سر ورق / کالم / شکیل عادل زادہ کی رائیگاں زندگانی اور ڈائجسٹ قاری … خرم شہزاد

شکیل عادل زادہ کی رائیگاں زندگانی اور ڈائجسٹ قاری … خرم شہزاد

شکیل عادل زادہ کی رائیگاں زندگانی اور ڈائجسٹ قاری

خرم شہزاد

            آپ سب کو شائد عجیب لگے لیکن شکیل عادل زادہ سے میرا پہلا تعارف کسی کہانی یا ڈائجسٹ کے ذریعے نہیں ہوا تھا بلکہ برسوں پہلے مجھے ایک شادی کارڈ دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں بجائے سیدھے سادے انداز میں شادی کی دعوت ہو ، دولہا اپنی محبتوں کا ذکر کر رہا تھا ، پڑھ کر عجیب لگا کہ یہ کیسا شادی کارڈ ہے اور یوں شکیل عادل زادہ کا نام میری یاداشت کے کسی خانے میں محفوظ ہو گیا۔ خان آصف وہ دوسرے شخص تھے جنہوں نے شکیل عادل زادہ کا نام لیا اور اسے سارے لکھاریوں پر گراں قرار دیا تو خواہش ہوئی کہ پتہ کریں آخر یہ شکیل عادل زادہ کون ہے اور کیا لکھتا ہے۔کیسا لکھتا ہے کے بارے جاننے کی کبھی آرزو نہ ہوئی کیونکہ ہر شخص کی اپنی ایک پسند ہوتی ہے اور ہر شخص اپنی پسند کے حساب سے جواب دیتا ہے ، اسی لیے زندگی میں کبھی کسی لکھاری کے بارے میں کسی دوسرے شخص کی رائے پر کان نہیں دھرے۔ بہت شوق اٹھے تو خود پڑھنے بیٹھ جاتے ہیں اور پھر اپنی رائے کو بھی دوسروں کے سامنے بیان کرنے سے کتراتے ہیں۔ خیر بات ہو رہی تھی شکیل عادل زادہ کے بارے معلومات کی، ادھر ادھر سے پتہ چلا کہ ڈائجسٹوں میں لکھتے ہیں اور کمال لکھتے ہیں۔ خود کا ایک ڈائجسٹ بھی نکالتے ہیں اور اپنی مرضی سے ہی نکالتے ہیں لیکن ان کے لکھے کے شیدائی اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ ڈائجسٹ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو کیوں نہیں پہنچا بلکہ کب کبھی دو تین چار ماہ بعد چھپ جائے تو بھی ہاتھوں ہاتھ مارکیٹ سے اٹھا لیتے ہیں۔ عام ڈائجسٹوں کا یہ المیہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر وہ ایک سے دوسرے ماہ دیر سے مارکیٹ پہنچے تو قاری ناراض ہونے لگ جاتے ہیں اور اگر ڈائجسٹ اپنی ڈگر نہ بدلے تو قاری ڈائجسٹ ہی بدل لیتے ہیں لیکن شکیل عادل زادہ پر قدرت کی یہ خاص مہربانی تھی کہ لوگ اس کی کہانی اور ڈائجسٹ کو پڑھنا باعث فخر سمجھتے تھے ۔ دوسرے لفظوں میں سب رنگ اپنے زمانے میں ایک برینڈ تھا اور اس کے قاری ممتاز حیثیت کے دعویدار تھے۔ پہلے پہل یہ سب کسی کہانی جیسا لگا تو اس کی وجوہات جاننے کے لیے ہر ایک سے سوال کرنے لگے۔ پتہ چلا کہ شکیل عادل زادہ خود کہانی لکھتے ہیں اور جب تک اس سے پوری طرح مطمئن نہیں ہو جاتے ، اشاعت کی اجازت نہیں دیتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے ڈائجسٹ میں عالمی ادب سے انتخاب شائع ہوتا ہے اور ڈائجسٹ کی دیر سے اشاعت یا غیر حاضری کے بارے ان کی رائے تھی کہ اس بار عالمی ادب میں ایسا کچھ ملا ہی نہیں کہ جو میرے معیار پر پورا اترے اور ڈائجسٹ میں اشاعت کے قابل ہو۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں، کبھی آمنے سامنے کوئی بات ہوئی نہ ایسا کوئی موقع بنا کہ ان تمام باتوں پر ان سے بھی رائے لیتے۔ یہ شکیل عادل زادہ کی شخصیت سے آخری تعارف تھا کہ اب برسوں سے شکیل عادل زادہ لکھنا چھوڑ چکے ہیں اور ان کا ڈائجسٹ بھی ماضی کی ایک کہانی میں بدل چکا ہے لیکن ایک پھانس ہے جو اندر کہیں موجود ہے ، کچھ سوال ہیں جو جواب چاہتے ہیںیاں شائد اظہار چاہتے ہیں۔

            شکیل عادل زادہ کتنے بڑے لکھاری ہیں ، میری رائے یا میرے چند جملے اس بات کا احاطہ کرتے ہوئے ایک فضول حرکت لگے گی کیونکہ اردو ادب کا ہر بڑا نام جس کے مقام کا قائل ہو ، اس شخصیت کے بارے کچھ لکھ کر اپنی خود نمائی کے سوا کچھ نہیں کیا جا سکتا ۔ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے بہت سے لکھاری شکیل عادل زادہ سے اپنے ایسے ہی تعلقات کی کہانیاں سنا کرداد سمیٹنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں یا پھر سستی شہرت کی چند سیڑھیاں چڑھ لیتے ہیں۔ ہر تیسرا معروف شخص اس بات کا دعوا کرنے بیٹھ جاتا ہے کہ ابھی شکیل عادل زادہ کے قدموں سے اٹھ کر آ رہا ہوںاور کاغذ قلم خود ان کے ہاتھ میں پکڑا کر آیا ہوں کہ اپنی کہانی کو مکمل کریں لیکن لگتا ہے کہ شکیل عادل زادہ بھی صادقین کی طرح اپنے شہکار کے ادھورے پن کو اس کا حسن قرار دلوانے پر مصر نظر آتے ہیں۔

            ماضی اور شکیل عادل زادہ کے رومینس سے ذرا باہر نکل کر جب میں آج کے ڈائجسٹ اور قاری دیکھتا ہوں تو بے اختیار سوچنے لگ جاتا ہوں کہ برسوں اعلیٰ معیار کے عالمی اور علاقائی ادب کو شائع کرنے والے سب رنگ کے قاری کہاں گئے؟ مہینوں سب رنگ صرف اس لیے شائع نہیں ہوتا تھا کہ معیار پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا اور عالمی ادب میں ایسا کچھ نہیں ملا جسے شائع کیا جا سکے، تو اُس آسمان کو چھوتے معیار کو پڑھنے والے قاری آج کل کی کہانیوں سے کیوں اپنی پیاس بجھا رہے ہیں؟ بلا شبہ شکیل عادل زادہ کا معیار بہت اونچا تھا لیکن جن قارئین کے لیے وہ آسمانی معیار ڈھونڈ کر لاتے تھے، وہ افراد تو اسی معاشرے میں رہنے والے عام سے لوگ ہیں جو کل بھی ہر طرح کا لکھا پڑھ لیتے تھے اور آج بھی غیر معیاری بلکہ ہر طرح کا لکھا پڑھ لیتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ پھر کس لیے سب رنگ اور شکیل عادل زادہ نے اتنی مشقت اٹھائی ؟ ویسے یہ رائے بھی ہو سکتی ہے کہ ہر ڈائجسٹ کو بیچنے کا کوئی گر ہوتا ہے اور سب رنگ کے لیے آسمان کو چھوتے معیاری ادب کا الوژن تخلیق کیا گیا اور قاری اس کا برسوں شکار رہے۔ اس سے مختلف یہ صورت حال بھی ہو سکتی ہے کہ شکیل عادل زادہ خود ایک الوژن کا شکار تھے اورسمجھتے تھے کہ شائد وہ کوئی بہت بڑا کام کر رہے ہیں حالانکہ جن لوگوں کے لیے وہ یہ سب کر رہے تھے وہ تو آج بھی سامنے پہاڑی پر موجود ایک خزاں رسید درخت کی جھاڑیوں میں پھنسے سرخ کپڑے پر موجود پیلے پھولوں کو دیکھ کر جذبات کی رائی کے پہاڑ بنا لیتے ہیں۔

            بات جو بھی ہو ، بہانہ جیسا بھی ہو لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ ایک بہت بڑا لکھاری اپنی عمر رائیگاں کر گیا۔ وہ لوگوں کی جیسی تربیت کر نا چاہتا تھا وہ ممکن نہ ہو سکا۔ سب رنگ کے قاری کا جو خیال شکیل عادل زادہ کے دماغ میں تھا اس پر قاری پورا نہ اتر سکا اور اپنی اسی کوشش میں وہ اپنی عمر رائیگاں کرتے چلے گئے۔ شائد بہت بعد میں انہیں خود بھی احساس ہوا کہ آسمان کو چھوتے معیار کے عالمی ادب کے انتخاب کا کوئی فائدہ نہیں کہ پڑھنے والا برسوں بعد بھی سرخ کپڑے کے پیلے پھولوں سے آگے نہیں بڑھ پایا ہے اور اسی لیے انہوں نے لکھنا چھوڑ دیا ۔ اب جو ہر دوسرا تیسرا شخص یہ خوشخبری دیتا ہے کہ شکیل عادل زادہ اپنی کہانی مکمل کرنے پر راضی ہو گئے ہیں ،یہ کہانیاں ہیں اور اپنی دانست میں لکھاری بنے شخص کی کہانیوں جیسی کہانیاں ہیں، فضول بیکار اور بنا سر پیر کے لیکن ان کہانیوں سے پرے ایک بہت بڑے لکھاری کی رائیگاں زندگانی کاافسوس ہے جو اس کی اپنی کہانی کی طرح کبھی ختم نہ ہو سکے گا

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

فیصل سعید ضرغام سے ملاقات * صفیہ شاہد

ینگ ویمن رائٹرز فورم اسلام آباد چیپٹر کی کابینہ نے علم و ادب کے میدان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے