سر ورق / ڈائجستوں کی الف لیلی۔۔۔ قسط نمبر 6 سید انور فراز

ڈائجستوں کی الف لیلی۔۔۔ قسط نمبر 6 سید انور فراز

تحریر: سید انور فراز
قسط نمبر 6
مہرباں کیسے کیسے
وصی صاحب سسپنس ڈائجسٹ میں نائب مدیر کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے تھے، بنیادی طور پر وصی بدایونی ایک کاتب تھے اور سب رنگ ڈائجسٹ سے طویل عرصہ وابستہ رہے، بعد ازاں کچھ اختلافات کی وجہ سے سب رنگ سے فارغ کردیے گئے اور معراج صاحب کے پاس آگئے، ایک مرحلے پر سسپنس کی ذمے داریاں انہیں سونپ دی گئی تھیں۔
سب رنگ سے فارغ ہونے کے بعد کچھ عرصہ وہ داستان ڈائجسٹ میں خان آصف صاحب کے پاس بھی کتابت کرچکے تھے، ہماری دعا سلام اسی زمانے میں ہوئی تھی، انہوں نے ہمیں خوش دلی سے خوش آمدید کہا اور ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے بھی ان کے تجربے سے فائدہ اٹھایا اور بہت کچھ ان سے سیکھا، چوں کہ وہ ایک اعلیٰ درجے کے کاپی پیسٹر بھی تھے لہٰذا یہ ہنر بھی ہم نے انہی سے سیکھا لیکن وصی صاحب اور شافع صاحب کے درمیان ایک خفیہ چپقلش جاری تھی، دونوں ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ شافع صاحب انہیں ایک کاتب سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے اور ان کے ساتھ کچھ تحقیر آمیز سلوک روا رکھتے تھے، نتیجے کے طور پر وصی صاحب کا رویہ اور طرز عمل بھی مخاصمانہ رہتا تھا اور وہ اپنی ان صحبتوں پر فخر کرتے تھے جو ماضی میں رہی تھیں یعنی شکیل عادل زادہ، انور شعور، خان آصف وغیرہ ، ان کا خیال تھا کہ شافع صاحب پرچے کے معیار کا خیال نہیں رکھتے اور نہ ہی زبان و بیان پر توجہ دیتے ہیں، ان کی یہ بات درست تھی، اس کا اندازہ ہمیں بعد میں ہوا، وصی صاحب سسپنس میں سب رنگ کا سا انداز لانے کی کوشش کرتے تھے،خصوصاً زبان و بیان اور لے آو¿ٹ وغیرہ کے حوالے سے۔
صفیہ ملک
اسی ادارے سے شائع ہونے والا خواتین کا پرچا ”ماہنامہ پاکیزہ“ تھا جس کی ادارت کلی طور پر ہماری نہایت قابل احترام بہن صفیہ ملک کے سپرد تھی، ہم نے اس دشت خرابات میں صفیہ جیسی باکردار، باحیا، سرتاپا پیکرِشرافت و خلوص خواتین کم ہی دیکھی ہیں، وہ پوری پردہ داری کے ساتھ آفس آتیں اور پھر انہیں اپنے کمرے سے باہر یا کسی اور کمرے میں کوئی نہیں دیکھتا تھا، برسوں میں بھی کبھی ہم نے انہیں معراج صاحب کے یا کسی اور صاحب کے کمرے میں جاتے نہیں دیکھا، معراج صاحب کو اگر ان سے کوئی کام ہوتا تو انٹرکام پر بات ہوجاتی، اگر کسی طویل میٹنگ کی ضرورت پیش آتی تو معراج صاحب خود ان کے آفس میں آکر ملاقات کرتے، وہ خود بھی صفیہ ملک کا بہت زیادہ احترام کرتے تھے، معراج صاحب کی پہلی بیگم ساجدہ معراج سے صفیہ کے اچھے مراسم تھے ، وہ ماہنامہ پاکیزہ میں جاب کے علاوہ ریڈیو پاکستان کراچی سے بھی وابستہ تھیں۔
اس زمانے میں چوں کہ ہفت روزہ محور بھی اسی ادارے سے نکل رہا تھا تو تین اور خواتین بھی آفس میں موجود تھیں، اول نادرہ گیلانی اور دوم شاہدہ نفیس صدیقی، نادرہ گیلانی پاکیزہ کے ابتدائی دور میں ایڈیٹر کے فرائض انجام دے چکی تھیں اور اب محور میں اپنی قلم کاری کے جوہر دکھا رہی تھیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں خواتین سے صفیہ ملک کے مراسم بس سلام دعا کی حد تک تھے،شاید اس کی وجہ نظریاتی رہی ہو، صفیہ بہت مذہبی ذہن اور مشرقی مزاج کی حامل تھیں جب کہ نادرہ اور شاہدہ روشن خیال،صفیہ الحمداللہ حیات ہیں ، انہوں نے شادی نہیں کی، گزشتہ دنوں نیت تھی کہ ان سے ملاقات کے لیے جائیں لیکن تاحال یہ ممکن نہیں ہوسکا ہے، تیسری صفیہ کی معاون ایک لڑکی تھی جس کا نام شاید کنول تھا، دفتر کے ایک بندے سے اس کا دھواں دھار قسم کا عشق جاری تھا اور بعد میں معلوم ہوا کہ ان کی منگنی بھی ہوچکی ہے، ایک روز اس بندے نے جس کا پورا نام محمد کامل ظہیر تھا (جاسوسی سسپنس کے قارئین نے یہ نام بعض کہانیوں پر ضرور پڑھا ہوگا) ہم سے سوال کیا کہ آپ سنا ہے علم نجوم جانتے ہیں اور روزنامہ نوائے وقت میں کالم بھی لکھتے ہیں (کچھ وقت تک نوائے وقت میں ہمارا ڈیلی کالم ”آج کے امکانات“ جاری تھا) لہٰذا مجھے بتائیں کہ میری شادی کب ہوگی؟ ہم نے ان کی تاریخ پیدائش معلوم کی اور کہا کہ فی الحال تو دور دور تک امکان نظر نہیں آتا تو موصوف نے بڑی عجیب نظروں سے ہماری طرف دیکھا اور ایک قہقہ لگایا، اس وقت محمد رمضان بھی وہاں موجود تھے، رمضان نے ہمیں بتایا کہ جناب ! ان کی منگنی ہوچکی ہے اور اسی سال شادی طے ہے، یہ سن کر ہم خاموش ہوگئے اور سوچا کہ ممکن ہے ہم نے سرسری انداز میں جو اندازہ لگایا ہے وہ غلط بھی ہوسکتا ہے۔
اس بات کو تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ ایک روز کسی پیون نے ہمارے کمرے میں آکر خبر دی کہ کنول نے خودکشی کی کوشش کی ہے اور صفیہ باجی اسے سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔
اب ہمیں یاد نہیں کہ دونوں کے درمیان کیا جھگڑا ہوا کہ موصوفہ خود کشی کی کوشش کربیٹھی اور بالآخر وہ منگنی ختم ہوگئی، ان کی اس حرکت پر انہیں دفتر سے نکال دیا گیا، بعد ازاں کامل ظہیر دبئی روانہ ہوگئے اور کئی سال دبئی میں گزار کر واپس آئے اور ان کی شادی 1985 ءکے آخر میں ہوئی، کامل بعد میں ہم سے کہا کرتے تھے کہ آپ نے اس وقت جب یہ کہا کہ آپ کی شادی کا فی الحال دور دور تک امکان نہیں ہے تو مجھے یہ سن کر بڑی ہنسی آئی تھی، کامل ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشن میں آو¿ٹ ڈور کلرک کے طور پر خدمات انجام دیتے تھے،بہت آخر میں پرنٹنگ اور بائنڈنگ وغیرہ کے معاملات بھی ان کی ذمے داری رہے، اب ایک طویل عرصے سے ان کے بارے میں کوئی خیر خبرنہیں ہے۔
ڈائجسٹ کا مارا
ایک اور اہم شخصیت جناب ضیا شہزاد بھی یہاں موجود تھے اور وہ محور کے کام میں شافع صاحب کے معاون تھے، ضیا صاحب الحمداللہ بقید حیات ہیں، ڈائجسٹ انڈسٹری کے حوالے سے گفتگو ہو اور ضیا شہزاد کا نام نظرانداز کیا جائے، یہ ممکن نہیں، ان کا تعلق سکھر سے تھا جہاں ان کے والد خاصے امیروکبیر کاروباری تھے لیکن ضیا صاحب فطری طور پر آرٹسٹک مزاج اور غیر کاروباری انسان ہیں، لکھنا پڑھنا، ادب و شاعری، مصوری الغرض تمام فنکارانہ عیوب ان کے خمیر میں شامل ہیں، ہم نے سنا تھا کہ جب اقبال پاریکھ ادارہ چھوڑ کر رخصت ہوئے اور انہوں نے اپنا ذاتی پرچا ”انداز“ کے نام سے نکالا تو معراج صاحب نے ڈاکٹر نسیم جاوید صاحب کو سسپنس کی ذمے داری سونپی لیکن وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے انگلینڈ چلے گئے تو ان کی جگہ ضیا شہزاد کو لایا گیا، اس زمانے میں پاکیزہ میں ایک خاتون بھی کام کر رہی تھیں جن کا نام رضیہ سلطانہ تھا، سیماب اکبر آبادی کے صاحب زادے مظہر صدیقی بھی تھے، ایک اور صاحب زادے جن کا ذکر ہم نے خان صاحب کے آفس کے حوالے سے کیا ہے، سرفراز حسین نامی بھی یہاں کام کررہے تھے۔
ضیا شہزاد صاحب کی اچانک لاٹری کھل گئی، ان کے والد صاحب نے ایک خطیر رقم انہیں کاروبار کرنے کے لیے دے دی،اب ضیا صاحب کے پاو¿ں زمین پر کہاں ٹکتے، مزید طرفہ تماشا یہ ہوا کہ شہزاد صاحب جو پہلے سے شادی شدہ تھے اور صاحب اولاد بھی تھے، رضیہ سلطانہ کے تیرِ نظر کا شکار ہوگئے، رضیہ کو پامسٹری سے بھی شغف تھا اور سنا ہے کہ انہوں نے ضیا صاحب کا ہاتھ دیکھ کر کہا تھا کہ آپ کی زندگی میں دو کا عدد لکی ہے لہٰذا دوسری شادی کے بعد ہی آپ کی قسمت کھلے گی اور شاید اس دوسرے دلی تعلق کے بعد ایک خطیر رقم کا اچانک ملنا انہوں نے نیک شگون سمجھا، رضیہ سلطانہ سے دوسری شادی کرلی اور مظہر صدیقی، سرفراز وغیرہ کو ساتھ لے کر ادارہ چھوڑ دیا، ایک نیا پرچا ”شب رنگ“ کے نام سے نکال لیا جس نے ابتدا میں خاصی کامیابی حاصل کرلی تھی لیکن بعد ازاں اسے بند کرنا پڑا، اس کی کیا وجوہات تھیں، ان پر ہم کوئی قیاس آرائی نہیں کرنا چاہتے، ضیا شہزاد بھی موجود ہیں اور رضیہ صاحبہ بھی، ہم نے دیگر احباب سے اس حوالے سے جو کچھ سنا وہ ضروری نہیں ہے کہ درست اور معتبر ہو، کسی روز شہزاد صاحب سے ملاقات ہوگی تو ہم ان سے ضرور یہ فرمائش کریں گے کہ آپ اس وقت کے حالات پر تفصیلی روشنی ڈالیں، ان شاءاللہ۔
شب رنگ بند ہونے کے بعد ضیا شہزاد صاحب کے حالات بہت خراب ہوئے اور چوں کہ الیاس سیتا پوری صاحب سے ان کے مراسم بڑے قریبی اور گہرے تھے لہٰذا الیاس صاحب کی سفارش پر انہیں دوبارہ ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ میں ملازمت دی گئی لیکن اس بار وہ محور میں شافع صاحب کے معاون کی حیثیت سے کام کر رہے تھے ،کیسی عجیب بات ہے کہ اس ادارے میں انہیں قدم جمانے اور کوئی لمبی اننگ کھیلنے کا کبھی موقع نہیں ملا، اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک باصلاحیت شخصیت کے مالک تھے،مشہور ڈراما آرٹسٹ کمال احمد رضوی ان کے ہم زلف تھے۔
22 نمبر
جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشن کے دفتر میں ابھی ہمیں ایک مہینہ ہی ہوا تھا کہ ہمارا کمرا تبدیل ہوگیا یعنی ہم تھرڈ فلور پر کاتبوں کے کمرے میں تھے کہ ایک روز شافع صاحب نے ہمیں سیکنڈ فلور پر کمرہ نمبر 22 میں شفٹ کردیا اور پھر یہ 22 نمبر ہمیشہ کے لیے ہمارا ہوگیا، اُس وقت اس کمرے میں آرٹسٹ شاہد حسین ، وصی بدایونی اور ضیا شہزاد بیٹھتے تھے، اسی فلور پر 22 نمبر کے بالکل سامنے احمد سعید شافع اور صفیہ ملک کے کمرے تھے، معراج صاحب تھرڈ فلور پر اور ادارے کا سرکولیشن ڈپارٹمنٹ فرسٹ فلور پر تھا جس کی شرارتوں کا چرچا قریب و دور تک پھیلا ہوا تھا ، اگر کوئی اس ڈپارٹمنٹ کی طرف جانے کا ارادہ ظاہر کرتا تو اسے پہلے سے خبردار کردیا جاتا کہ ہوشیار رہنا، تمہارے ساتھ کوئی واردات بھی ہوسکتی ہے مثلاً صوفے پر بیٹھتے ہی آپ اچھلنے پر مجبور ہوسکتے ہیں یا جب باہر آئیں تو آپ کے کوئی دُم لٹکی ہوئی نظر آئے وغیرہ وغیرہ، ان وارداتوں کا سب سے زیادہ شکار ہونے والے ایک صاحب شفاعت بھوپالی تھے جو ہاکی کے مشہور کھلاڑی عارف بھوپالی کے والد تھے، وہ جب بھی ہمارے کمرے میں آتے تو کسی سرکولیشن والے کو مغلظات سنا رہے ہوتے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کا کھانا بھی سرکولیشن میں جائے بغیر ہضم نہیں ہوتا تھا۔
دوسری لاٹری
اب ضیا صاحب اور وصی صاحب سے ہماری قربت مزید بڑھ گئی ، ضیا صاحب اپنی موجودہ پوزیشن سے مطمئن نہیں تھے،سب سے بڑا مسئلہ معیشت کا تھا وہ اب دو بیویوں کے شوہر تھے لیکن ایک بار پھر اچانک ان کی لاٹری نکل آئی، ان کے والد صاحب کا انتقال ہوگیا اور خاصی معقول رقم ان کے حصے میں آگئی،بس، پھر کیا تھا، انہیں دوبارہ ڈائجسٹ نکالنے کا جنون سوار ہوگیا، وہ کسی ڈکلیریشن کی تلاش میں تھے، ہم نے انہیں مشورہ دیا کہ آپ داستان ڈائجسٹ کا ڈکلیریشن لے لیں جو خان آصف صاحب کے پاس تھا، وہ راضی ہوگئے، ہم نے بیچ میں پڑ کر یہ سودا کرادیا اور ایک بار پھر ضیا شہزاد اسی راستے پر گامزن ہوگئے جس پر پہلے بھی ناکام ہوئے تھے، وہ داستان ڈائجسٹ کو کامیاب نہیں کراسکے اور بالآخر ایک اور صاحب یعقوب جمیل کے ہاتھوں فروخت کردیا، آج کل ان کا سارا زور شاعری پر ہے اور یہ شاعری فیس بک پر تواتر کے ساتھ مطالعے میں آتی رہتی ہے،کئی بار فون پر ملاقات کے ارادے ہم دونوں باندھتے ہیں لیکن اب تک یعنی تادم تحریر اس کی نوبت نہیں آئی،گزشتہ دنوں ان کے گھر میں ڈکیتی کی واردات ہوئی اس کی اطلاع بھی فیس بک کے ذریعے ہی ملی۔
تنخواہ میں اضافہ
ضیا شہزاد صاحب کے بعد محور کی پروف ریڈنگ بھی ہمارے سر آگئی، اس حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ سنانا ضروری ہے، ادارے میں جب مہینہ پورا ہوا تو ہم پہلی تنخواہ لےنے سرکولیشن ڈپارٹمنٹ میں پہنچے، ایک بہت ہی نرم دل لیکن کڑوی زبان کے حامل نفیس صاحب کیشیئر + منیجر تھے ، پورا نام نفیس احمد خان تھا، عرفِ عام میں لوگ انہیں ”پلٹو“ کہا کرتے تھے اور اس کی وجہ ان کا حد سے زیادہ بحث و مباحثہ کرنا تھی کیوں کہ وہ بار بار ایک ہی موضوع پر پلٹ پلٹ کر آتے تھے، انہوں نے واو¿چر ہمارے سامنے رکھا اور ایک ہزار روپے ہمارے ہاتھ میں دیے تو ہم خاصے حیران ہوئے اور پوچھا ”یہ ہماری ہی تنخواہ ہے؟“
جواب ملا ”ہاں، جلدی دستخط کرو“
ہم ہزار روپے لے کر اپنے کمرے میں آئے اور وصی صاحب کو بتایا کہ تنخواہ تو 800 روپے طے ہوئی تھی لیکن ہمیں 1000 روپے ملے ہیں تو انہوں نے حسب معمول شافع صاحب کی شان میں ایک قصیدہ پڑھا اور کہا ”اس کا بس چلے تو مفت میں ہی لوگوں سے کام کرالے، یقیناً معراج صاحب نے تمہاری تنخواہ ہزار روپے مقرر کردی ہوگی جو ہمارے ساتھ کام کرنے والے دوسرے پروف ریڈر محمد رمضان کی بھی تھی لیکن شافع نے اپنا کمیشن رکھ لیا ہوگا حالاں کہ ایسا نہیں تھا اور وصی صاحب کا یہ اندازہ غلط تھا۔
بہت دن بعد جب شافع صاحب سے مراسم بڑھ گئے تھے اور کچھ بے تکلفی کی فضا بھی پیدا ہوگئی تھی تو ہم نے انہیں بتایا کہ ہماری تنخواہ تو ہزار روپے ہمیں ملی تھی تو وہ حیران ہوئے اور مصنوعی خفگی سے بولے ”یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ جو طے ہوا تھا وہی ملنا چاہیے تھا، میں بات کروں گا پلٹو سے“ لیکن انہوں نے کبھی نفیس سے کوئی بات نہیں کی، البتہ محور کی ذمے داریاں ہمارے سپرد کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ تمہاری تنخواہ میں 100 روپے کا اضافہ ہوجائے گا جو ہم نے خاموشی سے قبول کرلیا۔
وقت کیا شے ہے، پتا آپ کو چل جائے گا
ہاتھ پھولوں پہ بھی رکھوگے تو جل جائے گا
حقیقت یہ ہے کہ وہ ہمارا بڑا ہی سخت وقت تھا، اپنا ذاتی کاروبار تباہ ہوچکا تھا اور ہم نوکری تک آپہنچے تھے، ایک بچے کی پیدائش کے بعد زندگی اور بھی مشکل ہوگئی تھی،انہی دنوں میں اقبال پاریکھ نے ہمیں پارٹ ٹائم انداز ڈائجسٹ کے لیے کام کرنے کی پیش کش کی جو ہم نے فوراً قبول کرلی لہٰذا شام 6 بجے جاسوی ڈائجسٹ سے چھٹی کرکے ہم لیاقت آباد ڈاک خانہ اقبال پاریکھ کے گھر پہنچ جاتے، ان کا گھر اور دفتر ایک ہی جگہ تھا پھر رات 11,12 بجے تک وہاں کام کرتے جس کا معاوضہ 500 روپے ماہانہ طے ہوا تھا جو کبھی وقت پر نہیں ملا اور بعد ازاں کئی ماہ نہیں ملا لہٰذا ہم نے یہی بہتر سمجھا کہ اس اضافی مشقت سے جان چھڑالی جائے، واضح رہے کہ اس وقت تک اقبال پاریکھ کی مذہبی کایا کلپ نہیں ہوئی تھی، بعد میں وہ بھی اظہر کلیم کی طرح ایک جداگانہ مذہبی رنگ میں ایسے رنگے کہ دنیا ہی بدل گئی۔
انہی دنوں کا ذکر ہے کہ ایک رات جب ہم گھر پہنچے تو بیوی نے بتایا کہ بچے کے دودھ کا ڈبا ختم ہوگیا ہے،یہ سنتے ہی ہماری اپنی بھوک اُڑ گئی اور ہم اُلٹے قدموں گھر سے نکل آئے،مہینے کی آخری تاریخیں تھیں اور آفس جانے آنے کا کرایہ بھی اکثر جیب میں نہ ہوتا تھا، اس حال میں دودھ کا ڈبہ ختم ہونے کی خبر ایک بم دھماکہ تھا۔
دوبارہ بس پکڑی اور لیاقت آباد پہنچے، اقبال صاحب کو بتایا کہ ایسی صورت حال ہے اور 50روپے فوری طور پر چاہئیں لیکن ان کے پاس بھی پچاس روپے نہیں تھے ، بس وہی دن ان کے دفتر میں ہمارا آخری دن تھا، حالاں کہ تین مہینے کی تنخواہ ان کی طرف واجب تھی جو 1500 روپے بنتے ہیں۔
ہمارے والد اکثر فارسی زبان کا ایک شعر پڑھا کرتے تھے اور نہایت خوش خطی کے ساتھ ایک بڑے کاغذ پر لکھ کر اسے فریم کراکے اپنی ٹیبل پر رکھا ہوا تھا
کارسازِ ما بہ سازِ کارما
فکرِ ما درکارِ ما آزارِ ما
شعر کا مطلب و مفہوم کچھ یوں ہے کہ میرے کام بنانے والا میرے کام بنادیتا ہے لہٰذا مجھے اپنے کاموں کے سلسلے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
انداز کے دفتر سے نکل کر ہم بڑے بوجھل قدموں سے بس اسٹاپ کی طرف جارہے تھے، دل و دماغ کی جو کیفیت ہوسکتی تھی اس کا اندازہ ہر صاحبِ اولاد کرسکتا ہے کہ اچانک ایک صاحب نے کاندھے پر ہاتھ رکھ دیا، پلٹ کر دیکھا تو افسر آذر (مرحوم)سامنے کھڑے ہیں، ہم نے سلام کیا تو انہوں نے پوچھا ”خیریت، اتنی دیر تک پاریکھ کے پاس کیا کر رہے تھے ، اُس وقت تقریباً رات کا 1 بج رہا تھا۔
افسر بھائی شاید اپنے آفس سے واپس آئے تھے، وہ روزنامہ حریت میں سینئر سب ایڈیٹر تھے، اس کے علاوہ کہانیوں کی ٹرانسلیشن کا کام بھی کبھی کبھار کرلیا کرتے تھے،اعلیٰ درجے کے افسانہ نگار تھے، ان کے افسانے سہ ماہی ”سیپ“ میں شائع ہوتے تھے، سیپ کے مدیر نسیم درانی ان کے قریبی دوست تھے اور وہ اقبال پاریکھ کے قریب ہی رہائش رکھتے تھے، وہ جانتے تھے کہ ہم پاریکھ کے پاس کام کر رہے ہیں۔
اب ہم پھٹ پڑے اور سارا ماجرا افسر بھائی کے سامنے بیان کردیا، وہ بڑے ہی خلیق اور نرم مزاج انسان تھے، ہمیں ہوٹل میں لے گئے اور چائے کے ساتھ سموسوں کا آرڈر بھی دے دیا، ہم نہ نہ کرتے ہی رہ گئے حالاں کہ بھوک سے ہمارا بھی برا حال تھا اور شاید وہ جہاں دیدہ مشفق انسان ہمارے مسئلے سے آگاہ ہوچکا تھا، ہمیں ٹھنڈا کرنے کے لیے انہوں نے پاریکھ کو ہلکے پھلکے انداز میں برا بھلا بھی کہا اور پھر سو روپے کا نوٹ نکال کر ہماری جیب میں ٹھونس دیا، ہم سکتے کی کیفیت میں خاموش بیٹھے انہیں تکتے ہی رہ گئے ،حالاں کہ اُس وقت تک افسر آذر سے ہماری ایک دو ملاقاتیں محض راہ و رسمِ شناسائی کے طور پر ہی ہوئی تھیں، وہ ہمارے بارے میں اور ہم ان کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتے تھے، بہر حال پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب وہ روزنامہ حریت سے فارغ ہوگئے تو ہم نے اپنے رائٹرز کیمپ میں انہیں شامل کرنا ایک اعزاز جانا ، ماہنامہ سرگزشت اور جاسوسی ڈائجسٹ کے لیے انہوں نے قابل قدر خدمات انجام دیں، یہ قصہ آئندہ کسی موقع پر بیان ہوگا۔
ڈرامائی موڑ
خان صاحب اور معراج صاحب کے درمیان مراسم گہرے ہوتے چلے جارہے تھے اور اب شافع صاحب اور خان آصف کے درمیان فاصلے بڑھ رہے تھے کہ اچانک ایک واقع نے پورے دفتر میں کھلبلی مچادی ، ماہنامہ جاسوسی ڈائجسٹ اور ہفت روزہ محور کے ڈکلیریشن منسوخ کردیے گئے، ہفت روزہ محور کے حوالے سے معراج صاحب اتنے حساس نہیں تھے جتنے جاسوسی ڈائجسٹ کے معاملے میں تھے ، یہ ان کے ادارے کا پہلا پرچا تھا، اسی پرچے نے انہیں ترقی اور عروج دیا، سسپنس اور پاکیزہ اس کے بعد جاری ہوئے لہٰذا معراج صاحب کی پریشانی دیدنی تھی ، اس ساری صورت حال کا ایک خاص پس منظر تھا۔
معراج صاحب کو سیاست سے ہمیشہ خصوصی دلچسپی رہی لہٰذا اکثر اہل سیاست سے تعلقات بھی قائم ہوئے اور انہی میں شاہدہ نفیس صدیقی بھی تھیں جن کے شوہر نفیس صدیقی صاحب اس زمانے میں ایم آر ڈی کی تحریک کی وجہ سے گرفتار ہوگئے تھے ، وہ چوں کہ محور کی ایڈیٹر و پبلشر تھیں لہٰذا محور میں ایسا مواد شائع ہورہا تھا جو فوجی حکومت کے خلاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے حق میں تھا، احمد سعید شافع صاحب بھی ترقی پسندانہ سوچ کے حامل تھے ، نادرہ گیلانی ان سے بھی کئی ہاتھ آگے کی چیز تھیں، چوں کہ محور کو مالی سپورٹ معراج صاحب کی حاصل تھی اور ان ہی کے دفتر سے شائع ہورہا تھا لہٰذا اعلیٰ سطح پر اس کا نوٹس لیا گیا ، اس وقت جنرل ضیاءالحق کے اوپننگ بیٹسمین کے طور پر راجہ ظفر الحق وزیراطلاعات و نشریات تھے ۔
جاسوسی ڈائجسٹ حالاں کہ ایک غیر سیاسی میگزین تھا لیکن گھیرنے والے ہر طرح گھیر لیتے ہیں، ہم آج بھی یہ بات مکمل اطمینان سے کہہ سکتے ہیں کہ جاسوسی ڈائجسٹ کی بندش کے لیے جو الزام تراشی کی گئی تھی وہ نہایت کمزور اور بوگس تھی، اس زمانے میں احمد اقبال صاحب کی شکاری مقبول ترین کہانی تھی اور اس کہانی میں کسی موقع پر بعض نچلی سطح کے مسلم لیگی قائدین کے حوالے سے کچھ گفتگو ہورہی تھی ، بس اسی کو ہدف بنایا گیا اور ڈکلیریشن منسوخ کردیا گیا۔
دفتر میں سنسنی پھیلی ہوئی تھی، وصی بدایونی اور خان آصف خوش تھے، یہ خوشی شافع صاحب پر نازل ہونے والے عتاب کی وجہ سے تھی کیوں کہ جاسوسی کی پروف ریڈنگ ہمارے ذمے تھی لہٰذا معراج صاحب کے سامنے ہماری بھی پیشی ہوئی اور پوچھا گیا کہ اس پیراگراف میں کوئی بات آپ کو قابل اعتراض محسوس ہوتی ہے ؟ ہم نے مکمل سچائی کے ساتھ جواب دیا کہ ”نہیں“ ہمیں کوئی بات قابل اعتراض نہیں محسوس ہوتی، اس جواب کے بعد معراج صاحب نے مزید کوئی سوال نہیں کیا۔
جیسا کہ عام طور پر آج کل بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ ایسی کسی صورت حال میں مالکان یا برسرِاقتدار لوگ اپنی جان بچانے کے لیے کسی ماتحت کو قربانی کا بکرا بنالیتے ہیں جس کی ایک مثال پرویز رشید یا خالد فاطمی کی صورت میں سامنے آچکی ہے،چناں چہ ایک معذرت نامہ انفارمیشن منسٹری کو بھیج دیا گیا اور شافع صاحب سے استعفا لے لیا گیا، معراج صاحب خود اسلام آباد گئے اور تمام معاملات طے کرکے آئے،جاسوسی کا ڈکلیریشن بحال ہوگیا اور اس طرح جاسوسی بروقت مارکیٹ میں آسکا، عام قاری کو معلوم ہی نہیں ہوا ہوگا کہ وہ مہینہ جاسوسی کے آفس میں کس قیامت کا تھا۔
اسی دوران میں ایک اور بدترین صدمہ بھی معراج صاحب کو برداشت کرنا پڑا، بی سی سی آئی بینک بند ہوگیا اور تقریباً دو کروڑ روپیہ معراج صاحب کا ڈوب گیا، اس زمانے کے لحاظ سے یہ ایک خطیر رقم تھی، ان دنوں میں وہ کسی تقریب میں شریک تھے تو نروس بریک ڈاو¿ن کا حملہ ہوا اور وہ تقریب کے دوران ہی گر پڑے، فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا اور کئی روز تک دفتر نہ آسکے،اس خبر سے بھی دفتر میں خاصی سراسیمگی پھیلی، سرکولیشن ڈپارٹمنٹ والوں نے قرآن خوانی کا خصوصی اہتمام کیا اور خاص اس روز جب معراج صاحب کئی روز کی غیر حاضری کے بعد دفتر آئے ، سرکولیشن میں بدرالدین نام کے ایک صاحب خصوصی دعا کے ماہر تھے، ان کی یہ دعا خاصی طویل ہوا کرتی تھی اور اس روز تو انہوں نے ایسا سماں باندھا کہ معراج صاحب کی ہچکچیاں بندھ گئیں، خوشامدی قسم کے ایک دو دیگر افراد بھی دہاڑیں مارنے لگے، اس نشست میں خان آصف بھی موجود تھے، وہ معراج صاحب کو جیسے تیسے ان کے کمرے تک لے گئے، اس کے بعد سے اب ہر مہینے کے ایک جمعے کو قرآن خوانی کا پروگرام مستقل ہوگیا اور دعا کے وقت معراج صاحب کی شرکت بھی ضروری ہوگئی، ایسے ہی ایک پروگرام میں معراج صاحب نے دفتر کے معمر افراد کے لیے ہر سال حج پر بھیجنے کی پالیسی کا اعلان کیا جس پر ہمیشہ عمل ہوتا رہا اور سب سے پہلے بدرالدین صاحب ہی کو حج پر بھیجا گیا، بدر صاحب کا انتقال دو تین سال قبل ہوا ہے۔
نئے اقدام
جاسوسی ڈائجسٹ کے نئے ایڈیٹر خان آصف مقرر ہوئے اور ہم ان کے معاون خصوصی، خان صاحب کے کام کرنے کا اپنا انداز اور کچھ اپنے ہی رنگ ڈھنگ تھے، وہ کبھی اپنے دفتر میں بھی صبح 9 بجے نہیں آئے تھے جب کہ یہاں صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک اور کام کی زیادتی کے سبب رات 10 بجے تک بھی بیٹھنا پڑتا تھا لہٰذا خان صاحب اپنے معمول کے مطابق 3,4 بجے سے پہلے دفتر نہ آتے اور پھر واپسی کا کوئی خاص ٹائم مقرر نہیں تھا، یہ صورت حال ہمارے لیے نہایت تکلیف کا باعث بن گئی کیوں کہ ہم صبح 9 بجے دفتر پہنچ جاتے تھے،مزید یہ کہ ان دنوں ہم اپنی والدہ اور بہن بھائیوں سے الگ ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں رہ رہے تھے، گھر میں بیوی اور ایک سال بھر کا بچہ، گھر کے سودا سلف لانے کے کام بھی ہمیں ہی کرنا پڑتے تھے، ہمارے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ ہم رات گیارہ بارہ بجے تک دفتر میں خان صاحب کا ساتھ دیں پھر بھی چھ سات بجے تک گھر پہنچتے اور رات دس گیارہ بجے تک خان صاحب بھی ہمارے گھر آجاتے، گھر کے دروازے کے آگے کرسیاں ڈال کر نشست جمتی جو اکثر رات گئے تک جاری رہتی، یہ بھی خاصی تکلیف دہ صورت حال تھی کیوں کہ ہمیں صبح جلدی اٹھنا ہوتا تھا، اس صورت حال نے ہماری صحت پر بہت ناخوش گوار اثر ڈالا۔
انہی دنوں آفاق فاروقی بھی ہمارے اور خان صاحب کے قریبی رفقا میں شامل ہوئے، وہ ان دنوں کراچی کے ایک ہاسٹل میں رہا کرتے تھے اور صحافت کے میدان میں اپنا مستقبل بنانے کے لیے ہاتھ پاو¿ں مار رہے تھے، خان صاحب نے معراج صاحب سے سفارش کرکے ان کے لیے ایک ہزار روپے ماہانہ وظیفہ مقرر کرادیا تھا، آفاق ہمارے لیے بھی وقتاً فوقتاً جو کرسکتے تھے، کرتے رہتے،مثلاً ہمارے کرائے کے گھر میں چھت کا پنکھا نہیں تھا، آفاق نے سنا تو اعلان کردیا کہ کل پنکھا لگ جائے گا، ہم بڑے حیران کہ اتنی جلدی کیسے انتظام ہوگا؟ ہم اپنی اور آفاق کی مالی پوزیشن سے واقف تھے، دوسرے روز واقعی جب ہم گھر پہنچے تو وائف نے بتایا کہ آفاق آئے تھے اور ان کے ہمراہ کوئی اور بھی تھا، دونوں نے چھت میں پنکھا لٹکادیا ہے، ہم نے دیکھا تو وہ ایک پرانی وضع کا پنکھا تھا، بہر حال رات کو ملاقات ہوئی تو پوچھا کہ بھائی یہ پنکھا کہاں سے لے آئے ہو؟ تو آفاق نے حسب معمول اپنی عادت کے مطابق ایک زبردست قہقہ لگایا اور بتایا کہ ہاسٹل سے۔
آفاق کے مزاج میں جوش اور جذبات کی شدت ہمیشہ سے تھی اور آج بھی ہے جب کہ اب وہ تقریباً 60 سال کے ہوچکے ہیں،معاشرے کی ناہمواریاں اور نا آسودگیاں نوجوانی میں باغیانہ سوچ کو جنم دیتی ہےں اور اگر مذہب کی گرفت کمزور ہو تو بندہ من پسند نظریات کی جانب راغب ہوتا ہے،آفاق کے ابتدائی دوستوں میں کامریڈ کامران علی توحید جیسے این ایس ایف کے لوگ شامل تھے، بعد ازاں خان صاحب جیسے اور خالد خلد جیسے مذہبی شدت پسند بھی شامل ہوگئے لیکن ابتدائی نظریات کا اثر ختم نہیں ہوا، موصوف جیسے ابتدا میں تھے آج بھی ویسے ہی ہیں، شاید 1986 ءمیں امریکا چلے گئے تھے اور ایک ویکلی اردو اخبار پاکستان پوسٹ کے نام سے جاری کیا جو آج امریکا اور کنیڈا کا سب سے بڑا اردو اخبار ہے،ہم بھی گزشتہ دس سال سے اس اخبارمیں پابندی سے لکھ رہے ہیں۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

ایک تبصرہ

  1. Avatar

    Bhut e badia article sir.
    Thanks for share..

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے