سر ورق / admin (صفحہ 2)

admin

admin

بڑا ہاتھ …. گل جان

بڑا ہاتھ گل جان کام چھوٹا بڑا نہیں ہوتا لیکن پھر بھی پتا نہیں کیوں انسان بڑا ہاتھ مارنے کا سوچتا رہتا ہے ۔ وقت اس کے ہاتھ سے نکل گیا تھا اور وہ عمر کے اس حصے میں تھا جہاں نوجوان انسان اگلی منازل طے کرنے کے بعد جدو …

مزید پڑھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ … سید انور فراز .. قسط نمبر 54

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو! ڈائجسٹوں کی الف لیلہ سید انور فراز قسط نمبر 54 اسرار الحق مجاز کی ناگہانی موت کے بعد کہا گیا تھا کہ اردو شاعری میں ایک ”کیٹس“ پیدا ہوا تھا جسے بھیڑیے اٹھالے …

مزید پڑھیں

سردی اور ساگ … مدیحہ ریاض

سردی اور ساگ  مدیحہ ریاض جیسے ہی موسم انگڑائی لے کر سخت گر می سے ہلکی ہلکی ٹھنڈ اور خنکی میں تبدیل ہوتا ہے تو دن مختصر اور راتیں طویل ہو جاتی ہیں اور پھر گرم گرم لحافوں میں بیٹھ کر اپنے پیاروں کے ساتھ دنیا جہاں کی باتیں کرنا …

مزید پڑھیں

خسارا … نادیہ عنبر لودھی 

خسارا نادیہ عنبر لودھی اسلام آباد وہ تصویر سوشل میڈیا کی توسط سے اس تک پہنچی تھی – ماتھے پر بندیا گلے میں منگل سوتر ،مانگ  میں سیندور ،تن پر ساڑھی اور پہلو میں کالا بھجنگ ہندو شوہر – وہ حیران رہ گئی – سیما کا نیا  شادی شدہ حلیہ اس کے لیے کسی شاک سے  کم نہ تھا -دوسری تصویر میں سیما کی ماں بال سنہری کیے ساڑھی اوڑھے ماتھے پر بندیا اور سیندور سجاۓ ایسے مسکرا رہی تھی جیسے کوئی قلعہ فتح کرلیا ہو – ماں بیٹیوں نے شاید کئی سوسال بعد سومنات کا مندر دوبارہ  فتح کرلیا تھا – یا ایک ہندو کا دل فتح کرکےایسا کارنامہ انجام دیا تھا جو ان کے نذدیک قابل فخر تھا جس کی تشہیر ان کے نذدیک لازمی تھی –  اپنا ایمان ایک مشرک پر  لٹا کر بھی انہیں نہ کوئی شرمساری تھی نہ پشیمانی – ہم بے عمل مسلمانوں کے پاس ایک تو متاع ِحیات ہے کلمہ کی دولت – یہ بھی لٹا بیٹھیں گے تو باقی کیا رہ جاۓ گا – اس نے تاسف سے سوچا – دنیا کی ہوس انسان کو اس حال تک پہنچا دیتی ہے – کہ ہاتھ سے ایمان بھی چلا جاتا ہے – اس کا ذہن کئی سال پیچھے چلا گیا اسے معصوم سی سیما یاد آئی – خوب صورت معصوم گڑیا- سیما اس کی سسرالی رشتہ دار تھی – جب بیس سال پہلے وہ بیاہ کے سسرال آئی تھی تویہ بچی آٹھ سال کی تھی – کچھ عرصہ بعد سیما اپنے والدین کے ساتھ امریکہ چلی گئی – اس کے ماں باپ آزاد خیال تو پہلے ہی تھے – دیارِ غیر نے ان کی سوچ کو مذید مادرپدر آزادی کا تصور دیا وہ شراب اور سور  کو کھانے میں کوئی  جھجک محسوس نہ کرتے بلکہ فخر کرتے کہ وہ ماڈرن ہیں – سیما کی والدہ بال رنگوا کے فرنگیوں جیسا حلیہ بنا کے بہت خوش ہوتیں – اپنے دین ، تشخص اور قومیت سے انہیں نفرت تھی – وہ خود کو مسلمان کہلانے میں شرم محسوس کرتیں۔ جس کا نتیجہ آج ہندو داماد کی شکل میں نظر آرہا تھا – سیما کا خاندان اعلی نسب تھا – شریف اور دیندار – ان دین داروں کی نسل ہندو ہوگی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا – رنج اور افسوس سے اس کا دل بہت برا ہوا لیکن وہ  کیا کرسکتی تھی – دیار ِغیر میں بسنے والے ان پاکستانیوں پر اولاد کے معاملے میں دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو نا صرف اپنے دین سے جوڑ کے رکھیں  بلکہ اس معاشرے کے ساتھ بھی چلنے کے قابل بھی بنائیں  – جو مسلمان خاندان اس بات کو اہمیت نہیں  دیتے تھے جنہوں نے بچوں کو شریک حیات کے چناؤ میں آزادی دے رکھی تھی ان کی تیسری چوتھی نسل اپنا دین اور تشخص بھول چکی تھی – نہ وہ مسلمان تھے نہ انکا کوئی دین تھا نہ وطن – وہ صرف پیسہ کمانے کی مشین تھے – اور حیوانوں کی طرح آزادی ِارادہ کے دلداہ – چند دن بعد اس کے ذہن سے سیما محو ہوگئی اور وہ اپنے معمولات میں مشغول ہوگئی کہ سال بعد پھر ایک تصویر اس تک پہنچی اس دفعہ اس تصویر کو ووٹ ایپس پر ایک رشتہ دار خاتون نے اسے بھیجا  تھا – سیما اسکا شوہر اور سیما کی گود میں کالا کلوٹا بچہ – اسے یوں لگا جیسے بچہ اسے منہ چڑا رہا ہے – بچے تو معصوم ہوتے ہیں اس نے اپنی سوچ کو جھٹکا -جیسی ماں باپ تربیت کرتے ہیں ویسے بن جاتے ہیں تو پھر سیما کے بچے تو ہندو ہی بنیں گے – دل نے صدا لگائی اور دماغ نے تائید کی – —-

مزید پڑھیں

خون ریز امجد جاوید قسط نمبر9

خون ریز امجد جاوید قسط نمبر9 ” میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ انہوں نے کوئی بات ہی نہیں کی۔ بس وہ آئے اور انہیں مارنا شروع کردیا۔“ اس نے بتایا ” ٹھیک ہے، اگر آپ بہتر محسوس کرتی ہیں تو گھر جائیں اور پروین کی آخری رسومات کا بندوبست کریں۔ …

مزید پڑھیں

… روح، جو جسم چھوڑنےپر تیار نہ تھی …عثمان عالم ۔ اسلام آباد۔ پاکستان…

‎عالمی افسانہ میلہ 2019 ‎افسانہ نمبر : 35 ‎روح، جو جسم چھوڑنےپر تیار نہ تھی ‎عثمان عالم ۔ اسلام آباد۔ پاکستان ‎صحن میں چارپائی بچھی تھی ۔چار غم زدہ باوضوعورتیں ، ہاتھوں میں یٰسین پکڑے چاروں کونوں میں اِس طرح بیٹھی تھیں کہ اُن کامنہ سرکی جانب تھا۔ تلاوت اتنی …

مزید پڑھیں

” لہروں پر ڈولتی زندگی ” فرحین جمال ، واٹر لو ، بیلجیم

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر34 ” لہروں پر ڈولتی زندگی " فرحین جمال ، واٹر لو ، بیلجیم (تعارف افسانہ نگار) فرحین جمال کئی سالوں سے واٹر لو بلجیئم میں رہائش پذیر ہیں ۔ پاکستان اور یوروپ میں رہنے کی وجہ سےان کی ہر دو معاشروں پر گہری نظر …

مزید پڑھیں

خلا ..نیلم احمد بشیر۔ لاہور ۔ پاکستان

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 33 خلا نیلم احمد بشیر۔ لاہور ۔ پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہمانوں کے آنے سے پہلے فضیلہ نے اپنے بیک یا ر ڈ پر ایک طائرا نہ نظر ڈالی ۔ سب کچھ کتنا خو بصورت لگ رہا تھا ۔ نفاست سے کٹی ہوئی ہری گھاس ، …

مزید پڑھیں

ہائیبرنیشن کا متلاشی نوجوان : محمدجمیل اختر

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ: نمبر32 ہائیبرنیشن کا متلاشی نوجوان مصنف: محمدجمیل اختر وہ نوجوان جس کی بات کوئی بھی نہیں سمجھتا تھا، کسی کو یہ بتانے سے بھی قاصر تھا کہ کئی روز سے اُس کے دماغ میں لگاتارایک گھنٹی کی آواز بجتی رہتی ہے۔۔۔۔مسلسل ” ٹوں ں ں …

مزید پڑھیں

الجھی زلفیں نعیم فاطمہ علوی فیصل آباد پاکستان

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 31 الجھی زلفیں نعیم فاطمہ علوی فیصل آباد پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فنا کے بے رحم ہاتھوں میں سرکتی زندگی اتنی طویل تو نہیں کہ اسے برف کی سل پر رکھ دیا جائے۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنی الجھی زلفوں کو سنوارتے ہوئے روز ہی …

مزید پڑھیں