سر ورق / نیا زمانہ۔۔ تنزیلہ یوسف

نیا زمانہ۔۔ تنزیلہ یوسف

نیا زمانہ

“برخودار! کبھی موبائل اور لیپ ٹاپ سے باہر بھی نکل آیا کرو۔” کمال نے علی کو لیپ ٹاپ کھولے  دیکھا تو طنز کرنے سے نہ رہ سک
“وہ ابو بس ایک اسائنمنٹ کی تیاری کے لیے براؤزر سرچ کررہا ہوں۔” علی نے مصروف لہجے میں جواب دیا۔
“ہونہہ سب جانتے ہیں یہ آج کل کے بچے نیٹ کس لیے کھولتے ہیں۔”
علی افسردگی سے باپ کو باہر جاتے دیکھ کر رہ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“افوہ! لائٹ چلی گئی۔ اسائنمنٹ بھی ادھوری ہے ابھی۔ محب سے پوچھتا ہوں کہ اگر لائٹ آرہی ہے تو باقی کام اس کے گھر جاکر کرتا ہوں۔” علی خود سے بولا
محب سے کال کرکے پوچھا تو اس نے اپنے گھر آکر کام کرنے کو کہا۔
“امی! میں محب کے گھر جارہا ہوں۔” علی نے ثمینہ کو اپنے جانے کا بتایا۔
“لائٹ جو چلی گئی ہے ناں۔ انٹرنیٹ سے دوری برداشت نہیں ہوئی۔ بیٹا کبھی گھر پر نیٹ کے بغیر بھی رہ لیا کرو۔” کمال نے اچانک آکر بیٹے پر طنز کرنا شروع کردیا۔ وہ تھے ہی ایسے جو ان کے دفتر میں ساتھ کام کرنے والوں نے نوجوان نسل کی بے راہ روی کے متعلق بتایا اس پر آنکھیں بند کرکے یقین کرلیا۔ اپنے اکلوتے بیٹے کو بھی اسی صف میں کھڑا کردیا۔ ثمینہ لاکھ سمجھاتی کہ جوان اولاد پر اتنی سختی اچھی بات نہیں مگر ان کے اپنے ہی خود ساختہ قوانین تھے۔ جن سے ایک انچ پیچھے ہٹنا بھی انھیں گوارا نہ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“محب! مجھے تیری مدد چاہیے۔”
“کس سلسلے میں؟” محب نے علی سے پوچھا۔
“ابو سمجھتے ہیں کہ میں لیپ ٹاپ یا موبائل فون پر نیٹ کھولے وقت برباد کرتا ہوں، یہ تو مجھے بھی معلوم ہے کہ اگر میں سوشل میڈیا پر بلاوجہ وقت برباد کروں گا تو اس میں میرا ہی نقصان ہے۔ انٹرنیٹ پر اپنی پڑھائی کے سلسلے میں سرچنگ کرنا پڑجاتی ہے۔” علی نے اپنی پریشانی کھول کر محب کے سامنے رکھی۔
“پریشانی کی بات تو ہے۔”
“ابو کے دفتر میں ساتھ کام کرنے والے اکثر نوجوان نسل کے انٹرنیٹ پر وقت ضائع کرنے کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ ابو سمجھتے ہیں کہ میں بھی انھی میں سے ہوں۔” علی نے اپنا دکھڑا رویا۔
“انکل کو کتابیں پڑھنے کا شوق ہے؟” محب نے کچھ سوچنے کے بعد الٹا علی سے ہی سوال کردیا۔
“یہ تو میرے سوال کا جواب نہیں۔” علی نے شکوہ کیا۔
“تو چاہتا ہے ناں کہ انکل تجھے اور لڑکوں کی طرح نہ سمجھیں، اس کے لیے تجھے اپنے اور ان کے درمیان فاصلے کم کرنا ہوں گے۔” محب نے علی کو سمجھایا۔
“لیکن یہ سب کیسے ہوگا؟”
“میرے دوست! انکل کو جس کام میں دلچسپی ہے وہ انھیں انٹرنیٹ پر کھول کر دکھادے۔ مثلاً اگر انھیں کسی خاص رائٹر کی کتابیں پڑھنا پسند ہے تو اس رائٹر کو سرچ کرکے انکل کو کتابیں پڑھا۔ اگر موسیقی سے لگاؤ ہے تو یو ٹیوب تو ہے ہی اسی مرض کی دوا۔” محب نے علی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
“ہاں بات تو ٹھیک ہے۔” علی کی سمجھ میں آگیا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے؟
“میرے دوست! نئی پود کو اپنے اور بڑوں کے درمیان فاصلے ختم کرنے سے ہی مسٔلہ حل ہوگا۔” محب نے علی کا ہاتھ دباتے ہوئے دھیرے سے کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محب سے بات کرنےکے بعد علی خود کو ہلکا پھلکا محسوس کررہا تھا۔ سب سے پہلا کام اس نے یہ کیا کہ کمال کی پسند کے گانے یوٹیوب پر سرچ کرنے کے بعد انھیں موبائل فون کی میموری میں محفوظ کیا۔ کچھ کتابیں شاعری اور ادب سے متعلق منتخب کی اور انھیں بھی موبائل میں محفوظ کرلیا میں۔ شام کو کمال کے گھر آنے کا کبھی علی نے اتنی بےصبری سے انتظار نہیں کیا جتنا وہ آج پرجوش تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ابو! آپ کھانا کھالیں۔ آج میرے پاس آپ کے لیے سرپرائز ہے۔” علی کی آواز میں جوش تھا جسے کمال کے ساتھ ساتھ ثمینہ نے بھی محسوس کیا۔
“ایسا کیا سرپرائز ہے؟ برخودار!” کمال نے خلاف توقع کسی قسم کا طنز کرنے سے گریز کیا۔
“پہلے آپ کھانا کھائیں۔ پھر دکھاؤں گا۔” علی خلافِ معمول آج کمال کے لیے اتنی گرم جوشی دکھا رہا تھا۔
“ارے بھئی! کوئی مجھے بھی تو لفٹ کرادے۔” باپ بیٹے کو خوش گوار موڈ میں بات کرتا دیکھ کر ثمینہ دل سے خوش ہوئی۔
“جی امی! آپ کے لیے بھی ہے ناں میرے پاس زبردست ساسرپرائز۔” علی نے ثمینہ کو بھی تسلی دی۔
آج روٹین کے برعکس گھر میں پرسکون ماحول میں کھانا کھایا جارہا تھا۔ کسی کو بھی کسی بات کی پریشانی نہیں تھی کہ موبائل فون یا لیپ ٹاپ کو ہاتھ بھی لگانے پر لعن طعن شروع ہوگی اور نہ ہی کسی کو یہ فکر کہ کہیں کوئی انٹرنیٹ پر وقت ضائع تو نہیں کررہا اور نہ ہی کوئی پرانی اور نئی نسل کے آپس کے اختلافات دیکھ دیکھ کر کڑھ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھانے کے بعد ثمینہ چائے بنانے چلی گئی تو علی کمال کو اپنے ساتھ اپنے کمرے میں لے گیا۔
“اچھا تو یہ ہے سرپرائز!” کمال کی تیوری علی کو انٹرنیٹ آن کرتے دیکھ کر ہی چڑھ گئی۔
“معلوم نہیں یہ آج کل کے بچوں کو اس “بلا ” کا اتنا مزہ کیوں چڑھا رہتا ہے۔” کمال نے غصے کا اظہار کیا۔
“یہ دیکھیں ابو!” علی نے موبائل کی سکرین کمال کے سامنے کی جدھر نورجہاں کی آواز میں ناصر کاظمی کی مشہور غزل “دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا” چل رہی تھی۔
“ارے واہ!  علی ! تمھیں کیسے پتہ چلا کہ میڈم نور جہاں میری پسندیدہ گلوکارہ تھیں۔ آج کل ایسے مہان گلوکارکہاں؟” افسوس کا اظہار کرنے کے ساتھ ہی کمال غزل کی دل نشیں شاعری کے سحر میں کھو چکے تھے۔ ہوش میں تب آئے جب ثمینہ نے آکر کندھا ہلاتے ہوئے چائے ٹھنڈی ہوجانے کی اطلاع دی۔
“آں۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ یار تم بھی سنو میڈم کو اور دنیا و مافیہا سے بیگانہ ہوجاؤ۔” مزاج کے برعکس کمال نے آج بیوی کو خوش گواری دکھائی۔
“آپ بھی ناں بس کمال کرتے ہیں۔” ثمینہ کی اس بات پر بے ساختہ علی اور کمال نے قہقہہ لگایا ساتھ ہی دل ہی دل میں علی نے محب کا شکریہ ادا کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کمال احمد! کچھ سنا آپ نے؟” کمال کے کولیگ رضوی صاحب نے کمال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
“کیا؟” کمال نے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کہا۔
“یہی کہ عامر فراز کا بیٹا فیس بک پر ایک لڑکی کو بے وقوف بنانے کے چکر میں اس لڑکی کے بھائیوں سے اچھی خاصی مار کھا چکا ہے۔” رضوی صاحب نے آواز دھیمی کرتے ہوئے انھیں اپنے ساتھ کام کرنے والے دوسرے کولیگ کے بیٹے کے بارے میں بتایا۔
“عامر تو اپنے بیٹے کی بہت تعریفیں کرتا تھا۔ نہیں یار ۔۔۔۔  میں نہیں مانتا۔” کمال یقین کرنے سے انکاری ہوئے۔
“نا مانو۔۔۔ تم سدا کے بھولے بنے رہنا۔”
“کیا مطلب؟ اور تمھیں اس بات کا کیسے پتہ چلا؟” کمال کو کچھ کچھ تجسّس ہوا۔
“عامر کا بیٹا جس لڑکی کو شادی کے نام پر سبز باغ دکھا رہا تھا وہ اتفاق سے ہمارے ہی محلے کی ہے۔ اس کے بھائیوں کو شک ہوا۔ انھوں نے بہن کا پیچھا کیا تو معلوم ہوا کہ عامر کا بیٹا انور اس سے ملنا چاہتا تھا اور مسلسل شادی کے نام پر بےوقوف بنارہا تھا۔ بس اللہ معاف کرے جو دوسروں کے بچوں پر بلاوجہ تہمت دھرتے ہیں ان کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔”
“عامر نے کس کے بچوں پر تہمت لگائی؟” کمال کو کچھ یاد نہ آیا۔
“بھول گئے۔۔۔ کیسے ہم دونوں کے بچوں کو انٹرنیٹ کے استعمال پر انھیں دوسرے لڑکوں جیسا کہا کرتا تھا۔ جب کہ میں اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ تمھارا بیٹا علی اور میرا بیٹا محب پڑھائی میں بہت اچھے ہیں اور انٹرنیٹ کا مفید استعمال ہی کرتے ہیں۔ اب رہے تم۔۔۔۔۔ ہر وقت علی پر بلاوجہ شک کرتے رہتے ہو۔” رضوی صاحب نے کمال احمد کی اچھی خاصی کلاس لے ڈالی۔
“ہاں یہ تو ہے۔” کمال نے اعتراف کیا ان کی نظروں کے سامنے کل کا منظر گھوم گیا جب علی نے انھیں یوٹیوب پر پرانی غزلیں لگا کر دیں اور خود کچھ سرچ کرکے نوٹ کرنے لگا۔ انھیں دل ہی دل میں بے حد افسوس ہونے لگا کہ نہ وہ کانوں کے کچے ہوتے نہ عامر فراز کی باتوں میں آتے جس کے اپنے گھر میں اندھیرا ہی اندھیرا ہے،
نہ ان کے گھر کا سکون درہم برہم ہوتا۔ خیر ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا۔ زیر لب مسکراتے ہوئے سوچا کہ گھر جاکر میڈم نور جہاں کی آواز میں اور بھی غزلیں تو سننی ہیں۔
واہ رے انٹرنیٹ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عنوان: کرو مہربانی تم ۔۔۔
مزار کے ستون سے لگا وہ مزار کی دیکھ بھال کرنے والے کو دیگ کے چاول تقسیم کرتے دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ انسان کتنا بےصبرا ہے۔ ذرا سی پریشانی میں گھبرا جاتا ہے۔
ہر ماہ کی پہلی کو وہ اس مزار پر آتا اور مزار پر اپنی منتیں مرادیں لے کر حاضری دینے والوں میں چاول تقسیم کرواتا۔ زائرین کی اکثریت بھوک سے بے حالوں کی ہوتی، جو اس آس میں مزار پر آتے کہ شاید کوئی اللہ کا نیک بندہ ان کی بھوک مٹانے کا وسیلہ بن جائے۔

اس کی نیت صرف  بھوک سے پریشان ان لوگوں کی بھوک مٹانے کی ایک کوشش تھی۔ اللہ کو اس کی یہ ادا اتنی بھائی کہ صرف چار سال کے عرصے میں ہی وہ کامیابیاں سمیٹتا آج اس فرم کا مینجر تھا جس میں عام سی ڈیٹا آپریٹر کی جاب پر اپائنٹ ہوا تھا۔  انسان اللہ کو خوش کرنے کی کوشش تو کرسکتا ہے ناں۔ ٹھیک ہی تو کہا تھا سلمان نے “اپنا قد ان پریشانیوں سے بڑا کرلے۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ادھر آؤ!” عمران نے اسے آواز دے ڈالی۔
“جی صاب!”
“اندر بیٹھو گاڑی میں” فرنٹ ڈور کھولتے ہوئے اس نے رانو کو گاڑی میں بیٹھنے کو کہا۔ ایک پل کے لیے اس نے اپنے حلیے پر نگاہ ڈالی۔ اس کا لباس بوسیدہ اور میلا تھا۔ اس شاندار گاڑی میں بیٹھنے والا تو نہیں تھا۔ جب وہ گاڑی کے کھلے دروازے سے اندر بیٹھ رہی تھی تب سلمان نے بھی اسے دیکھا تھا۔ حسد کی آگ بھڑکی اور خود اسی کو اس میں جلا ڈالا۔

“جو لڑکی مجھ سے نہ پَٹ سکی۔ آج عمران اسے لے اڑا۔۔۔۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم بھیک کیوں مانگتی ہو؟”
“اور کیا کرو صاب؟”
“کوئی عزت کی نوکری بھی تو کرسکتی ہو۔”
“عزت کی نوکری میں سب سے پہلے عزت ہی جاتی ہے صاب۔” لہجے میں تھکن عیاں تھی۔
“مجھے اپنی بیمار ماں کی دیکھ بھال کے لیے کسی کل وقتی ملازمہ کی تلاش ہے۔ کیا تم یہ کام کرسکتی ہو؟ اس کے لیے تمھیں معقول معاوضہ بھی ملے گا۔ اپنے گھر میں بات کرلو۔ مناسب لگے تو آجانا۔”
“مگر صاب آپ تو مجھے جانتے نہیں پھر کیسے اتنی بڑی ذمہ داری دے رہے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ میں آپ کے گھر میں چوری کی نیّت سے جاؤں۔ پھر آپ کو اپنے فیصلے پر افسوس ہوگا۔”
“ایسا تب ہی ہوگا جب تمھیں تمھاری محنت کا معاوضہ نہ ملے اور ایسی نوبت کبھی نہیں آئے گی۔ آؤ  میں تمھیں اپنا گھر دکھادوں۔”
“نہیں صاب میں خود آجاؤں گی۔ آپ مجھے اپنے گھر کا پتہ لکھ دو۔ جن پیروں کو پیدل چلنے کی عادت ہو انھیں گاڑیوں میں سفر کرنے کے بعد ملنے والے چھالوں سے بڑی تکلیف ہوتی ہے۔۔۔۔۔ چلتی ہوں صاب۔”
عمران اس کی فلاسفی پر حیران ہوتا اسے جاتا دیکھ کر ہی رہ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“لے شہزادے! سگریٹ پی اور موج کر۔” سلمان نے عمران کو سگریٹ سلگا کر دیا تو اس نے منہ سے لگانے کی بجائے پرے پھینک دیا۔ سلمان کو غصہ تو بہت آیا مگر چہرے پر تفکر پھیلاتے ہوئے اس نے عمران کے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس کی طبیعت کی خرابی کی وجہ جاننا چاہی۔
“ٹھیک ہوں میں، کچھ نہیں ہوا مجھے۔” ہاتھ جھٹکتے ہوئے بیزاری سے جواب دیا۔
” نوکری کی تلاش میں ہوں مگر سوائے دھکوں کے کچھ نہیں ملتا۔ گھر میں پریشانیوں کے عفریت منہ کھولے نگلنے کو تیار کھڑے رہتے ہیں۔” عمران پھٹ پڑا
“تجھے یہ پریشانیاں اپنے قد سے بڑی لگتی ہیں ناں، تو ایسا کر کہ تو اپنا قد ان پریشانیوں سے بڑا کرلے۔” اپنے تئیں دانش مندی دکھا کر سلمان بھدے انداز میں منہ پھاڑ کر قہقہے لگانے لگا۔
پاس کی مسجد سے اذان کی صدا بلند ہوئی تو عمران کے قدم بے اختیار مسجد کی طرف بڑھنے لگے۔
“جا جا، تیری پریشانیوں کا حل اسی میں ہے۔” سلمان مشورہ دے کر پھر سے منہ پھاڑے قہقہہ لگانے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یااللہ! میں جانتا ہوں کہ میری پریشانیاں تیرے نزدیک بے حد حقیر ہیں مگر میرے مالک! میں اس کائنات میں تیرا عام سا بندہ ہوں۔ مجھے میری پریشانیاں بہت بڑی دکھائی دیتی ہیں۔ اے میرے رب! میری مشکلات آسان فرمادے۔ آمین” دعا کرنے کے بعد دل کو سکون ملا۔
گھر گیا تو ایک خوش خبری اس کی منتظر تھی۔ اسے ایک پرائیویٹ فرم میں ڈیٹا آپریٹر کی جاب کے لیے منتخب کرلیا گیا تھا جہاں اس نے کچھ دن پہلے انٹرویو دیا تھا۔
“تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے میرے مالک” دل سے بے اختیار شکر کے کلمات ادا ہوئے۔
۔۔۔۔۔۔
نوکری گو بہت اچھی نہ تھی مگر عمران نے اپنی محنت اور لگن سے فرم کے مالک کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ فرم کا مالک ملک سے باہر بھی اپنا کاروبار شروع کرنا چاہتا تھا اور ساتھ ہی وہ یہاں اپنے ملک سے بھی ناطہ جوڑے رکھنا چاہتا تھا۔ نظر انتخاب عمران پر گئی اور اس کے پچھلے چار کی محنت اور لگن پر بھی گئی، فرم کے مالک نے عمران کو مینجر کی سیٹ پر بٹھایا اور خود اطمینان سے دبئی روانہ ہوگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اے بابوووو! کچھ دے جا نہ اللہ کے نام پہ۔۔۔۔۔”
مزار کے احاطے میں رانو صبح سے شام تک یہی گردان کرتی اور رات کو گھر  اچھی خاصی رقم لے کر جاتی۔ گھر میں جاتے ہی رانو کی کھلی باچھیں کہیں گم ہوجاتیں۔ گھر میں ایسا تھا ہی کیا کہ رانو اپنی دل نشیں مسکراہٹ لٹاتی پھرتی۔ دمے سے بے حال کھانستا بوڑھا باپ ساری رات رانو کو سونے نہ دیتا۔ جوان نکمے بھائی کو آس رہتی کہ کب رانو دیہاڑی لگا کر آئے اور کب وہ گندے نالے کے تھڑے پر بیٹھ کر یار بیلیوں کے ساتھ رات بھر تاش کی بازی لگانے جائے، ساتھ میں پان سگریٹ کے دور بھی چلتے اور ظاہر ہے ہر کسی کی بہن اتنی فالتو تھوڑی ہے جو صبح سے شام تک مزار کے احاطے میں اپنی دل نشیں مسکراہٹ لٹاتی دیہاڑی لگاتی۔ یہ تو راجا ہی تھا جس کا اتنا جگرا ہوسکتا ہے۔ راجا کو اپنی بہن پر مان بھی تو بڑا تھا ناں کہ اس کی بہن کچھ بھی ہو کبھی غلط کام نہیں کرے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میرے ساتھ چلے گی۔ خوب مزے کریں گے۔” پچھلے کئی روز سے سلمان رانو کو رام کرنے کی کوشش میں لگا ہوا تھا مگر رانو بھی پکی غیرت مند مان کر ہی نہیں دے رہی۔ آتے جاتے بلکہ آتے جاتے نہیں اب تو سلمان رہتا ہی مزار پر تھا۔ رانو کے آس پاس۔۔۔۔۔ نفس کا پجاری۔۔۔۔ عورت دیکھ کر رال ٹپکانے والا کتا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج پھر عمران شکرانے کے نوافل ادا کررہا تھا کہ اسے اپنی بیمار ماں کی دیکھ بھال کے لیے کل وقتی ملازمہ مل گئی تھی۔ آج وہ یہی دعا کررہا تھا کہ اس کی وجہ سے ایک عورت گناہ کی زندگی گزارنے سے بچ گئی تھی۔۔۔۔۔
اس نے سلمان کو رانو کو تنگ کرتے دیکھ لیا تھا اور یہی وجہ تھی کہ جس نے اسے فیصلہ کرنے میں آسانی دی تھی۔
“یا اللہ! میری یہ حقیر نیکی قبول کرنا۔” بے اختیار لبوں سے دعانکلی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج رانو کو گھر میں باپ کی کھانسی سے کوئی تکلیف نہ ہوئی کہ اب اس کی مشکلات میں کمی آنے والی تھی۔ “شکر ہے میرے مالک!” بے اختیار اس کی نگاہیں آسمان کی جانب اٹھ گئیں۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے