سر ورق / رواج۔۔ کوثر اسلام

رواج۔۔ کوثر اسلام

صغراں نے دینو کے سامنے کھانا رکھا اور پاس پڑی ہوئ کرسی پر بیٹھ گئ. تھکے ہارے دینو نے سر سے رومال کھولا جو کام کے دوران وہ سر پر باندھتا تھا اسے چارپائ کے سرخانے رکھے ہوئے تکیے پر رکھا اور بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کیا. کچھ دیر بعد صغراں نے آہستہ کہا

“زرینہ کے ابا! جب سے زرینہ سسرال سے آئ ہے کچھ بجھی بجھی سی ہے اللہ نہ کرے ادھر اسے کوئ پریشانی نہ ہو”

“ایسی باتیں منہ سے نہیں نکالتے رات کو تم اس سے پوچھ لو اللہ میری بچی کے نصیب اچھے کرے” دینو کہا.

کھانا کھانے کے بعد صغراں برتن اٹھا کر چلی گئ تو دینو گہری سوچوں میں گم ہو گیا.

               ***************

 یہ ان دنوں کی بات ہے. جب دین محمد بہت چھوٹا تھا. اس کا باپ فقیر محمد اسے پیار سے دینو کہہ کر بلاتا. فقیر محمد ایک کارخانے میں منشی تھا. وہ بہت ایماندار تھا. پائ پائ کا حساب رکھتا تھا.کارخانے کے کچھ لوگ اس سے بہت نالاں تھے اس لیے کہ وہ اس کی وجہ سے خرد برد نہیں کر سکتے تھے.

فقیر محمد کا پڑوسی نعیم احمد ایک محکمے میں چھوٹا سا ملازم بھرتی ہو گیا. ایک سال کے مختصر عرصے میں اس کا جھونپڑی نما مکان ایک عالیشان بنگلے میں تبدیل ہو گیا. جس کی وجہ سے فقیر محمد اپنے حصے کے سورج سے بھی محروم ہو گیا. نعیم احمد اب این اے خان بن گیا. وہ بڑے بڑے لوگوں کی دعوتیں کرنے لگا. اس نے ایک کار بھی خرید لی. کار پارکنگ اور گیراج کے لیے اسے جگہ درکار تھی. جس کے لیے فقیر محمد کے گھر سے موزون جگہ نہیں ہو سکتی. نعیم احمد نے فقیر محمد سے گھر خریدنے کی بات کی لیکن اس نے صاف انکار کر دیا. اس کے پاس یہی ایک تو سر چھپانے کی جگہ تھی. وہ یہاں سے جاتا تو کہاں جاتا.

نعیم احمد کے ایماء پر کارخانے کے کرپٹ افسروں نے اس پر غبن کا الزام لگایا. مقدمہ چلا. اور فقیر محمد کو دس سال قید کی سزا ہوئ. نعیم احمد نے پولیس کی مدد سے اس کی بیوی اور بچے کو گھر سے بے دخل کرکے اس پر قبضہ کر لیا. نعیم احمد نے پولیس کی دعوتیں تو اسی دن کے لیے ہی کی تھیں. جھوٹے مقدمے کے بعد گھر پر قبضے اور بیوی بچوں کی بے دخلی کا سن کر فقیر محمد پر دل کا ایسا دورہ پڑا کہ وہ جانبر نہ ہو سکا.

چھوٹا دینو اپنی ماں کے ساتھ در در کی ٹھوکریں کھاتا رہا. مسجد سے لے کے مزار تک انہیں سر چھپانے کی جگہ نہ ملی. خدا کی وسیع زمین ان پر تنگ تھی. انسانیت کسی کونے میں سسک رہی تھی.

بالاخر قیصر شاہ کو ان کی خبر ملی جو فقیر محمد کا دوست تھا. اس نے ان کو اپنے گھر میں جگہ دی. وقت انسان کا سب سے بڑا استاد ہوتا ہے. حالات کے ظالم تھپیڑوں نے دینو کو بہت کچھ سکھا دیا. وہ وقت سے پہلے بڑا ہوگیا. وہ مختلف جگہوں پر کام کرنے لگا. وہ ننھے ہاتھ جس میں کھلونے اور کتابیں ہونی چاہئیے تھیں اس میں مختلف اوزار آ گئے. وقت پر لگا کر اڑتا رہا. دینو کو بچپن اور لڑکپن سے ہوتے ہوئے جوانی میں داخل ہوئے کافی وقت ہو چکا تھا. اس دوران اس نے اپنے لیے ایک چھوٹا سا مکان خرید لیا. ماں نے اس کی شادی صغراں سے کر دی. شادی کے فورا بعد وہ اللہ کو پیاری ہو گئ. جیسے وہ یہ فرض نبھانے کے لیے ہی زندہ تھی. اللہ نے دینو کو یکے بعد دیگرے تین بیٹیوں سے نوازا.

دینو کو کان کنی میں کافی مہارت حاصل تھی جب گاوں سے باہر سونے کی کان دریافت ہوئ تو اس کے تجربے کی بنیاد پر اسے نہ صرف وہاں نوکری ملی بلکہ اسے کان کنوں پر نگران مقرر کر دیا گیا.

صغراں سگھڑ عورت تھی وہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ پیسے پس انداز کرتی رہتی. یہی وجہ تھی کہ دینو کو دونوں بڑی بیٹیوں کی شادی میں کچھ خاص مشکل پیش نہ آئ.

سب سے چھوٹی بیٹی زرینہ کا رشتہ نجم الحسن نے اپنے بیٹے ضیاد کے لیے مانگ لیا. وہ کھاتے پیتے لوگ تھے. اس نے اپنے دو بیٹوں کی شادیاں اونچے گھرانوں میں کی تھی. دینو کے گھر رشتہ اس نے اس وجہ سے کیا کہ دینو سونے کے کان میں ملازم تھا. کم از کم اس کی بیٹی کے ساتھ ڈھیر سارا سونا تو ہوگا. چٹ منگنی پٹ بیاہ کے مصداق زرینہ نجم الحسن کی بہو بن کر آئ. دینو نے دیگر بیٹیوں کی طرح اس کے لیے بھی پیتل کی بالیاں بنوائیں. سونے کی بالیاں بنانے کی استطاعت اس کی نہیں تھی. البتہ جہیز کا سامان اس نے دیگر بیٹیوں سے زیادہ کیا لیکن یہ سامان نجم الحسن کے دیگر بہووں کے جہیز سے بدرجہا کم تھا. یہی وجہ تھی کہ زرینہ کی ساس نے دوسرے دن ہی اسے گھر کے کاموں پر لگا دیا. بات بات پر اسے طعنہ دے کر کہتی “باپ تو سونے کے کان میں کام کرتا ہے اور بیٹی پیتل کی بالیوں میں بیاہ دی”. زرینہ کے ساتھ نوکروں جیسا سلوک کیا جانے لگا. ساتویں دن جب وہ میکے جانے لگی تو اس کی ساس نے اسے تاکید کی کہ سب کے لیے اچھے تحفے لے کر آنا. دیگر بہووں کے تحفوں سے اگر قیمتی نہ ہو تو کم بھی نہ ہو.

اس گاوں میں یہ رواج تھا جب دلہن پہلی بار میکے سے واپس آتی تو سب کے لیے اپنے ساتھ تحفے تحایف لاتی. یہی وجہ تھی کہ زرینہ جب گھر آئ تو بجھی بجھی سی تھی. رات کو اس نے ماں کو سب کچھ بتا دیا.

                *****************

صبح صغراں نے دینو کو صورتحال سے آگاہ کر دیا. دینو کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی. تمام پیسے زرینہ کی شادی پر خرچ ہو چکے تھے. کام پر جانے سے پہلے صغراں نے اس سے کہا کہ کسی سے کچھ قرض وغیرہ لے کر اپنے ساتھ زرینہ کے لیے کچھ لے آو. تاکہ کل وہ اپنے ساتھ لے جائے.

دینو نے پوری زندگی میں کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا تھا. وہ دن اس نے کانٹوں پر گزارا. شام کو اس نے صغراں کو ٹال کر کہا کہ کل بندوبست ہو جائے گا. رات کا کھانا کھائے بنا وہ اپنے کمرے میں چلا گیا.

صبح کو جب وہ اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے تو زرینہ نے بھی خود کشی کر لی اس لئے کہ اس کی ساس نے کہا تھا خالی ہاتھ مت آنا.

دوپہر کو جب دونوں جنازے گھر سے نکل رہے تھے تو صغراں پاگل ہو چکی تھی.

اس کی حالت پر رحم کھا کر محلے والوں نے اسے مینٹل ہسپتال میں داخل کر دیا. آج کل وہ ہسپتال میں زیر علاج ہے جب کہ اس کے گھر کی جگہ ایک خوبصورت پلازہ بن گیا ہے.

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے