سر ورق / مکالمہ / سسٹم ٹو ڈے کا ۔۔۔کے ایم خالد سے مکالمہ

سسٹم ٹو ڈے کا ۔۔۔کے ایم خالد سے مکالمہ

سسٹم ٹو ڈے کا ۔۔۔کے ایم خالد سے مکالمہ

’’مشتاق احمد یوسفی اور عطا الحق قاسمی سے مجھے روحانی شرف تلمذ ہے ‘‘
’’طنزو مزاح ادب میں برائے نام ،صحافت میں نامور ہو گیا ہے ‘‘
’’ میں نہیں چاہتا کہ کتاب میری پہچان بنے ‘‘
احمد حاطب صدیقی اور گل نوخیز اختر کے کالم ذیادہ پڑھے اور پسند کئے جاتے ہیں ‘‘۔

کے ایم خالد اردو ادب میں طنزو مزاح کا خوشگوار اضافہ ہیں۔وہ پچیس سال سے بہت سے جرائد اور اخبارات میں مزاح لکھ رہے ہیں ۔ان کی تحریریں اردو کی سب سے بڑی ویب سائٹ، اردو پوائنٹ سمیت باقاعدگی سے درجنوں ویب سائٹس کا حصہ بنتی ہیں۔ان کا ہفتہ وار فکاہیہ کالم ’’مزاح مت ‘‘ روزنامہ طاقت میں شائع ہوتا ہے۔ ایک نجی چینل میں طنزو مزاح کے پروگرام ’’ گلیکسی نائٹس ‘‘ کے بعد ان کے کامیڈی ڈرامے ’’شوخیاں ‘‘ نے پی ٹی وی کے مزاح کو ایک نیا انداز دیا ہے۔پی ٹی وی پر ہی ان کے تحریر کردہ ڈرامے ’’عید شوخیاں ‘‘،’’نواب گھر ‘‘اور ’’مسٹر بین ان پاکستان ‘‘ بھی داد حاصل کر چکے ہیں ۔
سوال ۔مزاح کا سفر کب شروع کیا ؟
میری باضابطہ پہلی تحریر تیس روزہ ‘‘چاند ‘‘ میں 1986ء میں شائع ہوئی اور آج میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ اگر ’’چاند ‘‘ میری تحریروں میں طنز کی کاٹ اور مزاح کی چاشنی کو محسوس کرکے مزید نہ نکھارتا تو شائد میں تیسرے درجے کا سادہ سا افسانہ نگار ہوتا ۔
صاحب کتاب بننا ایک جنون بن گیا ہے شائد کتاب کا مواد پورا بھی نہیں ہوتا کہ لکھاری اس کی اشاعت کی تیاریاں شروع کر دیتے ہیں میری خواہش ہے کہ کتاب میری پہچان نہ بنے بلکہ میری ذات کتاب کا حوالہ بنے میرے پاس مواد کی کوئی کمی نہیں کچھ پبلشرز سے ’’رائلٹی ‘‘ جیسے حساس موضوع پر مذاکرات چل رہے ہیں امید ہے کہ اس مالی سال میں ’’ مزاح مت ‘‘ تو مارکیٹ میں آ ہی جائے گی۔
۲۔ادب و صحافت میں طنزو مزاح کا کیا کردار رہ گیا ہے ؟،کیا بہتری آ رہی ہے یا ابتری ؟
ادب میں تو طنز ومزاح برائے نام ہی رہ گیا ہے کوئی زمانہ تھا جب طنز ومزاح کے شمارے مارکیٹ میں دستیاب تھے تو کچھ نیا پڑھنے کو مل جاتا تھا کہ ناقدری اس نہج تک آگئی کہ سب مالی پریشانیوں سے بند ہو گئے چند ایک سہہ ماہی ہیں جو اپنی مدد آپ کے تحت نکالے جا رہے ان میں بھی تعطل آ رہا ہے ۔باقی کچھ ڈائجسٹوں میں طنزو مزاح دستیا ب ہے لیکن اسے ادب کا درجہ نہیں دیا جا سکتا ۔
اخباری صحافت میں مختلف اخبارات میں فکاہیہ کالم جو بہت حد تک تو نہیں لیکن پھر بھی کچھ طنزو مزاح کی کمی پوری کرنے کی کو شش میں ہیں لیکن چونکہ فکاہیہ کالم نویس بھی ذیادہ تر سیاسی موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں اسی کوشش میں وہ قاری کو وہ حظ نہیں اٹھانے دیتے جس کی قاری کو ان سے تمنا ہے ۔احمد حاطب صدیقی اور گل نوخیز اختر کے کالم اس لحاظ سے ذیادہ پڑھے اور پسند کئے جاتے ہیں کہ وہ سیاست کی بجائے معاشرتی برائیوں کا چیر پھاڑ اس انداز سے کرتے ہیں کہ قاری مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتا ۔
صحافت میں ادب کی نسبت طنزو مزاح میں بہتری آئی ہے ۔
۳۔پاکستان میں موجودہ دور میں کون کونسے بہتر مزاح نگار ہیں ؟
مشتاق احمد یوسفی ،عطاالحق قاسمی ، انور مقصود،ڈاکٹر یونس بٹ ،آفتاب اقبال ،ڈاکٹر اشفاق احمد ورک ،احمد حاطب صدیقی ،گل نو خیز اختر ۔
۵۔فرسودہ مزاح کسے سمجھتے ہیں ؟
مختلف چینلز پر سیاسی طنزو مزاح کے نام پر پیش کئے جانے والے سوائے ایک دو پروگراموں کو چھوڑ کر سبھی فرسودہ مزاح کے زمرے میں آتے ہیں جہاں طنز کے نام تضحیک اور مزاح کے نام پر پھکڑ پن ہی نظر آتا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ خالصتاً طنز و مزاح کے ان پروگرامز میں کوئی مزاح نگار شامل نہیں ہوتا۔اس کی سب سے بڑی مثال جیو گروپ کا کسی زمانے میں مقبول ترین پروگرام ’’ خبرناک ‘‘ ہے آفتاب اقبال کے چھوڑنے کے بعد اس پروگرام کو اچھا کپتان ہی میسر نہیں آ سکا اب یہ پروگرام پھکڑ پن کی انتہا پر نظر آتا ہے جہاں ہر فنکار اپنی اپنی آئتمز کے ذمہ دار ہیں اور ہر ایک کی خواہش ہے کی اس کی تیار کی جانے والی ’’آئٹم ‘‘ چھا جائے چاہے وہ کتنی ہی ذومعنی یا لچر پن کی انتہا پر ہی کیوں نہ ہو اور تیار کئے جانے والے اس ’’ملغوبے ‘‘کو ٹیم جیو کی کاوش قرار دے دیا جاتا ہے ۔
۶۔مزاح کی افادیت کو قائم رکھنے اور نئے مزاح نگاروں کو آگے لانے کے لئے کیا کرنا چاہئے ؟
اگر یہاں گل نو خیز اختر کا یہ جملہ لکھ دیا جائے تو بات واضح ہو جائے گی کہ’’گئے دنوں میں مزاح نگار خال خال تھے پھر ایک وقت آیا کہ اینٹ اکھیڑو تو مزاح نگار نکلتا تھا،اب اینٹ نہ بھی اکھیڑیں تومزاح نگار خود ہی زمین کھرچ کھرچ کر باہر نکل آتا ہے‘‘۔
مگر بات مزاح کی افادیت کو قائم رکھنا ہے کسی دور میں کسی تحریر کی نوک پلک سنوارنا بہت ضروری خیال کیا جاتا تھا مگر فی زمانہ نئے لکھنے والے شائد نوک پلک سے آگاہ ہی نہ ہو کیونکہ ویب سائٹس کی بہتات نے تحریر کو من وعن شائع کرنے میں کردار تو ادا کیا ہے مگر نئے لکھنے والوں کی تحریر کی اصلاح کے لئے جو قدم اٹھایا جانا ضروری ہے اس جانب توجہ نہیں دی جارہی ۔
کسی دور میں طنزو مزاح کے رسالے نئے مزاح نگاروں کے لئے نرسری کی حیثیت رکھتے تھے مگر ان شماروں کے بند ہونے سے نئے مزاح نگار تو مارکیٹ میں آنے بند تو نہیں ہوئے لیکن ان کی جو مناسب تربیت ان رسالوں کے ایڈیٹر صاحبان کرتے تھے اس کا اب فقدان ہے ہمارے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کو نئے مزاح نگاروں کو سامنے لانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے لیکن فی زمانہ طنزو مزاح کے نام پر الیکٹرونک میڈیا میں جو کام ہو رہا ہے اس میں طنزو مزاح کے لکھاری کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔
اس سلسلے میں میری خواہش اور کوشش ہے کہ صرف طنزو مزاح کے حوالے سے ایسی ویب سائٹ لانچ کر سکوں جو نئے مزاح نگاروں کو ’’ تکے ‘‘ کی بجائے ’’ تیر ‘‘ بنانا سکھا سکے ۔
۸۔آج بہت سے نوجوان تخلیق ،تحقیق ،اور اسلوب بیاں سے نابلد ہیں مگر خود کو سکہ بند ادیب و صحافی کہلوانا چاہتے ہیں کیا یہ بات درست ہے ؟
آج کے دور میں یہ بات سو فی صد درست ہے کہ بہت سے نوجوان تخلیق ،تحقیق اور اسلوب بیاں سے نا بلد ہیں لیکن سوشل میڈیا ہر کی جانے والی واہ واہ کی بدولت اپنےآپ کو سکہ بند ادیب سمجھتے ہیں جبکہ جتنے بھی بڑے ادیب گزرے ہیں ان کا یہی کہنا ہے جب تک آپ اچھا پڑھو گے نہیں اچھا لکھنے کا تصور بھی نہ کرو ۔آج کا نوجوان ادیب اپنی تحریر تو پڑھائے جانے کا خواہش مند ہے لیکن کسی کی تحریر کو پڑھنا نہیں چاہتا ۔جتنا ایک ادیب کا مطالعہ اور تحقیق وسیع ہو گی اس کی تخلیق کا اسلوب بیاں اتنی ہی ذیادہ اثر انگیزی لئے ہوئے ہوگا

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

محترمہ سیما غزل سے مکالمہ۔ محمد زبیر مظہر پنہوار

ٹی وی پلے رائٹر‘ ناولسٹ‘ کہانی کار‘ افسانہ نگار ‘ شاعرہ سیما غزل یوں تو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے