سر ورق / من کے دریچے.. عابدہ سبین … قسط نمبر 2

من کے دریچے.. عابدہ سبین … قسط نمبر 2

من کے دریچے

عابدہ سبین

قسط نمبر 2

اکثر ہی وہ اس سے ملنے اس کے فلیٹ پر آ جاتی تھی ، جیسے آج اچانک آ کر اس نے سرپرائز دیا تھا۔ کیونکہ آج وہ گھر پر تھا۔

”سرپرائز براتو نہیں لگا۔“

”وائے!“ اس کی سارے جہاں سے خوبصورت آنکھوں والی مسکراہٹیں تھیں جو عینی کنول کو دیکھ کر گہری ہو جاتی تھیں۔

”یہ گھر بھی تمہارا ہے اور میں بھی، جب بھی آﺅ گی تمہیں منتظر ملیں گے۔“

”او، رئیلی!“

”میرے پیار کی سچائی میری آنکھوں میں نظر نہیں آتی جان من۔“

”ان آنکھوں میں جو نظر آتا ہے وہ میرے وجود کو پگھلا دیتا ہے۔“ دیوانگی دونوں طرف برابر تھی۔

”کیا لو گی۔“ ا سنے ماحول پر چھائے اثر کو زائل کرنا چاہا۔

”آج میں بناﺅں گی اور تم چپ کر کے پی لو گے۔“

”کیا….!“

”بلیک کافی….!“

”اوکے۔“ اس نے کندھے اچکائے۔ عینی کچن کی طرف چل دی۔ وہ وہیں بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے لگا تھا۔

”اسٹیفن! تمہیں نہیں لگتا یہ فلیٹ چھوٹا ہے۔“

کافی کا مگ اس کے سامنے رکھ کر بولی تھی۔ اپنا مگ ہاتھ میں لیے وہ وہیں کھڑے ہو کر تمام جائزہ لینے لگی۔

اسٹیفن نے گردن موڑ کے اسے دیکھا جو عین اس کے پیچھے کھڑی تھی۔

”میرے خیال میں ہم دونوں کے لیے کافی ہے۔“

عینی اس کی شوخ سی بات پہ کھل کر مسکرائی تھی اوربالکل اس کی پشت کے پاس آ کر بانہیں اس کے شانوں پر پھیلا دیں۔ چہرہ اس کے سیاہ بالوں پر رکھ دیا۔

”تمہارا ساتھ چاہیے اسٹیفن جوزف اور کچھ نہیں۔ جو کہو گے مان لوں گی، جہاں رکھو گے رہ لوں گی۔“

اس کے لفظوں میں آنچ تھی جو اسٹیفن کے دل کو چھو گئی۔ اس نے عینی کا بازو تھام کر اسے اپنے پیچھے سے اپنے سامنے بالکل قریب بٹھایا تھا اور اس کے نازک وجود کو بانہوں کی پناہوں میں لے لیا۔

اس پر سحر طاری ہونے لگا تھا۔

”ہاں! مگر وعدہ کرو یہ دیوانگی صرف میرے لیے ہو گی اور عمر بھر کم نہ ہو گی۔“

اس کی محبت کا خمار عینی کنول کو بھی مدہوش کر رہا تھا۔ اسٹیفن جوزف اس وقت کمزور لمحوں کی گرفت میں تھا۔ اس نے لبوں سے عینی کا چہرہ چھوا تھا۔ عینی کی قربت اسے بہکا رہی تھی۔ اس کا تنفس تیز ہونے لگا تھا۔

اس سے پہلے کہ اس کی مدہوشی حد سے گزرتی، یکدم اسے ہوش آیا تھا اور اس نے عینی کو جھٹکے سے دور کیا تھا خود سے اور فوراً ہی اٹھ کھڑا ہوا۔

”او گاڈ!“ دس از رانگ۔“

دونوں ہاتھوں سے سر تھامے وہ نفی میں سر ہلا رہا تھا۔ عینی دنگ سی اس کی حالت دیکھ رہی تھی۔

جس ماحول میں دن رات وہ رہتا تھا وہاں صحیح غلط کا اندازہ بہت کم لوگوں میں ہوتاہے اور اس کے اندر یہ احساس تھا تبھی وہ شرمندہ تھا۔

”یہ کیا کرنے لگا تھا میں۔“

”او کے، جسٹ ریلیکس! شاید دیوانگی اسی کا نام ہے۔“

”بٹ دس از رانگ۔ مجھے لمٹس کراس نہیں کرنی چاہیے تھیں۔ ایم سوری، عینی پلیز!“

”اٹس او کے۔“

اس نے اسٹیفن کا ہاتھ تھام کر اسے صوفے پر بٹھایا اور پانی دیا۔

”تم میرا جنون بن گئی ہو۔ میں نہیں رہ سکتا اب مزید تمہارے بنا پلیز عینی۔“

”بیلیو می! یہ اتنا آسان نہیں ہے۔(وہ بولی)

”مشکل کیا ہے؟“ اسٹیفن کی آنکھیں اس کے جواب پر حیرت سے پھٹ گئیں۔

”تم جانتے ہو اسٹیفن کہ تمہارے اور میرے بیچ کیا رکاوٹ ہے۔“

”یو مین کہ تم مسلمان ہو اور میں!!‘

عینی اسے خاموش کرا گئی۔

”تمہارے لیے یہ میری محبت سے زیادہ اہم ہے۔ ہزاروں شادیاں ہوتی ہیں ایسے دنیا میں۔“

”ہوتی ہوں گی، مگر میں تم سے ایسے شادی نہیں کر سکتی۔“

’یعنی یہ شرط ہے تمہاری۔“

”ایسا نہیں ہے اسٹیفن، مگر میں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھا سکتی جو ہمارے معاشرے میں غلط سمجھا جاتا ہے۔“

”معاشرے کی اتنی فکر ہے تمہیں۔ اور عینی تم اس وقت میرے گھر پر میرے ساتھ موجود ہو۔ یہ معاشرے کے لیے صحیح ہے، دن رات مجھے فون کرتی ہو۔“

”وہ میری محبت ہے کہ میں نہیں رہ سکتی۔ لیکن کیا تم میرے لیے یہ نہیں کر سکتے۔“

”کیا….؟“

”یہ ہی کہ تم اسلام قبول کر لو۔“

کئی لمحے ان دونوں کے بیچ خاموشی رہی۔

”تم مجھ سے میری سانسیں بھی مانگ لو تو عینی کنول میں انکار نہیں کر سکتا۔ تم جیسا چاہتی ہو میں تیا رہوں صرف تمہیں پانے کے لیے۔“

”رئیلی اسٹیفن!“

بہت خوش ہوئی تھی وہ۔ اسٹیفن نے سر ہلا دیا۔

اس کے خیال میں تو صرف عینی کنول کی محبت اہم تھی اب جو وہ چاہتی تھی۔

اس نے حامی بھر لی تھی۔

”میں کل صبح تمہیں لینے آﺅں گی۔ قاری صاحب کے پاس چلیں گے۔“

”جہاں لے جاﺅ گی چل پڑوں گا۔ مجھے صرف تمہیں پانا ہے اور بس، اس نے اقرار کی مہر لگا دی۔“

سعد رسول کو اس نے یہ نیوز دی تھی، وہ دائرہ اسلام میں داخل ہو چکا ہے تو سعد نے بہت خوشی سے اسے گلے لگایا تھا، بہت خوش ہوا تھا۔

”محبت ہو یا دوستی، یہ کبھی کسی مذہب یا ذات کے فرق کو تسلیم نہیں کرتی۔ میرا ایمان میری محبت ہے اور میری محبت کی یہ خواہش تھی جس کا میں نے احترام کیا۔“

سعد رسول کے چہرے پر یکدم خوشی کے تاثرات ختم ہو گئے تھے۔

”تم جانتے ہو تم نے جو دین اپنایاہے اس کے لیے دل کی رضامندی اور دل سے ایمان لانا سب سے اہم ہے۔“

”دیکھو سعد! میں نے دل و دماغ کی رضامندی سے ہی یہ فیصلہ لیا ہے۔“ اس نے سعد کا چہرہ دیکھا۔

”مگر اس فیصلے میں تمہارا مرکز اللہ کی ذات نہیں، عینی کی خوشی اہم ہے۔ تم نے عینی کو پانے کے لیے یہ دین قبول کیا ہے۔ اللہ کی رضا کو پانے کے لیے نہیں۔“

”تم کیوں مجھ سے اب یہ بحث کرنا چاہتے ہو۔ تمہارے لیے میری خوشی اہم نہیں۔“

”ہے، اور میں تمہارے لیے بہت خوش بھی ہوں۔ اللہ پاک تمہیں سارے جہاں کی خوشیاں عطا کرے۔“

اس نے اس کے شانے کو تھپک کر کہا تھا اور مسکراتے ہوئے اسے گڈ لک کہہ کر چلا گیا۔ ہاں اسے اپنے بیسٹ فرینڈ کے اسلام قبول کرنے کی جو خوشی ہوئی تھی وہ اب نہیں رہی تھی۔ اسے اس کے حال پرچھوڑ دیا تھا سعد رسول نے۔

اور اب وہ تھا اور عینی، اور ان کی دیوانی محبت۔

”عینی! اب کس بات کے انتظار میں ہو؟ تم اپنے پیرنٹس سے بات کروناں!“

”اسفند ضیائ! میں نے ان سے بات کی ہے، پلیز کچھ ویٹ کرو۔“

”ڈیڈ سنڈے کو فارغ ہوں گے، میں تمہیں ان سے ملواﺅں گی۔“

وہ ساحل سمندر پر بیٹھے تھے۔ اور آج اسفند بہت سنجیدہ تھا۔ اس ٹاپک کو لے کر اب عینی کیوں دیر کر رہی ہے۔ جبکہ عینی نے جو کہا اس نے آنکھیںبند کر ے مانا تھا۔

کیونکہ اس نے پوری سچائی اور دل کی تمام شدتوں سے عینی کو چاہا تھا۔

”تمہارا موڈ کیوں آف ہے؟“

وہ اپنے موبائل پر آنے والے ایس ایم ایس کو چیک کرتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔

”سیدھی سی بات ہے، اب ایک پل بھی تم بن نہیں گزرتا۔“

”او گاڈ! یو آر کریزی اسفند ضیائ۔“

یہ نام بھی عینی کی پسند تھا۔ ورنہ قاری صاحب نے اسے احمد ضیاءکا نام تجویزکیا تھا مگر اس نے تو وہ ہی کرنا تھا جو عینی کی چاہت تھی۔

”ہاں ہوں۔“

اس نے قدرے غصے سے کہا تو وہ ہنس دی۔ تبھی اس کے موبائل پر بیپ ہوئی تھی۔ اس نے فوراً کال اٹینڈ کی۔

”ہائے تابش! سوری یار میں بزی تھی۔“

حالانکہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا کہ اس کے ساتھ ہوتے ہوئے عینی کے پاس کوئی کال آئی تھی۔ اکثر ہی اس کی کالز آتی تیں کیونکہ فون پر دوستی کرنا اس کی ہابی تھی۔

مگر آج پہلے بار اسے بُرا لگا تھا۔ وہ کتنا سیریس تھا شادی کے ٹاپک کو لے کر جبکہ عینی کو فکر ہی نہیں تھی۔ وہ غصے میں وہاں سے اٹھ گیا۔

جانے کیوں اسے لگ رہا تھا کہ اب عینی کی دیوانگی سرد پڑنے لگی ہے یا شاید وہ واقعی اس کے لیے کریزی ہو رہاہے۔“

”یہ کیا حرکت ہے، کیوں اٹھ آئے تم؟“

”تمہیں فرق پڑتا ہے، میرے ہونے یا نہ ہونے سے۔“

”اسفند ! تمہارے ساتھ کیا پرابلم ہے۔“

”میرے ساتھ ہوتے ہوئے تم کسی اور سے بات کرو، مجھے اچھا نہیں لگتا۔“ اس نے صاف گوئی سے دل کی بات کہہ دی۔

”وہ میرا دوست ہے اور یو نو ویری ویل، یہ فرینڈشپ کرنا میری ہابی ہے۔ یہ میں نہیں چھوڑ سکتی۔“

اسفند ضیاءاس وقت خاموش ہو گیا مگر اب اکثر ہی ان میں یہ بحث شدت اختیار کرنے لگی تھی۔ اسفند کے چہرے کا اضطراب ان دنوں چھپائے نہیں چھپتا تھا۔ تبھی سعد کو پوچھنا پڑا۔ حالانکہ اس نے اسفند کو اس کے حال پر چھوڑ دیاتھا۔

”کیوں بے چینیاں جھلک رہی ہیں ان سنہری آنکھوں میں!“

”نتھنگ….!“

وہ سعد کو کیا بتاتا کہ عینی کے سرد پڑتے جذبات نے بے چین کر دیا تھا۔ وہ جتنا اس کے لیے پاگل تھی، اب لاپروہ ہو رہی تھی۔

”اتنے فاصلے نہیں ہوئے ابھی ہم میں کہ تیری آنکھیں مجھ سے دل کا حال کہنا چھوڑ دیں۔“

”دل ہی تو احمق ہے، کسی حال میں خوش نہیں رہتا۔“

”عینی سے جھگڑا ہوا ہے!“

”وہ ملتی کب ہے، اب کال کرو تو نمبر بزی ہوتا ہے۔ پورا ویک ہو گیا ہے سعد،جانے کیوں میرا دل وہموں کا شکار ہو رہا ہے۔ سعد اس کے بغیر نہیں جی سکتا، مر جاﺅں گا۔“

”اللہ پر بھروسہ رکھو۔ ان شاءاللہ جو ہو گا بہتر ہو گا۔ شاید اس کی کوئی مصروفیت ہو۔“

”کچھ بتائے تو سہی۔ ا س نے مجھ سے کہا تھا وہ اپنے پیرنٹس سے بات کر چکی ہے اور اتوار کو اس نے مجھے اپنے ڈیڈ سے ملوانا تھا۔ بٹ اس نے مجھ سے کوئی کانٹیکٹ نہیں کیا۔“

”ہو سکتا ہے اسی بات کو لے کر ان کے گھر میں کوئی پرابلم ہو اور وہ تمہیں پریشان نہ کرنا چاہتی ہو۔“

”سعد اس کے پیرنٹس اچھے خاصے لبرل ہیں۔ عینی ان کی اکلوتی اولاد ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ اس چیز کو ایشو بنائیں گے۔“

”پھر تجھے کیا بے چینی ہے؟“

”عینی کا بدلتا رویہ۔“ اس نے دل کا خدشہ ظاہرکیا۔

”اوکے، میں عینی سے بات کروں گا، تو کیوں اتنا ٹینس ہو رہا ہے۔“ سعد نے اسے تسلی دی تھی اور محض تسلی نہیں تھی، اس نے عینی سے کانٹیکٹ بھی کیا تھا۔

”اسفند بہت اَپ سیٹ ہے، تم سے ملنا ہے۔“

”اوکے۔“ عینی نے کہا تھا اور وہ سعد نے جہاں بلایا، آئی بھی تھی۔“

”یو نو ویری ویل، کہ تم اس کے لیے کیا ہو۔ اس کے پاس دنیا میں تمہارے علاوہ اور کوئی بھی رشتہ نہیں بچا ہے۔ وہ وسوسوں کا شکار ہے۔“

سعد کی بات کے جواب میں وہ خاموش ہو رہی تھی۔

”میں اس سے خود بات کر لوں گی۔“

اس کا لہجہ کسی بھی تاثر سے خالی تھا۔ سعد نے اسے دیکھا۔

”کب….!“

”آج کل میں بزی ہوں، فرصت ملتے ہی۔“

”جبکہ تم جانتی ہو کہ وہ کتنا فکرمند ہے۔“

”دس از ناٹ مائی پرابلم…. اسے سمجھا دو۔“

”عینی! بات کیا ہے؟ تم سے ملنے کے بعد مجھے بھی اندازہ ہوا کہ اسفند سچ ہی پریشان ہے۔ تمہارا لہجہ بہت بدلا بدلا سا ہے۔“

”یہ میرا پرسنل میٹر ہے۔ میں تم سے ڈسکس نہیں کر سکتی۔“

”اوکے،بٹ ریمیمبر، میرے دوست کو ذرا سی بھی ٹھیس پہنچی تو مجھ سے بُرا کوئی نہ ہو گا۔“

سعد جانے کیو ںجذباتی ہو گیا۔

”اوہ، تو ٹھیک ہے۔ جا کے سنبھالو اپنے دوست کو۔ کیونکہ میں شادی کر رہی ہوں تابش سے، اور کل ہمارا نکاح ہے۔“

وہ سعد کو شاک کی کیفیت میں چھوڑ کر اپنی بات مکمل کر کے چلی گئی۔

ض……..ض……..ض

بہت کوشش کی اس نے کہ اسفند کوبتا دے مگر وہ یہ ہمت خود میں پیدا نہی کر سکا۔ دو دن کشمکش میں گزر گئے۔ مگر اس کی حالت دیکھ کر کچھ بتانے کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔ وہ اپنے کمرے میں بے سدھ پڑا تھا۔ کمرے میں سگریٹ اور شراب کی بو اس قدر پھیلی ہوئی تھی کہ سانس لینا محال تھا۔ مگر ساکت پڑے اسفند کو دیکھ کر وہ اس کی طرف لپکا۔

”اسفند!“ اس نے اسفند کو دونوں بازوﺅں سے تھام کر اٹھایا اور اس کا گال تھپکا تھا۔ مگر وہ قطعی ہوش میں نہ تھا۔پھر اسے ایمرجنسی میں اٹھا کر وہ ہاسپٹل لایا تھا۔ جہاں اسے فوری ٹریٹ منٹ دی گئی تھی۔

”ضرورت سے زیادہ ڈرنک کے باعث ان کی یہ کنڈیشن ہوئی ہے۔“

یہ ڈاکٹر کی رائے تھی۔

”یہ روٹین میں ڈرنک کرتے ہیں؟“

”اتنی زیادہ نہیں کرتا، کبھی کبھی بس فرینڈز کے ساتھ۔“

”آپ کو اندازہ ہے کہ اتنی زیادہ ڈرنک ان کی کڈنیز کے لیے بھی پرابلم بن سکتی ہے۔“

اب وہ کیا سمجھائے ڈاکٹر کو کہ صدمے اور دکھ کے باعث اس نے زیادہ پی لی ہے، ورنہ وہ کبھی حواس نہیں کھوتاتھا۔

دو دن کی ٹریٹ منٹ کے بعد وہ کچھ بہتر ہوا تھا۔ مگر سعد کی گود میں سر دھرے جب وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر رو دیا تو سعد کی آنکھیںبھی نم کر گیا…. وہ کیسے اسے حوصلہ دیتا، وہ تو خود شاک میں تھا۔

”کیوں سعد کیوں؟؟ ایسا کیو ںکیا اس نے میرے ساتھ؟“

”شاید وہ تیرے قابل ہی نہیں تھی۔ اللہ پاک نے تیرے لیے یقینا اس سے کہیں بہتر لڑکی منتخب کی ہو گی۔“

”سب کچھ چھین کر اب کیا دے گا وہ مجھے!“

”استغفراللہ…. ایسے الفاظ ادا نہیں کرتے اسفند…. وہ ہمیں ستر ماﺅں سے زیادہ چاہتا ہے، اسی لیے ہمیں وہ عطا کرتا ہے جو وہ ہمارے لیے چاہتا ہے اور جو وہ چاہتا ہے اسی میں ہماری بھلائی ہوتی ہے۔“ وہ کافی دیر اسے سمجھاتا رہا۔

اسفند کی ذہنی حالت بہت ابتر تھی۔ ایک ہفتہ مکمل ہو چکا تھا مگر وہ سنبھل نہ سکا۔ اور پھر جب کچھ حوصلہ ہوا تو عینی کنول پھر اس کے سامنے آ گئی۔ وہ اور سعد بیٹھے ادھر اُدھر کی باتیں کر رہے تھے۔

”تم واقعی میری دیوانگی بن گئے تھے، مگر جب تابش سے میری دوستی ہوئی اور دھیرے دھرے ہم قریب آئے تو مجھے محسوس ہوا کہ تم سے محبت محض میری جذباتیت تھی۔ محبت تو مجھے تابش سے ہے اور اتنی شدید کہ اس کے بن اک پل بھی سانس لینا مجھ پر بھاری گزرتا ہے۔“

اسفند ضیاءکا دل ماتم کرنے لگا کہ جس لڑکی کو اس نے دیوانگی کی تمام حدوں سے چاہا وہ….

”میں تمہاری محبت کی قدر کرتی ہوں اسفند۔ ہم ہمیشہ اچھے دوست رہیں گے۔“

”تمہیں لگتا ہے عینی کنول کہ اب مجھے تمہاری شکل بھی دیکھنی چاہیے!“

”تمہیں تو میرا احسان مند ہونا چاہیے افند ضیائ۔ تم غیر مسلم تھے اور تمہیں دائرہ اسلام میں داخل کرنے کا کریڈٹ مجھے جاتا ہے۔“

”اور اگر تم ایسا سمجھتی ہو کہ تمہیں اس کا ثواب ملے گا تو تم غلط ہو عینی کنول۔ تم ایک دھوکے باز عورت ہو۔ تم نے جس طرح میرے دوست کی زندگی برباد کی ہے اس کا دل توڑا ہے، وہ آہ عمر بھر تمہارا پیچھا کرے گی۔“ سعد مزید چپ نہ رہ سکا۔

میں جاکر تمہارے شوہر کو تمہاری حقیقت بتاﺅں گا کہ تم کس قدر گری ہوئی ہو۔“

”اچھا! کوشش کر کے دیکھ لینا۔“

وہ تلخ مسکراہٹ اچھالتی چلی گئی۔ اور اسفند ضیاءسعد رسول کی بانہوں میں ڈھے گیا تھا۔

”میرے سچے جذبوں کے ساتھ اتنا بڑا مذاق!“

”اللہ تو دیکھ رہا ہے ناں!“

سعد نے اسے خود سے بھینچ لیا۔

ض……..ض……..ض

”تمہیں صبر صرف اللہ کی ذات دے گی اسفند۔ دل کے قرار کے لیے اس سے رجوع کرو۔“

سعد نے اسے رستہ دکھایا تھا۔ یہ سچ تھاکہ اس نے اپنی محبت کے لیے اسلام قبول کیا تھا۔

لیکن اب اس نے دل کے سکون و قرار کے لیے اس ذات سے رجوع کیا تھا۔ اپنے الفاظ اپنے اعمال کی معافی مانگی تھی۔ گڑگڑا کے توبہ کی تھی۔

باقاعدگی سے قاری صاحب کے پاس جاتا اور اکثر اپنا وقت ان کی قربت میں گزارتا۔

”اسلام کیا ہے، قاری صاحب….!“

”اللہ پاک کی ذات اس کی وحدانیت پر کامل یقین اور اس رب کی عبادت و اطاعت ہی اسلام ہے۔“

”مجھے اس رب کی ذات پر یقین ہے، مگر وہ اطمینان نہیں، وہ سکون حاصل نہیں ہے جو مجھے آپ کے چہرے پر ملتاہے۔“

”تمہارے من میں وسوسے ہیں، انہیں دور کرو، سچے دل سے توبہ کرو۔ بہت سے افراد ایسے ہیں جو بظاہر ایمان رکھتے ہیں مگر ایمان کے تقاضے پورے نہیں کرتے، تردد کا شکار رہتے ہیں۔ تم نے اسلام اللہ کی رضا کے لیے قبول کیا ہے تو اب رب کو راضی کرو، ایمان کامل رکھو۔“

”قاری صاحب! میں گناہ گار ہوں۔ مجھے راہ دکھائیے کہ کیسے اب رب سے توبہ کروں۔ مجھے اپنے جیسا بنا دیں۔“

”بچے! میں تو خود گناہ گار ہوں۔ اس رب کو راضی کرنے کی تگ و دو میں رہتا ہوں۔ تم شرمندہ ہو اپنی خطاﺅں پر۔ اس رب سے معافی مانگو وہ بڑا معاف کرنے والا ہے اور بخشش کرنے والا ہے۔ وہ تو اپنے بندوں کی مغفرت کے حیلے بہانے ڈھونڈتا ہے۔ بس بندے کو اس سے رجوع کرنا شرط ہے۔“

وہ جیسے جیسے ان کی قربت میں بیٹھتا، اجس کی روح کو تسکین ملتی تھی۔ دل کو سکون اور راحت ملتی تھی۔

اسے افسوس ہوتا تھا کہ وہ اب تک کیوں دور رہا ہے اس رب سے، جو تمام جہانوں کا مالک ہے، یکتا ہے، لاشریک ہے۔“

مگر شاید ابھی اس کے صبر کی آزمائش تھی۔

اس کا قریبی دوست اس کے دکھ سکھ کا ساتھی سعد رسول ایکسیڈنٹ میں شدید زخمی ہوا تھا اور محض چند گھنٹوں میں اسے ہمیشہ کے لیے چھوڑ گیا۔ یہ دکھ تو اس دکھ سے کہیں بڑھ کر تھا جو اسے محبت کی بے وفائی پر تھا۔

”میرے پاس میرے دوست کے علاوہ کوئی رشتہ نہیں تھا قاری صاحب۔ اب میں تنہا رہ گیا ہوں۔“

”اللہ پاک تمہیں صبر جمیل عطا فرمائے۔ اپنے دوست کے لیے دعا کرو اللہ پاک اس کی مغفرت فرمائے۔“ آمین!

اس کڑے وقت میں قاری صاحب کی باتوں نے اسے ہمت و حوصلہ دیا تھا۔ اس کا دل شہر سے اٹھ چکا تھا۔ وہ یہاں سے جانا چاہتا تھا۔

”اگر تمہیں لگتا ہے کہ ماضی سے وابستہ یادیں بھلانے کے لیے یہ قدم ناگزیر ہے تو ضرور جاﺅ۔ اللہ پاک تمہاری حفاظت کرے، تمہیں امان میں رکھے۔“

”مجھے عمر بھر آپ کی دعاﺅں کی طلب رہے گی قاری صاحب!“

اس نے ان کے دونوں ہاتھ تھام کر عقیدت سے آنکھوں سے لگائے۔

”بس ایک بات کہنا چاہتا ہوں احمد ضیائ!“

وہ اسے اسی نام سے پکارتے تھے۔

”ماضی قریب میں جو بھی تمہارے ساتھ ہوا، اسے بھلانا مشکل ہے۔ مگر اللہ کی رضا اور اس کے حکم کو مدنظر رکھتے ہوئے تم اپنے دل کی تمام سچائیوں سے اس لڑکی کو معاف کر دو۔ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔“

”وہ تو میں کر چکا ہوں، مگر قاری صاحب! وہ محبت اب بھی دل میں ہے۔“

”اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو صبر کی تلقین فرماتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ رب اس صبر سے تمہارے لیے کوئی خیرکثیر پیدا فرما دے۔“

وہ سر ہلانے لگا تھا۔

اس نے خود کو مکمل بدل لیا تھا۔ اور اب ہر دم یہ ہی دعا مانگتا کہ اس کی حیات ایسی ہو جائے کہ جو معبود حقیقی کو پسند آ جائے۔“

بس سعد رسول کے بعد اس شہر میں من نہ لگتا، لہٰذا وہ شہر چھوڑ آیا۔ یہاں آ کر ہوٹل میں کب تک رہتا، تو اس نے فی الوقت رینٹ پر گھر کے لیے تلاش شروع کر دی۔

جہاں اسے درید عباس ملا۔

”بھیا! گھر ملے یا نہ ملے اگر اس کڑاکے کی گرمی اور تیز دھوپ میںاگر مزید تم نے یہ تلاش جاری رکھی تو 1122 والوں کو خبر ضرور مل جائے گی کہ سڑک پرایک بندہ بے ہوش پڑاہے۔“

”کیا مطلب!“

”اندر آ جاﺅ، سارے مطلب سمجھاتا ہوں۔ پہلے خشک حلق تر کر لو۔“

اس نے پہلے اسفند کو پانی دیا تھا۔

”شہر میں نئے آئے ہو؟“

”ہوں، صبح مجھے کسی نے بتایا تھا کہ اس علاقے میں رینٹ پر گھر مل جائے گا۔“

”ہو گا، مگر بھیا اتنی دوپہر میں کیوں خوار ہو رہے تھے؟“

”مجھے گھر کی شدید ضرورت ہے۔“

”اگر ضرورت اتنی ہی شدید ہے تو تم ہمارے غریب خانے پر زندگی بسر کر سکتے ہو، جب تک تمہیں قابل قبول گھر نے ملے۔ یہاں میرے علاوہ بھی تمہیں تین کارٹون برداشت کرنے ہوں گے۔ اس کے علاوہ کوئی مشکل نہیں ہے بس۔“

ضرورت تو اسے واقعی تھی، اس نے طائرانہ نظر گھر پر ڈالی۔

”چار کمرے، ایک لیونگ، کچن اور صحن شامل ہیں اس گھر میں۔“

”کرایہ اور ایڈوانس۔“

”پا جی! تُسی اپنا سامان چکو، تے آ جاﺅ۔ فیر کرایہ بھی مُک جاﺅ گا۔“

اسفند کو قدم جمانے کے لیے ٹھکانہ درکار تھا۔ اس نے غنیمت سمجھا اور سامان اٹھا کر آ گیا۔

سنہرے کانچ کی سی آنکھوں کے گوشے نم تھے اور ان میں گہری سرخی کی لہر نمایاں تھی۔ درید عباس کوافسوس ہوا۔ کاش وہ لاعلم رہتا، لاعلمی بھی نعمت ہوا کرتی ہے۔ اب اسے وہ الفاظ نہیں مل رہے تھے جن سے وہ اسفند کو حواصلہ دیتا۔

”تجھے اب بھی محبت ہے اس سے؟“

”کیا کروں، بے بس ہوں۔ میری محبت تو سچ تھی ناں درید! میرے من سے وہ محبت نہیں مٹتی۔“

”لاحاصل ہے اسفند ضیائ۔“

”ہاں! مگر مجھے اس سب سے یہ سبق حاصل ہوا کہ عورت ذات ناقابل اعتبار ہے۔“ لہجہ ٹوٹا ہوا تھا۔

”یو نو اسفند! یو آر رانگ!“

”آئی ایم سرپرائزڈ درید عباس…. یہ تم کہہ رہے ہو جبکہ جس کے دل کو خود ٹھیس اس عورت ذات نے ہی دی ہے۔“

”تو!“ وہ زور سے نفی میں سر ہلانے لگا۔

”اس کی کوئی مجبوری رہی ہو گی کہ وہ مجھے سچ نہ بتا سکی، مگر اس نے ارادتاً مجھے ہرٹ نہیں کیا۔“

”اچھا، یہ پھر ہر مہینے کے اینڈمیں سوگ کس بات کا مناتا ہے تو۔“

”کم از کم اس بات کا نہیں کہ وہ غلط تھی یا مجھے چھوڑ گئی، ہاں دکھ ہوتا ہے کہ وہ مجھے نہ مل سکی اور مجھے یقین ہے کہ جیسے میرے دل میں آج تک آباد ہے، مجھے بھلا وہ بھی نہیں پائی ہو گی۔“

”یو آر امیزنگ درید عباس۔ایک لڑکی تمہیں دھوکا دے کر کسی اور کی ہو جائے۔“

”اس نے مجھے دھوکہ نہیں دیا اسفند، میرا دل کہتا ہے۔“

اسنے اسفند کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔

”آئی ڈونٹ نو۔ بس اتنا طے ہے درید عباس کہ محبت صرف دکھ دیتی ہے۔

اس کی یہ بات بھی درید کو سچ لگی تھی۔

”ہائے ہائے میرے شرٹ!“

سویرے سویرے نہال کی دہائی پر اس کی آنکھ کھلی تھی۔

”خد کی قسم ویک اینڈ اتنا اچھا گزرا اور پھر آج سویرے ہی سویرے چخ چخ شروع ہو گئی۔“ ٹیبل پر ناشتہ لگاتے درید کی جھنجلاتی آواز آئی۔

”ڈونٹ وری! ہم تمہاری جان نہیں چھوڑنے والے۔“

بلال نے عالمی ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا۔

”پتہ ہے مجھے، بے غیرتی کے مقابلے میں سیکنڈ پرائز تو نے ہی جیتا تھا۔“ اس نے پانی سے بھرا جگ ٹیبل پرپٹخا۔

”ہائیں، سیکنڈ…. فرسٹ پرائز کس کو ملا تھا درید بھائی۔“

طلال جو اب تک بے نیاز بنا بیٹھا تھا، اشتیاق سے بولا۔

”آف کورس تجھے۔“ اور یہ سن کر طلال منہ بسورنے لگا تھا۔

”حد ہو گئی ہے، کوئی میرا دکھڑا سن ہی نہیں رہا۔“ نہال نے واویلا مچایا۔

”میاں کبھی کبھار ہو تو کان بھی دھریں۔ تم نے تو لڑاکا بیویوں والا وطیرہ ہی اپنا لیا ہے۔ صبح سے دہائیاں دیتے ہوئے رات ہو جاتی ہے۔“ درید نے لاپرواہی سے کہا۔

”طلال نے میری شرٹ جلا دی ہے۔“ نہال نے روہانسی لہجے میں کہا تھا۔ بلال نے طلال کو گھورا۔

”بائی گاڈ! ارادتاً نہیں جلائی۔ بس استری کو زیادہ ہی محبت تھی اس کی شرٹ سے۔ ایسے چپکی عمران ہاشمی کی طرح اترنے کا نام ہی نہیں لیا۔“

”ہاں تجھے جس دن بھی استری کرنی پڑ جائے ایسا ہی ہوتا ہے۔“

وہ غصے سے لال پیدا ہوتا اندر مڑ گیا۔ دوسری شرٹ استری کر کے پہنی اور بنا ناشتے کے چلا گیا۔

”کتنی غلط بات ہے۔ وہ بنا ناشتے کے چلا گیا۔“

”اسفند اٹھ تو چکا تھا نہال کی آواز پر، اب آیا تو وہ تینوں اطمینان سے ناشتہ کر رہے تھے۔

”روٹھی حسیناﺅں جیسے نخرے ہوتے ہیں اس کے صبح میں منانے کا ٹائم نہیں ہوتا۔“

”لیکن زیادتی تو طلال نے کی ہے ناں! کالج کی شرٹ جلا دی اس کی۔“

”بیلیو می بگ بی…. جان کر نہیںجلائی۔“

”کم از کم بلال تجھے زبردستی کچھ کھلانا چاہیے تھا۔“

”مغز نہیں الٹا تھا میرا، جو میں اپنا ناشتہ بھی حرام کرتا۔“

بلال ویسے ہی ان کے جھگڑوں سے عاجز تھا۔ اسفند نے تاسف سے سر ہلایا۔

”اور میری ہاف وائف اب نصیب سے جلدی اٹھ گیا ہے تو ناشتہ کر لے۔“

درید عباس اکثر اسے یوں چھیڑتا تھا۔

”بک نہیں۔“ اس نے درید کو گھورا۔

شام تک اسے نہال کا خیال رہا تھا، تب ہی واپسی پر اس کے ہاتھ میں نئی شرٹ تھی جو اس نے نہال کو تھمائی تھی۔

”تھینکس اسفند بھیا!“

”واہ! کبھی ہم پر بھی نظر کرم ڈال دیا کریں بگ بی۔“

طلال نے فوراً ہی ٹوکا تھا۔

مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔

ض……..ض……..ض

”طلال! اگر اب تو نہیں بیٹھا ناں تو تجھے چھت سے نیچے پھینک دوں گا۔“ درید نے نیچے جھانکتے ہوئے طلال کو دھمکی دی تھی۔

”ایویں انرجی ویسٹ کر رہے ہو بھیا جان تُسی۔ اینوں لگنی کوئی نئیں، بے غیرتی وچ ڈپلومہ ایویں نئیں کیتا۔“ نہال نے کلستے ہوئے کہا۔

”طلال! دس ازلاسٹ وارننگ۔“

”کیا ہے یار؟؟ خود تو گھٹ گھٹ کر زندگی گزار رہے ہو، مجھے تو لائف کا مزہ لینے دیں۔“

”یہ ہی حال رہا نا تیرا، چھت پر داخلہ ممنوع کر دوں گا میں۔“ درید نے سنجیدگی سے کہا۔

”طلال بات مانتے ہیں یار، شریفوں کا محلہ ہے، ضروری ہے کہ کہیں سے کمپلین آئے گی تو تب ہی مانو گے۔“

”یار! میں نے کیا کیا ہے، میرے کھڑے ہونے سے کیا کمپلین آئے گی۔“

”تم اچھی طرح جانتے ہو کہ گرمی کی شام میں اکثر لوگ چھت پر ہوتے ہیں۔“

”مانا کہ ٹین ایج میں مخالف صنف کی جانب متوجہ ہونا نیچرل سی بات ہے مگر تمہارا طریقہ غلط ہے۔“

”بگ بی! آپ کے خیال میں صرف میں غلط ہوں۔ کس دور کی بات کر رہے ہیں آپ! اب لڑکیاں خود آفر کرتی ہیں لڑکوں کو، آپ نہیں جانتے۔“

وہ نروٹھے پن سے بولا۔

”تم سے کہیں زیادہ ایڈوانس ماحول میں لائف گزاری ہے اس نے۔ اگر سمجھانے کی کوئی بات کر رہا ہے تو سن لے۔“ درید نے جھڑکا۔

”آئی نو! آنے والے وقت میں حیا اور وقار صنف نازک میں بھی نایاب ہو جائیں گے۔ بٹ ینگر برادر! انسان کو اپنی نظر کی حفاظت خود کرنی چاہیے۔

”ویری سوری بگ بی! بٹ کیا کروں، آپ میرے آئیڈیل انسان ہیں مگر میں آپ جیسا نہیں بن سکتا۔“ طلال نے معذوری بیان کی۔

”قصور تیرا نہیں، تیری عمر کا ہے۔“

”تُسی اب بڈھے ہو گئے ہو جی۔“

”روح بڈھی ہے، آپے تے اینے سوہنے ہو۔“ نہال نے گوہر افشانی کی۔

”یو آر امپاسبل!“ اسفند چڑ گیا۔

”تُسی خفا ہو گئے۔

”نہیں،میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ اپنی پڑھائی پر توجہ دو، کن چکروں میں پڑ گئے ہو۔“

”آپ محبت پر بہت یقین رکھتے ہیں بگ بی!“

”تمہیں لگتا ہے کہ جو تم کر رہے ہو وہ محبت ہے!“

”نہیں، لیکن مجھے درید عباس کی طرح پہلی نظر کی محبت پر قطعی یقین نہیں ہے۔ میرے خیال سے انسان کو اچھی طرح سمجھ کر ایک دوسرے کو جان کر محبت کرنی چاہیے۔“

”محبت نہ ہوئی پلاننگ ہو گئی۔“

”لائف پلان کرنے کا نام ہی تو محبت ہے۔ زندگی بھر کا سودا ہوتاہے۔“ طلال نے بحث بڑھائی۔

”محبت ہوتی وہ ہی ہے جو پہلی نظر میں ہو۔“

”پتہ چلے محترمہ کہیں اور کمیٹڈ ہوں پھر! بندہ تین چار لڑکیاں نظر میں رکھے، پھر سیلیکٹ کرے۔“

”لڑکی کیا ہوئی شرٹ ہو گئی جو دل کو بھائی پہن لی،باقی پھینک دیں۔“

”میرے نزدیک عورت کی عزت و احترام زیادہ مقدم ہے۔ جس شخص کی نظر میں عورت کا احترام ہو گا وہ یہ سوچ کبھی نہیں رکھے گا۔ محبت کرنا بھی ہر کسی کے بس کا روگ نہیں طلال، یہ بھی بڑے دل والے ہی کر سکتے ہیں۔ ہر لڑکی پر عاشق ہونے والے نہیں۔“

درید کو موضوع سنجیدہ کر گیا۔

”کیا ملا آپ کو محبت کر کے؟ نہیں کرنی مجھے ایسی محبت جس کی وجہ سے میں باقی ساری محبتیں فراموش کر دوں۔“

”اب تم پرسنل ہو رہے ہو۔“ درید نے ٹوکا۔

”غلط تو نہیں ہوں ناں!“

”او کم آن یار! اسٹاپ اٹ۔“

اسفند نے دونوں کو روکا تھا مگر درید سخت موڈ آف کیے اٹھ گیا۔

ض……..ض……..ض

جانے لوگ کیسے کہہ دیتے ہیں محبت سوچ سمجھ کر اور پرکھ کے بعد کرنی چاہیے۔ اس کے نزدیک یہ محبت نہیں، پلاننگ ہوتی ہے۔“

”محبت تو وہ اثر ہے جو اچانک دل پر ہو اور دھڑکنیں منتشر کر دے۔“

”روح کو سرشار کرنے والا وہ جذبہ جو کسی بھی لمحہ دل میں اتر جائے اس کی تیاری نہیں کی جاتی۔ پہلے سے ارادہ نہیں باندھا جاتا۔“

”اور اگر یہ جرم ہے تو وہ پورے دل سے اقرار کرتا ہے کہ اس نے یہ جرم کیاہے۔ اس نے پہلی نظر کی محبت کی ہے۔“

وہ سردیوں کی نرم گرم سی دوپہر تھی۔ دو ہفتوں کی سخت سردی اور دھند کے بعد آج سورج سویرے ہی مہربان ہوا تھا۔ اور تمام لوگ دھوپ کی اس نعمت (سردیوں میں دھوپ نعمت لگتی ہے) سے بھرپور فیض اٹھا رہے تھے۔ وہ بھی فارغ تھا، سو آج دھوپ انجوائے کرنے کا نیا طریقہ اپنایا تھا۔ کرسی اور ایک اسٹول اٹھا کر گھر کے باہر آ بیٹھا۔ کرسی پر بیٹھ کرٹانگیں اسٹول پر پھیلائیں۔ اس سے دو سال بڑا بھائی یاسر عباس بھی کینو لے کر وہیں آ گیا۔

”کینو صرف آج مزے دار لگے ہیں۔“

وہ دونوں بھائی ہلکی پھلکی شوخیوں کے ساتھ کینو کھا رہے تھے۔ دو سال بڑا ہونے کے باوجود یاسر سے اس کا مذاق چلتاتھا۔

”آپس کی بات ہے، یہاںبیٹھ کر دھوپ اور آنکھیں دونوں سینک رہے ہو تم۔“

اس نے پل بھر کی چوری بھی پکڑ لی تھی یاسر کی۔

”مجھے جیسے شریف آدمی پر اتنا بڑا الزام!“

”الزام نہیں،میری دو گناہ گار آنکھیں گواہ ہیں۔ ابھی جو ریڈ اور بلیو ڈریس میں براﺅن بالوں والی لڑکی گئی ہے، آپ نے اسے پٹانے کی کوشش کی۔ آپ کی نظروں نے دور تک اس کا پیچھا کیا۔ اس کے یاقوتی لبوں پر پنک لپ سٹک تھی۔“

”اچھا!“ یاسر نے دو جھانپڑ لگائے تھے اس کے۔“

”میں نے سرسری نظر ڈالی۔ مجھے بدنام کرتے ہو، خود پورا پوسٹ مارٹم کر کے بیٹھ گئے۔“

”ارے میں نے ایسا کچھ نہیں کیا، وہ تو اس کی نیلی کانچ سی آنکھیں پل بھر مجھ پر رکیں تو میں نے بھی دیکھ لیا۔“

اس نے ڈھٹائی سے بتیسی نکالی۔ یاسر دو چار ہاتھ مزید اس کے جڑتا اٹھ گیا اور پھر سے پھیل کر بیٹھ گیا۔

وہ آج شرط لگا کر بیٹھا تھا کہ سورج جائے گا تو وہ اندر جائے گا۔ امی نے دوبارہ کھانے پر بلایا تو وہ نہیں گیا۔

”اندر آﺅ گے تو کھانا ملے گا۔ فقیروں کی طرح دروازے پرنہیں دوں گی۔“

وہ جی اچھا کہہ کر آنکھیں موند کر دھوپ کے مزے لینے لگا۔

قریبا ڈھائی بجے کا ٹائم تھا جب نیند کا غلبہ زور سے آیا اور وہ کرسی سے نیچے گرتے گرتے بچا۔ اس نے آنکھیں کھول دیں…. جسم پر سُستی سی چھا گئی تھی۔ مگر اچانک نیند کے جھٹکے سے اس نے آنکھیں جو کھولیں تو اسے لگا بالکل رائٹ ٹائم پر اس نے دیدے وا کیے تھے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے