سر ورق / افسانہ / رشتوں کی صلیب تنویر احمد تماپوری  الریاض سودی عرب

رشتوں کی صلیب تنویر احمد تماپوری  الریاض سودی عرب

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر93

رشتوں کی صلیب

تنویر احمد تماپوری

 الریاض سودی عرب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خلیج کی لڑکیاں — کالے لبادوں میں محصور ہونے کے باوجود بھی حسن سے لدی پھدی ہوتی ہیں۔ وہ نمائش کے ذرائع محدود ہونے پر بھی اداوں کی آتش بازیاں جانتی ہیں۔ دیکھنے والوں کو یہ یقین دلانے میں ماہر ہوتی ہیں کہ ان کے پاس کالے لبادوں کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے اوربہت نایاب ہے۔ عبداللہ الآفندی کی دونوں لڑکیاں بھی مذکورہ خوبیوں سے مزین تھیں ۔وہ حسن میں یکہ تھیں اور متحیرکرنے میں حکم کا یکہ ۔ اگرآفندی قبیلہ حسن کی کان تھا تو نورہ اسکا سب سے قیمتی ہیراتھی ۔عربی قہوے جیسازعفران ملا سنہرارنگ ۔ صحرا کے چاند کی طرح روشن چہرہ۔پام کے پیڑسا سڈول بدن۔ چال میں سراور ڈھال میں لئے تھی۔نورہ بر صغیرکی نورہ کشتی جیسی ہی تھی اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ۔ بظاہر نہایت شریف نیک بزرگوں کی چہیتی نظر یں نیچے رکھنے والی ۔ اسکی بظاہر جھکی رہنے والی معصوم آنکھیں دراصل چور بازاری کے ہنرجانتی تھیں ۔ موقعہ محل دیکھ کر کینچلی بدلنا اسکےڈی این اے میں تھا۔خلیج کی اکثر لڑکیوں کی طرح نورہ کا ڈبل رول بھی متاثر کن تھا وہ کہیں ستی ساوتری تھی تو کہیں گلی کی گایتری ۔ وہ عین موقعہ پر نہایت مستعد اور فعال ہوجایاکرتی تھی سوشیل میڈیا کی رانی تھی واٹس اپ اور بلو ٹوتھ اس کے پایہ تخت تھےجن پر پیغام رسانی کے کبوتر ہمیشہ غٹر غوں کرتے رہتے تھے۔ ہمیشہ کیوپڈ کو اس کے سارے عملے سمیت مصروف رکھنے میں ماہر تھی۔مرض اس کے لئے غنیمت تھا چونکہ وہ بیما ر رہنے کے سایڈ افیکٹس جانتی تھی اس لئے ہر دوسرے تیسرے دن اسپتال کے چکر لگانا اس کا معمول تھا ۔ باوجود اس کے کہ اس کے جسم کی گفتگو نہ کوئی ڈاکٹر ٹھیک سے سمجھ پارہا تھا نہ کوئی نرس ۔ اس کےکیس کو ہینڈل کرنے کے لئے کسی لیڈیز ٹیلر یا پھر ڈرائیور کی ضرورت تھی۔ میں اس وقت اس کا ڈرئیور تھا تاہم پندرہ سالہ خلیجی تجربے نے میرے اندراپنے آپ ہی ایک ایسا خود کار دفاعی نظام تخلیق کرلیا تھا جو خطرے کے وقت اپنے مفادات اور سلامتی کو بہر حال مقدم رکھتا تھا۔ بڑی لڑکی توپ تھی تو چھوٹی توپ کا گولہ ۔ گولائی کا منیرہ سے بڑا گہرا رشتہ تھا ۔ اس کا سراپہ گول تھا۔ اس کےکام گول تھے۔اس کی باتیں گول تھیں ۔چہرہ چاند کی طرح گو ل اور آنکھیں کٹوروں کی طرح گول ۔اس کے حسن میں گوشت پوست کوکافی دخل تھا ۔ مائیکل اینجلو کی لحیم شحیم ماڈل جیسی وہ لڑکی سومو پہلوانوں کا زنانہ اوتار تھی۔ اس نے اپنے چوبیس گھنٹوں کو دو حصوں میں بانٹ رکھا تھا۔اس کے پہلے بارہ گھنٹے بروسٹیڈ –پیزا اور برگر کے نذر تھےتو باقی کے بارہ گھنٹے پیپسی –کافی اور آیس کریم کے لئے مختص ۔ جسم فربہ ہونے کے باوجودصحت اور خوبصورتی کا اشتہار تھا۔ چال میں دھمک تھی توچلن میں کتھک تھی ۔اس کے سامنے بندہ خود کو خواہ مخواہ ہی اس ہرن جیسا محسوس کرتا تھا جوغلطی سے کسی شیرکے کچھار کی طرف آنکلاہو۔

ان لڑکیوں کی ماں کو میں نے ہمیشہ یا تو یاد کرنے کی کوشش میں ملوث دیکھا تھا یا بھولنے کی ایکٹنگ کرتے ہوے۔ وہ الضایمر کی مریض تھی۔ اپنے مفادات کے مناسبت سے اس کا استعمال بھی جانتی تھی۔کبھی وہ کل کی بات کو دھڑلے سے بھولتی تھی تو کبھی دس سال پرانی بھی کل کی طرح یاد رکھتی ۔ اس کا میموری کارڈ مارواڑیوں کے بہی کھاتوں کی طرح کرشمہ ساز تھا ۔ کیا اور کتنا یادرکھاجاے یہ اس کی ترجیحات طئے کرتی تھیں۔ اور اس کےیادداشت کے غیر یقینی طازیانے اکثر و بیشتر گھر کے ملازموں پر پڑتے رہتے تھے۔

گھر کاسرغنہ عبداللہ الآفندی پچاس کے پیٹے میں تھا ۔ وہ روایتی عربوں سے ہٹ کے بڑا دبلا پتلا اور چاق و چوبند بندہ تھا۔اس کی معاشی حالات بھی ٹھیک ٹھاک تھی۔دکان سے مکان اورمکان سے دوکان یہ بھاگ دوڑ ہی اس کی جملہ مصروفیات تھی۔ چارنفوس پر مشتمل اس کے خاندان کا شمار شہر کے خوشحال گھرانوں میں کیا جاسکتا تھا۔ اورمیں اس گھر کی تمام زنانہ نفری کا اکلوتا ٹرانسپورٹ منسٹر——– یعنی ڈرائیورتھا۔

نورہ اور منیرہ کا کالج کے لئے گھر سے نکلناکسی فیشن شو کی تیاری سے کم نہیں ہوتا تھا۔ ا ن کے برقعے گوگل سرچ سایٹ سے الگ نہیں ہوتے تھے۔جن میں بندہ جب چاہے جو چاہے ڈھونڈھ لے۔اکثر وہ میرے پیچھے والی سیٹ پر ہی بیٹھتیں تھیں۔ ان کے سراپے سے اٹھنے والی رمبا اورعود کی ملی جلی خوشبومیری کھوپڑی پرکسی ڈھولک کی تھاپ کی طرح تواتر سے بجتی رہتی تھی۔ شہر کی سڑکوں پر اکثر رمبا کی خوشبو میرے پیچھےاور من چلی گاڑیوں کا ایک قافلہ اس کے پیچھےدوڑتا رہتا تھا۔ وہاں چاہنے والوں کی لمبی قطاریں ہوتی تھیں۔ اسکول اور کالج کے اوقات میں شہر کی تقریبآ تمام سڑکوں پر ریس کا یہی منظر عام ہوتا تھا۔

فوزیہ —- عبدالرحمن الشرقاوی کی بیٹی اور ان کی پڑوسن تھی ۔ حسن میں وہ بھی آفندیوں سے کم نہیں تھی۔ وہ نورہ کی بچپن کی دوست اور کلاس فیلو تھی۔ چنار سا لمبا قد، ستواں ناک، کالی بڑی بڑی جھیل جیسی آنکھیں جو چراپونجی کی وادیوں کےمماثل ہمیشہ بھیگی بھیگی اور سوئی سوئی رہتی تھیں۔ گالوں میں پڑنے والے گڑھے اس کےحسن کے پروفایئل کو مزید نمایاں اور جاذب نظر بناتے تھے۔ یہ کہنا مشکل تھا کہ زیادہ لوچ اسکی چلن میں تھا یا بدن میں اس کا زیادہ تروقت آفندیوں کہ بیچ ہی گزرتا تھا۔ پارکنگ لاٹس ، غلام گردشیں اور کرانے کی دکانیں اس کے جائے واردات تھے۔ وہ چاروں طرف اسکینڈلس کی ہوا چلانے میں ماہر تھی۔ نورہ جیسی فلرٹ تو وہ نہیں تھی۔تاہم پلکیں گرانے اٹھانے کا سلیقہ تھا، ترپ کی مینڈی دکھاکر بازی لوٹنے کا چسکہ تھا۔ایک بار تو اس نے میرے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ کیا تھا وہ تو بھلا ہو میرے اپنے دفاعی نظام کاکے جس نے گردن پر میرے سر کو ہنوز بناے رکھا تھا۔

کچھ دنوں بعد نورہ کے رشتے کی بات غلام گردشوں میں گونجنے لگی۔لڑکا غریب تھا سو موٹی رقم کی امید میرےکفیل کو نہیں تھی۔اگر دنیا کی دوسری قومیں مریخ پر انسانی زندگی کے امکانات پر ریسرچ کررہی تھیں چاند پر پلاٹنگ اور خرید و فروخت کی باتیں کررہی تھیں تو یہ قوم بھی پیچھے نہیں تھی یہ الگ بات ہیکہ یہ لوگ کولمبس کی طرح ہر روز عورت کی ذات میں چھپے ایک نئےامریکہ کی ہی کھوج میں لگے رہتے تھے۔ سو آج کل بھی یہی چل رہا تھا ایک نئی چلن کے تحت یہاں کسی بھی رشتے کے طئے ہونے سے پہلے عورتوں کے اخلاق اور کردار کی تحقیقات کے لئے ڈرئیور س اور خادماوں کے مشوروں کو معتبر حیثیت دی جارہی تھی۔گھر کے بھیدی بناکر ان سے رائے لی جانے لگی تھی ۔ مجھے پتہ تھا کہ کچھ دنوں میں نورہ کے ممکنہ رشتہ داربھی مجھ سے اس معاملے میں ضرور ملیں گے۔

*آج کل میں—- تم سے کچھ لوگ ملیں گے *ایک دن میرے کفیل نے میرے روم کے دروازے پر کھڑے ہوکر اعلان کیا۔ میں نے استفساریہ انداز میں اس کی طرف دیکھا تو وہ دوبارہ گویا ہوا۔

*نورہ کے رشتہ کی بات چیت چل رہی ہے سو وہ لوگ تم سے ملیں گے ، اس معاملے میں تحقیقات کے لئے * میں اب بھی خاموش نظروں کے سوالیہ نشان اس کی طرف پھینک رہاتھا۔

*کیا بتاوگے پھر* اس نے دوبارہ استفسار کیا۔

*یعنی وہی جو سچ ہے، لڑکی نیک ہے،صوم و صلاۃ کی پابند ہے، بے داغ کردار وغیرہ وغیرہ* میں نے بھی جیسا دیس ویسا بھیس کے مصداق منافقت سیکھ لی تھی۔

*نہیں— تمہیں اس کے بالکل الٹ کہناہے—– مظلب یہ کہ رشتہ بننے سے پہلے اسے توڑنا ہے* باپ کے منہ سے بیٹی کے رشتے کے لئے نکلنے والی اس طرح کی بات نے مجھے حیرت کے سمندر میں ڈبوڈالا۔ میرے دماغ میں سوالات کے کئی گھوڑے بیرک توڑ کر باہر نکلنے کو بے تاب تھے۔ ناقابل یقین ؟کیوں؟ کیسے-؟ مگر مجھے خود ہی اپنے ان سوالات کو اپنے ہی ذہن کے صندوق میں بند کر اس پر کنڈی لگانی پڑی۔کیونکہ دو بڑی بڑی نوٹوں کا دیو ہیکل تالہ میری زبا ن پر لگ چکا تھا جو از راہ رشوت میر ے کفیل کے جیب سے نکل کرمیری جیب میں منتقل ہوچکے تھے۔ دوسری طرف میری سچائی سے متاثر ہوکر بے پناہ پذیرائی کے لفافے میں بنددو مزید نوٹ لڑکے والوں کی طرف سےبھی ملے ۔ یہ اچھا سودا تھا ۔میں نے منافقت کے ساتھ ساتھ تجارت بھی سیکھ لی تھی۔ دوسری بار بھی جلد ہی ایک ایسا اور موقعہ آیا حالانکہ اس بار آفر کی گئی مہر کی رقم لاکھوں میں تھی۔اس لئے مجھے لگا کہ شاید اب کے عبداللہ مان جاے ۔ لیکن وہ نہیں مانا ۔ انہیں ٹالنے کا پروجیکٹ ایک بار پھر مجھے ملا۔اہمیت ملنے والے پیسوں کی ہوتی ہے اب چاہے وہ پذیرائی کے لفافے میں ملے چاہے حیرت کے کور میں بند۔اب کے بھی مجھے انہیں خدمات کو دھرانے کے پیسے ملےاور زیادہ ملے۔

کچھ دن بعد تیسرا موقعہ آیا ۔ میں پراجیکٹ اور لفافوں کا منتظر تھا۔لیکن شاید حالات اب دوسری نہج پر گامزن تھے ۔ شایدیہاں معاملہ دوسرا تھا۔ دولہا کے بارے میں خاصی رازداری برتی جارہی تھی ۔ غلام گردشیں بھی دولہے کے محل وقوع کے بارے میں خاموش تھیں ۔ دیواروں کے کان بھی اس وقت گونگے اور بہرے بنے ہوئے تھے ۔ دو ہفتے بعد دو خاندان میں دو نکاح ہوئے۔ ایک آفندی کا تو دوسراشرقاوی کا ۔یعنی ایک نورہ کا تودوسرا فوزیہ کا ۔ ان دو شادیوں سے ابھرنےوالی صورتحال نے مجھےپہلے ٹھکرائے گئے ان دو پرانے رشتوں کی نہ صرف یاد دلائی بلکہ ٹھکرائے جانے کا مطلب بھی سمجھاگئیں۔ اور ان شادیوں کے نتیجے میں رشتوں کی جونئی گرافک ڈیزائین زندگی کی کینوس پر ابر کر آئی تھی وہ بھی بیک وقت خاصی مضحکہ خیزاور عبرت ناک تھی۔ کل تک نورہ اور فوزیہ جو آپس میں دوست اور پڑوسن تھیں آج بیک وقت ایک دوسرے کی ماں بھی بن گئیں اور بیٹیاں بھی۔ جس کے سائیڈ افیکٹس کے طور پر یہ کہنا ضروری نہیں تھا کہ آفندی اورشرقاوی جوکل تک صرف ہمسائے تھے آج بیک وقت ایک دوسرے داماد بھی تھے اور سسر بھی۔

اس نئی صورتحال اور افرا تفری میں میرے تجربے اور خودساختہ دفاعی نظام نے عندیہ دیدیا تھا کہ معاملہ اب خطرے کے نشان سے اوپر پہنچ چکاہے ۔ لہذا اس کے چلتے میرےیہاں سے کوچ کرنے میں ہی میری عافیت تھی ویسے بھی اس نئی صورتحال میں میں ایک کی نہیں دو ڈرائیوروں کی جگہ بنتی تھی۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

شیطان محمد نواز۔ کمالیہ پاکستان

پاکستانعالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 96 محمد نواز۔ کمالیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”یہ انسان نہیں شیطان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے