سر ورق / کہانی (صفحہ 14)

کہانی

چونچلے باز …  نوشاد عادل

          وہ اکیلا تھا اور اس کے سامنے پچاس ساٹھ مسلح دشمن کھڑے تھے۔ان کے ہاتھوں میں آتشیں ہتھیار آگ اگلنے کے لئے بے چین تھے۔ اس کے ہاتھ میں صرف ایک کلاشنکوف تھی، جس کی گولیاں حلق تک بھری ہوئی تھیں۔ اگلے ہی لمحے دشمنوں نے اس پر گولیاں …

مزید پڑھیں

لہو بول اٹھا ہے ۔۔۔ امجد جاوید

اس صبح میں ندیم کو دیکھ کرچونک گیا۔ دھند پھیلی ہوئی تھی،وہ کلاس روم سے باہر برآمدے کے ستون کے ساتھ لگا کھڑا تھا ، سردی سے بے نیاز نجانے کیاسوچ رہا تھا۔ میں اسے ایک نگاہ ہی دیکھ پایا تھا۔ میں اس کے قریب سے گذرا اور سٹاف روم …

مزید پڑھیں

سایہ دیوار۔۔۔ امجد جاوید

انسان ہر دور میں مجبوریوں کے ہاتھوں بے بس ہو جاتا ہے۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ انسان کی آ زمائش بھی ہوتی ہے ۔ جو آمائش میں کامیاب ٹھہرتے ہیں ، زندگی انہیں نوازتی ہے ۔ دوسروں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے والے لوگ بھی اسی جہاں میں ہیں …

مزید پڑھیں

بابا گپّی؟ … امجد جاوید

                تاحدِ نگاہ سنہری ریت کے ٹیلے ہی ٹیلے دکھائی دے رہے تھے۔سہ پہر کی طلائی دھوپ میں ریت کا سمندر بڑا پراسرار دکھائی دے رہا تھا۔ اُفق تک بھوری ریت تھی ۔جہاں سے گہرا نیلا آسمان شروع ہوجاتا تھا۔ درمیان میں کہیں …

مزید پڑھیں

شیلف میں رکھی کتاب… امجد جاوید 

وہ کسی اجنبی کی طرح میرے قریب آ کر بیٹھ گئی اور کتاب پر نظر رکھے ۔لیکچر سننے لگی۔میں محسوس ہی نہ کر سکا کہ وہ کب تک مجھے سب سے منفرد  اور اچھی لگنے لگی تھی۔وہ نہ تو بلا کی حسین تھی اور نہ ہی ایسی کہ جیسے دیکھتے …

مزید پڑھیں