سر ورق / مہاتیر کی بستی میں ۔۔۔ رضا صدیقی

مہاتیر کی بستی میں ۔۔۔ رضا صدیقی

مہاتیر کی بستی سے لوڈ شیڈنگ کی بستی میں واپسی

بارش تھی کے روکنے کا نام نہیں لے رہی تھی،ہم ٹوائے شاپ کے باہر کھڑے ادھر ادھر دیکھ رہے تھے،ہم نے عدیل بیٹے سے کہا کہ یار وہ سامنے بورڈ لگا ہوا ہے کہ فریش فروٹ دستیاب ہیں،وہ ہی لے آﺅ،جب تک بارش ہو رہی ہے،کچھ پھل ہی کھا لیتے ہیں،ہماری بات سن کر عدیل بیٹا ہنسنے لگا،ہمیں بہت برا لگا کہ میں کچھ کہہ رہا ہوں اور یہ ہنس رہا ہے،میں نے کہا اچھا تم رکو میں لے کر آتا ہوں،عدیل بیٹا سیریس ہوتے ہوئے کہنے لگا،آپ کا کیا خیال ہے یہ اصل دکانیں ہیں؟ میں نے کہا جیسے یہ ٹوائے شاپ ہے ویسے ہی وہ شاپ ہے،عدیل بیٹا کہنے لگا یہ ٹوائے شاپ جیسی دو چار دکانیں اصل ہیں باقی ساری کی ساری اس سیٹ کا حصہ ہیں،ہاں اس کے سامنے جو ڈرنکس کی ریڑی کھڑی ہے وہ اصل ہے کہیں تو وہاں سے ڈرنک لے آﺅں؟، میں نے غور کیا تو محسوس ہوا کہ واقعی بیٹا ٹھیک کہہ رہا تھا،میں کچھ کھسیانا سا ہو گیا ،اور اپنی جھیپ مٹانے کے لئے ادھر ادھر دیکھنے لگا،اب بارش ہلکی ہو گئی تھی،پہلے ہم عنایا کی وجہ سے آگے نہیں جا رہے تھے،اب جب کہ بارش ہلکی ہو گئی تھی اور توقع تھی کہ کچھ دور آگے جاتے جاتے بالکل ختم ہو جائے گی ہم چل پڑے۔آگے دائیں بائیں رائیڈز کی لائین لگی ہوئی تھی، ان میں بچوں کو کوئی دلچسپی نظر نہیں آئی،تھوڑا دور اور گئے تو مصری تہذیب کا حصہ سامنے آ گیا،دیو قامت مجسمے سامنے نظر آ رہے تھے،بالکل ایسے جیسے کسی دربار کے دروازے پر دربان کھڑے ہوں، یہ کسی فلم میںاستعمال ہوئی ہوں گی،اس عمارت کے اندر مصری تہذیب کی نمائندگی کی گئی ہے،اس عمارت پر سیاحوں کا رش لگا ہوا تھا، ہم نے پہلے سوچا کہ اندر چل کر دیکھا جائے کہ کیا کچھ دکھایا گیا ہے لیکن بچے کہنے لگے اندر اسی قسم کے بت کھڑے ہوں گے،تاریخ تو بیان نہیں کی گئی ہو گی،واقعات اور تاریخ تو اس فلم میں ہو گی جس کا یہ سیٹ لگا ہوا ہے اور شوٹنگ بھی یہاں نہیں ہوتی یہ تو ریپلیکا ہے، آگے بڑھے تو جراسک پارک سامنے آ گیا اسی سے منسلک واٹر سپورٹس تھیں۔پانی کی ایک ندی سی سامنے سے آ رہی تھی اس میں گول سی ایک کشتی پانی کے ایک ریلے کے ساتھ آتی جس میں دس یا بارہ فرد بیٹھے نظر آئے،ان کے چہروں سے جوش اور خوف ایک ساتھ نظر آ رہا تھا، اسی جگہ رائیڈز بھی نظر آ رہی تھیں،بچے یہ رائیڈز لینا چاہتے تھے،رش کا یہ عالم تھا کہ لائینیں لگی ہوئی تھیں اور ویٹنگ ٹائم کم از کم 180 منٹ تھا،عدیل بیٹا کہنے لگا کہ امریکہ میں بھی یہ یونیورسل سٹوڈیو ہیں لیکن وہاں ویٹنگ ٹائم15 سے20منٹ ہوتا ہے،یہاں تو یہ ہمکر ہی نہیں سکتے،ہم وہاں سے نکل آئے،آگے چلے تو بچوں کے کارٹونوں کے ایک مشہور کردار کا شو شروع ہونے والا تھا،ہم نے کہا کہ بڑے بچے تو نا کوئی رائیڈ لے سکے اور نا کوئی شو دیکھ سکے،کم از کم عنایا کو تو شو دکھا دینا چاہئیے،سب نے اتفاق کیا اور ہم اس شو کی عمارت میں داخل ہو گئے،شو تو اندر ہال میں ہونا تھا لیکن باہر ایک جانب جھولا بنا ہوا تھا جسے دیکھ کر عنایا نے مچلنا شروع کر دیا جس پر عدیل اسے لے کر اس جھولے میں بیٹھ گیا،جھولے میں عنایا کو ایسا مزا آیا کہ وہ جھولے سے نکلنے سے انکاری ہو گئی،خیر باپ اسے باہر نکال ہی لایا اور ہم ہال میں چلے گئے،شو دیکھ کر باہر نکلے اور ٹائم دیکھا تو ہم حیران رہ گئے،ہم صبح 9بجے ہوٹل سے نکلے تھے اور اب شام کے پانچ بجے تھے،اتنا زیادہ ٹائم گذر گیا اور ہمیں پتہ ہی نہیں چلا،اب جب پتہ چلا تو بھوک نے سر اٹھایا،ڈزنی لینڈ کے قلعے جیسا جہاں سیٹ لگا ہوا تھا،وہاں موجود ایک ریسٹورینٹ سے ہم نے کھانا کھایا ،تھوڑی سی اور آوارہ گردی کی اور سٹوڈیو سے باہر آ گئے،ہم نے آپس میں ایک دوسرے سے سوال کیا کہ کسی اور تفریح کی جانب جایا جائے کہ نہیں،سب کی جانب سے جواب نفی میں ملا اور ہم ٹیکسی کے حصول کے باہر آ گئے،اب یہاں پھر زگ زیگ والی لائن ہمارے سامنے

 تھی،ٹیکسیاں آتی رہیں،مسافر بھر بھر کے لے جاتی رہیں حتیٰ کے ہماری باری بھی آ ہی گئی،ہوٹل پہنچے تو شام کے ساڑھے چھ بجے تھے،کمرے میں آتے ہی ہم نے چائے کا نعرہ مارا، جس کا ساتھ عدیل نے با آوازِ بلند سے دیا،آج کی اس سیر نے بری طرح تھکا دیا تھا لیکن مزا بھی بہت آیا۔ہم عمر کے اس حصے میں ہیں کہ اتنی تحریک تھکا دیتی ہے،چائے پیتے ہی ہم تو بستر پر دراز ہو گئے،سونے کا تو موڈ نہیں تھا صرف کمر سیدھی کرنا مقصد تھا، نو بجے ہوں گے کہ عدیل ہمارے کمرے میں آ گیا ،کہنے لگا،ریسٹ کا موڈ ہے یا ذرا شاپنگ مال تک ہو آئیں کچھ چیزیں خریدنی ہیں،آئی پیڈ کا چارجر بھی خراب ہو گیا ہے،وہ بھی یہیں سے خرید لیتے ہیں جینئن مل جائے گا،پاکستان میں تو دو نمبر ملتا ہے،ہم پھر اٹھ بیٹھے،وہیں سنگاپور شاپنگ مال میں چلے گئے،گذشتہ روز تو منی ایکسچینجر ہی بند تھے،آج کرنسی تبدیل کرائی،کچھ چیزیں خریدیں اور واپس آ گئے،خواتین پیکنگ میں مصروف ہو گیئں،کیونکہ اگلے روز سفر ہی سفر تھا،ہمیں پہلے سنگاپور سے ملائیشیا کے کوالالم پور ایئرپورٹ پر اترنا تھا،وہاں سے لاہور کی فلائیٹ لینی تھی،اس لئے پیکنگ جلدی جلدی ختم کرکے ہم نیند کی وادی میں اتر گئے۔

اگلی دن جب ہم سنگاپور کے چنگائی ایئرپورٹ پہنچے تو ایئر پورٹ کو دیکھ کرحیران رہ گئے،آتے ہوئے ہم نے غور نہیں کیا تھا،اب جو ہم ایئرپورٹ کے اندر داخل ہوئے تو ایسا لگا کہ ہم ایرپورٹ پر نہیں کسی شاپنگ مال میں پھر رہے ہیں ۔اس سے پہلے بھی مختلف ممالک کے ایئرپورٹ ہم نے دیکھے ہیں،لیکن اس ایئرپورٹ کا کوئی جوڑ نہیں ہے،ایئرپورٹ کی ایک تو طوالت بہت زیادہ ہے،اسی طوالت کے اندر دو پارک بنائے ہوئے ہیں،سنگاپور ویسے ہی لش گرین ہے اوپر سے ایئر پورٹ بھی لش گرین ہونے کا تصور پیش کر رہا تھا،یہ پہلا ایئرپورٹ ہے جو فلی کارپٹڈ ہے۔ اس ائیر پورٹ کو سن2012 میں دنیا کا بہتریں ہونے کا ایوارڈ ملا ۔گذشتہ 25سال سے بزنس کے لئے سفر کرنے والے مسافروں نے اسے دنیا کا بیسٹ ایئر پورٹ قرار دیا ہے،1981میں جب یہ ایئرپورٹ شروع ہوا اس وقت سے اب تک یہ 410سے زیادہ ایوارڈ حاصل کر چکا ہے۔اس ایئرپورٹ پر360 سٹور،160کھانے پینے کے مقامات ہیں جہاں سفر کرنے والا لطف اندوز ہو سکتا ہے،یہی نہیں اس ایئرپورٹ پر آنے اور باہر جانے والا ہر مسافر اگر اس کے پاس وقت ہو تو اس کے سوئیمنگ پول یا یہاں موجود جیکوزی میں ریلیکس کر سکتا ہے،اس ایئرپورٹ کے ٹرمینل دو اور تین میں فسٹ رن موویز سے مفت میں استفادہ کر سکتا ہے اس ایئرپورٹ کا ٹرمینل تین دنیا بھر میں اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہاں1000 بٹرفلائیز موجود ہیں۔اس کے علاوہ اگر آپ بچوں کے ساتھ سفر کر رہے ہیں تو ٹرمینل دو پرسنگاپور کا روایتی ووڈن بلاک سٹمپ آرٹ بنانے کی تفریح موجود ہے،ہم نے بھی اس تفریح سے لطف لیا،وہاں بلاک ایک لائن میں استادہ ہیں، کاغذوں کی وافر مقدار موجود ہے،کریانز(رنگ) وہاں بکھرے پڑے ہیں آپ بلاک پر کاغذ رکئیے،اس پر رنگ رگڑئیے،بلاک کی تصویر کاغذ پر ابھر آئے گی، حقیقت اگر دیکھی جائے تو سیاحوں کے لئے دیگر قابلِ دید مقامات کی طرح یہ ایئرپورٹ بھی ایک مکمل تفریح گاہ ہے،ہم گھوم پھر کر لطف لے رہے تھے لیکن جی نہیں پھر رہا تھا،آخر ہماری فلائیٹ کا ٹائم ہوگیا اور اگلے سوا گھنٹے میں ہم کوالالمپور کے ایئرپورٹ پر تھے،پی آئی اے کی پرواز حسبِ معمول لیٹ تھی،اللہ اللہ کر کے ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے جہاز لاہور کے لئے روانہ ہوا،ساڑھے پانچ گھنٹے کی پروا ز تھی،لیکن یہ وقت محسوس نہیں ہوا کیونکہ عنایا کو بھی معلوم ہے کہ جب لائٹ جانے کے بعد دوبارہ لائٹ آتی ہے تو خوشی سے تالیاں بجانی چاہیں،جہاز کے ٹیک آف کے وقت جہاز کی بتیاں بجھیں تو وہ اپنی ماں کی گود میں سمٹ گئی لیکں جونہی پرواز ہموار ہوئی اور جہاز کی بتیاں دوبارہ روشن ہوئیں تو وہ تالیاں بجانا شروع ہوگئی بالکل اسی طرح جیسے لاہور میں لوڈشیڈنگ کے بعد جب لائیٹ آتی تھی تو وہ تالیاں بجاتی تھی۔اس کی تالیاں بجانے کی عادت نے ہمیں لاہور پہنچ کر لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا یاد دلا دیا۔

ختم شد

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے