سر ورق / حسن کیا ہے ؟ حامد حسن حامی

حسن کیا ہے ؟ حامد حسن حامی

عنوان: حسن کیا ہے؟

کہتے ہیں کہ حُسن دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتا ہے. مان لیا کہ واقعی ایسا ہے مگر میں اس میں تھوڑا سا اضافہ کرنا چاہوں گا. دیکھنے والی آنکھ کے ساتھ ساتھ ایک سراہنے والا دل بھی حُسن کے لئے ضروری ہے. بلکہ جب تک دل گواہی نہ دے کہ یہی حُسن ہے حُسن، حُسن نہیں کہلاتا عام سا احساس رہ جاتا ہے جس پر ہو سکتا ہے بار بار نظر بھی پڑے. اصل حُسن تو وہ ہے جو پہلی نظر میں ہی دل میں گھر کر لے اور یہ پہلی نظر حُسن پر سے ہٹے ہی نہ کہ دوسری یا تیسری نظر کی ضرورت ہو. ایسے حُسن کی مثال کے لئے دور کیوں جائیں، مصر کے شاہی زنان خانے میں چلتے ہیں جہاں اُمراء خواتین ہاتھوں میں سیب اور چھُریاں لیے ٹھہری ہیں. حُسنِ بے پایاں، یوسف کی صورت میں جلوہ افروز ہوا. حکم ملا “سیب کاٹو!” کس کس نے صرف سیب کاٹا؟ کسی نے بھی نہیں…! پہلی نظر نے ہی ایسا متاثر کیا کہ سیب کے ساتھ ہاتھ بھی کٹ گئے اور پتا بھی نہیں چلا….. اسے کہتے ہیں حُسن! مگر حُسن ہے کہاں؟ اگر تلاش کیا جائے تو میرے مطابق حُسن……..، فطرت میں ہے…..، معصومیت میں ہے……، محبت میں ہے….. اور سب سے بڑھ کر باطن میں ہے اور یہ باطنی حُسن عام آنکھ کی عام نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ اس کی دید کے لئے دل کی گہری نگاہ کا ہونا ضروری ہے. یہ دل ہی تو ہے جو ایک پیمانہ سا بنا دیتا ہے اور پھر اسی پیمانے کے مطابق حُسن کا تقرر کرتا ہے. ایک پھول اگر گلاب کی کلی کی شکل میں ہے تو خوبصورت ہے، اگر کھِلتا ہوا گلاب ہے تو بھی خوبصورت ہے. اگر باغ میں ہے تو خوبصورت ہے اگر کسی گلدان میں ہے تو بھی خوبصورت ہے. پھولوں بھری سر سبز وادی اور اس میں اُبھرتا سورج بہت متاثر کرے، اسی ہری بھری وادی میں ڈوبتا سورج مست سا کر دے. اس سرسبز وادی میں صبح کی ٹھنڈی ہوا، سفید دھوئیں جیسی دھند اور پھر پھولوں پر ہلکی ہلکی بارش…… لطف دوبالا ہو جائے. جب اسی حسین وادی میں بچے اٹھکھیلیاں کرتے پھریں اور انکی معصوم قلقلاریاں پھولوں کی مسحور کن خوشبو کے ہمراہ ذہن تک رسائی حاصل کریں تو یہی دل اس منظر کی دلکشی پر قربان ہونے کو بےقرار ہو جائے. ایسے عالم میں اگر محبوب ساتھ ہو تو یہی دل کہے کہ وقت تھم جائے اور محبوب کے ہمراہ ان مناظر سے خوب لطف لیا جائے. ایک طرف حسین محبوب اور دوسری طرف دلکش مناظر خوشی کا نشہ دو آتشہ کر دیں تو واقعی کون چاہے گا کہ لمحے ساتھ چھوڑ دیں، پل گزر جائیں اور وقت اِن پُرلطف لمحات کو لئے واپس ہی نہ لوٹے. منظر چاہے کوئی بھی ہو خوبصورت ہوتا ہے. کسی کہسار کی رنگین وادی ہو، کسی گاؤں کا سرسبز کھیت، سمندر کا کنارہ ہو یا کہ ریگستان کا ریتلا میدان، دل کو احساس دِلاتا ہے کہ خدا کی صناعی بے عیب ہے اور یہ کہ اس نے اپنی مخلوق میں حُسن کی صفت بھی شاملِ حال کی ہے. لاکھ غصہ ہو، بچے کی معصومیت دیکھ کر “ہوا” ہو جاتا ہے. لاکھ غم ہو بچے کو روتا دیکھ دل بےقرار ہو جاتا ہے. پھر کہاں کا اپنا غم..؟ بچے کی دلجوئی میں مصروف ہو جاتے ہیں. دنیا چاہے بُرا کہتی رہے، اپنے محبوب کو دل کبھی بُرا نہیں کہتا بلکہ محبوب کے اوصاف تو ناقابل بیان ہوتے ہیں. آنکھیں کسی جھیل جیسی، ہونٹ گلاب کی پنکھڑیوں جیسے، چہرہ چاند سا، زلفیں تاریک رات کی سیاہی جیسی اور محبوب آفاقی حُسن کا مالک نظر آتا ہے. یہ محبت ہی تو ہے جو محبوب کو حسین ترین بنا دیتی ہے. ایک آخری بات!! حُسن چاہے جہاں بھی ہو، جیسا بھی ہو اپنے خالق کے حُسن کا پتا دیتا ہے کہ جس نے اِس حُسن کو تخلیق کیا کے وہ خود کتنا حسین ہو گا….. لہٰذا ایک گزارش ہے کہ حُسن کو دیکھ کر اس کے خالق کی بھی تعریف کر دی جائے تو کیا ہی بات ہو. حالانکہ اُس بے نیاز کو اس تعریف کی ضرورت نہیں مگر پھر بھی، ثواب کیلئے ہی سہی دل میں ہی کہہ دیا جائے…. “ماشاءاللہ”……

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے