعارف کا سلسلہ چلا ، وہ بہت خوش ہو ئے اور نپی تلی گفتگو کرنے لگے ، میں انہیں دیکھ رہا تھا کہ کیسے پارس لوگ ہیں ، جن کے ساتھ مس ہو تے ہیں اسے سونا بنا دیتے ہیں ۔ ناموں کا ایک سلسلہ ہے ،جو آج چمک دمک رہے ہیں ۔محمود شام صاحب سے دوسرے کئی لوگ ملنے والے تھے ۔ لیکن ہمیں انہوںنے جو وقت د پوری توجہ سے دیا ۔ہم پلٹ کر ہال میں آ گئے ۔ وہاں کئی شخصیات تھیں ۔ ان میں سلیم فاروقی صاحب سے بھی ملاقات ہوئی ۔ سچی بات ہے میں انہیں بڑا ” خبطی “ شخص تصور کر بیٹھا تھا ، ( فیس بک کی پوسٹوں کے لحاظ سے ) لیکن وہ تو مرنجاں مرنج شخصیت نکلے ۔ جب تک وہ ہمارے پاس رہے قہقہے ہی لگتے رہے ۔وہیں پر محمد اسماعیل ریحان اور ظفر جی سے ملاقات ہوئی ۔

sdr
sdr

چائے کی طلب نے ہمیں پھر سے سٹال کا رخ کر نے پر مجبورکر دیا ۔ میں اور ابن آس وہاں بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ کچھ ہی دیر بعد کسی بگولے کی مانند ندیم اختر آ گئے ۔ ان کے ساتھ ایک شاعرہ بھی تھیں ۔وہ بھی چائے پینے آ ئے تھے۔چائے کا ایک بھرپور ہوا ۔ تبھی ایک گھبرائی ہوئی حسین خاتون وہیں آ گئیں ۔ پتہ چلا کہ وہ ڈرامہ نگار ، ناولسٹ ہیں ۔ وہیں ایک محفل جم گئی ۔ بات ناول اور ڈرامہ کے درمیان اٹکی رہی ۔کہیں کہیں درمیان میں شاعری کا بھی تڑکا ۔ رہا ۔وہ خاتون معروف ڈراما نگار ،ناول نویس

ان کا تعارف ابن آس کی اس پوسٹ سے ۔۔۔۔۔۔
الماس خالد کا بے مثال رومانی ناول ۔۔۔۔۔۔۔پیلے گلاب ۔۔۔۔۔۔۔ ایکسپو میں دستایب ہوگا ۔
الماس خالد سے ۤان کی کتاب پرآٹو گراف لینے کا شان دار موقع ۔۔۔۔۔۔۔۔
(شام 4 بجے سے 8 بجے تک )
کراچی انٹرنیشنل بک فئیر 2019
بچوں کا کتاب گھر کا اسٹال
ہال:2
اسٹال :1،2
ہال نمبر میں داخل ہوتے ہی دائیں جانب پہلا اسٹال

اس شام چاندنی میں ایک بڑا ڈنر تھا ۔ میںنے جناب محمود احمد مودی اور سید انور فراز صاحب کو وہیں مدعو کیا ہوا تھا ۔ وہ بڑے لوگ ہیں مجھے کسی امتحان میں نہیں ڈالا کہ میں اکیلے اکیلے ان سے ملنے جاﺅں ۔ ہم ابھی حسن اسکوائر ہی تھے کہ جناب محمود احمد مودی بالکل وقت کے مطابق پی سی پہنچ گئے ۔ان کا فون ملا

” ارے میاں کہاں ہیں ؟“

میں نے ابن ٓس کی طرف دیکھا کہ کہاں ہیں بولے ،” کہہ دو کہ میٹرو پول کے پاس ،“مجھے سمجھ نہیں آ یا میں نے کہہ دیا

” بس سر یہ میٹرو پولیٹین کے پاس ہیں ؟“

” چلیں میاں ہم کر لیتے ہیں انتظار ۔“ یہ کہا اور فون بند ۔

” امجد بڑا بلنڈر کر دیا؟“ ابن آس ہنستے وہئے بولے

” کیاہوا بھائی ؟“

” ارے میٹروپول تو پی سی کے بغل میں ہے ، خیروہ بڑے آ دمی ہیں سمجھ گئے ہوں گے ۔بس اب جلدی سے پہنچ جائیں ۔“

وہ لابی میں انتظار کر رہے تھے ۔ اک ذراشکوہ نہیں کیا اور نہ احساس دلایا کہ ہم نے کیا کہا ۔ خیر انہیں لے کر کمرے میں آ ئے تو وہاں پر چاندنی پہنچنے کا غلغلہ مچ گیا ۔جناب انور فراز ابھی کہیں ٹریفک میں کہیں پھنسے ہوئے تھے ۔خیر چاندنی جا پہنچے ۔محمد فہیم عالم ، ہمارے میزبان …. محمود احمد مودی ، نذیرانبالوی ،ڈاکٹر عمران مشتاق ، جناب سعید احمد، ندیم اختر ، راکعہ رضا، راحت عائشہ اور ان کی ہمشیرہ، سیماسدیقی ، بینا صدیقی ، گل رعنا صدیقی، نائلہ صدیقی ،ڈنر پر تھے ۔درمیان میں سید انور فراز صاحب نے ہمیں جوائن کر لیا ۔چونکہ سب ایک دوسرے سے پہلی بار ملے اس لئے کافی پر تکلف اور لئے دئیے والا ماحول رہا ۔جناب عمران احمد خان نے درست تجزیہ کیا تھا کہ اتنی خاموشی ۔ ایسی ہی خاموشی تھی ۔تاہم کھانا بہت شاندار تھا ۔یہ محفل تادیر یاد رہے

sdr

fbtmdn

گی ۔ ہاں ایک بات …. آپ کو یاد ہے قربان ویٹر ، وہ میرے ارد گرد گھومتا رہا ۔ میںنے اس سے کافی سروس لی ۔ دل بھی دکھ رہا تھا لیکن ایک بات مجھے اچھی لگ رہی تھی کہ اب بھی لوگ فلم کو پسند کرتے ہیں ۔ ہم چاہئیں تو اس سے بہت فائدہ لے سکتے ہیں ، اگر فلم درست ہاتھوں میں ہو ۔ ورنہ یہ زوال مزید بڑھے گا ۔

خواتین کے رخصت ہو جانے کے بعد کمرے میں آ کر ایک بھر پور محفل سج گئی ۔محمود احمد مودی ، سید انور فراز ، ندیم اختر ، میاں محمد فہیم عالم ، ابن آس اور نذیرا نبالوی ،ایک جہان آ باد ہو گیا ۔باتیں کہاں سے چلیں اور کہان تک پہنچی ، بس گفتگو دراز رہی ۔ تقریباً گیا رہ بجے یہ نشست ختم ہو ئی ۔

ایک اداسی کمرے میں گھل گئی ۔ تبھی محمد فہیم عالم نے اس اداسی کو محسوس کیا ۔ اس نے چائے منگا لی ۔ ایک بار پھر سے محفل جم گئی ۔نذیر انبالوی اٹھ گئے ۔ لیکن ابن آس اس دن مجھ پر کھلا ، بات کہانی پر آ گئی تو اٹھتے ہوئے ٹہلنے لگا۔ ساتھ میں ایک ناول کے پلاٹ پر بات کرنے لگا ۔ جو میںنے ایک لائین دی تھی ۔ اس لائین کو کھنچا گیا ، نجانے کہاں کہاں سے باتیں اترنے لگیں ۔ اردو انگریزی ادب کی مثالیں ، ساختیات ، مکالمے کی ہیت اور پھر خیال کی اپروچ …. میں حیرت زدہ اس کی طرف دیکھتا چلا گیا ۔محمد فہیم عالم کے بازو میں درد اٹھا تو ایک دم سے نئی فکر نے پکڑ لیا ۔ اسے لئے فوراً کارڈیک سنٹر کی جانب بھاگے ۔ضروری ٹیسٹ اور ڈاکٹر کی تسلی کے بعد سولجر بازار یا شاید صدر میں پھر سے افغان ہوٹل پر آ گئے ۔ چائے پراٹھے کا ایک دور چلا ۔ باتوں کا سلسلہ دراز ہوا ۔ ندیم اختر کے بارے میں مجھے وہاں ایک بات کا احساس ہوا ۔ وہ خاموشی سے باتیں سنتا تھا ، اور ان میں سے کشید کرتا۔کہیں بھی اس نے خود کو نمایاں کرنے کی کوشش نہیں کی ۔

رات کے پھر سے چار بج رہے تھے جب ابن آس ہمیں ہوٹل کے سامنے اتار کر واپس جانا تھا۔ اگلے دن اس نے عالمی اردو کانفرنس میں بچوں کے ادب کے حوالے سے ایک مقالہ پڑھنا تھا ، میں سوچنے لگا یہ اب لکھے گا تو کیا لکھے گا؟ یہی سوچتے میں بیڈ پر آ گیا ۔ میرا دھیان فہیم عالم کی طرف تھا ، پتہ نہیں اسے آ رام آ یا بھی تھا یا نہیں …. ( جاری ہے )

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر 23ویں قسط . اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر 23ویں قسط تحریر 🖋️اعجاز احمد نواب ✍️✍️✍️✍️✍️26دسمبر1994 کی انتہائی سرد صبح کا …

ایک تبصرہ

  1. Avatar

    بہت زبردست ۔۔۔۔

    تصاویر کی وجہ سے تحریر دو آتشہ ہو گئی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے