سر ورق / افسانہ / ایک اور ہجرت احسن عالم بہار، انڈیا

ایک اور ہجرت احسن عالم بہار، انڈیا

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر115

ایک اور ہجرت
احسن عالم
بہار، انڈیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دومہینے کی چھٹی کا آج آخری دن تھا اور بچوں کے ساتھ آخری ناشتہ بھی ، گھر کی دہلیز پار کی تو پھر دوسال بعد ہی لوٹونگا یہ سوچ کر آج آلو کے پراٹھے کا ذائقہ بھی سعودی عرب کے سوکھے خبز کی طرح لگ رہا تھا ، روز کی طرح آج سب کے چہرے کِھلے ہوئے نہیں مُرجھائے ہوئے تھے ۔

آج گھر میں چہل پہل نہیں سب اداس تھے سوائے چھوٹے بیٹے کے جو ہاتھ میں غبارہ لئے کھیل رہا تھا جس کو ابھی یہ نہیں معلوم کہ ہجر کیا ہے ، پردیس کیا ہوتا ہے ، اپنوں سے بچھڑنے کا غم کیا ہوتا ہے وہ ان تمام باتوں سے ناآشنا ہاتھ میں غبارہ لئے مجھ سے اس بات کی ضد کئے جا رہا تھا کہ میں بھی جہاز پر بیٹھونگا ۔

میں بھی آپ کے ساتھ چلونگا میں اس کے معصوم سوالوں پر نادم ، اپنی مجبوریوں پر ماتم کناں دسترخوان پر بیٹھا اسے روٹی کے ٹکڑوں سے بہلا رہا تھا ، کھلونوں میں الجھا رہا تھا ، جیب میں پڑے چند سکے دیکر خوش کر رہا تھا لیکن آج وہ بھی اپنی ضد پر اسی طرح اڑا تھا جیسے میری مجبوری مجھے سعودی لے جانے پر اڑی تھی۔

دل میں سوچ رہا تھا کاش میں اسکو اپنے ساتھ لے جا سکتا ، کاش میں جاتا ہی نہیں بچوں کے ساتھ ہی رہتا لیکن ہرخواہش کی تکمیل اور ہر خواب کی تعبیر کہاں …. میرے ساتھ جڑے نصیب اور ذمہ داریوں کے بیچ جذبات کی گنجائش کہاں … اللہ کے فیصلے پر سر تسلیم خم اپنے جذبات کو ناشتے کے ہر نوالے کے ساتھ اتار رہا تھا ۔

اور ابھی ناشتے کی پلیٹ میں آخری لقمہ بچا ہی تھا کہ باہر ببلو کی کار ہارن بجاتے ہوئے مجھے لے جانے کے لئے آ پہونچی کار کی آواز میں اس قدر سوز اور ہارن میں ہجرت کی ایسی وحشت تھی کی آخری لقمہ حلق سے نا اتر سکا ، بیگ اٹھانے کے لئے جیسے ہی ہاتھ بڑھایا کونے میں کھڑی بیٹی کے اس سوال نے کی ۔

ابو پھر کب آئینگے” دل کو چھلنی کر گیا ، میرا ضبط ٹوٹتا تو پاس میں کھڑی ماں ، بہن ، بیوی کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب اُمڈ پڑتا ، اپنے آنسووں کو پی کر ، غموں کو چھپا کر بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے زبان سے صرف اتنا کہہ کر باہر نکل گیا کہ جلد ہی ۔۔۔۔ بیٹی کو خوش رکھنے کے لئے میری زبان سے نکلا ہوا یہ ایک ایسا سفید جھوٹ تھا جس کو صرف میرا دل جانتا تھا ۔

اماں میرے سامنے تو نہیں روتیں لیکن میرے جانے کے بعد یہ کہہ کر رو پڑتیں کہ میرا بیٹا ہربار یہ کہہ کر سعودی واپس چلا جاتا ہے کہ یہ آخری سفر ہے لیکن ہر سفر پر ضرورت اپنا منھ کھولے ، ہاتھ پھیلائے ، سینہ تانے ایسے کھڑی ہوتی ہے کہ مجبور ہوکر پھر وہ اسی اداس سفر پر لوٹ جاتا ہے ۔

سعودی عرب کی کمائی سے گھر کی تنگی مٹی تو چھت کا سلیب باقی تھا ، سر پر چھت ہوئی تو جوان بہن کا نکاح باقی تھا ، بہن کا گھر بسا تو بھائی کی تعلیم باقی تھی بھائی پیروں پر ہوا تو باپ کا علاج باقی تھا پرانی ذمہ داریوں کی تکمیل کے بعد تھوڑی سی مہلت ملی تو میرے سر پر ہاتھ رکھ کر قسم کھایا کہ اماں اب یہ آخری سفر ہوگا ۔

دوسال بعد جب لوٹا تو ایک نئی ذمہ داری کو بالغ ہوتے دیکھ کر قَسم توڑ دی کی اماں بیٹی بڑی ہورہی ہے اسکے نکاح کے لئے پھر جانا ہوگا اس کی اس بے بسی اور قربانی پر کلیجہ پھٹ گیا کہ اس بار وہ حلوے کی جگہ صرف اپنی دوا لے گیا ۔

اچار کی جگہ صرف سیرپ لے گیا یہ کہتے ہوئے کہ اماں شوگر ، بلڈ پریشر اتنا زیادہ ہے کہ اب حلوے کی نہیں دوا کی ضرورت ہے میرے بیٹے کی اس تیس سالہ جدو جہد کے باوجود بھی نہ اس گھر کی ضرورت پوری ہو سکی اور نہ ہی میرے بیٹے کی آخری سفر کی حسرت ……سعودی عرب جانے کے بعد گھر کی پوری کیفیت بیگم ہمیشہ مجھے لکھ بھیجتیں ۔

اس لئے مجھے پتا تھا کہ اماں اس بار بھی ہمیشہ کی طرح روئی ہونگیں ، بچے اداس ہونگے ، میرے چھوڑے ہوئے سامان کو سمیٹتے ہوئے بیوی تڑپی ہوگی ، گاؤں ، گھر ، بیوی ، بچے ، اماں ، ابا کی انھیں تمام باتوں کو یاد کرتے ہوئے کب دهلى پہونچ گیا ۔

پتہ ہی نہیں چلا ایئرپورٹ پہونچ کر سامان کو لگیج میں ڈالنے کے بعد کسٹم آفیسر کے سامنے پاسپورٹ لیکر کھڑا ہوا اور وہ اپنے چشمے کے اوپر سے مجھ پر ایک تحقیقی نظر ڈالتے ہوئے پاسپورٹ پر اس شدت سے مہر لگائی جیسے کسی جج نے ایک لبمی سنوائی کے بعد سزا سنانے ہوئے اپنی قلم توڑ دی ہو اور اس آخری مرحلے اور فیصلے کے بعد واپسی کے سارے راستے بند ہو گئے ہوں۔

ایک سزا یافتہ مجرم کی طرح ہاتھوں میں پاسپورٹ اٹھائے بوجھل قدموں سے فلائٹ میں جا بیٹھا ، ملک چھوڑنے سے پہلے جیو سم سے آخر فون کرتے ہوئے بیگم اور اماں کو خدا حافظ کہتے ہوئے سیٹ بیلٹ باندھ لیا لیکن بیگم کا آنسووں میں بھیگا ہوا لہجہ اور اماں کی بیٹھی ہوئی آواز یہ ثابت کر گئی کہ ہجرت ۔۔۔ وقت کا دیا ہوا ایسا زخم ہے جو بھر بھی جائے تو اپنا نشان چھوڑ جاتا ہے ۔

کیونکہ ہجرت ہمیشہ وجود کی ہی ہوا کرتی ہے دل اور رشتے کبھی ہجرت نہیں کرتے یہ اپنی زمین ہی میں پیوست رہتے ہیں بلکہ ہجرت کے بعد ماں ، باپ ، بیوی ، بچے گھر بار ، گاوں ، ملک سے محبت کا رشتہ اور بھی گہرا ہو جاتا ہے ، اور اس قدر گہرا ہوتا ہے کہ گلی کا وہ پتھر بھی عزیز لگتا ہے جس سے انگلیوں کو ٹیس لگی ہوتی ہے۔

سعودی عرب پہونچتے ہی آنکھو کی ساری رنگت سارے نظارے ساری ہریالی صحرا میں بدل گئی ، پھر سے وہی زندگی شروع ہوئی جسے چھوڑ کر گیا تھا عربیوں کی وہی تعال و سرعۃ ، وہی دال و کبشہ دو سال کا مقدر بن گیا پورا ہفتہ تو کام میں گزر جاتا لیکن جمعہ کو روم کی تنہائی ڈسنے لگتی ۔

آج شام کو بچوں کی اس قدر یاد آئی دل ایسا گھبرایا کہ روم سے باہر نکلا اور سمندر کے کنارے جا بیٹھا کہ شاید سمندر کی لہروں میں کھو کر کچھ غم کو ہلکا کر سکوں .. شام ڈھل چکی تھی ۔۔۔۔ اس اداس شام میں سمندر کے کنارے ریت پر بیٹھا سمندر کی لہروں کو ساحل پر سر پٹکتا دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا ۔

کہ یہ بھی میری طرح غم تنہائی کا ماتم اور ہجر کا شکوہ کر رہی ہیں ۔۔۔ یہ بھی پردیسی مسافرکی طرح سمندر میں میلوں کا سفر طے کرکے موجوں سے لڑتے ہوئے ساحل سے ٹکراکر اپنا وجود اسی طرح خاک میں ملا رہی ہیں جس طرح ایک پردیسی سات سمندر پار آکر مجبوریوں اور ضرورتوں سے لڑتے ہوئے اپنا وجود مٹی میں ملا دیتا ہے۔

ساحل پر سر ٹکراتی ان لہروں اور ہواؤں سے اٹھنے والی آواز میں ایسا سوز و غم تھا جیسے کوئی ماں اس درد سے کراہ ہی ہو جسکے بے گناہ بیٹے کو زعفرانی بھیڑ نے پِیٹ پِیٹ کر مار دیا ۔سوچا تھا ساحل سمندر جاکر اسکی ٹھنڈی ہواؤں اور اسکی بل کھاتی لہروں سے لطف اندوز ہوکر غمِ تنہائی کو کچھ کم کر سکونگا ۔

لیکن یہاں کی اداس شام اور سرپٹکتی لہروں نے میرے غم کو اور بڑھا دیا گھبرا کر وہاں سے اٹھا روم پر واپس آیا بیوی کو فون لگایا تو چھوٹا بیٹا ابو ۔۔۔ ابو کہہ رو رہا تھا گھر سے نکلتے وقت ایک جھوٹ بیٹی سے بولا تھا کہ جلد ہی آونگا اور اب دوسرا جھوٹ بول کر بیٹے کو بہلا رہا ہوں کہ بازار سے آپ کے لئے کھلونا لینے آیا ہوں۔

اس معصوم نے میرے اس جھوٹ کو سچ سمجھ کر اپنا آنسو پوچھ لیا اور آج وہ ایک سال سے میری راہ تکتے ہوئے اپنے کھلونے کے انتظار میں بیٹھا ہے باہر رکنے والی ہر گاڑی کی طرف دوڑ کر آتا ہے اور پھر مایوس واپس لوٹ جاتا ہے۔

اور وہ باپ ہے کہ لوٹنے کو تیار نہیں ، معصوم بیٹے کی مایوس آنکھوں کو سوچ کر دل خون کے آنسو روپڑتا ہے ، ہائے رے میری مجبوری کہ بیٹا جھوٹ کو سچ مان کر کھولنے کے انتظار دوسال گزار دیتا ہے اور باپ اپنی مجبوری ۔۔۔۔ اس بار جب گھر گیا تو سعودی عرب کی تپتی ریت اور بیماریوں نے اس قدر نچوڑ لیا تھا کہ آنے کی ہمت نہ کر سکا ۔

جو کسی سے نہیں ہارتا وہ دکھ سے ہار جاتا ہے ، مہنگی دوائی ، بڑھتی مہنگائی کے مد نظر لوگوں نے علاقائی روایت کے مطابق مجھے بھی یہی مشورہ دیاکہ بیٹے کوٹکنیکل ٹریننگ دلا کر ٹیکنیشین بنا کر سعودی عرب بھیج دو اس سے دکھ دلدر بھی دور ہوجاٸینگے ۔تم بھی گھر پر آرام سے باقی زندگی گزار سکوگے “ لیکن سعودی سے نکلتے وقت میں اس روایتی کشتی کو اس خوف سےجلا کر آیا تھا ۔

کہ میرے بعد کہیں یہ کشتی میرے بچوں کے ہاتھ نہ لگ جائے اس لئے اب پردیس لوٹنے کا تو کوئی سوال نہیں تھا لیکن مجبوری اور ضرورت پھرکہیں میرا ایمان نہ توڑ دے اس خوف سے پھرمیں نے اپنے عزم کو چٹانوں سی مضبوطی دی سعودی جانے والے مشورے اور خیال کو اپنے دل و دماغ سے خرچ کر نکال دیا ۔

بیماریوں اور پریشانیوں سے سمجھوتا کیا ، ضروریات کو کم کیا ، بیٹے کی تعلیم کو فوقیت دی اسکو ہر چیز پر مقدم رکھا یہ اسی کا نتیجہ تھا آج میرا بیٹا میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم مکمل کر کے گھر آ رہا تھا بیٹے کی آمد اور ڈاکٹر بننے کی خوشی میں مکان کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا ۔چاروں طرف خوشی کا عالم تھا اسکی ماں نے ایک چھوٹی سی پارٹی رکھی تھی جسمیں پروسی ،قریبی رشتہ دار اور دوست احباب مدعو تھے اور میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اگر اسوقت میں اپنی پریشانیوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کےلٸے بیٹے کو تعلیم کے بجاۓ ٹیکنیشین بناکر سعودی عرب بھیج دیتا تو شاید یہ بھی آج میری طرح کسی سمندر کے کنارے بیٹھ کر اپنی مجبوری اور تنہاٸ کا شکوہ کرتا ،بیوی بچوں کی محبت و قربت سے دور شبٍ تنہاٸ کاٹتا اور پھر اپنی تنہاٸ کا رونا روتا
میں ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک سرخ رنگ کی لمبی کار گھر کے دروازے پر لگ گٸ ۔میرے بیٹے کے ساتھ ایک اجنبی لڑکی بھی نیچے اتری ۔میں حیرانی سے دیکھ ہی رہا تھا کہ بیٹا سامنے آکر سلام کرتے ہوۓ بولا ٰ” ابا یہ آپکی بہو ڈاکٹر دلکش ہے ۔ہملوگ اگلے ہفتے ملازمت کےلۓ سعودی عرب جارہے ہیں ،اس لۓ جلدی میں نکاح کرنا پڑا

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بالغ عورت شکیلہ رفیق ۔ ٹورنٹو ، کینیڈا

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 141 بالغ عورت شکیلہ رفیق ۔ ٹورنٹو ، کینیڈا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے