سر ورق / افسانہ / ختم ہونے سے پہلے ایک کہانی … سید کامی شاہ، کراچی ، پاکستان

ختم ہونے سے پہلے ایک کہانی … سید کامی شاہ، کراچی ، پاکستان

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر94

ختم ہونے سے پہلے ایک کہانی

سید کامی شاہ، کراچی ، پاکستان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہانی شروع وہاں سے ہوئی تھی جب اس نے کتابوں کی دکان سے ایک کہانی چرانے کی کوشش کی تھی۔ اس نے جیب خرچ سے جمع کیے ہوئے چار روپے میں چند کہانیاں خریدی تھیں، بچوں والی معمولی سی سستی کہانیوں کی کتابیں دیکھتے دیکھتے اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی تھی کہ یہ ساری کہانیاں خرید لے یا کسی طرح یہاں سے لے جا کر اپنے پاس رکھ لے اور پھر مزے مزے سے پڑھتا رہے۔

رحم دل بادشاہ اور نیک نیت شہزادوں کی کہانیاں، جادوگروں، جِنوں، پریوں کی طلسماتی کہانیاں

مگر کہانیاں تعداد میں بہت زیادہ تھیں اور اس کے پاس روپے کم تھے، ہمیشہ ہی کم ہوتے تھے کیونکہ اس کا باپ معمولی ملازمت سے جو کماتا تھا وہ گھر کے کرائے، روز مرہ اخراجات، بچوں کی پڑھائی اور دیگر ضروریات پر خرچ ہو جاتا پھر بھی اماں اسے اور اس کے دیگر بہن بھائیوں کو اسکول جاتے ہوئے دو چار آنے یا ایک آدھ روپیہ تھمادیا کرتی۔ جب اسکول میں وقفے کے دوران سارے بچے کچھ نہ کچھ کھا پی رہے ہوتے تو وہ اپنی جیب میں پڑے سکوں کو کھنگالتا اور سوچتا کہ جب اس کے پاس مناسب پیسے ہوجائیں گے تو وہ بہت ساری نئی کہانیوں کی کتابیں خریدے گا۔ اور وہ وہی دن تھا جب اس نے کئی ہفتوں سے جمع شدہ پیسوں سے کہانیوں کی کچھ کتابیں خریدی تھیں مگر کہانیوں میں رہنے کا لالچ اسے گمراہ کرگیا تھا اور اس نے انہیں خریدی ہوئی پتلی پتلی کتابوں کے درمیان ایک دو اور پتلی پتلی کتابیں چھپا کر لے جانے کی کوشش کی تھی۔

خریدی ہوئی کہانیوں کے پیسے ادا کرکے وہ دھڑ دھڑ کرتے دل کے ساتھ چلا تھا اورکائونٹر کے پیچھے کھڑے چوکنے دکاندار نے ہاتھ بڑھا کر اسکا کالر پکڑ لیا تھا

چوری کرتا ہے۔۔۔ شرم نہیں آتی۔۔۔۔ بھاگ یہاں سے!!!!

اس نے کالر کو جھٹکا دے کر کہا تھا اور وہ شرمندگی کے مارے ساری کہانیاں دکاندار کے ہاتھ میں ہی چھوڑ کر وہاں سے چلا آیا تھا۔ اس کا دل اپنے ہی قدموں کے نیچے کسی بیمار مینڈک کی طرح ہانپ رہا تھا اور باہر کے سبھی مناظر دھندلے دکھائی دے رہے تھے۔

چوری کرتا ہے۔۔۔ شرم نہیں آتی!!!

بار بار یہ فقرہ اس کے کانوں میں گونجتا اور اسے لگتا کوئی اس کے سر پر ہتھوڑے برسا رہا ہے۔ شرم اس کے اندر چھپنے کے لیے کونے کھدرے کھرونچنے لگی۔

جیبیں کاٹنے کا بھی اپنا ہی مزہ ہے۔ ایک کھوج، ایک تلاش پتہ نہیں کتنا مال ہاتھ لگے اور اس مال سے کتنے دن تک مزے اڑائے جائیں۔ مانو ایک طرح کا نشہ ہے جو آپ کو آگے بڑھنے اور بڑا ہاتھ مارنے پر اکساتا ہے۔ ایک کھوج ہے جو نامعلوم کو معلوم میں لانے کی لگن سے لپٹی ہے اور جب آپ اس نامعلوم کو معلوم کرلیتے ہیں تو مزہ آ جاتا ہے۔ جیسے صوفی، سادھو یا سائنسدان کائنات اور خالقِ کائنات کے رازوں کی کھوج میں لگے رہتے ہیں اسی طرح ہمارا مقصد جیبوں کے راز کھولنا ہے کہ کس کی جیب میں کتنا پیسہ ہے اور وہ ہمارے کس کام آسکتا ہے۔،،

اس کا وہ دوست ہمیشہ اس سے کہا کرتا جس کی جیبیں نوٹوں سے بھری رہتیں اور وہ آئے دن نئی نئی عورتوں کے ساتھ خلوت میں گزارے گئے وقت کی رنگین کہانیاں سنایا کرتا۔

وہاں بیٹھے دیگر دوست فقط سی سی کرتے رہ جاتے اور وہ سب کو کھلا پلا کر کسی نئی عورت سے ملنے کا کہہ کر روانہ ہوجاتا۔

دیکھو! نامعلوم کو معلوم کے احاطے میں لانے کے لیے جذبے اور لگن کے ساتھ ہمت بھی چاہیے ہوتی ہے، تم اگر ذرا سی ہمت کرو تو میں تمہیں گُر کی باتیں بتادوں گا۔،،

مگر وہ ہر بار ٹال جاتا اور کہتا محنت اور نیک نیتی سے حاصل کیے ہوئے دن زیادہ روشن اور چمکدار ہوتے ہیں۔

اس کا دوست ہمیشہ اس پر ہنس پڑتا۔

سمندر دور تک پھیلا ہوا تھا، سورج کا سرخ بدن گردن گردن پانی میں ڈوب چکا تھا اور تھکی ماندی لہریں ساحل پر ٹھہرنے کے لیے ریت کا نرم بدن تھامنے کی کوشش کررہی تھیں، گیلی ریت پر بیٹھے بیٹھے اس نے جھلسے ہوئے آسمان کو اپنی آنکھوں میں بھر لیا اور پرندوں کو دیکھنے لگا۔

اپنے پروں کے فخر میں سرشار، اُڑتے ہوئے اُجلے اور سفید پرندے اپنے پروں کو سمیٹ کر فضا میں ڈبکی لگاتے اور سمندر کی ہتھیلی پر پڑا اپنے حصے کا رزق اٹھا کر پھر سے آسمان کی طرف اُڑ جاتے۔

اُڑان کتنی ہی بلند کیوں نہ ہو بھوک نیچے آنے پر مجبور کردیتی ہے۔،،

اسے اُس لڑکی کی کہی ہوئی بات یاد آگئی جو اپنی انگیا کی طنابیں ہمیشہ کندھے سے کھسکا کر نیچے رکھتی اور اتنے مہین کپڑے پہنتی کہ اس کا بدن اس میں سے نمایاں ہوتا۔

وہ اس کی قمیص کے نیچے ہر روز بدلتی رنگ برنگی انگیا کو دیکھتا اور سوچتا کہ اگر اس کو اسے چھپانا ہی ہے تو دوپٹے کا تکلف کیوں نہیں کرتی؟

اگر کھلے گلے سے کندھوں پر پڑی انگیا کی طنابیں نظر آنے کا خدشہ ہے تو گلا تھوڑا چھوٹا پہن لے۔ مگر وہ یہ سب سوچتا رہتا اسے اس سے یہ سب کہنے کی ہمت نہ ہوتی اور وہ

ہمیشہ اسے ٹوکتی رہتی۔ دوسروں کی مثالیں دے کر اسے باور کرانے کی کوشش کرتی کہ اسے اُن کے جیسا ہونا چاہیے۔ وہ اس کی ساری باتیں سنتا تھا مگر کبھی اس سے الجھتا نہیں تھا

شاید اسے ڈر تھا کہ کہیں وہ ناراض ہو کر اسے چھوڑ نہ جائے۔

اسے یاد تھا کہ وہ بچپن میں اپنی ماں سے بہت الجھتا تھا

ایسا کیوں ہے، ویسا کیوں ہے، ایسا کیوں نہیں ہے اور ویسا کیوں نہیں ہے۔۔۔۔

اور پھر ایک دن ماں اسے چھوڑ کر چلی گئی تھی

اور باپ جو ماں کے جانے کے بعد ایسا چُپ ہوا کہ اشد ضرورت کے وقت بھی صرف ہوں ہاں سے کام لیتا۔

برسوں بیت گئے اس نے اپنے باپ سے کوئی بات نہ کی تھی، غربت اور بے چارگی نے اسے وقت سے پہلے بوڑھا اور بیمار کردیا تھا۔

وہ سوچتا رہا کہ اگر دنیا میں بھوک نہ ہو تو رہنے کے لیے یہ بری جگہ نہیں ہے۔ مگر کیا کیا جائے کہ بھوک کا پیدا ہونا ہمارے اختیار سے باہر ہے، ایسے ہی جیسے ہمارا پیدا ہونا اور پھر مر جانا بھی ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔

وہ وہیں بیٹھا سوچتا رہا اپنے بارے میں، دنیا کے بارے میں، کتابوں اور کہانیوں کے بارے میں اور کہانیوں میں ملنے والی پریوں اور شہزادیوں کے بارے میں جو ہمیشہ کسی نیک نیت اور بہادر شہزادے کی منتظر رہتی تھیں۔

وہ ادھر ادھر گھومتے پھرتے خوش اور اداس اور مصروف لوگوں کو دیکھتا رہا اور سوچتا رہا۔۔۔

کہیں کوئی شہزادی اس کی بھی منتظر ہوگی، کسی رحم دل بادشاہ کی بیٹی یا کسی جادوگر کی قید میں رہنے والی شہزادی جو اس کا انتظار کررہی ہوگی اور وہ جا کر اسے اس ظالم جادوگر کی قید سے آزاد کرائے گا اور پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگیں گے۔

مگر وہ جو اس کی زندگی میں حادثاتی طور پر آئی تھی دیکھنے میں بالکل پریوں اور شہزادیوں جیسی تھی مگر اپنی فطرت میں وہ اسے کسی ظالم جادوگر جیسی لگتی جس کے قبضے میں اس کی جان تھی اور وہ اس کے سامنے گم صم ہوجاتا تھا

حُسن کی اپنی ہیبت ہوتی ہے میرے دوست، حسین عورتوں کے سامنے بڑے بڑے بولنے والے چُپ ہوجاتے ہیں۔۔۔،، اسے اسی دوست کی بات یاد آتی جو عمر اور تجربے میں ان تمام دوستوں سے بڑا تھا اور ادھر ادھر کی فالتو باتوں میں کئی کام کی باتیں بھی کرجایا کرتا تھا۔

سمندر کی نمکین اور تیز ہوا اس کے بال اڑاتی رہی اور وہ یادوں کے بھنور میں ابھرتا ڈوبتا ساحل کی گیلی ریت پر ایسے ہی بیٹھا رہا، شام کاسنی سے ملگجی ہوئی اور پھر تیزی سے پھیلتے اندھیرے میں گم ہوگئی، وہ وہیں بیٹھا رہا ساحل پر بکھری خالی سیپیوں اور لوگوں کو دیکھتا رہا۔۔۔

لوگ جو اس کے لیے اجنبی تھے اپنے گھروں کو واپس جانے لگے اور نمکین سمندری ہوا میں خنکی بڑھنے لگی۔

وہ اٹھا اور کپڑے جھاڑ کر چل پڑا

اس کے جوتوں سے گیلی ریت لگی تھی اور دل خالی خالی سا تھا۔ اسے وہ شدت سے یاد آرہی تھی

اسے لگا آستہ آہستہ سانس لیتا سمندر اسے روکنا چاہ رہا ہے۔

سمندر کی یہ عادت بہت بری ہے کہ ہر جانے والے کو روک لینا چاہتا ہے،،

اسے اس کی اُس وقت کہی ہوئی بات یاد آئی جب وہ ہمیشہ کے لیے اسے چھوڑ کر جارہی تھی اور اُس نے اُس وقت چاہا تھا کہ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر کسی لمبے سفر پر نکل جائے کسی طویل اور بے انت نظم کے سفر پر اور کسی ایسی کہانی میں سما جائے جسے کبھی کسی نے نہ لکھا ہو اور نہ ہی کوئی اسے پڑھنے والا ہو۔

اسے وہ لڑکی کبھی کبھی اس دکاندار جیسی لگتی جس نے بچپن میں اسے کہانیاں چراتے ہوئے پکڑا تھا اور اس کی خریدی ہوئی کہانیاں بھی رکھ لی تھیں۔

وہ اس کی قمیص سے جھانکتی اس کی انگیا کی گولائیاں دیکھ کر سوچتا کہ ان ریشمی غلافوں میں لپٹے ان سانس لیتے سنہری گنبدوں کے نیچے اس کے سینے میں ایک دل بھی ہوگا مگر یہ کیسا سخت دل ہے جو اس کے جذبات کو کبھی محسوس نہیں کرتا۔۔۔

وہ ہمیشہ اپنی ہی کہتی ہے اور اپنی مرضی کرتی ہے

اس کے سامنے اس کا اپنا وجود صفر ہو جاتا اور وہ کبھی اس سے اپنے دل کی بات نہ کہہ پاتا۔

اور جب وہ چلی جاتی تو وہ اسے یاد کر کر کے ہلکان ہوتا

اس کا نام لے کر اسے پکارتا اور اس کی صدائیں کائنات کی بسیط وسعتوں میں کہیں کھو جاتیں۔۔۔

اسی کے دھیان میں چلتے چلتے وہ کب پکی سڑک پر آگیا اسے احساس ہی نہیں ہوا، ایک بڑی سے گاڑی اچانک اس کے پیچھے بھونکی تھی اور وہ ڈر گیا تھا۔۔۔۔ وہ اکثر ڈر جایا کرتا تھا جیسے کوئی چیز چراتے ہوئے پکڑا گیا ہو۔۔۔

اور کوئی اس کے کالر کو جھٹکا دے کر کہہ رہا ہو۔۔ چوری کرتا ہے سالے۔۔۔ شرم نہیں آتی۔۔۔ چل بھاگ یہاں سے!!!

اور وہ بھاگ کھڑا ہوتا اپنے موجود سے باہر نکلنے کے لیے۔۔۔

مگر موجود ہر جگہ موجود رہتا

اور وہ گھوم پھر کر اسی رات دن، صبح شام، بھوک اور نیند اور خواب کے دائروں میں گھومتا رہتا۔

اس نے دیکھا وہ بس اسٹاپ پر کھڑا تھا، بہت سارے اجنبی لوگوں اور بہت ساری چھوٹی بڑی گاڑیوں کے درمیان۔

کنڈیکٹر بس سے باہر کودا تھا اور اب بس کا دروازہ بجا بجا کر مختلف اسٹاپوں کے نام اچھال رہا تھا۔ کچھ لوگ تیزی سے بس سے باہر نکلے اور کچھ اندر گھسے اور ایک دم سے سب آپس میں گڈ مڈ ہوگئے۔

اس کی بائیں طرف ایک واجبی سی صورت کی عورت کھڑی تھی جس نے ضرورت سے زیادہ شوخ لپ اسٹک لگا رکھی تھی، آنکھیں اس کی نیت کی طرح کالی تھیں اور اس کے فیشنی انداز میں کٹے ہوئے بالوں کی ایک لٹ اس کے چہرے پر جھول رہی تھی۔ اس نے کالے رنگ کا لمبا سا برقعہ پہنا ہوا تھا مگر چہرہ ڈھانپنے کا تکلف نہیں کیا تھا۔ اس کے چہرے پر عجیب سی وحشت زدہ نحوست تھی اور وہ پہلی نظر میں کوئی آوارہ بلی دکھائی دیتی تھی جو کسی شکار کی تلاش میں نکلی ہو۔

اس نے ایک ہاتھ میں ایک ڈائری تھام رکھی تھی جس میں تہہ کیا ہوا اخبار تھا اور دوسرے ہاتھ سے وہ چہرے پر نمکین سمندری ہوا سے کھیلتی بالوں کی لٹ کو بار بار درست کررہی تھی۔

وہ اس کی طرف دیکھنے لگا،

اسے اپنی طرف متوجہ پا کر عورت دھیرے سے مسکرائی اور ڈائری والے ہاتھ کو ذرا سا کھسکا کر اپنے سینے پر رکھ لیا۔ ڈائری میں دبے اخبار پر قلم سے کچھ ہندسے لکھے ہوئے تھے جو پہلی نظر میں اس کی سمجھ میں نہ آئے اور وہ منہ دوسری طرف پھیر کر اطراف کا جائزہ لینے لگا۔ عورت کی آنکھوں میں بھوک تھی اور وہ مسلسل اسی کی طرف دیکھ رہی تھی۔

اس نے جیب ٹٹولی اس کی جیب میں کچھ روپے اور ریزگاری تھی۔

اس نے سامنے سے آتی بس پر نظریں جمادیں اور بس کے قریب آ کر رکتے ہی اچھل کر اس میں چڑھ گیا۔

عورت نے اپنا وار خالی جاتا دیکھ کر زیرِ لب اسے گالی دی

کنگلا سالا۔۔۔۔۔

یار یہ جو عورتیں بس اسٹاپوں پر کھڑی ہوتی ہیں انہیں گاہک وغیرہ مل جاتا ہے۔؟

رات کو چائے کے ہوٹل پر دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے اس نے اپنے اسی دوست سے پوچھا جو خود کو دوسروں کی جیبیں خالی کرنے کا ماسٹر کہا کرتا تھا۔

ہاں۔۔۔ کیوں نہیں۔۔۔۔ اپنی اپنی طلب کی بات ہے، انہیں بھی کوئی نہ کوئی سستا تماش بین مل ہی جاتا ہے۔ پانچ سات سو مانگتی ہیں اور دو چار سو میں بات بن جاتی ہے، کیوں لانے کا پروگرام ہے کیا۔؟

ہاہاہا۔۔۔ اس نے کھوکھلا سا قہقہہ لگایا

نئیں یار۔۔۔ ایسے ہی پوچھ رہا تھا۔،،

ویسے عورت ہونے کا ایک فائدہ تو یہ بھی ہے کہ بندہ بھوکا نہیں مر سکتا،،

چائے سڑکتے ہوئے ایک اور دوست نے بیچ میں لقمہ دیا

بھوکے تو ہم بھی نہیں مرسکتے۔۔۔ بس ذرا ہاتھ ٹھیک پڑنا چاہیے۔۔۔۔،،

وہی دوست مسکرایا جسے اپنے ہُنر پر فخر تھا

یہ دیکھو۔۔۔ یہ دو انگلیاں جوڑیں۔۔۔ اس طرح۔۔۔ ادھر ادھر نظر گھمائی۔۔۔ اور آرام سے برابر والے کی جیب میں۔،،

اس نے چائے کا کپ میز پر رکھا اور اپنی دو انگلیاں جوڑ کر اسے سمجھایا۔

اب اتنے برے دن بھی نہیں آئے کہ لوگوں کی جیبیں کاٹتے پھریں۔،،

اس نے منہ بسورا

اور اس کا دوست ہنس پڑا

یہ کہو اچھے دن نہیں آئے۔۔

اتنی تھکی ہوئی فیکٹری میں مزدوری کرکے کیا کما لیتے ہو۔ ہر وقت تو ہم سے ادھار مانگتے رہتے ہو۔،،

ہاں ہاں طعنے دینے کی ضرورت نہیں، گزارے لائق کما ہی لیتا ہوں۔ اور دے دوں گا تمہارے پیسے بھاگا نہیں جا رہا کہیں۔،،

اس کی طبیعت بدمزہ ہونے لگی۔

سارے شہر میں بڑی سی بھوک کے سائے منڈلا رہے تھے

سب کی اپنی اپنی بھوک تھی اور بڑھتی جارہی تھی

ایک بیمار سا آدمی بس میں بیٹھے ہوئے ایک نوجوان لڑکے کے کندھے سے چپک کر کھڑا تھا، لڑکے کے چہرے پر کسی اندرونی تنائو کے آثار تھے اور وہ بار بار پہلو بدلتا تھا مگر وہ شخص کسی صورت وہاں سے ہٹ نہیں رہا تھا۔

اس کا سفر لمبا تھا اور اسے اتفاق سے سیٹ بھی مل گئی تھی اس لیے وہ اطمینان سے بیٹھا بس میں بیٹھے لوگوں کا جائزہ لے رہا تھا۔

میلا سا کنڈیکٹر لوگوں کے کندھے پکڑ پکڑ کر کرایہ طلب کررہا تھا

اس نے کرایہ ادا کیا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا

شہر ملگجی روشنیوں میں سلگ رہا تھا اور سڑکوں پر بھوک برہنہ پا دوڑتی پھررہی تھی۔

پورے پیسے نکالو۔۔۔ کرایہ آٹھ آنے بڑھ گیا ہے،،

کنڈیکٹر نے تیز آواز میں کسی سے کہا تھا اور وہ سر گھما کر اس کی طرف دیکھنے لگا تھا۔ دیگر مسافر بھی اس کی طرف متوجہ ہوچکے تھے۔

اخبار میں تو نہیں آیا۔۔۔۔ لسٹ دکھائو۔۔۔ لسٹ کدھر ہے۔،، بہت ساری آوازیں گونجیں

ہم کیا جھوٹ بولتا ہے۔۔۔۔ بڑھ گیا ہے کرایہ۔۔۔۔۔،،

کنڈیکٹر جھلایا ہوا تھا

آگے بیٹھے ہوئے مسافروں میں سے کوئی بولا

ارے آٹھ آنے کی ہی تو بات ہے،،

میاں تم آٹھ آنے کو کیا سمجھتے ہو۔۔۔؟

ایک اور آواز گونجی۔

چونیوں اور اٹھنیوں کے لیے لڑنے والی قومیں ہمیشہ بھوکی رہتی ہیں،،

کسی نے چلا کر کہا تھا مگر اس آواز پر کسی نے کان نہ دھرے۔

اس نے اِدھر اُدھر دیکھا تمام لوگ کنڈیکٹر اور اس سے بحث کرتے شخص کی طرف متوجہ تھے۔

اس کے برابر میں بیٹھے تھکے تھکے اور سوئے سوئے سے شلوار قمیص میں ملبوس آدمی کی سائیڈ جیب سے کچھ نوٹ جھانک رہے تھے۔

اس کی آنکھوں میں اسی عورت کا چہرہ گھوم گیا جو بس اسٹاپ پر ملی تھی اور ڈائری میں دبے اخبار پر لکھے ہندسے اس کے آنکھوں کے سامنے ناچنے لگے۔

اگر اس کا برقعہ ہٹا کر دیکھیں تو کیا اس کی طنابیں بھی اسی طرح کندھوں سے سرکی ہوئی ملیں گی یا اپنی جگہ پر موجود ہوں گی۔؟

ایک خیال اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سرسرایا اور اس نے اپنے دونوں ہاتھ گود میں رکھ لیے۔

پانچ سات سو مانگتی ہیں اور دو چار سو میں بات بن جاتی ہے،،

اس کے کانوں میں اسی دوست کی آواز گونجی۔

کیوں لانے کا پروگرام ہے کیا۔؟

اسی دوست نے چند روز قبل اس کے سامنے ایک بٹوہ لہرایا تھا

آج تو مزے آگئے جانِ من۔۔۔ موٹا مرغا ہاتھ لگا ہے۔،،

بٹوے میں سے سو سو اور پانچ پانچ سو کے نوٹ جھانک رہے تھے اسے لگا چاروں طرف رنگ برنگے کڑک نوٹ اڑ رہے ہیں اور وہ انہیں جھپٹ جھپٹ کر اپنی جیب میں ڈال رہا ہے۔ اس کی سانس کے ساتھ ساتھ اس کی جیبیں بھی پھول چکی ہیں مگر نوٹ ختم ہی نہیں ہورہے ہر طرف اڑتے پھر رہے ہیں۔

اس کی نظریں بار بار برابر میں بیٹھے شخص کی جیب میں گھس جاتیں جس میں بہت سارے لال لال نوٹ ٹھنسے ہوئے تھے۔ وہ اپنی توجہ دوسری طرف مرکوز کرنا چاہتا تھا مگر اس کے اندر بار بار رنگ برنگے نوٹ لہرانے لگتے اور اسے لگتا اس کا اندرون کوئی مفتوح علاقہ ہے جس پر بہت سارے فاتحین کے جھنڈے لہرا رہے ہیں۔

یہ دیکھو۔۔۔۔ یہ دو انگلیاں جوڑیں۔۔ ادھر ادھر دیکھا اور آرام سے برابر والے کی جیب میں۔۔۔،،،

اُڑان کتنی ہی بلند کیوں نہ ہو بھوک نیچے آنے پر مجبور کردیتی ہے۔۔۔۔۔،،

بھوکے تو ہم بھی نہیں مر سکتے۔۔ بس ذرا ہاتھ ٹھیک پڑنا چاہیے۔۔۔۔،،،

اور اس کا ہاتھ ٹھیک نہیں پڑا تھا۔۔۔۔

وہ تھکا تھکا اور سویا سویا سا آدمی ایک دم چوکنا ہوگیا تھا اور اس نے اپنی جیب کے اندر ہی اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا

جیبیں کاٹتا ہے بھین چو۔۔۔۔ شرم نہیں آتی۔۔۔؟

اور شرم اس کے اندر چھپنے کے لیے کونے کھدرے کھرونچنے لگی

کیا ہُوا۔۔ کیا ہُوا۔۔۔۔ کی آوازوں سے بس بھر گئی تھی اور عجیب عجیب شکلوں والے ہاتھ اس پر بُری طرح برس رہے تھے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

درد کے موسم انجم قدوائی ۔علی گڑھ ۔انڈیا

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 142 درد کے موسم انجم قدوائی ۔علی گڑھ ۔انڈیا …

ایک تبصرہ

  1. Avatar

    بہت شکریہ برادران۔ اللہ کریم عزتوں میں اضافہ عطا فرمائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے