سر ورق / ثقافت / انار کلی کی حقیقت ۔۔۔ ناصر خان ناصر

انار کلی کی حقیقت ۔۔۔ ناصر خان ناصر

انار کلی کی حقیقت

ناصر خان ںاصر
سوال. کیا سید امتیاز علی تاج صاحب نے اپنا مشہور عالم ڈرامہ
” انار کلی” اس عالمی رومانی کہانی کو بنیاد بنا کر لکھا؟ . یاد رہے کہ انار کلی وہ مشہور ڈرامہ تھا جسے جناب سید امتیاز علی تاج صاحب نے محض بائیس برس کی بانکی عمر میں 1922 میں لکها تو اس کی ہر طرف دھومیں مچ گئیں مگر افسوس کہ یہ کہانی طبعزاد نہیں ہے. اس قصے کو پہلے عبدالحلیم شرر صاحب نے 1910 میں لکها تها. تاج صاحب نے متعدد مزید کئ فرانسیسی اور انگریزی ڈرامے بھی ترجمہ کیے۔ وہ ان ترجموں میں کرداروں کے دیسی نام رکھ کر اور انھیں دیسی ماحول میں ڈھال کر پیش کرتے تھے۔


انار کلی ایک ایسی ہی کہانی ہے جس پر ہندوستان میں پہلے 1922 میں فلم بنی، جس میں اینگلو انڈین ٹیلیفون آپریٹر روبی مائرز نے سلوچنا کے نام سے کام کیا. دوسری فلم 1953 میں انار کلی بنی جس میں بینا رائے اور پردیپ کمار نے کام کیا اور پهر 1960 میں معرکتہ آرا فلم "مغل آعظم ” بنائ گئ جس میں پرتھوی راج ،درگا گهوٹے، دلیپ کمار اور مدھو بالا نے کام کیا . پاکستان میں 1958 میں "انار کلی” کے نام سے بنی فلم میں آصف جاہ، سدھیر نور جہاں اور شمیم آرا نے کام کیا.
لاہور میں مشہور انار کلی بازار کا نام بھی شاید اس فرضی کردار پر رکها گیا تها.
تاریخی طور پر اس کہانی کا حقیقت سے کوئ تعلق ثابت نہیں ہو سکا. یہ قصہ بهی ان جهوٹ کے پلندوں ، کاوشوں، تہمتوں میں شامل ہے جن کے شوشے انگریزوں نے مسلمان بادشاہوں کو بدنام کرنے کے لیے عرصہ دراز سے چھوڑ رکھے تهے. لاہور میں تو سکرٹریٹ کے پاس انارکلی کا مقبرہ تک موجود ہے مگر کون جانے کہ دراصل وہاں کون دفن ہے؟
یہ بات لاہوریے بھی نہیں بتا سکتے. از راہ تفنن حسن ابدال کے نزدیک ایک مغل شہزادی لالہ رخ کا مقبرہ موجود ہے جو بقول شخصے اورنگ زیب کی ناراض ملکہ تھیں. اس مقبرے کا ایکس رے کی مدد سے اور دیگر سائنسی تجزیات کا نچوڑ یہ نکالا گیا تها کہ وہاں کوئ نوے سالہ مرد دفن تها.
وطن عزیز میں زیب داستاں کے لئے قلابے ملانے کا پرانا فن ابهی تک قلانچیں بھرتا ہے.

یہ کہانی پرتگال کی Anes de Castro کی سچی داستان ہے. تفصیل کے لئے دوسری پوسٹ نیچے ملاحظہ فرمائیے
انار کلی کا قصہ عبدالحلیم شرر صاحب(1910_1834) نے ہی لکھا. انهوں نے پہلے ہی صفحے پر اسے fiction فرضی قرار دیا.
اسی قصے میں مزید رنگ آمیزی اور پهول پھندنے ٹانکنے کے بعد امتیاز علی تاج صاحب نے بطور ڈرامہ 1922 میں پیش کیا. وہ دارالاشاعت پنجاب کے مولوی ممتاز علی کے فرزند تھے۔ ان کی والدہ محمدی بیگم بھی ادیبہ تھیں۔ محترم نے جیروم کے جیروم کی نگارشات بھی اردو میں ترجمہ کر کے اپنے نام سے چھپوا دی تھیں۔ یہ فرق ضرور رکھا کہ انکل بوچر کو چچا چھکن بنا ڈالا۔ ان کی بیگم حجاب اسمائیل صاحبہ (شادی خانہ آبادی کے بعد حجاب امیتاز ) بھی اردو کی نامور ادیبہ تھیں۔ محترمہ حجاب صاحبہ کی والدہ عباسی بیگم صاحبہ بھی مشہور مصنفہ تھیں۔
ہندوستان میں انارکلی پر سب سے پہلی فلم
Loves of a
mughal prince
بنی. اس فلم میں روبی مائرز نام کی اینگلوانڈین لڑکی نے سلوچنا کے نام سے کام کیا. یہ فلم 1928 میں ریلیز ہوئ.
بینا رائے نے انار کلی پر بنائ دوسری فلم میں 1953 کام کیا.
1958 میں پاکستانی فلم انار کلی میں نور جہاں انار کلی بنیں.
1960 میں کے آصف نے مغل آعظم بنائ. مدهو بالا نے وہ رول نبهایا جس کے لئے پہلے نرگس کو چنا گیا تها.
2003 میں شعیب منصور کی میوزک وڈیو میں ایمان علی نے بطور انار کلی پرفارم کیا.
تاریخی کتابوں میں اس قصے کا کوئ وجود کہیں نہیں ملتا. اکبر آعظم کے سنہری دور میں ان کی لائبریری میں 24 ہزار کتابیں موجود تهیں. لا تعداد سنسکرت فارسی، یونانی، لاطینی، عربی اور کشمیری ماہرین کو کتابیں لکهنے اور ترجمہ کرنے پر معمور کیا گیا تها. اس دور کی کسی کتاب میں بهی انار کلی کے واقعہ کا ذکر نہیں ملتا. تزک قندهاری (حاجی محمد عارف قندھاری)، اکبر نامہ (ابو الفضل فیضی)، فرشتہ (محمد قاسم)، کے علاوہ اس دور پر لکهی سب اہم کتابوں مثلا” تزک اکبری، تزک جہانگیری، ستہ نند آگری، آئین اکبری، دبستان مذاہب وغیرہ کسی بهی کتاب میں کہیں اشاراتا” زکر بهی نہیں.
سب سے پہلے انار کلی کا زکر انگریز سیاح اور سوداگر ولیم فنچ نے 1608 میں کیا. ان کے مطابق انار کلی دربار اکبر سے منسلک تهی، اس کے دو ہندو شہزادوں دیپک بهیشٹ اور تریمبهک ایشور ترپاٹهی سے معاشقے کی خبر پا کر اکبر بادشاہ نے اسے ایک چار دیواری میں مقید و محبوس کروا دیا تها جہاں وہ مرتے دم تک قید رہی. اپنے دور میں جہانگیر نے اس کا مقبرہ تعمیر کروا دیا.
ایک اور انگریز سوداگر ایڈورڈ ٹیری نے چند سال بعد یہی داستان ذرا مختلف انداز میں پیش کی. اس کے مطابق وہ اکبر کی چہیتی بیوی تهی اور جہانگیر سوتیلی ماں پر عاشق ہونے کی بنا پر زیر عتاب اور عاق ٹہرا تها. بستر مرگ پر اکبر نے اپنا ارادہ بدل دیا تها .
میاں باقر جنہوں نے” لاہور…. ماضی اور حال” لکهی. ان کے مطابق انار کلی ایک مغل باغ کا نام تها. اس باغ میں ایک مقبرہ بهی موجود تها. رفتہ رفتہ مقبرے کا نام ہی انار کلی کا مقبرہ پڑ گیا. اس باغ کا زکر شہزادہ داراشکوہ نے اپنی کتاب سکونت الاولیا میں بهی کیا کہ وہاں حضرت میاں میر صاحب نے بهی قیام فرمایا تها. داراشکوہ نے مقبرے کا سرسری زکر تو کیا مگر تفصیل نہیں دی اور انارکلی کا نام تک نہیں لیا.
انار کلی سے ملتی جلتی صدیوں پہلے کی کہانی انیس ڈے کاسترو کی ہے جو پرتگال کے ولیعہد شہزادے پیٹر اول کی کنیز تهی۔ جو ان کی بیگم کاسٹل کی شہزادی اپنے ساتھ لائ تهی. شاہزادے اور کنیز کی محبت نہ تو زمانے کی نظر سے چهپ سکی، نہ شہنشاہ افونسو کی دزدیدہ، جہاں دیدہ نظروں سے.
بادشاہ نے پہلے پہل انهیں ڈهیل دی مگر جب محبت کے پروانے مزید گسیختہ عناں اور بے قابو ہونے لگے تو اس نے ان کی ملاقاتوں پر قدغن لگا دی..
کنیز کو دور دراز علاقے سانتا کلارا اے ولا کی خانقاہ میں مقید کر دیا گیا، جس پر شہزادے نے باپ کے خلاف بغاوت کر دی. قصہ مختصر باپ کے حکم پر کنیز کا قصہ تمام کر دیا گیا.
کچھ عرصے کے بعد جب 1357 میں پیٹر اول کو بادشاہت مل گئ تو اس نے انیس کے قاتلوں کو کهوج کر 1361 میں نہ صرف سر عام پھانسی پر لٹکا دیا بلکہ ان کے دل بهی نکال کر یہ کہتے ہوئے پهینک دئیے کہ یہ دل نہیں، پتھر ہیں.
دل شکستہ شاہ نے پهر اپنی مردہ محبوبہ کی قبر کھدوا کر اس کی نعش کو سونا چاندی کے زیورات سے آراستہ کروایا، اطلس و کمخواب کے شاہی پیرہن اور جڑاو تاج پہنائے اور شاہی تخت پر بٹها کر تمام معززین و عمائدین کو حکم دیا کہ وہ ملکہ عالیہ کو سجدہ تعظیم بجا لائیں. کنیز سے کیا گیا اپنا وعدہ کہ وہ اسے ایک دن اپنی ملکہ ضرور بنائے گا، پورا کرنے کے بعد اسے بصد عزت و احترام Alcobaca کی مقدس خانقاہ میں دفن کر دیا گیا. چند سالوں بعد پیٹر اول کی وفات کے بعد اسے بهی انیس کے قریب اسی جگہ دفن کیا گیا.
ان دونوں کے سنگ مرمر کے تابوت آج بهی اسی جگہ موجود ہیں اور مرجع خلائق ہیں.
ان کے سنگی تابوتوں پر ان دونوں کی شبہہ اور کہانی بیان کرتے مجسم تراشیدہ بت بمع بادشاہ پیٹر اول کے اس وعدے کے درج ہیں!
” اب ہم روز محشر تک اکٹھے رہیں گے "

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دمبورہ: امن کا پیامبر ساز … ببرک کارمل جمالی

دمبورہ: امن کا پیامبر ساز ببرک کارمل جمالی دمبورہ کو عام طور پر صرف ہزارگی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے