سر ورق / اتفاق نہیں۔ عشنا کوثر سردار قسط نمبر1

اتفاق نہیں۔ عشنا کوثر سردار قسط نمبر1

قسط نمبر 1

ادھوری باتیں کرنا جانتی تھی بس۔ ایک بات ختم بھی  نہیں ہوتی تھی کہ دوسری شروع  بات ہو جاتی تھی۔ جیسے اسے عجلت پسندی سے کام لینا پسند تھا۔ مگر میں اکثر اس کی بے ربط باتوں کے معنیٰ تلاش کرتا رہتا تھا۔ اس کی آدھی بات کے معنی کچھ اور ہوتے تھے اور باقی کی آدھی بات کوئی اور معنی بیان کر رہی ہوتی تھی۔ اس کی باتوں میں کتنے رنگ تھے اور کتنے معنی یہ تو مجھے یاد ہی نہیں رہتا تھا۔ مگر مکمل معنی والی ادھوری باتیں اکثر میرے ذہن میں کہیں بھٹکتی رہتی تھیں۔

“رامین شاہ تم عجیب ہو!” میں  اسے مسکراتے دیکھتے ہوئے کہتا تھا اور وہ مسکراتے ہوئے سر ہلا دیا کرتی تھی۔
“ہاں عجیب ہوں تبھی تو تمھاری دوست ہوں۔اگر عجیب نہیں ہوتی تو تمھارے جیسے عجیب بندے کی دوست کیسے ہوتی؟” وہ شرارت سے مجھے دیکھتی تھی اور میں مسکرا دیتا تھا۔

 “تم احمق ہو رامین شاہ۔ایسی ہی رہنا!” میری چاہ تھی وہ اپنی انفرادیت کے ساتھ باقی رہے۔ وہ بھولی بھالی تھی۔ اس کی باتوں میں بے فکرا پن تھا۔ تسلسل کو عادت نہیں بناتی تھی۔ جب بولتی تھی تو دل سے بولتی تھی۔ اس کا دل اس کے چہرے پر تھا اور اسکا چہرہ چمکتا ہوا آئینہ تھا اس کی آنکھوں کی طرح۔ وہ جب بولتی تھی اس کی آنکھیں چمکنے لگتی تھیں اور جب اداس ہوتی تھی اس کی آنکھیں یکدم بجھنے لگتی تھیں۔میں جیسے اسکا چہرہ پڑھنے کا عادی ہورہا تھا۔ مگر اس کی باتوں کے معنی بدلتے جا رہے تھے۔
“محبت ایسی کیوں ہوتی ہے اجلال؟” اس نے مجھ سے پوچھا تھا اور میں چونک گیا تھا۔

“محبت۔۔؟ تمھیں محبت کے بارے میں کیسے پتہ۔؟ کیسی ہوتی ہے محبت۔؟” میں نے حیرت سے کہتے ہوئے اسے دیکھا تھا اور وہ مجھ سے نگاہ پھیر گئی تھی۔

“محبت وقوع پذیر ہونے والی تبدیلی نہیں ہے نہ کوئی حالاتِ حاضرہ  جس کے بارے میں کوئی اور آپ کو آگاہ کرے۔ وہ مدھم لہجے میں بولی تھی اور میں حیرت سے اسے دیکھنے لگا تھا۔ اس کی باتوں کے رنگ بدلنے لگے تھے۔ معنی بھی بدل گئے تھے۔  وہ مختلف موضوعات پر بات کرنے کی عادی رہی تھی۔ محبت اس میں شامل نہیں تھا۔ تبھی شاید میں چونکا تھا۔ مگر وہ میری طرف سے دھیان پھیر کر مدھم لہجے میں کہہ رہی تھی۔

“محبت بے توجہی برتے تو اچھا نہیں لگتا اجلال ملک۔محبت جب نظر انداز کرتی ہے تو بے چینی بڑھا دیتی ہے۔ اور ذہن میں سوال بھی۔ ” وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولی تھی اور میں اسے ساکت سا دیکھنے لگا تھا ۔

“تمھیں محبت کا ادراک کیسے ہوا رامین شاہ؟ کسی نے ذکر کیا۔؟” میں اس چھوٹی سی لڑکی کا جانچتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ میں تقریباََ دس برس بڑا تھا اس سے۔ وہ اٹھارہ برس کی لاابالی لڑکی تھی اور میں اٹھائیس برس کی میچور عمر میں تھا۔ میں اپنی اسٹڈی مکمل کر کے ایک ادارے سے وابستہ ہو گیا تھا۔ مگر جاب پسند نہیں آئی تھی تو خیر آباد کر کے اپنا بزنس شروع کردیا تھا مگر وہ کمپنی بھی بیچ ڈالی تھی۔  میری طبیعت یارا صفت تھی۔ بقول اماں کے میں ایک مقام پر ٹک کر نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ میں کمپنی سولڈ آؤٹ کر کے آنٹی کے پاس آگیا تھا۔فرانس میں میں بہت کم لوگوں کو جانتا تھا۔ کچھ دوست تھے مگر انکی مصروفیت کے باعث ان سے ملنا بہت کم ہوا تھا۔ سو اکثر جب میں فارغ ہوتا رامین شاہ سے باتیں کرنا میری ہابی بن گیا تھا۔ اس نے ہائی اسکول ختم کر کے یونیورسٹی جوائن کی تھی۔ وہ ایک دلچسپ لڑکی تھی۔ میں اس کے ساتھ باتیں کرنے بیٹھتا تھاتو وقت گزرنے کا پتہ نہیں چلتا تھا۔ اس کے شوق لڑکوں والے تھے۔ وہ گیمز میں دلچسپی رکھتی تھی۔ کسی بھی موضوع پر اس سے بات کرنا آسان تھا۔ اس کے پاس ڈھیر سارا نالج تھا۔ کتابوں سے لے کر میوزک تک اور حالاتِ حاضرہ سے لے کر ہسٹری تک۔۔وہ بہت اعتماد سے بات کرتی تھی ایک پُر اعتماد لڑکی تھی۔ مجھے گھمانے باہر لے جاتی تھی۔ جب میں نیا نیا  آیا تھا تب مجھے جگہوں کے بارے میں زیادہ نالج نہیں تھی۔  تب وہی مجھے ہر جگہ لے کر جاتی تھی۔ ہم اچھے دوست بن گئے تھے۔ مگر مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ اس نے مجھے نہیں بتایا تھا کہ اس کو کسی سے محبت ہوگئی ہے۔  وہ ہر چھوٹی چھوٹی بات مجھ سے شئیر کرتی تھی۔ فیلوز کی، یونیورسٹی کی، ٹیچرز کی۔ مگر ان باتوں میں محبت کا ذکر ناپید تھا۔ پھر اسے محبت کب ہوئی تھی؟ اور کس سے؟ میں حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔ جب اس نے اپنا سر میرے شانے پر رکھ دیا اور جانے کب اسکی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں میں ساکت رہ گیا تھا۔

کسی نے اسے اس درجہ ہرٹ کیا تھا؟ وہ اس قدر انواوڈ تھی کسی کے ساتھ؟ اس کی دلی وابستگی اتنی زیادہ تھی کہ اس کی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں۔؟ کسی نے ایسا کیا کہہ دیا تھا اسے؟ میں نے اسے فوری طور پر کچھ نہیں کہا تھا۔ اسے آنسو بہانے دیے تھے۔ وہ میرے شانے پر سر رکھ کر کئی لمحوں تک آنسو بہاتی رہی تھی اور پھر آہستگی سے علیحدہ ہو کر مجھ سے  چہرے کا رخ پھیرتے ہوئے آنکھیں رگڑنے لگی تھی۔ میں اسے بغور دیکھنے لگا تھا۔

“یہ کیا ہے رامین شاہ؟ واٹ ہیپینڈ؟تمھیں کس نے ہرٹ کیا؟ یو نیور ٹولڈ می دیٹ یو لو سم ون۔ کون ہے وہ؟” میں نے مدھم لہجے میں کہتے ہوئے اسے جتایا تھا۔

“ایسا کچھ نہیں ہے۔ آئی ایم ناٹ ان لو! اس نے تردید کرتے ہوئے کہا تھا۔ اور پھر اٹھ کر  یکدم ہی باہر نکل گئی تھی۔ اور میں الجھنے لگا تھا۔ مجھے اس چھوٹی لڑکی سے ہمدردی تھی۔ اس کے دل دکھنے کا احساس مجھے بُرا لگ رہا تھا۔ وہ ایک تکلیف دہ احساس سے گزر رہی تھی شاید۔ مگر میں یا کوئی اور اس کی مدد نہیں کر سکتے تھے۔ وہ اس لمحے خود ہی خود کی مدد نہیں کر سکتی تھی۔ مجھے افسوس تھا۔ مگر اس وقت کو اسی طور گزرنا تھا جیسے۔ میں نے اس سے مزید کوئی بات نہیں کی تھی۔ اس کے بعد ہم نے بات کی تھی مگر موضوع وہ نہیں تھا اور  میں نے اسے کریدا نہیں تھا۔

میں محبت پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ میری کچھ اچھی دوست رہیں تھیں مگر محبت والی کوئی بات نہیں تھی. بقول اماں کے میں یارہ صفت تھا ایک جگہ ٹک نہیں سکتا تھا ۔ پھر محبت کیسے ممکن تھی!
محبت کے ممکن ہونے کے لیے انسان کا مستقل مزاج ہونا ضروری ہے۔ یہ میری رائے تھی ۔ اور میں اتنا مستقل مزاج واقع نہیں ہوا تھا۔
میں وقت کو اپنے اشاروں پر موڑنا چاہتا تھا. مجھے اچھا لگتا تھا وقت کو حکم دے کر اپنے اصولوں پر چلانا. میں جب جو چاہتا تھا وہ کرتا تھا ۔ میں لگی بندھی روٹین جینے والا بندہ نہیں تھا۔
پاکستان سے فرانس آنا اور پیرس میں نئی زندگی کو نئے زاویوں سے شروع کرنا میرے گولز میں سے تھا. میں بزنس ایمپائر کھڑا کرنا چاہتا تھا۔ میں ارادوں کا مضبوط تھا سو ایسا ممکن کرنا میرے لیے ناممکن نہیں تھا۔ میں مختلف پراجیکٹس کی فائلز بنا کر  انہیں آزمانے کا پلان بنا رہا تھا۔  مجھے محبت اور محبت کا ذکر ایک فضول بات لگی تھی۔

مگر مجھے رامین شاہ کا افسردہ ہونا اچھا نہیں لگا تھا۔  میں اسے افسردہ دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔ سو شام میں اسے باہر لے گیا تھا۔ ہم نے ڈنر باہر کیا تھا۔ میں اس بارے یا اس دن کے حوالے سے کوئی ذکر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ نا رامین نے کوئی بات کی تھی۔ مگر تب ہی وہ کسی بات پر مسکراتی ہوئی لب بھینچ گئی تھی۔ میں نے اس کو حیرت سے دیکھا تھا۔

“کیا ہوا؟ تمھاری مسکراہٹ کہاں غائب ہو گئی۔؟” میں مسکرایا تھا اور وہ سر نفی میں ہلانے لگی تھی ۔

 “نہیں کچھ نہیں!”

“تم کچھ چھپا رہی ہو رامین۔”میں نے اسے کریدا تھا مگر اس نے نفی میں سر ہلا دیا تھا۔ میں بغور اسے دیکھنے لگاتھا ۔

“تم میری اچھی دوست ہو نا رامین شاہ؟” میں نے بغور اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا اور اس نے لا محالہ اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔

“پھر کیا۔؟” میں نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا۔

“کچھ نہیں ہے اجلال ملک۔ تم میرے اچھے دوست ہو اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ مگر اس وقت میرے پاس شئیر کرنے کو کچھ نہیں ہے۔ !” میں  جانتا تھا وہ مجھ سے جھوٹ بول رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں اس وقت بہت کچھ تھا۔ یہ الگ بات تھی کہ وہ مجھ سے اس کی تفصیل کہنا نہیں چاہتی تھی۔ اور میں اس سے زبردستی وہ تفصیل اگلوا نہیں سکتا تھا۔ دوستی نہیں زبردستی نہیں ہوتی اور میں اپنی اس چھوٹی سی دوست پر زبردستی نہیں کر سکتا تھا۔

اس شام ہم مختلف باتیں کرتے رہے تھے اور میں اس کی آنکھوں کی ویرانیوں میں الجھتا گیا تھا۔  اس کی اداس آنکھوں میں جو کیفیت تھی وہ سمجھ نہ آنے والی تھی۔ آخر اسے کے ساتھ ہوا کیا تھا؟ اور اسے کس نے اس درجہ تکلیف دی تھی؟

وہ محبت کی بات کر رہی تھی اور محبت کرنے والے اس درجہ تکلیف نہیں دیتے۔ کہیں وہ یکطرفہ محبت کا شکار تو نہیں تھی؟مجھے خیال آیا تھا مگر میں اس سے اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔ مجھے اندازہ تھا وہ ہرٹ ہوئی تھی اور وہ مزید ہرٹ ہوگی اگر ہم اس ذکر کو بار بار دہرائیں گے۔ سو میں نے اس چھوٹی لڑکی کا خیال کرتے جو بھی سوچیں ذہن میں آئیں تھیں انہیں ایک طرف رکھ دیا تھا۔  اور اپنے بزنس پلانز کو امپلیمینٹ کرنے میں جُت گیا تھا۔ میں نے کئی سیکٹرز میں انویسمنٹ کر دی تھی ساتھ ہی اپنی کمپنی بھی رجسٹرڈ کر ڈالی تھی اور کام کا آغاز کر دیا تھا۔ ان تمام امور نے مجھے اس قدر بزی رکھا تھا  کہ میں رامین شاہ سے بہت دنوں تک بیٹھ کر کوئی بات نہیں کر سکا تھا۔کئی بار سرسری بات چیت ہوئی تھی ۔مگر ا س میں معمول کی باتوں کے علاوہ کوئی بات زیرِ بحث نہیں آئی تھی۔ مجھے اس چہرے کو جاننے یا آنکھوں کو پڑھنے کا وقت نہیں ملا تھا۔ اس کے بعد بھی میں بزنس کے جھمیلوں میں الجھا رہا تھا۔ مختلف شہروں میں یہاں وہاں سفر کرتا رہا تھا۔ مجھے وقت نہیں ملا تھا اس چھوٹی لڑکی کی بے ربط باتوں کو سمجھنے اور معنی ڈھونڈنے کا۔ اس وقت جب وہ مجھ سے ملی شکوہ کرنے لگی تھی۔

“تم تو اپنے بزی ہوگئے ہو چہری دکھانے سے بھی گئے۔ خود کو کتنا مصروف کر لیا ہے تم نے!” اور میں مسکرا دیا تھا۔

“آئی ایم سوری چھوٹی لڑکی میں اتنا وقت نہیں دے پایا۔ مصروفیت زیادہ رہی!”

“کیا چھوٹی لڑکی؟ آئی ایم گوئینگ ٹو نائینٹین اینڈ یو آر کالنگ می چھوٹی لڑکی۔؟” اسے میرے طرزِ تخاطب پر اعتراض ہوا تھا۔ میں مسکرا دیا تھا۔ جس عمر میں وہ تھی وہاں بچوں کو عادت ہوتی ہے خود کو بڑا سمجھنے کی۔ میں واقف رھا کیونکہ جس دور سے وہ گزر رہی تھی اس سے میں نو دس برس قبل گزر چکا تھا۔  تب ہی میں پُر سکون انداز میں سر ہلاتے ہوئے اسے دیکھنے لگاتھا۔

“آئی نو تم بڑی ہو گئی ہو۔ مگر مجھے تمھیں چھوٹی لڑکی پکارنا اچھا لگتا ہے!”

“کیوں؟” اس نے اپنی آنکھوں  کو مجھ پر فوکسڈ کرتے ہوئے پوچھا تھا۔ اور اس کی آنکھوں میں تیرتی الجھنوں میں ڈوبتے سورج  کے عکس کو میں حیرت سے دیکھنے لگا تھا۔

“کیونکہ تم ڈول جیسی لگتی ہو!” میں نے مدھم لیجے میں کہا تھا ۔ اس نے مجھے رد کرتے ہوئے انکار میں سر ہلایا تھا اور میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی تھی۔

“میں ڈول نہیں ہوں، میں رامین شاہ ہوں!” وہ جتانے لگی تھی۔

“وہ تو تم ہو۔ مگر رامین شاہ گڑیا جیسی لگتی ہے نا۔” میں مسکرایا تھا۔

“نہیں رامین شاہ گڑیا نہیں ہے۔ گڑیا ٹوٹ  بھی جاتی ہے اور رامین شاہ اتنی کمزور نہیں ہے!” وہ جیسے پریٹنڈ کرتی دکھا ئی دی تھی ۔اسے اس طرح پریٹنڈ کرنے کی ضرورت کیوں پڑی تھی؟ کیا ہوا تھا کہ وہ اپنے اندر کی کمزوری کو چھپا کر خود کو مضبوط ظاہر کرنا چاہتی تھی؟میں اس کے الجھتے رویوں سے الجھنے لگا تھا۔

کیا ہوا رامین شاہ؟ مجھے بتاؤ!” میں نے کہتے ہوئے اسے شانوں سے تھام کر اس کا رخ اپنی طرف پھیرا تھا۔مگر اس نے میری طرف نہیں دیکھا تھا۔

“کچھ نہیں ہوا۔” وہ میری طرف دیکھنے سے کنی کترا رہی تھی۔ اور میں جاننے کے لیے مزید متجسس ہو رہا تھا۔

“کوئی بات توضرور ہے رامین شاہ۔ تم مجھے دوست کہتی ہو نہ؟ پھر اپنے دوست کو بتا نہیں سکتی۔ ؟ میں نے جیسے اسے اعتماد میں لینا چاہا تھا۔ اور وہ خاموشی سے رخ پھیر گئی تھی۔

“میرے پاس تمھیں بتانے کو کچھ نہیں ہے اجلال ملک۔ کوئی خاص بات نہیں ہے!” وہ مجھے ٹال رہی تھی ۔ میں نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر اسکا رخاپنی طرف پھیرا تھا اور مدھم لہجے میں بولا تھا۔

“آئی نو مجھے تمھارے پرسنل ایشوز کو ڈسکس کرنا زیب نہیں دیتا میں ایسا کوئی حق نہیں رکھتا۔ مگر اگر ایک دوست ہونے کے ناطے میں تمھیں ان الجھنوں سے نکال سکا تو میں یہ مدد کرنا چاہوں گا۔ ” میں نے کہا تھا اور وہ خاموشی سے میری طرف دیکھنے لگی۔

“تمھیں محبت ہے کسی سے؟ ” میں نے براہ راست بات کی تھی۔  اور وہ چونکتے ہوئے مجھے دیکھنے لگی تھی۔تب میں نرمی سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولا تھا۔

“میں جانتا ہوں تم ایک سمجھدار لڑکی ہو رامین شاہ۔تم اپنے معاملات سلجھا سکتی ہو۔ لیکن جو الجھنیں تمھارے اندر ہیں وہ تمھیں اسی طرح الجھاتی رہیں گیاگر تم کسی اور سے شئیر نہیں کرو گی۔ ” میرے کہنے پر وہ چہرہ پھیر گئی پھر مدھم لہجے میں بولی تھی۔

“تمھیں ہمیشہ لگتا تھا نہ کہ میں ادھوری باتیں کرتی ہوں؟  میری ادھوری باتوں کے معنی بھی ادھورے تھے نا؟ اور اب محبت نے مجھے ادھورا کر دیا ہے۔”

“محبت مگر کس سے؟ “میں نے پوچھا تبھی وہ بول پڑی تھی ۔

“میں اس محبت کے ذکر کو بانٹتے ہوئے الجھ رہی ہوں۔ میں اس محبت میں تنہا ہوں اور جب محبت ختم ہوجائے اس کے ذکر کو دہراتے رہنا معنی کھو دیتا ہے۔ ”

“اگر وہ محبت باقی نہ ہوتی تو تم اس طرح الجھی نظر نہ آتیں۔ ”میں نے جتایا تھا تب ہی وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بولی تھی۔

“اجلال ملک اسے مجھ سے محبت نہیں تھی۔ وہ محبت کی خبر نہیں رکھتا تھا۔ یا بات کوئی اور تھی میں نہیں جانتی۔ مگر میں اس کی طرف حد درجہ کھینچی چلی گئی تھی۔ وہ عجیب کشش رکھتا تھا۔ اور میں اس سے منکر نہیں ہو پارہی۔ آج اس نے مجھے سب سے زیادہ تکلیف دی ہے۔ ” اس نے میری طرف دیکھے بغیر کہا اور میں چونکا تھا۔

“کیا کیا اس نے تمھارے ساتھ؟ میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا تھا۔ تبہی وہ میری طرف دیکھے بنا بولی تھی۔

“ہم الگ خیالات کے ہیں۔  میں اس کی طرف مائل تھی اور وہ کسی اور کی طرف۔ میں اس کی طرف سے توجہ ہٹا نہیں پاتی تھی، کوئی شے تھی جو مجھے اس کی طرف کھینچتی تھی۔ مگر اینول پارٹی کے لیے اس نے اپنے ہمراہ مجھے چنا تھا۔ یہ بات میرے لیے حیران کن تھی۔ مگر جب ہم پارٹی میں گئےاور وہ میرے ساتھ ڈانس کر رہا تھا تبھی اس نے میرے کان میں سرگوشی کی تھی کہ اسے محبت سے محبت ہے۔ میں سمجھ نہیں پائی تھی کہ محبت کسی ٹرک کی طرح بھی استعمال ہوسکتی ہے۔ اور اسکا مجھے یہ کہنا کوئی اور معنی رکھتا تھا۔ وہ ایک طرف تاریکی میں مجھے لے گیا تھا اور تب مجھ پر کُھلا محبت ایسی نہیں ہوتی۔ !” وہ کہہ کر چپ ہوئی تو میری رگیں تننے لگیں۔

“اس نے کہا کیا تمھارے ساتھ؟” میں نے اسے شانے سے تھامتے ہوئے پوچھا تھا۔ وہ میری طرف دیکھ نہیں سکی تھی۔

“رامین شاہ۔۔!” میں جانے کیوں یکدم غصے میں آیا تھا۔

“تم نے محبت کے لیے اسے وہ سب کرنے دیا۔۔؟ میں تمھیں ایسا نہیں سمجھتا تھا۔ ! ”میں نے غصے سے تنی رگوں کے ساتھ کہا تھا۔ مگر وہ تبھی نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی تھی۔

“میں نے اسے ایسا کچھ کرنے نہیں دیا۔۔”

“پھر تم خاموش کیوں تھی جب میں نے پوچھا تھا؟َ میں چیخا تھا۔

“کیونکہ اس نے جو کیا وہ میری عزت اور وقار پر س سے بڑا تازیانہ تھا۔ ”

“وہاٹ۔۔۔؟ وہاٹ ہی ڈڈ۔۔؟ وڈ یو ٹیل می؟ میں ناجانے اتنے غصے میں کیوں آگیا تھا۔اور وہ خآموشی سے مجھے دیکھتے ہوئے چہرے کا رخ پھیر گئی  ۔ پھر مدھم لہجے میں بولی تھی۔

“اس نے مجھ پرالزام لگایا کہ میں اس کی طرف مائی تھی سو میں نے اس کے ساتھ۔۔۔!” وہ میری طرف دیکھ نہیں پارہی تھی اسکا مدھم لہجہ میرے اطراف میں گونج رہا تھا۔

“میں نے اسے کچھ کرنے نہیں دیا سو اس نے مجھے پورے کیمپس میں بدنام کردیا کہ میں اس کے ساتھ زبردستی کرنا چاہتی تھی۔ میں اس کے گرد منڈلاتی رہی، وہ مائل نہیں تھا۔ اور میں نے موقع ڈھونڈا اور اس موقعے کو اپنی محبت کی تسکین کا ذریعہ بنانا چاہا۔ مجھے افسوس ہے میں نے اس انسان سے محبت کی جسے محبت کے معنے نہیں معلوم۔وہ محبت کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ اس نے محبت کو بے توقیر کردیا اور۔۔۔”

“کیا نام ہے اسکا؟” میں نے تنی ہوئی رگوں سے اسکی طرف دیکھا تھا۔

“نہیں۔۔ تم کچھ نہیں کرگے۔” وہ یکدم خوفزدہ ہو کر بولی تھی۔

“نام بتاؤ اسکا۔”میں نے غصے سے پوچھا تھا۔ وہ میری طرف ساکت نظروں سے دیکھنے لگی تھی پھر مدھم لہجے میں بولی تھی۔

“اجلال ملک پلیز بات کو مت بڑھاؤ۔مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا۔ اس کے کچھ کہہ دینے سے کچھ سچ نہیں ہوجاتا۔  میں نہیں چاہتی کہ تم کسی سے الجھو۔ ڈیڈ کی بہت رسپیکٹ ہے۔ ایسا کوئ بھی ایشو سب مٹی میں ملا سکتا ہے۔” وہ میرا غصہ دیکھ کر سہم کر بولی تھی۔ میں نے ایک گہرا سانس خارج کیا اوراسے شانوں سے تھاما تھا۔

“چھوٹی لڑکی تمھارے اس طرح بات ختم کرنے سے بات ختم نہیں ہوجاتی۔سوچو اس نے کس طرح تمھارے امیج کو تباہ کیا ہے۔  کیمپس میں تم سب کی نظروں میں کس طرح اپنا امیج کھو چکی ہو۔ ” میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی تبھی وہ بولی تھی۔

“مجھے دو چار لوگوں کے سامنے خود کو پارسا ثابت کر کے کچھ نہیں ملے گا اجلال ملک۔ میں کوئی تماشا نہیں چاہتی۔ اگر تمھیں میری عزت  کی ذرا بھی پرواہ ہے تو تم کسی سے اس بارے میں کوئی بات نہیں کروگے۔”اس نے مدھم لیجے میں درخواست کی تھی۔ اور میں مزید کچھ نہیں کہہ سکا تھا۔ جس عمر میں وہ تھی اس میں محبت ایک خوبصورت تتلی لگتی تھی۔ جو خوشنما رنگوں کے ساتھ دلکش مرادوں کا تعاقب کرتی تھی۔ اسکی زرا سی غلطی نے اسکے امیج کو نقصان پہنچایا تھا۔ اور میں اسکا ازالہ کرنا چاہتا تھا۔ مگر وہ مجھے اس کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔ مجھے اندازہ تھا کہ وہ بات نہیں بڑھاتا چاہتی تھی کیونکہ اسے خؤد سے زیادہ فیملی رسپیکٹ کا خیال تھا۔ مگر اس سے اسکی سیلف رسپیکٹ مزید ہرٹ ہو رہی تھی۔ مگر میں اسکی مدد نہیں کر پا رہا تھا۔

“محبت کچھ نہیں ہوتی رامین شاہ۔ فضول شے ہے۔ تمھیں اس طرح کے فضول بندے کی طرف اٹریکٹ ہونے سے پہلے سوچنا چاہئے تھا۔ بحر حال تم نے اتنی بڑی غلطی نہی کی کہ تم خود کو الزام دیتی پھرو۔اگر تمھیں لگتا ہےکہ وہ حماقت تھی تو تمھیں زیادہ اس کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہیے۔ اگر تم دو چار لوگوں کے سامنے خود کو پارسا ثابت کرنا نہیں چاہتیں اور سمجھتی ہو اس سے فرقنہیں بڑتا تو اعتماد سے سب کا سامنا کرو۔تمھیں سر جھکا کر نہیں سر اٹھا کر چلنے کی ضرورت ہے۔ جس عمر میں تم ہو اس میں حماقتیں سرزد ہوتی ہیں۔ سو ان حماقتوں کی سزا تم خود کو مت دو۔ اگر تم خؤد کو ارزاں کرنا نہیں چاہتیں تو ہمت اور اعتماد سے ان لوگوں کا سامنا کرو اور اس لڑکے کو غلط ثابت کردو۔” میں نے اسے پُر سکون انداز میں سمجھایا تھا۔

اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔ تب ہی مجھے کسی بات کا احساس ہوا تھا اور میں نے پوچھا تھا۔

“اور تمھیں اس سے اب محبت ہے۔؟” اس نے میری طرف خالی خالی نظروں سے دیکھا  تھا اور پھر تھک کر میرے شانے پر سر رکھ دیا۔ اور اسکی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں اور اسکے آنسع میرے شانے کر تر کرنے لگے تھے۔ اور میں نے اسکی مدھم آواز سنی۔

“مجھے اس سے محبت نہیں ہے اجلال ملک۔ان فیکٹ مجھے محبت کے نام سے بھی خوف آنے لگا ہے۔ مجھے دوبارہ کبھی محبت نہیں کرنی۔۔ کبھی نہیں۔۔۔۔!” اسکی بھیگتی آواز میری سماعتوں میں پڑی تھی اور میں ساکت رہ گیا تھا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے