سر ورق / افسانہ / حسنِ کائنات… ڈاکٹر امواج ساحل

حسنِ کائنات… ڈاکٹر امواج ساحل

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر92

حسنِ کائنات

ڈاکٹر امواج ساحل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"الذھبی” پارک میں ٹہلتے ہوئے وہ نسیم صبا کی خنکی سے لطف اندوز ہونے کی کوشش کر رہی تھی، بادِ نسیم کے ٹھنڈے ٹھنڈے جھونکے اس کی زلفوں اور گالوں سے اٹھکیلیاں کر رہے تھے، فضا نہایت دلآویز تھی۔ مگراسے اس قدر غصہ تھا کہ وہ لطف اندوز نہیں ہو پا رہی تھی۔ پھولوں کے درمیان بنی روش پر چلتے چلتے اس نے ایک کنکر کو ٹھوکر ماری اور سوچا، ابھی تھوڑی دیر تک "تَفجار” افق کے اس پار سے اپنی اُڑتی ہوئی "مریکو” سے اترے گا، حسب معمول دور کے سہانے دیسوں کی منظر کشی کرے گا، اور وہ سب غصہ بھول بھال کر اس کی شیریں باتوں میں منہمک ہوجائے گی، پھر اسے کوہ قاف کی پریوں جیسی دیویوں سے لیکرسیاہ خوفناک دیوتاوں تک کے قصے سنائےگا، مشرقی برفانی علاقوں سے مغربی سیاہ پانیوں تک کی تصوراتی سیر کرائے گا، شمالی جات علاقوں کی نیلی وسرخ، اور سبز وزرد قدرتی روشنیوں کا عکس دکھلائے گا، شمالی و جنوبی سمندروں کی انتہا تک پھیلی ہوئی برفوں کی منظر کشی کرے گا، اور اسے جذباتی ہوکر بتائے گا کہ یہ کائنات کس قدردلفریب ہے۔ ہمیں چاہئیے کہ اس سے لطف اندوز ہوں اور خوش خوش رہیں۔

ابھی چند لمحات میں وہ اُڑتا ہوا آئے گا اور کرہء ارض پراتر کر "زَھرا” کو اپنی سیروں کا احوال سنائے گا جن میں سب موسموں کی کہانیاں ہوں گی۔ دونوں ہی سیر کے دلدادہ تھے، زمین پر رہنے کے باوجود تمام کہکشاوں میں اُڑنے پھرنے کے شوقین تھے، اپنا شمسی نظام انہیں بے حد بھاتا تھا،اس میں پھیلے رنگا رنگ پھول بوٹے، تاحد نظر منتشر سبزہ، مختلف ذائقوں والے پھل، اور لذیذ خشک میوہ جات ان کے دلوں کو لُبھاتے تھے، وہ کب سے یہاں مقیم تھے، انہیں کچھ علم نہ تھا، سوائے سیر کرنے، اور کھانے پینے کے۔

ان کے دل محبت سے معمور تھے، باہمی محبت، کائنات کی محبت، اور فطرت کی محبت۔ ان سب کے علاوہ ایک نادیدہ ہستی تھی، جس کی کشش ان کے دلوں کو کھینچتی تھی، ایک مقدس کشش، جس میں جسمانی تعلق کا اس کے ساتھ کوئی معاملہ نہ تھا۔ وہ ہستی کون تھی، کہاں تھی، انہیں کچھ معلوم نہ تھا، فقط ایک پر اسرار احساس تھا کہ وہ بھی ان سے محبت کرتی تھی اسی لئے تو ان کو تخلیق کیا تھا اور اس پُر تعیًش کائنات میں انہیں اِقامت بخشی تھی۔ یہی محبت ان کے دلوں پر بھی منعکس ہوتی تھی، اور وہ بھی اپنے دلوں میں اس کے لئے محبت محسوس کرتے تھے۔ اچانک تھوڑی دیر بعد وہ نمودار ہو گیا، اس کو دیکھ کر اس کے دل کی کلی کھل اٹھی، اس نے کہا :

آج تم نے بہت دیر لگا دی، میں نے تمہیں بہت یاد کیا۔ کہنے لگا:

آج میں نے ایک نیا خوبصورت جزیرہ دریافت کیا ہے، جس کو دیکھنے میں محو ہو گیا، اور کچھ کچھ اداس بھی۔

کہنے لگی: اداس کیوں ؟

"تَفجار” نے کہا، اس لئے کہ مجھے خیال آیا کہ اگر یہ کائنات نیست و نابود ہوجائے توکتنا حسن اس کائنات سے ختم ہو جائے۔ "زَہرا” تعجب سے کہنے لگی:

مگر وہ تباہ کیوں ہوگا ؟

وہ ایسے کہ جیسے ہم ازل کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، ابد کے بارے میں بھی تو کچھ نہیں جانتے، کیا پتہ جس ہستی نے تخلیق کی ہے، کبھی تباہ بھی کر دے، ہم تو کچھ نہیں کر سکتے نا ؟

ہاں یہ تو تم صحیح کہ رہے ہو، وہ بھی قدرے اداس ہو گئی۔

مگر نہیں، وہ ایسے نہیں کر سکتی، وہ پر امید لہجے میں کہنے لگی:

وہ اپنی اس تخلیق سے بہت محبت کرتی ہے، اچھا یہ تو بتاو وہ ہے کس طرف؟

"تَفجار” نے کہا:

وہ سامنے اوپر کی طرف چھوٹا سا نقطہ نظر آرہا ہے؟

ہاں۔

بس وہی ہے، کل تمہیں بھی لے چلوں گا۔

ٹھیک ہے، میں چلوں گی۔ پھر ایک خوفناک دھماکہ سنائی دیا وہ دونوں ڈر کر ایک دوسرے سے لپٹ گئے، وہ ایک دلدل میں دھنستے جا رہے تھے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بالغ عورت شکیلہ رفیق ۔ ٹورنٹو ، کینیڈا

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 141 بالغ عورت شکیلہ رفیق ۔ ٹورنٹو ، کینیڈا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے