سر ورق / Tag Archives: Urdu novel Amjad

Tag Archives: Urdu novel Amjad

ہم تو در بدر ہوئے گل جان قسط نمبر ۳

ہم تو در بدر ہوئے گل جان قسط نمبر ۳ کہانی اپنے دوسرے موڑ پر پہنچ تھی.  جب میں نے سبیلہ بھائی کا خط پڑھنا شروع کیا ، تو مجھے یقین نا آیا ۔ پھر دھیرے دھیرے میں نے خط کا بند باندھ لیا ۔ لکھا تھا ! سرتاج آپ …

مزید پڑھیں

بلاوا خورشید پیر زادہ قسط نمبر11

بلاوا خورشید پیر زادہ قسط نمبر11 ”ایکسکیوز می مس نیرو-“ نیرو کالج کے اندر قدم رکھنے ہی والی تھی کہ اپنا نام سن کر چونک کر پلٹی- ”میں امان ہوں- روہن کا دوست-“ امان نے مسکراتے ہوئے کہا- پہلے سے ہی غصے میں بھری ہوئی نیرو کی تیوریاں چڑھ گئیں- …

مزید پڑھیں

خانقاہ قسط نمبر 3 کاوش صدیقی

خانقاہ قسط نمبر 3 کاوش صدیقی ” مجھے اچھا لگا کہ میرا بیٹا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ جو دوسروں کو آسانی دیتے ہیںاللہ انہیں آسانی دیتا ہے۔محبت کو برداشت کر نا ہی اصل مردانگی ہے۔یہ بہت بوجھ ہوتی ہے، بہت وزنی۔۔۔!“                 اماں کی انگلیوں کا لمس ،لہجے کا …

مزید پڑھیں

۔ ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر17 آخری قسط

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر17 آخری قسط ”دیا! تمہیں کچھ نہیں ہو گا۔ میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔“ دیا کو تکلیف میں دیکھ کر، وہ آنکھوں کو میچے ایک بار پھر سے آگے بڑھ گیا۔ چوبیس گھنٹوں کے بعد جب دیا کو ہوش آیا …

مزید پڑھیں

شہر دل کے باسی نفیسہ سعید قسط نمبر 1

حویلی کی گہما گہمی اپنے عروج پر تھی۔ دالان میں بچھی دریوں پرلڑکیاں، بالیاں جمع ہو کر زور و شور سے ڈھولک بجا رہی تھی۔ وقفہ وقفہ سے ان کی ہنسی کی آواز کو بجتی تالیوں کے ساتھ مل کر ایک عجیب سا سماں باندھ دیتی۔ بڑی اماں اپنے جھولے …

مزید پڑھیں

خسارا … نادیہ عنبر لودھی 

خسارا نادیہ عنبر لودھی اسلام آباد وہ تصویر سوشل میڈیا کی توسط سے اس تک پہنچی تھی – ماتھے پر بندیا گلے میں منگل سوتر ،مانگ  میں سیندور ،تن پر ساڑھی اور پہلو میں کالا بھجنگ ہندو شوہر – وہ حیران رہ گئی – سیما کا نیا  شادی شدہ حلیہ اس کے لیے کسی شاک سے  کم نہ تھا -دوسری تصویر میں سیما کی ماں بال سنہری کیے ساڑھی اوڑھے ماتھے پر بندیا اور سیندور سجاۓ ایسے مسکرا رہی تھی جیسے کوئی قلعہ فتح کرلیا ہو – ماں بیٹیوں نے شاید کئی سوسال بعد سومنات کا مندر دوبارہ  فتح کرلیا تھا – یا ایک ہندو کا دل فتح کرکےایسا کارنامہ انجام دیا تھا جو ان کے نذدیک قابل فخر تھا جس کی تشہیر ان کے نذدیک لازمی تھی –  اپنا ایمان ایک مشرک پر  لٹا کر بھی انہیں نہ کوئی شرمساری تھی نہ پشیمانی – ہم بے عمل مسلمانوں کے پاس ایک تو متاع ِحیات ہے کلمہ کی دولت – یہ بھی لٹا بیٹھیں گے تو باقی کیا رہ جاۓ گا – اس نے تاسف سے سوچا – دنیا کی ہوس انسان کو اس حال تک پہنچا دیتی ہے – کہ ہاتھ سے ایمان بھی چلا جاتا ہے – اس کا ذہن کئی سال پیچھے چلا گیا اسے معصوم سی سیما یاد آئی – خوب صورت معصوم گڑیا- سیما اس کی سسرالی رشتہ دار تھی – جب بیس سال پہلے وہ بیاہ کے سسرال آئی تھی تویہ بچی آٹھ سال کی تھی – کچھ عرصہ بعد سیما اپنے والدین کے ساتھ امریکہ چلی گئی – اس کے ماں باپ آزاد خیال تو پہلے ہی تھے – دیارِ غیر نے ان کی سوچ کو مذید مادرپدر آزادی کا تصور دیا وہ شراب اور سور  کو کھانے میں کوئی  جھجک محسوس نہ کرتے بلکہ فخر کرتے کہ وہ ماڈرن ہیں – سیما کی والدہ بال رنگوا کے فرنگیوں جیسا حلیہ بنا کے بہت خوش ہوتیں – اپنے دین ، تشخص اور قومیت سے انہیں نفرت تھی – وہ خود کو مسلمان کہلانے میں شرم محسوس کرتیں۔ جس کا نتیجہ آج ہندو داماد کی شکل میں نظر آرہا تھا – سیما کا خاندان اعلی نسب تھا – شریف اور دیندار – ان دین داروں کی نسل ہندو ہوگی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا – رنج اور افسوس سے اس کا دل بہت برا ہوا لیکن وہ  کیا کرسکتی تھی – دیار ِغیر میں بسنے والے ان پاکستانیوں پر اولاد کے معاملے میں دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو نا صرف اپنے دین سے جوڑ کے رکھیں  بلکہ اس معاشرے کے ساتھ بھی چلنے کے قابل بھی بنائیں  – جو مسلمان خاندان اس بات کو اہمیت نہیں  دیتے تھے جنہوں نے بچوں کو شریک حیات کے چناؤ میں آزادی دے رکھی تھی ان کی تیسری چوتھی نسل اپنا دین اور تشخص بھول چکی تھی – نہ وہ مسلمان تھے نہ انکا کوئی دین تھا نہ وطن – وہ صرف پیسہ کمانے کی مشین تھے – اور حیوانوں کی طرح آزادی ِارادہ کے دلداہ – چند دن بعد اس کے ذہن سے سیما محو ہوگئی اور وہ اپنے معمولات میں مشغول ہوگئی کہ سال بعد پھر ایک تصویر اس تک پہنچی اس دفعہ اس تصویر کو ووٹ ایپس پر ایک رشتہ دار خاتون نے اسے بھیجا  تھا – سیما اسکا شوہر اور سیما کی گود میں کالا کلوٹا بچہ – اسے یوں لگا جیسے بچہ اسے منہ چڑا رہا ہے – بچے تو معصوم ہوتے ہیں اس نے اپنی سوچ کو جھٹکا -جیسی ماں باپ تربیت کرتے ہیں ویسے بن جاتے ہیں تو پھر سیما کے بچے تو ہندو ہی بنیں گے – دل نے صدا لگائی اور دماغ نے تائید کی – —-

مزید پڑھیں

خون ریز امجد جاوید قسط نمبر9

خون ریز امجد جاوید قسط نمبر9 ” میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ انہوں نے کوئی بات ہی نہیں کی۔ بس وہ آئے اور انہیں مارنا شروع کردیا۔“ اس نے بتایا ” ٹھیک ہے، اگر آپ بہتر محسوس کرتی ہیں تو گھر جائیں اور پروین کی آخری رسومات کا بندوبست کریں۔ …

مزید پڑھیں

بلاوا خورشید پیر زادہ قسط نمبر10

بلاوا خورشید پیر زادہ قسط نمبر10 ہا ہا ہا ہا ہا – پھر؟— ہا ہا ہا ہا-“ صبح شیکھر اور امان کبھی رویندر کے سر پر ابھرے گومڑ اور کبھی اس کے چہرے پر ابھرے شکایتی انداز کو دیکھ دیکھ کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے- ”پھر کیا- وہ تو …

مزید پڑھیں

ہم تو در بدر ہوئے گل جان قسط نمبر2

ہم تو در بدر ہوئے گل جان قسط نمبر۲ چوہدری شہاب الدین دراصل خط کی وہ لائن پڑھنا نہیں چاہتا تھا ، انھیں وہی منظر دکھائی دینے لگا تھا اور پھر وہ بانو کے سامنے نہیں پڑھنا چاہتے تھے خیر چوہدری شہاب الدین نے دل ہی دل طیبہ کا خط …

مزید پڑھیں

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی ”کیا ہو رہا ہے۔؟“کسی نے میر ے شانے پر شفقت آمیز تھپکی دی۔”رو لو۔! رونے سے کثافت دھل جاتی ہے۔ زنگ چھٹنے لگتا ہے۔ “ ملنگ نے نہایت محبت آمیز لہجے میں کہا ۔                 دفعتاً میں نے سر اٹھایا تو میرا دماغ حیرت …

مزید پڑھیں