سر ورق / اتفاق نہیں۔ عشنا کوثر سردار قسط نمبر2

اتفاق نہیں۔ عشنا کوثر سردار قسط نمبر2

قسط نمبر 2

 اسکا درد میرا دل کاٹنے لگا تھا۔ میں ایسا نہیں تھا مگر میں اس کے لیے ایسا کیوں بن رہا تھا۔؟ میں کسی سے غرض نہیں رکھتا تھا۔ کسی کے معاملات سے واسطہ نہیں رکھتا تھا۔ کسی سے کنسرن شو نہیں کرتا تھا کجہ کہ کسی کی دلجوئی کرنا اور اسکے دکھ کو محسوس کرنا۔ ؟ میں  اسکا شولڈر ٹو کرائے بن گیا تھا۔ میں اسے سمجھنے لگا تھا۔ اسکی آنکھوں کو دیکھ کر اسے جاننے لگا تھا۔اسکی ان کہی باتوں کی سمجھ آنے لگی تھی مجھے۔ اور اسکے بنا کہے میں جیسے اسکے احساسات کو سمجھنے لگا تھا۔ یہ محض دوست ہونے کے باعث تھا اور میں اسکا خیر خواہ تھا۔ اس لیے کہ میں اس سے نو دس برس بڑا تھا اور دنیا اور وقت کا اس سے زیادہ تجربہ رکھتا تھا۔

میں اسے جیسے ہر طرف سے محفوظ کرنا چاہتا تھا۔ جیسے وہ کوئی چھوٹی سی گڑیا تھی اور میں اسے ٹوٹنے بکھرنے سے بچانا چاہتا تھا۔ اسکا میرا رشتہ جیسے بےنام تھا، انجان تھا مگر پھر بھی خاص احساسات رکھتا تھا۔ میں اسے دوستی کا نام دیتا تھا اور وہ بھی عمر کے اس تقاضے کے ساتھ مجھے اچھا دوست مانتی تھی۔

میں اس سے زیادہ اسکے لیے نہیں سوچتا تھا اور وہ بھی شاید اس سے زیادہ میرے لیے نہیں سوچتی تھی۔ گزرتے وقت نے مجھے بہت مصروف کردیا تھا ۔ اور اسے پُر اعتماد اور پہلے سے زیادہ میچیور۔ کبھی کبھی جب میرے پاس وقت ہوتا تھا میں اسکے ساتھ کافی پیتا اور باتیں کرنے بیٹھ جاتا تھا۔ اور مجھے اچھا لگتا تھا اس نے میری نصیحتوں سے گزرے وقت کے ساتھ کچھ سیکھا تھا جس سے اسکا اعتماد بحال ہو چکا تھا۔ اور مجھے اسکا سمجھدار ہونا اچھا لگا تھا۔ وہ محض انیس برس کی تھی اس وقت مگر اسکی سوچ بہت نشونما پاچکی تھی۔ وہ کل تک کی کمزور سی بچی نہیں رہی تھی۔ اسکا کھویا ہوا اعتماد اسے جیسے واپس مل گیا تھا۔ اور مجھے اسکی خوشی تھی۔وہ اپنی اس خؤد اعتمادی کے ساتھ کیمپس میں لوگوں کو فیس کرنے کے قابل ہوگئی تھی۔ میں اسے کیمپس پک کرنے گیا تھا  جب میں نے دیکھا وہ اپنے دوستوں کے ساتھ نہایت اعتماد سے کھڑی تھی۔ اسکی شخصیت مضبوط لگ رہی تھی اور مجھے خوشی تھی اس نے خؤد کو اتنا سنبھال لیا تھا۔

“تمھارا کئی بوائے فرینڈ نہیں۔؟”میں نے اسے لڑکیوں کے گروپ کے ساتھ دیکھا تھا جب ایک دو بار اسکو پک کرنے گیا تھا تبھی میں نے اسکو چھیڑا تھا۔ اور وہ کھلکھلا کر ہنس دی تھی۔

I am an old fashioned girl. I know my values.

اس نے مجھے جتا دیا تھا تبھی میں نے کہا تھا۔

“تم کچھ زیادہ میچیور ہو رہی ہو رامین شاہ۔ لڑکے بھی دوست ہو سکتے ہیں۔ میں بھی تو تمھارا دوست ہوں نہ اور میں لڑکا بھی ہوں۔!” میں نے اسے جتایا تھا کہ دوستوں کی تفریق کرنا مناسب نہیں ہے اور وہ مسکرا دی تھی۔

“جتانے کے لیے شکریہ۔ مگر تم سے  بات کرتے ہوئے میں نے کبھی نہیں سوچا کہ ہم دو الگ جینڈر کے لوگ ہیں۔ ” وہ آنکھوں میں شرارت لیے تھی۔ اور میں ہنس دیا تھا۔

” میں دنیا کو مختلف اینگل سے دیکھنے لگی ہوں اجلال ملک۔ !” اس نے مدھم لہجے میں کہا تھا اور میں چونک کر اسے دیکھنے لگا تھا۔

“تم دنیا سے کٹ کر نہیں رہ سکتیں رامین شاہ۔ تمھیں بھی اسی دنیا کے ساتھ رہنا ہے اور جینا ہے۔ تم اسطرح خؤد کو آئی سو لیڈ کرتی جاؤ گی۔ ” میں نے ایک خطرے کے پیشِ نظر کہا تھا اور اس نے سر انکار میں ہلا دیا تھا۔

“نہیں۔۔ میں خؤد کو اس دنیا سے کسی ڈر کے باعث نہیں کاٹ رہی۔ مگر مجھے خؤد کو الگ رکھنا ہے۔ کیونکہ میں دنیا جیسی نہیں ہوں۔ میں منافقت کے کھیل نہیں کھیل سکتی۔ میں جھوٹ کہہ کر کہانیاں نہیں سنا سکتی۔ مجھے یہ سب نہیں آتا۔” اس نے تسلیم کیا تھا او رمیں نے اسکے ہاتھ پر نرمی سے اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا۔ اور پھر اس کی سمت دیکھتے ہوئے مدھم لہجے میں بولا تھا۔

“رامین شاہ تم اثر پذیری کی قائل نہیں ہو تمھیں کسی سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ تم لوگوں جیسی نہیں ہو اور تمھیں ان جیسا بننا بھی نہیں چاہئے۔ تم جیسی ہو۔ تم ویسی رہو۔ تمھارے لیے اچھا ہے۔ تم اس طرح مکمل ہو اسی طرح خوبصورت تمھیں دوسروں سے  نمایاں کرتی ہے۔ “کیوں کہ یہ خوبصورتی تمہاری ظاہری خوبصورتی نہیں ہے رامین شاہ۔۔”یہ تمہاری باطن کی خوبصورتی ہے۔ اور تمہارا باطن تمھارے  ظاہر کی طرح اتنا ہی شفاف رہنا چاہیے۔ خود کو اسی طور باقی رکھو۔” میں نے اسے اصلاح دی تھی اور وہ مجھے خاموشی سے دیکھنے لگی تھی۔ وہ اچھی لڑکی تھی میں اسے اسی طور دیکھنا چاہتا تھا۔ اور مجھے امید تھی وہ اس رنگ ڈھنگ کے ساتھ ہمیشہ رہنے والی تھی۔

“تم بہت مصروف ہوگئے ہو؟ یا تمہیں کسی سے محبت ہو گئی ہے؟اس دن بہت دن بعد اس سے سامنا ہوا تھا تو اس نے بر ملا کہہ دیا تھا اور میں ہنسنے لگا تھا۔

“محبت کے اثرات ایسے ہوتے ہیں؟” میں نے پوچھا تھا اور اس نے بے فکری سےشانےاچکا ئے تھے۔

“شاید مجھے نہیں پتہ!۔” اس نے مجھے بغور دیکھا تھا۔

“نہیں ایسا کچھ نہیں ۔ مگر کام نے بزی کر دیا ہے۔ چلو تم تیار ہو جاؤ آج ہم باہر جائیں گے۔” میں نے کہا مگر اس نے فورا نفی میں سر ہلا دیا تھا۔

” نہیں آج میں تمہارے ساتھ باہر نہیں جا سکتی۔ میں ممی ڈیڈی کے ساتھ کسی دعوت میں جارہی ہوں۔ تم چاہو تو ہمارے ساتھ چلو؟” اس نے مجھے دعوت دے ڈالی تھی۔

“نہیں چھوٹی لڑکی میں بہت تھک گیا ہوں۔ میں تھوڑا آرام کروں گا۔ تم جاؤ!۔” میں نے اس کے بال بکھیرتے ہوئے اسے مسکراتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ نظریں اوپر کر کے جیسے اپنے بکھرے بالوں کو دیکھنے کی سعی کرنے لگی تھی پھر قدرے خفگی سے مجھے دیکھا تھا۔ اور میں مسکرا دیا تھا تبھی وہ بولی تھی۔

“اس روز میں نے تمہیں ایک خوبصورت لڑکی کے ساتھ دیکھا تھا۔” اس کے کہنے پر میں چونکا تھا۔

“کون؟ کب؟ کس کے ساتھ؟ ” مجھے جیسے حیرت ہوئی ۔ تبھی وہ بولی تھی۔

 ہوٹل کی لابی میں تھے تم۔ وہ تمہارے ساتھ تھی۔” اس نے مجھے یاد دلایا تھا۔ Le Meurice”

“اوہ اچھا سمایا کی بات کر رہی ہو تم! وہ خوبصورت لڑکی ہے؟ میں نے غور نہیں کیا۔ وہ ایک کمپنی کی اونر ہے اور ہم انوسٹمنٹ کے سلسلے میں ملے تھے” میں نے کلئیر کیا تھا۔ اور ساتھ ہی پوچھا تھا۔

” تم ویاں کیا کر رہی تھی؟ اگر دیکھ لیا تھا تو مجھےتب متوجہ کیوں نہیں کیا؟”

“میں سیمینار اٹینڈ کرنے گئی تھی میرے کیمپس کے فرینڈز میرے ساتھ تھےاور تمہیں متوجہ کرنا ضروری نہیں تھا۔ تم وہاں کام کے سلسلے میں تھے۔”وہ پر اعتمادی سے میری طرف دیکھتے ہوئے بولی تھی۔ تبھی میں مسکرایا تھا۔

 “چھوٹی لڑکی تم میری خبر رکھنے لگی ہو؟ کہیں میری اماں سے میری شکایت کرنے کا ارادہ تو نہیں تھا؟” میں نے چھیڑا تھا اور وہ مسکرا دی تھی۔

” نہیں میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ میں نے بس خاموشی سے نوٹس کیا تھا۔ اینی وے مجھے دیر ہو رہی ہے۔ آئی ہیو ٹو گو!۔” کہنے کے ساتھ ہی وہ چلتی ہوئی آگے بڑھ گئی تھی۔ مجھے سمایا ہاشمی کے بارے میں خبر نہیں ہوئی تھی کہ وہ خوبصورت تھی یا کس قدر اٹریکٹو۔ مگر رامین شاہ نے غور کیا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ میں ایسی کوئی حس نہیں رکھتا تھا۔ مگر میں کام کے سلسلے میں اس سے ملا تھا۔ اور اس پروفیشنل میٹنگ میں کسی کو اتنے غور سے دیکھا نہیں جاتا۔ میں گزرتے دنوں میں اتنا مصروف ہو گیا تھا کہ میری حساب منجمد ہونے لگیں تھیں۔

سمایا ہاشمی جسٹ ایک بزنس کلائنٹ تھی اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ دو تین بار سمایا سے ملاقات رہی تھی اور پھر اس نے مجھے ڈنر پر انوائیٹ کیا تھا۔ اس کی فیملی میں اس کی  ماں تھی۔ وہ بروکن فیملی سے تھی۔ ماں اور چھوٹے بہن بھائیوں کی کفالت کر رہی تھی جو دوسری سٹی میں اسٹڈی کر رہے تھے۔ وہ اپنی ماں کے ساتھ اکیلی رہتی تھی۔ ڈنر میں انواع و اقسام کی ڈشز کا اہتمام تھا مگر میں زیادہ کھا نہیں سکا تھا۔ سمایا اچھی لڑکی تھی۔ سلجھا ہوا مزاج تھا۔ شاید یہی بات تھی کی اس کے بعد بھی ہم دو ایک بار ملے تھے۔۔ وہ اچھی دوست بن گئی تھی یا پھر اس دوستی میں دوستی سے زیادہ بھی کچھ تھا۔ کیونکہ میں نے محسوس کیا تھا کہ وہ کس قدر  جھکاؤ میری طرف رکھتی تھی۔ میں اس وقت انتیس برس کا تھا۔ تقریبا تیس کا ہونے والا تھا۔ بزنس کے باعث میں نے اپنی زندگی کو کس اس طور سیریس نہیں کیا تھا۔مجھے سمایا ہاشمی میں اگرچہ کچھ خاص اٹریکشن دکھائی نہیں دیتی تھی مگر میں وقت کے فیصلوں کو ماننا چاہتا تھا۔ اتنا وقت اکیلے گزار لیا تھا اب اپنی زندگی کو کسی ڈگر پر ڈالنا چاہتا تھا۔ تبھی میں اس تعلق کو وقت دینے لگا تھا ۔ میں نے اسے آنٹی انکل سے بھی ملوایا تھا۔ اس شام آنٹی نے اسے ڈنر پر انوائیٹ کیا تھا۔ مگر رامین  شاہ بہت بجھی بجھی دکھائی دی تھی۔ شاید وہ کسی بات کو لے کر اپ سیٹ تھی۔میں فوری طور پر اس سے وجہ نہیں پوچھ سکتا تھا مگر سمایا ہاشمی کے جانے کے بعدمیں اس کی طرف آیا تھا۔ مگر وہ کنی کترانے لگی تھی۔

” کیا ہوا تمہیں اچانک اپنے روم میں جانے کا خیال کیسے آ گیا؟ یہ وقت تو ہم ٹیرس پر بیٹھ کر چائے پیتے ہیں نا؟” میں نے مسکرا تے ہوئے دیکھا تھا۔

“مجھے نیند آرہی ہے اورایک اسائنمنٹ پر بھی کام کرنا ہے۔” اس کے گویا بہانہ بنایا تھا۔

” رامین شاہ سب ٹھیک ہے نا؟ آل اوکے؟” میں نے اس کی سمت دیکھتے ہوئےپوچھاتھا ۔وہ میری سمت سے نگاہ چراگیا تھا ۔
“میں ٹھیک ہوں اجلال ملک! ” وہ مدھم لہجے میں بولا تھا اور میں نے اسے بغور دیکھا تھا
“ہم اچھے دوست ہیں نا رامین شاہ؟” اس نے سر ہلا دیا تھا۔
“پھر تم میری طرف کیوں نہیں دیکھ رہیں؟ ایسی کیا بات ہے جو تم مجھ سے چھپارہی ہو؟” میں نے اسکی سمت دیکھنے ہوئے  پوچھا تھا۔ مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ تب میں نے آہستگی اسکا ہاتھ تھاما تھا اور اسے توجہ سے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا ۔
کیمپیس  میں کسی نے تمہارے ساتھ بدتمیزی کی؟ کیا اسی لڑکے نے کچھ کہا کیا؟ میں نے بات کی تہ تک پہچنے کی سعی کی تھی مگر اس نے سر انکار میں ہلا دیا تھا۔

“ایسا کچھ نہیں ہے اجلال ملک۔  میں پریشان نہیں ہوں اور کوئی وجہ بھی نہیں ہے۔” اس نے اکتائے ہوئے لہجہ میں کہا تھا- میں اسکے بدلے ہوئے انداز پر چونکا تھا ۔ وہ الجھی ہوئی لگی تھی ۔اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا اس نے اپنا ہاتھ میری گرفت سے نکالا تھا اور پھر چلتی ہوئی آگے بڑھ گئی تھی۔

میں اسکا رویہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ وہ مجھ سے کوئی بات شئیر کرنے کو تیار نہیں تھی۔ مجھ سے کنی کترانے لگی تھی۔   میں نے اسکے بدلے ہوۓ رویے کو نوٹ کیا تھا۔مگر میرے پاس اتنا وقت نہیں رہا تھا کہ میں اسکے ساتھ دوبارہ بیٹھ کرتفصیل سے بات کرسکتا۔  آنٹی انکل کو سمایا ہاشمی پسند آئ تھی ۔ تبھی آنٹی نے مجھے کہا تھا کہ میں اماں کو اس بارے میں آگاہ کر کے ایک بار ان سے ملوادوں ۔ اماں یوں بھی فرانس آنے کا ارادہ ظاہر کررہی تھیں ۔میں سنجیدگی سے سمایا ہاشمی کے بارے میں سوچنے لگا تھا۔

 “آپکو سمایا ہاشمی سے محبت ہے ؟” اس شام جب میں وقت نکال کر اسکے پاس بیٹھا تھا تبھی اس نے پوچھا تھا اور میں چونک کر اسے دیکھنے لگا تھا۔
محبت بچکانہ شے ہےر امین شاہ! میں اتنا بچہ نہیں رہا ۔”میں نے مسکراتے ہوۓ اسے دیکھا تھا۔ ”
محبت کے واقع ہونے کی عمر ہوتی ہے؟” وہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھنے لگی تھی اور میں نے بےفکری سے شانے اچکادیے تھے۔ .
آئ ڈونٹ بلیوان لو۔  وہ الجھن سےمیری طرف دیکھنے لگی تھی۔ ”
“تم محبت کے بنا شادی کروگے ؟ محبت کے بنا زندگی گزاروگے؟” وہ میری سمت حیرت سے دیکھ رہی تھی اور مسکرادیا تھا۔
“میں ٹین ایچ گائے نہیں ہوں رامین شاہ ۔! لک ایٹ می

I am nearly thirty now

میں نے اسے جتایا تھا اور وہ اپنی شفاف آنکھوں میں حیرتیں بھر کر مجھے دیکھنے لگی تھی ۔

“محبت صرف ٹین ایچ کرتے ہیں ؟ کہاں لکھا ہے کہ تھرٹی میں محبت کرنا منع ہے؟” اس نے بحث کا گویا آغاز کردیا تھا اور تب میں نے پرسکون انداز میں مسکراتے ہوۓ اسکی سمت دیکھا تھا اور اسکا ہاتھ تھام لیا تھا۔
“رامین شاہ محبت کس طور ہوتی ہے ، کیسے ہوتی ہے، آئی ریلی ڈونٹ نو ۔مجھے اسکی خبر نہیں ہے۔میں سمجھتا ہوں یہ شادی کے لئےرایٹ ٹایم ہے ۔آئی ہیو  اچیوڈ  مائے گولز ۔ جو بزنس پلانز میں یہاں لے کر آیا تھا ان پر عمل کر چکا ہوں اب زندگی شروع کرنے کا وقت ہے اور میں زندگی کو شروع ہونے دینا چاہتا ہوں۔ ” میں نے پرسکون لہجے میں کہا تھا تب ہی وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بولی تھی۔

“محبت کے بنا ؟ محبت کے بغیر؟” اسکی آواز میں ایسا کیا تھا کہ اسکا لہجہ کانپ رہا تھا ۔ اسکی آنکھوں میں کیا تیر رہا تھا جو میں پڑھ نہیں پارہا تھا , میں نے اسکی الجھنوں سے بھری آنکھوں کو بغور دیکھا  تھا۔

“محبت کیا دیتی ہے رامین شاہ۔؟ محبت نے تمھیں کیا دیا۔۔؟”میں اگرچہ اسے یاد نہیں دلانا چاہتا تھا مگر انجانے میں ذکر کر گیا تھااور وہ ساکت سی میری طرف دیکھنے لگی تھی۔ لمحہ بھر کو میری جانب خاموشی سے دیکھا اور پھر پُر اعتماد لہجے میں بولی تھی۔

“میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتی کہ مجھے تب محبت نے کیا دیا اور کیا لیا تھا۔ میں ایک خاص فیلنگ کے زیرِ اثر تھی اور میں نے اسکا اظہار کھل کر ڈرے بغیر کر دیا تھا۔ مجھے نتائج کی پرواہ نہیں تھی۔ تب مجھ میں ہمت تھی اور سچ کہنے کی ہمت تھی۔ میرے ساتھ کیا ہوا؟ یہ بات اہمیت نہیں رکھتی۔ مگر اس ایک غلطی نے مجھے سیکھنے کا موقع دیا۔ میں نے ایک غلط لڑکے کے لیے جو محسوس کیا وہ میرے اندر باقی نہیں رہا۔ ” اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے صاف گوئی سے کہا تھا۔

“اور پھر تم محبت کا ذکر کیوں کر رہی ہو۔؟” میں نے پوچھا تھا اور تبھی اس نے گویا اپنی غلطی کا احساس کر لیا تھا اور سر ہلاتے ہوئے میری طرف سے نگاہ ہٹائی تھی۔

“کچھ نہیں۔۔ فار گیٹ اٹ۔ !” کہنے کے ساتھ ہی وہ پلٹی تھی اور چلتی ہوئی وہاں سے نکل گئی تھی۔ ایسا کیا تھا جو اسکے رویے میں تھا؟ وہ اتنی الجھی ہوئی کیوں دکھائی دی تھی؟ میں سمجھ نہیں پا رہا تھا اسے کیا بار مزید الجھا رہی تھی۔  مگر مجھے تشویش ہوئی تھی کہ کہیں اسے پھر سے کسی سے محبت تو نہیں ہوگئی۔ ؟ اور اس خیال کے آتے ہی مجھے اسکی فکر ہوئی تھی۔ میں اسے پھر کسی نئی تکلیف میں دیکھنا نہیں چاہتا تھا تبھی اس روز میں نے اسے روک لیا تھا۔ اور وہ میرے ہاتھ تھامنے پر مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی تھی۔

“تمھیں کسی سے محبت ہوگئی ہے؟” میں نے بغور اس کی سمت تکتے ہوئے کہا تھا اور وہ چونک کر میری طرف دیکھنے لگی تھی ۔

” بولو رامین شاہ،۔۔تمہیں کس سے محبت ہوگئی ہے؟ کون ہے وہ؟ آئی جسٹ کانٹ سی یو ان اینی ٹربل، ایسی کوئی بات ہے تو مجھے آگاہ کرو۔  میں اس لڑکے سے ملنا چاہوں گا۔ آئی ڈو سی ہم ان پرسن۔ اگر وہ مجھے تمہارے قابل لگا دین آئی وِل لٹ یو نو۔  مگر تم اس طرح کوئی فیصلہ نہیں لے سکتیں” میں جیسے اپنے طور پر اس کی تمام ذمہ داری سنبھال چکا تھا کہ اسے کوئی تکلیف نا ہو۔اسے دوبارہ کوئی ہرٹ نا کرسکے۔ مجھے اس کا مکمل خیال تھا۔ اور میں اسے ہر طرح سے تحفظ دینا چاہتا تھا، بچانا چاہتا تھا، مگر اس کی نظروں میں اس لمحے جو کیفیت تھی میں وہ سمجھ نا پایا تھا۔اس نے میری سمت دیکھتے ہوئے اپنا ہاتھ میری گرفت سے نکال لیا تھا۔

” کون ہے وہ رامین شاہ؟ تم اس کے متعلق مجھے بتا کیوں نہیں رہیں؟” اور وہ تب بھی میری سمت اسی طور خاموشی سےدیکھتی رہی تھی۔ پھر پلٹ کر جانے لگی تھی جب میں نے جانے کیوں اس کی کلائی پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔ وہ میری اس حرکت پر دم بخود رہ گئی تھی اور حیران تو میں خود بھی رہ گیا تھا۔ میں نے ایسا کیوں کیا تھا میں سمجھ نہیں پایا تھا۔ کیا میں اسے ایسے ڈانٹنا ڈپٹنا چاہتا تھا؟ اس کا خیال کررہا تھا؟ کنسرن شو کررہا تھا، اسے ڈانٹ کر اس کی حماقت سے باز رکھنا چاہ رہا تھا؟ میں سمجھ نہیں پایا تھا۔ مگر میں کچھ لمحے بول نہیں پایا تھا اور وہ مجھے خاموشی سے دیکھتی رہی تھی۔ تب میں نے اس کی کلائی چھوڑ کر اسے آزاد کر دیا تھا اور وہ جو میرے بہت قریب آگئی تھی دور ہونے لگی۔ یک ٹک وہ میری سمت دیکھتی ہوئی قدرے فاصلے پر جا کھڑی ہوئی اور پھر پلٹ کر چلتی ہوئی وہاں سے تیزی سے نکل گئی تھی ۔ یہ کیا تھا؟ اس ایک لمحے میں ایسا کیا ہوا تھا جو مجھے سمجھ نہیں آیا تھا اور اس کے لئے بھی نا قابل فہم تھا۔؟ میں اس کا خیر خواہ تھا، دوست تھا، خیرخواہی چاہتا تھا، اس کو تکلیف سے بچانا چاہتاتھا، مگر یہ کیوں تھا؟ صرف ایک دوست ہونے کے ناطے؟ میں نے اس کی کلائی کیوں تھام لی تھی، میں اس سے کیا کہنا چاہتا تھا، کس بات کی الجھن میں ایسا سرزد ہوا تھا؟ مجھے اس کی خبر نہیں ہوئی تھی۔ مگر اگلے کئی دن میں بزنس ٹور کے سلسلے میں یہاں وہاں مصروف رہا کہ اس سے بات ہی نا ہو سکی تھی ۔ جب میں اٹلی کے ٹور سے واپس لوٹا تو اسے کسی اور کے ساتھ دیکھا ۔ میں کسی کو اس کے ساتھ ایکسپیکٹ نہیں کرسکتا تھا کجا کہ وہ اس کے گھر میں اس کا ہاتھ تھامے کھڑی تھی۔ میں نے اس سے اس کی بابت نہیں پوچھا تھا۔ میں اسے بچوں کی طرح اپنے اشاروں پر نہیں چلانا چاہتا تھا۔ اسے حق تھا جو وہ بہتر سمجھتی کرتی۔ وہ اب اتنی سمجھدار تو ہوچکی تھی۔ اس کے بعد میں کئی دنوں تک اس سے بات نہیں کرسکا تھا۔ مجھے خبر نہیں تھی کہ وہ کیا کررہی تھی اور وہ کس کے ساتھ روبط بڑھا رہی تھی۔ اگر وہ کسی کو گھر تک فیملی سے ملانے لے آئی تھی تو وہ قابلِ بھروسہ بندہ تھا۔ مگر میں الجھنے کیوں لگ گیا تھا؟ میں سمجھ نہیں پایا تھا۔

 اماں پاکستان سے آئیں تھیں۔ انہیں سما یا ہاشمی سے ملوایا تھا ، انہیں وہ پاند آئیں تھیں۔ دو ایک بار فیملیز ایک دوسرے کے گھر ڈنر کیلئے آئی تھیں۔ اور تب اماں مے عندیہ دے دیا تھا کہ اب مجھے شادی کر لینی چاہیے اور باقاعدہ رشتہ بھجوانا چاہیے۔ اور ان کی اس بات پہ میری نامعلوم الجھنیں بڑھنے کیوں لگ گئیں تھیں؟ مجھے شادی کرنا تھی یہ طے تھا پھر کیوں میں الجھ رہا تھا؟

 رامین شاہ مجھے اگنور کرنے لگی تھی۔ وہ ملی تھی تو بات نہیں کررہی تھی۔ اکثر کنی کترا کر نکل جاتی تھی۔ اس کا یہ رویہ کس بات کا غماز تھا؟ وہ ایسا کیوں کررہی تھی؟ میں سمجھ نہیں پایا تھا۔ اس شام وہ تیار ہوکر گاڑی کی چابی تھامے نکل رہی تھی جب میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا تھا۔

“کہاں جا رہی ہو تم؟” میں نے بنا تمہید کے پوچھا تھا۔ وہ مسکرا دی تھی۔

“میں ڈنر کیلئے جارہی ہوں۔عمار نے انوائیٹ کیا ہے، میں تو اسے منع کررہی تھی مگر وہ کہاں سنتا ہے اور۔۔۔ ! اور میں نے اس کے روانی سے بولتے لبوں پہ شیادت کی انگلی رکھ کر اسے خاموش کرا دیا تھا۔

“ہو از عمار؟” میں پوچھنے کا حق رکھتا تھا شاید نہیں، مگر میں کس استحقاق سے پوچھ رہا تھا۔ صرف اس کا دوست ہونے کے ناطے…؟ صرف ایک یہی حوالہ تھا کیا؟ یا کچھ اور بھی تھا؟ میں سمجھ نہیں پایا تھا۔ مگر میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا تھا تبھی وہ میرا ہاتھ اپنے لبوں سے ہٹاتی ہوئی بولی۔

  عمار میرا دوست ہے۔ ایک فیملی گیدرنگ میں ملے تھے۔۔ وہ نائس ہے اور مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے، میں نے ممی ڈیڈی کو اس سےملوایا ہے، انہیں وہ پسند آیا ہے،آئی ڈونٹ نووہاٹس نیکسٹ گراف اٹس ریٹن اٹ وڈ ہینڈ وہ شانے اچکا کر بےخبرے پن سے بولی اور میں نے چونک کر اسے دیکھا۔

“اتنا کچھ ہوگیا اور تم نے مجھے بتایا تک نہیں۔”میری آواز میں حیرت تھی اور وہ میری طرف خاموشی سے دیکھے گئی تھی پھر دھیمے سے مسکرائی تھی اور بولی تھی۔

” تمھارے پاس وقت نہیں تھا اجلال ملک۔  اور میں نے تمھیں ڈسٹرب کرنا مناسب خیال نہیں کیا ۔۔!”وہ ایک خاص مروت سے بولی تھی اور میں حیرت سے اسے دیکھنے لگا تھا۔

“تم واقعی سمجھتی ہو عمار اس قابل ہے کہ تم اس کے ساتھ زندگی کا آغاز کر سکو۔۔؟ میں کیوں اسکے معاملے میں اسقدر انوالوڈ ہورہا تھا۔  میں جانتا تھا یہ مینرز کے خلاف ہے۔  وہ دوست تھی کزن تھی مگر اسکی اپنی زندگی تھی اور وہ اپنے فیصلوں میں کسی قدر خودمختار تھی میں اسکے فیصلوں کو افیکٹٹ کرنا نہیں چاہتا تھا ۔مگر میں ایسا کیوں کررہا تھا میں جاننے سے قاصر تھا۔

 “محبت کرتی ہو تم اس سے؟” میں نے اس سے پوچھا تھا اور وہ مسکرائی تھی۔

محبت کا ذکر یہاں کیوں اجلال ملک؟” اس کے پرسکون لہجے پر میں نے اسے حیرت سے دیکھا تھا “

“محبت کا ذکر کیوں نہیں رامین شاہ ؟ تمھیں محبت پر یقین ہے نہ؟”

” تم نے کہا تھا محبت کچھ نہیں ہوتی وہ مجھے میرا کہا یاد کرا رہی تھی۔

” میں نے کہا تھا وہ میرا معاملہ تھا آئی ڈونٹ بیلیو ان لو ۔مگر تم تو ! تمھیں تو یقین تھا نا؟ سو اٹاک آباوٹ لو ۔ناٹ می۔۔! میں نے جیسے اسپر اپنے رولز لاگو کیے تھے اور وہ میری طرف خاموشی سے دیکھنے لگی تھی

” ڈو یو لو ہم ؟ محبت کرتی ہو اس سے؟”  میں نے کریدتے ہوے پوچھا تھا تبھی وہ نفی میں سر ہلاتے بولی تھی۔

“میں اس سے محبت نہیں کرتی اجلال ملک۔ اورمحبت ضروری نہیں ہے زندگی ساتھ گزارنا ہو تو اور بہت سی باتوں کو بھی دیکھا جاتا ہے وہ اچھی نیچر کا ہے اپنے قدموں پر کھڑا ہے مجھے سمجھتا ہے اور۔۔۔!

“اور یہ کافی ہے۔؟” میں نے اسکی بات کاٹتے ہوئے روانی سے پوچھا تھا۔ اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے پر اعتماد انداز میں سر اثبات میں ہلا دیا تھا۔

” یہ کافی ہے اجلال ملک ۔” اسکے ساتھ ہی وہ اپنا ہاتھ چھڑا کر وہاں سے نکل گئی تھی یہ کیسا عجیب رویہ تھا اسکا؟ اور میں؟ میں کیا میں خود کو خود نہیں سمجھ پایا تھا اسکے معاملے میں میں خود کو اتنا انوالوڈ کیوں کر رہا تھا؟ یا براہراست میرا اس معاملے میں کوئی واسطہ بنتا تھا ؟ میں اس کے جانے پر اپنی سوچوں سے الجھتے ہوئے سوچنے لگا ۔ رامین شاہ کو میں اتنی اہمیت کیوں دیتا ہوں ؟اور رامین شاہ میری سوچوں پر کیوں حاوی ہو رہی تھی؟  وہ ہر طرح سے میرے حواسوں پر کیوں سوار تھی؟  میں اہم ترین میٹنگز میں بات کرتے ہوئے اہم امور ڈسکس کرتے ہوئے اس کا خیالاپنے ذہن سے جھٹک کیوں نہیں پارہا تھا ؟ وہ لڑکی میرے آس پاس کیوں رہنے لگی تھی جب میرے اردگرد نہیں ہوتی تھی تب بھی میں سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے