سر ورق / افسانہ / قوسین ارشداقبال (مرادآباد — انڈیا)

قوسین ارشداقبال (مرادآباد — انڈیا)

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر 106

قوسین

ارشداقبال (مرادآباد — انڈیا)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عابد کاپچھلا کچھ عرصہ ،اُس کی طبیعت پر گراں گزراتھا۔ اس نے عجیب قسم کی بے چینی محسوس کی تھی اور اپنے گرد و پیش کی ہر شئے میں ایک بھید محسوس کررہاتھا ۔

ماحول میں غیرمعمولی اداسی، آسمانوں کا بے کیف رنگ،جیسے سیاہ بادلوں نے ،نیلگوں سایوںکو اپنے اندھیروں میں ڈھانپ دیاہو۔

چاند ستاروں نے روشنیاں سمیٹ لی ہیں،آفتاب معمول سے زیادہ آگ برسانے لگا ہے۔

سبزکوہسار جل کر اپنی خوبصورتی کھو بیٹھے ہیں،ہرے بھرے جنگلات خاکسترہوکر چاروں طرف اڑ نے لگے ہیں۔

چرند پرند،مرغ زار، سبز میدان،پھول اور ثمرات کی تازگی ختم ہوتی جارہی ہے ۔

مست خرام ندیاں دامنِ چمن کو چومنے اور سبزئہ خوابیدہ کو چھیڑکرجگانے سے رک گئی ہیں اور جیسے جھیلوں کی گہرائی ، احساس کی لاشوں سے پاٹ دی گئی ہے۔

جب اُس کا وجود کسلمندی کے بوجھ سے نڈھال ہونے لگا تواُسے نرم بستر میں کشش محسوس ہوئی ،وہ لیٹ گیا اور کروٹ لیتے ہی، نیند کے مضبوط بازﺅں نے گرفت میں لے کر دوسری دنیامیں منتقل کردیا اور خوابوں کے لامحدود سلسلے شروع ہوگئے ۔

دُنیا کی چمک دمک، سائنسی ترقیات، بھاگتی دوڑتی زندگی کی بے کیف گہما گہمی سے وہ اُوب چکا تھا ۔ اس کے ذہن کی سطح پراب آئن سٹا ئن کے بچپن کازمانہ کسی خیرہ چشم فلم کی مانند پیش ہونے لگا تھا۔

آئن سٹائن ۔۔۔۔۔

آئن سٹا ئن جیدائشی طورپر آٹزم(Autism) کی بیماری کے سبب بولنے اور لوگوں سے میل جول رکھنے سے معذور ہے ۔ اپنے ٹوٹے پھوٹے، بے ربط الفاظ میں مدعا بیان کرتاہے ۔ ماں کچھ بھی سمجھنے سے قا صر ہے۔ اکثر اس کی ماں دلجوئی کے لیے مہمانوں سے متعار ف کراتی ہے لیکن اُسے ملنا جلنا پسند نہیں ہے۔ وہ آنکھیں چرالیتا ہے۔اپنے معمولات میں دوسروں کی دخل اندازی سے بیزار،صرف اپنے آپ میں گم سم آئن سٹائن !

آئن سٹائن نوں سال کی عمر تک بولنے کی صلاحیت سے محروم رہتاہے،پھر ایک دن ڈائننگ ٹیبل پر رکھے سوپ کا پہلا چمچہ منہ میںڈالتے ہی وہ معجزانہ انداز میں بلک جاتاہے:

سوپ بہت گرم ہے “

اُس کے والدین خوشی سے اُچھل کر مسرتوں میں نہا جاتے ہیں۔ ماں سوالیہ نظریں گاڑھ کر بیٹے سے دریافت کرتی ہے کہ ایسے الفاظ تم نے پہلے کیوں نہیں بولے ؟وہ ماں کی طرف دیکھ کرمتجسس انداز میں جواب دیتاہے :

” اس سے پہلے ہر چیز نارمل تھی….“

اِس سے پہلے ۔۔۔۔

عا بد کوبھی ہر چیز نارمل محسوس ہوئی تھی لیکن اب کچھ بھی نارمل نہیں ہے۔ آنکھوں کے سامنے سیاہ دھویں کے مرغولے ،شخصی آزادی اورہر شے کو محصور کرنے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں ۔

عابد محسوس کر رہا ہے، سیاہ دھویں کے مر غولے اُس کی خواب گاہ تک رسائی حاصل کر چکے ہیں ۔

خواب کے مضر اثرات اس کی طبیعت پر اِس طرح ثبت ہوئے کہ اس کے وجودمیں رنج و ملال کی شدید لہریں دوڑ گئیں، سیاہ دھویں کے خوفناک سایوں نے اُس کی بے چینی میں اضافہ کردیا!

وہ ایک جھر جھری کے ساتھ اٹھ بیٹھا اور روزکی طرح سیاسی دوستوں کے ساتھ کافی ہاﺅس میں جابیٹھا،گپ شپ ہوئی ،مختلف موضوعات پرگفتگو بھی جب موضوع بدلا اورموجودہ ملکی وعالمی سیاست زیرِ بحث آئی تو کئی المناک واقعات عابدکے تحت الشعور سے شعور کی طرف سفر کرنے لگے،معصوم ونابالغ لڑکیوں کی اجتماعی عصمت دری،ان کے بہیمانہ قتل، دہقانوں کادرختوں پر لٹک کردنیاوی زندگی کے فریبوں سے نجات حاصل کرنے کے تذکروں کےساتھ سیاسی جبر کی داستانیں بناکسی کلائمکس کے،ایک منظر کی طرح دوڑگئیں

اُس کے دماغ میں ایک غیر معمولی سوال نے اُسے تذبذب میں مبتلاکردیا تھا!

آئن سٹا ئن کا وہ جملہ کہ پہلے ہر چیز نارمل تھی ،لیکن وہ محسوس کررہاتھا کہ اب کچھ بھی نارمل نہیں ہے ۔ اُس کے ذہن کی سطح پرسوالات کا انبار تشکیل پاکر قوسین میں جمع ہوتاجارہاتھا۔

”کچھ بھی نارمل نہیں ہے۔“

وہ سوچتا ہوا بھاری قدموں سے گھر لوٹ آیا اور بستر پر ڈھیرہوتے ہی کرب انگیز لہریں اُس کے وجود میں دوڑنے لگیں وہ کروٹیں بدلتا رہا، خواب نے جیسے مقناطیسی زندان میں جکڑلیاہو۔

اس کی آنکھوں میںکافی ہاﺅس کا منظرگھومنے لگا، وقت گزاری کے لیے، بے نیاز لوگوں کا آنا جانا، گفتگو کا بے ہنگم شور، فضاءمیں تحلیل ہوتے سگریٹ کے مرغولے اوراُس کے اپنے دوستوںکا جھرمٹ، اُن کی گپ شپ سنائی دینے لگی ۔

ایک دوست نے بہت دلچسپ انکشاف کرتے ہوئے ہولناک جنگ کی طرف اشارہ کیا تو دوسرے دوستوں نے اِثبات میںسروں کوخفیف جھٹکے دیئے

یہ اُس کا وہی ناکام و نامراد دوست ہے جو طویل مدت سے سیاسی جلسوں، جلوسوں میں اپنی جماعت کا سلوگن بلندکرتے ہوئے چاندی ہوچلا تھا۔سیاسی پنڈتوں کی سنگت نے اُسے ہر چال چلنا سیکھادی تھی۔ ٹیلی ویژن کی تفصیلی اورہر بریکنگ نیوز سے ہمہ وقت اپڈیٹ (update)رہتا اورتمام سوشل سائٹس پر ہونے والی ہلچل سے باخبربھی !

دوستوں کی گفتگو اور بحث و تکرار سن کر اس کے دل میں ہوک سی اُٹھی، جس سے اس کی بے چینی بڑھ گئی ، پھرایک جھرجھری کے سا تھ اس کی آنکھ کھل گئی، وہ شکست خوردہ، چاروںاطراف گھور کر دیکھنے لگا، کمرے میں کچھ بھی نارمل نہیں تھا۔کوئی بھی شے اپنی جگہ درست نظر نہیں آرہی تھی۔ کمرے کے مثلث گوشے میں بساند چھوڑ تا میلے کپڑوں کا ڈھیردیکھ کر اسے اپنے اندرون میں کریہہ آمیزعفونت پھیلتی محسوس ہونے لگی، بیڈ کے نیچے عنکبوتی جالوں میں لپٹا گاﺅ تکیہ گویا ما ضی پرستی کی داستان سنارہاتھا ،شکن آلود بیڈ شیٹ ،الگ کہانی بیان کر رہی تھی، جسے دیکھ کر اسے دل کے کینوس پر بے شمار شکنیں ابھرتی محسوس ہونے لگیں، باتھروم کی الگنی پر لٹکا بوسیدہ انڈروئیرپر نظرپڑتے ہی جیسے وہ خود بھی صلیب پر لٹک گیاتھا۔

عا بدنے لمحہ بھرکے لیے کمرے کی دیوارکی طرف دیکھا،وال کلاک کی اوٹ میں چھپکلی دم سادھے شکار کی منتظر تھی ۔ کیڑوں مکوڑوں کا ہجوم ،بلب کی زرد روشنی کے گرد رقص کر رہاتھا۔

وہ محسوس کر رہا تھا کہ کچھ بھی نارمل نہیںہے …. البتہ ملحق کمرے سے بچوں کے شورکی آوازیں مسلسل اُس کے کانوں میں آرہی تھیں ۔ گھر کے ننھے مننے اپنا پسندیدہ کارٹون چینل دیکھنے میں مشغول تھے ۔ کمرہ اُن کے معصوم قہقہوں سے گونج رہاتھا ۔ بڑی بھابی کچن سے جھانک کر”گھر گھر کی کہانی“ دیکھنے کے لیے بچّوں پر غرّا رہی ہیں تھیں ۔

وہ بھاری قدموں سے دوسرے کمرے میں داخل ہوا، سبھی بچے اُس کے چہرے پر غیر متوقع تناﺅکی لکیریں دیکھ کریکدم سہم گئے!

اس نے مضطربہ کیفیت ، چھپانے کی کوشش میں ،ریموٹ لے کر نیوز چینل لگایا ….

نیوز چینل پرانگریزی شراب کی بوتل میں ابھرتی اشتہا انگیز نیم برہنہ عورت تشہیری انداز میں انگڑائیاں لے رہی تھی، دیکھ کر اس کی پیشانی پرکراہیت آمیز شکنوں کا جال بچھ گیا! اس نے فوراًدو ایک چینل آگے پیچھے کیئے، دوسرانیوز چینل لگا یا، وہاں بھی بالوں کو سنہری کرنے والے محلول کا اشتہارختم ہوکر عورت کی’برا‘(Bra) کا اشتہار شروع ہوگیا، اور پھرسے اس کے چہرے کی سطح پر نفرت آمیز عبارت اُبھر آئی ،وہ جھنجلاتے ہوئے بچوں کا پسندیدہ کارٹون چینل لگاکر اپنے بیڈ پر آگیا ۔

اندرونی کشمکش نے اُس کے دماغ پر دباﺅ بڑھادیا تھا، وہ پھر سے بیڈپراوندھا لڑ ک گیا، آنکھیں موندتے ہی ثقل دماغ و جسم کے سبب گہری نیند نے پھر سے اپنے پر پھیلادیئے اورایک بار پھر وہ دوسری دنیا میں منتقل ہوگیا …. !

وہ ٹیلی ویژن کے پردے پر آنکھیں گڑھائے بیٹھاہے۔سکرین پر تھری پیس سوٹ میں ملبوس نیوز اینکر پوری طاقت سے چیخ رہا ہے ۔ سکرین پرجلی حروف میں باربارابھرتی تحریریںپڑھ کر اس کے سینے میں ہوک سی اٹھتی محسوس ہورہی ہے ۔

”بریکنگ نیوز ….!“نیوز اینکر یکدم چلّایا :

”آج کچھ بھی نارمل نہیں ہے …. ہر طرف ہاہاکار مچی ہے ۔“

وہ دیکھتے ہوئے محسوس کر رہا ہے کہ نیوز اینکر کے چہرے پر تنا ﺅ کے بجائے ، غیر معمولی خفیف مسکراہٹ بڑھتی جا رہی ہے ۔

”تازہ ترین اپڈیٹ کے مطابق ہمارے ٹیم رپورٹر نے اطلا ع دی ہے ،سرحد پرشدید گولاباری نے اچانک جنگ کی صورت اختیار کر لی ہے ، سر حدوں کے دونوں اطراف ، حالات انتہائی کشیدہ ہوچکے ہیں۔ فوجی سربراہ نے سخت بیان جاری کیا ہے ۔ وزیردفاع نے ہنگامی میٹنگ طلب کی ہے ۔“

وہ بستر پر کروٹیں بدلتا رہا ، مجرد تصویریں ابھرکر، اس کے ذہن کی سطح پر تشکیل پاتی رہیں ۔

چشم زدن میں سکرین پر منظربدلا،نیوز اینکر نے ملک کی عسکری قوت کا مظاہرہ شروع کردیا ہے ….

تصویر ایک بار پھر بدلتی ہے اور سکرین پر فوجی ٹینکوں کا بے ہنگم شور، مزائلوں کی فلک شگاف گڑگڑاہٹ اور جنگی طیاروں کا جھنڈ نظرآنے لگتا ہے ، آسمان پر بھیا نک آگ اور دھویں کے گہرے بادل پھیلتے دکھائی دینے لگے ہیں۔

نیوز اینکر سکرین پر پھر نمودار ہوا ،اور سنسنی خیزاندازمیںچیخا:

”وزیر دفاع نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے دشمن کوتباہ کن ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی دی ہے اور جوہری اسلح کا ستعمال بھی ممکن ہے۔“

عا بدنے اپنے اندر لرزہ خیز اور تناﺅ کی ایسی لہر دوڑتی محسوس کی جو صرف موت کواپنے مقابل کھڑادیکھ کر محسوس ہوسکتی ہے اور جسم کے تمام اعضاءسبوتاژہونے لگتے ہیں۔

وہ اپنے اندر کسمسانے لگا ۔۔۔

اس نے گھبراکر ریموٹ اُٹھا یا اور بٹن دباکر نیوزسریزکا دوسراچینل لگادیا، سکرین پراعلیٰ درجہ کے مضبوط وپائدارسیمنٹ کا اشتہارختم ہوتے ہی، صحت مند،خوبرو خاتون، درازبالوں کوشانوں پربکھیرے،ٹیلی ویژن کی سکرین پرظاہر ہوئی، اُس نے سیاسی کشاکش، کمیونل ٹکراﺅ، ملک میں بڑھتے جرائم اور نراجیت پسندعناصر پر سرسری روشنی ڈالتے ہوئے بالغ و نابالغ لڑکیوں اور عمررسیدہ خواتین کے ساتھ زنا با لجبر کے واقعات کی مختصرخبرسناکر تاسفی لہجہ اختیار کرلیا:

”ایک ہائی پروفائل عورت نے گھرکے نوکر کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کرنے کے بعد، عاشق سے مل کر شوہرکا قتل کا کردیا !پولیس دونوں کو سرگرمی سے تلاش کررہی ہے ۔“

پھر نیوز اینکر نے مندر ،مسجد ،مزارات ،لوجہاد، گھر واپسی،ایک نابغہ کا تصوویری تنازعہ اور کئی سیاسی چغد کے متنازعہ بیانات پر طویل ڈبیٹ شروع کردی ، جس سے عابد اکتا گیا، پھر اسے یاد آیا کہ اس کے پسندیدہ نیوز چینل پر ’نیشنل ایجنڈا‘کا وقت ہوچلاہے۔اس نے فوراً نیوز چینل تبدیل کیا….

’نیشنل ایجنڈا ‘نام کاپروگرام شروع ہو چکاتھا۔

خوبصورت اور بھرے ہوئے جسم کی خاتون اینکر قدرے سخت لہجے میں پینل میں نابغہ حضرات سے مخاطب تھی کہ ایک ابھرتے ہوئے طا قتور ملک کے سربراہ نے پہلی دنیاکے وسیع و بسیط ملک کے جدید شہروں کی طرف جوہری میزائل نصب کردئیے ہیں۔ پہلی دنیاکی بڑی طاقتیں، جوابی حملہ میں ایک نا معقول و نافرمان ابھرتی ہوئی قوت کو تباہ کن ہتھیاروں سے ختم کرنے کی دھمکی دے چکی ہیں ۔

یکبارگی تصویر بد لتی ہے ،سکرین پر عسکر ی ماہرین منکسرانہ ظاہر ہوتے ہیں :

” اس جنگ کے نتائج حددرجہ بھیانک ثابت ہوں گے اورنصف سے زائد دنیا کا خاتمہ ہوسکتا ہے ۔“ایک نے مذاکرہ شروع کیا،پھر دوسرابھی شامل ہوگیا:

”جی ہاں…. اگر پہلی دنیا کے ممالک نے جوہری اسلحہ استعمال کیا، تو اس میں دو آراءنہیں کہ انسانوں کی بڑی تعداد لقمہ اجل ہوجائے گی۔“

تیسرے نے ماضی قریب کے دوبھیانک سانحوںکی بد ترین مثالیں پیش کرتے ہوئے تصدیق کی….

تصویرایک بار پھربدلی اور سکرین پر بھیانک جنگ کا نقشہ پیش ہونے لگا، سر اٹھانے والی نافرمان نئی قوت کے لمبی دوری پر مار کرنے والے تباہ کن میزائیل، پہلی دنیا کے جدید شہروں کو مکمل تباہ کردیتے ہیں۔ ہر طرف لاشوں کے انبار، چیخ وپکار، افراتفری، روتے بلکتے بچوں کاروح فرسامنظر، منہدم عمارتیں،ملبہ ،آسمان پر گاڑھا دھواں اور آگ کی لپٹیں اورپھر پہلی دنیا کا خطرناک میزائلوں سے جوابی یلغار، فضاءمیں جنگی طیاروں کی خوفناک گڑ گڑاہٹ کے بعد یکدم خاموشی اورکمرشیل بریک….!

سب کچھ تھم چکاتھا….

گھبراکرعابد کی آنکھ کھل گئی، اس کا جسم پسینے میں تربتر، خوف سے کانپ رہا تھا۔ اس نے گھورکرچاروں اطراف دیکھا، البتہ سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ بچّے اسکول سے آکرکارٹون چینل دیکھنے میں مشغول تھے، پورا کمرہ معصوم قہقہوں سے معطر ہورہا تھا، بڑی بھابی کچن سے جھانک کر ”گھر گھرکی کہانی“ دیکھنے کے لیے بچّوں پر خوخیا رہی تھیں۔

وہ کمرے سے باہر آیا….

اُس نے دیکھا،پڑوسی خلاءمیں گوشت کے پارچے اُچھال رہا ہے، چیلیں نچلی سطح پر پروںکوپھیلائے فضاءمیں تیر رہی ہیں، گلی سنسان ہے، البتہ بالکنی سے نظرآنے والاسڑک کا چلتا پھرتا منظرحسب معمول ہے۔ واپس کمرے میں آکر اس نے ریموٹ ہاتھ میں لیا اور پھرنیوز چینل لگانے لگا، تبھی ایک ننھا مننا یکدم ناک بسوڑکر بولا:

”ہونہہ اَنکل! آپ پھروہی چینل لگارہے ہیں، یہ تو ہروقت آتاہے ….“

“انکل پلیز …. “

”ڈرامہ دیکھنے دیجیے کل سے ہمارا سمر ووکیشن بھی شروع ہورہاہے ….“

”آپ ویڈیوگیم پھر کبھی دیکھ لیجیے ۔“

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بالغ عورت شکیلہ رفیق ۔ ٹورنٹو ، کینیڈا

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 141 بالغ عورت شکیلہ رفیق ۔ ٹورنٹو ، کینیڈا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے