سر ورق / فرار۔آخری قسط۔ عامر صدیقی

فرار۔آخری قسط۔ عامر صدیقی

قسط نمبر 3 آخری

راکیش درد کے اوپر چولا چڑھائے بیٹے کی آواز سنتے رہے۔ ”ٹھیک ہے“،”اچھا ہوں“ کے علاوہ ان کے منہ سے کچھ نہیں نکلا۔ اس دن کسی نے کھانا نہیں کھایا گیا۔ راکیش نے کہا،”ہمیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ اس لڑکی میں ضرور ایسی کوئی خاصیت ہو گی کہ ہمارا بیٹا اسے چاہتا ہے۔ تم نے دیکھا ہوگا۔“

”مجھے لگاا سٹیلا بڑی اچھی منتظم ہے۔ مجھے تو وہ لڑکی کی بجائے منیجر زیادہ لگی۔“ریکھا نے کہا۔

”تو اس میں برائی کیا ہے۔ پون دفتر اگرچہ مینج کر لے۔ گھر میں تو اسے ہر وقت ایک منیجرچاہئے ۔جو اس کا دھیان رکھے۔ یہاں یہ کام تم اور سگّو کرتے تھے۔“

”پر شادی بالکل الگ بات ہوتی ہے۔“

”کوئی الگ بات نہیں ہوتی۔ لڑکی کام سے لگی ہے۔ تمہارے جانے پر مسلسل تمہیںملتی رہی۔ اپنا وقار اسی میں ہوتا ہے کہ بچوں سے تصادم کی صورت حال نہ آنے دیں۔“

”پر سب کچھ وہی طے کر رہی ہے، ہمیں صرف سر ہلانا ہے۔“

”تو کیا برائی ہے۔ تم خودکو حقوقِ نسواں کی علمبردار کہتی ہو۔ جب لڑکی سارے انتظامات میں پہل کرے، تو تمہیں برا لگ رہا ہے۔“

”ہم اس سارے پلان میں کہیں نہیں ہیں۔ ہمیں تو پنّو نے اٹھا کر طاق پر رکھ دیا ہے، گزشتہ سال کے گنیش لکشمی کی طرح۔“

”سب یہی کرتے ہیں۔ کیا ہم نے ایسا نہیں کیا۔ میری ماں کو بھی ایسا ہی دکھ ہوا تھا۔“

 ریکھا بھڑک اٹھی،”تم اسٹیلا کو مجھ سے ملا رہے ہو۔ میں نے تمہارے گھر خاندان کی دھوپ چھایا جیسے کاٹی ہے، وہ کاٹ لے گی ویسے۔ بس بیٹھے بیٹھے کمپیوٹر جوڑنے کے سوا اور کیا آتا ہے اسے۔ ایک وقت کا کھانا نوکر بناتا ہے۔ دوسرے وقت باہر سے آتا ہے۔ دودھ تک گرم کرنے میں دلچسپی نہیں ہے اسے۔“

”مجھے لگتا ہے تم تعصب سے کام لے رہی ہو۔ میرا لڑکا غلط انتخاب نہیں کر سکتا۔“

”اب تم اس کی لے میں بول رہے ہو۔“

کئی دنوں تک ریکھا کی حالت غیر بنی رہی۔ اس نے اپنی استانی سکھیوں سے بھی مشورہ کیا۔ جو بھی گھر آتا، اس کی تکلیف بھانپ جاتا۔ اس نے جانا کہ ہر خاندان میں ایک نہ ایک ان چاہا، من چاہا بیاہ ہوا ہے۔

اسے اپنے دن یاد آئے۔ بالکل ایسی تڑپ اٹھی ہوگی، راکیش کے ماتا پتا کے کلیجے میں بھی، جب انکی دیکھی بھالی خوبصورت لڑکیوں کو ٹھکرا کر اس نے ریکھا سے شادی کا من بنایا۔ اس کے دوستوں تک نے اُس سے کہا،”تم کیا بالکل پاگل ہو گئے ہو؟“دراصل وہ دونوں ایک دوسرے کے متضاد تھے۔ راکیش تھے لمبے، تڑنگے، خوبصورت اور ہنس مکھ، ریکھا تھی چھوٹی، دبلی، قبول صورت اور کٹکھنی ۔ بولتے وقت وہ زبان کو چاقو کی طرح استعمال کرتی تھی۔ اسکے اسی تیور نے راکیش کو کھینچا تھا۔ وہ اسکی دو چار نظموںپر دل دے بیٹھا۔ راکیش کے بڑوں کا خیال تھاکہ اول تو یہ شادی نہیں ہو گی اور ہو بھی گئی تو چھ ماہ میں ہی ٹوٹ جائے گی۔

ریکھا کو یاد آتا گیا۔ شادی کے بعد وہ لاکھ گھر کا کام، اسکول کی نوکری، اخراجات کا بوجھ سنبھالتی، پر ماں جی اس کے تئیں اپنے خیالات نہیں بدلتیں۔ اگر کبھی پتا جی یا راکیش اس کی کسی بات کی تعریف کر دیتے ،تو اُس دن اُس کی شامت آ جاتی۔ ماں جی کی نظروں میں ریکھا چلتی پھرتی چنوتی تھی۔

جی۔جی۔سی۔ایل مسلسل خسارے میں چلتے چلتے اب ڈوبنے کے دہانے پر تھی۔ ملازمین کی چھٹائی شروع ہو گئی تھی۔ ایم بی اے پاس لڑکوں میں اتنا صبر نہیں تھا کہ وہ ڈوبتے جہاز کامستول سنبھالتے۔ سبھی کسی نہ کسی آپشن کی تلاش میں تھے۔

پون نے گھر فون کرکے اطلاع دی کہ اس کا انتخاب ایک کثیر القومی کمپنی” مَیل“ میں ہو گیا ہے۔ نئی نوکری جوائن کرنے سے پہلے اس کے پاس تین ہفتے کا وقت ہو گا۔ اسی وقت وہ گھر آئے گا اور جی بھر کر رہے گا۔

اگلے ہفتے پون نے کمپیوٹر پر لکھا صاف ستھرا اور خوبصورت خط بھیجا۔ جس میں اس کی شادی کی دعوت تھی۔ سوامی جی کے پروگرام کے مطابق انکی شادی دہلی میں ہونی تھی۔ شہروں کی دوریاں اور انجاناپن اُسکی زندگی میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھیں۔ بیٹے کے بنائے منصوبوں پر راضی ہونا، جیسے زندگی کا حصہ بن گیا تھا۔ اپنے نام پون یعنی ہوا کی طرح ہی، وہ ہوا کی رفتار سے سارے انتظامات کر رہا تھا۔

اس دوران اتنا وقت ضرور مل گیا تھا کہ ریکھا اور راکیش اپنی ناراضگی اور عدمِ اطمینان کو توازن کی شکل دے سکیں۔ جب دہلی میں رام کرشناپُرم میں سرل مارگ کے کیمپ میں انہوں نے دس ہزار شائقین کی بھیڑ میں اجتماعی شادیوں کا منظر دیکھا تو انہیں محسوس ہوا کہ اس تقریب میں روائتی شادی کی تقریب سے کہیں زیادہ وقار اور یقین ہے۔ نہ کہیں ماتا پتاکا اہم کردار تھا، نہ ڈرامائی انداز۔ سوامی جی کی موجودگی میں دلہن کو ایک سادہ سا منگل سوتر پہنایا گیا، پھر شادی کو نوٹری پبلک کی جانب سے رجسٹر کیا گیا۔ آخر میں تمام حاظرین کے بیچ لڈو بانٹ دیے گئے۔ بچیوں کے ماتا پتا کے چہروں پرتشکرکی روشنی تھی۔ ہاں لڑکوں کے سرپرستوں کے چہرے کچھ بجھے ہوئے تھے۔

اب تک اپنے غصہ پر ریکھا اور راکیش کنٹرول کر چکے تھے۔ نئے تجربے سے گزرنے کے تجسس میں انہیں اسٹیلا سے کوئی شکایت نہیں ہوئی۔ وہ پون اور بہو کو لے کر گھر آئے۔ دو دن شلوار سوٹ پہننے کے بعد اسٹیلا نے کہہ دیا،”میں دوپٹہ نہیں سنبھال سکتی۔“

وہ واپس اپنے پسندیدہ کپڑوں یعنی جینز اور ٹاپ میں نظر آئی۔ اسکی کام کی نوعیت بھی کچھ اس طرح کی تھی کہ لباس کی بِنا پر کوئی تنازعہ پیدا نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس نے یہاں اپنی ساتھی فرم سے رابطہ کرکے سگھن کو کمپیوٹر کے پارٹس دلا دیے۔ سگھن نے فوراً اعلان کردیا،”میری جیسی بھابھی کبھی کسی کو نہ ملی ہے،نہ ملے گی۔“اسٹیلا کمپیوٹر مینو میں جتنی ماہر تھی، کچن کے مینو پر اتنی ہی اناڑی۔ مسلسل گھر سے باہر ہوسٹلوں میں رہنے کی وجہ سے، اس کے ذہن میں کھانا بنانے کا کوئی خاص تصور نہیں تھا۔ وہ انڈے آلو، چاول ابالنا جانتی تھی یا پھر میگی۔

ماں نے کہا،”اتنی بے سواد چیزیں تم کھا سکتی ہو؟“

اسٹیلا نے کہا،”میں تو بس کیلوری گن لیتی ہوں اور آنکھ موند کر کھانا نگل لیتی ہوں۔“

”پر ہو سکتا ہے پون مزیدار کھانا کھانا چاہے۔“

”تو وہ کوکنگ سیکھ لے۔ ویسے بھی وہ اب مدراس جانےوالا ہے۔اور میں راجکوٹ اور احمد آباد کے درمیان چلتی پھرتی رہوں گی۔“

”پھر بھی میں تمہیں تھوڑا بہت سکھا دوں۔“

اب پون نے مداخلت کی۔ وہ یہاں ماتا پتا کا آشیروادلینے آیا تھا،احکامات نہیں۔

”ماں، جب سے میں نے ہوش سنبھالا، تمہیں اسکول اور باورچی خانے کے درمیان دوڑتے ہی دیکھا۔ مجھے یاد ہے جب میں سو کر اٹھتا تم باورچی خانے میں ہوتیں اور جب میں سونے جاتا، تب بھی تم باورچی خانے میں ہوتیں۔ تمہیں چاہئے کہ اسٹیلا کے لئے زندگی بھٹی نہ بنے۔ جو تم نے سہا، وہ کیوں سہے؟“

 ریکھا کے چہرے کی لکیریں تن گئیں۔ حالانکہ بیٹے کی منطق کی وہ قائل تھی۔

دوپہر میں لیٹ کرآرام کرتے اسے لگا کہ ہر پیڑھی کا محبت کرنے کا طریقہ مختلف اور منفرد ہوتا ہے۔ا سٹیلا بھلے ہی کمپیوٹر پر آٹھ گھنٹے کام کر لے، باورچی خانے میں آدھ گھنٹے نہیں رہنا چاہتی۔ پون بھی نہیں چاہتا کہ وہ باورچی خانے میں جائے۔ ریکھا نے کہا،”یہ دال روٹی تو بنانی سیکھ لے۔“

پون نے جواب دیا۔“ کھانا بنانے والا پانچ سو روپے میں مل جائے گا ماں، اسے باورچی تھوڑا بنانا ہے۔“

”اور میں جو ساری عمر تم لوگوں کی باورچن، دھوبن، جمادارن بنی رہی وہ؟“

”غلط کیا آپ نے اور پاپا نے۔ آپ چاہتی ہیں وہی غلطیاں میں بھی کروں۔ جو صلاحیتیںہیں اس لڑکی کی، ان کی طرف دیکھو۔ کمپیوٹرو زرڈ ہے یہ۔ اس کے پاس بل گیٹس کے دستخط سے خط آتے ہیں۔“

”پر کچھ گھریلو کاموں کی صلاحیتیںبھی تو پیدا کرنے ہوںگی اسے۔“

”ارے ماں، آج کے زمانے میں عورت اور مرد کو الگ الگ شمارنہیں کیا جا رہا ہے۔ آپ تو پڑھی لکھی ہوماں۔ وقت کی چاپ پہچانوں۔ اکیسویں صدی میں یہ سڑی گلی سوچ لے کر نہیں چلنا ہے ہمیں، ان کا گلہ گھونٹ ڈالو۔“

اسٹیلا کی عادت تھی کہ جب ماں بیٹے میں کوئی جرح ہوتی، تو وہ بالکل مداخلت نہیں کرتی تھی۔ اسکی زیادہ دلچسپی مسائل کی ٹھوس تشخیص میں تھی۔ اس نے باپ سے کہا،”میں آپ کو آپریٹ کرنا سکھا دوں گی۔ پھر آپ دیکھئے گا، ترمیم کرنا آپ کے لئے کتنا آسان کام ہوگا۔ جہاں مرضی ترمیم کر لیں، جہاں مرضی مٹا دیں۔“

 ریکھا کی کئی کہانیاں اس نے کمپیوٹر پر اتار دیں۔ بتایا،”میم اسکی ایک ڈسک میں آپ کی کئی سو کہانیاں آ سکتی ہیں۔ بس یہ ڈسک سنبھال کر رکھ لیجئے، آپکی ساری ادبی دنیا اس میں ہے۔“

حیران رہ گئے وہ دونوں۔ ریکھا نے کہا،”اب تم ہماری ہو گئی ہو۔ میم نہ بولا کرو۔“

”اوکے۔ مام سہی۔“اسٹیلا ہنس دی۔

بچوں کے واپس جانے میں بہت تھوڑے دن باقی تھے۔ راکیش اس بات سے اکھڑے ہوئے تھے کہ شادی کے فوراً بعدپون اورا سٹیلا ساتھ نہیں رہیں گے ،بلکہ ایک دوسرے سے تین ہزار میل کے فاصلے پر ہوں گے۔

انہوں نے دونوں کو سمجھانے کی کوشش کی۔ پون نے کہا،”میں تو زبان دے چکا ہوںمَیل کو۔ میرا مدراس جانا طے ہے۔“

”اور جوزبان یا وچن جیون ساتھی کو دیا وہ؟“

 پون ہنسا،”پاپا، جملے بازی میں آپکا جواب نہیں۔ ہماری شادی میں کوئی بھاری بھرکم وچنوں کا تبادلہ نہیں ہوا ہے۔“

”بہو اکیلی انجان شہر میں رہے گی؟ آج کل وقت اچھا نہیں ہے۔“

”وقت کبھی بھی اچھا نہیں تھاپاپا، میں تو پچیس سال سے دیکھ رہا ہوں۔ پھر وہ شہر اسٹیلا کے لئے انجانا نہیں ہے۔ ایک اور بات، راجکوٹ میں تشدد، جرم یہاں کا ایک پرسنٹ بھی نہیں ہے۔ راتوں میں لوگ بغیر تالا لگائے اسکوٹر پارک کر دیتے ہیں، چوری نہیں ہوتا۔ پھر آپ کی بہو کراٹے، تائی کوانڈو میں ماہر ہے۔“

”پر پھر بھی شادی کے بعد تمہارا فرض ہے ساتھ رہو۔“

”پاپا، آپ بھاری بھرکم لفظوں سے ہمارا رشتہ بوجھل بنا رہے ہیں۔ میں اپنا کیریئر، اپنی آزادی کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ اسٹیلا چاہے تو اپنا بزنس مدراس لے چلے۔“

”تم تو ایڈوانس ریم ہو۔ میں مدراس پہنچوںاور تم سنگاپور چلے جاو ¿ تب!“اسٹیلا ہنسی۔

پتہ چلا پون کے سنگاپور یا تائیوان جانے کی بھی بات چل رہی تھی۔

ریکھا نے کہا،”یہ بار بار خود کو ڈسٹرب کیوں کرتی ہو۔ اچھی بھلی کٹ رہی ہے سوراشٹر میں۔ اب پھر ایک نئی جگہ جا کر جدوجہد کریں گے؟“

”وہی تو ماں۔ منزلوں کے لئے جدوجہد تو کرنا ہی پڑےگی۔ میری لائن میں چلتے رہنا ہی ترقی ہے۔ اگر یہیں پڑا رہ گیا تو لوگ کیاکہیں گے، دیکھا کیسا لدّھڑ ہے، کمپنی ڈوب رہی ہے اور یہ” کیسا بلانکا “کی طرح اس میں پھنسا ہوا ہے۔“

یہ باتیں راکیش کو بہت چبھیں،”تم اپنی ترقی کے لئے بیوی اور کمپنی دونوں چھوڑ دو گے؟“

”چھوڑ کہاں رہا ہوں پاپا، یہ کمپنی اب میرے قابل نہیں رہی۔ میری صلاحیتوں کا استعمال اب ”مَیل“ کرے گی۔ رہی اسٹیلا۔ تو یہ اتنی مصروف رہتی ہے کہ انٹرنیٹ اور فون پر مجھ سے بات کرنے کی فرصت نکال لے یہی بہت ہے۔ پھر جیٹ، سہارا، انڈین ایئر لائینز کا بزنس آپ لوگ چلنے دو گے یا نہیں۔ صرف سات گھنٹے کی پرواز سے ہم لوگ مل سکتے ہیں۔“

”یعنی سیٹلائٹ اور انٹرنیٹ سے تم لوگوں کی شادی شدہ زندگی چلے گی؟“

”ےس پاپا۔“

”میں تمہاری پلاننگ سے ذرا بھی خوش نہیں ہوںپنّو۔ ایک اچھی بھلی لڑکی کو اپنا جیون ساتھی بنا کر کچھ ذمہ داری سے جینا سیکھو۔ اور بیچاری جی۔سی۔سی۔ایل نے تمہیں اتنے سالوں میں کام سکھا کر کسی قابل بنایا ہے۔ کل تک تم اس کے گیت گاتے نہیں تھکتے تھے۔ تمہاری ایتھکس کو کیا ہوتا جا رہا ہے؟“

 پون چڑ گیا،”میرے ہر کام میں آپ یہ کیا ایتھکس، مورےلٹی جیسے بھاری بھرکم پتھر مارتے رہتے ہیں۔ میں جس دنیا میں ہوں وہاں ایتھکس نہیں، پروفیشنل ایتھکس کی ضرورت ہے۔ چیزوں کو نئے زاویے سے دیکھنا سیکھیں ۔نہیں تو آپکو پرانے اخبار کی طرح ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے گا۔ آپ جنرےشن گیپ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سے کیا ہوگا، آپ ہی دکھی رہیں گے۔“

”تم ہماری نسل میں پیدا ہوئے ہو، بڑے ہوئے ہو، پھر جنرےشن گیپ کہاں سے آ گیا۔ اصل میں پون ہم اورتم ساتھ بڑے ہوئے ہیں۔“

”ایسا آپ کو لگتا ہے۔ آپ کو آج بھی کے ایل سہگل پسند ہے، مجھے بابا سہگل، اتنا فاصلہ ہے ہمارے آپ کے درمیان۔ آپکو پرانی چیزیں، پرانے گیت، پرانی فلمیں سب اچھی لگتی ہیں۔ ڈھونڈڈھونڈ کر آپ کباڑ اکٹھا کرتے ہیں۔ ٹی وی پر کوئی پرانی فلم آئے تو آپ اس سے بندھ جاتے ہیں۔ اتنا فلم بور نہیں کرتی جتنا آپ کی یادیں بور کرتی ہیں-نِمّی ایسے دیکھتی تھی، ایسے بھاگتی تھی، اس کے ہونٹ انکسڈ لپس کہلاتے تھے۔ میرے پاس ان قصے کہانیوں کا وقت نہیں ہے۔ تکنیکی اعتبار سے کتنی خراب فلمیں تھیں وہ۔ ایک ڈائیلاگ بولنے میں ہیروئن دو منٹ لگا دیتی تھی۔ آپ بھی تو آدھی فلم دیکھتے دیکھتے اونگھ جاتے ہیں۔“

ریکھا نے کہا،”باپ کو اتنا لمبا لیکچر پلا دیا۔ یہ نہیں دیکھا کہ تیرے خوشی کی ہی سوچ رہے ہیں وہ۔“

”جب میں یہاں خوش رہتا تھا۔ اس وقت بھی تو آپ لوگ دکھی تھے۔ آپ نے کہا تھا ماں کہ آپ کے بڑے بابو کے لڑکے تک نے ایم بی اے کا داخلہ امتحان پاس کر لیا۔ اس وقت مجھے کیسا لگا تھا۔“

”تمام ماں باپ اپنے بچوں کو حقیقی معنوں میں کامیاب بنانا چاہتے ہیں ۔تاکہ کوئی انہیں پھسڈّی نہ سمجھے۔“

”وہی تو میں نے کیا۔ آپ کے اوپر ان تین حروف کا کیسا جادو چڑھا تھا، ایم بی اے۔ آپکو اس وقت لگا تھا کہ اگر آپ کے لڑکے نے ایم بی اے نہیں کیا تو آپ کی ناک کٹ جائے گی۔“

”ہمیں تمہاری ڈگری پر فخر ہے بیٹا، پر شادی کے ساتھ کچھ تال میل بھی بٹھانے پڑتے ہیں۔“

”تال میل بڑا گڑبڑ سا لفظ ہے۔ اس کے لئے نہ میں اسٹیلا کی رکاوٹ بنوں گا نہ وہ میری۔ ہم نے پہلے ہی یہ بات صاف کر لی ہے۔“

”پر تنہائی۔ ۔ ۔“

”یہ تنہائی آپ سب کے درمیان رہ کر بھی مجھے محسوس ہو رہی ہے۔ آپ میرے نقطہ نظر سے چیزوں کو دیکھنا نہیں چاہتے۔ آپ نے مجھے ایسے سمندر میں پھینک دیا ہے جہاں مجھے تیرنا ہی تیرنا ہے۔“

”تم پڑھ لکھ لئے، یہ غلطی بھی ہماری تھی کیوں؟“

”پڑھ تو میں یہاں بھی رہا تھا، پر آپ اپنے خواب پورے کرنا چاہتے تھے۔ آپ کے خواب میری جدوجہد بن گئے۔ یہ مت سوچئے کہ جدوجہد اکیلی آتی ہے۔ وہ سبق بھی سکھاتی چلتی ہے۔“

راکیش بکھر گئے۔ انہیں لگا جتنا نادان وہ بیٹے کو مان رہے ہیں، اتنا وہ ہے نہیں۔

اسٹیلاکی ٹرین بکنگ دو دن پہلے کی تھی۔ اس کے جانے کے بعد پون نے سامان سمیٹنا شروع کیا۔ اس نے چھوٹے سے ”اوڈیسی“ اٹیچی کیس میں سلیقے سے اپنے کپڑے جما لئے۔اور بیگ میں نہایت ضروری چیزوں کے ساتھ لیپ ٹاپ، منرل واٹر اور موبائل فون رکھ لیا۔

روانگی کے دن اس نے ماں کے نام بیس ہزار کا چیک کاٹا،”ماں، ہمارے آنے سے آپکا بہت خرچ ہوا ہے، یہ میں آپ کو پہلی قسط دے رہا ہوں۔ تنخواہ ملنے پر اور دوں گا۔“

 ریکھا کا گلا روندھ گیا،”بیٹے، ہمیں تم سے قسطیں نہیں چاہئے۔ جو کچھ ہمارا ہے، سب تمہارا اور چھوٹو کا ہے۔ یہ مکان تم دونوںآدھا آدھا بانٹ لینا۔ اور جو کچھ بھی ہے اس میں برابر کا حصہ ہے۔“

”اب بتاو ¿، حساب کی بات آپ کر رہی ہو یا میں؟ اتنے سال کی نوکری میں کبھی ایک پیسہ آپ دونوں پر خرچ نہیں کیا۔“

ریکھا نے چیک واپس کرتے ہوئے کہا،”رکھ لو نئی جگہ پر کام آئے گا۔ دو شہروں میں گرہستی جماﺅگے، ڈبل خرچ بھی ہوگا۔“

”سوچ لو ماں، لاسٹ آفر۔ پھر نہ کہنا پون نے گھر میں ادھار چڑھا دیا۔“

بچوں کے جانے کے بعد گھر یکبارگی بھائیںبھائیں کرنے لگا۔ سگھن نے سافٹ ویئرکا لاگ ان امتحان پاس کرکے، دہلی میں ڈیڑھ سال کا کورس جوائین کر لیا۔ ریکھا اور راکیش ایک بار پھر اکیلے رہ گئے۔

تنہائی کے ساتھ سب سے جان لیوا ہوتے ہیں، اداسی اور شکستِ احساس! وہ دونوں صبح کی سیر پر جاتے۔ انجینئرنگ کالج کے گراﺅنڈ کی صاف ہوا کچھ دیر کے لیے شادمان کرتی تھی کہ کالونی کا کوئی نہ کوئی شناسا نظر آجاتا۔ بات صحت اور موسم سے ہوتی ہوئی لازمی بچوں پر آ جاتی۔ کالج کی ریلنگ پر گٹھیا والے پاو ¿ں کو رکھ کر ذرا آرام دیتے سنہا صاحب بتاتے، ان کا امیت بمبئی میں ہے، وہیں اس نے قسطوں پر فلیٹ خرید لیا ہے۔ سونی صاحب بتاتے، ان کا بیٹا ایچ ۔سی۔ایل کی جانب سے نیویارک چلا گیا ہے۔ مجیٹھیا کا چھوٹا بھائی کینیڈا میں ہارڈ ویئر کا کورس کرنے گیا تھا، وہیں بس گیا ہے۔

یہ سب کامیاب اولاد وںکے ماں باپ تھے۔ ہر ایک کے چہرے پر خوف اور خدشات کے سائے تھے۔ بچوں کی کامیابیاں ان کی زندگی میں سناٹا بنا رہی تھیں۔

”اتنی دور چلا گیا ہے بیٹا، پتہ نہیں ہمارا کریا کرم کرنے بھی پہنچے گا یا نہیں؟“سونی صاحب کہہ کر خاموش ہو جاتے۔

 ریکھا اور راکیش ان سب سے ہٹ کر گھومنے کی کوشش کرتے۔ انہیں لگتا جو تکلیف وہ رات بھر جیتے ہیں، اسے صبح صبح الفاظ کا جامہ پہنا ڈالنا اتنا ضروری تو نہیں۔ دن بھر بات بات میں چھوٹو اور پون کا دھیان آتا رہتا۔ گھر میں پاو ¿ بھر سبزی بھی نہ کھپتی۔ ماں کہتی،”لو چھوٹو کے نام کی بچی ہے یہ۔ پتہ نہیں کیا کھایا ہوگا اس نے؟“

راکیش کو پون کا خیال آ جاتا،”اس جاب میں ٹور ہی ٹور ہیں۔ اتنا بڑا ایریا اسے دے دیا ہے۔ کیا کھاتا ہوگا۔ وہاں سب چاول کے کھانے ملتے ہیں، میری طرح اسے بھی چاول بالکل پسند نہیں۔“

دونوں کے کان فون پر لگے رہتے۔ فون اب ان کے لئے کونے میں رکھا ایک آلہ نہیں، ایک امید تھا۔ پون جب اپنے شہر میں ہوتا فون کر لیتا۔ اگر چار پانچ دن اس کا فون نہ آئے تو یہ لوگ اس کا نمبر ملاتے۔ اس وقت انہیں چھوٹو کی یاد آتی۔ فون ملانے، اُٹھانے، ایس ٹی ڈی کا الیکٹرانک تالا کھولنے، لگانے کا کام چھوٹو ہی کیا کرتا تھا۔ اب وہ فون ملانے میں ڈرتے۔ صحیح نمبر دبانے پر بھی انہیں لگتا کہ نمبر غلط لگ گیا ہے۔ کبھی پون فون اٹھاتا، لیکن زیادہ تر ادھر سے یہی مشینی آواز آتی، ”یو ہیو ریچڈ دی وائس میل باکس آف نمبر ۔۔۔۔۔“

ریکھا کو وائس میل کی آواز بڑی منحوس لگتی۔ وہ اکثرپون سے کہتی،”تم خود تو باہر چلے جاتے ہو، اس ڈائن کو لگا جاتے ہو۔“

”کیا کروں ماں، میں تو ہفتے ہفتے باہر رہتا ہوں۔ لوٹ کر کم از کم یہ تو پتہ چل جاتا ہے کہ کس کا فون گھر میں آیا۔“

سگھن کے ہاسٹل میں فون نہیں تھا۔ وہ باہر سے مہینے میں دو بار فون کر لیتا۔ اسے ہمیشہ پیسوں کی تنگی ستاتی۔ مہینے کے اوائل میں پیسے ملتے ہی وہ کمپیوٹرکے مہنگے رسائل خرید لیتا، پھر کبھی ناشتے میں کمی، کبھی کھانے میں کنجوسی برتتا۔ دہلی اتنی مہنگی تھی کہ بیس روپے روز آنے جانے میں نکل جاتے ،جبکہ اس کے باوجود بس کےلئے گھنٹوں دھوپ میں کھڑا ہونا پڑتا۔ ایک سمسٹر مکمل کرکے جب وہ گھر آیا تو ماں پاپا اسے پہچان ہی نہیں پائے۔ چہرے پر ہڈیاں نکل آئی تھیں۔ چہرے پر سے پہلے والا چھلکتا بچپنا اب غائب ہو گیا تھا۔

بیگ اور اٹیچی سے اسکے چیکٹ میلے کپڑے نکالتے ہوئے ریکھا نے کہا،”کیوں !کبھی کپڑے دھوتے نہیں تھے۔“

اس نے گردن ہلا دی۔

”کیوں؟“

”ٹائم کہاں ہے ماں۔ روز رات تین بجے تک کمپیوٹر پر پڑھنا ہوتا ہے۔ دن میں کلاس۔“

”باقی لڑکے کس طرح کرتے ہیں؟“

”لانڈری میں دھلواتے ہیں۔ میرے پاس پیسے نہیں ہوتے۔“

راکیش نے کہا،”جتنے تمہیں بھیجتے ہیں، اتنے تو ہم پون کو بھی نہیں بھیجتے تھے۔ ایک طرح سے تمہاری ماں کی پوری تنخواہ ہی چلی جاتی ہے۔“

”اس زمانے کی بات پرانی ہو گئی، پاپا۔ اب تو اکیلا چپ سو روپے کاہوتا ہے۔“

”کیا ضرورت ہے اتنے چپس کھانے کی؟“ریکھا نے ابرو سکوڑے۔

سگھن ہنس دیا،”ماں، آلو چپس نہیں، پڑھنے والے چپ کی بات کررہا ہوں۔ یہ تو ایک میگزین ہوا، اور نہ جانے کتنے ایسے ہیں، جو میں افورڈ نہیں کر پاتا۔ میرے کورس کی ایک ایک سی ڈی کی قیمت ڈھائی سو روپے ہوتی ہے۔“

ناشتے کے بعد وہ بغیر نہائے سو گیا۔ اس کی میلی جینز رگڑتے ہوئے ماں سوچتی رہی، اس کے کپڑوں سے اسکی جدوجہد کا پتہ چل رہا ہے۔ جب تک وہ گھر میں تھا، ہمیشہ صاف ستھرا رہتا تھا۔ دوپہر میں اسکو کھانے کے لئے اٹھایا۔ بڑی مشکل سے وہ اٹھا،دو چار نوالے کھا کر پھر سو گیا۔ تبھی اس کے پرانے دوست یوگی کا فون آ گیا۔ اسکی ہارڈ ڈسک پھنس رہی تھی۔ سگھن نے کہا کہ وہ اس کے یہاں آ رہا ہے، مرمت کر دے گا۔

”تم تو سافٹ ویئر پروگرامنگ میں ہو۔“راکیش نے کہا۔

”وہاں میں نے ہارڈ ویئر کا بھی ایوننگ کورس لے رکھا ہے۔“سگھن نے جاتے جاتے کہا۔

ہم اپنے بچوں کو کتنا کم جانتے ہیں۔ ان کے ارادے، ان کی منزل، انکی جدوجہد ایک ہی شاہراہ پر ہے۔ راکیش نے سوچا۔ اس کی یادوں میں وہ اب بھی لِیلا دکھانے والا چھوٹا سا کشن کنہیا تھا، جبکہ وہ انفارمیشن کی ایسی دنیا میں ہاتھ پیر چلا رہا تھا ،جس کے ہاتھ پورے دنیا میں پھیلے تھے۔

ریکھا نے کہا،”جو میں نہیں چاہتی تھی وہ کر رہا ہے چھوٹو۔ ہارڈ ویئر کا مطلب ہے میکینک بن کر رہ جائے گا۔ ایک بھائی مینیجر دوسرا، میکینک۔“

راکیش نے ڈانٹ دیا،”جو بات نہیں سمجھتی، اسے بولا مت کرو۔ ہارڈوئیروالوں کو ٹیکنیشین کہتے ہیں، میکینک نہیں۔ بیرون ِملک سافٹ ویئر انجینئر سے زیادہ ہارڈ ویئر انجینئر کماتے ہیں۔ تمہیں یاد ہے جب یہ چھوٹا سا تھا، تین سال کا، میں نے اسے ایک روسی کتاب لا کر دی تھی ”میں کیا بنوں گا؟“با تصویر تھی وہ۔“

 ریکھا کا موڈ بدل گیا،” ہاں، میں اسے پڑھ کر سناتی تھی، تو یہ بہت خوش ہوتا تھا۔ اس میں ایک جگہ لکھا تھا، میکینک اپنے ہاتھ پیر کتنے بھی گندے رکھیں ان کی ماں کبھی نہیں مارتی۔ اسے یہ بات بڑی اچھی لگتی۔ وہ تصویر تھی نہ، بچے کے دونوں ہاتھ گریس سے لتھڑے ہیں اور ماں اسے کھانا کھلا رہی ہے۔“

”پر چھوٹو کمزور بہت ہو گیا ہے۔ کل سے اسے وٹامن دینا شروع کرو۔“

”مجھے لگتا ہے کہ یہ کھانے پینے کے پیسے کاٹ کر ہارڈ ویئر کورس کی فیس بھرتا ہوگا۔ شروع کا گھنّا ہے۔ اپنی ضرورتیں بتاتا تو ہے ہی نہیں۔“

ابھی سگھن کو صبح شام دودھ دلیا دینا شروع ہی کیا تھا کہ ہاٹ میل پر اسے تائیوان کی سافٹ ویئر کمپنی کی طرف سے نوکری کا بلاوا آ گیا۔ گم ہو گئی اس کی تھکاوٹ اور خاموشی۔ کہنے لگا،”مجھے دس دنوں سے اس کا انتظار تھا۔ سارے بیچ نے اپلائی کیا تھا ،پر پوسٹ صرف ایک تھی۔“

ماں باپ کے چہرے پھیکے پڑ گئے۔ ایک لڑکا اتنی دور مدراس میں بیٹھا ہے۔ دوسرا چلا جائے گا ایک ایسے پردیس، جس کے بارے میں وہ ہجے سے زیادہ کچھ نہیں جانتے۔

راکیش کہنا چاہتے تھے سگھن سے،”کوئی ضرورت نہیں اتنی دور جانے کی، تمہارے علاقے میں، یہاں بھی کام ہے۔“

پر سگھن اپنی رضامندی بھیج چکا تھا۔ پاسپورٹ اس نے گزشتہ سال ہی بنوا لیا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا،”پاپا، بس ہوائی ٹکٹ اور پانچ ہزار کا انتظام آپ کر دو، باقی میں مینج کر لوںگا۔آپکا خرچ میں پہلی پے میں سے چکا دوں گا۔“

ریکھا کو لگا سگھن میں سے پون کا چہرہ جھانک رہا ہے۔ وہی بنیا گیری والی پیشکش اور سیاق و سباق۔ اسے یہ بھی لگا کہ نوجوان بیٹے نے ایک منٹ کے لیے بھی نہیں سوچا کہ اسکے ماں باپ یہاں کس کے سہارے زندہ رہیں گے۔

پناہ گزین اور مہاجر صرف سیاح اور پنچھی نہیں ہوتے، بچے بھی ہوتے ہیں۔ وہ دوڑ دوڑ کر درزی کے یہاں سے اپنے نئے سلے کپڑے لاتے ہیں، اٹیچی کیس میں اپنا سامان اور کاغذات رکھتے ہیں، منی بیلٹ میں اپنا پاسپورٹ، ویزا اور چند ڈالر رکھ کر، روانہ ہو جاتے ہیں کسی نامعلوم ملک کے سفر پر، ماں باپ کو صرف ائیر پورٹ یا اسٹیشن پر ہاتھ ہلاتے چھوڑ کر۔

پلیٹ فارم پر لڑکھڑاتی ریکھا کو اپنے تھرتھراتے ہاتھوں سے سنبھالتے ہوئے راکیش نے کہا،”ٹھیک ہی کیا چھوٹو نے۔ جتنی کامیابی یہاں دس سال میں حاصل کرتا، اتنی وہ وہاں دس مہینوں میں کر لے گا۔ باصلاحیت تو ہے ہی۔“

کالونی کے گپتا میاں بیوی بھی ان کے ساتھ اسٹیشن آئے ہوئے تھے۔ مسز گپتا نے کہا،”وائرل فیور کی طرح فارن وائرس بھی بہت پھیلا ہوا ہے آج کل۔“

”تم کچھ بھی کہہ لو، ہمارا چھوٹو ایسا نہیں ہے۔ اس کی فیلڈکے بارے میں یہاں کچھ زیادہ ہے ہی نہیں۔ کہہ کر گیا ہے کہ ٹیکنیکس آف دی ٹریڈ سیکھتے ہی میں لوٹ آو ¿ں گا۔ یہیں رہ کر بزنس کروں گا۔“

”اجی رام رام کہو۔“گپتا جی بولے،” جب وہاں کے عیش و آرام میں رہ لے گا، تب بھلا لوٹنے کی کیا سوچے گا؟ یہ ملک، یہ شہر، یہ گھرسب اسے کسی جیل کی طرح لگے گا، جیل کی طرح۔“

”لیٹس ہوپ فار دی بیسٹ۔“راکیش نے سب کو خاموش کیا۔

گھر وہی تھا، درو دیوار وہی تھے، تمام لوازمات بھی وہی تھا، یہاں تک کہ روٹین بھی وہی تھی پرپون اور سگھن کے والدین کو مانو بن باس مل گیا۔ اپنے ہی گھر میں وہ اکیلے پنچھیوں کی طرح کمرے کمرے پھڑپھڑاتے ادھر ادھرڈولتے۔ پہلے دو دن تو انہیں بستر پر لگتا رہا کہ جیسے کوئی انہیں ہوا میں اڑاتا ہوا لے جا رہا ہے۔ جب تک سگھن کا وہاں سے فون نہیں آ گیا، ان کے پاو ¿ں کی تھرتھراہٹ نہیں تھمی۔

چھوٹے بیٹے کے چلے جانے سے بڑے بیٹے کی غیر موجودگی بھی نئے سرے سے کھلنے لگی۔ دن بھر چھوٹے چھوٹے کرشمے اور کارنامے، بچوں کو پکار کر دکھانے کا من کرتا۔کبھی کتاب میں پڑھا کوئی اچھاسا واقعہ، کبھی اخبار میں چھپی کوئی بڑھیا خبر، کبھی باغیچے میں کھلا نیا گلاب، ان سب کو بانٹنے کے لئے وہ آپس میں پورے ہوتے ہوئے بھی آدھے تھے۔ راکیش صبح اٹھتے ہی اپنے چھوٹے سے ہفتہ وار اخبارکے مطالعے میں مصروف ہو جاتے، ریکھا ککر چڑھانے کے ساتھ ساتھ کاپیاں بھی چیک کرتی رہتی، پر گھر بھائیںبھائیں کرتا رہتا۔ صبح آٹھ بجے ہی جیسے دوپہر ہو جاتی۔

بچے گھر میں کس قدر سمائے ہوتے ہیں، یہ ان کی غیر موجودگی میں ہی پتہ چلتا ہے۔ دفتر جانے کے لئے راکیش اسکوٹر نکالتے۔ صبح کے وقت اسکوٹر کو کک لگانا انہیں ناگوار لگتا۔ وہ اسٹارٹ کرنے کی پہلی کوشش کرتے کہ انہیں لگتا کہ سگھن نے پاو ¿ںا سکوٹر کک پر رکھا ہے۔ ”لاو ¿ پاپا، میں اسٹارٹ کر دوں۔“حیران نظر یںدائیں بائیں اٹھتیں، پھر اڑیل اسکوٹر پر بے دلی سے ٹھہر جاتیں۔

باورچی خانے میں طاق بہت اونچے لگے تھے۔ ریکھا کا قد صرف پانچ فٹ تھا۔ اوپر کے طاقوں پر کئی ایسے لوازمات رکھے تھے، جن کی ضرورت روز نہ پڑتی تھی، پر پڑتی توتھی۔ ریکھا ایک پیر کے پنجے پر اچک کر مرتبان اتارنے کی کوشش کرتی، پر کامیاب نہ ہو پاتی۔ اسٹول پر چڑھنا فریکچر کو کھلا بلاوا دینا تھا۔

بالآخر جب وہ چمٹے یا سنسی سے کوئی چیز اتارنے کو ہوتی، اسے لگتا کہیں سے آ کر دو شناسا ہاتھ مرتبان اتار دیں گے۔ ریکھا باﺅلی بن کر ادھر ادھر کمروں میں بچوں کو ڈھونڈتی پر کمروں کی ویرانی میں کوئی تبدیلی نہ آتی۔ کالونی میں کم و بیش سب کی یہی حالت تھی۔ اس بڈھا بڈھی کالونی میں صرف گرمی کی طویل چھٹیوں میں کچھ رونق دکھائی دیتی، جب گھروں کے نواسے پوتے اندر باہر دوڑتے کھیلتے نظرآتے ہیں۔ ورنہ یہاں چہل پہل کے نام پر صرف سبزی والوں کے یا ردی خریدنے والوں کے ٹھیلے گھومتے نظر آتے۔ بچوں کو محفوظ مستقبل کے لئے تیار کر کے ،ہر گھر کے ماں باپ خود ایکدم غیر محفوظ زندگی جی رہے تھے۔

شاید عدم ِتحفظ کے احساس سے لڑنے کے لئے ہی ،یہاں کی عوامی فلاحی کمیٹی ہر منگل والے دن کسی ایک گھر میں سندر کانڈ کا پاٹھ منعقد کرتی۔ اس دن وہاں جیسے بڑھوا منگل ہو جاتا۔ پاٹھ کے نام پر سندر کانڈ کا کیسٹ میوزک سسٹم میں لگا دیا جاتا۔ تب گھر کے سازو سامان پر بات چیت شروع ہوتی۔

ڈائننگ ٹیبل پر مائکروویوا وون دیکھ کر مسز گپتا، مسز مجیٹھیا سے پوچھتی،”یہ کب لیا؟“

مسز مجیٹھیا کہتیں،”اس بار دیور آیا تھا، وہی دلا گیا ہے۔“

”آپ کیا پکاتی ہیں اس میں؟“

”کچھ نہیں، بس دلیہ کھچڑی گرم کر لیتے ہیں۔ جھٹ سے گرم ہو جاتا ہے۔“

”ارے، یہ اس کا استعمال نہیں ہے، کچھ کیک ویک بنا کر کھلائیں۔“

”بچے پاس ہوں تو کیک بنانے کا مزہ ہے۔“

پتہ چلا کسی کے گھر میں ویکیوم کلینر پڑا دھول کھا رہا ہے، توکسی کے یہاں فوڈ پروسیسر۔ لمبی گرہستی کی زندگی میں اپنی ساری امنگیں خرچ کر چکی یہ سیانی خواتین ایک طرح کی چلتی پھرتی، کڑتی،کراہتی دستاویزات تھیں۔ ریکھا کو ان منگلواروںکے اجلاسوں سے دہشت ہوتی۔ اسے لگتا آنے والے سالوں میں اسے اِن جیسا ہی ہو جانا ہے۔

اس کا دل بار بار بچوں کے بچپن اور لڑکپن کی یادوں میں الجھ جاتا۔ گھوم پھر کر وہی دن یاد آتے جب پنّو، چھوٹو ساڑی سے لپٹ لپٹ جاتے تھے۔ کئی بار تو انہیں اسکول بھی لے کر جانا پڑتا، کیونکہ وہ پلو چھوڑتے ہی نہیں تھے۔ کسی کمیٹی میٹنگ میں اس کو دعوت دی جاتی، تب بھی ایک نہ ایک بچہ اس کے ساتھ ضرور چپک جاتا۔ وہ مذاق کرتی،”مہارانی لکشمی کی پشت پر بچہ دکھایا جاتا ہے، میرا انگلی سے بندھا ہوا۔“

کیا دن تھے وہ! تب ان کی دنیا کا محور ماں تھی، اسی میں تھی انکی پوری کائنات اور سوچیں۔ ماں کی گود ان کا جھولا،پالنا اور پلنگ۔ ماں کی نظر ان کے خیالوں کی اڑان۔ پون کی ابتدائی تعلیم میں ریکھا اور راکیش دونوں ہی باﺅلے رہے تھے۔ وہ اپنے اسکوٹر پر اس کی اسکول بس کے پیچھے پیچھے چلتے جاتے ،یہ دیکھنے کہ بس کون سے راستے جاتی ہے۔ اسکول کی جھاڑیوں میں چھپ کر وہ پون کو دیکھتے کہ کہیں وہ رو تو نہیں رہا۔ وہ شہزادے کی طرح روز نیا فرمان سناتا۔ وہ دوڑ دوڑ کر اس کی خواہش پوری کرتے۔ امتحان کے دنوں میں وہ اس کے سونے پر سوتے، اسکے جاگنے پرجاگتے۔

 ریکھا کے کلیجے میں ہوک سی اٹھتی، کتنی جلدی گزر گئے وہ دن۔ اب تو دن مہینوں میں بدل جاتے ہیں اور مہینے سالوں میں، وہ اپنے بچوں کو بھر آنکھ دیکھ بھی نہیں پاتی۔ ویسے اسی نے تو انہیں سارے سبق یاد کرائے تھے۔ اسی عمل میں بچوں کے اندر پھرتی، حوصلہ ، تیز رفتاری، پراعتمادی، طاقت اور خود انحصاری جیسی خصوصیات آئیں۔ وہی تو سکھاتی تھی انہیں کہ زندگی میں ہمیشہ آگے ہی آگے بڑھو، کبھی پیچھے مڑ کر مت دیکھو۔ بچوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے وہ ایک قصہ سناتی تھی۔ پون اور سگھن کو اس قصے کوسننے میں بہت مزہ آتا تھا۔ سگھن اسکی ساڑی میں لپٹ کر تتلاتا،”مما، جب بےیا جنتل منتل پل چرگیا تب کا ہوا؟“ ریکھا کے سامنے وہ قصہ زندہ ہو اٹھتا۔

وہ پورے تسلسل سے بتانے لگتی،”پتہ ہے پنّو ایک بار ہم دہلی گئے۔تُو ڈھائی سال کا تھا۔ اچھا بھلا میری انگلی پکڑے جنتر منتر دیکھ رہا تھا۔ ادھر راکیش مجھے دھوپ گھڑی دکھانے لگے، ادھر تو کب ہاتھ چھڑا کر بھاگا، پتہ ہی نہیں چلا۔ جیسے ہی میں دیکھوں کہ پون کہاں ہے، اے بھگوان تُو تو جنتر منتر کی اونچی سیڑھیاں چڑھ کر سب سے اوپر کھڑا تھا۔ میری حالت ایسی ہو گئی کہ کاٹو تو خون نہیں۔ میں نے ان کی طرف دیکھا۔ انہوں نے ایک بار غصے سے مجھے گھورا،”دھیان نہیں رکھتی؟“گھبرا یہ بھی رہے تھے پر تجھے پتہ نہیں چلنے دیا۔ سیڑھی کے نیچے کھڑے ہو کر بولے،”بیٹا، بغیر نیچے دیکھے، سیدھا اتر آو ¿، شاباش، کہیں دیکھنا نہیں۔“

پھر مجھ سے بولے،”تم اپنا چلانا روک کر رکھو، نہیں تو بچہ گر جائے گا۔ تُو دھم دھم کرکے ساری سیڑھیاں اتر آیا۔ ہم دونوں نے اس دن پرساد چڑھایا۔ بھگوان نے ہی حفاظت کی تیری۔“

بار بار سن کر بچوں کو یہ قصے ایسے یاد ہو گئے تھے، جیسے کہانیاں۔

 پون کہتا،”ماں، جب تم بیمار پڑی تھیں، چھوٹو اسکول سے سیدھا ہسپتال آگیا تھا۔“

”سچی۔ ایسا اس نے خطرہ مول لیا۔ کے جی ٹو میں پڑھتا تھا۔ سینٹ انتھونی میں تین بجے چھٹی ہوئی۔ آیا جب تک اسے ڈھونڈے، بس میں بٹھائے، یہ چل دیا باہر۔“

 پون کہتا،”ویسے ماں ہسپتال اسکول سے دور نہیں ہے۔“

”ارے کیا؟ چوراہا دیکھا ہے وہ بالسن والا۔ چھ راستے نکلتے ہیں وہاں۔ کتنے ٹرک چلتے ہیں۔ اچھے بھلے لوگ گھن چکر ہو جاتے ہیں سڑک پار کرنے میں اور یہ اےڑیاں اچکاتا جانے کس طرح ساری ٹریفک پار کر گیا کہ مما کے پاس جانا ہے۔“

سگھن کہتا،”ہمیں پچھلے دن پاپا نے کہا تھا کہ تمہاری ماں مرنے والی ہے۔ ہم اس لئے گئے تھے۔“

“تم نے یہ نہیں سوچا کہ تم کچل جاو ¿ گے۔“

”نہیں۔“سگھن سر ہلاتا،” ہمیں تو مما چاہئے تھی۔“

اب اس کے بغیر کتنے دور رہ رہا ہے سگھن ۔ کیا اب یاد نہیں آتی ہوگی؟ کتنا قابو رکھنا پڑتاہوگا خود پر۔

بھاگی وان ہوتے ہیں وہ ،جن کے بیٹے بچپن سے ہوسٹل میں پلتے ہیں، دور رہ کر پڑھائی کرتے ہیں اور ایک دن باہر باہر ہی بڑے ہوتے جاتے ہیں۔ ان کی ماو ¿ں کے پاس یادوں کے نام پر صرف خط اور خبر ہوتی ہے، فون پر ایک آواز اور کرسمس کے گریٹنگ کارڈ۔ پر ریکھا نے تو رچ رچ کر پالے ہیں اپنے بیٹے۔ ان کے گُو مُوت میں گیلی ہوئی ہے، انکے آنسو اپنے بوسوںسے سکھائے ہیں، انکی ہنسی اپنے دل میں اتاری ہے۔

راکیش کہتے ہیں،”بچے اب ہم سے زیادہ زندگی کو سمجھتے ہیں۔ انہیں کبھی پیچھے مت کھینچنا۔“

رات کوپون کا فون آیا۔ ماں باپ دونوں کے چہرے کھل گئے۔

”طبیعت کیسی ہے؟“

”بالکل ٹھیک۔“دونوں نے کہا۔اپنی کھانسی، الرجی اور درد بتا کر اسے پریشان تھوڑے کرنا ہے۔

”چھوٹو کی کوئی خبر؟“

”بالکل مزے میں ہے۔ آج کل چینی بولنا سیکھ رہا ہے۔“

”وی سی ڈی پر تصویر دیکھ لیا کرو، ماں۔“

” ہاں، دیکھتی ہوں۔“صاف جھوٹ بولا ریکھا نے۔ اسے وی سی ڈی میں ڈسک لگانا کبھی نہیں آئےگا۔

پچھلی بار پون مائکروویواون دلا گیا تھا۔ فون پر پوچھا،”مائکروویو سے کام لیتی ہو؟“

”مجھے اچھا نہیں لگتا۔ یہ مجھے سنتا نہیں، میری ہر چیز زیادہ پکا دیتا۔ پھر بھی سبزیاں بالکل سفید لگتی ہیں جیسے کچی ہوں۔“

”اچھا یہ میں لے لوں گا، آپ کو دوسرا دلا دوں گا۔“

”اسٹیلا کہاں ہے؟“

پتہ چلا کہ اس کے ماں باپ شکاگو سے واپس آ گئے ہیں۔ پون نے چہکتے ہوئے بتایا،”اب چھوٹی ممی بزنس سنبھالے گی۔ اسٹیلا بس وزٹ دے سکے گی۔“

وزٹ لفظ کھٹکا، پر وہ الجھے نہیں۔ پھر بھی فون رکھنے سے پہلے ریکھا کے منہ سے نکلا،”تبھی ہم سے ملنے نہیں آئے۔“

”آئیں گے ماں، پہلے تو جےٹ لےگ (تھکاوٹ) رہا، اب بزنس میں گھرے ہیں۔ ویسے آپ کی بہو آپ لوگوں سے انکی ملاقات کاپلان بنا رہی ہے۔ وہ چاہتی ہے کسی ہالیڈے ریزورٹ میں آپ چاروں ،دو تین دن رہو۔ وہ لوگ بھی آرام کر لیں گے اور آپ کے لئے بھی چینج ہو جائے گا۔“

”اتنے لوازمات کی کیا ضرورت ہے؟ انہیں یہاں سیدھا آنا چاہئے۔“

”یہ آپ اسٹیلا سے فون پر ڈسکس کر لینا۔ بہت لمبی بات ہو گئی، بائی“

کچھ دیر بعد ہی اسٹیلا کا فون آیا۔ ”مما، اپنا کمپیوٹر آن رکھا کرو۔ میں نے کتنی بار آپ کے ای میل پر میسج دیا۔ ممی نے بھی آپ دونوں کو ہیلو بولا، پر آپ کا سسٹم آف تھا۔“

”تمہیں پتہ ہی ہے، جب سے چھوٹو گیا ہم نے کمپیوٹر پر کور اوڑھا کر رکھ دیا ہے۔“

”او نو مام۔ اگر آپ کے کام نہیں آ رہا تو یہاں بھجوا دیجئے۔ میں منگوا لوں گی۔ اتنی یوز فل چیز آپ لوگ ویسٹ کر رہے ہیں۔“

 ریکھا کہنا چاہتی تھی کہ اس کے والدین ان سے ملنے نہیں آئے۔ پر اسے لگا کہ شکایت اسے چھوٹا بنائے گی۔ وہ ضبط کر گئی۔ لیکن جب اسٹیلا نے اسے اگلے ماہ واٹر پارک کے لئے بلاوا دیا، اس نے صاف انکار کر دیا،”میری چھٹیاں ختم ہیں۔ میں نہیں آ سکتی۔ یہ چاہیں تو چلے جائیں۔“

اس پروگرام میں راکیش کی بھی دلچسپی نہیں تھی۔

کئی دنوں کے بعد ریکھا اور راکیش انجینئرنگ کالج کے کیمپس میں گھومنے نکلے۔ ایک ایک کرکے شناسا چہرے نظر آتے گئے۔ اچھا لگتا رہا۔ منہاج صاحب نے کہا،”گھومنے میں ناغہ نہیں کرنا چاہئے۔ روز گھومنا چاہئے، چاہے پانچ منٹ گھومو۔“انہی سے خبر ملی کہ کالونی کے سونی صاحب کو دل کا دورہ پڑا تھا، ہاسپٹل میں بھرتی ہیں۔

 ریکھا اور راکیش فکر مند ہو گئے۔ مسز سونی چونسٹھ سال کی گٹھیا کی ستائی خاتون ہیں۔ ہسپتال کی بھاگ دوڑ کیسے سنبھالیں گی؟

”دیکھو جی، کل تو میں نے بھوشن کو بٹھا دیا تھا وہاں پر۔ آج تو اس نے بھی کام پر جانا تھا۔“

 ریکھا اور راکیش نے طے کیا وہ شام کو سونی صاحب کو دیکھ کر آئیں گے۔

پر سونی کے دل نے اتنی مہلت نہ دی۔ وہ تھک کر پہلے ہی دھڑکنا بند کر بیٹھا۔ شام تک کالونی میں ہسپتال کی ایمبولنس سونی کا جسد خاکی اور ان کی بے حال بیوی کو اتار کر چلی گئی۔

سونی کی لڑکی کو اطلاع دی گئی۔ وہ دہرادون بیاہی تھی۔ پتہ چلا وہ اگلے روز،رات تک پہنچ سکے گی۔ مسز سونی سے سدھارتھ کا فون نمبر لے کر انہی کے فون سے انٹرنیشنل کال ملائی گئی۔

مسز سونی شوہر کے سوگ میں ایک دم نڈھال ہو رہی تھیں۔ فون میں وہ صرف روتی اور کہتی رہیں،”تیرے ڈیڈی، تیرے ڈیڈی۔ ۔ ۔“

تب فون منہاج صاحب نے سنبھالا،” بھئی سدھارتھ، بڑا ہی برا ہوا۔ اب تو جلدی سے آ کر اپنا فرض پورا کر۔ تیرے انتظار میں فیونرل روکے کیارکھیں؟“

ادھر سے سدھارتھ نے کہا،”انکل، آپ ممی کو سنبھالیں۔ آج کی تاریخ سب سے منحوس ہے۔ انکل، میں جتنی بھی جلدی کروں گا، مجھے پہنچنے میں ہفتہ بھر لگ جائے گا۔“

”ہفتے بھر باڈی کیسے پڑی رہے گی؟“منہاج صاحب بولے۔

”آپ مردہ گھر میں رکھوا دو۔ یہاں تو مہینوں باڈی مارچیوری میں رکھی رہتی ہے۔ جب بچوں کو فرصت ہوتی ہے فیونرل کر دیتے ہیں۔“

”وہاں کی بات اور ہے۔ ہمارے ملک میں ائیر کنڈیشنڈ مردہ گھر کہاں ہیں۔ اویہ پتر تیرا باپ اُپّر چلا گیا تو اِنّی دور بیٹھا بہانے بنا رہا ہے۔“

”ذرا ممی کو فون دیجئے۔“

کالونی کے سبھی گھروں کے لوگ انتظامات میں لگ گئے۔ جس کو جو یاد آتا گیا، وہی کام کرتا گیا۔ سویرے تک پھول، گلال، شال سے ارتھی ایسی سجی کہ سب اپنی محنت پر خود دنگ رہ گئے۔ پر اس مشکل کام کے دوران بہت سے لوگ تھک گئے۔ منہاج صاحب کے دل کی دھڑکن بڑھ گئی۔ ان کے لڑکے نے کہا،”ابو، آپ رہنے دو، میں گھاٹ چلا جاتا ہوں۔“

بھوشن نے ہی آگ دی۔

 ریکھا ، مسز گپتا، مسز یادو، مسز سنہا اور دیگر عورتیں، مسز سونی کے پاس بیٹھی رہیں۔ مسز سونی اب کچھ پرسکون تھیں،”آپ سب نے دکھ کی گھڑی میں ساتھ دیا۔“

”یہ تو ہمارا فرض تھا۔“کچھ آوازیں آئیں۔

 ریکھا کے منہ سے نکل گیا،”ایسا کیوں ہوتا ہے کہ کچھ لوگ فرض پہچانتے ہیں، کچھ نہیں۔ ارے سکھ میں نہیں، پر دکھ میں تو ساتھ دو۔“

مسز سونی نے کہا،”اپنے بچے کے بارے میں کچھ بھی کہنا برا لگتا ہے، پر سدھو نے کہا کہ میں کسی کو بیٹا بنا کر سارے کام کروا لوں۔ ایسا بھی کبھی ہوتا ہے۔“

”اور ریڈی میڈ بیٹے مل جائیں، یہ بھی کہاں ممکن ہے۔ مارکیٹ میں سب چیز مل جاتی ہیں، پر بچے نہیں ملتے۔“

”ایسا ہی پتہ ہوتا ہے کہ پچیس برس پہلے خاندانی منصوبہ بندی کیوں کرتے۔ ہونے دیتے اور چھ بچے۔ ایک نہ ایک تو پاس رہتا۔“

”ویسے اتنی دور سے فوری طور پر آنا ہو بھی نہیں سکتا تھا۔“مسز مجیٹھیا نے کہا،” ہماری ساس مری تو ہمارے دیور کہاں آ پائے۔“

”پر آپ کے شوہر تو تھے نا؟ انہوں نے اپنا فرض نبھایا۔“

اس افسوسناک واقعے نے سب کے لئے سبق کا کام کیا۔ سبھی نے اپنے وصیت نامے سنبھالے اور بینک اکاو ¿نٹس کی تفصیلات۔ کیا پتہ کب کس کا بلاوا آ جائے۔ الماری میں دو چار ہزار روپے رکھنا ضروری سمجھا گیا۔

کالونی کے پھرتیلے بزرگوں کی خاصیت تھی کہ وہ ہر کام مشن کی طرح ہاتھ میں لیتے۔ جیسے کبھی انہوں نے اپنے دفتروں میں فائلوں نپٹائی ہوں گی، ویسے ہی وہ ایک ایک کرکے اپنی ذمہ داریاں نبٹانے میں لگ گئے۔ سنہا صاحب نے کہا،”بھئی، میں نے تو ایکادشی کو گﺅدان بھی جیتے جی کر لیا۔ پتہ نہیں امیت بمبئی سے آ کر یہ سب کرے یا نہیں۔“

گپتا جی بولے،”ایسے جنت میں سیٹ ریزرو نہیں ہوتی۔ بیٹے کا ہاتھ لگنا چاہئے۔“

شری واستو جی کے کوئی لڑکا نہیں تھا، اکلوتی لڑکی ہی تھی۔ انہوں نے کہا،”کسی کے بیٹا نہ ہو تو؟“

”تب اسے ایسی تڑپن نہیں ہوتی، جیسی سونی صاحب کی مسز کو ہوئی۔“

 ریکھا یہ سب دیکھ سن کر دہشت سے بھر گئی۔ ایک تو ابھی اتنی عمردراز وہ نہیں ہوئی تھی کہ اپنا ایک پاو ¿ں شمشان میں دیکھے۔ دوسرے، اسے لگتا یہ سب لوگ اپنے بچوں کوکھل نائیک بنا رہے ہیں۔ کیا بوڑھے ہونے پر احساس سمجھنے کی قدرت جاتی رہتی ہے؟

کالونی کے ہر سخت فیصلے پر اسے لگتا کہ میں ایسی نہیں ہوں، میں اپنے بچوں کے بارے میں ایسی بیدردی سے نہیں سوچتی۔ میرے بچے ایسے نہیں ہیں۔

رات کے آخری نیوز بلیٹن سن کر وہ ابھی لیٹے ہی تھے کہ فون کی طویل گھنٹی بجی۔ گھنٹی کے ساتھ ساتھ دل کا تار بھی بجا،”ضرور چھوٹو کا فون ہوگا، پندرہ دن سے نہیں آیا۔“فون پر بڑکو پون بول رہا تھا،” ہیلو ماں، کیسی ہو؟ آپ نے فون نہیں کیا؟“

”کیا تھا پر مشین کے بولنے سے پہلے کاٹ دیا۔تم گھر میں نہیں ٹکتے۔“

”ارے ماں، میں تو یہاں تھا ہی نہیں۔ ڈھاکہ چلا گیا تھا، وہاں سے بمبئی اترا، تو سوچا اسٹیلا کو بھی دیکھتا چلوں۔ وہ کیا ہے اس کی شکل بھی بھولتی جا رہی تھی۔“

“تم نے جانے کی خبر نہیں دی۔“

”آنے کی تو دے رہا ہوں۔ میرا کام ہی ایسا ہے۔ اٹیچی ہر وقت تیار رکھنی پڑتی ہے۔ اور تم، تمہارے لئے ڈھاکا کی ساڑیاں لایا ہوں۔“

نہال ہو گئی ریکھا ۔ اتنی دور جا کر بھی اسے ماں کی یاد آتی رہی۔ فوری طور پر بہو کا دھیان آیا۔

”اسٹیلا کے لئے بھی لے آنی تھی۔“

”لایا تھا ماں، اس کو اور چھوٹی ممی کو پسند ہی نہیں آئیں۔ اسٹیلا کو وہیں سے جینز دلائی۔ چلو آپ کے لئے تین ہو گئیں۔ تین سال کی چھٹی۔“

”میں نے تو تم سے مانگی بھی نہیں تھیں۔“ ریکھا کی آواز مشکل سے نکلی۔

ایک اچھے مینیجر کی طرح پون باپ سے مخاطب ہوا،”پاپا، اتوار سے میں سوامی جی کے دھیان کیمپ میں چار دن کے لئے جا رہا ہوں۔ سنگاپور سے میرے باس اپنی ٹیم کے ساتھ آ رہے ہیں۔ وہ دھیان کیمپ دیکھنا چاہتے ہیں۔ آپ بھی منپکّم آ جائیے۔ آپ کو بہت شانتی ملے گی۔ اپنے اخبار کا ایک خصوصی شمارہ پلان کر لیجئے سوامی جی پر۔ اشتہارات خوب ملیں گے۔ یہاں ان کی بہت بڑی شاگرد منڈلی ہے۔“

راکیش ہوں ، ہاں کرتے رہے۔ ان کے لئے جگہ کا فاصلہ، زبان کا مسئلہ، چھٹی کی قلت، جیسے بہت سے روڑے تھے راہ میں۔ وہ اسی میں خوش تھے کہ پنّو انہیں بلا رہا ہے۔

”چھوٹو کی کوئی خبر؟“

” ہاں، پاپا اس کا تائی پے سے خط آیا تھا۔ جاب اس کی ٹھیک چل رہی ہے۔ پر اس کی چال ڈھال ٹھیک نہیں لگی۔ وہ وہاں کی لوکل پالیٹکس میں حصہ لینے لگا ہے۔ یہ چیز خطرناک ہو سکتی ہے۔“

راکیش گھبرا گئے،”تمہیں اسے سمجھانا چاہئے۔“

”میں نے فون کیا تھا، وہ تو لیڈر کی طرح بول رہا تھا۔ میں نے کہا، نوکری کونوکری کی طرح کرو، اس میں اصول، قاعدے ٹھوکنے کی کیا ضرورت ہے۔“

”اس نے کیا کہا؟“

”کہہ رہا تھا بھیا، یہ میرے وجود کا سوال ہے۔“

ریکھا کو کسی خرابی کا احساس ہوا۔ اس نے فون راکیش سے لے لیا،”بیٹے، اس کو کہو فوراً واپس آ جائے۔ اسے چین تائیوان کے تنازعے سے کیا مطلب۔“

”ماں، میں سمجھا ہی سکتا ہوں۔ وہ جو کرتا ہے اس کی ذمہ داری ہے۔ بہت سے لوگ ٹھوکر کھا کر ہی سنبھلتے ہیں۔“

” پنّو، تیرا اکلوتا بھائی ہے سگھن ،اور تو پہلو جھاڑ رہا ہے۔“

”ماں، آپ فون کرو، چٹھی لکھو۔ اڑیل لوگوں کے لئے میری برداشت بہت کم ہو گئی ہے۔ میری کوئی شکایت ملے تو کہنا۔“

دہشت سے دہل گئی ریکھا ۔ فوری طور پر چھوٹو کو فون ملایا۔ وہ گھر پر نہیں تھا۔ اسکو تلاش کرنے میں دو ڈھائی گھنٹے لگ گئے۔ اس دوران ماں باپ کا برا حال ہو گیا۔ راکیش بار بار باتھ روم جاتے۔اور ریکھا ساڑی کے پلو میں اپنی کھانسی دبانے میں لگی رہی۔

بالآخر چھوٹو سے بات ہوئی۔ اس نے سمجھایا۔

”ایسا ہے پاپا، اگر میں لوکل لوگوں کی حمایت میں نہیں بولوں گا تو یہ مجھے تباہ و برباد کر دیں گے۔“

”تو تم یہاں چلے آو ¿۔ انفوٹیک( تکنیکی معلومات) میں یہاں بھی اچھی سے اچھی نوکریاں ہیں۔“

”یہاں میں جم گیا ہوں۔“

”پردیس میں انسان کبھی نہیں جم سکتا۔ خیمے کا کوئی نہ کوئی کونا اُکھڑا ہی رہتا ہے۔“

”ہندوستان اگر لوٹا تو اپنا کام کروں گا۔“

”یہ تو اور بھی اچھا ہے۔“

”پر پاپا، اس کے لئے کم سے کم تیس چالیس لاکھ روپے کی ضرورت ہو گی۔ میں آپ کو لکھنے ہی والا تھا۔ آپ کتنا انتظام کر سکتے ہیں، باقی جب میں جمع کر لوں گا تب آو ¿ں گا۔“

راکیش ایک دم گڑبڑا گئے،”تمہیں پتہ ہے گھر کا حال۔ جتنا کماتے ہیں اتنا خرچ کر دیتے ہیں۔ سارا پونچھ پانچھ کر نکالیں تو بھی ایک ڈیڑھ سے زیادہ نہیں ہو گا۔“

”اسی بنا پر مجھے واپس بلا رہے ہیں۔ اتنے میں تو پی سی او بھی نہیں کھلے گا۔“

“تم نے بھی کچھ جوڑا ہوگا اتنے برسوں میں۔“

”پر وہ کافی نہیں ہے۔ آپ نے ان برسوں میں کیا کیا؟ دونوں بچوں کا خرچ آپ کے سر سے اٹھ گیا، گھومنے آپ جاتے نہیں،سنیما آپ دیکھتے نہیں، دارو آپ پیتے نہیں، پھر آپ کے پیسوں کا کیا ہوا؟“

راکیش آگے بول نہیں پائے۔ بچہ ان سے روپے آنے پائی میں حساب مانگ رہا تھا۔

ریکھا نے فون جھپٹ کر کہا،”تو کب آ رہا ہے چھوٹو؟“

 سگھن نے کہا،”ماں جب آنے کے قابل ہو جاو ¿ں گا تبھی آو ¿ں گا۔ تمہیں تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا۔“

٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے