سر ورق / افسانہ /    جنوری اور محبت حمیرا تبسم۔بہاولپور

   جنوری اور محبت حمیرا تبسم۔بہاولپور

   جنوری اور محبت

حمیرا تبسم۔بہاولپور

سرخ گلابوں کی مہک ہوا کے دوش پر چکراتی ہوئی سانسوں میں اتر رہی تھی۔ہر سو گلابوں کی بہار چھائی ہوئی تھی۔برآمدے کے ستوں کو پھولوں سے سجایا گیا تھا ۔دیواروں کے ساتھ پھولوں کی کئی لڑیاں لٹک رہی تھیں ۔جاتے دسمبر کی آخری شام تھی۔اسے دسمبر پسند تھا لیکن جنوری تو دل و جان میں بستا تھا ۔جنوری کے آنے کی ساعت قریب ہونے کا سوچتے ہی اسکے لبوں پر مسکراہٹ رقص کرنے لگی۔کمرے کی دیوار پر گلابوں کا دل بناتا وہ کھو سا گیا۔اس کے ذہن کے پردے پر ماضی کا روشن پہلو اجاگر ہوتے ہی اسے سرد اور تاروں بھری رات ےاد آ گئی جب لفظ محبت سے وہ آشنا ہوا تھا۔ہاں وہ جنوری کا پہلا دن تھا ،جب اسکے دل پر محبت نے دستک دی تھی اور وہ پور پور محبت کی چاشنی میں ڈوب گیا تھا۔

©صاحب جی ! ےہ لیں تازہ سرخ گلاب،ان سے دل بنائیں گے تو کئی دنوں تک دل مہکتا رہے گا۔ © © ©

ہاتھوں میں تازہ سرخ گلابوں کی ٹوکری تھامے کافی دیر سے خاموش کھڑا رحیم اچانک بلند آواز میں بولا تو جازب علی شاہ خیالوں کی سیڑھیاں اترتے ہوئے چونک پڑا اور ساتھ ہی ماتھے پر ناگواری کی لکیریں نمودار ہوئیں تو رحیم کے مسکراتے لب سکڑ گئے کیونکہ وہ بخوبی جانتا تھا کہ صاحب کسی بھی معاملے میں حد سے زیادہ مداخلت پسند نہیں پھر بھی وہ خود کومشورہ دینے سے روک نہیں پایا تھا۔

معاف کردیں صاحب جی، رحیم پھولوں کی ٹوکری قالین پر رکھتے ہوئے شرمندہ ہوا تو جازب علی شاہ کے چہرے پر چھائے خفگی بھرے تاثرات پل بھر میں ہی نرمی کا روپ دھار گئے۔وہ اتنا بھی کٹھور نہیں تھا کہ ملازموں کو بلاوجہ ڈانٹتا لیکن ہاں جب وہ خوبصورت ےادوں میں گم ہوکر مسرور حالت میں ہوتا اور کوئی ےونہی بلاوجہ اس کا سلسلہ توڑتا تب اسے بہت برا لگتا لیکن رحیم چونکہ پرانا ملازم تھا اس لیے وہ صرف مسکرانے پر ہی اکتفا کر سکا۔

اچھا تم ان پھولوں کو چھوڑو۔۔جاﺅ جلدی سے میرے لیے ایک کپ کافی بنا لاﺅ۔ وہ خفگی بھلائے نرمی سے بولا تو رحیم کی جیسے جان میں جان آئی ،وہ جلدی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔

اس کے جاتے ہی جازب نے نیچے جھکتے ہوئے ٹوکری میں سے سرخ گلاب اٹھائے اور دل کے نقشے پر مبنی جالی میں اٹکا دیے،بس دل مکمل ہونے ہی والا تھا اس خوشی میں اسکی آنکھوں کے دیپ جل اٹھے تھے۔محبت کی رنگ برنگی تتلیاں اٹھکھیلیاں کرتیں من کی زمین پر ناچنے لگی تھیں اور قوس قزاح کے کئی رنگ اس کے چہرے پر آن رکے تھے۔جب دل مکمل ہوا تو اس نے ایک آخری جانچتی نگاہ دل پر ڈالی اور لمبی گہری سانس بھری ۔۔گلابوں کی خوشبو نے اس کے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور سانس مہک اٹھی۔خود کو تروتازہ محسوس کرتے ہوئے اس نے گردن موڑ کر ٹیبل کی جانب دیکھا ،جہاں رحیم کافی کا گرما گرم بھاپ اڑاتا مگ رکھ گیا تھا۔وہ دھیرے دھیرے چلتا ہوا میز کے قریب آیا اور کافی کا مگ اٹھاتے ہی ریوالنگ چئیر پر براجمان ہو گیا۔

گرم کافی کا ایک گھونٹ لبوں کے زریعے معدے میں اتاراتو ذائقہ محسو کرتے ہی اداسی نے اسے گھیر لیا۔۔کافی بالکل ویسی نہیں تھی جیسی وہ دشمن جان بناتی تھی۔۔

اس نے مگ پٹخنے والے انداز میں میز پر رکھا اور ریوالنگ چیئر کی پشت سے ٹیک لگاتے ہی آنکھیں موند لیں۔وہ اداس تھا اور تنہا تھا،ساتھ تھی تو صرف ےادوں اور گلابوں کی خوشبو۔ جنوری چند گھنٹوں کی دوری پر تھا لیکن اس کی محبت کے درمیان فاصلے پنہاں تھے۔

            ٭٭٭

زویا ابراہیم ۔۔جو کہ اب زویا جازب تھی ۔۔اپنی تمام تر رعنائیوں سمیت جازب علی شاہ کے دل میں بستی تھی۔۔اس کی شریک حیات تھی۔جب وہ جازب کو پہلی بار ملی تھی تب جنوری کا پہلا دن تھا اور جازب کا ےونیورسٹی کا پہلا دن۔زویا ابراہیم اداس چہرہ لیے لائبریری میں بیٹھی تھی جب جازب کی نگاہ اچانک اس پر پڑی اور ٹھہر گئی۔۔اداسی کے روپ میں مسکراتا حسن،جازب کومبہوت کر گیا۔دل کو جیسے دھڑکنے کا موقع چاہیے تھا لگا بے اختیار دھڑکنے۔وہ اس پری وش کی اداسی کی وجہ جاننے کے لیے بے تاب ہوا اور بے اختیار ہی قدم اس جانب بڑھا دیے جہاں وہ بیٹھی تھی۔

کیا میں اداسی کی وجہ جان سکتا ہوں ؟ وہ اس کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھتے ہوئے نرمی سے پوچھ رہا تھا ۔آنکھیں اس کے صبیح چہرے کا طواف کر رہی تھیں ۔

مجھے کچھ نوٹس بنانے تھے لیکن میری مطلوبہ کتاب مجھے کہیں نہیں ملی۔۔ گڑیا جیسی لڑکی نے جھجکتے ہوئے مدعا بیان کر دیا تھا۔ جسے سن کر جازب نے گردن کو دائیں جانب خفیف سی جنبش دینے کے بعد ایک کتاب اس کے سامنے رکھی اور مسکراتی نگاہ اس کی آنکھوں میں گھلی حیرانی پر ڈالی۔

کہیں آپکو اس کتاب کی تلاش تو نہیں تھی ؟ وہ دونوں بازو سینے پر لپیٹے اور کتاب اسکی جانب سرکائے مزے سے پوچھ رہا تھا۔

جج۔۔۔جی۔۔جی ےہی کتاب ہے۔زویا خوش ہوتے ہوئے ناہموار لہجے میں بولی تو جازب نے اس کی آنکھوں میں جھانکا جن میں اداسی ناپید ہو چکی تھی اور تشکر جگمگا رہا تھا۔

پھر وہ دونوں ہی ےونیورسٹی میں ساتھ دیکھے جانے لگے کیونکہ انکا ڈیپارٹمنٹ ایک ہی تھا ۔جازب کی محبت کے آگے زویا کا دل سرتسلیم خم کر چکا تھا اور دونوں کے دل ایک ہی لے پر دھڑکتے تھے۔جیسے ہی جازب نے تعلیم مکمل کی فوراً اپنے والد کی لیدر فیکٹری سنبھال لی ،زویا کو پانے کے خواب وہ اپنی آنکھوں میں سجائے رکھتا تھا۔کیونکہ وہ محبت کو نام اور مقام دینا چاہتا تھا۔اس نے جلد ہی اپنی خواہش کا اظہار والدین کے سامنے کیا تو تو وہ رشتہ لیکر زویا کے گھر گئے جہاں تھوڑی سی شش و پنج کے بعد رشتہ قبول کر لیا گیا۔۔ وہ بھی جنوری کا پہلا ہی دن تھا جب محبت وفا کا آنچل اوڑھے ڈولی میں سجی جازب علی شاہ کے آنگن میں اتری تھی۔نیا سال۔۔نیا دن۔۔نئی زندگی ۔۔ اور محبت ۔۔وہ اندر تک شاد تھا۔افق پر چمکتے تاروں نے اسکی خوشی میں جھومتے ہوئے رقص کیا تھا اور ہواﺅں نے شادیانے بجائے تھے۔دھڑکنوں نے ملن کی آس پوری ہونے پر مدھر گیت گائے تھے۔خوابوں کو تعبیر بخش دی گئی تھی۔وہ بہت خوش تھا۔ سماعت سے زویا کی پائل کی آواز ٹکراتی تو کانوں میں جیسے رس گھل جاتا۔محبت دعا بن کر قبول ہوئی تھی۔

            ٭٭٭

وہ آنکھیں موندے خیالوں کی دنیا آباد کیے ہوئے تھا کہ کھڑکی کی درز میں سے آتا ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اس کے چہرے سے ٹکرایا تو اس نے جھٹ سے اپنی آنکھیں کھول دیں۔ےکایک تیز ہوا چلنے لگی اور کھڑکی زور دار آواز میں مکمل کھل گئی اور اس کے کواڑ آپس میں ٹکرانے لگے۔کھڑکی کھلنے سے باہر لان کا منظر دکھائی دینے لگا جہاں شام کا دھندلکا ساےہ گہرا ہونیوالا تھا اور دسمبر کی شامیں تو ویسے بھی اداس ہوتی ہیں ۔ جازب نے سر جھٹکتے ہوئے کمرے میں ہر سو نگاہ دوڑائی لیکن وہ خالی تھا۔ڈریسنگ ٹیبل پر دھرا میک اپ جوں کا توں رکھا تھا اور چوڑیاں اپنی قسمت پر رو رہی تھیں ،زویا کا وجود ایک خواب بن کر رہ گیا تھا۔اس نے ڈریسنگ ٹیبل پر سے نظر پھیرتے ہوئے قالین کی جانب گھمائی جہاں گلابوں کی پتیاں بکھری ہوئی تھیں اور اپنی نارسائی پر ماتم کناں تھیں ۔بیڈ پر بھی کئی گلاب بکھرے پڑے تھے جنہیں سمیٹنا اسے ےاد ہی نہ رہا تھااورسائیڈ ٹیبل پر اسکی اور زویا کی مسکراتی تصویر جلوہ گر تھی،جس پر نظر پڑتے ہی وہ مزید اداس ہو گیا ۔

کئی دن بیت چکے تھے زویا اس ناراض تھی ،اور وہ اسے منا نہیں پایا تھا ۔انا بھی کوئی شے ہوتی ہے ےہ اسکا پختہ ےقین تھا۔وہ بڑی مشکل سے خود سنبھالتے ہوئے اٹھ ا اور تھکان زدہ قدموں سے چلتا ہوا کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا۔

افق کی آغوش میں سوتا سورج دسمبر کو الوداعی نگاہ دالے اداس کھڑا تھا۔افق پر کئی بادل تیر رہے تھے۔پرندوں کا غول قطار در قطار منزل پر جانے کے لیے روانہ تھا۔

کتنے دن بیت گئے میں نے زویا کا چہرہ نہیں دیکھا نہ ہی آواز سنی۔اس نے آم کے درخت پر گھونسلہ بنائے چڑیوں کو دیکھتے ہوئے خود کلامی کی اور پچھتاوے کی چادر میں لپٹ گیا۔کاش میں اسے نہ جانے دیتا۔۔کیا میری محبت اتنی کمزور تھی کہ بدگمانی کے آگے ہار گئی ؟ کاش میں اس پر شک نہ کرتا۔۔جازب علی شاہ نے خود کو کوستے ہوئے نگاہ گھونسلے پر سے ہٹا لی کیونکہ چڑیوں کی آپسی محبت دیکھ کر اس کا دل مارے درد کے کرلا اٹھا تھا ۔گھونسلہ آباد تھا جبکہ اسکا مکان اور دل دونوں ویرن کھنڈر۔۔۔پریشانی کے عالم میں کھڑکی کے کواڑ بند کیے اور رحیم کو آوازیں دینے لگا تاکہ وہ آکر قالین اور بیڈ پر بکھرے گلاب سمیٹ سکے۔

            ٭٭٭

پہلے کی نسبت دسمبر کی ےہ شام خاصی اداس تھی۔۔شاید جنوری بھی اداس گزرے۔۔وہ ےہ سوچتے ہوئے چہرہ جھکائے اداس بیٹھی تھی۔ چوڑیوں سے سجی رہنے والی کلائیاں خالی تھیں جبکہ آنکھوں میں کاجل بھی نہ تھا۔کتنا تڑپی تھی وہ۔۔اس کی تڑپ کون سمجھتا۔۔جسے سمجھنے کی ضرورت تھی جب وہی نہ سمجھ پایا تو۔۔۔

زویا جازب ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں بغور اپنا بکھرا وجود دیکھتے ہوئے سوچوں کی قید میں تھی۔آنکھوں کے گرد پھیلے سیاہ ہلکے اسکے دکھوں کا فسانہ سنا رہے تھے۔افسردگی کے کئی رنگ اسکے وجود سے چمٹے ہوئے تھے۔کیا جنوری اداس گزرے گا۔۔وہ مجھے منانے نہیں آئے گا ؟ وہ جتنا سوچ رہی تھی اتنا ہی دل میں درد بڑھ رہا تھا۔

ارے تم ابھی تک تیار نہیں ہوئی۔۔کہا بھی تھا کہ ڈنر پر جائیں گے۔۔

نقش احمد لاپروائی سے اس کے کمرے میں داخل ہوا تھا اور اب اسکے سراپے پر نگاہ پڑتے ہی بے تکلفانہ انداز لیے پوچھ رہا تھا۔ اداسی کا پیکر بنی زویا اسکی بے تکلفی پر من سے سلگ اٹھی جبکہ نقش کی ےہ بے تکلفی نئی نہ تھی پر آج زویا کو وہ بالکل اچھا نہیں لگا۔۔اس نے کندھے پر جھولتا دوپٹہ سینے پر اچھے سے پھیلا لیا۔

مجھے ڈنر پر نہیں جانا۔۔اور پلیز دوبارہ کبھی دروازہ ناک کیے میرے کمرے مین داخل مت ہونا ۔وہ سخت نگاہ لیے تلخی سے بولی تو نقش احمد کچھ حیران ہوا۔

تم کس لہجے میں بات کر رہی ہو مجھ سے ؟ وہ اس پہ شاکی نگاہ ڈالے کھڑا تھا۔

کاش کہ میں شروع سے ہی تم سے اس انداز میں بات کرتی تو آج میرا گھر تباہ نہ ہوتا ۔میرا شوہر تمہاری وجہ سے مجھ سے بدگمان ہوا۔۔زویا کے اندر دکھ بول رہا تھا ۔نقش احمد اسکی بات سن کر تلخی سے مسکرایا ۔اس کے لیے زویا کا ےہ انداز نیا تھا۔

تمہارا خالہ زاد اور دوست ہوں۔بھلا میری وجہ سے گھر کیوں ٹوٹے گا ؟ نقش نے الٹا سوال کیا تو زویا بنا کوئی جواب دیے کمرے سے نکل گئی۔

             ٭٭٭

ٹک ۔۔ٹک۔۔ٹک۔۔۔

ویران کمرے میں گونجتی وال کلاک کی ٹک ٹک نے خاموشی میں دراڑ ڈال رکھی تھی۔جازب نے وال کلاک کے ہندسوں پر نگاہ ڈالی اور مایوسی سے سر جھکا لیا۔۔دسمبر جانے اور جنوری آنے میں چند گنٹے باقی تھے لیکن اس کے لیے وقت تھم سا گیا تھا۔درد بھرے لمحات نہ جانے کیوں طویل ہوتے ہیں ۔۔اس نے افسردگی سے سوچتے ہوئے سگریٹ کا کش لگایا اور دھواں فضا کے حوالے کیا۔

وال کلاک کی مسلسل ٹک ٹک کی آواز اس کے دماغ پر ہتھوڑے کی مانند برس رہی تھی ۔کبھی وہ وقت بھی تھا جب ےہی ٹک ٹک زویا کی کلائی میں کھنکتی چوڑیوں کی آواز میں دب سی جاتی تھی۔اسے وہ وقت ےاد آنے لگا جب اس کے اور زویا کے درمیان دوریاں بڑھنے لگیں تھیں۔بیتے لمحات ورق تہ ورق زہن پر کھلنے لگے تھے۔

نقش احمد۔۔زویا کا خالہ زاد۔۔۔اور جازب شاہ کا ناپسندیدہ شخص تھا۔۔وہ ہر وقت زویا کو کال ملاتا رہتا تھا ۔۔زویا اور اسکی باتیں گھنٹوں کال پر جاری رہتیں ۔وہ کچھ کہہ نہ پتا لیکن دل ہی دل میں کڑھتا ضرور تھا کیونکہ بقول زویا نقش میرا صرف بہترین دوست ہے اور کچھ نہیں

ایک دن وہ آفس سے گھر لوٹا تو زویا کال پر مصروف تھی جبکہ اس سے پہلے وہ ہمیشہ سج سنور کر اسکا استقبال کرتی تھی لیکن اس دن وہ سب کچھ بھلائے کال پر نقش سے محو گفتگو تھی۔وہ کڑی نظروں سے اسے گھورتا رہا لیکن زویا نے پھر بھی کال نہ کاٹی تو وہ جیسے پھٹ ہی پڑا۔

کیا تماشا لگا رکھا ہے تم نے۔۔تمہارے اور نقش کے بیچ چل کیا رہا ہے۔۔صاف صاف بتاﺅ مجھے۔۔

اسکی آنکھوں میں درد اتر آیا تھا جبکہ زویا نے جلدی سے کال کاٹی تھی اور دکھ بھرے انداز میں اسکی جانب دیکھا تھا۔

تم مجھ پر شک کر رہے ہو ؟ میرے بارے میں ایسا تم سوچ بھی کیسے سکتے ہو ۔۔۔جبکہ نقش کی آج رات سالگرہ تھی وہ اسی کے بارے میں ڈسکس کر رہا تھا۔ زویا کی آواز میں آنسوﺅں کی نمی گھلی تھی۔

تمہاری اور اسکی دوستی ہماری شادی سے پہلے تک تھی اب نہیں رہی۔سمجھی تم ۔۔آئندہ کبھی اس سے بات مت کرنا۔وہ بولتے بولتے ہانپ اٹھا تھا جبکہ زویا اسکے لہجے کی سختی محسوس کرتے ہوئے دکھ کی دلدل میں دھنستی جا رہی تھی۔اسکی آنکھیں نمکین پانی سے لبالب بھر چکی تھیں۔

تم نے مجھ پر شک کیا۔۔میں اب کبھی تمہارے سامنے نہیں آﺅنگی۔۔جا رہی ہوں میں۔ وہ ہتھیلی کی پشت سے آنسو مسلتے ہوئے کمرے کی جانب دوڑی تھی۔۔پھر اس نے دیکھا کہ زویا بیگ تھامے گیٹ سے باہر نکل رہی تھی۔وہ اسے روکنا چاہتا تھا لیکن انا آڑے آ گئی۔۔جبکہ وہ خوشی خوشی گھر لوٹا تھا۔وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ وہی جنوری چند دنوں کی دوری پر ہے جب ہم ایک ہوئے تھے لیکن بتا نہیں پایا۔۔

            ٭٭٭

انگلیوں پر جلن ہوئی تو اسے جیسے ہوش آیا۔سگریٹ کا ادھ جلا ٹکرا انگلیوں کے درمیان پھنسا جھلس رہا تھا جسکی تپش انگلیوں کو بھی جھلسا گئی تھی۔اس نے جلدی سے سگریٹ کا ٹکڑا ایش ٹرے میں رکھا ۔میں ےہ جنوری بھی پورے جشن سے مناﺅنگا۔ضروری نہیں کہ جو روٹھ جائے اسکے ملن کا دن نہ مناےا جائے۔وہ اپنی ہی سوچ پر مسکرایا اور کچھ ےاد آتے ہی دایاں ہاتھ کوٹ کی جیب میں ڈالا۔ایکن نرم محملی ڈبیا ہاتھ سے ٹکرائی تو اسے جھٹ سے باہر نکالا اور جب اسے کھولا تو اندر ڈائمنڈ کی انگوٹھی جگمگا رہی تھی جو کہ وہ زویا کے لیے لایا تھا۔

اس نے انگوٹھی پر سے نظر ہتاتے ہوئے پورے کمرے میں چاروں جانب دیکھا جہاں سرخ گلاب مہک رہے تھے اور ایک کونے میں کینڈل اسٹینڈ میں موم بتیاں روشن تھیں۔ میز پر کیک سجا تھا جسکے گرد سرخ پھول اور موم بتیاں جلوہ گر تھیں۔سب کچھ زویا کے بنا ادھورا تھا۔

اس سے پہلے کہ گلاب مرجھا جائیں،جنوری کی حسین رات بیت جائے ،میں تمہیں لینے آ رہا ہوں۔ایسا نہ ہو کہ انا جیت جائے اور محبت ہار جائے۔وہ چشم تصور میں زویا سے مخاطب ہوا تو چہار سو محبت کی خوشبو بکھر گئی۔کھڑکی کی درز سے جھانکتا چاند مسکرایا تو آم کے درخت پر بیٹھیں چڑیاں محبت کے گیت گنگنانے لگیں۔

             ٭٭٭

زویا سرخ جوڑا زیب تن کیے دل سے تیار ہوئی تھی۔وہ تمام خفگی بھلائے مسکرا رہی تھی۔آنکھوں میں جلتے روشن دیے محبت کی پختگی کا عندےہ سنا رہے تھے۔نقش احمد جا چکا تھا اور زویا بھی اپنے اصل کی جانب لوٹ جانا چاہتی تھی۔جو بدگمانی،ناراضی جازب کے دل میں آن بسی تھی وہ اسے ختم کرنا چاہتی تھی۔سرمئی شام رات میں ڈھلی بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی۔

زویا اس گھر کے سامنے کھڑی تھی جو کہ جازب اور اس نے محبت سے آباد کیا تھا۔گھر کا گیٹ سرخ گلابوں سے ڈھکا ہوا تھا۔زویا کی آنکھیں جازب کی محبت پر نم ہو گئیں۔اس نے بے اختیار ہی اپنے قدم گیٹ کی جانب بڑھائے اور جیسے ہی گیٹ پر ہاتھ رکھا وہ کھلتا چلا گیا۔وہ بے قرار دل لیے اندر داخل ہوئی تو سامنے سے آتے جازب علی شاہ پہ نگاہ پڑتے ہی اپنی جگہ پہ تھم گئی۔جازب علی شاہ بھی اسکو دیکھتے ہوئے دل تھام کر رہ گیا۔۔اسی کو تو وہ لینے جا رہا تھا اور وہ خود ہی چلی آئی۔ جازب کا دل دھڑک اٹھا۔کبھی دعا ےوں بھی قبیولیت کی سند پاتی ہے کہ جو مانگو فوراً مل جائے۔ وہ زویا کو محبت پاش نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اس کے قریب آتے ہوئے رک گیا،

تمہیں ہی لینے آ رہا تھا۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ےہ جنوری تمہارے ساتھ نہ گزرے۔میں وہ دن کیسے بھول سکتا ہوں جب ہمارا ملن ہوا تھا۔جازب علی شاہ نے گمبھیر لہجے میں کہتے ہوئے اسکا ہاتھ تھاما تو زویا شرماتے ہوئے پلکیں جھکا گئی۔

تمہارا ساتھ ہی میری زندگی ہے اور پھر ایسا کیونکر ہو ہو کہ ہمارے درمیان کوئی تیسرا آئے۔میں وعدہ کرتی ہوں کہ پھر کبھی ےوں چھوڑ کر نہیں جاﺅنگی۔زویا پورے دل سے بولی تو وہ اسکی ادا پر فدا سا ہوا۔

ٹپ۔۔ٹپ۔۔ٹپ ایک ساتھ بارش کی کئی بوندیں ان کو بھگونے لگیں تو جازب نے اسے اپنے ساتھ لگائے کمرے کی جانب جانے لگا ۔ دونوں کے دل کی دھڑکن بادلوں کی گرج پر بھاری تھی۔

آﺅ مل کر کیک کاٹیں۔۔ہمارے ملن کا کیک۔۔محبت بھری جنوری کا کیک۔۔۔جازب نے انگوٹھی اسکی انگلی میں پہناتے ہوئے محبت سے کہا تو زویا نے دیوار پر سرخ پھولوں سے بنے دل کی جانب دیکھا جہاں محبت مسکرا رہی تھی۔اس بار بھی جنوری اسکی جھولی میں محبت کے پھول بکھیر نے کو تیار تھا۔

جازب نے بے تاب سی نظر وال کلاک پر ڈالی جہاں جنوری آنے میں چند منٹ ہی باقی تھے۔وہ پرسکون تھا کیونکہ اس کی محبت لوٹ آئی تھی۔

             ٭٭٭

     ختم شد

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

شیطان محمد نواز۔ کمالیہ پاکستان

پاکستانعالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 96 محمد نواز۔ کمالیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”یہ انسان نہیں شیطان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے