سر ورق / یاداشتیں / ۔کراچی یاترا امجد جاوید قسط نمبر 4

۔کراچی یاترا امجد جاوید قسط نمبر 4

۔کراچی یاترا

امجد جاوید

قسط نمبر 4

اس صبح اچانک مجھے یاد آیا کہ عمران احمد خان صاحب نے مارکوپولو کے آس پاس کہیں جل پریوں کا ذکر کیاتھا ۔ اس کے ساتھ یہ بھی ’ہدایت ‘ جاری کی تھی کہ مجھے کمرے میں چھوڑ کر جایا جائے ۔تبھی میں فہیم عالم کے سر ہو گیا،مجھے جل پریاں دکھائی جائیں ۔اچھا ہوا کہ اس نے یہ نہیں کہا ورنہ ؟ کیونکہ ورنہ میں کچھ نہیں کر سکتا تھا۔سوائے اس کے کہ کوئی ادبی قسم کی تقریر جھاڑ دیتا۔میں کافی اہتمام سے تیار ہوا کہ چلیں جل پریاں دیکھتے ہیں ۔ فہیم عالم مجھے مارکوپولو کے بغل میں ایک کمرے میں لے گیا ، کافی بھل بھلیوں جیسا تھا ۔ مگر یہ کیا؟ یہ تو سوئمنگ پول تھا۔ اور وہاں پر اچھا خاصا سناٹا تھا ۔”فہیم میاں یہ کیا ؟ “ بولے ،” بھائی یہی کچھ ہے ۔“سارا موڈ ہی خراب ہو گیا ۔ تصور کو بروئے کار لایا گیا ، وہ اوپر دھڑ سے عورت اور نیچے مچھلی ، پر خالی پیٹ کچھ سمجھ میں نہیں آیا ۔ آنکھیں کھولیں تو ایک بوڑھا غیر ملکی ، جس سے چلا نہیں جا رہا تھا ایک لڑکے کی مدد سے پول میں اتر رہا تھا ۔ سارا موڈ ہی غارت ہو گیا ۔ فورا ہی اٹھے اور مارکوپولو جا پہنچے ۔

میں پراٹھے کے انتظار میں کھڑا تھا ۔ پراٹھا بنانے والے مجھے انتظار کرتا دیکھ کر پوچھا ” سر انجوائے کر رہے ہیں ؟“ میرا موڈ پہلے ہی جل پریوں کی وجہ سے خراب تھا ، بڑے رسان سے کہا،” یار انجوائے کر رہا ہوں یا نہیں ،لیکن تمہارے پراٹھوں سے تو سولجر بازارکے پراٹھے اچھے ہوتے ہیں ۔“تبھی ایک منمناتی ہوئی آ واز سنائی دی ،” سر سولجر بازار میں کہاں ؟“میں نے دیکھا ، وہی چینی یا تھائی یا کورین صورت والی لڑکی نے مجھ سے پوچھا تھا ۔ وہ جو صرف انگلش ہی بو ل رہی تھی، صاف اردو میں بولی، مجھے یوں حیرت سے دیکھنے پر سٹپٹا گئی ۔ تبھی اس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ،” سر میں سولجر بازار کے علاقے سے ہوں ۔“

” اللہ تمہارا بھلا کرے ، اب ذرا دیسی آ ملیٹ بنا دے ۔جو کم از کم پھیکا نہ ہو ۔“

” جی ابھی بنادیتی ہوں ۔ لیکن وہ سولجر بازار والے پراٹھے کہا ں ….“

” سر ایک منٹ ، ابھی رکیں ، میں پراٹھا بناتا ہوں سولجر بازار والا ذائقہ ملے گا ۔“

کچھ دیر بعد ہم مارکوپولو میں سولجر بازار والے پراٹھے اٹھائے اپنی میز کی جانب بڑھ رہے تھے ۔

ٹھیک گیا رہ بج رہے تھے ۔ آج تھوڑا سا وقت کراچی میں ارائیں برادری کے روح رواں اعجاز احمد ارائیں صاحب کو دینا تھا ۔ انہوں نے تو اچھا خاصا اہتمام کر نے کا کہا تھا لیکن ہمارے پاس وقت بالکل بھی نہیں تھا ۔ ٹھیک گیارہ بجے اعجاز احمد ارائیں کی کال آ گئی ۔ میں اور ندیم اختر ہوٹل سے باہر آ ہے تو وہ ہماری راہ تک رہے تھے ۔راستے میں انہوں نے ہمیں بتایا کہ اب آپ سے محفل کا اہتمام چند دوستوں تک محدود ہو گا ۔ہماری منزل جناب انجینئر محمد پرویز ارائیں کے گھر تھی ۔ جو سابق معاون خصوصی وزیر اعلی سندھ ہیں ۔ وہ بنایدی طور پر سندھی ہیں ، پنجابی بولتے ہیں جالندھری لگتے ہیں اردو کراچی والوںکی طرح اور انگریزی آ کسفورڈ ین کی مانند ۔ وہیں میاں طارق جاوید ارائیں اینکر پنجابی ثقافت پی ٹی وی بھی آ گئے ۔روائتی کھانے اور خا ص طور پر ساگ سے دوبارہ ناشتہ کیا ۔ وہ کہتے ہیں نا ” سواد آ گیا ‘ ‘ ۔ دو گھنٹے کی اس ملاقات میں بہت ساری باتیں ہوگیں ۔ اس قدر خلوص سے ملے اور سندھی روایت سے نوازا۔ اعجاز احمد ارائیں نے اپنی فیس بک پر یوں پوسٹ لگائی ۔

انجینئر محمد پرویز ارائیں، سابق صدر، انجمن ارائیاں سندھ و سابق معاون خصوصی، وزیر اعلی سندھ کی رہائش گاہ پر بین الاقوامی اردو کانفرنس اور کتب میلہ میں شریک پاکستان کے معروف ادیب، مصنف و ناول نگار محترم امجد جاوید ارائیں (حاصل پور)، ماہنامہ بچوں کا ادب اور ماہناماہ نوائے ادیب کے ایڈیٹرمحترم ندیم اختر ارائیں (ضلع لیہ)، میاں طارق جاوید ارائیں (اینکر پنجابی ثقافت، PTV، کراچی) اور جناب اعجاز احمد ارائیں (ایڈیٹر، ماہنامہ ارائیں فورم، کراچی) نے ناشتے میں شرکت فرمائی۔ مہمانان گرامی کو سندہ کا انمول تحفہ اجرک پیش کی گئی۔واپسی پر انجینئر محمد پرویز ارائیں کے ہو نہار بیٹے چارٹرڈ اکاﺅنٹیٹ نے ہمیں ہوٹل چھوڑا۔

 میں اور ندیم اخترآرٹس کونسل میں وقت پر پہنچ گئے ۔ سامنے ہی ابن آ س محفل جمائے بیٹھے تھے ۔ ان کے ساتھ مسز ابن آس تشریف فرما تھی ۔ مجھے کل والا ابن آس یاد آ گیا جس نے میرے دماغ میں ہلچل مچا دی ہوئی تھی ۔ وہاں فلم پروڈیوسر ابو علیحہ بیٹھے بات کر رہے تھے ۔ اس کے علاوہ کافی سارے خواتین و حضرات تشریف فرما تھے ۔ سلام ودعا اور تعارف کا مرحلہ گزرا تو میں بے حد جذباتی ہو گیا ۔میں ابن آس میں سے کراچی دیکھ رہا تھا ۔ خیر میں آپ کو جذباتی نہیں کروں گا ۔انہیں لمحات میں محترمہ ثمینہ مشتاق کا فون آ گیا ، وہ سامنے کھڑی فون کر رہی تھیں۔ان کے ساتھ ان کے شوہر بھی تھے ۔ جو حضرت امیر مینائی کے نواسے ہیں ۔ بڑے تپاک سے ملے ۔ پتہ چلا کہ وہ کسی ادبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ۔اتنے میں بچوں کے ادب کی کانفرنس شروع ہو نے کا غلغلہ اٹھا ، سبھی کانفرنس ہال میں چلے گئے ۔

پہلی ہی صف میں رضا علی عابدی موجود تھے ۔ ان سے سلام دعا ہوئی ۔ چند منٹ ان کے پاس گزارے ، ابھی تک بے رنگ پیا ان کے سرہانے پڑی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا،” بھائی بڑی معذرت ، مجھے آپ کے دوست ساجد فاروق ایڈووکیٹ لندن میں گھر پر وہ ناول دے گئے تھے ۔ مگر مجھے پڑھنے کی فرصت نہیں مل رہی ۔ میں وعدہ کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔“ اس دوران انہوں نے نے اک جملہ کہا ۔” امجد اب وقت آ گیا ہے زندہ کہانیاں لکھنے کا ۔“ میں نے ان کا جملہ پلے سے باندھا اور منیر احمد راشد کے پاس جا بیٹھا ۔ کانفرنس شروع ہو گئی تھی ۔

سوائے جناب محمود شام کے کسی نے بھی بچوں کے ادب پر کوئی بات نہیں کی ۔ بقول جناب محمود شام یہ کانفرنس انجمن ستائش باہمی تھی ۔اتنے بڑے نام سٹیج پر اور بچوں کے ادب کے مسائل بارے کوئی بات ہی نہیں ۔ بہت زیادہ مایوسی ہو ئی ۔ وہاں پر شہری بچوں کے بارے میں گفتگو ہو ئی جن کے پاس ٹیب ، کمپیوٹر اور ایسے وسائل ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان لوگوں کی نگاہ اتنی وسعت نہیں رکھتی ۔( معذرت کے ساتھ ) وہ بچے جن کی رسائی ایسے آ لات تک نہیں ، جو کتاب نہیں خرید سکتے ۔ جن کے پاﺅں میں جوتا نہیں ہوتا کیا وہ ہمارے بچے نہیں ہیں ، انہیں ضرورت ہیں کہ وہ جدید دنیا کے ساتھ کیسے چل سکیں ؟ ان تک جدید خیال کس نے پہنچانے ہیں ؟ بچہ شہری ہو اور امیرکا ہو ، اس کے پاس تو وسائل ہیں لیکن جو دیہات کے ہیں اور آپ کا رسالہ یا کتاب نہیں خرید سکتے ان کے مسائل کا ادراک ہے کسی کو ؟آپ کے رسالے کے مدیر ہوں گے ، کیا وہ سب بچوں کی ضروریات کو پورا کر رہا ہے ؟ کیا آپ اس تک ادب پہنچا پا رہے ہیں ؟ اگر آپ کا جواب نفی میں ہے تو آپ صرف کاروبار کر رہے ہیں ۔ بچوں کے لئے یا بچوں کے ادب کے لئے آپ کا دکھ محض دکھاوا ہے ۔منافقت ہے ۔

dav
dav

ہال میں محترمہ نفیسہ سعید بھی موجود تھیں ، دور سے ہاتھ ہلا کر اپنے ہو نے کا احساس دیا ۔تبھی پتہ چلا کہ جناب انور سن رائے بھی ہال میں موجودہیں ، کہاں ہیں ؟ یہ معلوم نہیں تھا ۔ کانفرنس کے اختتام پر فوٹو سیشن ہوا ۔ تبھی محترمہ فرزانہ روحی صاحبہ سے باتیں کرنے کا موقعہ ملا ۔

وہیں مجھے نوشاد عادل دکھائی دیا ۔ جی تو چاہا کہ اتنی غیریت پر وہیں …. پر نہ موقعہ تھا ، نہ دستور تھا ،نہ رسم تھی ۔ خیر مناہل کی وجہ سے اسے جانے دیا ۔ محبوب الہی مخمور

وہیں تھے ۔ میں جلدی میں باہر چلا گیا تاکہ انور سن رائے کو تلاش کر سکوں ۔ وہ مجھے یوں ملے کہ معذرت خواہ لہجے میں بولے ” ارے بھائی ، میں اپنی بیوی کو یہاں بٹھا کر گیا تھا اب وہ مل نہیں شاید کوئی ….“ اس کے ساتھ ہی مونچھوں تلے مسکراہٹ ابھر آ ئی ۔ انہوں نے چائے کی آ فر کی ۔ کچھ دیر گپ شپ رہی ۔ صحن میں ایک نئی دنیا آ بادتھی ۔خالد دانش آ چکے تھے ۔ رات ان کا حادثہ ہو گیا تھا ۔ وہیں چائے کا دور چلا ۔ ایک طرف انور سن رائے اور دوسری جانب یہ محفل ۔ میں نوشاد عادل کو تلا ش کرتا رہا لیکن وہ غائب تھا ۔

sdr
dav

کہیں سے جھومتے ہوئے شاعر احمد نوید آ گئے ۔ وہ ابن آس سے ملے تو وہیں بیٹھ گئے ۔ انہوں نے اپنی دو غزلیں سنائیں ۔ کیا خوب تھیں ۔ کمال غزلیں تھیں ۔” علم ایک نقطہ تھا جسے سمجھا نہ سمجھایا گیا…. خامہ جہل سے بس اس نقطے کو پھیلا یا گیا ۔“ سرور آ گیا ۔

 ایک بھرپور شام ڈھل گئی تھی ۔طے ہوا کہ ایکسپو چلیں ۔

 وہاں جا کر مجھے پتہ چلا کہ جناب انور فراز ، پرویز بلگرامی اور دیگر احباب علی میاں پبلیشر پر موجود ہیں ۔ میں ان کا سٹال تلاش کرتے وہاں پہنچا تو وہ وہاں نہیں تھے ۔ عبدالغفار صاحب چائے کی آ فرکرنے لگے۔ میں نے فون کیا تو سبھی حضرات اپنے اپنے گھروں کو لوٹ چکے تھے ۔میں وہیں سے واپس آ رہا تھا کہ راستے میں ایک صاحب مجھے دیکھ کر اچانک رکے ، حیرت سے پوچھا ،”امجد جاوید ؟“

” جی ، لیکن آپ نے مجھے یوں ….“

” سر بے رنگ پیا ….“ ان کے منہ سے سرسراتے ہوئے نکلا

” اوہ شکریہ ،“ میرا دل خوشی سے بھر گیا لیکن اظہار دبا گیا ۔تو وہ صاحب بولی ،” سر اس میں اک تشنگی تھی ، کچھ مزید ہو نا چاہئے تھا ، ابھی کم ازکم اس کے دو والیم تو مزید لائیں ۔“ کیا ہو سکتا ہے اس پر مختلف پہلو بیان کرتا چلا گیا ۔ میری خوشی مزید بڑھ گئی کہ اس نے اتنا غور سے بلکہ دل سے پڑھا۔ خیر اب وہ میرے فیس بک فرینڈ ہیں اور خوب بات ہو تی ہے ۔

اس شام ڈنر بھابھی (مسز ابن آس) کی طرف سے تھا ۔ لیکن میرے ذہن ہی میں نہیں رہا ۔ نوشاد عادل پھر سے مل گیا ۔ ساتھ میں محبوب الہی مخمور اورباتیں کرتے ہوئے ہم ایکسپو سے باہر آ گئے ۔ سامنے حسن اسکوئر پر افغان ریستوران تک جا پہنچے ۔ وہیں باہر کھلی فضا میں ڈیرے ڈالے اور کھانے کا آ رڈر دے دیا گیا۔ تب پتہ چلا کہ مجھے بھوک لگی ہوئی ہے ۔کھانا شروع ہی کیا تو مجھے یاد آ گیا بھابھی نے تو ”کُٹ“ لگا دینی ہے اگر ڈنر نہ لیا ۔ وہیں کھانا چھوڑا ۔کچھ دیر بعد وہیں بھابھی ، ابن آ س اور منیر احمد راشد کے ساتھ پرتکلف کھانا کھایا گیا ۔( شکریہ بھابھی )۔بھابھی کو گھر چھوڑا اور سیدھے صدر بازار ۔ وہاں منیراحمد راشد صاحب نے پینا ڈول دی ۔ میرا سر درد کرنے لگا تھا ۔ میاں فہیم عالم بھی آ گئے اور وہاں سے سیدھے کارڈیک گئے ۔ رپورٹ لی تو وہ مسئلہ نہیں تھا جو ہم سمجھ بیٹھے تھے ۔ خیر اطمینان ہوا تو سیدھے پریس کلب ۔ وہاں پر احمد نوید کے شعر پر منیر احمد راشد نے جو کھل کر بات کی تو مجھے اپنا گرویدہ کر لیا ۔ ان کے اندر جو انسانیت ، حسن اور نیچر بسی ہوئی ہے، اس سے واقفیت ملی ۔ اچھا وہاں ان صاحب سے بھی ملاقات ہوئی جنہوں نے ”ایگل “ پن بنایا تھا ۔اور پھر خالد دانش کی باتیں ۔وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا ۔

 رات گئے ہم واپس ہوٹل پہنچے ۔نذیر انبالوی واپس لاہور پہنچ گئے تھے ۔ اورصبح ہم نے بھی واپس لوٹنا تھا ۔نیند غائب تھی ۔ ایک ایک شخص یاد آ رہا تھا ۔ وہ بھی جن کی بدولت یہ لمحات ملے ۔ سوچ کے نئے زاوے ملے ۔دن چڑھ گیااور میں صوفے پر بیٹھا باہر سورج نکلتا ہوا دیکھ رہا تھا ۔

اس دن کی دو پہر سے پہلے ہم نے کراچی چھوڑ دینا تھا ۔ ناصر کاظمی کا شعر (ذرا سی تبدیلی کے ساتھ )میرے دماغ میں گونج رہا تھا ۔ ”یہ ” تھکا تھکا سادن”،یہ آوارگی ، یہ نیند کا بوجھ ….ہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر گئے ہوتے“

 فہیم عالم کو یہی فکر تھی کہ کہیں ہماری فلائیٹ مس نہ ہو جائے ۔ہم وقت پر تیار ہوئے اور پھر مارکو پولو….چینی ، کورین یا تھائی لڑکی پھر سامنے تھی ۔پراٹھے والا بھی سامنے تھا ۔ میں نے لسی کا گلاس پکڑا اور سیدھا ان کے پاس گیا ۔ ”چل یار آج پراٹھا کھلا دے اور سولجر بازار والی لڑکی آپ ایک آملیٹ بنا دو کوئی تاریخی سا ۔“ وہ ہنس دئیے ۔ بڑی چاہت سے بنایا ۔ اس دوران باتیں ہو تی رہیں ۔ بھر پور ناشتے کے بعد ہم نے سامان کے ساتھ کراچی کی یادوں کو سمیٹا اور ہوٹل سے نکل آ ئے ۔

کراچی ائیر پورٹ جیسے اونگھ رہا تھا ۔ چند مسافر ، سناٹا ….بہاول پور جانے کے لئے لائین بڑی مختصر تھی ۔لاﺅنج میں جاتے ہی عمران قریشی کا فون آ گیا ۔ بس پھر کیا تھا ، گلے ، شکوے اور آدھی ادھوری ناراضگی ، نہ میں لڑ سکا اور نہ وہ ، یہ لڑائی کسی دوسرے وقت پر رکھی ۔بس کے ذریعے ائیر کرافٹ تک جاتے یہ ٹھنڈی لڑائی چلتی رہی ، بس میں چیختا تو اچھا تو نہیں لگنا تھا نا ۔

sdr

بہاول پور پہنچتے ہیں ہمارے دوست اور بھائی جناب اے ڈی سہیل اور جناب انور گریوال صاحب ہمیں لینے پہنچے ہوئے تھے ۔ ان کی رسائی ائیر پورٹ کے اندر تک تھی ۔ ائیرپورٹ کا عملہ ہمارے سامان کو تلاش کرنے لگ گیا ۔ وہاں سے نکلے تو سیدھے گھر جا پہنچے ، لیجئے ، یہاں لنچ تیار تھا ۔ رب سائیں بھی کتنی کرم نوازی کرتا ہے ۔ باتون کے ساتھ ایک بھرپور لنچ لیا ۔ حیرت یہ ہوئی کہ خود انور گریوال جی نے ہمارے لئے ایش ٹرے لا کر رکھی ۔ یہ تبدیلی بڑی اچھی اور خوش کن تھی ۔ ان کا نیا گھر بہت اچھا اور پرسکون لگا۔ وہیں ایک بات مزید کہ ہمیں بھتیجی اوربیٹی ایک اچھی آرٹسٹ بھی ہے ۔ اس کی تصویریں یہاں دیتا مگر بھتجی نے منع کر دیا ہوا کہ پہلی نمائش تک کوئی تصویر کسی کو نہیں دکھانی سو منتظر بیٹا، ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں اس ملاقات میں  ہمارے ساتھ چوہدری چوہدری ی صاحب بھی ۔ ۔بھی شریک تھے ۔انہوں نے بہاول پور کلب کی سیاست سے لے کر اپنی "ریاضت "تک ساری روداد سنائی

بہاول پور کا لاری اڈا اور ہم تھے ، ایک بس بڑھی تو ، جلدی سے مصافحہ معانقہ ہوا اور ہم بس میں سوار ہوگئے ۔ کیا مزے کی بات ہوئی ، ایک دوست جو ایک شہر میں رہتے ہوئے نہیں مل پا رہے تھے ۔کئی برس ہو گئے تھے وہ سیٹ پر براجمان ۔ آپ شہر کے سابق وائس چیئر مین ، موجودہ بنک کار جناب مقصود احمد رنگا تھے ۔ واپس پر باتوں کا اور پرانی یادوں کا سلسلہ دراز ہو گیا ۔ پتہ ہی نہ چلا کب حاصل پور پہنچ گئے ۔

خوبصورت اور اہل علم شخصیت کی وساطت سے کراچی یاترا ہوئی جو تادیر یاد رہے گی ۔ مجھے انتظار رہے گا کہ وہ مجھے خدمت کا موقعہ ضرور دیں گے ۔ شکریہ ۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر 23ویں قسط . اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر 23ویں قسط تحریر 🖋️اعجاز احمد نواب ✍️✍️✍️✍️✍️26دسمبر1994 کی انتہائی سرد صبح کا …

2 تبصرے

  1. Avatar
    رضاالحق صدیقی

    بہت عمدہ رپور تاژ ہے

  2. Avatar

    ماشاء اللہ ۔۔۔۔ بہت خوبصورت روداد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے