سر ورق / افسانہ / حوصلہ آشا پربھات ۔۔ بہار،انڈیا

حوصلہ آشا پربھات ۔۔ بہار،انڈیا

عالمی افساہ میلہ 2019
افسا نہ نمبر 137
حوصلہ

آشا پربھات ۔۔ بہار،انڈیا

اس محلہ میں اس کی آمد کسی معمہ سے کم نہ تھی۔ معمہ جس کی معلومات اور تہ تک کھنگالنے کے لیے سبھی کا دل بے قرار ہو اٹھے۔ لیکن مہینوں تک وہ معمہ ہی بنا رہا، بالکل کسی طلسم کی طرح … جس کا صرف بیرونی حصہ ہی نظر آتا ہے اندرونی حصہ پوشیدہ رہتا ہے۔ ایسا بھی نہ تھا کہ اس سے قبل اس محلہ میں کوئی اجنبی آیا ہی نہ تھا۔ اجنبی تو بارہا آتے رہتے … کبھی کسی کے رشتہ دار تو کبھی کرائے دار کی شکل میں لیکن فوراً وہ واقف بھی ہو جایا کرتے تھے یا محلہ والوں کے ذریعہ ان کا رگ ریشہ ٹٹول لیا جاتا تھا۔

متوسط طبقہ کے اس محلہ میں حویلی نما ایک بوسیدہ مکان تھا جس کے نچلی منزل میں گودام اور آگے دکانیں تھیں۔ اوپری منزل پر دس کمرے تھے، چھت دار۔ بغیر برآمدہ کے صرف کمرے … لیکن تمام آباد تھے کرائے داروں سے۔ کبھی کوئی کمرہ خالی ہوا نہیں کہ فوراً کوئی نہ کوئی اس پر قابض ہوجاتا۔ ذیادہ تر کمروں میں طالب علم تھے۔ ایک کمرہ میں دو دو تین تین کی تعداد میں۔ اس میں سے کسی کمرہ کا باشندہ بن کر آیا تھا وہ۔ شاید تنہا باشندہ … ورنہ ابھی تک شناسا ہونے میں تاخیر نہ ہوئی ہوتی۔

اس محلہ کی خوبی تھی یا خرابی، کوئی بھی اجنبی آتا کہ لوگوں کی نگاہیں اسے سراپا کھنگالنے میں جٹ جاتیں۔ اور کامیاب بھی ہوجاتیں۔ کیونکہ تمام گھروں کے اگلے حصے میں روزمرہ کی ضرورت کے سامانوں کی دکانیں موجود تھیں۔ اور آنے والوں کو ان سامانوں کی ضرورت بھی ہوتیں۔ جیسے ہی وہ کسی دکان پر پہنچتا کہ شروع ہوجاتا اس کا پوسٹ مارٹم … اور تو اور کوئی خوانچہ یا قلفی والا گزرتا … ٹھہر کر گھنٹی ٹنٹناتا … سارے محلہ میں ایک قسم کی بھنبھناہٹ سی اُبھرتی … سبھی کان چوکنہ اور آنکھیں چوڑی ہوجاتیں … ایسی حالت میں نہ معلوم اتنے روز وہ کس طرح رہا کہ کسی کو موقع ہی نہ ملا اس کی پرت ادھیڑنے کا … لوگوں کا تجسس پروان چڑھتے چڑھتے بے صبر ہو اٹھا۔

بقول اوپری منزل والے — ’بہت ہی غیرمعمولی قسم کا جی روح ہے۔‘ اس کے کمرہ کا دروازہ ہمیشہ بند رہتا ہے۔ غسل بھی کمرہ میں کرتا ہے، عمومی نل پر اور لوگوں کی طرح غسل نہیں کرتا۔ کھانا وغیرہ بھی باہر ہی کھاتا ہے، ورنہ گرہستی کا سامان کی خریداری نہیں کرتا نیچے سے۔‘‘ یہ تمام باتیں چرچہ میں عام ہوچکی تھیں۔ علاوہ اس کے وہ طالب علم ہے یا نوکری پیشہ۔ مکان سے باہر اترتیں گھماؤدار سیڑھیوں سے چڑھتے، اترتے یا سڑک سے گزرتے ہمیشہ وہ محلے والوں کی بے قرار نگاہوں کا شکار ہوتا۔ متجسس آنکھیں اس وقت تک اس کا پیچھا کرتی رہتیں جب تک وہ محلہ کے آخری سرے پر جاکر اوجھل نہ ہوجاتا۔ اس کے بعد پہروں تک اس نادیدہ قلعہ کی گلیوں، پرکوٹوں کا چرچہ پر لگائے تیرتا رہتا فضا میں۔

اور ایک روز دفعتاً ایک ایسا حادثہ پیش آیا … وہ بھی میرے ساتھ۔ میں جو ان سیکڑوں آنکھوں اور دماغوں میں سے ایک تھا قلعہ کھنگالنے کا باطنی شوق پالے۔ گزشتہ دو روز سے میں شہر سے باہر تھا۔ واپس آیا تو ایک حیرت انگیز خبر نے میرے ہوش اڑا دیے۔ چھ سال کا میرا اکلوتا بیٹا سونو قلفی لانے سڑک کے اس طرف جارہا تھا کہ اچانک تیز رفتار آتی ماروتی اسے اپنے چپیٹ میں لینے ہی والی تھی کہ نہ معلوم کس جانب سے دوڑتا ہوا آیا تھا وہ اور کھینچ لیا تھا سونو کو موت کے جبڑا سے۔ میرا معصوم بچہ آج زندہ تھا تو اس کی بدولت، ورنہ … خیال سے ہی میرے جسم میں خوف کی سرد لہر دوڑ گئی۔ بھربھرا کر تمام رواں کھڑے ہوگئے تھے۔ اس معمہ کے لیے میرے اندر کچھ نرم، نرم بے نام سا جذبہ اگا تھا۔ میری بے قرار آنکھیں اس کی تلاش میں بھٹکنے لگی تھیں۔ اس کے احسان کا قرض ادا کرنے کے بہانے۔ لیکن وہ نظر نہیں آیا۔ دو دن گزر گئے، دو صدی کے برابر …

تیسرے روز جیسے ہی میں گھر سے نکلا، سیڑھیوں سے اترتا وہ نظر آیا۔ میرے اندر خوشی کے بلبلے سے اٹھے۔ فوراً میں اس کی طرف لپکا۔ جتنے قدم وہ اس طرف بڑھا رہا تھا اس سے ڈیڑھ گنا تیزی سے میرے قدم بڑھ رہے تھے اس کی جانب۔ میرے ارادے سے وہ ناواقف تھا لیکن دوہرا معنی والی خود کی منشا سے میں بخوبی واقف تھا اور پھر ہم مقابل تھے۔ دیوار کی طرح خود کے سامنے کھڑا دیکھ چند لمحے کے لیے وہ ٹھٹھکا پھر بغل سے نکلنے لگا کہ فوراً میں نے اس کی ہتھیلی تھام لی۔

’’بہت بہت شکریہ بھائی، اگر آپ نہیں ہوتے تو میرا بچہ، میرا سونو … نامعلوم کیا گزر گیا ہوتا اس دن اس کے ساتھ …‘‘ ایک ہی سانس میں کہہ گیا میں۔ ڈر تھا اگر میں ٹھہرا تو کہیں وہ کھسک نہ لے۔ اس نے خود کی کلائی نہیں چھڑائی۔ اسے میری ہتھیلیوں میں رہنے دیا اور آہستہ سے کہا — ’’وہ سب اچانک ہی ہوگیا تھا۔ میری جگہ کوئی اور ہوتا، وہ بھی وہی کرتا۔ اس میں شکریہ والی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘ باتوں سے وہ مہذب لگا۔

’’آپ کے لیے نہ ہو میرے لیے تو ہے۔ اگر سونو کو کچھ ہوجاتا … میری تو زندگی ہی بے معنی ہوجاتی۔ اپنوں کے جانے کا غم وہی سمجھ سکتا ہے جس کا کوئی گیا ہو۔‘‘ میں نے کہا۔ وہ چند لمحہ خاموش رہا۔

’’صحیح فرماتے ہیں آپ۔‘‘ اس نے کہا اور جانے کے لیے آگے بڑھا۔

’’تو چلئے میرے غریب خانہ پر، ایک پیالہ چائے تو پی لیجیے…‘‘ میں نے فوراً پیش کش کی۔

’’اس وقت …‘‘ وہ کچھ اور کہتا، نہ معلوم کس جذبہ سے میں نے اس کے منہ پر ہتھیلی رکھ دی تھی۔ اور تقریباً کھینچتا ہوا اپنے گھر کی طرف لے آیا۔ سونو کی جان کی قیمت ایک پیالہ چائے نہیں تھی لیکن کچھ اور بھی تو نہیں ہوسکتی تھی اس چائے کے علاوہ جو دوریوں کو ہموار کردے۔

وہ چائے کی چسکی لیتا رہا۔ ہمارے درمیان خاموشی پسری رہی بہت بے جان اور بوجھل۔ وقت گھڑی کی سوئیوں سے قدم ملاتا چلتا رہا۔ میرے اندر بیکل سوال کلبلاتے رہے— ’’آپ کہیں نوکری کرتے ہیں؟‘‘ اچانک بیوی نے پوچھا۔ خاموشی تتربتر ہوئی۔ ماحول میں جان سی آئی۔ جواب میں دیری ہوئی۔ اس نے خالی پیالہ میز پر رکھا —

’’نہیں، کام کی تلاش میں ہوں۔‘‘ اس نے آہستہ سے کہا جیسے جبراً کہنا پڑ رہا ہو اسے۔

’’اوہ …‘‘ بیوی کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔ نہ معلوم ہمدردی سے یا افسوس سے۔ اس لفظ سے چٹان سا نظر آنے والا شخص برف کی مانند ذرا سا پگھلتا ہوا محسوس ہوا۔ اس ’اوہ‘ لفظ میں شاید اپنائیت کی آنچ کچھ زیادہ تھی۔

’’مل جائے گی نوکری، کوشش میں ہوں۔‘‘ اس نے جھیپنتے ہوئے کہا۔

’’کوئی روزگار کیوں نہیں کرلیتے؟‘‘

’’روزگار کرنے کے لیے روپیہ کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘

’’آج کل لون وون مل ہی جاتا ہے۔‘‘ بیوی نے پھر کہا۔ سنی سنائی باتیں۔ اسے اس کی حالت کا اندازہ کہاں تھا۔

’’اس کے واسطے بھی قبل آفس میں خرچنا پڑتا ہے، کرسیوں کے قدوبت کے مطابق۔ آپ نے وہ کہاوت تو سنی ہوگی کہ — روپیہ ہی روپیہ کو پیدا کرتا ہے۔‘‘ ’’میرے جیسا خانہ بدوش جس کے سر پر نہ خود کی چھت ہو نہ پاؤں کے نیچے خود کی زمین، وہ خواہ روزگار کا خیال بھی کیونکر کرسکتا ہے۔‘‘ اس نے اسی آہستگی سے کہا۔ بیوی خاموش ہوگئی۔ خواہش ہوتے ہوئے بھی میں نے کوئی سوال نہ کیا۔ معلوم تھا زیادہ کریدنے سے درد میں اور اضافہ ہوجاتا ہے۔ لیکن تعجب ہوا یہ انسان جو اب تک ایک طلسم نظر آتا تھا، ابھی غموں کا پتلا نظر آرہا تھا۔ بالکل بکھرا بکھرا ہوا۔ میرے خیال میں آیا لیکن فوراً میں باخبر ہوگیا۔ اتنی جلدی کسی کے بھی متعلق کوئی رائے قائم کرنا مناسب نہیں۔ باز وقت خیال اور انداز اُلٹ بھی جایا کرتے ہیں۔

بیوی اٹھی۔ اندر چلی گئی۔ ہمارے درمیان پھر چُپی پسر گئی۔ آج بندی کا دن تھا۔ شاید وہ بھی فری تھا آج، ورنہ اتنی دیر بیٹھا نہ رہتا۔ یا کوئی ایسی شے تھی جس نے اس کے پاؤں کو جکڑ رکھا تھا۔ وقت کچھ زیادہ ہی گزر گیا۔ خاموشی اب اُوب پیدا کرنے لگی تھی کہ بیوی آئی۔ ہاتھ میں ٹرے لیے۔ ٹرے میں پلیٹیں تھیں۔ بھونا ہوا چیوڑا، چپس اور مونگ پھلی کے دانوں سے بھری۔ میز پر ٹرے رکھ کر وہ پھر اندر گئی اور پانی کا جگ اور گلاس لیے واپس آئی۔ پلیٹ میں نے اس کی طرف بڑھایا۔ بغیر نانکر کے اس نے لے لیا۔ ہم ناشتہ کرنے لگے۔ ’’اس سے قبل آپ کہاں تھے؟‘‘ جھجھکتے ہوئے میں نے سوال کیا۔ اولین سوال۔ رسماً … بعض وقت خاموشی بوریت کی حد تک اوباؤ ہوجاتی ہے۔

’’ہاسپیٹل روڈ میں‘‘، اس نے کہا۔

خواہش ہوئی پوچھوں، وہاں سے کیوں چلے آئے؟ نہیں پوچھا۔ وہ کھانے میں مشغول تھا۔ وہم کی باہری دیواریں گری تھیں۔ راز ابھی برقرار تھا۔

ناشتہ ختم کر شکریہ ادا کرتا ہوا وہ اٹھ کھڑا ہوا اور باہر کی جانب بڑھا۔ میں ساتھ بڑھ گیا۔ رسماً باہر تک جانا لازمی تھا۔ آداب کر وہ جب آگے چلا گیا تو دفعتاً دماغ میں کوندا۔ ارے، نام تو پوچھا ہی نہیں اس سے اور اس نے بھی نہیں پوچھا تھا میرا نام۔

صبح غسل وغیرہ سے فراغت ہوا ہی تھا کہ بیوی نے ٹفن دیتے ہوئے کہا — ’’انھیں دے آئیے۔‘‘

’’کسے؟‘‘ تعجب سے سوال کیا میں نے۔

’’اس چھت پر۔‘‘

’’اچھا … اچھا … اُسے؟‘‘

’’ہاں۔‘‘

’’کیا ہے اس میں؟‘‘

’’ذرا سا گاجر کا حلوا ہے۔‘‘ اس نے کہا۔ میں زیرلب مسکرایا۔ معلوم نہیں اس کی اپنائیت یا جذباتیت پر۔ صحیح ہی فرمایا ہے کسی نے کہ عورت کے دل پر اگر فتح حاصل کرنا ہو تو اس کے بچے کو پیار کرو۔

سیڑھیاں چڑھتا میں اوپر پہنچا۔ اس کے کمرہ کا پتہ کیا۔ دروازہ اندر سے بند تھا۔ دستک دیا دروازہ کھلنے میں دیری ہوئی۔ کوفت ہوئی خود پر خواہ مخواہ اتنی اپنائیت جتانے کی کیا ضرورت ہے۔ واپس لوٹنے ہی والا تھا کہ اچانک دروازہ کھلا۔ اس کے چہرہ پر ناگواری کی جھلک تھی۔ لیکن مجھ پر نظر پڑتے ہی وہ خوش ہو اٹھا —

’’ارے آپ؟ آئیے … آئیے۔‘‘ دروازہ سے ایک طرف ہٹتے ہوئے اس نے کہا۔ میں اندر آگیا۔ اس نے جلدی جلدی چارپائی پر بکھرے کپڑوں کو ایک طرف سمیٹا۔ بیٹھنے لائق جگہ بنایا۔ میں بیٹھ گیا۔ کمرہ معمولی سا تھا۔ سامان کے نام پر ایک چارپائی، ایک بوسیدہ میز، ایک لکڑی کی کرسی، ایک آہنی بکسہ، دیوار میں بغیر پلہ کی المیرا، اس میں مڑے تڑے کچھ کپڑے کاغذ … کتابیں … نظر کی زد میں آنے لائق۔ شاید وہ کپڑوں پر استری کررہا تھا۔ اس دفعہ نام پوچھنے میں میں نے تاخیر نہ کی۔

’’آپ کا نام؟‘‘

’’سبودھ‘‘

’’میں مہیش۔‘‘ اس کے سوال سے قبل ہی میں نے اپنا نام بتا دیا اور جھجکتے ہوئے ٹفن اس کی طرف بڑھایا —

’’یہ لیجیے، بیوی نے بھیجا ہے۔‘‘

’’کیا ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔ جھجک سے اس کے ہاتھ آگے نہیں بڑھ رہے تھے۔

’’گاجر کا حلوا۔ لے لیجیے نہ۔‘‘ میں نے ضد کی۔ اس نے لے لیا۔

’’کہیں جانے کی تیاری ہورہی ہے؟‘‘

’’ہاں، ایک جگہ انٹرویو کے لیے جانا ہے۔‘‘

’’اوپر والا آپ کو کامیابی دے۔‘‘

’’امید تو ہے یہ نوکری حاصل ہوجائے گی۔ اس دفعہ علاقائی مقنن کی سفارش حاصل ہے۔ بھاگ دوڑ کرتے کرتے پست ہوگیا ہوں۔‘‘

’’خوش خبری ضرور سنائیے گا۔ اب اجازت دیجیے۔‘‘ میں نے کہا۔ اس نے روکنے کی کوشش کی۔ میں نہیں رُکا۔ دکان کھولنے کا وقت ہوگیا تھا۔

چند لمحے بعد وہ سیڑھیوں سے اترتا نظر آیا۔ سلیقے کے کپڑوں میں وہ بے حد خوبصورت اور اسمارٹ نظر آرہا تھا۔ ہاتھ میں فائل اور ہونٹوں پر اعتماد کی مسکراہٹ۔ بغیر ادھر اُدھر دیکھے وہ تیزی سے قدم بڑھاتا آگے بڑھ گیا۔ اسے شاید یہ خوف تھا کہ پیچھے سے کوئی آواز نہ دے بیٹھے۔ ماں کہتی تھیں کہ ٹوکنے سے کام خراب ہوجاتا ہے۔ شاید وہ بھی اس وہم کا قائل تھا۔

شام کے وقت وہ آتا نظر آیا۔ اس کی چال میں وہ جوش نہیں تھا۔ وہ اس طرح چل رہا تھا جیسے پاؤں کو گھسیٹ رہا ہو۔ میرا دل اندیشہ سے دھک سے رہ گیا۔ شاید اس دفعہ بھی کامیابی نہیں ملی تھی اسے۔ رنج ہوا مجھے۔ اسے آواز دیا میں نے۔ آواز پر اس نے نظریں اٹھاکر دیکھا اور چلا آیا میری جانب۔ اس کے ساتھ میں اندر آگیا۔ دکان میں خریداروں کا آمد و رفت تھا۔

لمحوں وہ گم سم بیٹھا رہا۔ میں اندر باہر آتا جاتا رہا۔ بیوی چائے لے آئی … بے دلی سے اس نے چائے پی۔ لیکن اس کے چہرہ پر افسردگی اسی طرح گہری بنی رہی۔ بیوی فکرمند ہو اٹھی اس کی حالت پر۔ اس کا منھ کھولوانا ضروری تھا ورنہ کشیدگی اسے کسی بھی حد تک پریشان کرسکتا تھا۔

’’معلوم ہوتا ہے، آج بھی کام نہیں ہوا؟‘‘ میں نے اسے کریدا۔

’’قابلیت، علمیت، ایمانداری اور سچائی، دور حاضر میں ان سب کی کوئی اہمیت رہ گئی ہے؟‘‘ اس نے جواب کے بدلے سوال کیا۔ کیا جواب دیتا میں۔ میں تاجر تھا۔ پشتینی روزگار پر بیٹھنے والا۔ بہت تردد نہیں کرنی پڑی تھی مجھے کچھ حاصل کرنے کے لیے۔ بہت زیادہ نہ صحیح اتنا تو ہے کہ آرام سے کھانا پینا چل جائے۔ میں خاموش رہا۔

’’کوئی اہمیت نہیں ہے ان کی صرف خیالی باتیں ہیں یہ … اہم ہے تو صرف سفارش اور چڑھاوا …‘‘ اس نے کہا۔

’’مقنن کی سفارش کا کیا ہوا؟‘‘ میں نے سوال کیا۔

’’بہت کھوٹے نصیب والا ہوں میں۔ کابینہ کو آج ہی رد ہونا تھا۔

اب اس مقنن کی قیمت ایک مردہ سے زیادہ نہیں رہ گیا ہے اور اس کی سفارش … ہوں …‘‘ اس نے حقارت سے کہا۔ میں کیا کہتا۔ جھوٹی تسلی دینا مناسب نہ تھا۔

’’یہ انٹرویو محض خانہ پُری کے لیے کیے جاتے ہیں۔ پہلے سے ہی طے ہوتا ہے کس کو لینا ہے۔ پھر بھی ایک امید … کہ شاید یہ ایم اے کی ڈگری کام آجائے۔ اب تو نوکری کی عمر بھی ختم ہورہی ہے۔ پھر وہی غیرمعین زندگی تلخ ریگستان کی طرح سامنے کھڑی ہے … زندہ رہنے کی خواہش … بہتر زندگی کا خواب … کبھی نہ ختم ہونے والا انتظار بن گیا ہے۔‘‘ اس نے کہا اور ہونٹوں کو زور سے بھینج لیا۔ شاید آنکھوں میں چھلک آئے آنسو کو روکنے کے لیے۔ لیکن ناکامیاب رہا۔ آنسو کے چند باغی قطرے لڑھک ہی آئے اس کے رخسار پر۔ آہستہ سے وہ اٹھا اور باہر نکل گیا۔ بغیر کچھ کہے۔

وہ مایوس تھا۔ علی الصبح ہی میں پہنچ گیا اس کے کمرہ میں۔ اس دفعہ دروازہ بھڑکا ہوا تھا۔ ذرا سا دباؤ سے کھل گیا۔ اندر اس کے ساتھ کوئی اور بھی موجود تھا۔ واپسی کے لیے میں مڑا۔ اس نے آواز دی اور ادب کے ساتھ لے جاکر مجھے چارپائی پر بیٹھا دیا۔ اس آدمی کے قریب۔ اور باہمی ہمارا تعارف کرایا —

’’یہ للن ہے میرا دوست۔ اور آپ ہیں مہیش بابو۔‘‘ پھر خاموشی پسر گئی۔

شاید ان دونوں میں سنجیدہ گفتگو ہورہی تھی میری آمد سے خلل پیدا ہوگئی تھی۔ للن کچھ کہنے سے جھجکا۔

’’بے جھجک کہو۔ اپنے ہی لوگ ہیں، ان سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے۔‘‘ سبودھ نے کہا۔

اس کا یہ جملہ اچھا لگا مجھے۔

’’میرا خیال ہے کہ کبھی نہ کبھی انسان کو قسمت پر یقین کرنا ہی پڑتا ہے۔‘‘ للن نے کہا۔

’’تمہیں پتہ ہے نہ میں قسمت کو نہیں مانتا؟‘‘ سبودھ نے کہا۔ دُکھوں کے بوجھ تلے دبا انسان کا جملہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس کا احساس تھا مجھے۔

’’قسمت پر تمہیں یقین نہیں۔ کام سے کچھ حاصل نہیں ہورہا … اس لیے تو کہہ رہا ہوں میری بات پر عمل کرو۔ جب انسان کے کیے کچھ نہ ہورہا ہو تو اسے خود کو وقت کی دھار کے حوالے کردینا عقل مندی ہے۔

’’بغیر کچھ کام کیے؟‘‘ اس نے تعجب سے پوچھا۔

’’بالکل، ہاتھ پاؤں تو مارنے سے تم قاصر نہیں رہے لیکن انجام کیا ہوا؟ تلخ آواز تھی للن کی۔

’’پھر بھی …‘‘ اس نے للن کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔

’’چند دنوں کی ہی تو بات ہے۔ پھر سب درست ہوجائے گا۔ بُرے دن بھی نہیں رہتے ہمیشہ، اچھے دنوں کی طرح …‘‘ للن نے کہا۔

’’پرسوں آخری انٹرویو ہے … آخری امید … اس کے بعد تو عمر بھی نہیں رہ جائے گی نوکری کی‘‘، اس نے کہا۔ اس کی نم آواز نے میرے جگر کو چیر دیا۔ وہاں بیٹھے رہنا مشکل لگا۔ میں وہاں سے چلا آیا۔ ایسے حالات سے دوچار ہوچکا تھا میں۔ میرا چھوٹا بھائی سریش اپنی تمام تر کوششوں میں ناکام ہو صبر کھو بیٹھا تھا اس نے اور ناامیدی کے عالم میں نیند کی گولی کا اوور ڈوز لے کر زندگی کے منھ پر طمانچہ لگا گیا تھا۔ وہ منظر یاد کر دل دہل گیا میرا۔ اوپر والا نہ کرے ناامیدی اپنا پنجہ اس کی عمر کے گردن پر بھی گڑا دے …

چند لمحات بعد للن سیڑھیاں اترتا نظر آیا۔ پیچھے وہ بھی تھا۔ دونوں مین روڈ کی طرف بڑھ گئے۔ میں دکان میں مصروف ہوگیا۔ دوپہر ڈھلنے کو تھی کہ وہ آتا نظر آیا۔ دکان کے قریب آیا۔ میں نے آہستہ سے آواز دی۔ وہ آگیا۔ دکان میں آج بھیڑ نہ کے برابر تھی۔ ہم دکان میں ہی بیٹھ گئے۔

’’للن کسی روزگار کے متعلق کہہ رہے تھے؟‘‘ بات چھیڑنے کی غرض سے پوچھا میں نے۔

’’وہ جس روزگار کے متعلق باتیں کررہا تھا، اسے کرنے میں میں قاصر ہوں۔‘‘ اس نے اٹکتے ہوئے کہا۔

’’کوئی عظیم روزگار ہے؟‘‘ میں نے پھر سوال کیا۔ وہ چند لمحے خاموش رہا۔ شاید پس و پیش میں تھا کہ کہے یا نہ کہے۔ مجھے اس کی حالت کا احساس ہوا اور خود کی بے وقوفی پر کوفت بھی۔ میں اسے عزیز ماننے لگا ہوں۔ ضروری نہیں کہ وہ بھی مجھے اپنا سمجھے۔

’’بالکل نہیں بلکہ بہت ہی خراب کام ہے‘‘، اس نے کہا۔ میں نے راحت کی سانس لی۔

’’کون سا کام؟‘‘

’’وہی ڈاکٹروں کے لیے مریض پھنسانے کا دھندا۔ وہ خود یہی پیشہ کرتا ہے۔ اس کی وجہ سے مجھے وہ محلہ چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ ہمیشہ پریشان کرتا رہتا … اخلاقیات کا آچار ڈالوگے۔ کہتا ہے … اور یہ بھی کہتا ہے کہ اس دنیا میں مرنا جتنا آسان ہے، زندہ رہنا اتنا ہی مشکل۔

’’اس کی باتیں صحیح ہیں لیکن کیا ضروری ہے کہ غریب مظلوم مریضوں کا استحصال کیا جائے…‘‘، اس نے کہا۔ اس کی باتوں سے عجیب سا احساس ہوا مجھے۔ مجبوری انسان سے جو نہ کرنے کو آمادہ کردے…

دُکھ کا چٹان پار کرنے کا حوصلہ اس دور میں کتنے نوجوانوں میں ہے۔ آج کل تو بہت کچھ، بہت جلد حاصل کرنے کی خواہش میں جوان نسل اخلاقیات کی تمام حدیں فوراً لانگھنے پر آمادہ ہوجاتی ہیں۔

’’کچھ تو کرنے کا خیال کیا ہوگا؟‘‘

’’ہمیشہ سے خیال ہی تو کرتا رہا ہوں۔ اچھی نوکری کا … عمدہ زندگی جینے کا … دل لگا کر کمپٹیشن کی تیاری کی تھی۔ انٹرویو میں نکل بھی گیا تھا لیکن جوائننگ لیٹر کے بدلے ڈِمانڈ ہوا ڈیڑھ لاکھ روپیہ جلد از جلد میں گاؤں پہنچا۔ عرصہ قبل پتا کا انتقال ہوگیا تھا۔ غموں کی ماری اماں بے وقت بوڑھی ہوگئی تھیں بیٹا کو افسر دیکھنے کی تمنا آنکھوں میں سنجوئے۔ انگلیوں پر ماہ و سال گنتی۔ پتا زمین جائیداد چھوڑ گئے تھے جس کی دیکھ بھال چچا کے ذمہ تھی۔ یہی خیال تھا کہ زمین کا ایک حصہ بیچ کر روپیہ لے آؤں گا۔ لیکن پاؤں کے نیچے کی زمین اس وقت کھسک گئی جس وقت معلوم ہوا میرے حصہ کی تمام زمین و جائیداد پہلے ہی فروخت ہوچکی ہے۔ چچا نے یہ باتیں زبانی نہیں کہی تھی بلکہ دستاویزوں پر ماں کے انگوٹھے کا نشان بھی دکھا دیا تھا۔ سن کر اماں پچھاڑ کھا کر گری تھیں اور پھر نہیں اٹھی تھیں زندہ …

اس انہونی پر ساکت رہ گیا تھا میں۔ تعجب ہوا تھا اس سادہ لوح گاؤں میں اتنی چالاکی اور مکّاری کس راستے آگھسی تھی۔ وہ سگا چچا تھے کوئی غیر یا پڑوسی نہیں۔ دولت کی ہوس نے انھیں کس قدر بے ایمان بنا دیا تھا۔ اس گاؤں کو آخری سلام کر واپس آگیا تھا میں لُٹا پیٹا سا۔ اور پھر مارنے لگا تھا ہاتھ پاؤں بے طے شدہ مستقبل کے سمندر میں۔ ہنوز یہی شہر میرا پناہ گاہ ہے اور رازق بھی۔ شروع میں ناکام انٹرویوز … انتظار … بھاگم بھاگ … بہتر زندگی جینے کی خواہش … روزگار کے لیے بینکوں کا چکّر … لیکن وہی … قبل روپیہ دو … پھر لو …‘‘ کہہ کر وہ خاموش ہوا۔ اب بھوچکا ہونے کی نوبت میری تھی۔ اس طلسم کے تمام دروازے کھل گئے تھے لیکن جتنے کھلے تھے اس کے رنج و غم نے میرے جگر کو چیر ڈالا تھا۔ اتنی تکلیف ہوتی ہے کسی ایک انسان کی زندگی میں، جسے سن کر میں بے چین ہو اٹھا تھا۔ اسے جھیل کر یہ زندہ کس طرح ہے اب تک؟ لیکن چارہ ہی کیا تھا۔ تسلّی کے چند الفاظ سے اس کی تکلیف کم ہونے والی نہیں تھی۔ اس لیے کچھ اور پوچھنا مناسب نہ تھا۔ کون سا وہ بھاگا جارہا تھا اس محلہ سے اور کون سا میں گھر چھوڑنے والا تھا۔ بیوی چائے لے آئی تھی۔ ہم چائے کی چسکی لینے لگے تھے۔

’’معلوم ہے، شروع میں غریبی سے تنگ آکر میں نے للن کا ساتھ بھی دیا تھا۔ خاصی کمیشن مل رہی تھی۔ چند ہی روز میں میرے کپڑے بھی للن کے کپڑوں کی طرح بھک سفید ہوگئے تھے۔ للن نے خوش ہوکر کہا تھا۔ ’’معلوم ہوا نہ، جب جیب میں کرارے نوٹ ہوں تو چہرہ بھی کس قدر ہریا جاتا ہے۔‘‘ لیکن وہ سفیدی بہت دنوں تک مفید محسوس نہ ہوئی۔ ڈاکٹروں کی دلالی مطلب خود کی ضمیر کو کوڑھ میں تبدیل کرنا۔ ایک طرف ضدی خواب تھے کہ بے چین کیے دے رہے تھے۔ چائے بریڈ سے اُوبا دل طریقہ کا کھانا کو ترستا … بہت ہی کشمکش میں گزرا چند دن۔ اور پھر اس دھندا اور اس محلہ کو بھی ہمیشہ کے لیے الوداع کردیا میں نے‘‘، اس نے کہا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے وقت افسردگی کے گرت میں غرق ہوگیا۔ بعض حالات میں لفظوں کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے خاموشی کے علاوہ …

آج کل وہ زیادہ خاموش رہنے لگا تھا۔ بے ترتیب بال، بغیر استری کیے کپڑے … بڑھی ہوئی داڑھی … آواز دینے پر چلا تو آتا لیکن خاموش ہی رہتا۔ پھر اٹھ کر چلا جاتا۔ بیوی نے ایک روز کہا … ’’روزگار کرنے کے لیے اس کی کچھ مدد کردیجیے نا…‘‘ لیکن اس سے اس بابت کچھ کہنے میں ڈر محسوس ہوا مجھے۔ روپیہ دینے کی پیشکش سے کہیں اس کی انا کو چوٹ نہ پہنچے۔

اور ایک صبح معلوم ہوا راتوں رات وہ غائب ہوگیا تھا۔ کسی کو کچھ بتلائے بغیر۔ نہ معلوم کس وقت۔ نہ معلوم کہاں۔ بیوی کو یقین نہ ہوا اس خبر پر۔ اور جب ہوا تو پریشان ہو اٹھی وہ … زور دینے لگی۔ معلوم کیجیے کہاں ہیں وہ؟ آج کل ان کی دماغی حالت درست نہیں تھی۔ ناامیدی کے عالم میں کہیں کچھ کر نہ بیٹھیں۔‘‘ اس نے میرے بھائی کا انجام دیکھا تھا۔ اس لیے خوف زدہ تھی۔ لیکن میں اسے کہاں ڈھونڈتا۔ اتنی بڑی دنیا … انسانوں کی ہجوم سے جیسے ٹھاٹھے مارتا سمندر۔ خیال کر لرز گیا میرا جسم، ایک للن سے میں آشنا تھا لیکن اس کا پتہ مجھے معلوم نہ تھا۔

سال در سال گزرتے گئے۔ سونو گیارھویں برس میں آگیا تھا۔ اس کی نانی نے منّت مانگی تھی پیر بابا کے مزار پر بیٹی کی گود ہری ہونے کی۔ اور اولاد ہونے پر چادر چڑھانے کی۔ گزشتہ گیارہ سالوں کے دوران بیوی ایمانداری سے مسر رہی تھی منت پوری کرنے میں۔ سونو دیر سے پیدا ہوئی اولاد تھا۔ جتنی دیر ہورہی تھی اسے اس دنیا میں آنے میں منتوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا تھا۔ جو رشتہ دار جس جگہ تھا، وہیں سے کچھ نہ کچھ مانگ بیٹھا تھا۔ خود کے مطلوب سے اور سبھی کا بوجھ آن پڑا تھا میرے کمزور شانوں پر۔ اب کہیں پیر بابا کا نمبر آیا تھا۔ بیوی خوفزدہ تھی بابا کہیں ناراض نہ ہوجائیں۔ دیوی، دیوتا بھی تو ناراض ہوجاتے ہیں منت وقت پر پوری نہ ہو تو۔ اس کا کہنا تھا … ہرے رنگ کے سائن کی تیار چادر، سفید پھولوں کی لڑیاں لیے جا پہنچے تھے ہم لوگ پیر بابا کے دربار میں۔

’’ارے اگربتی تو لائی ہی نہیں۔‘‘ ’’ابھی لے کر آتی ہوں۔‘‘ بیوی نے کہا اور دکانوں کی طرف بڑھ گئی۔ اسے گئے ابھی چند لمحے ہی گزرے تھے کہ اچانک اس کی آواز سنائی دی …

’’سنتے ہیں، جلدی آئیے یہاں۔‘‘ میں گھبرا گیا۔ کیا ہوگیا اسے۔ جلدی جلدی قدم بڑھاتا سونو کو کھینچتا ہوا وہاں گیا۔ وہ ایک چھوٹی سی دکان کے سامنے کھڑی بے چینی سے میرا انتظار کررہی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی خوشی سے بولی …

’’پہچان رہے ہیں انھیں؟‘‘ اس کا اشارہ دکاندار کی طرف تھا۔ غور سے میں نے اسے دیکھا۔ اور حیرت سے میری آنکھیں پھیل گئیں۔ اس چھوٹے سے ٹین شیڈ والی دکان میں سبودھ کھڑا تھا، مسکراتا ہوا۔ ہر سو الائچی دانہ کے چھوٹے چھوٹے پیکٹ، اگربتی کے ڈبّے، دھاگا … وغیرہ رکھے ہوئے تھے ریک پر … اس کے چہرہ میں بھراؤ آگئی تھی۔

’’تم اس جگہ؟‘‘ میں نے پوچھا۔ میرے لہجہ میں حیرانی نمایاں تھی۔

’’ہاں مہیش بھائی، میں ہی ہوں آپ کا سبودھ اور یہ دکان بھی خود کی ہے۔‘‘ اس نے کہا … میں زور سے چونکا … پھر ایک اور معمہ …

’’یہ سب کچھ فروخت کرتے ہو تم؟‘‘ حیرانی ابھی بھی سوار تھی میرے سر پر … نگلنے میں بے حد تکلیف محسوس ہورہی تھی اس حقیقت کو۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ذہین لڑکا اور اس کی یہ نصیب …

’’خیریت سے تو آگاہ کر ہی سکتے تھے تم، معلوم ہے کتنے پریشان تھے ہم لوگ تمہارے واسطے …‘‘ میں نے کہا۔ میرے الفاظ میں پوشیدہ شکوہ، فکر اور خوف کو وہ تاڑ گیا۔

’’آپ لوگ فضول پریشان تھے۔ میں ان بزدلوں کی طرح نہیں ہوں جو زندگی کی جدوجہد سے ہار کر خودکشی کرلیتے ہیں۔ کام کوئی بھی ہو صغیر نہیں ہوتا بھائی جان۔ اگر انسان کے اندر اسے کرنے کی لگن اور دنیا سے لڑنے کی قوت ہو۔‘‘ اس نے کہا۔ اس کے ہونٹوں پر پرسکون مسکراہٹ کھل اٹھی۔ میرے دل کو تسلی ہوئی اور ایک لمحہ کے لیے یادوں میں کوندا … کاش، میرے بھائی کے اندر بھی حالات سے جوجھنے کا ایسا ہی حوصلہ ہوتا تو آج وہ بھی اسی طرح مسکراتا ہوا کھڑا ہوتا ہمارے سامنے۔

میں نے اس کی ہتھیلی کو اپنے ہاتھ میں لے کر آہستہ سے دبایا۔ جیسے حوصلہ دے رہا ہوں۔ اور ہم مطمئن قدموں سے واپسی کے مڑ گئے۔ ایک شاد کام پرستش کے سفر سے …

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

درد کے موسم انجم قدوائی ۔علی گڑھ ۔انڈیا

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 142 درد کے موسم انجم قدوائی ۔علی گڑھ ۔انڈیا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے