سر ورق / افسانہ / دوسمتوں کے مسافر محمد حنیف خان

دوسمتوں کے مسافر محمد حنیف خان

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر 140

دوسمتوں کے مسافر

محمد حنیف خان

ہوا یوں کہ دونوں ہمرکاب ہوگئے۔ حالانکہ پہلے ایسا نہیں تھا۔ دونوں دو سمتوں میں عازم سفر تھے۔ جس میں کئی پڑاؤتھے۔ پہلا پڑاؤدونوں کو ایک ساتھ ہی طے کرنا تھا ،جو شدہ شدہ طے ہو گیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس دوران دونوں میں آشنائی، نہیں، شناسائی ہی ہوجاتی، مگر نہیں ہوئی۔ہاں! ایک دوسرے کوپہچان ضرور گئے تھے ،حالانکہ ایک کا چہرہ ہمیشہ ڈھکا رہتا تھا۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ چہرے میں کوئی نقص رہا ہو یا پھرکسی خاص وجہ سے چہرہ ڈھانپ رکھا ہو مگر ڈھانپ ضرور رکھا تھا، اس کے اسرار بہت بعد میں کھلے۔جب پہلا پڑاؤآیا تو دونوںکےراستے بدل گئے۔ابھی تک دونوں میں شناسائی بھی نہیں ہوئی تھی اور شاید ضرورت بھی نہیں تھی ،لیکن ایسا بھی نہیں ہے، ان میں سے ایک، دوسرے کے مقابلے زیادہ شناساتھا، یہ بھی بعد میں ہی معلوم ہوا۔در اصل اس سفر کے دوران کئی بار ایسے مقام آئے ،جب دونوں میں مڈبھیڑ ہوئی چونکہ شناسائی نہیں تھی، اس لئے غرض بھی نہیں تھی مگر جس کے ہاتھ میں” دِیا “تھا۔ اس کی آنکھیں زیادہ روشن تھیں اور وہ راستہ زیادہ صحیح طور سے دیکھ رہا تھا ،مگر دوسرا اس کے پیچھے چل نہیں رہا تھا، اس لئے وہ اندھیرے میں تھا۔ یہ اندھیرا ایسا بھی نہ تھاکہ دوسرے کو کچھ دکھائی نہ دیتا، اس لئے اس نے روشنی مانگنے کی ضرورت بھی نہ سمجھی۔راوی نے یہاں پر ایک غلطی کی اور وہ بات کو زیادہ رنگین بنانے کے چکرمیں ایک بات چھپا گیا، جو بعد میں معلوم ہوئی اور یہی وہ بات تھی ،جس نے سارے بھید اور سارے راز کھول دیئے کہ اس کو روشنی کی ضرورت تھی کہ نہیں۔ایک بات اور راوی نے بتائی۔ جس کے ہاتھ میں جلتا ہوا ”دِیا “تھا اور آنکھیں روشن تھیں، اسی کو راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ یہی وہ بات تھی جس نے اس پورے واقعے کے تار و پود بنے۔یہ بات بھی بعد میں ہی معلوم ہوئی کہ اس کو ایک ایسے راہ رو کی ضرورت تھی جو اس کو راستہ دکھا سکتا مگر اہم بات یہ ہوئی کہ اسی درمیان پہلا پڑاؤ آگیا۔ اب دونوں کو دو سمتوں میں سفر کرنا تھا۔جب پہلا پڑاؤ آیا تو بادبان کھولے گئے۔ کچھ گھڑی آرام کیا گیا ،گپیں شروع ہوگئیں۔ اس سفر میں تھے تو بہت مسافر، مگر ذکر صرف ان ہی دونوں کا ہے کیونکہ ان کو زیادہ دور تک جانا تھا، باقیوں کا سفر پہلے پڑاؤ پر ہی پورا ہونا تھا جو پورا ہو گیا۔سفر کا خاتمہ ہونا تھا، اس لئے سبھی لوگ رکے، ملے کہ دوبارہ کبھی ملنا ممکن نہیں تھا،اس لئے آخری بار اس زندگی اور سفر کا مزہ خوب لیا۔یہ دونوں ان ہی میں شامل تھے مگر آپس میںکچھ زیادہ بولے نہیں کیونکہ ان کو فکر اپنے آگے کے سفر کی تھی۔

پھر یوں ہوا کہ سفر تو نہیں شروع ہوا لیکن سب ایک دوسرے کو چھوڑ کر جانے ضرور لگے۔ایسے میں جس کے ہاتھ میں” دِیا“ تھا اس کو زیادہ فکر لاحق ہوئی کہ اسے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔لیکن کچھ بولنا مناسب نہیں سمجھا کہ لوگ کیا کہیں گے اور وہ جس کا ہاتھ”دِیا“سے خالی تھا، وہ پریشان نہیں تھا کہ وہ نہ” دِیا“کا مالک تھا اور نہ ہی اسے روشن دِیا ملنے کی امید تھی۔

جب بھیڑ چھٹ گئی اور سب کے سب چلے گئے تو مجبورا ًان دونوں کو بھی عازم سفر ہو نا پڑا۔ سفر تو مشکل تھا مگر ارادہ پہلے سے مصمم تھا،یہی وجہ تھی کہ زیادہ دشواری نہیں ہوئی مگر جس کے ہاتھ میں ”دِیا“ تھا وہ پریشان تھا۔ خیر سفر شروع ہوگیا۔دونوں الگ الگ سمتوں میں جانے لگے مگر تھوڑی ہی دور پہنچے تھے کہ ”دِیا“ والےکو ضرورت پڑی کہ دوسرا مسافر اس کے ساتھ ہوتا تو سفر آسان ہو جاتا۔اس لئے وہ” روشن دِیا“ لیے ہوئے پھر اسی جگہ آگیا ،جہاں سے عازم سفر ہواتھاجبکہ دوسرا مسافر اس لئے واپس آیا کہ وہ تنہا ہوگیا تھا اور پہلے پڑاؤمیں کچھ زیادہ ہی چہل پہل تھی۔ایسے میں وہ تنہائی سے کچھ زیادہ ہی گھبرا گیا تھا لیکن راوی نے بتایا کہ یہ بات درست نہیں ہے۔ وہ آیا اس لئے تھا کیونکہ اس کا رخت سفر چھوٹ گیا تھا جسے لینا ضروری تھا۔راوی یہ کہہ کر مسکرایا اور بولا سچ تو یہ بھی نہیںہے۔اس کے بعد راوی نے بتایاکہ یہاں ایک بار پھر دونوں کی مڈبھیڑ ہو گئی۔دونوں میں سے بولا تو کوئی نہیں مگر دوبارہ دونوں عازم سفر بھی نہ ہوئے۔شاید اس بات کا انتظار تھا کہ سامنے والا پہلے اٹھے تو اندازہ ہوکہ کون کدھر جائے گا۔دونوں ایک دوسرے کا انتظار کرتے رہے۔یہ انتظار جب طویل تر ہو گیا تو” روشن دِیا“ والا یوں گویا ہوا۔

بھلا بتائیں گے آپ کیوں واپس ہوئے اور انتظار کس کا ہو رہا ہے ؟ دوسرے والے میں اکڑ کچھ زیادہ تھی اس لیے اس نے پہلے والے کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کوئی جواب نہیں دیا مگر جسے راہ رو کی ضرورت ہو، وہ بھلا کہاں ماننے والا، اس نے پھر سوال کیا لیکن اس بار تھوڑا سا انداز بدل دیا۔ہاں تو بتایئے آپ واپس کیوں ہوئے؟ کیا راستہ زیادہ پر خطر ہے ؟ اب پہلے والے نے اس پر ایک اچٹتی ہوئی نظر ڈالی اور ناک بھوں چڑھاتے ہوئے بولا۔

آپ سے مطلب ؟

میں کیوں واپس آیا، اس سے آپ کو کیا لینا دینا؟

اتناکہہ کر اس نے نظر جھکالی۔اس کے چہرے سے خشونت عیاں تھی۔

اسی درمیان دِیا کی لو پھڑ پھڑائی تو روشنی اور کچھ تیز ہوگئی۔اس لئے اس کو سب کچھ دکھائی دے گیا کہ اسباب سفر بھی ہے ،جو ایک طرف بندھا رکھا ہے لیکن یہ تو وہ تھا،جو اس نے دِیا کی روشنی میں دیکھا تھا۔اس کے علاوہ بھی اس کوکچھ دکھائی دے گیا جوبدیہی روشنی میں تو دکھائی نہیں دیتا۔ اس کی اکڑ دیکھ کر اسے لگا کہ اگر یہ مسافر اس کے ساتھ ہو جائے تو یقینی طور پرسفر آسان ہوجائےگا۔در اصل اس نے دادی اماں سے ایک کہانی سن رکھی تھی۔ جس میں ایک شہزادہ ہوتا ہے جس کے دو دوست ہوتے ہیں ایک ہر دم بچھا بچھا رہتا اور دوسرا شہزادے کی شہزادگی کا خیال کیے بغیر اپنے دل کی بات کا برملا اظہار کردیا کرتا تھا۔ جس سے شہزادہ نہ صرف کبیدہ خاطرہوتا بلکہ سخت ناراضگی کا اظہار کرتا۔ کئی بار تو اس کو اپنی مصاحبت سے بھی دور کردیا مگر دوسرا والا اس سے چمٹا رہا کہ اس کا مفاد وابستہ تھا۔ ایک دن ہوا یوں کہ وہ دوست جس کا مفاد وابستہ تھا ، دشمنوں سے مل گیا ،وہ بھی چند کھنکتے ہوئے سکوں کے عوض، مگر عین وقت پر وہ اکڑودوست اس وقت کام آگیا ،جب اگر وہ نہ آتا تو شہزادہ کی موت یقینی تھی۔اکڑو نے سامنے آکر دشمن کا وار اپنے سینہ پر لیا اور وہ عازم سفر دائم ہوا ۔جس کے بعد شہزادہ ہر اس آدمی کو محل سے نکالنے لگا جو اس کے سامنے زیادہ جھک کر پیش آتا۔ہاں دادی نے کہا تھا کہ شہزادہ کہا کرتا تھا کہ جو اکڑو ہوتے ہیں ان پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے ”روشن دِیا“ والے کو اس سے کچھ زیادہ ہی امیدیں وابستہ ہو گئیں تھیں۔اس نے پھر مخاطب کرتے ہوئے کہا بات در اصل یہ ہے کہ ……اتنا کہ کر وہ خاموش ہو گیا۔یہ خاموشی بہت معنی رکھتی تھی۔اس کی خاموشی دیکھ کر اکڑونے نظریں اٹھائیںاورکہا۔ ہاں کہئے ،کیا کہنا ہے۔حالانکہ چہرے کی رنگت اب بھی وہی تھی لیکن اس بار آنکھیں مردہ لگ رہی تھیںپھر بھی اس نے اپنی دلچسپی ظاہر کی۔”روشن دِیا“ والے کا مقصد بھی یہی تھا کہ اس میں کچھ دلچسپی پیدا کی جائے ،جس میں اسے کامیابی مل گئی۔ اس کی زبان ایک بار پھر کھلی اور آدھا جملہ بھی نہ پورا ہوا تھا کہ پھر خاموش………… اس بار اس کی خاموشی فطری تھی کیونکہ وہ جو بات کہنا چاہتا تھا کہہ نہیں پارہا تھا کہ پہلی بار وہ اس سے مخاطب تھا جس کی اسے ضرورت تھی۔جسے وہ بھی بھانپ گیااور ضرورت تو اسے بھی تھی۔ یہ بات راوی نے بتائی تھی۔ اس نے ”روشن دِیا والے“کی طرف دیکھا اورپھر یوں گویا ہوا۔

آپ اپنی بات کہئے تاکہ مدعا ظاہر ہو۔آدھی بات مہمل ہوتی ہے اور اہمال کوئی معنی نہیں رکھتا ،اس لئے اسے پورا کرکے با معنی بنایئے۔ اس کی اس تھوڑی طویل گفتگو سے جب ہمت بندھی تواس نے کہا۔ بات تو بہت بڑی ہے لیکن کہنا مشکل ہو رہا ہے۔ اب سامنے والا ماحول کو مزید بہتر بنانے کے لئے گویا ہوا اور اس کی اپنے انداز میں حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا، جب تک بات پوری نہیں ہوگی سفر شروع نہیں ہوگا ،اس لئے جلدی کریں تاکہ وقت بچایا جا سکے۔اب وقت کم تھا ،”روشن دِیا“ والے کے لئے ضروری تھا کہ وہ اپنی بات کہہ دے ورنہ یہ اکڑو ہے ،کہیں عازم سفر نہ ہو جائے اور اگر اس نے دوسری سمت میں سفر شروع کردیا تو یہ موقع ہاتھ سے نکل جائےگا۔ا س لئے اس نے پہلے گلا صاف کیا۔ادھر ادھر نظر دوڑائی حالانکہ وہاں کوئی نہ تھا مگر بات ہی کچھ ایسی تھی۔

روشن دِیا والے کو جب پورا اطمینان ہوگیا کہ اکڑو اس کی بات غور سے سن رہا ہے تو اس نے کہا اگر اجازت ہو تو تھوڑا قریب آجاؤں کہ میری بات اچھے سے آپ تک پہنچ سکے۔سامنے والے نے بے چون و چرا اجازت دے دی۔ اس نے قریب آکر کہا۔بات در اصل یہ ہے کہ ……اور ایک بار پھر خاموشی پھیل گئی ….. اب وہ جواب طلب نگاہوں سے اس کی طرف دیکھ رہاتھا مگر بول نہیں رہاتھا…..جب اکڑو کے چہرے پر ناراضگی کے آثار نمایاں ہوگئے ،پیشانی پر سلوٹیں پڑ گئیں اور ہونٹ آپس میں بھنچنے لگے تو روشن دِیاوالے میںکچھ کھلبلی مچی اور یک ٹک دیکھنے کے بعد بولا۔دیکھئے وہ بات اب نہیں کہہ پاؤں گا ،ہاں دوسری بات کہے دیتا ہوںلیکن سفر کے اختتام پر پہلی والی بات ضرور کہہ دوں گا، یہ میرا وعدہ ہے کیونکہ تب تک میں خود کو اس کے لئے تیار کرلوںگا۔یہ سن کراکڑوں نے صرف پلکیں اٹھا ئیں ،اوردرانتی کی طرح چھوٹی چھوٹی آنکھیں اس کے چہرے میں پیوست کردیں۔چہرہ ڈھکاہوا تھا ، اس لئے ناک کے اوپر کھلی جگہ ہی اس کی آنکھوںکا مرکز ٹھہری۔ایک بارپھر پلک جھپکائی اور کچھ سوچتے ہوئے بولا۔

ٹھیک ہے۔

یہ سن کر روشن دِیا والے کے چہرے پر دھیرے دھیرےمسکراہٹ ایسے پھیلی جیسے کوئی کلی کھل رہی ہو ،اس مسکراہٹ کو بھی سامنے والے نے اس کی آنکھوں سے ہی محسوس کیا کہ وہ بھی خوب ہنستی ہیں اور کبھی کبھی تو کھلکھلاکر ہنستی ہیں۔اس وقت ہنسی کیسی تھی راوی نے یہ چھپا لیااور نہیں بتایا۔

اس نے دِیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اسے آپ دیکھ رہے ہیں۔ یہ ہے تو ہمارے قبضے میں اور ملکیت بھی میری ہے ،لیکن اس کی روشنی سے مجھے کوئی فائدہ نہیں مل رہا۔اس کی بات سن کر اکڑو کو تھوڑا تعجب ہوا اور پوچھ لیا۔ اچھا وہ کیسے۔یہی وہ سوال تھا جس نے اس کو بعد میں مشکل میں ڈالا کیونکہ اگر اس دِیا اور اس کی روشنی کی ماہیئت کو وہ نہ جانتا تو شاید اس کے ارادے متزلزل نہ ہوتے مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے، اس لئے وہی ہوا جو ہونا تھا۔ ”روشن دِیاوالے“ نے ”دِیا“ کی بتی کو اور آگے بڑھا دیا ،اب تیل زیادہ خرچ ہو رہا تھا مگر روشنی تیز ہوگئی تھی۔اس نے کہا۔یہ روشنی تو مجھے دکھائی دے رہی ہے مگر اس روشنی میں جو دکھائی دینا چاہیئے تھا، وہ میری نظروں سے اوجھل ہے۔

اکڑو کو اس کی کچھ باتیں کھٹکیں،اس میں اس کی یہ بات بھی شامل تھی۔ اس لئے پھر سوال کر لیا۔وہ جتنے سوال کرتا جاتا تھا، اسی مقدار میں اس کے گرد پھندے بڑھتے جاتے تھے۔بالآخر وہ دام میںآہی گیا۔”روشن دِیاوالے“ نے کہاجب تک دوروشنیاں نہ ہو ں ایک کا وجود معدوم رہتا ہے۔اس بار پھر وہ چونکا ،اس کا کیا مطلب ہے ،اس نے کہا ارے بدھو ہو کیا۔”دِیا “روشن نہ ہو تو آنکھیں کتنی بھی تیز ہوں اندھیرےمیںکیا دکھائی دے گا اور اگر’ دِیا ‘روشن ہو مگر آنکھیں نہ ہوں تو بھلا اس کا کیا فائدہ؟لیکن اس کو ”دِیا“تک ہی محدودنہیں رکھا جا سکتا،اس سے آگے بھی سوچئے۔

”روشن دِیاوالا“بار بار اپنی باتوں سے چونکا رہاتھا حالانکہ وہ اپنے سحر میں اسے گرفتار کر رہا تھا۔پھر اس نے سوا لیہ انداز میںکہا اب سمجھے ؟دو دِیئے!دو روشنی۔ اور پھر اس نے ہاتھوں سے کچھ ایسا اشارہ کیا جیسے کچھ جل بجھ رہا ہو۔وہ حیرت زدہ تھا کہ ماجرا کیا ہے ، اور پھر کہہ ہی دیا۔مطلب سمجھائیں۔اس نے کہا ساتھ رہوگے سب سمجھ جاؤگے اور پھر بڑی بے اعتنائی سے گویا ہوا۔ارے ہاں! آپ کا اکڑو پن مجھے بہت پسندہے۔یہ سن کروہ اس کی اس بے باکی پر تھوڑا سا خجل ہو گیا۔پھر بولا یہ جو آپ کی عادت ہے نا ،میری دادی کی کہانی یاد دلا رہی ہے اور مجھے تو بس …..اتنا کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔

یہ دیکھ کر”روشن دِیاوالے“ والے نے کریدا۔ہاں کہئے کہئے۔ اس سے ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے اکڑونے کہا ۔

اس نے کہا اب بس ،اچھا چلو جب سفر ختم ہو گا تب

وہ ہر بات کو سفر کےا ختتام پر ٹال دیتا

اکڑو نے کہا، ایک بات پوچھوں؟

اچھا تو آپ بھی سوال کرتے ہیں۔اس نے کہا ،پھر بولا۔ساری باتیں یہیں کر لیں گے ،سب کچھ یہیں پوچھ لیں گے ،تو آگے کیا باتیں ہوں گی اورسفر کیسے کٹے گا کہ سفر طویل ہے اور ہم صرف دو ہیں، تیسرے کسی کو شریک سفر نہیں کرنا ،بالکل نہیںکرنا،اس لئے پہلے یہ بتایئے کہ وہ امیدیں جو آپ سے وابستہ ہوئیںہیں ان کا کیا ہوگا؟اتنا کہہ کر ”روشن دِیا والا “خاموش ہو گیا۔اب باری تھی اکڑو کی کہ وہ کوئی جواب دے اور منظر نامہ صاف ہو۔اکڑو پہلے تو کچھ سوچتا رہا پھر اس نے کہا سفر تو دو الگ الگ سمتوں کا ہے۔ایسے میں امید لگانا ٹھیک نہیں۔ ہاں! جہاں تک میری آواز پہنچ سکتی ہے، آپ کی رہنمائی کرتا رہوں گا۔ یہ سن کر روشن دِیا والا کچھ ملول سا ہو گیا لیکن اس نے امید ابھی بھی نہیں چھوڑی تھی کہ اس کے پاس ایک دِیا تھا، جو روشن تھا۔ اسے یقین تھا کہ اس روشن دِیا کی رو شنی اکڑوپر اپنا سحر ضرور کرے گی کہ وہ اس کے دل سے اور اخلاص سے پھوٹ رہی تھی جس کی کرنیں اس اکڑوکواپنے ہالہ میں لئے ہوئے تھیں، اس کا ماننا تھاکہ جب میرے دل میں کوئی چھل کپٹ نہیں ہے تو وہ بھلا سامنے والے کو روشنی کیسے منورنہیں کرے گی اور جب دو روشنیاںہوگی تو ایک دوسرے کا وجود تسلیم ہی کرلیں گی۔اس نے اپنے عمل سے اس کو نہ صرف ثابت کردیا بلکہ اکڑوکو سفر کی سمت تبدیل کرنے پر بھی مجبور کردیااور سمت ہی کیا اس کی سوچ کی سمت بھی بدل گئی ،اب وہ وہی سوچتا تھا جو روشن دِیا والا چاہتا تھا۔راوی نے بتایاکہ اس دِیاکی روشنی نےاس کی ذات پوری طرح سے روشن کردیا اورپھرروشن دِیاوالا اس کی کل کائنات میں سمٹ کر آگیاتوخوشی خوشی وہ ہر بات ماننے لگا اور اس کی رعونت وخشونت بھی کافورہوگئی۔

اصل میں جب وہ گھر سے چلا تھا ا س کے پاس کوئی دیا نہیں تھا مگر جب کشتی پر سوار ہوا اور ہجوم کی وجہ سے عرشہ پر چلاگیا،وہاں جب رات میںتاریکی دیکھی تو اس کو لگا کہ ایک ایسے” دِیا“ کی ضرورت ہے جوسمندر کے درمیان اندھیرے میں اس کے وجود کو روشن کردے۔اس کے پاس اسباب سفر تو ضرور تھا مگر وہ ”دیا نہیں تھا جس کی اسے ضرورت پڑگئی تھی۔اس کو رات میں ایک خالی جگہ مل گئی اور وہیں وہ سجدہ ریز ہوگیااور الحاح وزاری کے ساتھ دعا مانگنے لگا۔ جگہ خالی تھی اس لئے سجدہ طویل تر ہو گیا پھر ہوا یوں کہ اس کی آنکھ لگ گئی، جب آنکھ کھلی تو اس کے پہلو میں ایک ”دِیا روشن تھا“۔یہ دیکھ کر وہ خوشی سے وہ چیخ اٹھا۔

یہ خوش بختیاں ہیں میری یا دعاؤں کا اثر

یہ خوش بختیاں ہیں میری یا دعاؤں کا اثر

وہ بار بار یہی جملے دہرا رہاتھا۔

راوی نے بتایا کہ” دِیا “پاکر وہ بہت خوش ہوا اور ہمیشہ اس پر فخر کیا کرتا تھا۔وہ کہا کرتا تھا کہ اس” دِیا“ سےاب دو وجود روشن ہوں گے۔

دونوں درمیان سفر تھے کہ دیئے کی لو پھڑ پھڑانے لگی،ایسا نہیں تھا کہ ہوا تیزتھی بلکہ جس کے ہاتھ میں” دِیا “تھا اس نے اس کو اپنی سانسوں سے اس قدر قریب کر لیا تھا کہ روشنی رقص کرنے لگی،یہ رقص اس قدر تیز تھا کہ اکڑوڈر گیا کہ کہیں بجھ نہ جائے۔اس لئےاس نے کہا ذرا وہ” دِیا“پر دھیان دےتاکہ اندھیرے سے بچا جا سکے۔یہ سن کر” روشن دِیا والا “زور سے ہنسا ،اس نے کہا ڈریئے مت،یہ روشنی جتنی میرے قریب ہوگی ،میرا وجود اسی قدر منور ہوگا،اس کے عکس کو محسوس کیجئے کہ یہ محسوس کرنے کی ہی چیز ہے ،اس سے زیادہ میںکچھ نہیںکہہ سکتا کیونکہ اتنے میں تو آپ کو سمجھ جانا چاہئے۔یہ کہہ کر اس نے اپنی نگاہیں اس کے چہرے پر گڑا دیں۔اکڑو یہ نہیں سمجھ پا رہاتھا کہ وہ صرف اپنا ہی وجود کیوں منور کرنا چاہتا ہے۔سپاٹ چہرے کے ساتھ وہ پہلے دیکھتا رہا اور غور کرتا رہاکہ یکایک اس کی سمجھ میں شایدبات آگئی اور وہ مسکراتےہوئے بولا۔ٹھیک ہے۔میں عکس کو نہ صرف محسوس کروں گابلکہ اس عکس کوخود میں جذب کرکے وجود کو روشن کروںگا۔یہ سن کر’ روشن دِیا والا‘ بھی مسکرانے لگا۔

اتنا کہہ کر راوی خاموش ہو گیا۔ سننےوالوں نے سمجھا کہ داستان ختم ہوگئی اورآپس میں سب کھسرپھسر کرنے لگے مگر راوی نے کھانس کھنکھار کر کہا۔کہانی ابھی ختم نہیںہوئی ہے۔اس نے آنکھیں چمکا کر ہاتھ نچاتے ہوئے کہا، اصل حصہ سنایاہی کہاں ہے،اس میں ابھی کئی موڑ ہیں۔جو چہرہ بند تھا وہ کھلا کیسے اور جو دِیا روشن تھا وہ بجھا کیسے۔ یہ سب تو ابھی باقی ہی ہے۔

یہ سن کر سننے والوں نے بڑے حیرت انگیز لہجے میں کہا

کیا وہ روشن دیا بجھ گیا۔یہ تو بڑی عجیب بات ہے

یہ سن کرراوی نے زور کا قہقہہ لگاتے ہوئے کہا

” کیوں کیا آپ کو نہیں معلوم کہ جو جلتا ہےوہ بجھتا بھی ہے اور جو بجھ جاتا ہے اس کے جلنے کی امیدیں بھی برقرار رہتی ہیں۔اس نے سننے والوں کے تعجب اور ان کی حیرت کو رفع کرتے ہوئے کہا۔ یہ اکیسویں صدی کی کہانی ہے، پندرہویں صدی کی نہیں کہ شہنشاہ اگر کسی راستے سے گذر گئے تو اس کو ہمیشہ کے لئے ان کے نام سے موسوم کردیا گیا۔یہ اکیسویں صدی ہے سڑکیں روزٹوٹٹی ہیں اور روز بنتی ہیں،یہ دورکنزیومرازم کاہے اورسڑکیںاسی کے مدنظر تعمیر کی جاتی ہیں۔سنگل سڑک کب چھ اور آٹھ لین میںبدل جائے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ یہ سب تو ضرورت کے مطابق ہو تا ہے۔اتنے میں سامعین میں سے ایک نے کہا ارے آگے کی کہانی سنایئے ،دل اسی میں اٹکا ہے۔

راوی پھر گویا ہوا۔لیکن اس کا انداز استفہامیہ تھا اس نے کہا۔

میں نے بتایاتھاکہ اس کی باتوںمیں آکر اور روشن ددیا کی روشنی دیکھ کر اکڑو نے اپنا راستہ بدل دیاتھا۔وہ بھی اسی سمت میں چلنے لگا تھاجس سمت میں روشن دیا والا جا رہا تھا۔

سب نے کہاں ہاںبتایاتھا

راوی نے ایک اچٹتی ہوئی نگاہ مجمع پر ڈالی اور پھر شروع کر دیا لیکن وہ بہت جلد اس کہانی کو اختتام تک پہنچانا چاہتا تھا کہ سا معین دِیا کے بجھنے کی کہانی سننے کوبے تاب ہورہے تھے۔اس نے بتایا کہ ابھی دونوں کچھ دور ہی گئے تھے کہ روشن دِیا والے کو دوسری سمت میں روشنی دکھائی دی، جو اس سے تیز تر تھی ،جو اس کے پاس تھی۔ اصل میں روشن دِیا والے کو روشنی سے لگاؤہو گیا تھا، اس لئے جب اس سے تیز تر روشنی دکھائی دی تو وہ خود کو روک نہ سکا اور اس کے قدم اس نئی روشنی کی طرف مڑ گئے۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ اکیلے جانا چاہتا تھا۔ اس نے اکڑو کو دعوت بھی دی کہ وہ بھی آئے اور نظر آنے والی روشنی سے خود کو منور کرے کہ اس کی روشنی اس نئی روشنی کی وجہ سے ماند پڑ گئی تھی مگر اکڑو جانا نہیں چاہتا تھا۔در اصل اسے یقین ہی نہیں تھا کہ وہ اس روشنی کو چھوڑ دے گا جس کو دعاؤں کا اثر ماناتھامگر یہ اس کی خام خیالی تھی۔ روشنی والے نے اکڑو سے چلنے سے بار بار کہا اور کئی بار کہا مگر اس کی سمجھ میں نہیں آیا۔یہی وہ غلطی تھی جس کی وجہ سے اس کو نقصان اٹھانا پڑا اگر وہ بھی چلا جاتا تو شاید پہلی والی روشنی بجھتی نہیں مگر وہ بجھ گئی۔

اکڑو اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا۔ اسے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آرہا تھا مگر جب ”روشن دِیاوالا“ سچ مچ چلا گیا تو اسے فکر لاحق ہوئی کہ سفر طویل تھا اور روشنی والے نے راستہ بدل دیا تھا۔اکڑو کے پاس نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔ ایسے میں اس نے ایک فیصلہ کیا کہ وہ بھی وہیں چلا جائے کہ تنہائی بھی دور ہواور روشنی بھی ملے ۔روشنی والا جس سمت گیا تھااسی سمت میں اس نے بھی سفر شروع کیا اور منزل مقصود تک پہنچ بھی گیا مگر اتنی دیرہو چکی تھی کہ پہلی روشنی پر دوسری کے بجائے تیسری روشنی نے غلبہ حاصل کرلیاکیونکہ دوسری روشنی ایسی نہیں تھی جو غالب ہوکرکسی کومغلوب کرتی،اسی درمیان اس کو تیسری روشنی بھی دکھائی دے گئی تھی۔جب روشن دِیا والے سے اکڑو کی ملاقات ہوئی تو اکڑو کا چہرہ سیاہ ہو چکا تھا کہ روشنی والا تیز تر روشنیوں کا عادی ہو گیا تھا۔اس لئے پہلے تو اس نے پہچانا ہی نہیں ،اکڑوکے بہت کچھ یاد د لانے پراس نے کہا۔ ہوسکتا ہے لیکن کوئی ایسی بات تو ہوئی نہیں تھی کہ یاد رکھی جاتی ،اور یوںبھی اس قدر آپ کا چہرہ سیاہ ہو گیا ہے کہ مجھے آپ دکھائی ہی نہیں دے رہے ہیں۔

یہ سن کر ا کڑو نے کہا۔

وہ روشنی جو آپ کے چہرے کے پاس تھی اسے ذرا میرے قریب کریںتو چہرہ نظر آنے لگے گا،پھر آپ اچھے سے پہچان لیں گے۔یہ سن کر وہ ہنسا اور بولا۔میں نے یہاںپہنچ کر تحلیل و تجزیہ کیاتو معلوم ہواکہ وہ تو روشنی کاالتباس تھا،روشنی کہاں تھی؟روشنی تو یہ ہے جس سے میرا وجود روشن ہے۔یہ سن کر اکڑوکو بڑا تعجب ہوا ،اس نے کہا راستہ میںنے تمہارے لئے بدلا ،اس روشنی کے لئے بدلا لیکن یہ کیاہے…………؟

اکڑو کی بات سن کر اس نے بڑے سپاٹ لہجہ میں جواب دیا۔جو بھی ہے یہی سچ ہے ،وہ تو سفر تھا،اولا وہ روشنی تھی ہی نہیں اور اگر آپ اصرارکرتے ہیںتومیں تھوڑی دیر کے لئے مان لیتا ہوںکہ وہ روشنی تھی لیکن وہ تو میرے پاس تھی،اب آپ یہ سمجھ لیں کہ وہ بجھ گئی ہے،اس لئے اگرآپ کو روشنی کی ضرورت ہے تو کہیں کوئی ’دِیا‘ تلاش کرلیں،یا پھرلیمپ خرید لائیں۔حالانکہ اکڑو دیکھ رہاتھا کہ دیا روشن ہے ،مگر اس نے دبیز پردوں میں اسے چھپا رکھا تھا۔یہ انسانی پردہ تھاجس سے روشنی چھن کر تو نہیں آرہی تھی مگر دِیا پیچھے روشن تھا اس لئے روشنی کے انعکاس سے چہرہ روشن تھا۔جس طرح اگر کوئی’ دِیا‘کے گرد ہالہ بنالے تو اس کی انگلیاںروشن ہوجاتی ہیں۔

یہیں پراکڑونے دیکھاکہ اس کا وہ مغلوف چہرہ بھی کھلا ہوا ہے۔یہ دیکھ کر اس کو لگا کہ سچ مچ اس کا چہرہ سیاہ ہو گیا ہے۔ اتنا سیاہ کہ وہ خود اپنا چہرہ چھپانے لگا۔اس کو لگ رہاتھا کہ اس کا وجود بہت تیزی سے پگھل رہا ہے۔ اس نے اپنے وجود کو بچانے کے لئے بہت تیزی سے دوڑ لگائی مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنی منزل پر پہنچتا وہ اوراس کا وجود سب ختم ہو چکا تھا۔

یہ کہہ کر راوی کی سسکیاں بندھ گئیں اور سامعین بھی زاروقطار رونے لگے۔مگرراوی نے ایک دم سے نظرمجمع پرڈالی اور زور سے اعلان کیا۔رونے کی کوئی ضرورت نہیں ، اب دِیئے نہیں جلتے، اب روشنی تو ہوتی ہے اور بہت تیز ہوتی ہے مگر بجلی سے،اور یہ کب چلی جائے کچھ نہیں کہہ سکتے۔یہ کہہ کر اس نے سامعین کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہوئے مزید کہا۔ در اصل روشن دِیا والا اکڑو سے اس لئے بھی الگ ہوا اور اور اپنے سفر کی سمت بدل لی کہ دوران سفر اس کا اکڑو پن لطف وکرم میں بدل گیا تھا، جو روشن دِیا والے کو پسند نہیں آیا کہ اس نے دادی کی کہانی میں سچا دوست تو اکڑو کو پایا تھا۔ جب یہ صفت اس میںختم ہوئی تووہ روشنی بھی بجھ گئی ،جس سے روشن دِیا والے کا وجود روشن تھا اور پھر دونوںوجود بے نور ہو گئے۔

راوی نے بتایا کہ ایک تو اسی وقت بے نور ہو گیا تھا جب ”روشن دِیا والے“ سے اکڑوکی ملاقات نئی سمت میں سفر کے بعد ہوئی جبکہ” روشن دِیا والا“ اس وقت بے نور ہوا جب اس پرنئی روشنی غالب آئی اور اس نے اپنے راہ رو کو چھوڑ دی مگر کہنے والے کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے بے نور توصرف اس کا ہوا تھا جس کا احساس مردہ ہواتھاجبکہ روشن دِیا والااتراتا پھر رہا تھاکیونکہ اس کا فیصلہ درست تھاکہ اس نے دادی کی کہانی پر عمل کیا تھا۔ ہاں! یہ ضرور تھا کہ وہ نوعیت نہیں سمجھ سکا ،یہی اس کی غلطی تھی۔راوی نے بتایا کہ’ روشن دِیا والے‘ نے صرف ایک غلطی کی جب کہ اکڑو غلطیوں پر غلطیاں کرتا رہا۔ایسے میں بھلا روشن دیئے والا کیسے مجرم ہوسکتا ہےلیکن یہ بھی سچ نہیں ہے۔یہ سن کر مجمع پرپھر سکتہ طاری ہو گیا۔کوئی نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ غلطی کس کی ہے۔کیونکہ بادی النظرمیں اکڑوکی کئی غلطیاں تھیںجبکہ روشن دیا والے کی صرف ایک، مگر یہ ایک بہت بڑی غلطی تھی یا اس کی کئی غلطیاں؟سب اسی پر چہ میگوئیاں کر رہے تھے تبھی سامعین میں سے ایک آواز گونجی…. اور روشن دِیا والے نے جو بات آخر میں بتانے کا وعدہ کیاتھا، اس کا کیا ہوا؟راوی نے گردن اونچی کرکے آواز والے کودیکھنے کی کوشش کی مگرجب نہیں دیکھ سکاتوبولا۔ ابھی سفر ختم کہا ں ہوا ،وہ تو جاری ہے، بس ساتھ ہی تو بدلا ہے ،وقت کا انتظار کرو۔تب سے سب انتظار کر رہے ہیں، ان ہی میں سے ایک میں بھی ہوں

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

درد کے موسم انجم قدوائی ۔علی گڑھ ۔انڈیا

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 142 درد کے موسم انجم قدوائی ۔علی گڑھ ۔انڈیا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے