سر ورق / مضامین / دشت کے پار سمندر بھی ہوا کرتے ہیں۔ عادل رضا منصوری، جے پور، راجستھان

دشت کے پار سمندر بھی ہوا کرتے ہیں۔ عادل رضا منصوری، جے پور، راجستھان

دشت کے پار سمندر بھی ہوا کرتے ہیں۔

عادل رضا منصوری، جے پور، راجستھان

شاعری  اور کچھ جو بھی ہو ، پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ ” شاعری احساس کو الفاظ دینے کا نام ہے ” . اور اس کے  اظہار کے لِیے وہ  جس چیز کا سہارا لیتا ہے وہ  ہے "لفظ” . اور لفظ کی سب سے بدی طاقت اس کی معنی خیزی ہے –  اس طاقت کو ‘شکتی’ کہا گیا ہے – شکتی وہ  طاقت ہے جو لفظ کو معنی سے جوڑتی ہے- لفظ اور معنی کے رشتے کے بارے میں ہندوستانی شعریات  میں دو نظریے ہیں،  میمانسا والوں کا کہنا ہے ک لفظ سے معنی کا رشتہ فطری ہے جب ک نیایے والوں کا کہنا ہے ک لفظ کا معنی سے رشتہ فطری نہیں ہے، بلکہ یہ رشتہ رسمی اور روایتی نوعیت رکھتا ہے- کیوں کہ اگر لفظ سے مانی کا رشتہ فطری ہوتا تو ایک لفظ کے الگ الگ معانی یا پھر ایک معانی کے لئے الگ الگ لفظ نہیں ہوتے- لیکن مشکل یہ ہے کہ لفظ کوئی بے جان حربہ نہیں بلکہ ہر لفظ کا ایک احساسی حلقہ بھی ہوتا ہے جو اس لفظ کو اپنے آغوش میں لئے ہوتا ہے – اور ترسیل کے دوران لفظ کے ساتھ ہی منتقل ہوتا ہے ، اسی لئے فنون میں شاعری سب سے مشکل فن ہے کیوں کہ یہ ابلاغ کے لئے لفظ کے زندہ پیکر کو استعمال کرتی ہے- اس لئے شاعری میں کبھی ابلاغ سو فیصد نہیں ہوتا – دوسری بات یہ ہے کہ شاعر کوئی نیا لفظ نہیں بناتا اور نہ ہی کوئی نئی چیز تخلیق کرتا ہے بلکہ دو اشیا کے مابین ایک ایسا ربط دریافت کرتا ہے جو اس سے قبل دریافت نہیں ہوا تھا – ایک اچّھا فن کار لفظوں کے استعمال اور تشبیہوں اور استعاروں کی تخلیق میں جدّت سے کام لیتا ہے اور

انھیں گھسی پٹی صورتوں کے طور پر استعمال نہیں کرتا. دراصل وہ دوسروں کی نظر سے ماحول کا جائزہ نہیں لیتا بلکہ آنکھیں کھول کر خود ہر شے کو دیکھتا ہے – کچھ شعر دیکھئے –

اگ رہی ہے تھکن درختوں پر

کچھ پرندے سفر سے آئے ہیں

دھرے ہیں طاق میں ٹھنڈے اندھیرے

دیا دیکھے زمانہ ہو گیا ہے

سنا ہے بادلوں کی دوستی میں

وو سارے گھر کو نیلا کر رہی ہے

میں یہاں لکھ رہا ہوں بہتی دھوپ

اور دریا سمجھ رہے ہیں آپ

میں نے گُل کو کیا ہے رنگ آلود

اپنے دونوں سفید ہاتوں سے

زخم کھرچا تو رات بہہ نکلی

ایک سورج گمان میں تھا کہیں

جب میں "کھڑکی میں خواب ” کے لئے نئی آوازوں کی تلاش میں تھا تب  "سرسبز” کے مدیر جناب کرشن کمار طور  نے پاکستان میں نئی نسل کے جن شعرا کا ذکر کیا ان میں سب سے پہلا نام سیّد کامی شاہ کا تھا- کامی شاہ سے میری پہچان "تجھ بن ذات ادھوری ہے” کے ذریے ہی ہوئی – شاعر کے بارے میں جاننے کے تو ہو سکتا ہے کئی طریقے ہوں پر شاعر کو جاننے کا صرف ایک طریقہ ہے اور وہ ہے اس کا کلام – مندرجہ با لا اشعار پڑھنے کے بعد یہ تو صاف طور پر کہا جا سکتا ہے کہ سید کامی شاہ کی اپنی ایک نظر ہے اور وہ دو اشیا میں ایک ایسا  ربط دریافت کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں جو ان سے قبل کسی نے نہیں کیا ہوتا -اس کو  آسان الفاظ میں تازگی بھی کہا جا سکتا ہے۔

مجھے یہ بات کہنے میں کوئی تکلّف نہیں کہ کامی شاہ کی لفظیات اور کینوس محدود ہے ،پر  میرے نزدیک یہ کوئی بڑا مسلہ نہیں ہے ، کیوں کہ جب میں ماضی قریب کی طرف نظر کرتا ہوں تو مجھے وہاں ایسے چہرے دکھایی دیتے ہیں جو اپنی محدود لفظیات اور محدود کینوس کے باوجود ادب میں زندہ ہیں- کامی شاہ کے یہاں جو اطمینان ہے وہ شاید اس بات کے سبب ہے کہ وہ کرنا نہیں چاہتا ، ہونے کا انتظار کرتا ہے ، اس لئے اس کے کلام میں کاری گری نہیں ہے کیفیت ہے ، اور یہ کیفیت ہی اس کی سب سے  بڑی طاقت ہے –

یہ بات تو ہم سب اچّھی طرح جانتے ہیں کہ غزلوں کے مقابلے میں نظموں میں انفرادیت کیوں کر زیادہ ہوتی ہے ، پر اچّھی نظم کہنا اچّھی غزل کہنے سے زیادہ بڑی آزمائش ہے – کامی شاہ کی نظموں نے مجھے زیادہ متاثر نہیں کیا ، یہ بات صحیح ہے کہ غزلوں کے

مقابلے میں دیگر شاعروں کے اثرات ان کی نظموں میں کم دکھائی دیتے ہیں پر جہاں بھی یہ دکھائی دیتے ہیں ان کی کمزوری سامنے

آتی ہے – ان کی جو نظمیں مجھے پسند آئی وہ ہیں ” ایک نظم تمہارے ناخنوں کے نام "” ان دنوں”  جہاں وہ نظم کے بھر پور شاعر کے طرح نظر آتے ہیں –

کامی شاہ کے پاس نظر ، فکر ، احساس اور زندہ زہن کا ایسا توازن ہے جو ان کے دور تک سفر کرنے کا پتا دیتا ہے- مجھے امید ہے کہ آنے والے وقت میں پاکستان میں جو شعرا اپنے عہد کی نمائندگی کے لئے جانے جائینگے ، ان میں ایک نمایاں نام سیّد کامی شاہ کا ہوگا- دعا گو ہوں کہ ان کی تلاش جاری رہے-

۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اک آہو ئے خوش چشم ۔۔۔ نورالحسنین

                          اک آہو ئے خوش چشم  نورالحسنین    اورنگ آباد ( دکن )                 …

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے