سر ورق / مزاحیہ شاعری

مزاحیہ شاعری

اب اور کہنے کی ضرورت نہیں …سعادت حسن منٹو

اب اور کہنے کی ضرورت نہیں سعادت حسن منٹو یہ دنیا بھی عجیب و غریب ہے۔ خاص کر آج کا زمانہ۔ قانون کو جس طرح فریب دیا جاتا ہے ٗ اس کے متعلق شاید آپ کو زیادہ علم نہ ہو۔ آج کل قانون ایک بے معنی چیز بن کر رہ گیا …

مزید پڑھیں

محمودہ۔۔۔سعادت حسن منٹو

محمودہ سعادت حسن منٹو مستقیم نے محمودہ کو پہلی مرتبہ اپنی شادی پر دیکھا۔ آر سی مصحف کی رسم ادا ہورہی تھی کہ اچانک اس کو دو بڑی بڑی۔ غیر معمولی طور پر بڑی آنکھیں دکھائی دیں۔ یہ محمودہ کی آنکھیں تھیں جو ابھی تک کنواری تھیں۔ مستقیم، عورتوں اور …

مزید پڑھیں

اس ہفتے کے منظوم قہقے ۔۔۔۔ نوید ظفر کیانی

سیلفیوں میں بٹا ہوا بھیجا ایک چہرہ بنا ٹھنا بھیجا پہلے بھیجا میاں کو تھانے میں اور پھر ناشتہ بنا بھیجا پھول گوبھی کا وہ بھی شاپر میں ہائے کھڑکی سے اس نے کیا بھیجا ہر ولیمے کے بعد پیٹو نے سب کو کھانا بچا کھچا بھیجا وہ بھٹکتا رہا …

مزید پڑھیں

اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔ نوید ظفر کیانی

جری ابنِ جری ہوں، وہ سدا اعلان کرتا ہے بڑا رُستم بنا پھرتا ہے پر چوہوںسے ڈرتا ہے وہ گنجا ہے ، لگاتا تیل ہے، رکھتا ہے کنگھا بھی ہمیشہ آئنے کے سامنے گھنٹوں سنورتا ہے! نظر آتی غریبوں کو ہے ایسے خواب میں روٹی کہ جیسے چودھویںکا چاند بادل …

مزید پڑھیں

اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔۔ نوید ظفر کیانی

      مفلسی کے دور میں کھایا جو اک گھر کا نمک عمر اس در پر گزاری، اس قدربھایا نمک باس کی کالی سی بیٹی بن گئی زوجہ مری لے گیا آغوشِ الفت میں مجھے کالا نمک میرے آنے کی خوشی میں وہ تو پاگل ہوگئی ڈال دی سالن …

مزید پڑھیں

اس ہفتے کے مزاحیہ قہقہے۔ نوید ظفر کیانی

اس ہفتے کے مزاحیہ قہقہے۔ نوید ظفر کیانی   مجھے کیا دے گا عطائے نگار کا موسم یہ اِک انار کا اور سو بیمار کا موسم تمام قومی خزانے تجوریوں میں بھریں گزر نہ جائے کہیں لوٹ مار کا موسم مہینہ اینڈ پہ۔۔۔ بجلی کا بل ہزاروں میں لو پھرہے …

مزید پڑھیں

اس ہفتے کی مزاحیہ شاعری۔۔۔ نوید ظفر کیانی

کھانے کو مرے گھر میں الگ خاک نہیں ہے اور جسم پہ مہنگائی میں پوشاک نہیں ہے رشوت سے سبھی کام بنے جاتے ہیں بھیا! اس دیس میں یہ کام شرمناک نہیں ہے بیگم نے دبایا ہے بڑی شان سے اس کو اس دور میں شوہر کی کوئی دھاک نہیں …

مزید پڑھیں

اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔ نوید ظفر کیانی

اصلی ہو یا نقلی سائیں ڈگری تو ہے ڈگری سائیں مجھ سے پنگا مت لینا تو ورنہ قسمت بگڑی سائیں کھو جا قوم کے لفڑ ے میں تو کچھ تو پگھلے چربی سائیں کتے کو یوں دیکھ کے بھاگا جیسے ہو کوئی گولی سائیں اک بھی بال نہیں ہے سر …

مزید پڑھیں

اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔ نوید ظفر کیانی

  سر اپنا جو نزدیک سے دِکھلاتا ہے گنجا دل زوجہ کا اِس طرح بھی متلاتا ہے گنجا اِک بار تو ہر چیز کی رُک جاتی ہیں سانسیں کنگھا جو کبھی ہاتھ میں لہراتا ہے گنجا ڈیشنگ ہو کوئی ہم سا تو پھر سامنے آئے آئینے میں خود سے یہی …

مزید پڑھیں

اس ماہ کے منظوم قہقہے۔۔ ظفر نوید کیانی

  تم نے جب چھوڑ دیا ساتھ دواخانے میں نرس نے تھام لیا ہاتھ دوا خانے میں وہ بھی آتے ہیں علاج اپنا کرنے کے لئے روز ہوتی ہے ملاقات دواخانے میں بن سنور کر وہ چلے آئے عیادت کو مری مشتعل ہو گئے جذبات دواخانے میں ”ڈاکٹرنی“ کی سمجھ …

مزید پڑھیں