سر ورق / کہانی (صفحہ 13)

کہانی

اپنے جیسے۔ عروسہ وحید

اپنے جیسے عروسہ وحید حصۃ اول                 ”ارے کمبخت ،کلموہی ،ڈائن، خدا غارت کرے تمہیں ، میرا سارا سوٹ خراب کر دیا ۔شرم نہیں آتی تمہیں، میرا نہایت خوبصورت سوٹ اپنے موٹے بھدے جسم میں پھنساتے ہوئے، منحوس ماری نے ساری سلائیاں اُدھیر کر رکھ دی ہیں“۔نور زور سے چلائی۔ …

مزید پڑھیں

بھائی جان ..امین صدرالدین بھایانی

میں نے اسٹڈی میں داخل ہوتے ہی کمرے کا بغور جائزہ لینا شروع کردیا….! کمرے کی تین دیواروں پر لگی الماریوں میں نفاست اور سلیقے سے بے شمار کتابیں سجیں ہوئی تھیں۔ چوتھی دیوار کے وسط میں گھر کے عقبی احاطے میں لگے مختصر سے باغیچہ میں کھلتی کھڑکی سے …

مزید پڑھیں

خاموش حویلی .وقار احمد ملک

شہر کا یہ قدیم حصہ آہستہ آہستہ پُر سکون ہوتا جا رہا ہے۔ لوگوں نے اس خاموش علاقہ کے بڑے بڑے کشادہ صحنوں کو چھوڑ کر نئے شہر کی جدید کالونیوں کے چند مرلوں کے منقش ڈربوں میں خوشی خوشی قید قبول کر لی ہے۔ زمانہ جدید کے شور و …

مزید پڑھیں

خونی کھنڈر محمد عرفان رامے

اماوس کی گھٹا ٹوپ اندھیری رات میں صدیوں پرانے ا س کھنڈر کے بلند و بالا درو دیوار کسی خون آشوب عفریت کی طرح سرتانے کھڑے تھے۔ہر طرف خوف کی حکمرانی تھی اور کبھی کبھار سنائی دےنے والی کسی جانور کی آواز بھی ماحول کی دہشت مےں مسلسل اضافہ کر …

مزید پڑھیں

” سمجھوتہ “ … ثمینہ طاہر بٹ 

 اس نے گھر میں قدم رکھا ہی تھا کہ وہ دونوں تیزی سے اس کے استقبال کے لیئے آگے بڑھیں، مگر اس کے پہلو سے لگی ” سرخ گٹھری “کو دیکھ کر وہیں رک گئیں۔ چھوٹی نے بڑی کی طرف حیران، خوف سے پھیلی نگاہوں کے ساتھ دیکھا۔ بڑی کے …

مزید پڑھیں

مشن اسکواڈ۔۔۔ محمد ندیم اختر

عبیرہ بلاخوف و خطر آگے بڑھی ۔                 ”کاکروچ کو دیکھو تو شور مچانے کی بجائے اسے مار ڈالو ، بھلا کیسے ….؟ ایسے ….!“ ایک پٹاخ کی آواز سے کاکروچ زمین پر چاروں شانے چت پڑا تھا ۔ کچن کی ایک نکڑ میں فاطمہ باجی تھر تھر کانپ رہی …

مزید پڑھیں

چار چاند …زرین قمر

سرخ ،نارنجی،پیلے اور سفید چمکتے ،دمکتےروشنی بکھیرتے رنگوں میں گھریوہ تیزی سے نیچے گری جا رہی تھی پھر چند ہی لمحوں میں وہ پانی کے تالاب میں گری تھیاور زور دار چھپاکا ہوا تھاتالاب کا پابی بوچھاڑ کی طرح اچھلا تھا اور ارد گرد بکھر گیا تھااس کے تالاب میں …

مزید پڑھیں

چونچلے باز …  نوشاد عادل

          وہ اکیلا تھا اور اس کے سامنے پچاس ساٹھ مسلح دشمن کھڑے تھے۔ان کے ہاتھوں میں آتشیں ہتھیار آگ اگلنے کے لئے بے چین تھے۔ اس کے ہاتھ میں صرف ایک کلاشنکوف تھی، جس کی گولیاں حلق تک بھری ہوئی تھیں۔ اگلے ہی لمحے دشمنوں نے اس پر گولیاں …

مزید پڑھیں

لہو بول اٹھا ہے ۔۔۔ امجد جاوید

اس صبح میں ندیم کو دیکھ کرچونک گیا۔ دھند پھیلی ہوئی تھی،وہ کلاس روم سے باہر برآمدے کے ستون کے ساتھ لگا کھڑا تھا ، سردی سے بے نیاز نجانے کیاسوچ رہا تھا۔ میں اسے ایک نگاہ ہی دیکھ پایا تھا۔ میں اس کے قریب سے گذرا اور سٹاف روم …

مزید پڑھیں

سایہ دیوار۔۔۔ امجد جاوید

انسان ہر دور میں مجبوریوں کے ہاتھوں بے بس ہو جاتا ہے۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ انسان کی آ زمائش بھی ہوتی ہے ۔ جو آمائش میں کامیاب ٹھہرتے ہیں ، زندگی انہیں نوازتی ہے ۔ دوسروں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے والے لوگ بھی اسی جہاں میں ہیں …

مزید پڑھیں