سر ورق / مزاحیہ شاعری

مزاحیہ شاعری

اس ہفتے کی مزاحیہ شاعری۔۔۔ نوید ظفر کیانی

کھانے کو مرے گھر میں الگ خاک نہیں ہے اور جسم پہ مہنگائی میں پوشاک نہیں ہے رشوت سے سبھی کام بنے جاتے ہیں بھیا! اس دیس میں یہ کام شرمناک نہیں ہے بیگم نے دبایا ہے بڑی شان سے اس کو اس دور میں شوہر کی کوئی دھاک نہیں …

مزید پڑھیں

اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔ نوید ظفر کیانی

اصلی ہو یا نقلی سائیں ڈگری تو ہے ڈگری سائیں مجھ سے پنگا مت لینا تو ورنہ قسمت بگڑی سائیں کھو جا قوم کے لفڑ ے میں تو کچھ تو پگھلے چربی سائیں کتے کو یوں دیکھ کے بھاگا جیسے ہو کوئی گولی سائیں اک بھی بال نہیں ہے سر …

مزید پڑھیں

اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔ نوید ظفر کیانی

  سر اپنا جو نزدیک سے دِکھلاتا ہے گنجا دل زوجہ کا اِس طرح بھی متلاتا ہے گنجا اِک بار تو ہر چیز کی رُک جاتی ہیں سانسیں کنگھا جو کبھی ہاتھ میں لہراتا ہے گنجا ڈیشنگ ہو کوئی ہم سا تو پھر سامنے آئے آئینے میں خود سے یہی …

مزید پڑھیں

اس ماہ کے منظوم قہقہے۔۔ ظفر نوید کیانی

  تم نے جب چھوڑ دیا ساتھ دواخانے میں نرس نے تھام لیا ہاتھ دوا خانے میں وہ بھی آتے ہیں علاج اپنا کرنے کے لئے روز ہوتی ہے ملاقات دواخانے میں بن سنور کر وہ چلے آئے عیادت کو مری مشتعل ہو گئے جذبات دواخانے میں ”ڈاکٹرنی“ کی سمجھ …

مزید پڑھیں

اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔ نوید ظفر کیانی

گر ہمیں فرصت ہو تو کاموں میں گڑنا چاہئیے فیس بُک سے بور ہو کر گھر میں لڑنا چاہئیے امتحاں میں فیل ہو کر اپنے ابا جی کے ساتھ اپنی کوتاہی چھپانے کو اکڑنا چاہئیے بیٹیوں کے گھر میں بھی اپنی حکومت کے لئے کچھ بہانہ کر کے سمبدھن سے …

مزید پڑھیں

اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔ نوید ظفر کیانی

    آکر مری آنکھوں کو ذرا دیکھ ستمگر ہیں تیری محبت میں ابھی خشک، ابھی تر قاصد بھی ہے پیغام رسانی سے گریزاں آنکھوں کو ہے طوطے کی طرح پھیرے کبوتر بدلے میں وفا کے مجھے کیا دو گے بتادو! یہ فیصلہ ہو جائے ابھی اور یہیں پر پوچھا …

مزید پڑھیں

اس ہفتہ کے منظوم قہقہے۔ نوید ظفر کیانی

لیڈر تو یونہی قوم کی خدمت نہیں کرتا کرتا ہے سیاست وہ عبادت نہیں کرتا ہر بار میرے دل نے اسے ووٹ دیا ہے یونہی تو کوئی مجھ پہ حکومت نہیں کرتا سکھ چین کے بدلے میں میرا درد لیا ہے وہ پیار تو کرتا ہے تجارت نہیں کرتا رکھتا …

مزید پڑھیں